Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah At-Tawba
Tafsir Ibn Kathir · The Repentance · 129 ayat · ayat 91–120 · Quran text →
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔“
ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔
صفحہ نمبر3558
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6]
پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔“
صفحہ نمبر3559
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف]
یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ [صحیح بخاری:2839]
صفحہ نمبر3560
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ [صحیح مسلم:1911]
صفحہ نمبر3561
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔
فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔
صفحہ نمبر3562
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔“
ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔
صفحہ نمبر3558
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6]
پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔“
صفحہ نمبر3559
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف]
یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ [صحیح بخاری:2839]
صفحہ نمبر3560
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ [صحیح مسلم:1911]
صفحہ نمبر3561
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔
فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔
صفحہ نمبر3562
عدم جہاد کے شرعی عذر ٭٭
اس آیت میں ان شرعی عذروں کا بیان ہو رہا ہے جن کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص جہاد میں نہ جائے تو اس پر شرعی حرج نہیں۔
پس ان سببوں میں سے ایک قسم تو وہ ہے جو لازم ہوتی ہے کسی حالت میں انسان سے الگ نہیں ہوتیں جیسے پیدائشی کمزوری یا اندھا پن یا لنگڑا پن، کوئی لولا لنگڑا اپاہج بیمار یا بالکل ہی نا طاقت ہو، دوسری قسم کے وہ عذر ہوتے ہیں جو کبھی ہیں اور کبھی نہیں اتفاقیہ اسباب ہیں مثلاً کوئی بیمار ہو گیا ہے یا بالکل فقیر ہو گیا ہے سامان سفر، سامان جہاد مہیا نہیں کر سکتا وغیرہ پس یہ لوگ شرکت جہاد نہ کر سکیں تو ان پر شرعاً کوئی مواخذہ گناہ یا عار نہیں۔ لیکن انہیں اپنے دل میں صلاحیت اور خلوص رکھنا چاہیئے۔ مسلمانوں کے دین الہٰی کے خیرخواہ بنے رہیں اوروں کو جہاد پر آمادہ کریں بیٹھے بیٹھے جو خدمت مجاہدین کی انجام دے سکتے ہوں دیتے رہیں، ایسے نیک کاروں پر کوئی وجہ الزام نہیں، اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ حواریوں نے عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے نبی سے پوچھا کہ ”ہمیں بتلائیے اللہ کا خیرخواہ کون ہے“؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ تعالیٰ کے حق کو لوگوں کے حق پر مقدم کرے اور جب ایک کام دین کا اور ایک دنیا کا آ جائے تو دینی کام کی اہمیت کا پورا لحاظ رکھے پھر فارغ ہو کر دنیوی کام کو انجام دے۔“
ایک مرتبہ قحط سالی کے موقعہ پر لوگ نماز استسقاء کیلئے میدان میں نکلے، ان میں سیدنا بلال بن سعد رحمہ اللہ بھی تھے۔ آپ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر فرمایا: ”اے حاضرین! کیا تم یہ مانتے ہو کہ تم سب اللہ کے گنہگار بندے ہو“؟ سب نے اقرار کیا۔
صفحہ نمبر3558
اب آپ نے دعا شروع کی کہ پروردگار ہم نے تیرے کلام میں سنا ہے کہ نیک کاروں پر کوئی راہ نہیں۔ ہم اپنی برائیوں کے اقراری ہیں پس تو ہمیں معاف فرما، ہم پر رحم فرما، ہم پر اپنی رحمت سے بارشیں برسا اب آپ رحمہ اللہ نے ہاتھ اٹھائے اور آپ کے ساتھ ہی اور سب نے۔ رحمت ربانی جوش میں آئی اور اسی وقت جھوم جھوم کر رحمت کی بدلیاں برسنے لگیں۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی تھا سورۃ برات جب اتر رہی تھی میں اسے بھی لکھ رہا تھا میرے کان میں قلم اڑا ہوا تھا جہاد کی آیتیں اتر رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منتظر تھے کہ دیکھیں کہ اب کیا حکم نازل ہوتا ہے؟ جو ایک نابینا صحابی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کے احکام اس اندھاپے میں کیسے بجا لا سکتا ہوں“؟ اسی وقت یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:186/6]
پھر ان کا بیان ہوتا ہے جو جہاد کی شرکت کے لیے تڑپتے ہیں مگر قدرتی اسباب سے مجبور ہو کر بادل ناخواستہ رک جاتے ہیں۔ جہاد کا حکم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلان ہوا مجاہدین کا لشکر جمع ہونا شروع ہوا تو ایک جماعت آئی جن میں عبداللہ بن مغفل بن مقرن مزنی رضی اللہ عنہم وغیرہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس سواریاں نہیں آپ ہماری سواریوں کا انتظام کر دیں تاکہ ہم بھی راہ حق میں جہاد کرنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی کا شرف حاصل کریں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”واللہ! میرے پاس تو ایک بھی سواری نہیں۔“
صفحہ نمبر3559
یہ ناامید ہو کر روتے پیٹتے غم زدہ اور رنجیدہ ہو کر لوٹے ان پر اس سے زیادہ بھاری بوجھ کوئی نہ تھا کہ یہ اس وقت ہم رکابی کی اور جہاد کی سعادت سے محروم رہ گئے اور عورتوں کی طرح انہیں یہ مدت گھروں میں گزارنی پڑے گی نہ ان کے پاس خود ہی کچھ ہے نہ کہیں سے کچھ ملتا ہے۔ پس جناب باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر ان کی تسکین کر دی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17093:ضعیف]
یہ آیت قبیلہ مزینہ کی شاخ بنی مقرن کے بارے میں اتری ہے۔ محمد بن کعب رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ یہ سات آدمی تھے بنی عمرو کے سالم بن عمیر، بنی واقف کے ھرمی بن عمرو، بنی مازن کے عبدالرحمٰن بن کعب، بنو معلیٰ کے سلمان بن صخر، بنی سلمی کے عمرو بن عنمہ، اور عبداللہ بن عمرو مزنی، اور بنو حارثہ کے علیہ بن زید۔ بعض روایتوں میں کچھ ناموں میں ہیر پھیر بھی ہے۔ انہی نیک نیت بزرگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے رسول، رسولوں کے سرتاج «صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ و اصحابہ و ازوجہ و اہل بیتہ و سلم» کا فرمان ہے کہ ”اے میرے مجاہد ساتھیو! تم نے مدینے میں جو لوگ اپنے پیچھے چھوڑے ہیں ان میں وہ بھی ہیں کہ تم جو خرچ کرتے ہو جس میدان میں چلتے ہو جو جہاد کرتے ہو سب میں وہ بھی ثواب کے شریک ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔
اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”وہ باوجود اپنے گھروں میں رہنے کے ثواب میں ہمارے شریک ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اس لیے کہ وہ معذور ہیں عذر کے باعث رکے ہیں۔ [صحیح بخاری:2839]
صفحہ نمبر3560
ایک اور آیت میں ہے انہیں بیماریوں نے روک لیا ہے۔ [صحیح مسلم:1911]
صفحہ نمبر3561
پھر ان لوگوں کا بیان فرمایا جنہیں فی الواقع کوئی عذر نہیں مالدار، ہٹے کٹے ہیں لیکن پھر بھی سرکار نبوت میں آ کر بہانے تراش تراش کر جہاد میں ساتھ نہیں دیتے، عورتوں کی طرح گھر میں بیٹھ جاتے ہیں زمین پکڑ لیتے ہیں۔
فرمایا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر الہٰی لگ چکی ہے، اب وہ اپنے بھلے برے کے علم سے بھی کورے ہو گئے ہیں۔
صفحہ نمبر3562
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔
عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔
صفحہ نمبر3565
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔
عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔
صفحہ نمبر3565
فاسق اور چوہے کی مماثلت ٭٭
اللہ تعالیٰ نے منافقین سے یہ معلوم کرا دیا کہ جب تم مدینہ واپس ہو گے تو تمہارے سامنے اپنے عذرات پیش کریں گے۔ لیکن تم ان سے کہہ دو کہ عذارت باطلہ پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم تمہاری بات کو کبھی سچ نہ مانیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے احوال معلوم کرا دئیے ہیں۔
عنقریب اللہ پاک تمہارے اعمال دنیا میں لوگوں کے سامنے ظاہر فرما دے گا اور تمہیں تمہارے اچھے برے سارے اعمال کی خبر دے دے گا اور اعمال کا نتیجہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ پھر ان سے متعلق مزید خبر دی گئی کہ وہ قسمیں کھا کھا کر بیان کریں گے تاکہ تم ان سے درگزر کر جاؤ اور چشم پوشی کر لو۔ یہ اس وقت ہو گا جب تم مدینہ واپس ہو جاؤ گے۔ لیکن تم ہرگز ان کی تصدیق نہ کرنا اور ان سے اظہار حقارت کے لئے اعراض کر جاؤ۔ ان میں نفس کی گندگی ہے، ان کے باطن اور ان کے اعتقاد نجس ہیں، آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے یہ ان کے اعمال یعنی خطاکاریوں کا صحیح بدلہ ہے۔ اور یہ بھی بتلا دیا تم ان سے قسمیں کھانے کے سبب راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں سے راضی نہ ہو گا جو اللہ کی اطاعت اور رسولوں کی فرمابرداری سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ لوگ فاسق ہیں اور فسق کے لغوی معنی باہر نکلنے کے ہیں۔ کہتے ہیں کہ «الفارۃ فویسقۃ» یعنی چوہا خرابیاں اور فساد پیدا کرنے کے لئے ہی اپنے بل سے نکلتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے «فسقت الرطبۃ» یعنی ڈالیوں سے کجھور کے خوشے نکل آۓ۔
صفحہ نمبر3565
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔
جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔“
تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔“ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔
صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔
ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ [مسند احمد:2687:صحیح]
صفحہ نمبر3568
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭
کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔
حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ [صحیح بخاری:5998]
اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
صفحہ نمبر3569
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔
جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔“
تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔“ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔
صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔
ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ [مسند احمد:2687:صحیح]
صفحہ نمبر3568
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭
کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔
حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ [صحیح بخاری:5998]
اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
صفحہ نمبر3569
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے خبر دیٍ ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار بھی ہیں اور مومنین بھی۔ لیکن ان کا کفر اور ان کا نفاق دوسروں کی بہ نسبت بہت عظیم اور شدید ہوتا ہے اور وہ اسی بات کے سزاوار ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے رسول پر جو بھی حدود و احکام نازل فرمائے ہیں ان سے بےخبر ہیں۔
جیسے کہ اعمش نے ابراہیم سے روایت کی ہے کہ ایک اعرابی بدوی زید بن صوحان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے اور جنگ نہاوند میں ان کا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی ان سے کہنے لگا کہ ”تمہاری باتیں تو بڑی پیاری ہیں اور تم بڑے اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو لیکن یہ تمہارا کٹا ہوا ہاتھ مجھے تمہارے بارے میں شک پیدا کرتا ہے“ تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ”میرے کٹے ہوئے ہاتھ سے تمہیں شک کیوں ہوتا ہے یہ تو بایاں ہاتھ ہے۔“
تو اعرابی نے کہا: ”واللہ! میں نہیں جانتا کہ چوری میں بایاں ہاتھ کاٹتے ہیں یا دایاں ہاتھ۔ تو زید بن صوحان بول اٹھے کہی اللہ عزوجل نے سچ فرمایا تھا کہ «الأَعرابُ أَشَدُّ كُفرًا وَنِفاقًا وَأَجدَرُ أَلّا يَعلَموا حُدودَ ما أَنزَلَ اللَّهُ عَلىٰ رَسولِهِ» یعنی یہ کفار اعراب اسی کے سزاوار ہیں کہ حدود اللہ سے نا واقف ہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو صحرا نشین ہو وہ گویا جلا وطن ہے اور جو شکار کے پیچھے دوڑا دوڑا پھرتا ہے بڑا ہی بے سمجھ ہے اور جس نے کسی بادشاہ کی ہمنشینی اختیار کی وہ فتنہ سے دوچار ہو گیا۔“ [سنن ابوداود:2859،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابوداؤد اور ترمذی، نسائی میں بھی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن غریب بتایا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ سے روایت کے سوا اور کسی سے روایت کا ہمیں علم نہیں۔
