Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tawba
Tafsir Ibn Kathir · The Repentance · 129 ayat · ayat 61–90 · Quran text →
نکتہ چین منافقوں کا مقصد ٭٭
منافقوں کی ایک جماعت بڑی موذی ہے اپنے باتوں سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ پہنچاتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ نبی تو کانوں کا بڑا ہی کچا ہے جس سے جو سنا مان لیا۔ جب ہم اس کے پاس جائیں گے اور قسمیں کھائیں گے وہ ہماری بات بھی باور کر لے گا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ بہتر کانوں والا اچھی سننے والا اور صادق و کاذب کو خوب جانتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی باتیں مانتا ہے اور با ایمان لوگوں کی سچائی بھی جانتا ہے وہ مومنوں کے لیے رحمت ہے اور بے ایمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی حجت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے والوں کے لیے دکھ کی مار ہے۔
صفحہ نمبر3508
نادان اور کوڑ مغز کون؟ ٭٭
واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقلمند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے؟
یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اس نے کہا: ”واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کودن پنے میں کوئی شک نہیں۔“ جب یہ صحابی رضی اللہ عنہ دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ پروردگار! تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا۔ اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16922:ضعیف و مرسل]
کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ابدی جہنمی ہیں ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع، اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھ کر شقاوت اور کیا ہو گی؟
صفحہ نمبر3509
نادان اور کوڑ مغز کون؟ ٭٭
واقعہ یہ ہوا تھا کہ منافقوں میں سے ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ہمارے سردار اور رئیس بڑے ہی عقلمند دانا اور تجربہ کار ہیں اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں حق ہوتیں تو یہ کیا ایسے بیوقوف تھے کہ انہیں نہ مانتے؟
یہ بات ایک سچے مسلمان صحابی رضی اللہ عنہ نے سن لی اور اس نے کہا: ”واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب باتیں بالکل سچ ہیں اور نہ ماننے والوں کی بیوقوفی اور کودن پنے میں کوئی شک نہیں۔“ جب یہ صحابی رضی اللہ عنہ دربار نبوت میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ بیان کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلوا بھیجا لیکن وہ سخت قسمیں کھا کھا کر کہنے لگا کہ میں نے تو یہ بات کہی ہی نہیں یہ تو مجھ پر تہمت باندھتا ہے۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے دعا کی کہ پروردگار! تو سچے کو سچا اور جھوٹے کو جھوٹا کر دکھا۔ اس پر یہ آیت شریف نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16922:ضعیف و مرسل]
کیا ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف ابدی جہنمی ہیں ذلت و رسوائی عذاب دوزخ بھگتنے والے ہیں اس سے بڑھ کر شومی طالع، اس سے زیادہ رسوائی اس سے بڑھ کر شقاوت اور کیا ہو گی؟
صفحہ نمبر3509
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھبراتے بھی ہیں ٭٭
آپس میں بیٹھ کر باتیں تو گانٹھ لیتے لیکن پھر خوف زدہ رہتے کہ کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو بذریعہ وحی الٰہی خبر نہ ہو جائے،
اور آیت میں ہے تیرے سامنے آ کر وہ دعائیں دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں دیں پھر اپنے جی میں اکڑتے ہیں کہ ہمارے اس قول پر اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی سزا کیوں نہیں دیتا؟ ان کے لیے جہنم کی کافی سزا موجود ہے جو بدترین جگہ ہے۔ [58-المجادلة:8]
یہاں فرماتا ہے دینی باتوں، مسلمانوں کی حالتوں پر دل کھول کر مذاق اڑالو، اللہ تعالیٰ بھی وہ کھول دے گا جو تمہارے دلوں میں ہے، یاد رکھو ایک دن رسوا اور فضیحت ہو کر رہو گے۔ چنانچہ فرمان ہے کہ یہ بیمار دل لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے دلوں کی بدیاں ظاہر ہی نہ ہوں گی، ہم تو انہیں اس قدر فضیحت کریں گے، اور ایسی نشانیاں تیرے سامنے رکھ دیں گے کہ تو ان کے لب و لہجے سے ہی انہیں پہچان لے۔ [47-محمد:29،30] اس سورت کا نام ہی سورۃ الفاضحہ ہے اس لیے کہ اس نے منافقوں کی قلعی کھول دی۔
صفحہ نمبر3511
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ٭٭
ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے پیٹو، اور بڑے فضول اور بڑے بزدل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یونہی وقت گزاری کے لیے ہنس بول رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تمہارے ہنسی کے لیے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو! اگر کسی کو ہم معاف کر دیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی کریں گے“،
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل]
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔
اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: ”بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے“،
آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔“
صفحہ نمبر3512
سیدنا عمار صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر ان سے یہ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی۔
ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔
پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4]
ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔
صفحہ نمبر3513
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے۔
ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔
صفحہ نمبر3514
مسلمان باہم گفتگو میں محتاط رہا کریں ٭٭
ایک منافق کہہ رہا تھا کہ ہمارے یہ قرآن خواں لوگ بڑے پیٹو، اور بڑے فضول اور بڑے بزدل ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب اس کا ذکر ہوا تو یہ عذر پیش کرتا ہوا آیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو یونہی وقت گزاری کے لیے ہنس بول رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں تمہارے ہنسی کے لیے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن ہی رہ گیا ہے یاد رکھو! اگر کسی کو ہم معاف کر دیں گے تو کسی کو سخت سزا بھی کریں گے“،
اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار جا رہے تھے یہ منافق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر ہاتھ رکھے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہوا یہ کہتا ہوا ساتھ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف دیکھتے بھی نہ تھے جس مسلمان نے اس کا یہ قول سنا تھا اس نے اسی وقت جواب بھی دیا تھا کہ تو بکتا ہے جھوٹا ہے تو منافق ہے۔ یہ واقعہ جنگ تبوک کے موقعہ کا ہے، مسجد میں اس نے یہ ذکر کیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16928:مرسل]
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ تبوک جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منافقوں کا ایک گروہ بھی تھا جن میں ودیعہ بن ثابت اور مخشی بن حمیر وغیرہ تھے۔ یہ آپس میں کہ رہے تھے کہ نصرانیوں کی لڑائی عربوں کی آپس کی لڑائی جیسی سمجھنا سخت خطرناک غلطی ہے اچھا ہے انہیں وہاں پٹنے دو پھر ہم بھی یہاں ان کی درگت بنائیں گے۔
اس پر ان کے دوسرے سردار مخشی نے کہا: ”بھئی ان باتوں کو چھوڑو ورنہ یہ ذکر پھر قرآن میں آئے گا۔ کوڑے کھا لینا ہمارے نزدیک تو اس رسوائی سے بہتر ہے“،
آگے آگے یہ لوگ یہ تذکرے کرتے جا ہی رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جانا ذرا دیکھنا یہ لوگ جل گئے ان سے پوچھ تو کہ یہ کیا ذکر کر رہے تھے؟ اگر یہ انکار کریں تو تو کہنا کہ تم یہ یہ باتیں کر رہے تھے۔“
صفحہ نمبر3512
سیدنا عمار صلی اللہ علیہ وسلم نے جا کر ان سے یہ کہا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عذر معذرت کرنے لگے اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہنسی ہنسی میں ہمارے منہ سے ایسی بات نکل گئی۔
ودیعہ نے تو یہ کہا لیکن مخشی بن حمیر نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ میرا اور میرے باپ کا نام ملاحظہ فرمائیے پس اس وجہ سے یہ لغو حرکت اور حماقت مجھ سے سرزد ہوئی معاف فرمایا جاؤں۔
پس اس سے جناب باری تعالیٰ نے درگذر فرما لیا اور اس آیت میں اسی سے درگذر فرمانے کا ذکر بھی ہوا ہے اس کے بعد اس نے اپنا نام بدل کر عبدالرحمٰن رکھا سچا مسلمان بن گیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اپنی راہ میں شہید کرتا کہ یہ دھبہ دھل جائے چنانچہ یمامہ والے دن یہ بزرگ شہید کر دیئے گئے، اور ان کی نعش بھی نہ ملی، رضی اللہ عنہ وارضاہ۔ [سیرۃ ابن ہشام:121،122/4]
ان منافقوں نے بطور طعنہ زنی کے کہا تھا کہ لیجئے کیا آنکھیں پھٹ گئیں ہیں اب یہ چلے ہیں کہ رومیوں کے قلعے اور ان کے محلات کو فتح کریں بھلا اس عقلمندی اور دور بینی کو تو دیکھئے۔
صفحہ نمبر3513
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان باتوں پر مطلع کر دیا تو یہ صاف منکر ہو گئے اور قسمیں کھا کھا کر کہا کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی ہم تو آپس میں ہنسی کھیل کر رہے تھے۔
ہاں ان میں ایک شخص تھا جسے ان شاءاللہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہو گا یہ کہا کرتا تھا کہ اللہ میں تیرے پاک کلام کی ایک آیت سنتا ہوں جس میں میرے گناہ کا ذکر ہے جب بھی سنتا ہوں میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میرا دل کپکپانے لگتا ہے، پروردگار تو میری توبہ قبول فرما اور مجھے اپنی راہ میں شہید کر اور اس طرح کہ نہ کوئی مجھے غسل دے نہ کفن دے نہ دفن کرے۔ یہی ہوا جنگ یمامہ میں یہ شہداء کے ساتھ شہید ہوئے تمام شہداء کی لاشیں مل گئیں لیکن ان کی نعش کا پتہ ہی نہ چلا۔ جناب باری تعالیٰ کی طرف سے اور منافقوں کو جواب ملا کہ اب بہانے نہ بناؤ تم گو زبانی ایماندار بنے تھے لیکن اب اسی زبان سے تم کافر ہو گئے۔ یہ قول کفر کا کلمہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کی ہنسی اڑائی۔ ہم اگر کسی سے درگذر بھی کر جائیں لیکن تم سب سے یہ معاملہ نہیں ہو گا تمہارے اس جرم اور اس بدترین خطا اور اس مقولہء کفر کی تمہیں سخت ترین سزا بھگتنی پڑے گی۔
صفحہ نمبر3514
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا ٭٭
منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں، مومن سخی ہوتے ہیں، منافق بخیل ہوتے ہیں، مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں، منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔
اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔
صفحہ نمبر3516
ایک کے ہاتھ نیکیوں کے کھیت دوسرے کے ہاتھ برائیوں کی وبا ٭٭