صحرا نشینوں میں چونکہ عموماً بدمزاجی اجڈپن اور بدتمیزی ہوتی ہے اس لئے اللہ عزوجل نے ان میں اپنا رسول نہیں پیدا کیا۔ بعثت نبوت ہمیشہ شہری اور مہذب لوگوں میں ہوا کرتی ہے۔ جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے کہ «وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِم مِّنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ» [12-يوسف:109] یعنی ہم نے تم سے پہلے بھی جتنے رسولوں کو انسانوں کی طرف بھیجا وہ سب شہری اور متمدن بستیوں کے لوگ تھے۔
ایک مرتبہ ایک اعرابی نے اپنا ہدیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا تو اس وقت تک اس کا دل خوش نہ ہوا جب تک کہ اس سے کئی گناہ زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس نہ بھیج دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اب سے میں نے تو ارادہ کر لیا ہے کہ قریشی، ثقفی، انصاری اور دوسی کے سوا کسی کا ہدیہ قبول نہ کروں گا۔ [مسند احمد:2687:صحیح]
صفحہ نمبر3568
دعاؤں کے طلبگار متبع ہیں، مبتدع نہیں! ٭٭
کیونکہ یہ لوگ متمدن شہری ہیں مکہ، طائف، مدینہ اور یمن میں رہتے ہیں اخلاق میں یہ بدویوں سے بہت اچھے ہوتے ہیں کیونکہ اعرابی بہت اجڈ ہوتے ہیں۔
حدیث مسلم بالاسناد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ چند بدوی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پاس حاظر ہوئے اور کہنے لگے: ”کیا تم اپنے بچوں کو چومتے ہو؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہا: ”لیکن اللہ کی قسم ہم نہیں چومتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہارے دلوں سے محبت اور رحمت کو نکال دیا ہے تو کیا میں اس کا ذمہ دار ہوں“؟ [صحیح بخاری:5998]
اور اللہ خوب واقف ان لوگوں سے جو اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں علم اور ایمان کی توفیق دی جائے اور اس نے اپنے بندوں میں علم، جہل ایمان، کفر اور نفاق کی تقسیم بڑی دانشوری سے کی ہے۔وہ اپنی حکمت اور علم کی بنا پر جو کچھ کرتا ہے کون اس پر حرف گیری کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان میں ایسے کم حوصلہ بھی ہیں کہ اللہ کی راہ میں اگر وہ کچھ خرچ کرتے ہیں تو اس کو تاوان اور خسارہ سمجھ بیٹھتے ہیں، اور تم پر حوادث و آفات کے منتظر ہیں۔ لیکن یہ حوادث انہیں پر منعکس ہوں گے اور گھوم ہھر کر انہیں پر نازل ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی پکار کو سننے والا ہے۔ اور اس بات کو جانتا ہے کہ ذلت خذلان و نامرادی کا مستحق کون ہے اور نصرہ و کامیابی کا کون سزاوار ہے؟ اور اعراب کی ایک اور قسم ممدوح ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو اس اللہ کے پاس قربت اور پسندیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے سبب اپنے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائے خیر حاصل ہو۔ ہاں یقیناً یہ انفاق ان کے لئے قربت الہٰی کا سبب ہوگا اور اللہ پاک ان کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
صفحہ نمبر3569
سابقوں کو بشارت ٭٭
اللہ تعالٰی خبر دے رہا ہے کہ میں ان مہاجرین اور انصار اور تابعین سے راضی ہوں جنہوں نے میری رضا مندی اور خوشنودی حاصل کرنے میں سبقت کی ہے اور میری خوشنودی اس طرح ثابت ہے کہ میں نے ان کے لئے جناتِ نعیم تیار کر رکھی ہے۔ شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ان سے مراد وہ مہاجر و انصار میں سے سابقین و اولین وہ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ میں بیت رضوان کا شرف حاصل کیا اور شعبی رحمہ اللہ سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما اور سعید بن المسیّب اور محمد بن سیرین اور حسن اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قبلتین کی طرف نماز پڑھی تھی۔
محمد بن کعب رحمہ اللہ القرظی کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ یہ آیت پڑھ رہاتھا «وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:100] تو عمر رضی اللہ عنہما نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پوچھا کہ کس نے تمھیں یہ پڑھایا ہے؟ تو کہنے لگا کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے! تو کہنے لگے اچھا چلو میں تمھیں ابی کے پاس لے چلتا ہوں تا کہ پوچھ لوں۔ اور جب حضرت ابی رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو پوچھا، کیا تم نے اس آیت کو اس طرح پڑھنا بتایا ہے؟ تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں فرمایا تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا ہے؟ کہا ہاں! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم نے وہ اعلٰی و ارفع درجہ پا لیا ہے کہ ہمارے بعد کوئی دوسرا یہ منزلت حاصل نہیں کر سکتا۔ تو ابی رضی اللہ عنہ کہنے لگے اس آیت کی تصدیق سورۃ جمعہ کے اول میں بھی ہے۔
یعنی «وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [ 62-الجمعة: 3 ] اور سورۃ الحشرمیں بھی «وَالَّذِيْنَ جَاءُوْ مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [ 59- الحشر: 10 ] اور سورۃ الانفال میں بھی ہے۔ «وَالَّذِينَ آمَنُوا مِن بَعْدُ وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا مَعَكُمْ فَأُولَـٰئِكَ مِنكُمْ» [ 8- الانفال: 75 ] الخ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی روایت کی ہے اور کہا کہ حسن بصری «وَالْاَنٰصَارِ» کے لفظ پڑھتے ہیں۔ اور «وَّالسّٰبِقُوْنَ اَلْاَوَّلُوْنٗ» پر عطف قرار دیتے تھے۔ گویا عبارت یوں ہوئی کہ مہاجرین میں سے سابقین اولین اور انصار اور ان کے تابعین سے اللہ راضی ہے۔
افسوس کیا کم بختی ہے ان لوگوں کی جو ان صحابہ رضی اللہ عنہم سے بغض رکھتے ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں یہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو سبُّ و شتم کرتے ہیں،
صفحہ نمبر3572
خصوصاً وہ صحابی جو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کا سردار ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا جانشین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسی کا درجہ ہے جس کو افضل صحابہ رضی اللہ عنہ کا درجہ حاصل ہے یعنی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما اور خلیفہ اعظم ابوبکر بن ابی قحافہ رضی اللہ عنہما یہ رافضیوں کا بامراد فرقہ افضل صحابی سے دشمنی رکھتا ہے انہیں گالی گلوچ کرتا ہے۔ ایسی حرکت سے اللہ کی پناہ۔
یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انکی عقلیں اوندھی ہو گئی ہیں ان کے قلوب الٹ گئے ہیں، اگر وہ کمبخت ان لوگوں کو گالیاں دیں جن سے اللہ راضی ہو چکا ہے اور قرآن میں اپنی رضا مندی کی انھیں سند دے دی تو پھر کسی منہ سے وہ قرآن پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں اب قرآن پر ایمان ہی کہاں رہا؟ اہل سنت ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان سے راضی ہیں جن سے اللہ راضی ہے اور یہ اہل سنت برا بھلا کہتے ہیں تو ان کو جنہیں خعد اللہ نے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے برا کہا ہے اور ان لوگوں کو دوست رکھتے ہیں جن کو اللہ دوست رکھتا ہے اور ان کے مخالف ہیں کہ اللہ خود جن کا مخالف ہے یہ اتباعِ ہدایت کرتے ہیں بدعتی نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا کرتے ہیں اور مذہب و اعتقادات میں نئے نئے شاخسانے نہیں نکالتے۔ فلاح پانے والے اور مومن بندوں کی جماعت یہی ہے۔
صفحہ نمبر3573
منافقت کے خوگر شہری ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے رہا ہے کہ عرب کے قبائل میں جو مدینہ کے اطراف میں رہتے ہیں بعض منافق ہیں اور خود مدینہ کے رہنےوالے بعض مسلمان بھی درحقیقت منافق ہیں کہ اپنے نفاق کو لیے چل رہے ہیں اور منافقت سے باز نہیں آتے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے شیطان مریدو مارد۔ اور «تَمَرَّدَ فُلاَنٌ عَلَی اللّٰہِ» یعنی فلاں نے اللہ کی نافرمانی اور سرکشی کی۔ اللہ کا قول «لَا تَعۡلَمُہُمۡ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ» اللہ کے اس قول «وَلَوْ نَشَاءُ لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَاهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ» [ 47-محمد: 30 ] کے منافی و متضاد نہیں ہے یعنی تم انہیں نہیں پہچانتے، ہم انہیں خوب جانتے ہیں اور یہ قول ہے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم تمھیں بتلا دیں گے کہ وہ کیسے ہیں تو پھر تم انہیں جان جاؤ گے ان کی صورت دیکھتے ہی اور انہیں پہچان لو گے ان کی کج مج باتوں ہی سے۔
یہ دونوں آیتیں آپس میں ضد نہیں، اس لئے کہ یہ اس قسم کی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ ان کی صفات کی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ وہ پہچان جا سکیں یہ بات نہیں کہ تم تمام ہی منافقین کو علی الیقین جانتے ہو۔ آپ اہل مدینہ میں سے صرف ان بعض اہل نفاق کو جانتے تھے جو رات دن ملتے جلتے رہتے تھے اور جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دیکھتے تھےصحیح طور پر اس کی تصدیق اس روایت سے بھی ہوتی ہے، جو امام احمد رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا جبیر بن معطم رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ مکہ میں ہمیں کوئی اجر نہیں ملا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے جبیر!رضی اللہ عنہ تم لوگوں کا اجر تم کو ضرور دیاجائے گا خوان تم لوگ لومڑی کے بھٹ ہی میں کیوں نہ ہو۔ پھر آپ نے میری طرف سر جھکا کر رازدانہ طور پر فرمایا کہ میرے اصحاب میں بعض منافق بھی ہیں۔ [مسند احمد:82/4-83:ضعیف]
مطلب یہ ہے کہ بعض منافقین ایسی کج مج باتیں بولتے رہتے ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہوتی چنانچہ یہ بھی ایک اسی قسم کا کلام تھا جس کو جبیر بن معطم رضی اللہ عنہ نے سنا تھا۔
صفحہ نمبر3574
«وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا» [ 9-التوبہ: 74 ] کی تفسیر میں یہ بات گزر چکی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ کو یہ بات معلوم کرا دی تھی کہ چودہ یا پندری شخص اصحاب ایسے ہیں جو دع حقیقت منافق ہیں اور یہ تخصیص اس بات کی متقاضی نہیں آپ ان تمام کے نام جانتے تھے اور ان کے تشخّص سے واقف تھے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
حافض ابن عساکر نے ترجمہ ابو عمر البیروتی میں بالاسناد روایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک آدمی جس کا نام حرملہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ ایمان تو یہاں ہے اور اشارہ کیا اپنی زبان کی طرف اور نفاق یہاں ہوتا ہے اور اشارہ کیا اپنے ہاتھ سے اپنے قلب کی طرف اور اللہ کا نام بھی لیا تو کچھ یونہی سا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ!تو اس کی زبان کو ذاکر بنا دے اورقلب کو شاکر بنا دے اور اس کو میری محبت عطا فرما اور مجھ سے محبت کرنے والوں کو محبت عطا فرما اور اس کے سارے امور خیر کی طرف پھیر دے۔ اب اس کی ساری منافقت دور ہو گئی اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے اکثر ساتھی منافقین ہیں اور میں ان سب کا سردار تھا کیا ان سب کو میں آپ کے پاس پکڑ کر نہ لاؤں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آپ ہی میرے پاس آئے گا تو ہم اس کے لئے اللہ سے مغفرت چاہیں گے اور جو نفاق پر اصرار کئے رہے گا اللہ اس کو دیکھ لے گا۔ تم کسی کا راز فاش نہ کرو ایسی ہی روایت ابو احمد الحاکم نے بھی کی ہے۔ [مختصر تاریخ دمشق لابن منظور:76/29:ضعیف]
اس آیت کے بارے میں قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا جو بے تکلف لوگوں کے بارے میں جانتا ہے کہ دوزخی ہیں یا جنتی وہ تو ایسی بات کا دعویٰ کر بیٹھے ہیں جس کا دعویٰ تو انبیاء نے بھی نہیں کیا۔ اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام نے کہا تھا کہ «وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [ 26-الشعراء: 112 ] یعنی میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3575
اللہ کے نبی شعیب علیہ السلام نے فرمایا «بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ» [11-هود:86] اللہ تعالیٰ کے پاس تمھارے لئے خیر ہے اگر تم مومنین ہو، اور میں تم پر کوئی نگران تو نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے فرمایا «لاَتَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ» تو انہیں نہیں جانتا ہم ہی جانتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اے فلاں فلاں لوگو! تم مسجد سے نکل جاؤ کہ تم منافق لوگ ہو۔ چنانچہ رسوائی کے ساتھ وہ مسجد سے نکالے گئے۔ وہ مسجد سے نکل رہے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ کر کہ لوگ پلٹ رہے ہیں تو شاید نماز جمعہ ہو چکی ہے شرما گئے اور شرم کے مارے ان لوگوں سے اپنے آپ کو چھپانے لگے اور یہ لوگ بھی اپنے کو عمر رضی اللہ عنہ سے چھپانے لگے یہ سمجھ کر کہ عمر رضی اللہ عنہما کو بھی ہمارے اس نفاق کا عل ہو گیا ہے غرض سیدنا عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں آئے تو معلوم ہوا کہ ابھی نماز نہیں ہوئی اور ایک مسلمان نے انہیں اطلاع دی اور کہا کہ اے عمر رضی اللہ عنہ خوش ہو جاؤ کہ آج منافقین کو اللہ نے رسوا کر دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ مسجد سے نکالا جانا عذابِ اوّل ہے اور عذاب ثانی عذاب دنیا اور عذاب قبر ہو گا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17137:ضعیف]