منافقوں کی حصلتیں مومنوں کے بالکل برخلاف ہوتی ہیں۔ مومن بھلائیوں کا حکم کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں منافق برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور بھلائیوں سے منع کرتے ہیں، مومن سخی ہوتے ہیں، منافق بخیل ہوتے ہیں، مومن ذکر اللہ میں مشغول رہتے ہیں، منافق یاد الٰہی بھلائے رہتے ہیں۔
اسی کے بدلے اللہ بھی ان کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جیسے کسی کو کوئی بھول گیا ہو۔ قیامت کے دن یہی ان سے کہا جائے گا کہ آج ہم تمہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے تم اس دن کی ملاقات کو بھلائے ہوئے تھے۔ منافق راہ حق سے دور ہو گئے ہیں گمراہی کے چکر دار بھول بھلیوں میں پھنس گئے ہیں، ان منافقوں اور کافروں کی ان بداعمالیوں کی سزا ان کے لیے اللہ تعالیٰ جہنم کو مقرر فرما چکا ہے وہ ابدالآباد تک رہیں گے وہاں کا عذاب انہیں بس ہو گا، انہیں رب رحیم اپنی رحمت سے دور کر چکا ہے اور ان کے لیے اس نے دائمی اور دیرپا عذاب رکھے ہیں۔
صفحہ نمبر3516
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے ٭٭
ان لوگوں کو بھی اگلے لوگوں کی طرح عذاب پہنچے، «خَلَاقِ» سے مراد یہاں دین ہے، جیسے اگلے لوگ جھوٹ اور باطل میں کودتے پھاندتے رہے، ایسے ہی ان لوگوں نے بھی کیا۔
ان کے یہ فاسد اعمال اکارت گئے نہ دنیا میں سود مند ہوئے نہ آخرت میں ثواب دلانے والے ہوئے یہی صریح نقصان ہے کہ عمل کیا اور ثواب نہ ملا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جیسے آج کی رات کل کی رات سے مشابہ ہوتی ہے اسی طرح اس امت میں بھی یہودیوں کی مشابہت آ گئی۔ میرا تو خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ”اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم اپنے سے پہلے کے لوگوں کے طریقوں کی تابعداری کرو گے بالکل بالشت بہ بالشت اور ذراع بہ ذراع اور ہاتھ بہ ہاتھ یہاں تک کہ وہ اگر کسی گوہ کے بل میں گھسے ہیں تو یقیناً تم بھی گھسو گے۔“ لوگوں نے پوچھا: ”اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون لوگ ہیں؟ کیا اہل کتاب“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور کون“؟ [صحیح بخاری:3456]
اس حدیث کو بیان فرما کر ابوہریرہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن کے ان لفظوں کو پڑھ لو «كَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ» [9-التوبہ:69] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ” «خَلَاقِ» سے مراد دین ہے۔ اور تم نے بھی اسی طرح کا خوض کیا جس طرح کا انہوں نے کیا۔“ لوگوں نے پوچھا: ”کیا فارسیوں اور رومیوں کی طرح“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور لوگ ہیں ہی ہیں کون“؟ [سنن ابن ماجہ:3994،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] اس حدیث کے شواہد صحیح احادیث میں بھی ہیں۔
صفحہ نمبر3518
بدکاروں کے ماضی سے عبرت حاصل کرو ٭٭
ان بدکردار منافقوں کو وعظ سنایا جا رہا ہے کہ اپنے سے پہلے کے اپنے جیسوں کے حالات پر عبرت کی نظر ڈالو، دیکھو کہ نبیوں کی تکذیب کیا پھل لائی؟
قوم نوح علیہ السلام کا غرق ہونا سوائے مسلمانوں کے کسی کا نہ بچنا یاد کرو، عادیوں کا ہود علیہ السلام کے نہ ماننے کی وجہ سے ہوا کے جھونکوں سے تباہ ہونا یاد کرو، ثمودیوں کا سیدنا صالح علیہ السلام کے جھٹلانے اور اللہ کی نشانی اونٹنی کے کاٹ ڈالنے سے ایک جگر دوز کڑاکے کی آواز سے تباہ و بربار ہونا یاد کرو، سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا دشمنوں کے ہاتھوں سے بچ جانا اور ان کے دشمنوں کا غارت ہونا، نمرود بن کنعان بن کوش جیسے بادشاہ کا مع اپنے لاؤ لشکر کے تباہ ہونا نہ بھولو وہ سب لعنت کے مارے بے نشان کر دیئے گئے، قوم شعیب انہی بدکرداریوں اور کفر کے بدلے زلزلے اور سائبان والے دن کے عذاب سے تہ و بالا کر دی گئی، جو مدین کی رہنے والی تھی، قوم لوط جن کی بستیاں الٹی پڑی ہیں مدین اور سدوم وغیرہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی اپنے نبی لوط علیہ السلام کے نہ ماننے اور اپنی بدفعلی نہ چھوڑنے کے باعث ایک ایک کو پیوند زمین کر دیا، ان کے پاس ہمارے رسول ہماری کتاب اور کھلے معجزے اور صاف دلیلیں لے کر پہنچے لیکن انہوں نے ایک نہ مانی، بالآخر اپنے ظلم سے آپ برباد ہوئے اللہ تعالیٰ نے تو حق واضح کر دیا کتاب اتار دی رسول بھیج دیئے حجت ختم کر دی لیکن یہ رسولوں کے مقابلے پر آمادہ ہوئے کتاب اللہ کی تعمیل سے بھاگے حق کی مخالفت کی پس لعنت الہٰی اتری، اور انہیں خاک سیاہ کر گئی۔
صفحہ نمبر3519
مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں ٭٭
منافقوں کی بدخصلتیں بیان فرما کر مسلمانوں کی نیک صفتیں بیان فرما رہا ہے کہ یہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، ایک دوسرے کا دست و بازو بنے رہتے ہیں،
صحیح حدیث میں ہے کہ مومن مومن کے لیے مثل دیوار کے ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو تقویت پہنچاتا اور مضبوط کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماتے ہوئے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈال کردکھا بھی دیا، [صحیح بخاری:481]
اور صحیح حدیث میں ہے کہ مومن اپنی دوستیوں اور سلوکوں میں مثل ایک جسم کے ہیں کہ ایک حصے کو بھی اگر تکلیف ہو تو تمام جسم بیماری اور بے داری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ [صحیح بخاری:6011]
یہ پاک نفس لوگوں اوروں کی تربیت سے بھی غافل نہیں رہتے، سب کو بھلائیاں سکھاتے ہیں اچھی باتیں بتلاتے ہیں برے کاموں سے بری باتوں سے امکان بھر روکتے ہیں۔ حکم الٰہی بھی یہی ہے، فرماتا ہے تم میں ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیئے جو بھلائیوں کا حکم کرے برائیوں سے منع کرے، یہ نمازی ہوتے ہیں، ساتھ ہی زکوٰۃ بھی دیتے ہیں تاکہ ایک طرف اللہ کی عبادت ہو دوسری جانب مخلوق کی دلجوئی ہو، اللہ تعالیٰ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہی ان کا دلچسپ مشغلہ ہے جو حکم ملا بجا لائے جس سے روکا رک گئے، یہی لوگ ہیں جو رحم الٰہی کے مستحق ہیں، یہی صفتیں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی طرف لپکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ عزیز ہے وہ اپنے فرماں برداروں کی خود بھی عزت کرتا ہے اور انہیں ذی عزت بنا دیتا ہے۔ دراصل عزت اللہ ہی کے لیے ہے اور اس نے اپنے رسولوں اور اپنے ایمانداروں اور غلاموں کو بھی عزت دے رکھی ہے۔ اس کی حکمت ہے کہ ان میں یہ صفتیں رکھیں اور منافقوں میں وہ خصلتیں رکھیں۔ اس کی حکمت کی تہہ کو کون پہنچ سکتا ہے؟ جو چاہے کرے، وہ برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔
صفحہ نمبر3520
مومنوں کو نیکی کے انعامات ٭٭
مومنوں کی ان نیکیوں پر جو اجر و ثواب انہیں ملے گا اس کا بیان ہو رہا ہے کہ ابدی نعمتیں، ہمیشگی کی راحتیں، باقی رہنے والی جنتیں، جہاں قدم قدم پر خوشگوار پانی کے چشمے ابل رہے ہیں جہاں بلند و بالاخوبصورت مزین صاف ستھرے آرائش و زیبائش والے محلات اور مکانات ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو جنتیں تو صرف سونے کی ہیں ان کے برتن اور جو کچھ بھی وہاں ہے سب سونے ہی سونے کا ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں برتن بھی اور کل چیزیں بھی ان میں اور دیدارالٰہی میں کوئی حجاب بجز اس کبریائی کی چادر کے نہیں جو اللہ جل وعلا کے چہرے پر ہے یہ جنت عدن میں ہوں گے۔ [صحیح بخاری:3878]
اور حدیث میں ہے کہ مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہو گا ایک ہی موتی کا بنا ہوا اس کا طول ساٹھ میل کا ہو گا۔ مومن کی بیویاں وہیں ہوں گی جن کے پاس یہ آتاجاتا رہے گا لیکن ایک دوسرے کو دکھائی نہ دیں گی۔ [صحیح بخاری:4879]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو اللہ تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، نماز قائم رکھے، رمضان کے روزے رکھے، اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں لے جائے اس نے ہجرت کی ہو یا اپنے وطن میں ہی رہا ہو۔ لوگوں نے کہا: ”پھر ہم اوروں سے بھی یہ حدیث بیان کر دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ کے مجاہدوں کے لیے بنائے ہیں ہر دو درجوں میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا زمین و آسمان میں، پس جب بھی تم اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرو توجنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے اونچی اور سب سے بہتر جنت ہے جنتوں کی سب نہریں وہیں سے نکلتی ہیں اس کی چھت رحمن کا عرش ہے، [صحیح بخاری:2790]
فرماتے ہیں اہل جنت جنتی بالاخانوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے چمکتے دمکتے ستاروں کو دیکھتے ہو۔ [صحیح بخاری:6555]
صفحہ نمبر3521
یہ بھی معلوم رہے کہ تمام جنتوں میں خاص ایک اعلیٰ مقام ہے جس کا نام وسیلہ ہے کیونکہ وہ عرش سے بالکل ہی قریب ہے یہ جگہ ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جب تم مجھ پر درود پڑھو تو اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلہ طلب کیا کرو۔ پوچھا گیا وسیلہ کیا ہے؟ فرمایا: ”جنت کا وہ اعلیٰ درجہ جو ایک ہی شخص کو ملے گا اور مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے وہ شخص میں ہی ہوں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مؤذن کی اذان کا جواب دو جیسے کلمات وہ کہتا ہے تم بھی کہو پھر مجھ پر درود پڑھو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر میرے لیے وسیلہ طلب کرو اور جنت کی ایک منزل ہے جو تمام مخلوق الہیہ میں سے ایک ہی شخص کو ملے گی مجھے امید ہے کہ وہ مجھے ہی عنایت ہو گی [مسند احمد:7588:صحیح] جو شخص میرے لیے اللہ سے اس وسیلے کی طلب کرے اس کیلئے میری شفاعت بروز قیامت حلال ہو گئی۔ [صحیح مسلم:384]
فرماتے ہیں میرے لیے اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو دنیا میں یہ جو بھی میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی بنوں گا۔ [طبرانی:1/333:صحیح]
صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں جنت کی باتیں سنائیے ان کی بنا کس چیز کی ہے“؟ فرمایا: ”سونے چاندی کی اینٹوں کی، اس کا گارا خالص مشک ہے اس کے کنکر لوءلوء اور یاقوت ہیں، اس کی مٹی زعفران ہے اس میں جو جائے گا وہ نعمتوں میں ہو گا جو کبھی خالی نہ ہوں وہ ہمیشہ کی زندگی پائے گا جس کے بعد موت کا کھٹکا بھی نہیں نہ اس کے کپڑے خراب ہوں نہ اس کی جوانی ڈھلے۔“ [مسند احمد:304/2:صحیح]
فرماتے ہیں جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جنکا اندر کا حصہ باہر سے نظر آتا ہے اور باہر کا حصہ اندر سے۔ ایک اعرابی نے پوچھا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ بالاخانے کن کے لیے ہیں“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اچھا کلام کرے، کھانا کھلائے، روزے رکھے، اور راتوں کو لوگوں کے سونے کے وقت تہجد کی نماز ادا کرے۔“ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر3522