صفحہ نمبر3576
ثوری رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی کہا ہے مجاہد رحمہ اللہ نے قولہ تعالیٰ «سَنُعَذَّبُھُمْ مَزَّبَیْنِ» کے بارے میں کہا ہے کہ اس سے مراد قتل اور قید ہے اور ایک دوسری روایت میں بھوک اور عذابِ قبر سے تعبیر کی گئی ہے۔ پھر وہ عذاب عظیم کی طرف روکے جائیں گے ابن جریج رحمہ اللہ کا قول ہے کہ عذاب قبر مراد ہے پھر وہ عذاب عظیم یعنی عذاب روزخ میں مبتلا کئے جائیں گے، حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا ہے دنیا کا اور قبر کا عذاب مراد ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید کہتے ہیں کہ دنیا کا عذاب اموال اور اولاد کے فتنہ کا عذاب ہے پھر اللہ کا یہ قول پڑھ کر سنایا «وَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلَادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الدُّنْيَا» [ 9- التوبہ: 55 ] یعنی ان کافروں کے اموال اور اولاد تم کو حسد میں مبتلا نہ کر دیں اللہ کا منشا یہ ہے کہ ان چیزوں کے ذریعہ دنیا کی زندگی ہی میں اللہ انہیں عذاب میں مبتلا کر دے کیونکہ یہ مصائب ان کے لئے عذاب ہیں لیکن مومنین کے لئے باعث اجر ہیں اور آخرت کے عذاب سے مراد دوزخ کا عذاب ہے۔ محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ پہلے عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو اسلام کے پھیل جانے سے انہیں پہنچا ہے اور بے انتہا رنج و افسوس جو ان پر طاری ہوا ہے۔ دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے اور عذاب عظیم وہ ہےجو آخرت میں انہیں ملے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کا ملے گا۔
سعید نے قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کے کان میں کہا کہ بارہ منافقین ہیں ان میں سے چھ کو دبیلہ کافی ہے یہ نار جہنم کا ایک شعلہ ہو گا جو ان کے کاندھے پر لگے گا تو سینے تک پہنچے گا یعنی پیٹ کے درد اندرونی بیماریوں اور دمبلوں سے مریں گے اور چھ اپنی موت سے مر جائیں گے۔ سعید رحمہ اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب کوئی مرتا اور وہ ان کی نظر میں مشتبہ ہوتا تو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتے۔ اگر وہ اس میت کی نماز جنازہ پڑھتے تو خود بھی پڑھتے، یہ یقین کرکے کہ یہ میت ان بارہ منافقین میں سے نہیں ہے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ اگر نہ پڑھتے تو پھر خود بھی نہ پڑھتے، معلوم ہوا ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی پوچھا تھا کہ اللہ کی قسم بتادو کہ میں ان بارہ میں سے تو نہیں ہوں تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نہیں ہو، لیکن تمھارے سوا میں کسی اور ی ذمہ داری نہیں لیتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17145:مرسل و ضعیف]
صفحہ نمبر3577
تساہل اور سستی سے بچو ٭٭
جب اللہ تعالیٰ ان منافقوں کا حال بیان کر چکا جو مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہونے سے رکے گئے تھے۔ اور شریک جنگ سے بے رغبتی، تکذیب اور شک کا مظاہرہ کرتے تھے تو پھر ان گنہگاروں کا ذکر شروع کرتا ہے جو جہاد میں شریک ہونے سے باز رہے تھے صرف سستی اور آرام طلبی کے سبب حالانکہ انہیں تصدیق حق اور ایمان حاصل تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان منافقین کے سوا اور دوسرے لوگ جو جہاد سے دک رہے، انہوں نے اپنے قصور کا اعتراف و اقرار کر لیا۔ لیکن یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دوسرے اعمال صالحہ بھی ہیں، اور ان اعمال صالحہ کے ساتھ اپنی بعض تقصیرات جیسے جہاد سے باز رہنا بھی انہوں نے شامل کر دیا ہے لیکن ان کی اس تقصیر کو اللہ پاک نے معاف فرما دیا ہے۔ اور ان منافقین کی تقصیر کو وہ معاف نہیں کرے گا اور ان کے کوئی اعمال صالح ہیں بھی نہیں۔ یہ آیت اگرچہ چند معین اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن سارے مخلص خطاکاروں اور گنہگاروں پر بھی عام ہے۔
اور مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب انہوں نے بنی قریظہ سے کہا تھا کہ یہ ذبح کی جگہ ہے اور ہاتھ سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے کہ «اَخَرُوْنَ» سے مراد ابولبابہ اور ان کے اصحاب کی جماعت ہے جو غزوہ تبوک میں شرکت جہاد سے پہلو تہی کئے ہوئے تھے۔ بعض نے کہا ہے کہ ابو لبابہ کے ساتھ پانچ آدمی اور تھے، یا سات تھے، یا نو تھے،
صفحہ نمبر3578
اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے تو ان لوگوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا اور قسم کھا لی تھی کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہم کو نہ کھولیں، ہم نہ کھولیں جائیں۔ اور جب یہ آیت «وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھول دیا اور ان کا جنگ سے کوتاہی کا قصور معاف کر دیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے ایک ایسے شہر تک لے آئے جو چاندی اور سونے کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا وہاں ہمیں بعض ایسے آدمی دکھائی دئیے کہ ان کا آدھا حصہ تو نہایت ہی خوش منظر تھا اور دوسرا آدھا حصہ جسم نہایت ہی بد صورت کہ دیکھنے کو جی نہ چاہے۔ میرے ان ساتھیوں نے ان سے کہا کہ تم اس نہر میں غوطہ لگاؤ وہ غوطہ لگا کر جب باہر نکلے تو ان کا یہ عیب جاتا رہا اور ان کے اجسام سب کے سب حسین دکھائی دیتے تھے۔ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہی تمھاری منزل ہے اور کہا کہ وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت سا تھا اور آدھا جسم نہایت بد صورت سا تھا سو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اعمال نیک کے ساتھ اعمال بد بھی ملا رکھے تھا اور اللہ عز و جل کی حدود سے تجاوز کر گئے تھے۔ [صحیح بخاری:4674:صحیح] اس آیت کی تفسیر میں امام بخاری رحمہ اللہ نے مختصراً اسی طرح روایت کی ہے۔
صفحہ نمبر3579
صدقہ مال کا تزکیہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے اموال سے زکٰوۃ وصول کر لیا کرو یہ مال زکٰوۃ ان کو پاک اور صاف بنائے گا۔ اگرچہ بعض لوگوں نے «اَمْوَالِھِمْ» کی ضمیر ان لوگوں کی طرف پھیری ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تھا اور اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کئے تھے۔ لیکن در حقیقت یہ حکم خاص نہیں بلکہ عام ہے اسی لئے قبائل عرب میں سے بعض مانعین زکٰوۃ نے یہ اعتقاد کر لیا تھا کہ امام کو زکٰوۃ لینے کا حق نہیں، اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص تھی اور اسی لئے قولہ تعالیٰ «خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً» سے انہوں نے دلیل لی ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی تاویل اور فہم فاسد کی تردید کر دی اور ان سے جنگ کی تب کہیں انہوں نے خلیفہ وقت کو زکوٰۃ ادا کی جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ ”اگر اونٹنی کا ایک بچہ یا رسی کا ایک ٹکڑا بھی مال زکٰوۃ کا روک لیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لو ادا کرتے تھے تو منع زکٰوۃ پر میں ان سے قتال کروں گا۔“ [صحیح بخاری:1400:صحیح]
قولہ تعالیٰ «وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ» یعنی ان کے لئے دعا کرو اور طلبِ مغفرت کرو جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسی کے پاس سے زکٰوۃ کا مال آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ حکم الٰہی اسکے لئے دعا کرتے تھے چنانچہ جب میرے باپ نے مال زکٰوۃ پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اے اللہ! ”آل ابی اوفی پر رحم فرما“ [صحیح مسلم:1087:صحیح]
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے اور میرے زوج کے لئے دعا فرمائیے تو کہا کہ اللہ تیرے اور تیرے زوج پر رحم و کرم فرمائے۔ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] قولہ تعالٰی «اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ» تمھاری دعا ان کے لئے سکونِ قلب کا سبب ہے بعض نے صلٰوۃ کو جمع قرار دے کر صَلَوَاَتُک پڑھا ہے اور دوسروں نے واحد قرار دے کر «اِنَّ صَلَاتَکَ» پڑھا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ سکوں کے معنی رحمت کے ہیں اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے اس کے معنی ہیں وقار «وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ» یعنی اے نبی! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تمھاری دعاؤں کو سننے والا ہے۔
صفحہ نمبر3580
اور علیم ہے کہ کون تمھاری دعا کا مستحق ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وکیع نے بالاسناد روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعا فرماتے تھے تو وہ اس کے اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:385/5:ضعیف] پھر ابو نعیم سے بالاسناد مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کسی آدمی اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں ضرور قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:400/5:ضعیف] اور اللہ کا قول ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ» [9-التوبة:104] یعنی کیا انہیں اس کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی نیکیوں کو لیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس سے مقصد توبہ اور صدقہ پر لوگوں کو ابھارنا ہے کیونکہ یہی دونوں چیزیں گناہوں کو انسان سے چھڑا دیتی ہیں اور معاصی کو ملیامیٹ کر دیتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو اس کے پاس توبہ پیش کرے وہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور کسب حلال کا ٹکڑا بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سیدھے ہاتھ سے لے لیتا ہے پھر وہ صدقہ دینے والے کے لئے اس صدقہ کی پرورش کرتا جاتا ہے اور اس کو چھوٹے سے بڑا بناتا ہے حتٰی کہ صدقہ کی وہ ایک کھجور کوہِ احد کی مانند ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور جیسا کہ وکیع نے بھی بالاسناد سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقے کو قبول فرماتا ہے اور اس کی اپنے سیدھے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس کی نشوونما کرتا ہے جیسا کہ تم اپنے گھوڑے ے بچے کو پال کر بڑا کرتے ہو یہاں تک کہ صدقہ کا ایک لقمہ بھی احد کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد:401/2:منکر بزیادۃ و تصدیق ذلک]
اسکی تصدیق کتاب اللہ عز و جل سے بھی ہوتی ہے ”کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور زکٰوۃ و صدقات کو لے لیتا ہے اور قولہ تعالیٰ «يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» [2-البقرة:276] ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سود کے منافع کو برباد کر دیتا ہے اور صدقات کو اضعافاً مضاعفاً بڑھاتا رہتا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صدقہ کا مال سائل کے ہاتھ میں پڑنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پڑتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ» ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بہ ضمن تاریخ عبداللہ بن الشاعر سکسکی [ جو دمشقی تھے لیکن اصل وطن حمص تھا اور فقہا میں سے تھے ] بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے جہاد کیا جن کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رحمہ اللہ تھے،
صفحہ نمبر3581
تو ایک مسلمان نے مال غنیمت میں سے سو دینار رومی غبن کر لئے اور جب لشکر واپس ہو گیا اور لوگ گھروں کو چلے گئے تو اس کو ندامت نے آ گھیرا۔ اس نے یہ دینار اب امیر لشکر کے پاس پہنچائے۔ اس نے ان کے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ سب لوگ تو اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جن میں یہ تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ اب تو میں اس کو لے نہیں سکتا اب تم قیامت کے روز اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دینا۔ اب یہ آدمی صحابہ میں سے ہر ایک سے پوچھتا رہا لیکن سب یہی کہتے رہے۔ پھر وہ دمشق آیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قبول کرنے کے لیے کہا لیکن وہ بھی انکار کر گئے۔ وہ وہاں سے اپنی حالت پر روتا ہوا نکلا اور عبداللہ بن الشاعر السکسکی کے پاس سے گزرا۔ اس نے پوچھا کیوں روتا ہے؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ کوئی امیر بھی ان کو نہیں لیتا۔ تو عبداللہ نے کہا کہ تم میری سنو گے اس نے کہا ضرور۔ تو اس نے کہا تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اورکہو کہ پانچواں حصہ جو بیت المال کا حق ہے لے لو۔ چنانچہ بیس دینار ان کے حوالے کر دو اور باقی اسی دینار ان لشکریوں کی طرف سے خیرات کر دو جو ان کے حق دار ہوسکتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ناموں اور مقامات وغیرہ سے بھی واقف ہے وہ انہیں اس کا ثواب پہنچا دے گا۔ تو اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے اس کو ایسا فتویٰ دیا ہوتا تو مجھے یہ بات اپنی تمام مملکت سے زیادہ محبوب تھی۔ اس نے بہت اچھی تدبیر بتائی ہے۔
صفحہ نمبر3582
صدقہ مال کا تزکیہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان کے اموال سے زکٰوۃ وصول کر لیا کرو یہ مال زکٰوۃ ان کو پاک اور صاف بنائے گا۔ اگرچہ بعض لوگوں نے «اَمْوَالِھِمْ» کی ضمیر ان لوگوں کی طرف پھیری ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا تھا اور اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال کئے تھے۔ لیکن در حقیقت یہ حکم خاص نہیں بلکہ عام ہے اسی لئے قبائل عرب میں سے بعض مانعین زکٰوۃ نے یہ اعتقاد کر لیا تھا کہ امام کو زکٰوۃ لینے کا حق نہیں، اور یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخصوص تھی اور اسی لئے قولہ تعالیٰ «خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً» سے انہوں نے دلیل لی ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان کی تاویل اور فہم فاسد کی تردید کر دی اور ان سے جنگ کی تب کہیں انہوں نے خلیفہ وقت کو زکوٰۃ ادا کی جیسا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ ”اگر اونٹنی کا ایک بچہ یا رسی کا ایک ٹکڑا بھی مال زکٰوۃ کا روک لیں گے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لو ادا کرتے تھے تو منع زکٰوۃ پر میں ان سے قتال کروں گا۔“ [صحیح بخاری:1400:صحیح]
قولہ تعالیٰ «وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ» یعنی ان کے لئے دعا کرو اور طلبِ مغفرت کرو جیسا کہ صحیح مسلم میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کسی کے پاس سے زکٰوۃ کا مال آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم حسبِ حکم الٰہی اسکے لئے دعا کرتے تھے چنانچہ جب میرے باپ نے مال زکٰوۃ پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اے اللہ! ”آل ابی اوفی پر رحم فرما“ [صحیح مسلم:1087:صحیح]
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک عورت نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے اور میرے زوج کے لئے دعا فرمائیے تو کہا کہ اللہ تیرے اور تیرے زوج پر رحم و کرم فرمائے۔ [سنن ابوداود:1533، قال الشيخ الألباني:صحیح] قولہ تعالٰی «اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ» تمھاری دعا ان کے لئے سکونِ قلب کا سبب ہے بعض نے صلٰوۃ کو جمع قرار دے کر صَلَوَاَتُک پڑھا ہے اور دوسروں نے واحد قرار دے کر «اِنَّ صَلَاتَکَ» پڑھا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ہے کہ سکوں کے معنی رحمت کے ہیں اور قتادہ رحمہ اللہ نے کہا ہے اس کے معنی ہیں وقار «وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ» یعنی اے نبی! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تمھاری دعاؤں کو سننے والا ہے۔
صفحہ نمبر3580
اور علیم ہے کہ کون تمھاری دعا کا مستحق ہے؟ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وکیع نے بالاسناد روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعا فرماتے تھے تو وہ اس کے اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:385/5:ضعیف] پھر ابو نعیم سے بالاسناد مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کسی آدمی اور اس کے بیٹوں اور پوتوں کے حق میں ضرور قبول ہو جاتی تھی۔ [مسند احمد:400/5:ضعیف] اور اللہ کا قول ہے «أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ» [9-التوبة:104] یعنی کیا انہیں اس کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ بندوں کی نیکیوں کو لیتا ہے اور توبہ قبول فرماتا ہے۔ اس سے مقصد توبہ اور صدقہ پر لوگوں کو ابھارنا ہے کیونکہ یہی دونوں چیزیں گناہوں کو انسان سے چھڑا دیتی ہیں اور معاصی کو ملیامیٹ کر دیتی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو اس کے پاس توبہ پیش کرے وہ بندے کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور کسب حلال کا ٹکڑا بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے سیدھے ہاتھ سے لے لیتا ہے پھر وہ صدقہ دینے والے کے لئے اس صدقہ کی پرورش کرتا جاتا ہے اور اس کو چھوٹے سے بڑا بناتا ہے حتٰی کہ صدقہ کی وہ ایک کھجور کوہِ احد کی مانند ہو جاتی ہے۔
جیسا کہ اسی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے اور جیسا کہ وکیع نے بھی بالاسناد سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقے کو قبول فرماتا ہے اور اس کی اپنے سیدھے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس کی نشوونما کرتا ہے جیسا کہ تم اپنے گھوڑے ے بچے کو پال کر بڑا کرتے ہو یہاں تک کہ صدقہ کا ایک لقمہ بھی احد کا پہاڑ بن جاتا ہے۔ [مسند احمد:401/2:منکر بزیادۃ و تصدیق ذلک]
اسکی تصدیق کتاب اللہ عز و جل سے بھی ہوتی ہے ”کیا انہیں علم نہیں کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ کو قبول کرتا ہے اور زکٰوۃ و صدقات کو لے لیتا ہے اور قولہ تعالیٰ «يَمْحَقُ اللَّـهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ» [2-البقرة:276] ۔ یعنی اللہ تعالیٰ سود کے منافع کو برباد کر دیتا ہے اور صدقات کو اضعافاً مضاعفاً بڑھاتا رہتا ہے۔ ثوری رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ صدقہ کا مال سائل کے ہاتھ میں پڑنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پڑتا ہے۔ پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ» ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بہ ضمن تاریخ عبداللہ بن الشاعر سکسکی [ جو دمشقی تھے لیکن اصل وطن حمص تھا اور فقہا میں سے تھے ] بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگوں نے جہاد کیا جن کے سردار عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رحمہ اللہ تھے،
صفحہ نمبر3581
تو ایک مسلمان نے مال غنیمت میں سے سو دینار رومی غبن کر لئے اور جب لشکر واپس ہو گیا اور لوگ گھروں کو چلے گئے تو اس کو ندامت نے آ گھیرا۔ اس نے یہ دینار اب امیر لشکر کے پاس پہنچائے۔ اس نے ان کے لینے سے انکار کر دیا کہ وہ سب لوگ تو اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے جن میں یہ تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ اب تو میں اس کو لے نہیں سکتا اب تم قیامت کے روز اس کو اللہ کے سامنے پیش کر دینا۔ اب یہ آدمی صحابہ میں سے ہر ایک سے پوچھتا رہا لیکن سب یہی کہتے رہے۔ پھر وہ دمشق آیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو قبول کرنے کے لیے کہا لیکن وہ بھی انکار کر گئے۔ وہ وہاں سے اپنی حالت پر روتا ہوا نکلا اور عبداللہ بن الشاعر السکسکی کے پاس سے گزرا۔ اس نے پوچھا کیوں روتا ہے؟ اس نے سارا واقعہ کہہ سنایا کہ کوئی امیر بھی ان کو نہیں لیتا۔ تو عبداللہ نے کہا کہ تم میری سنو گے اس نے کہا ضرور۔ تو اس نے کہا تم سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اورکہو کہ پانچواں حصہ جو بیت المال کا حق ہے لے لو۔ چنانچہ بیس دینار ان کے حوالے کر دو اور باقی اسی دینار ان لشکریوں کی طرف سے خیرات کر دو جو ان کے حق دار ہوسکتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے ناموں اور مقامات وغیرہ سے بھی واقف ہے وہ انہیں اس کا ثواب پہنچا دے گا۔ تو اس آدمی نے ایسا ہی کیا۔ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے اس کو ایسا فتویٰ دیا ہوتا تو مجھے یہ بات اپنی تمام مملکت سے زیادہ محبوب تھی۔ اس نے بہت اچھی تدبیر بتائی ہے۔
صفحہ نمبر3582
باب
مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے کہ یہ مخالفین امر اللہ کے لئے اللہ کی طرف سے وعید ہے کہ ان کے اعمال اللہ تبارک و تعالیٰ کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین میں بھی ان کے اعمال ظاہر کئے جائیں گے اور قیامت کے روز یہ ہونا ضرور ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ «يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لاَ تَخْفَى مِنكُمْ خَافِيَةٌ» [ 69-الحاقة: 18 ] یعنی بروز قیامت تمھارے اعمال پیش ہوں گے اور کوئی ڈھکی چھپی بات بھی پوشیدہ نہ رہ سکے گی۔ اور فرمایا اللہ پاک نے «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُ» [ 86-الطارق: 9 ] یعنی دلوں کے چھپے ہوئے بھید ظاہر ہو جائیں گے اور فرمایا «وَحُصِّلَ مَا فِى الصُّدُورِ» [ 100-العاديات: 10 ] یعنی دلوں میں جو کچھ ہے وہ ظاہر ہو جائے گا اور دنیا کے لوگ اس سے واقف ہو جائیں گے جیسا کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ حسن بن موسیٰ نے باسناد مرفوعاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی سخت پتھر کے اندر بھی سما جائے جس میں نہ کوئی سوراخ باقی رہے نہ دروازہ اس کے اندر بھی چھپ کر کوئی کوئی عمل کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی لوگوں پر ایسا ظاہر کردے گا گویا یہ ان کے سامنے ہوا ہے۔ [مسند احمد:28/3:ضعیف] اور حدیث مین وارد ہے کہ زندوں کے اعمال ان اموات پر پیش کئے جاتے ہیں جو ان کے عزیز و اقارب ہیں یا ان کے قبائل ہیں اور جو اس وقت عالم برزخ میں ہیں جیسا کہ ابوداؤد الطیالسی نے کہا ہے۔
صلت بن دینار نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے اعمال تمھارے مردہ اقرباء اور عشائر پر ان کی قبروں میں پیش کئے جاتے ہیں، اگر اعمال خیر ہوتے ہیں تو وہ خوش ہو جاتے ہیں اور اگر بد ہوں تو دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ!تو اپنی اطاعت کی انہیں توفیق عطا فرما۔ [مسند طیالسی:1794:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عبدالرزاق نے ہمیں خبر دی کہ سفیان نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تمھارے اعمال تمھارے مردہ اقارب و عشائر پر پیش کئے جاتے ہیں اگر وہ اچھے عمل ہوں تو وہ مردے خوش ہو جاتے ہیں اور اچھے نہ ہوں تو کہتے ہیں کہ اے اللہ! تو انہیں موت نہ دے جب تک تو انہیں بھی ایسی ہدایت نہ دے جیسی تو نے ہمیں دی تھی۔ [مسند احمد:165/3:ضعیف]
صفحہ نمبر3584
امام بخاری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین عائشہرضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کی عمل نیک تمھیں پسند خاطر ہوتو کہو کئے جاؤ اللہ تمھارے عمل کو دیکھ رہا ہے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین بھی اس سے واقف ہو رہے ہیں۔ [صحیح بخاری، تعلیقاً:کتاب التوحید:3530] اسی قسم کی ایک اور حدیث میں وارد ہے کہ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا کہ بالاسناد سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے اچھے عمل کو دیکھ کر خوش نہ ہو جاؤ انتظار کرو کہ اس کا خاتمہ بھی اس عمل نیک پر ہوتا ہے یا نہیں۔ اس لئے کہ عامل ایک زمانہ طویل تک نیک عمل کرتا رہتا ہے اور وہ اس نیک عمل پر مر جائے تو جنت میں داخل ہو جائے لیکن ناگہاں اس کے حالات بدل جاتے ہیں اور وہ برے اعمال کرنے لگتا ہے۔ اور ایک بندہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک زمانے تک برے اعمال کرتا رہتا ہے کہ اگر اسی پر مر جائے تو دوزخ میں چلا جائے گا لیکن یکایک اس کی کایا پلٹ جاتی ہے اور وہ نیک عمل کرنے لگتا ہے۔ اللہ جب اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمائے تو موت سے پہلے اس کو نیکی کی توفیق دے دیتا ہے اور وہ نیکی پر مرتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیسے ہوتا ہے؟ تو فرمایا کہ قبض روح کے وقت وہ عمل صالح کے ساتھ ہوتا ہے۔ [مسند احمد:120/3:صحیح]
صفحہ نمبر3585
باب
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور مجاہد اور عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ نے کہا کہ یہ تین شخص تھے کہ جن کی توبہ کی قبولیت پیچھے پڑ گئی تھی اور وہ مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک اور ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہم تھے اور غزوہ تبوک میں یہ بھی ان لوگوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے جنہوں نے جنگ میں شرکت نہیں کی تھی بہ سبب سستی اور آرام طلبی کے اور اس سبب سے کہ ان کے باغات میں پھل پکنے کا موسم تھا کاشت تیار کھڑی تھی۔ سایہ دار اور بہار کی لطف انگیزی کا زمانہ تھا۔ یہ کوتاہی اور منافقت کی بنا پر نہیں تھی چنانچہ ان میں چند لوگ ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ رکھا تھا جیسے کہ ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی۔ دوسرے چند لوگوں نے ایسا نہ کیا اور یہ مذکورہ بالا تین اشخاص تھے۔ ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ تو ان لوگوں سے پہلے ہی قبول ہو چکی تھی۔