فرماتے ہیں کوئی ہے جو جنت کا شائق اور اس کے لیے محنت کرنے والا ہو؟ واللہ! جنت کی کوئی چار دیواری محدود کرنے والا نہیں وہ تو ایک چمکتا ہوا بقعہ نور ہے اور مہکتا ہوا گلستان ہے اور بلند و بالا پاکیزہ محلات ہیں اور جاری و ساری لہریں مارنے والی نہریں ہیں اور گدرائے ہوئے اور پکے میوؤں کے گچھے ہیں اور جوش جمال خوبصورت پاک سیرت حوریں ہیں اور بیش قیمت رنگین جوڑے ہیں، مقام ہے ہمیشگی کا، گھر ہے سلامتی کا، میوے ہیں لدھے پھدے، سبزہ ہے پھیلا ہوا، کشادگی اور راحت ہے، امن اور چین ہے، نعمت اور رحمت ہے، عالیشان خوش منظر کوشک اور حویلیاں ہیں۔
یہ سن کر لوگ بول اٹھے کہ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سب اس جنت کے مشتاق اور اس کے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاءاللہ کہو۔“ پس لوگوں نے ان شاءاللہ کہا۔ [سنن ابن ماجہ:4332،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ان تمام نعمتوں سے اعلیٰ اور بالا نعمت اللہ کی رضا مندی ہے۔ فرماتے ہں اللہ تعالیٰ عزوجل جنتیوں کو پکارے گا کہے گا اے اہل جنت! وہ کہیں گے «لبیک ربنا وسعدیک والخیر فی یدیک» ۔ پوچھے گا ”کہو تم خوش ہو گئے“؟ وہ جواب دیں گے کہ ”خوش کیوں نہ ہوتے تو نے تو اے پروردگار! ہمیں وہ دیا جو مخلوق میں سے کسی کو نہ ملا ہو گا۔“
اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”لو میں تمہیں اس سے بہت ہی افضل و اعلیٰ چیز عطا فرماتا ہوں۔“ وہ کہیں گے ”اے اللہ! اس سے بہتر چیز اور کیا ہو سکتی ہے“؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”سنو! میں نے اپنی رضا مندی تمہیں عطا فرمائی آج کے بعد میں کبھی بھی تم سے ناخوش نہ ہوں گا۔ [صحیح بخاری:6549]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے اللہ عزوجل فرمائے گا کچھ اور چاہیئے تو دوں۔ وہ کہیں گے ”اے اللہ! جو تو نے ہمیں عطا فرما رکھا ہے اس سے بہتر تو کوئی اور چیز ہو ہی نہیں سکتی“، اللہ فرمائے گا ”وہ میری رضا مندی ہے جو سب سے بہتر ہے۔“ [مستدرک حاکم:82/1:صحیح]
امام حافظ ضیاء مقدسی نے صفت جنت میں ایک مستقل کتاب لکھی ہے اس میں اس حدیث کو شرط صحیح پر بتلایا ہے۔ واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3523
چار تلواریں؟ ٭٭
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ» [9-التوبة:5] حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو،
دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں، فرماتا ہے، «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ» [9-التوبة:29] الخ جو اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے، دین حق کو قبول نہیں کرتے، ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کر لیں،
تیسری تلوار منافقین میں، ارشاد ہوتا ہے۔ «جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ» [9-التوبة:73] [66-التحريم:9] کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔
چوتھی تلوار باغیوں میں، فرمان ہے «فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» [49-الحجرات:9] باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آ جائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہیئے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تو تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کر لے۔ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی، حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کر چکے ہیں۔
صفحہ نمبر3524
یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے۔ ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہو گئی۔ جہنی شخص انصار پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ! ہماری اور اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہی مثال ہے کہ ”اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے۔“
واللہ! اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [9-التوبة:29]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا۔ اس کی خبر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں؟
پس سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید رضی اللہ عنہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! نبی کریم صلی اللہ علی وسلم بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔
صفحہ نمبر3525
پھر آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گذار کی، لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہو گیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کر دیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے [صحیح بخاری:4906]
لیکن اس جملے تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی، ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو، اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔ مغازی اموی میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق مؤخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا ان میں سے بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن سوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئی تھیں۔ جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ! اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں
سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقیناً ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔
صفحہ نمبر3526
یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کر لی اور درست ہو گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17464]
یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں، واللہ اعلم، اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ قباء سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ ”اے دشمن رب! میں تیری اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا“ فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ جائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کر دیا جاؤں، چنانچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16982]
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علی وسلم ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ”ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار! تم اس سے کلام نہ کرنا“،
اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو“؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16988]
صفحہ نمبر3527
اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بات کہ دی تھی قتل کر دے۔
ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اسے سردار بنا دیں گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا،
چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا۔ ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں للکارا اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں پہچانا“؟ ہم نے کہا: ”نہیں لیکن ان کی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے“؟ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لیے۔“ ہم نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئیے کہ ہر قوم والے اپنی قوم کے جس آدمی کی شرکت اس میں پائیں اس کی گردن اڑا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ورنہ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو انہی لوگوں کو لے کر اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کر کے اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بد دعا کی کہ اے اللہ! ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:260/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3528
اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اس کی راہ کوئی نہ آئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آ گئی۔
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو نیچے کی طرف چلانی شروع کر دی۔ جب نیچے میدان آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس پہنچ گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ”یہ لوگ کون تھے پہچانا بھی“؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں۔“ پوچھا: ”انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو“؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔“
ایک سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی تعداد دریافت کی تو اس نے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے۔ انہوں نے کہا واللہ! ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”باقی کے بارہ لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ [مسند احمد:390،391/5:صحیح]
صفحہ نمبر3529
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں، واللہ اعلم۔
صحیح مسلم میں ہے کہ عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن الہٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور تین شخصوں کی اس قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی، نہ ندا سنی، نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لیے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی۔ [صحیح مسلم، ترقیم فواد عبدالباقی: 2779]
آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے مونڈھوں پر تو آتشی پھوڑا ہو گا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ [مسند احمد:319،262/4:صحیح]
اسی باعث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کا راز دار کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتلائے تھے۔ واللہ اعلم۔
طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر، ودیعہ بن ثابت، جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید طائی اور اوس بن قیظی اور حارث بن سوید اور سعد بن زرارہ اور قیس بن فہر اور سوید اور داعس قبیلہ بنو حبلیٰ کے اور قیس بن عمرو بن سہل اور زید بن لصیت اور سلالہ بن حمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔
صفحہ نمبر3530
اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مالدار بنایا،
اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا پورا فضل ہو جاتا تو انہیں ہدایت نصیب ہو جاتی جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی، تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی تم فقیر بے نوا تھے اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کر دیا۔“
ہر ہر سوال کے جواب میں انصار رضی اللہ عنہم فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے زیادہ احسان ہے [صحیح بخاری:4330] ۔
الغرض بیان یہ ہے کہ بے وجہ، بے قصور یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے، جیسے سورۃ البروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا۔ [صحیح بخاری:1768]
پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہو گی قتل سے بھی صدمہ و غم سے بھی اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابلِ برداشت عذابوں سے بھی، دنیا میں کوئی نہ ہو گا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا نفع پہنچائے یہ بے یارو مددگار رہ جائیں گے۔
صفحہ نمبر3531
چار تلواریں؟ ٭٭
کافروں منافقوں سے جہاد کا اور ان پر سختی کا حکم ہوا، مومنوں سے جھک کر ملنے کا حکم ہوا، کافروں کی اصلی جگہ جہنم مقرر فرما دی،
پہلے حدیث گذر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار تلواروں کے ساتھ مبعوث فرمایا ایک تلوار تو مشرکوں میں، فرماتا ہے «فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ» [9-التوبة:5] حرمت والے مہینوں کے گذرتے ہی مشرکوں کی خوب خبر لو،
دوسری تلوار اہل کتاب کے کفار میں، فرماتا ہے، «قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ» [9-التوبة:29] الخ جو اللہ تعالیٰ پر قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہیں مانتے، دین حق کو قبول نہیں کرتے، ان اہل کتاب سے جہاد کرو جب تک کہ وہ ذلت کے ساتھ جھک کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دینا منظور نہ کر لیں،
تیسری تلوار منافقین میں، ارشاد ہوتا ہے۔ «جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ» [9-التوبة:73] [66-التحريم:9] کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔
چوتھی تلوار باغیوں میں، فرمان ہے «فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» [49-الحجرات:9] باغیوں سے لڑو جب تک کہ پلٹ کر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی حکم برداری کی طرف نہ آ جائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ منافق جب اپنا نفاق ظاہر کرنے لگیں تو ان سے تلوار سے جہاد کرنا چاہیئے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ کا پسندیدہ قول بھی یہی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہاتھ سے نہ ہو سکے تو ان کے منہ پر ڈانٹ ڈپٹ سے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کافروں سے تو تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور منافقوں کے ساتھ زبانی جہاد کو فرمایا ہے اور یہ کہ ان پر نرمی نہ کی جائے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا بھی تقریباً یہی قول ہے۔ ان پر حد شرعی کا جاری کرنا بھی ان سے جہاد کرنا ہے مقصود یہ ہے کہ کبھی تلوار بھی ان کے خلاف اٹھانی پڑے گی ورنہ جب تک کام چلے زبان کافی ہے جیسا موقعہ ہو کر لے۔ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے ایسی کوئی بات زبان سے نہیں نکالی، حالانکہ درحقیقت کفر کا بول بول چکے ہیں اور اپنے ظاہری اسلام کے بعد کھلا کفر کر چکے ہیں۔
صفحہ نمبر3524
یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے۔ ایک جہنی اور ایک انصاری میں لڑائی ہو گئی۔ جہنی شخص انصار پر چھا گیا تو اس منافق نے انصار کو اس کی مدد پر ابھارا اور کہنے لگا واللہ! ہماری اور اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تو وہی مثال ہے کہ ”اپنے کتے کو موٹا تازہ کر کہ وہ تجھے ہی کاٹے۔“
واللہ! اگر ہم اب کی مرتبہ مدینے واپس گئے تو ہم ذی عزت لوگ ان تمام کمینے لوگوں کو وہاں سے نکال کر باہر کریں گے۔ ایک مسلمان نے جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گفتگو دہرادی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوا کر اس سے سوال کیا تو یہ قسم کھا کر انکار کر گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [9-التوبة:29]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری قوم کے جو لوگ حرہ کی جنگ میں کام آئے ان پر مجھے بڑی ہی رنج و صدمہ ہو رہا تھا۔ اس کی خبر سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! انصار کو اور انصار کے لڑکوں کو بخش دے۔ نیچے کے راوی ابن الفضل کو اس میں شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس دعا میں ان کے پوتوں کا نام بھی لیا یا نہیں؟
پس سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے موجود لوگوں میں سے کسی سے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی نسبت سوال کیا تو اس نے کہا یہی وہ زید رضی اللہ عنہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی۔ واقعہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ پڑھ رہے تھے کہ ایک منافق نے کہا اگر یہ سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی زیادہ احمق ہیں۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! نبی کریم صلی اللہ علی وسلم بالکل سچے ہیں اور بیشک تو اپنی حماقت میں گدھے سے بڑھا ہوا ہے۔
صفحہ نمبر3525
پھر آپ نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گوش گذار کی، لیکن وہ منافق پلٹ گیا اور صاف انکار کر گیا اور کہا کہ زید نے جھوٹ بولا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کی سچائی بیان فرمائی۔ لیکن مشہور بات یہ ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنی المطلق کا ہے ممکن ہے راوی کو اس آیت کے ذکر میں وہم ہو گیا ہو اور دوسری آیت کے بدلے اسے بیان کر دیا ہو۔ یہی حدیث بخاری شریف میں ہے [صحیح بخاری:4906]
لیکن اس جملے تک کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ وہ ہیں جن کے کانوں کی سنی ہوئی بات کی سچائی کی شہادت خود رب علیم نے دی، ممکن ہے کہ بعد کا حصہ موسیٰ بن عقبہ راوی کا اپنا قول ہو، اسی کی ایک روایت میں یہ پچھلا حصہ ابن شہاب کے قول سے مروی ہے واللہ اعلم۔ مغازی اموی میں سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیان کردہ تبوک کے واقعہ کے بعد ہے کہ جو منافق مؤخر چھوڑ دیئے گئے تھے اور جن کے بارے میں قرآن نازل ہوا ان میں سے بعض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی تھے۔ ان میں جلاس بن سوید بن صامت بھی تھا ان کے گھر میں عمیر بن سعد کی والدہ تھیں جو اپنے ساتھ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ کو بھی لے گئی تھیں۔ جب ان منافقوں کے بارے میں قرآنی آیتیں نازل ہوئیں تو جلاس کہنے لگا کہ واللہ! اگر یہ شخص اپنے قول میں سچا ہے تو ہم تو گدھوں سے بھی بدتر ہیں
سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے کہ یوں تو آپ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ کی تکلیف مجھ پر میری تکلیف سے بھی زیادہ شاق ہے لیکن آپ نے اسوقت تو ایسی بات منہ سے نکالی ہے کہ اگر میں اسے پہنچاؤں تو رسوائی ہے اور نہ پہنچاؤں تو ہلاکت ہے، رسوائی یقیناً ہلاکت سے ہلکی چیز ہے۔
صفحہ نمبر3526
یہ کہہ کر یہ بزرگ حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہوئے اور ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنائی۔ جلاس کو جب یہ پتہ چلا تو اس نے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر قسمیں کھا کھا کر کہا کہ عمیر جھوٹا ہے میں نے یہ بات ہرگز نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت اتری۔ مروی ہے کہ اس کے بعد جلاس نے توبہ کر لی اور درست ہو گئے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17464]
یہ توبہ کی بات بہت ممکن ہے کہ امام محمد بن اسحاق کی اپنی کہی ہوئی ہو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی یہ بات نہیں، واللہ اعلم، اور روایت میں ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت اپنے سوتیلے بیٹے سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ قباء سے آ رہے تھے دونوں گدھوں پر سوار تھے اس وقت جلاس نے یہ کہا تھا اس پر ان کے صاحبزادے نے فرمایا کہ ”اے دشمن رب! میں تیری اس بات کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دوں گا“ فرماتے ہیں کہ مجھے تو ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے بارے میں قرآن نہ نازل ہو یا مجھ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آ جائے یا اس گناہ میں میں بھی اپنے باپ کا شریک نہ کر دیا جاؤں، چنانچہ میں سیدھا حاضر ہوا اور تمام بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مع اپنے ڈر کے سنا دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16982]
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علی وسلم ایک سائے دار درخت تلے بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کہ ”ابھی تمہارے پاس ایک شخص آئے گا اور تمہیں شیطان دیکھے گا خبردار! تم اس سے کلام نہ کرنا“،
اسی وقت ایک انسان کیری آنکھوں والا آیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اور تیرے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو“؟ وہ اسی وقت گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا سب نے قسمیں کھا کھا کر کہا ہم نے کوئی ایسا لفظ نہیں کہا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگذر فرما لیا پھر یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:16988]
صفحہ نمبر3527
اس میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے وہ قصد کیا جو پورا نہ ہوا مراد اس سے جلاس کا یہ ارادہ ہے کہ اپنے سوتیلے لڑکے کو جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بات کہ دی تھی قتل کر دے۔
ایک قول ہے کہ عبداللہ بن ابی نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا ارادہ کیا تھا۔ یہ قول بھی ہے کہ بعض لوگوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اسے سردار بنا دیں گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی نہ ہوں۔ یہ بھی مروی ہے کہ دس سے اوپر اوپر آدمیوں نے غزوہ تبوک میں راستے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکہ دے کر قتل کرنا چاہا تھا،
چنانچہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے آگے پیچھے تھے ایک چلتا تھا دوسرا نکیل تھامتا تھا۔ ہم عقبہ میں تھے کہ بارہ شخص منہ پر نقاب ڈالے آئے اور اونٹنی کو گھیر لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں للکارا اور وہ دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”کیا تم نے انہیں پہچانا“؟ ہم نے کہا: ”نہیں لیکن ان کی سواریاں ہماری نگاہوں میں ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ منافق تھے اور قیامت تک ان کے دل میں نفاق رہے گا۔ جانتے ہو کہ کس ارادے سے آئے تھے“؟ ہم نے کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے رسول کو عقبہ میں پریشان کرنے اور تکلیف پہنچانے کے لیے۔“ ہم نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ان کی قوم کے لوگوں سے کہلوا دیجئیے کہ ہر قوم والے اپنی قوم کے جس آدمی کی شرکت اس میں پائیں اس کی گردن اڑا دیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ورنہ لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں گی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو انہی لوگوں کو لے کر اپنے دشمنوں سے لڑے ان پر فتح حاصل کر کے اپنے ان ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بد دعا کی کہ اے اللہ! ان کے دلوں پر آتشیں پھوڑے پیدا کر دے۔ [دلائل النبوۃ للبیهقی:260/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3528