اور زیر ذکر لوگوں کی توبہ کی قبولیت التوا میں پڑ گئی تھی حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی اور وہ ہے «لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [9-التوبة:117] اور «وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ» [9-التوبة:118] یعنی اللہ نے نبی اور مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول کر لی [آخر آیت تک] اور ان تینوں شخصوں کی توبہ بھی قبول کر لی جو جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے حتیٰ کہ اتنی وسیع دنیا بھی ان پر تنگ ہو گئی تھی اور کہیں انہیں پناہ نہ مل سکتی تھی جیسا کہ حدیث کعب بن مالک میں اس کا بیان آنے والا ہے اور قولہ تعالیٰ «إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ» [9-التوبة:106] یعنی وہ تحتِ عفوِ ربانی ہیں اگر وہ چاہے تو ان سے ایسا برتاؤ کرے اور اگر چاہے تو ویسا۔ لیکن اللہ کی رحمت تو اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے اور اللہ تو مستحق عقوبت کو جانتا ہے کہ کون عفو کا مستحق ہے اور وہ اپنے افعال و اقوال میں حکیم ہے اس کے سوا کوئی اللہ اور کوئی رب نہیں۔
صفحہ نمبر3586
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار ٭٭
ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف سے لانے سے پہلے مدنہ میں قبیلہ خزرج کا آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا ابو عامر راہب۔ یہ ایام جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کر چکا تھا۔ یہ ایام جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا اپنے قبیلے میں اس کو بڑی بزرگی حاصل تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے اور مسمانوں کا آپ کے پاس اجتماع ہونے لگا اور اسلام کا بول بالا ہو گیا اور بدر کی لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسمانوں کو غالب رکھا تو ابو عامر پر یہ بات بہت شاق گزری اور کھلم کھلا عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار اور مشرکین مکہ سے جا ملا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر مائل کرتا تھا اب عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہو گئے اور جنگ احد کے لئے پیش قدمی کی نتیجہ مسلمانوں کو جو ضرر پہنچا اللہ عزوجل نے اس جنگ مین مسلمانوں کا امتحان لیا دنیا نہ سہی لیکن عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے ان میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے آپ کو مضرت پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹوٹ گئے۔ سر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی ہو گیا۔ ابو عامر نےشروع جنگ میں اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں اپنی مدد اور اپنی موافقت کی دعوت دی۔
صفحہ نمبر3587
جب انصار نے ابو عامر کی یہ حرکت دیکھی تو کہنے لگے کہ اے فاسق اے عدو اللہ! اللہ تجھے برباد کرے اور اس کو گالیاں دیں اس کی عزت ریزی کی۔ اب وہ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ میرے بعد میری قوم تو اور بگڑ گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔
صفحہ نمبر3588
چنانچہ ان منافقین نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی، اس کی تعمیر کردی اس کو پختہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک سے بکلنے سے پہلے اس کام سے فارغ بھی ہو لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست کے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ اس بات کی سند ہو سکے کہ یہ مسجد اپنی جگہ قابل استقرار اور قابل اثبات ہے۔ اور آپ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ضعیفوں اور کمزوروں کی خاطر یہ مسجد بنائی گئی ہے اور سردی کی راتوں میں جو بیمار لوگ دور مسجد میں نہیں جا سکتے ان کے لئے آسانی کی غرض ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت سفر در پیش ہے جب ہم واپس ہوں گے اور اللہ نے چاہا تو دیکھا جائے گا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور مدینہ تک مسافت جب ایک دن یا دن اس سے کچھ کم رہ گئی تو جبرائیل علیہ السلام مسجد ضرار کی خبر لئے ہوئے آ پہنچے اور منافقین کے اس راز کو ظاہر کر دیا کہ مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد ان کافروں اور منافقوں نے پیش کر رکھا ہے، وہ مسجد قبا ہے جس کی بنیاد اوّل روز سے تقوٰی پر اٹھائی گئی ہے۔ اس علم کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی چند لوگوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا کہ اس کو منہدم کر دیا جائے۔
جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل]
صفحہ نمبر3589
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی بالاسناد یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مقام ذی اوان میں فروکش ہوئے۔ مدینہ یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ تو اس مسجد ضرار کی خبر اللہ کی طرف سے آپ کو مل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سالم کے بھائی مالک بن خشم کو بلایا اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی، غرض ان دونوں کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جاؤ اور اس کو منہدم کر دو اور جلا ڈالو۔ یہ دونوں فوراً گئے اور بنی سالم بن عوف کے پاس آئے۔ یہ مالک بن الدخشم کے قبیلہ کے لوگ تھے، اب مالک نے معن سے کہا ٹھہرو! میں اپنے لوگوں میں سے کسی کے پاس سے آگ لے آتا ہوں۔ اب وہ مالک اپنے لوگوں میں آئے۔ درخت کی ایک بڑی سی لکڑی لی اس کو سلگایا اور فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں مسجد پہنچے، مسجد میں یہ کفار موجود تھے، ان دونوں نے مسجد کو جلا دیا اور اس کو گرا دیا۔ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قرآن کی یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، «وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا» ۔
یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔
صفحہ نمبر3590
[وَ قَوْلُہُ ] «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی۔ نماز نہ پڑھنے میں ان کی تابع ان کی امت بھی ہے چنانچہ مسلمانوں کو بھی تاکید ہے کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھیں۔ پھر یہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے پر ابھارا مسجد قبا کی بنیاد شروع ہی سے تقویٰ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں یہاں مسلمان مل بیٹھتے ہیں دینی مشورے کرتے ہیں اور یہ اسلام اور اہل اسلام کی پناہ کی جگہ ہے اور اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ» اور سیاق عبارت مسجد قبا سے متعلق ہے۔ اس لئے حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:324، قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی طرف سوار ہو کر بھی آتے تھے اور پیادہ بھی۔ [صحیح بخاری:1191] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے بنایا تو آپ کی سب سے پہلے تشریف آواری بن عمرو بن عوف کے پاس تھی اور جہتِ قبلہ جبرائیل علیہ السلام نے معین کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [ التوبہ: 108 ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔
صفحہ نمبر3591
تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی مرد یا عورت حاجت سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی سے اپنے اندام نہانی کو اچھی طرح دھو لیتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے۔ [طبرانی کبیر:1065:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں تشریف لائے اور کہا کہ نماز کے لئے تمھاری طہارت کی اللہ پاک نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے سو وہ تمھاری کون سی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو اس کے سوا کوئی علم نہیں کہ یہود ہمارے پڑوسی ہیں اور وہ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ [مسند احمد:422/3:حسن لغیرہ]
ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف] [ اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے ] حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد ] روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح]
صفحہ نمبر3592
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] روایت کی کہ دو آدمی اس خصوصیت والی مسجد کے بارے میں مختلف الرائے تھے ایک مسجد قبا کو اور دوسرا مسجد نبوی کو بتا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد تقویٰ یہ میری مسجد ہے۔ [مسند احمد:89/3:صحیح] پھر اس کے بعد حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہیں، چنانچہ الخراط المدنی نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے باپ سے مسجد تقویٰ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تقویٰ کونسی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکریاں زمین سے اٹھائیں اور انہیں مار کر کہا کہ وہ یہی مسجد ہے۔ اس وقت آپ مسجد کے صحن میں اپنی بیوی کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ [صحیح مسلم:1398:صحیح]
پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن]
صفحہ نمبر3593
ذوالکلاع سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن طہارت قیام فی العبادت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عبادت کی تتمیم و تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے قول پاک «وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» کے بارے میں کہا کہ پانی سے طہارت کرنا تو بیشک بہت اچھی بات ہے لیکن جن کی طہارت کی اللہ تعالیٰ تعریف فرما رہا ہے وہ گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھنے والے لوگ ہیں۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس طہارت سے مراد گناہوں سے توبہ اور شرک سے پاکیزگی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھاری طہارت کی تعریف کی ہے وہ کیسی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں اتری ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا تھا تو کہا تھا کہ ہن پہلے ڈھیلے لیتے تھے پھر پانی سے دھوتے تھے۔ [مجمع الزوائد:1053:ضعیف] اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کو صرف محمد بن عبدالعزیز نے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے۔ میں نے یہاں یہ تصریح اس لئے کر دی ہے کہ یہ چیز اگرچہ فقہاء میں مشہور ہے لیکن اکثر متاخرین اس کو معروف تسلین نہیں کرتے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر3594
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار ٭٭
ان آیات کا سبب نزول یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف سے لانے سے پہلے مدنہ میں قبیلہ خزرج کا آدمی رہتا تھا جس کا نام تھا ابو عامر راہب۔ یہ ایام جاہلیت میں نصرانی ہو گیا تھا اور اہل کتاب کا علم حاصل کر چکا تھا۔ یہ ایام جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا اپنے قبیلے میں اس کو بڑی بزرگی حاصل تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینے تشریف لائے اور مسمانوں کا آپ کے پاس اجتماع ہونے لگا اور اسلام کا بول بالا ہو گیا اور بدر کی لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ نے مسمانوں کو غالب رکھا تو ابو عامر پر یہ بات بہت شاق گزری اور کھلم کھلا عداوت ظاہر کرنے لگا اور مدینہ سے بھاگ کر کفار اور مشرکین مکہ سے جا ملا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے پر مائل کرتا تھا اب عرب کے سارے قبیلے اکٹھے ہو گئے اور جنگ احد کے لئے پیش قدمی کی نتیجہ مسلمانوں کو جو ضرر پہنچا اللہ عزوجل نے اس جنگ مین مسلمانوں کا امتحان لیا دنیا نہ سہی لیکن عاقبت تو متقین کے لئے ہے۔ اس فاسق نے دونوں طرف کی صفوں کے درمیان کئی گڑھے کھود رکھے تھے ان میں سے ایک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے آپ کو مضرت پہنچی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ زخمی ہو گیا نیچے کی طرف سے سامنے کے چار دانت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹوٹ گئے۔ سر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا زخمی ہو گیا۔ ابو عامر نےشروع جنگ میں اپنی قوم انصار کی طرف بڑھ کر انہیں مخاطب کیا اور انہیں اپنی مدد اور اپنی موافقت کی دعوت دی۔
صفحہ نمبر3587
جب انصار نے ابو عامر کی یہ حرکت دیکھی تو کہنے لگے کہ اے فاسق اے عدو اللہ! اللہ تجھے برباد کرے اور اس کو گالیاں دیں اس کی عزت ریزی کی۔ اب وہ یہ کہتا ہوا واپس ہو گیا کہ میرے بعد میری قوم تو اور بگڑ گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فرار ہونے سے پہلے اس کو دعوت اسلام دی تھی اور قرآن کی وحی سے سنائی تھی، لیکن اسلام لانے سے اس نے انکار کیا اور سر کشی اختیار کی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بد دعا کی کہ کم بخت جلا وطنی اور پردیسی موت مرے۔ چنانچہ یہ بد دعا اس پر کارگر ہوئی اور یہ بات اس طرح وقوع پذیر ہوئی کہ لوگ جب جنگ احد سے فارغ ہوئے تو اس نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تو بول بالا ہو رہا ہے۔ اسلام بڑھتا چلا جا رہا ہے تو وہ ملک روم ہرقل کے پاس گیا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بر خلاف مدد مانگی۔ اس نے وعدہ کیا۔ اس نے اپنی امیدیں کامیاب ہوتی دیکھیں تو ہرقل کے پاس ٹھہر گیا اور اپنی قوم انصار میں سے ان لوگوں کو مکہ بھیجا جو اہل نفاق تھے کہ لشکر لے کر آ رہا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب جنگ ہو گئی، ان پر غالب آ جاؤں گا اور انہیں اپنی اسلام سے پہلے کی سابقہ حالت پر آنا ہو گا اور ان اہل نفاق کو حکم بھیجا کہ اس کے لئے پناہ کی جگہ بنائے رکھو اور میرے احکام اور مراسلے جو لے کر آیا کریں ان کے لئے قیامگاہ اور مآمن بنائے رکھو تا کہ اس کے بعد جب وہ خود آئے تو اس کے لئے کمین گاہ کا کام دے۔
صفحہ نمبر3588
چنانچہ ان منافقین نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک اور مسجد بنا ڈالی، اس کی تعمیر کردی اس کو پختہ کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تبوک سے بکلنے سے پہلے اس کام سے فارغ بھی ہو لئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ درخواست کے کر آئے کہ آپ ہمارے پاس آئیے ہماری مسجد میں نماز پڑھئے تاکہ اس بات کی سند ہو سکے کہ یہ مسجد اپنی جگہ قابل استقرار اور قابل اثبات ہے۔ اور آپ کے سامنے یہ بیان کیا کہ ضعیفوں اور کمزوروں کی خاطر یہ مسجد بنائی گئی ہے اور سردی کی راتوں میں جو بیمار لوگ دور مسجد میں نہیں جا سکتے ان کے لئے آسانی کی غرض ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے بچانا چاہتا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں اس وقت سفر در پیش ہے جب ہم واپس ہوں گے اور اللہ نے چاہا تو دیکھا جائے گا اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنگ تبوک سے فارغ ہو کر مدینہ کی طرف واپس ہوئے اور مدینہ تک مسافت جب ایک دن یا دن اس سے کچھ کم رہ گئی تو جبرائیل علیہ السلام مسجد ضرار کی خبر لئے ہوئے آ پہنچے اور منافقین کے اس راز کو ظاہر کر دیا کہ مسجد قبا کے قریب ایک اور مسجد بنانے سے مسلمانوں کی جماعت میں تفریق پیدا کرنے کا مقصد ان کافروں اور منافقوں نے پیش کر رکھا ہے، وہ مسجد قبا ہے جس کی بنیاد اوّل روز سے تقوٰی پر اٹھائی گئی ہے۔ اس علم کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مدینے پہنچنے سے پہلے ہی چند لوگوں کو اس مسجد ضرار کی طرف بھیج دیا کہ اس کو منہدم کر دیا جائے۔
جیسا کہ علی بن ابی طلحہ نے اس آیت کی تفسیر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصار کے لوگ تھے جنہوں نے ایک مسجد بنائی تھی اور ابو عامر نے ان سے کہا کہ تم ایک مسجد بناؤ اور جس قدر بھی تم سے ممکن ہو اس میں ہتھیار جنگ چھپائے رکھو اور اس کو اپنی پناہ اور کمیں گاہ بنائے رہو کیونکہ میں قیصر ملک روم کی طرف جا رہا ہوں، روم سے لشکر لے کر آؤں گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کو مدینہ سے نکال دونگا۔ چنانچہ یہ منافقین جب مسجد ضرار بنا کر فارغ ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدنت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ ہم یہ دلی خواہش رکھتے ہیں کہ ایک بار آپ اس مسجد میں آ کر نماز پڑھ لیں اور اس میں ہمارے لئے برکت کی دعا کریں، تو اللہ عزوجل نے یہ وحی نازل فرما دی «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ، أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَانَهُ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ» [9-التوبة:107-108] تک۔ یعنی ہر گز اس میں نماز نہ پڑھنا یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد اول یوم سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے زیادہ حقدار ہے اس بات کی کہ تم اسی میں نماز پڑھو، اس میں ایسے پاکیزہ لوگ رہتے ہیں کہ پاک دل ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی پاکیزہ دلوں کو پسند کرتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17201:مرسل]
صفحہ نمبر3589
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بھی بالاسناد یہی روایت کی ہے اور محمد بن اسحاق نے بھی بالاسناد یہ روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور مقام ذی اوان میں فروکش ہوئے۔ مدینہ یہاں سے چند گھنٹوں کی مسافت پر ہے۔ تو اس مسجد ضرار کی خبر اللہ کی طرف سے آپ کو مل گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی سالم کے بھائی مالک بن خشم کو بلایا اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عامر بن عدی، غرض ان دونوں کو بلایا اور فرمایا کہ تم دونوں ان ظالموں کی مسجد کی طرف جاؤ اور اس کو منہدم کر دو اور جلا ڈالو۔ یہ دونوں فوراً گئے اور بنی سالم بن عوف کے پاس آئے۔ یہ مالک بن الدخشم کے قبیلہ کے لوگ تھے، اب مالک نے معن سے کہا ٹھہرو! میں اپنے لوگوں میں سے کسی کے پاس سے آگ لے آتا ہوں۔ اب وہ مالک اپنے لوگوں میں آئے۔ درخت کی ایک بڑی سی لکڑی لی اس کو سلگایا اور فوراً نکل کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں مسجد پہنچے، مسجد میں یہ کفار موجود تھے، ان دونوں نے مسجد کو جلا دیا اور اس کو گرا دیا۔ لوگ وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے اور قرآن کی یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی، «وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا» ۔
یہ لوگ جنھوں نے یہ مسجد ضرار بنائی بارہ افراد تھے خذام بن خالد، اسی کے گھر سے مسجد شقاق کی راہ نکلتی ہے، اور ثعلبہ بن حاطب بنی امیہ کے خادم، اور معتب بن قشیر اور ابو حبیبہ بن الازعر، اور عباد بن حنیف، اور حارثہ بن عامر، اور اس کے دونوں بیٹے مجمع اور زید اور نبتل الحارث، اور مخرج اور بجاد بن عثمان، اور ودیعہ بن ثابت، الو ابو لبابہ کے قبیلہ کے خادم، [تفسیر ابن جریر الطبری:17200] وہ لوگ جنہوں نے اس کو بنایا وہ قسمیں کھا کر کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو نیک ارادے سے اس کی بناء ڈالی ہے۔ ہمارے پیش نظر تو صرف لوگوں کی خیر خواہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ «وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی جو انہوں نے قصد کیا اور نیت رکھی ہے، اس میں جھوٹے ہیں۔ محض اس مقصد سے مسجد بنائی ہے کہ مسجد قبا کی ضرر پہنچائیں اور کفر کی اشاعت کریں، مسلمانوں میں تفریق ڈال دیں، اللہ سے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کی خاطر کمین گاہ بنائے رکھیں، جہان ان کے مشورے اور کونسل ہوا کرے، وہ شخص ابو عامر وہ فاسق جس کو راہب سمجھا جاتا ہے، اللہ اس پر لعنت کرے۔
صفحہ نمبر3590
[وَ قَوْلُہُ ] «لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں نماز پڑھنے سے ممانعت فرما دی۔ نماز نہ پڑھنے میں ان کی تابع ان کی امت بھی ہے چنانچہ مسلمانوں کو بھی تاکید ہے کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھیں۔ پھر یہ مسجد قبا میں نماز پڑھنے پر ابھارا مسجد قبا کی بنیاد شروع ہی سے تقویٰ اطاعت اللہ اور اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہیں یہاں مسلمان مل بیٹھتے ہیں دینی مشورے کرتے ہیں اور یہ اسلام اور اہل اسلام کی پناہ کی جگہ ہے اور اسی کے لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «مَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ» اور سیاق عبارت مسجد قبا سے متعلق ہے۔ اس لئے حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد قبا میں نماز پڑھنا ایک عمرہ کے ثواب کے برابر ہے۔ [سنن ترمذي:324، قال الشيخ الألباني:صحیح] صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا کی طرف سوار ہو کر بھی آتے تھے اور پیادہ بھی۔ [صحیح بخاری:1191] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسے بنایا تو آپ کی سب سے پہلے تشریف آواری بن عمرو بن عوف کے پاس تھی اور جہتِ قبلہ جبرائیل علیہ السلام نے معین کی تھی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ابوداؤد نے بالاسناد ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ آیت اہل قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا» [ التوبہ: 108 ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ پانی سے طہارت کرتے تھے، [سنن ابوداود:44، قال الشيخ الألباني:صحیح] چنانچہ ان کی تعریف میں یہ آیت اتری ہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب متذکرہ بالا آیت اتری تو آپ عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ تمھاری وہ کون سی طہارت ہے؟ کہ اللہ عز و جل نے تمھارے لئے جس کی تعریف کی ہے۔
صفحہ نمبر3591
تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے جب کوئی مرد یا عورت حاجت سے فارغ ہوتے ہیں تو پانی سے اپنے اندام نہانی کو اچھی طرح دھو لیتے ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہی بات ہے۔ [طبرانی کبیر:1065:ضعیف] امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں تشریف لائے اور کہا کہ نماز کے لئے تمھاری طہارت کی اللہ پاک نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی ہے سو وہ تمھاری کون سی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو اس کے سوا کوئی علم نہیں کہ یہود ہمارے پڑوسی ہیں اور وہ حاجت سے فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہیں چنانچہ ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کر رکھا ہے۔ [مسند احمد:422/3:حسن لغیرہ]
ابن خزیمہ نے اپنی کتاب حدیث میں لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تمھاری کس طہارت کی تعریف اللہ پاک نے کی ہے؟ تو کہا کہ ہم طہارت کرنے میں پانی استعمال کرتے ہیں۔ ابن جریر نے کہا کہ آیت «فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» [9-التوبة:108] جو اتری ہے وہ حاجت کے بعد پانی سے دھونے والوں کی شان میں ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ [بالاسناد] روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد قبا میں آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھاری طہارت کی بہت اچھی تعریف کی ہے، وہ کیا ہے؟ تو کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو آیت میں پانی سے طہارت کے احکام پائے ہیں۔ [مسند احمد:6/6:ضعیف] [ اس میں ایک راوہ عبداللہ بن سلام تھے جو اہل توریت تھے ] حدیث صحیح میں وارد ہے کہ مدینے کے اندر جو مسجد نبوی ہ یہی وہ مسجد ہے جس کے لئے ہا گیا کہ تقویٰ پر اس کی بنیاد اٹھی ہوئی ہے۔ اور یہ صحیح بات ہے اس آیت اور اس آیت میں کوئی منافات نہیں کیونکہ جب قبا کی تاسیس اول یوم سے بر بنائے تقویٰ ہے تو بدرجہ اولیٰ مسجد نبوی کو یہ خصوصیت حاصل ہونی چاہیے اسی لئے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسجد تقویٰ کا اساس رکھتی ہے وہ میری یہ مسجد ہے۔ [مسند احمد:116/5:صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد ] روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس بارے میں اختلاف کیا کہ اس خصوصیت والی مسجد کونسی ہے؟ تو ایک نے کہا کہ وہ مسجد نبوی ہے اور دوسرے نے کہا کہ وہ مسجد قبا ہے، یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے یہی میری مسجد مراد ہے۔ [مسند احمد:331/5:صحیح]
صفحہ نمبر3592
امام احمد رحمہ اللہ نے پھر [بالاسناد] روایت کی کہ دو آدمی اس خصوصیت والی مسجد کے بارے میں مختلف الرائے تھے ایک مسجد قبا کو اور دوسرا مسجد نبوی کو بتا رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد تقویٰ یہ میری مسجد ہے۔ [مسند احمد:89/3:صحیح] پھر اس کے بعد حدیثیں اسی مضمون کی وارد ہیں، چنانچہ الخراط المدنی نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ تم نے اپنے باپ سے مسجد تقویٰ کے بارے میں کیا سنا ہے؟ تو کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تقویٰ کونسی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر کنکریاں زمین سے اٹھائیں اور انہیں مار کر کہا کہ وہ یہی مسجد ہے۔ اس وقت آپ مسجد کے صحن میں اپنی بیوی کے ایک کمرے میں تشریف فرما تھے۔ [صحیح مسلم:1398:صحیح]
پھر وہ کہتے ہیں کہ اس کو مسلم نے بالاسناد حمید الخراط سے روایت کیا ہے کہ خلف اور سلف کی ایک جماعت اسی بات کی قائل ہے کہ وہ مسجد نبوی ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے بھی یہی روایت ہے کہ «لَمَسْجِدٌ اُسَّسَ» والی آیت پاک اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد قدیمہ میں جن کی اول بنیاد عبادت خاوندی پر اٹھائی گئی ہے نماز پڑھنا مستحب ہے۔ اور اس استحباب کی بھی دلیل ہے کہ جماعت صالحین اور عباد عاملین کے ساتھ نماز پڑھی جائے اور وضو باقاعدہ طور پر مکمل کیا جائے اور نماز میں میلے یا گندے کپڑوں سے بالکل پاک رہا جائے۔ امام احمد رحمہ اللہ نے [بالاسناد] روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی اور اس میں سورۃ روم پڑھی، پڑھنے میں آپ کو کچھ شک سا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس ہوئے تو فرمایا قرآن پڑھنے میں کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے دیکھو تم میں بعض لوگ ایسے ہیں جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن وضو اچھی طرح نہیں کرتے پس جو ہمارے ساتھ نماز پڑھنا چاہے اس کے چاہیے کہ وضو کامل کیا کرے، وضو میں کوئی خرابی نہ کرنے پائے۔ [مسند احمد:472/3:حسن]