اور روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کرا دیا کہ میں عقبہ کے راستے میں جاؤں گا۔ اس کی راہ کوئی نہ آئے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پیچھے سے چلا رہے تھے کہ ایک جماعت اپنی اونٹنیوں پر سوار آ گئی۔
سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی سواریوں کو مارنا شروع کیا اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کو نیچے کی طرف چلانی شروع کر دی۔ جب نیچے میدان آ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے اتر آئے اتنے میں عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس پہنچ گئے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ”یہ لوگ کون تھے پہچانا بھی“؟ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: ”منہ تو چھپے ہوئے تھے لیکن سواریاں معلوم ہیں۔“ پوچھا: ”انکا ارادہ کیا تھا جانتے ہو“؟ جواب دیا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے چاہا تھا کہ شور کر کے ہماری اونٹنی کو بھڑکا دیں اور ہمیں گرا دیں۔“
ایک سے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے ان کی تعداد دریافت کی تو اس نے کہا چودہ۔ آپ نے فرمایا: ”اگر تو بھی ان میں تھا تو پندرہ۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے تین شخصوں کے نام گنوائے۔ انہوں نے کہا واللہ! ہم نے تو منادی کی ندا سنی اور نہ ہمیں اپنے ساتھیوں کے کسی بد ارادے کا علم تھا۔ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”باقی کے بارہ لوگ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کرنے والے ہیں دنیا میں اور آخرت میں بھی۔ [مسند احمد:390،391/5:صحیح]
صفحہ نمبر3529
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے ان میں سے بہت سے لوگوں کے نام بھی گنوائے ہیں، واللہ اعلم۔
صحیح مسلم میں ہے کہ عقبہ والوں میں سے ایک شخص اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے درمیان (اس طرح کا) جھگڑا ہو گیا جس طرح لوگوں کے درمیان ہو جاتا ہے۔ (گفتگو کے دوران میں) انہوں نے (اس شخص سے) کہا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ عقبہ والوں کی تعداد کتنی تھی؟ لوگوں نے بھی اس سے کہا کہ ہاں بتلاؤ۔ اس نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ چودہ تھے اگر مجھے بھی شامل کیا جائے تو پندرہ ہوئے۔ ان میں سے بارہ تو دشمن الہٰی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور تین شخصوں کی اس قسم پر کہ نہ ہم نے منادی کی، نہ ندا سنی، نہ ہمیں جانے والوں کے ارادے کا علم تھا اس لیے معذور رکھا گیا۔ گرمی کا موسم تھا پانی بہت کم تھا آپ نے فرما دیا تھا کہ مجھ سے پہلے وہاں کوئی نہ پہنچے لیکن اس پر بھی کچھ لوگ پہنچ گئے تھے آپ نے ان پر لعنت کی۔ [صحیح مسلم، ترقیم فواد عبدالباقی: 2779]
آپ کا فرمان ہے کہ میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہیں جو نہ جنت میں جائیں گے نہ اس کی خوشبو پائیں گے آٹھ کے مونڈھوں پر تو آتشی پھوڑا ہو گا جو سینے تک پہنچے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔ [مسند احمد:319،262/4:صحیح]
اسی باعث سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علی وسلم کا راز دار کہا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف انہی کو ان منافقوں کے نام بتلائے تھے۔ واللہ اعلم۔
طبرانی میں ان کے نام یہ ہیں معتب بن قشیر، ودیعہ بن ثابت، جد بن عبداللہ بن نبتل بن حارث جو عمرو بن عوف کے قبیلے کا تھا اور حارث بن یزید طائی اور اوس بن قیظی اور حارث بن سوید اور سعد بن زرارہ اور قیس بن فہر اور سوید اور داعس قبیلہ بنو حبلیٰ کے اور قیس بن عمرو بن سہل اور زید بن لصیت اور سلالہ بن حمام یہ دونوں قبیلہ بنو قینقاع کے ہیں یہ سب بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔
صفحہ نمبر3530
اس آیت میں اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ انہوں نے اسی بات کا بدلہ لیا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مالدار بنایا،
اگر ان پر اللہ تعالیٰ کا پورا فضل ہو جاتا تو انہیں ہدایت نصیب ہو جاتی جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”کیا میں نے تمہیں گمراہی کی حالت میں نہیں پایا تھا؟ کہ پھر اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تمہاری رہبری کی، تم متفرق تھے اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے تم میں الفت ڈال دی تم فقیر بے نوا تھے اللہ تعالیٰ نے میرے سبب سے تمہیں غنی اور مالدار کر دیا۔“
ہر ہر سوال کے جواب میں انصار رضی اللہ عنہم فرماتے جاتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے زیادہ احسان ہے [صحیح بخاری:4330] ۔
الغرض بیان یہ ہے کہ بے وجہ، بے قصور یہ لوگ دشمنی اور بےایمانی پر اتر آئے، جیسے سورۃ البروج میں ہے کہ ان مسلمانوں میں سے ایک کافروں کا انتقام صرف ان کے ایمان کے باعث تھا۔ حدیث میں ہے کہ ابن جمیل صرف اس بات کا انتقام لیتا ہے کہ وہ فقیر تھا اللہ تعالیٰ نے اسے غنی کر دیا۔ [صحیح بخاری:1768]
پھر فرماتا ہے کہ اگر یہ اب بھی توبہ کر لیں تو ان کے حق میں بہتر ہے اور اگر وہ اپنے اسی طریقہ پر کاربند رہے تو انہیں دنیا میں بھی سخت سزا ہو گی قتل سے بھی صدمہ و غم سے بھی اور دوزخ کے ذلیل و پست کرنے والے ناقابلِ برداشت عذابوں سے بھی، دنیا میں کوئی نہ ہو گا جو ان کی طرف داری کرے ان کی مدد کرے ان کے کام آئے ان سے برائی ہٹائے یا نفع پہنچائے یہ بے یارو مددگار رہ جائیں گے۔
صفحہ نمبر3531
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔
[نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد]
یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“
اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔
یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
صفحہ نمبر3533
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“
بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“
یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔
ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“
یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
صفحہ نمبر3534
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف]
الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:33]
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
صفحہ نمبر3535
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔
[نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد]
یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“
اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔
یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
صفحہ نمبر3533
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“
بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“
یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔
ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“
یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
صفحہ نمبر3534
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف]
الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:33]
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
صفحہ نمبر3535
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔
[نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد]
یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“
اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔
یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
صفحہ نمبر3533
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“
بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“
یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔
ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“
یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
صفحہ نمبر3534
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف]
الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:33]
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
صفحہ نمبر3535
دعا قبول ہوئی تو اپنا عہد بھول گیا ٭٭
بیان ہو رہا ہے کہ ان منافقوں میں وہ بھی ہے جس نے عہد کیا کہ اگر مجھے اللہ تعالیٰ مالدار کر دے تو میں بڑی سخاوت کروں اور نیک بن جاؤں۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اسے امیر اور خوشحال بنا دیا اس نے وعدہ شکنی کی اور بخیل بن بیٹھا جس کی سزا میں قدرت نے اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نفاق ڈال دیا۔
[نوٹ] اس واقعہ میں ثعبلہ کا نام صحیح سند سے ثابت نہیں یہ آیت بھی منافقین کے بارے مین اتری ہے [محمد انور زاہد]
یہ آیت ثعلبہ بن حاطب انصاری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ میرے لیے مالداری کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تھوڑا جس کا شکر ادا ہو اس بہت سے اچھا ہے جو اپنی طاقت سے زیادہ ہو۔“ اس نے پھر دوبارہ یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھایا کہ ”تو اپنا حال اللہ تعالیٰ کے نبی جیسا رکھنا پسند نہیں کرتا؟ واللہ! اگر میں چاہتا تو یہ پہاڑ سونے چاندی کے بن کر میرے ساتھ چلتے۔“
اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! واللہ! میرا ارادہ ہے کہ اگر اللہ مجھے مالدار کر دے تو میں خوب سخاوت کی داد دوں ہر ایک کو اس کا حق ادا کروں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے مال میں برکت کی دعا کی۔ اس کی بکریوں میں اس طرح زیادتی شروع ہوئی جیسے کیڑے بڑھ رہے ہوں۔
یہاں تک کہ مدینہ منورہ اس کے جانوروں کے لیے تنگ ہو گیا۔ یہ ایک میدان میں نکل گیا ظہر عصر تو جماعت کے ساتھ ادا کرتا باقی نمازیں جماعت سے نہیں ملتی تھیں۔ جانوروں میں اور برکت ہوئی اسے اور دور جانا پڑا۔ اب سوائے جمعہ کے اور سب جماعتیں اس سے چھوٹ گئیں، مال اور بڑھتا گیا، ہفتہ بعد جمعہ کے لیے آنا بھی اس نے چھوڑ دیا۔ آنے جانے والے قافلوں سے پوچھ لیا کرتا تھا کہ جمعہ کے دن کیا بیان ہوا؟ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حال دریافت کیا۔ لوگوں نے سب کچھ بیان کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار افسوس کیا ادھر آیت اتری کہ ان کے مال سے صدقے لے اور صدقے کے احکام بھی بیان ہوئے۔ آپ نے دو شخصوں کو جن میں ایک قبیلہ جہنیہ کا اور دوسرا قبیلہ سلیم کا تھا انہیں تحصیلدار بنا کر صدقہ لینے کے احکام لکھ کر انہیں پروانہ دے کر بھیجا اور فرمایا کہ ثعلبہ سے اور فلانے بنی سلیم سے صدقہ لے آؤ۔ یہ دونوں ثعلبہ کے پاس پہنچے فرمان پیغمبر دکھایا صدقہ طلب کیا تو وہ کہنے لگا واہ واہ! یہ تو جزیئے کی بہن ہے یہ تو بالکل ایسا ہی ہے جیسے کافروں سے جزیہ لیا جاتا ہے یہ کیا بات ہے؟ اچھا اب تو جاؤ لوٹتے ہوئے آنا۔
صفحہ نمبر3533