صفحہ نمبر3593
ذوالکلاع سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی تھی، یہ چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حسن طہارت قیام فی العبادت میں آسانی پیدا کرتا ہے اور عبادت کی تتمیم و تکمیل میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ابو العالیہ نے قول پاک «وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ» کے بارے میں کہا کہ پانی سے طہارت کرنا تو بیشک بہت اچھی بات ہے لیکن جن کی طہارت کی اللہ تعالیٰ تعریف فرما رہا ہے وہ گناہوں سے اپنے آپ کو پاک رکھنے والے لوگ ہیں۔ اعمش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس طہارت سے مراد گناہوں سے توبہ اور شرک سے پاکیزگی ہے۔ حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل قباء سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تمھاری طہارت کی تعریف کی ہے وہ کیسی طہارت ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔ حافظ ابوبکر بزار رحمہ اللہ نے بالاسناد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں اتری ہے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا تھا تو کہا تھا کہ ہن پہلے ڈھیلے لیتے تھے پھر پانی سے دھوتے تھے۔ [مجمع الزوائد:1053:ضعیف] اس کو بزار نے روایت کیا ہے۔ اس کو صرف محمد بن عبدالعزیز نے اور ان سے ان کے بیٹے نے روایت کیا ہے۔ میں نے یہاں یہ تصریح اس لئے کر دی ہے کہ یہ چیز اگرچہ فقہاء میں مشہور ہے لیکن اکثر متاخرین اس کو معروف تسلین نہیں کرتے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
صفحہ نمبر3594
باب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر رکھی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار اور مسجد کفر بنائی اور مومنین میں تفریق ڈال دی اور اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اس کو جائے پناہ قرار دیا، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے تو اس مسجد ضرار کی بنیاد گویا ایک گڑھے کے ڈھلتے ہوئے کنارے پر رکھی جو اسے جہنم کی آگ میں لے گری۔ اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتا۔ یعنی مفسدین کے عمل کو اصلاح پزیر نہیں بناتا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد ضرار کو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسبِ فرمان جب اس میں آگ لگا دی گئی تو اس میں دھواں نکل رہا تھا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے ایک جگہ گڑھا کھودا تو اس میں سے دھواں نکلتا ہوا پایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17262:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف] ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ «لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ» [9-التوبة:110] یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی «إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ» البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔
صفحہ نمبر3596
باب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد کی بنیاد تقویٰ اور رضائے الہٰی پر رکھی ہے اور وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار اور مسجد کفر بنائی اور مومنین میں تفریق ڈال دی اور اللہ سے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑنے کے لئے اس کو جائے پناہ قرار دیا، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے تو اس مسجد ضرار کی بنیاد گویا ایک گڑھے کے ڈھلتے ہوئے کنارے پر رکھی جو اسے جہنم کی آگ میں لے گری۔ اور حدود سے تجاوز کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نہیں فرماتا۔ یعنی مفسدین کے عمل کو اصلاح پزیر نہیں بناتا۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مسجد ضرار کو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسبِ فرمان جب اس میں آگ لگا دی گئی تو اس میں دھواں نکل رہا تھا۔ ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہوا کہ بعض لوگوں نے ایک جگہ گڑھا کھودا تو اس میں سے دھواں نکلتا ہوا پایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17262:ضعیف]
قتادہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ خلف بن یاسین کوفی کہتے ہیں کہ میں نے منافقین کی اس مسجد کو دیکھا کہ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے، یہ دیکھا کہ اس میں ایک سوراخ ہے جس میں سے دھواں نکل رہا ہے اور آج کے روز وہ جگہ گندگی پھینکنے کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:17264:ضعیف] ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کو روایت کیا، اور قولہ تعالیٰ «لَا يَزَالُ بُنْيَانُهُمُ الَّذِي بَنَوْا رِيبَةً فِي قُلُوبِهِمْ» [9-التوبة:110] یعنی ان کی بنائی ہوئی یہ عمارت تو ہمیشہ ان کے دلوں میں شک و شبہ کی باعث ہی رہے گی اور اس عمل شنیع کا اقدام کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق کا بیج بوتی رہے گی، جیسا کہ گوسالہ پرستوں کے دل میں گوسالہ کی محبت پڑی ہوئی تھی «إِلَّا أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ» البتہ اس صورت میں ان منافقین کی بیخ کنی ہو سکتی ہے جب کہ اس مسجد ہی کو ختم کر کے ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ اللہ اپنے بندوں کے اعمال کو خوب جانتا ہے اور خیر و شر کا بدلہ دینے میں بڑا حکیم ہے۔
صفحہ نمبر3596
مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کر چکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ اسی لیے مجاہدین جب جہاد کے لیے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اسنے اللہ تعالیٰ سے بیوپار کیا۔ یعنی وہ خرید و فروخت جسے وہ پہلے سے کر چکا تھا اس نے پوری کی۔ عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے لیلۃالعقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں شرط منوالیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لیے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا۔ اور اپنے لیے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان و مال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا؟
صفحہ نمبر3598
آپ نے فرمایا جنت! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے، مرتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ایسوں کے لیے یقیناً جنت واجب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لیے، رسولوں کی سچائی مان کر، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کر لی ہے اور اپنے رسولوں پر اپنی بہترین کتابوں میں نازل بھی فرمائی ہے۔ موسیٰ پر اتری ہوئی تورات میں، عیسیٰ پر اتری ہوئی انجیل میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اترے ہوئے قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ نہ اس سے زیادہ سچائی کسی کی باتوں میں ہوتی ہے۔ «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثاً» [ 4-النساء: 87 ] اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات والا اور کون ہوگا «وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلاً» [ 4-النساء: 122 ] اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیادہ سچا ہو۔ «فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ ۚ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [ التوبہ-۱۱۱ ] جس نے اس خرید و فروخت کو پورا کیا اس کے لیے خوشی ہے اور مبارکباد ہے، وہ کامیاب ہے اور جنتوں کی ابدی نعمتوں کا مالک ہے۔
صفحہ نمبر3599
مومنین کی صفات ٭٭
جن مومنوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کی پاک اور بہترین صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ تمام گناہوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں، برائیوں کو چھوڑتے جاتے ہیں، اپنے رب کی عبادت پر جمے رہتے ہیں، ہر قسم کی عبادتوں میں خاص طور پر قابل ذکر چیز اللہ کی حمد و ثنا ہے اس لیے وہ اس کی حمد بکثرت ادا کرتے ہیں اور فعلی عبادتوں میں خصوصیت کے ساتھ افضل عبادت روزہ ہے اس لیے وہ اسے بھی اچھائی سے رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کو، جماع کو ترک کر دیتے ہیں۔ یہی مراد لفظ «سَّائِحُونَ» سے یہاں ہے۔ یہی وصف نبی کریم [ صلی اللہ علیہ وسلم ] کی بیویوں کا قرآن نے بیان فرمایا ہے «سائحات» [ التحريم: 5 ] اور یہی لفظ «سائحات» وہاں بھی ہے۔ رکوع سجود کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نماز کے پابند ہیں۔ اللہ کی ان عبادتوں کے ساتھ ہی ساتھ مخلوق کے نفع سے بھی غافل نہیں۔ اللہ کی اطاعت کا ہر ایک کو حکم کرتے ہیں۔ برائیوں سے روکتے رہتے ہیں۔ خود علم حاصل کر کے بھلائی برائی میں تمیز کر کے اللہ کے احکام کے حفاظت کر کے پھر اوروں کو بھی اس کی رغبت دیتے ہیں۔ حق تعالیٰ کی عبادت اور اس کی مخلوق کی حفاظت دونوں زیر نظر رکھتے ہیں۔ یہی باتیں ایمان کی ہیں اور یہی اوصاف مومنوں کے ہیں۔ انہیں خو شخبریاں ہوں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیاحت سے مراد روزہ لیتے ہیں۔ اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی بلکہ آپ سے مروی ہے کہ قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ آیا ہے وہاں یہی مطلب ہے۔ ضحاک بھی یہی کہتے ہیں۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ اس امت کی سیاحت روزہ ہے۔ مجاہد، سعید، عطاء، عبدالرحمٰن، ضحاک سفیان وغیرہ کہتے ہیں کہ مراد «سَّائِحُونَ» سے «صائمون» ہے۔ یعنی جو روزے رمضان کے رکھیں۔ ابوعمرو کہتے ہیں روزہ پر دوام کرنے والے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے کہ مراد «سَّائِحُونَ» سے روزے دار ہیں لیکن اس حدیث کا موقف ہونا ہی زیادہ صحیح ہے۔
صفحہ نمبر3600
ایک مرسل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس لفظ کا مطلب پوچھا گیا تو آپ نے یہ فرمایا۔ تمام اقوال سے زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور تو یہی قول ہے۔ اور ایسی دلیلیں بھی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ مراد سیاحت سے اللہ کی راہ میں جہاد ہے۔ ابوداؤد میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ مجھے سیاحت کی اجازت دیجئیے۔ آپ نے فرمایا میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مجلس میں سیاحت کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے اپنی راہ کا جہاد اور ہر اونچائی پر اللہ اکبر کہنا عطا فرمایا ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں اور مراد اس سے علم دین کے طالب علم ہیں۔ عبدالرحمٰن فرماتے ہیں اللہ کی راہ کے مہاجر ہیں۔ بعض لوگ صوفیہ طبقہ کے جو اس سے مراد لیتے ہیں کہ زمین کی سیر کرنا، سفر میں رہنا، ادھر ادھر جانا آنا، پہاڑوں، دوروں، جنگلوں اور بندوں میں پھرنا اس کا نام سیاحت ہے، یہ محض غلط فہمی ہے، یہ سیاحت مشروع نہیں۔ ہاں اللہ نہ کرے اگر بستی میں رہنے سے دین میں کوئی فتنہ پڑنے کا اندیشہ ہو تو اور بات ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں قریب ہے کہ مومن کا سب سے بہتر مال بکریاں بن جائیں جن کے پیچھے وہ پہاڑوں کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں میں پڑا رہے، اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگتا اور بچتا رہے۔ اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے یعنی بقول ابن عباس اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہنے والے بقول حسن بصری فرائض کی پابندی کرنے والے، اللہ تعالیٰ کے حکم کے بجا لانے والے۔
صفحہ نمبر3601
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کر سکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابوطالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھر جائے گا؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کر دیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» [ التوبہ: 113 ] اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [ 28- القص: 56 ] بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا؟ فرماتے ہیں میں نے جا کر یہ ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریباً ایک ہزار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر تاب نہ لا سکے، اُٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔
صفحہ نمبر3602