دوسرا شخص سلمی جب اسے معلوم ہوا تو اس نے اپنے بہترین جانور نکالے اور انہیں لے کر خود ہی آگے بڑھا۔ انہوں نے ان جانوروں کو دیکھ کر کہا: ”نہ تو یہ ہمارے لینے کے لائق نہ تجھ پر ان کا دینا واجب۔“ اس نے کہا: ”میں تو اپنی خوشی سے ہی بہترین جانور دینا چاہتا ہوں آپ انہیں قبول فرمائیے۔“
بالآخر انہوں نے لے لیے۔ اوروں سے بھی وصول کیا اور لوٹتے ہوئے پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا: ”ذرا مجھے وہ پرچہ تو پڑھاؤ جو تمہیں دیا گیا ہے۔“ پڑھ کر کہنے لگا ”بھئی یہ تو صاف صاف جزیہ ہے کافروں پر جو ٹیکس مقرر کیا جاتا ہے یہ تو بالکل ویسا ہی ہے اچھا تم جاؤ میں سوچ سمجھ لوں۔“
یہ واپس چلے گئے۔ انہیں دیکھتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثعلبہ پر اظہار افسوس کیا اور سلیمی شخص کے لیے برکت کی دعا کی۔ اب انہوں نے بھی ثعلبہ اور سلمی دونوں کا واقعہ کہہ سنایا۔ پس اللہ تعالیٰ جل وعلانے یہ آیت نازل فرمائی۔
ثعلبہ کے ایک قریبی رشتہ دار نے جب یہ سب کچھ سنا تو ثعلبہ سے جا کر واقعہ بیان کیا اور آیت بھی پڑھ سنائی۔ یہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخواست کی کہ اس کا صدقہ قبول کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ نے مجھے تیرا صدقہ قبول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔“ یہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو سب تیرا ہی کیا دھرا ہے۔ میں نے تو تجھے کہا تھا لیکن تو نہ مانا۔“
یہ واپس اپنی جگہ چلا آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انتقال تک اس کی کوئی چیز قبول نہ فرمائی۔ پھر یہ خلافت صدیقی میں آیا اور کہنے لگا: ”میری جو عزت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی وہ اور میرا جو مرتبہ انصار میں ہے وہ آپ خوب جانتے ہیں آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے“ آپ نے جواب دیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا تو میں کون؟
صفحہ نمبر3534
غرض آپ نے بھی انکار کر دیا۔ جب آپ کا بھی انتقال ہو گیا اور امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے ولی ہوئے تو یہ پھر آیا اور کہا کہ ”امیر المؤمنین آپ میرا صدقہ قبول فرمائیے۔“ آپ نے جواب دیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول نہیں فرمایا خلیفہ اول نے قبول نہیں فرمایا تو اب میں کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
چنانچہ آپ نے بھی اپنی خلافت کے زمانے میں اس کا صدقہ قبول نہیں فرمایا۔ پھر خلافت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئی تو یہ ازلی منافق پھر آیا اور لگا منت سماجت کرنے لیکن آپ نے بھی یہی جواب دیا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے دونوں خلیفہ نے تیرا صدقہ قبول نہیں فرمایا تو میں کیسے قبول کر لوں؟ چنانچہ قبول نہیں کیا اسی اثنا میں یہ شخص ہلاک ہو گیا۔ [طبرانی کبیر:7873:ضعیف]
الغرض پہلے تو وعدے کئے تھے سخاوت کے اور وہ بھی قسمیں کھا کھا کر، پھر اپنے وعدے سے پھر گیا اور سخاوت کے عوض بخیلی کی اور وعدہ شکنی کر لی، اس جھوٹ اور عہد شکنی کے بدلے اس کے دل میں نفاق پیوست ہو گیا جو اس وقت اس کی پوری زندگی تک اس کے ساتھ ہی رہا۔ حدیث میں بھی ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے خلاف کرے جب امانت سونپی جائے خیانت کرے۔ [صحیح بخاری:33]
کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ چھپے کھلے دل کے ارادوں اور سینے کے بھیدوں کا عالم ہے وہ پہلے سے ہی جانتا ہے۔ یہ خالی زبان بکواس ہے کہ مالدار ہو جائیں تو یوں خیراتیں کریں، یوں شکر گذاری کریں، یوں نیکیاں کریں، لیکن دلوں پر نظریں رکھنے والا رب خوب جانتا ہے کہ یہ مال میں مست ہو جائیں گے اور دولت پا کر خرمستیاں، ناشکری اور بخل کرنے لگیں گے۔ وہ ہر حاضر غائب کا جاننے والا ہے وہ ہر چھپے کھلے کا عالم ہے ظاہر باطن سب اس پر روشن ہے
صفحہ نمبر3535
منافقوں کا مومنوں کی حوصلہ شکنی کا ایک انداز ٭٭
یہ بھی منافقوں کی ایک بدخصلت ہے کہ ان کی زبانوں سے کوئی بھی بچ نہیں سکتا نہ سخی نہ بخیل، یہ عیب جو، بدگو لوگ بہت برے ہیں۔ اگر کوئی شخص بڑی رقم اللہ کی راہ میں دے تو یہ اسے ریاکار کہنے لگتے ہیں اور اگر کوئی مسکین اپنی مالی کمزوری کی بنا پر تھوڑا بہت دے تو یہ ناک بھوں چڑھا کر کہتے ہیں لو ان کی اس حقیر چیز کا بھی اللہ بھوکا تھا۔
چنانچہ جب صدقات دینے کی آیت اتری ہے تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے اپنے صدقات لیے ہوئے حاضر ہوتے ہیں ایک صاحب نے دل کھول کر بڑی رقم دی، اسے تو ان منافقوں نے ریاکار کا خطاب دیا اور ایک صاحب بیچارے مسکین آدمی تھی صرف ایک صاع اناج لائے تھے، انہیں کہا کہ اس کے اس صدقے کی اللہ کو کیا ضرورت پڑی تھی؟ اس کا بیان اس آیت میں ہے۔ [صحیح بخاری:4668]
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیع میں فرمایا کہ ”جو صدقہ دے گا میں اس کی بابت قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دوں گا۔“ اس وقت ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنے عمامہ میں سے کچھ دینا چاہا لیکن پھر لپیٹ لیا۔ اتنے میں ایک صاحب جو سیاہ رنگ اور چھوٹے قد کے تھے ایک اونٹنی لے کر آگے بڑھے جس سے زیادہ اچھی اونٹنی بقیع بھر میں نہ تھی۔ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ اللہ تعالیٰ کے نام پر خیرات ہے۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت اچھا“ اس نے کہا: ”سنبھال لیجئے۔“ اس پر کسی نے کہا اس سے تو اونٹنی ہی اچھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا اور فرمایا: ”تو جھوٹا ہے یہ تجھ سے اور اس سے تین گنا اچھا ہے افسوس! سینکڑوں اونٹ رکھنے والے تجھ جیسوں پر افسوس۔ تین مرتبہ یہی فرمایا، مگر وہ جو اپنے مال کو اس طرح اس طرح کرے“، اور لپیں بھر بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے دائیں بائیں اشارہ کیا، یعنی راہ اللہ ہر نیک کام میں خرچ کرے۔
صفحہ نمبر3539
پھر فرمایا: ”انہوں نے فلاح پالی جو کم مال والے اور زیادہ عبادت والے ہوں۔“ [مسند احمد:34/5:ضعیف]
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ چالیس 40 اوقیہ چاندی لائے اور ایک غریب انصاری ایک صاع اناج لائے، منافقوں نے ایک کو ریاکار بتلایا دوسرے کے صدقے کو حقیر بتلایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17018:ضعیف]
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لوگوں نے مال خیرات دینا اور جمع کرنا شروع کیا۔ ایک صاحب ایک صاع کھجوریں لے آئے اور کہنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کھجوروں کے دو صاع تھے ایک میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے روک لیا اور ایک لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی جمع شدہ مال میں ڈال دینے کو فرمایا اس پر منافق بکواس کرنے لگے کہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو اس سے بے نیاز ہے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا: ”میرے پاس ایک سو اوقیہ سونا ہے سب کو صدقہ کرتا ہوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہوش میں بھی ہو“؟ آپ نے جواب دیا ہاں ہوش میں ہوں۔ فرمایا: ”پھر کیا کر رہا ہے“؟ آپ نے فرمایا: ”سنو! میرے پاس آٹھ ہزار ہیں جن میں سے چار ہزار تو میں اللہ تعالیٰ کو قرض دے رہا ہوں اور چار ہزار اپنے لیے رکھ لیتا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تجھے برکت دے جو تو نے رکھ لیا ہے اور جو تو نے خرچ کر دیا ہے۔
صفحہ نمبر3540
منافق ان پر باتیں بنانے لگے کہ پھول گئے اپنی سخاوت دکھانے کے لیے اتنی بڑی رقم دے دی۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر بڑی رقم اور چھوٹی رقم والوں کی سچائی اور ان منافقوں کا موذی پن ظاہر کر دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17019:ضعیف]
بنو عجلان کے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما نے بھی اس وقت بڑی رقم خیرات کی تھی ایک سو وسق کجھوریں دی تھیں۔ منافقوں نے اسے ریاکاری پر محمول کیا تھا۔ اپنی محنت مزدوری کی تھوڑی سی خیرات دینے والے ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ قبیلہ بنو انیف کے شخص تھے ان کے ایک صاع خیرات پر منافقوں نے ہنسی اور ہجو کی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ یہ چندہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کی ایک جماعت کو جہاد پر روانہ کرنے کے لیے کیا تھا۔ اس میں ہے کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے دو ہزار دیئے تھے اور دو ہزار رکھے تھے دوسرے بزرگ نے رات بھر کی محنت میں دو صائع کھجوریں حاصل کر کے ایک صائع رکھ لیں اور ایک صائع دے دیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17029:ضعیف]
یہ سیدنا ابوعقیل رضی اللہ عنہ تھے رات بھر اپنی پیٹھ پر بوجھ ڈھوتے رہے تھے۔ ان کا نام حجاب تھا۔ اور قول ہے کہ عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ثعلبہ تھا۔ پس منافقوں کے اس تمسخر کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے یہی بدلہ لیا، ان منافقوں کے لیے اخروی المناک عذاب ہیں۔ اور ان کے اعمال کا ان عملوں جیسا ہی برا بدلہ ہے۔
صفحہ نمبر3541
منافق کے لئے استغفار کرنے کی ممانعت ہے ٭٭
فرماتا ہے کہ یہ منافق اس قابل نہیں کہ تو اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو ان کے لیے اللہ سے بخشش طلب کرے۔ ایک بار نہیں اگر تو ستر مرتبہ بھی بخشش ان کے لیے چاہے تو اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔
یہ جو ستر کا ذکر ہے اس سے مراد صرف زیادتی ہے وہ ستر سے کم ہو یا بہت زیادہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ مراد اس سے ستر کا ہی عدد ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں تو ان کے لیے ستر بار سے بھی زیادہ استغفار کروں گا تاکہ اللہ انہیں بخش دے۔“ پس اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرما دیا کہ ان کے لیے تیرا استغفار کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17045:ضعیف]
عبداللہ بن ابی منافق کا بیٹا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ میرا باپ نزع کی حالت میں ہے میری چاہت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے چلیں اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ”تیرا نام کیا ہے“؟ اس نے کہا: ”حباب“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا نام عبداللہ ہے حباب تو شیطان کا نام ہے۔“
اب آپ ان کے ساتھ ہو لئے ان کے باپ کو اپنا کرتہ اپنے پسینے والا پہنایا اس کی جنازے کی نماز پڑھائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا بھی گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے پر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے ستر مرتبہ کے استغفار سے ہی نہ بخشنے کو فرمایا ہے میں تو ستر بار پھر ستر بار پھر ستر بار پھر استغفار کروں گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17044:ضعیف]
صفحہ نمبر3542
جہنم کی آگ کالی ہے ٭٭
جو لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے، جنہیں اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا، جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے [صحیح بخاری:3265]
اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکتے۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہو گئی ایک ہزار سال جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ [سنن ترمذي:2591،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک بار آپ نے آیت «وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑ گئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہو گئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔“ [بیهقی فی شعب الایمان:799:ضعیف]
ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں ہو تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلیٰ کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ [مسند ابویعلیٰ:6670:ضعیف]
صفحہ نمبر3543
اور حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا دوزخ میں وہ ہو گا جس کے دونوں پاؤں میں دو جوتیاں آگ کے تسمے سمیت ہوں گی جس سے اس کی کھوپڑی ابل رہی ہو گی، اور وہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ دراصل سب سے ہلکا عذاب اسی کا ہے۔ [صحیح بخاری:6562]
قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور آیتوں میں ہے کہ ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے، ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم اور اور بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف]
اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے تو یقیناً یہ باوجود موسم گرمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔
عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔
صفحہ نمبر3544
لیکن اس آنے والی زندگی میں ان کے لیے رونا ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑ جائیں گے آخر آنسو ختم ہو جائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہو گا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہو گا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت! رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے، اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے رشتے کنبے کے ہو سنو! ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان محشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔ چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو۔ اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر3545
جہنم کی آگ کالی ہے ٭٭
جو لوگ غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے اور گھروں میں ہی بیٹھنے پر اکڑ رہے تھے، جنہیں اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنا مشکل معلوم ہوتا تھا، جنہوں نے ایک دوسرے کے کان بھرے تھے کہ اس گرمی میں کہاں نکلو گے؟ ایک طرف پھر پکے ہوئے ہیں سائے بڑھے ہوئے ہیں دوسری جانب لو کے تھپیڑے چل رہے ہیں۔
پس اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ جہنم کی آگ جس کی طرف تم اپنی اس بد کرداری سے جا رہے ہو وہ اس گرمی سے زیادہ بڑھی ہوئی حرارت اپنے اندر رکھتی ہے یہ آگ تو اس آگ کا سترواں حصہ ہے، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے [صحیح بخاری:3265]
اور روایت میں ہے کہ تمہاری یہ آگ آتش دوزخ کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہے پھر بھی یہ سمندر کے پانی میں دو دفعہ بجھائی ہوئی ہے ورنہ تم اس سے کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکتے۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک ہزار سال تک آتش دوزخ دھونکی گئی تو سرخ ہو گئی ایک ہزار سال جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکی گئی پس وہ اندھیری رات جیسی سخت سیاہ ہے۔ [سنن ترمذي:2591،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک بار آپ نے آیت «وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ» [66-التحريم:6] کی تلاوت کی اور فرمایا: ”ایک ہزار سال تک جلائے جانے سے وہ سفید پڑ گئی پھر ایک ہزار سال تک بھڑکانے سے سرخ ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک دھونکے جانے سے سیاہ ہو گئی پس وہ سیاہ رات جیسی ہے اس کے شعلوں میں بھی چمک نہیں۔“ [بیهقی فی شعب الایمان:799:ضعیف]
ایک حدیث میں ہے کہ اگر دوزخ کی آگ کی ایک چنگاری مشرق میں ہو تو اس کی حرارت مغرب تک پہنچ جائے۔ ابو یعلیٰ کی ایک غریب روایت میں ہے کہ اگر اس مسجد میں ایک لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی ہوں اور کوئی جہنمی یہاں آ کر سانس لے تو اس کی گرمی سے مسجد اور مسجد والے سب جل جائیں۔ [مسند ابویعلیٰ:6670:ضعیف]
صفحہ نمبر3543
اور حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا دوزخ میں وہ ہو گا جس کے دونوں پاؤں میں دو جوتیاں آگ کے تسمے سمیت ہوں گی جس سے اس کی کھوپڑی ابل رہی ہو گی، اور وہ سمجھ رہا ہو گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی کو ہو رہا ہے حالانکہ دراصل سب سے ہلکا عذاب اسی کا ہے۔ [صحیح بخاری:6562]
قرآن فرماتا ہے کہ وہ آگ ایسی شعلہ زن ہے جو کھال اتار دیتی ہے۔ اور آیتوں میں ہے کہ ان کے سروں پر کھولتا ہوا گرم پانی بہایا جائے گا جس سے ان کے پیٹ کی تمام چیزیں اور ان کے کھالیں جھلس جائیں گی پھر لوہے کے ہتھوڑوں سے ان کے سر کچلے جائیں گے وہ جب وہاں سے نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھو۔ ایک اور آیت میں ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے انکار کیا انہیں ہم بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیں گے، ان کی کھالیں جھلستی جائیں گی اور ہم اور اور بدلتے جائیں گے کہ وہ خوب عذاب چکھیں۔ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف]
اس آیت میں بھی فرمایا ہے کہ اگر انہیں سمجھ ہوتی تو وہ جان لیتے کہ جہنم کی آگ کی گرمی اور تیزی بہت زیادہ ہے تو یقیناً یہ باوجود موسم گرمی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں خوشی خوشی نکلتے اور اپنے جان و مال کو اللہ کی راہ میں فدا کرنے پر تل جاتے۔
عرب کا شاعر کہتا ہے کہ تو نے اپنی عمر سردی گرمی سے بچنے کی کوشش میں گذار دی حالانکہ تجھے لائق تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے بچتا کہ جہنم کی آگ سے بچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ ان بدباطن منافقوں کو ڈرا رہا ہے کہ تھوڑی سی زندگی میں یہاں تو جتنا چاہیں ہنس لیں۔
صفحہ نمبر3544
لیکن اس آنے والی زندگی میں ان کے لیے رونا ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ لوگو روؤ اور رونا نہ آئے تو زبردستی روؤ جہنمی روئیں گے یہاں تک کہ ان کے رخساروں پر نہر جیسے گڑھے پڑ جائیں گے آخر آنسو ختم ہو جائیں گے اب آنکھیں خون برسانے لگیں گی ان کی آنکھوں سے اس قدر آنسو اور خون بہا ہو گا کہ اگر کوئی اس میں کشتی چلانی چاہے تو چلا سکتا ہے۔ [مسند ابویعلیٰ:4134:ضعیف]
اور حدیث میں ہے کہ جہنمی جہنم میں روئیں گے اور خوب روتے رہیں گے، آنسو ختم ہونے کے بعد پیپ نکلنا شروع ہو گا۔ اس وقت دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے اے بدبخت! رحم کی جگہ تو تم کبھی ہو نہ روئے اب یہاں کا رونا دھونا لاحاصل ہے، اب یہ اونچی آوازوں سے چلا چلا کر جنتیوں سے فریاد کریں گے کہ تم لوگ ہمارے رشتے کنبے کے ہو سنو! ہم قبروں سے پیاسے اٹھے تھے پھر میدان محشر میں بھی پیاسے ہی رہے اور آج تک یہاں بھی پیاسے ہی ہیں ہم پر رحم کرو کچھ پانی ہمارے حلق میں چھو دو یا جو روزی اللہ تعالیٰ نے تمہیں دی ہے اس میں سے ہی تھوڑا بہت ہمیں دے دو۔ چالیس سال تک کتوں کی طرح چیختے رہیں گے چالیس سال کے بعد انہیں جواب ملے گا کہ تم یونہی دھتکارے ہوئے بھوکے پیاسے ہی ان سڑیل اور اٹل سخت عذابوں میں پڑے رہو۔ اب یہ تمام بھلائیوں سے مایوس ہو جائیں گے۔
صفحہ نمبر3545
مکاروں کی سزا ٭٭
فرمان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ تجھے سلامتی کے ساتھ اس غزوے سے واپس مدینے پہنچا دے اور ان میں سے کوئی جماعت تجھ سے کسی اور غزوے میں تیرے ساتھ چلنے کی درخواست کرے تو بطور ان کو سزا دینے کے تو صاف کہ دینا کہ نہ تو تم میرے ساتھ والوں میں میرے ساتھ چل سکتے ہو نہ تم میری ہمراہی میں دشمنوں سے جنگ کر سکتے ہو، تم جب موقعہ پر دغا دے گئے اور پہلی مرتبہ ہی بیٹھ رہے تو اب تیاری کے کیا معنی؟
پس یہ آیت مثل آیت «وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ» [6-الانعام:110] الخ کے ہے۔ بدی کا برا بدلہ بدی کے بعد ملتا ہے جیسے کہ نیکی کی جزا بھی نیکی کے بعد ملتی ہے۔
عمرہ حدیبیہ کے وقت قرآن نے فرمایا تھا۔ «سَيَقُوْلُ الْمُخَلَّفُوْنَ اِذَا انْــطَلَقْتُمْ اِلٰى مَغَانِمَ» [48-الفتح:15] الخ یعنی یہ پیچھے رہ جانے والے لوگ تم سے جب تم غنیمتیں لینے چلو گے کہیں گے کہ ہمیں اجازت دو ہم بھی تمہارے ساتھ ہو لیں، یہاں فرمایا کہ ان سے کہ دینا کہ بیٹھ رہنے والوں میں ہی تم بھی رہو، جو عورتوں کی طرح گھروں میں گھسے رہتے ہیں۔
صفحہ نمبر3547
منافقوں کا جنازہ ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! تم منافقوں سے بالکل بے تعلق ہو جاؤ۔ ان میں سے کوئی مر جائے تو تم نہ اس کے جنازے کی نماز پڑھو نہ اس کی قبر پر جا کر اس کے لیے دعائے استغفار کرو، اس لیے کہ یہ کفر و فسق پر زندہ رہے اور اسی پر مرے۔
یہ حکم تو عام ہے گو اس کا شان نزول خاص عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں ہے۔ جو منافقوں کا رئیس اور امام تھا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اس کے مرنے پر اس کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ میرے باپ کے کفن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاص اپنا پہنا ہوا کرتا عنایت فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دیا۔ پھر کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے جنازے کی نماز پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ درخواست بھی منظور فرمالی اور نماز پڑھانے کے ارادے سے اٹھے۔
لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور عرض کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اس کے جنازے کی نماز پڑھائیں گے؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے فرمایا ہے کہ تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اگر تو ان کے لیے ستر مرتبہ استغفار کرے گا تو بھی اللہ تعالیٰ انہیں نہیں بخشے گا۔ تو میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ منافق تھا۔ تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جنازے کی نماز پڑھائی اس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4670]
ایک اور روایت میں ہے کہ اس نماز میں صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں تھے۔ اور روایت میں ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز کے لیے کھڑے ہو گئے تو میں صف میں سے نکل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دشمن رب عبداللہ بن ابی کے جنازے کی نمازیں پڑھائیں گے؟ حالانکہ فلاں دن اس نے یوں کہا اور فلاں دن یوں کہا۔“ اس کی وہ تمام باتیں دہرائیں۔
صفحہ نمبر3548
حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکراتے ہوئے سب سنتے رہے آخر میں فرمایا: ”عمر! مجھے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ نے استغفار کا مجھے اختیار دیا ہے اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار ان کے گناہ معاف کرا سکتا ہے تو میں یقیناً ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔“
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز بھی پڑھائی جنازے کے ساتھ بھی چلے دفن میں بھی موجود رہے۔ اس کے بعد مجھے اپنی اس گستاخی پر بہت ہی افسوس ہونے لگا کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوب علم والے ہیں میں نے ایسی اور اس قدر جرأت کیوں کی؟ کچھ ہی دیر ہوئی ہوگی جو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں۔ اس کے بعد آخر دم تک نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی منافق کے جنازے کی نماز پڑھی نہ اس کی قبر پر آ کر دعا کی۔ [مسند احمد:16/1:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ اس کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی کہا تھا کہ ”اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے تو ہمیشہ کیلئے یہ بات ہم پر رہ جائے گی۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اسے قبر میں اتار دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے پہلے مجھے کیوں نہ لائے“؟ چنانچہ وہ قبر سے نکالا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سارے جسم پر تھتکار کر دم کیا اور اسے اپنا کرتہ پہنایا۔ [مسند احمد:371/3:صحیح]
اور روایت میں ہے کہ وہ خود یہ وصیت کر کے مرا تھا کہ اس کے جنازے کی نماز خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھائیں۔ اس کے لڑکے نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی آرزو اور اس کی آخری وصیت کی بھی خبر کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ ”اس کی وصیت یہ بھی ہے کہ اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیراہن میں کفنایا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے۔ [سنن ابن ماجہ:1524،قال الشيخ الألباني:منکر بذکر الوصیۃ]
صفحہ نمبر3549
اور روایت میں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تان کر نماز کے ارادے کے وقت یہ آیت سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17068:ضعیف] لیکن یہ روایت ضعیف ہے۔
اور روایت میں ہے اس نے اپنی بیماری کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور جا کر فرمایا کہ ”یہودیوں کی محبت نے تجھے تباہ کر دیا۔“ اس نے کہا:: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ وقت ڈانٹ ڈپٹ کا نہیں بلکہ میری خواہش ہے کہ آپ میرے لیے دعا استغفار کریں میں مر جاؤں تو مجھے اپنے پیرہن میں کفنائیں۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:17073:ضعیف]
بعض سلف سے مروی ہے کہ کرتہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو ان کے جسم پر کسی کا کپڑا ٹھیک نہیں آیا آخر اس کا کرتا لیا وہ ٹھیک آ گیا یہ بھی لمبا چوڑا چوڑی چکلی ہڈی کا آدمی تھا پس اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے کفن کے لیے اپنا کرتا عطا فرمایا۔ [صحیح بخاری:3008]
اس آیت کے اترنے کے بعد نہ تو کسی منافق کے جنازے کی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی۔ نہ کسی کے لیے استغفار کیا۔ مسند احمد میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی جنازے کی طرف بلایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیتے اگر لوگوں سے بھلائیاں معلوم ہوتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جا کر اس کے جنازے کی نماز پڑھاتے اور اگر کوئی ایسی ویسی بات کان میں پڑتی تو صاف انکار کر دیتے۔ [مسند احمد:299/5:صحیح]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ رہا کہ جس کے جنازے کی نماز سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہا پڑھتے اس کے جنازے کی نماز آپ بھی پڑھتے جس کی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نہ پڑھتے آپ بھی نہ پڑھتے اس لیے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافقوں کے نام گنوا دیئے تھے اور صرف انہی کو یہ نام معلوم تھے اسی بناء پر انہیں راز دار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا جاتا تھا۔
صفحہ نمبر3550
بلکہ ایک مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک شخص کے جنازے کی نماز کے لیے کھڑا ہونے لگے تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے چٹکی لے کر انہیں روک دیا۔
جنازے کی نماز اور استغفار ان دونوں چیزوں سے منافقوں کے بارے میں مسلمانوں کو روک دینا یہ دلیل ہے اس امر کی کہ مسلمانوں کے بارے میں ان دونوں چیزوں کی پوری تاکید ہے ان میں مردوں کے لیے بھی پورا نفع ہے اور زندوں کے لیے بھی کامل ثواب ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو جنازے میں جائے اور نماز پڑھی جانے تک ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہے اسے دو قیراط ملتے ہیں، پوچھا گیا کہ قیراط کیا ہے؟ فرمایا: ”سب سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔“ [صحیح بخاری:1325]
اسی طرح یہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ میت کے دفن سے فارغ ہو کر وہیں اس کی قبر کے پاس ٹھہر کر حکم فرماتے کہ اپنے ساتھی کے لیے استغفار کرو اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرو اس سے اس وقت سوال و جواب ہو رہا ہے۔ [سنن ابوداود:3221،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صفحہ نمبر3551
باب
اسی مضمون کی آیت کریمہ گذر چکی ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ لکھ دی گئی ہے جس کے دوہرانے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3552
باب
ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت، طاقت، قوت ہوتے ہوئے جہاد کے لیے نہیں نکلتے جی چرا جاتے ہیں اور حکم الہٰی سن کر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔
ان کی بے حمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہو گئے۔ لشکر چلے گئے یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے اور بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے، یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چنانچہ ایک اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو، اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے اور باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند و بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایماندار تو سورت اترنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے جہاں سورت اتری، اور جہاد کا حکم سنا کہ آنکھیں بند کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اور ان کے لیے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گزار ہوتے اگر ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔
صفحہ نمبر3553
باب
ان لوگوں کی برائی بیان ہو رہی ہے جو وسعت، طاقت، قوت ہوتے ہوئے جہاد کے لیے نہیں نکلتے جی چرا جاتے ہیں اور حکم الہٰی سن کر پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ آ کر اپنے رک رہنے کی اجازت چاہتے ہیں۔
ان کی بے حمیتی تو دیکھو کہ یہ عورتوں جیسے ہو گئے۔ لشکر چلے گئے یہ نامرد زنانے عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے۔ بوقت جنگ بزدل ڈرپوک اور گھروں میں گھسے رہنے والے اور بوقت امن بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے والے، یہ بھونکنے والے کتوں اور گرجنے والے بادلوں کی طرح ڈھول کے پول ہیں۔ چنانچہ ایک اور جگہ خود قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے کہ خوف کے وقت ایسی آنکھیں پھیرنے لگتے ہیں جیسے کوئی مر رہا ہو، اور جہاں وہ موقع گذر گیا لگے چرب زبانی کرنے اور لمبے چوڑے دعوے کرنے اور باتیں بنانے۔ امن کے وقت تو مسلمانوں میں فساد پھلانے لگتے ہیں اور وہ بلند و بانگ بہادری کے ڈھول پیٹتے ہیں کہ کچھ ٹھیک نہیں لیکن لڑائی کے وقت عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر پردہ نشین بن جاتے ہیں بل اور سوراخ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے آپ کو چھپاتے پھرتے ہیں۔ ایماندار تو سورت اترنے اور اللہ تعالیٰ کے حکم ہونے کا انتظار کرتے ہیں لیکن بیمار دلوں والے جہاں سورت اتری، اور جہاد کا حکم سنا کہ آنکھیں بند کر لیں۔ ان پر افسوس ہے اور ان کے لیے تباہی خیز مصیبت ہے۔ اگر یہ اطاعت گزار ہوتے اگر ان کی زبان سے اچھی بات نکلتی ان کے ارادے اچھے ہوتے یہ اللہ تعالیٰ کی باتوں کی تصدیق کرتے تو یہی چیز ان کے حق میں بہتر تھی لیکن ان کے دلوں پر تو ان کی بداعمالیوں سے مہر لگ چکی ہے اب تو ان میں اس بات کی صلاحیت بھی نہیں رہی کہ اپنے نفع نقصان کو ہی سمجھ لیں۔
صفحہ نمبر3553
منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔
یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
صفحہ نمبر3555
منافق کی آخرت خراب ٭٭
منافقوں کی مذمت اور ان کی اخروی درگت بیان فرما کر اب مومنوں کی مدحت اور ان کی اخروی راحت بیان ہو رہی ہے۔ یہ جہاد کے لئے کمر باندھے رہتے ہیں۔ یہ جان و مال اللہ کی راہ میں فدا کرتے رہتے ہیں۔ انہی کے حصے میں بھلائیاں اور خوبیاں ہیں۔
یہی فلاح پانے والے لوگ ہیں۔ انہی کے لیے جنت الفردوس ہے اور انہی کے لیے بلند درجے ہیں۔ یہی مقصد حاصل کرنے والے یہی کامیابی کو پہنچ جانے والے لوگ ہیں۔
صفحہ نمبر3555
جہاد اور معذور لوگ ٭٭
یہ بیان ان لوگوں کا ہے جو حقیقتاً کسی شرعی عذر کے باعث جہاد میں شامل نہ ہو سکتے تھے مدینہ کے اردگرد کے یہ لوگ آ آ کر اپنی کمزور ضعیفی، بےطاقتی بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لیتے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں واقعی معذور سمجھیں تو اجازت دے دیں۔ یہ بنو غفار کے قبیلے کے لوگ تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجَاۤءَ الْـمُ۔عْزِرُوْنَ» ہے یعنی اہل عذر لوگ۔ یہی معنی مطلب زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اسی جملے کے بعد ان لوگوں کا بیان ہے جو جھوٹے تھے۔ یہ نہ آئے نہ اپنا رک جانے کا سبب پیش کیا نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رک رہنے کی اجازت چاہی۔
بعض بزرگ فرماتے ہیں کہ عذر پیش کرنے والے بھی دراصل عذر والے نہ تھے اسی لیے ان کے عذر مقبول نہ ہوئے۔ لیکن پہلا قول پہلا ہی ہے وہی زیادہ ظاہر ہے، واللہ اعلم۔ اس کی ایک وجہ تو وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عذاب کا وعدہ ان ہوا جو بیٹھے رہی رہے۔
صفحہ نمبر3557