اس پر میری آنکھں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہو گئے آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیئے مجھے ہوا۔
صفحہ نمبر3603
دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہو چکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہو گیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہو جائیے جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے بیزار ہو گئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔
صفحہ نمبر3604
پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کر دی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت ٢۔ زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔ ٣۔ ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔ ٤۔ ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاوروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہو گئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کر دیا اور ایمان لائیں پھر مر گئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے۔ ابن دحیہ کہتے ہی کہ یہ حدیث جھوٹی ہے۔ قرآن اور اجماع دونوں اس بات کو رد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے: «وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ» [ 4-النساء: 18 ] اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دوبار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابوطالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں [ لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں ] واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3605
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» [ 9- التوبہ: 114 ] میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہو گیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» [ 9- التوبہ: 113 ] نازل ہوئی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کا عذر بیان ہوا اور فرمایا «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» [ 9- التوبہ: 114 ] مذکور ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دیدے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اس کے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک یہودی مر گیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیئے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیئے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیئے تھی۔
صفحہ نمبر3606
ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» تلاوت فرمائی کہ ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابوداؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہو سکتی ہے کہ ابوطالب کی موت پر علی رضی اللہ عنہا آ کر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ،» ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ «قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا» [ 19-مريم: 46، 47 ] اس نے [ ان کے والد نے ] کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جا، ابراہیم نے سلام علیک کہا [ اور کہا کہ ] میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مر گیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب ابراہیم علیہ السلام سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہو گا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ ابراہیم علیہ السلام جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
صفحہ نمبر3607
اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہو گئی ہو گی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «أَوَّاهٌ» کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ و زاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں «أَوَّاهٌ» مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَوَّاهٌ» فرمایا۔ [ مسند احمد ] «أَوَّاهٌ» سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ «أَوَّاهٌ» ہے۔ [ ابن جریر ] اسی ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقیناً تو «أَوَّاهٌ» یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں «أَوَّاهٌ» «أَوَّاهٌ» کر رہا تھا
صفحہ نمبر3608
۔ اس کے انتقال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ [ ابن جریر ] یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں «أَوَّاهٌ» یعنی «فقیہ» ۔ امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کر لیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ابراہیم «أَوَّاهٌ» اور حلیم تھے۔
صفحہ نمبر3609
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو ممانعت ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ ابوطالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا «لا الہ الاللہ» کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عزوجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کر سکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابوطالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھر جائے گا؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کر دیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» [ التوبہ: 113 ] اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قریبی رشتہ دار ہی ہوں۔ ان پر تو یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ مشرک جہنمی ہیں۔ اسی بارے میں «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» [ 28- القص: 56 ] بھی اتری ہے۔ یعنی تو جسے محبت کرے اسے راہ نہیں دکھا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے راہ دکھاتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی زبانی اپنے مشرک ماں باپ کے لیے استغفار سن کر اس سے کہا کہ تو مشرکوں کے لیے استغفار کرتا ہے اس نے جواب دیا کہ کیا ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا؟ فرماتے ہیں میں نے جا کر یہ ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ کہا جب کہ وہ مرگیا پھر میں نہیں جانتا یہ قول مجاہد کا ہے۔ مسند احمد میں ہے ہم تقریباً ایک ہزار آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ منزل پر اترے، دو رکعت نماز ادا کی پھر ہماری طرف منہ کر کے بیٹھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر تاب نہ لا سکے، اُٹھ کر عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بات یہ ہے کہ میں نے اپنے رب عزوجل سے اپنی والدہ کے لیے استغفار کرنے کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی۔
صفحہ نمبر3602
اس پر میری آنکھں بھر آئیں کہ میری ماں ہے اور جہنم کی آگ ہے۔ اچھا اور سنو! میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا اب وہ ممانعت ہٹ گئی ہے۔ زیارت قبور سے منع کیا تھا، اب تم کرو کیونکہ اس سے تمہیں بھلائی یاد آئے گی۔ میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت کو روکنے سے منع فرمایا تھا اب تم کھاؤ اور جس طرح چاہو روک رکھو۔ اور میں نے تمہیں بعض خاص برتنوں میں پینے کو منع فرمایا تھا لیکن اب تم جس برتن میں چاہو پی سکتے ہیں لیکن خبردار نشے والی چیز ہرگز نہ پینا۔ ابن جریر میں ہے کہ مکہ شریف آتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نشان قبر کے پاس بیٹھ گئے اور کچھ دیر خطاب کر کے آپ کھڑے ہوئے ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات تھی؟ آپ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے اپنی ماں کی قبر کے دیکھنے کی اجازت مانگی وہ تو مل گئی لیکن اس کے لیے استغفار کرنے کی اجازت مانگی تو نہ ملی۔ اب جو آپ نے رونا شروع کیا تو ہم نے تو آپ کو کبھی ایسا اتنا روتے نہیں دیکھا۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ آپ قبرستان کی طرف نکلے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے۔ وہاں آپ ایک قبر کے پاس بیٹھ کر دیر تک مناجات میں مشغول رہے، پھر رونے لگے۔ ہم بھی خوب روئے پھر کھڑے ہوئے تو ہم سب بھی کھڑے ہو گئے آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اور ہمیں بلا کر فرمایا کہ تم کیسے روئے؟ ہم نے کہا آپ کو روتا دیکھ کر آپ نے فرمایا یہ قبر میری ماں آمنہ کی تھی میں نے اسے دیکھنے کی اجازت چاہی تھی جو مجھے ملی تھی۔ اور روایت میں ہے کہ دعا کی اجازت نہ ملی اور «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» اتری پس جو ماں کی محبت میں صدمہ ہونا چاہیئے مجھے ہوا۔
صفحہ نمبر3603
دیکھو میں نے زیارت قبر کی تمہیں ممانعت کی تھی۔ لیکن اب میں رخصت دیتا ہوں کیونکہ اس سے آخرت یاد آتی ہے۔ طبرانی میں ہے کہ غزوہ تبوک کی واپسی میں عمرے کے وقت ثنیہ عسفان سے اترتے ہوئے آپ نے صحابہ سے فرمایا تم عقبہ میں ٹھہرو، میں ابھی آیا۔ وہاں سے اتر کر آپ اپنی والدہ کی قبر پر گئے۔ اللہ تعالیٰ سے دیر تک مناجات کرتے رہے۔ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کیا آپ کے رونے سے سب لوگ رونے لگے اور یہ سمجھے کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی بات پیدا ہوئی جس سے آپ اس قدر رو رہے ہیں۔ انہیں روتا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور دریافت فرمایا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا آپ کو روتا دیکھ کر اور یہ سمجھ کر کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسا نیا حکم اترا جو طاقت سے باہر ہے۔ آپ نے فرمایا سنو بات یہ ہے کہ یہاں میری ماں کی قبر ہے۔ میں نے اپنے پروردگار سے قیامت کے دن اپنی ماں کی شفاعت کی اجازت طلب کی لیکن اللہ تعالیٰ نے عطا نہیں فرمائی تو میرا دل بھر آیا اور میں رونے لگا۔ جبرائیل آئے اور مجھ سے فرمایا ابراہیم کا استغفار اپنے باپ کے لیے صرف ایک وعدے سے تھا جس کا وعدہ ہو چکا تھا لیکن جب اس پر کھل گیا تو کہ اس کا باپ اللہ کا دشمن ہے توہ وہ فوراً بیزار ہو گیا پس آپ بھی اپنی ماں سے اسی طرح بیزار ہو جائیے جس طرح ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ سے بیزار ہو گئے۔ پس مجھے اپنی ماں پر رحم اور ترس آیا۔
صفحہ نمبر3604
پھر میں نے دعا کی کہ میری امت پر سے چاروں سختیاں دور کر دی جائیں اللہ تعالیٰ نے دو تو دور فرما دیں لیکن دو کے دور فرمانے سے انکار فرما دیا۔ ا۔ آسمان سے پتھر برسا کر ان کی ہلاکت ٢۔ زمین انہیں دھنسا کر ان کی ہلاکت۔ ٣۔ ان میں پھوٹ اور اختلاف کا پڑنا۔ ٤۔ ان میں ایک کو ایک سے ایذائیں پہنچنا۔ ان چاوروں چیزوں سے بچاؤ کی میری دعا تھی دو پہلی چیزیں تو مجھے عنایت ہو گئیں میری امت آسمانی پتھراؤ سے اور زمین میں دھنسائے جانے سے تو بچا دی گئی۔ ہاں آپس کا اختلاف آپس کی سر پھٹول یہ نہیں اٹھی۔ آپ کی والدہ کی قبر ایک ٹیلے تلے تھی اس لیے آپ راستے سے گھوم کر وہاں گئے تھے۔ یہ روایت غریب ہے اور سیاق عجیب ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ غریب اور منکر وہ روایت ہے جو امام خطیب بغدادی نے اپنی کتاب بنام سابق لاحق میں مجہول سند سے وارد کی ہے جس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی والدہ کو زندہ کر دیا اور ایمان لائیں پھر مر گئیں۔ اس طرح کی سہیلی کی ایک روایت ہے جس میں ایک نہیں کئی ایک راوی مجہول ہیں۔ اس میں ہے کہ آپ کے ماں باپ دونوں دوبارہ زندہ ہوئے پھر ایمان لائے۔ ابن دحیہ کہتے ہی کہ یہ حدیث جھوٹی ہے۔ قرآن اور اجماع دونوں اس بات کو رد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے: «وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ» [ 4-النساء: 18 ] اور ان کی توبہ بھی قبول نہیں جو کفر پر ہی مر جائیں ابن دحیہ نے اسی روایت پر نظریں جما کر کہا ہے کہ یہ نئی زندگی اسی طرح کی ہے جس طرح مروی ہے کہ سورج ڈوب جانے کے بعد واپس لوٹا اور علی نے نماز عصر ادا کی۔ طحاوی تو کہتے ہیں کہ سورج والی یہ روایت ثابت ہے۔ قرطبی کہتے ہیں ان کی دوبار کی زندگی شرعاً یا عقلاً ممتنع نہیں۔ کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ آپ کے چچا ابوطالب کو بھی اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اور آپ پر ایمان لایا۔ میں کہتا ہوں اگر صیح روایت سے یہ روایتیں ثابت ہوں تو بیشک مانع کوئی نہیں [ لیکن تینوں روایتیں محض گپ ہیں ] واللہ اعلم۔
صفحہ نمبر3605
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں آپ نے ارادہ کیا کہ اپنی ماں کے لیے استغفار کریں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا۔ تو آپ نے ابراہیم کے استغفار کو پیش کیا۔ اس کا جواب «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» [ 9- التوبہ: 114 ] میں مل گیا۔ فرماتے ہیں اس آیت سے پہلے مشرکین کے لیے استغفار کیا جاتا تھا۔ اب ممنوع ہو گیا۔ ہاں زندوں کے لیے جائز رہا۔ لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمارے بڑوں میں ایسے بھی تھے جو پڑوس کا اکرام کرتے تھے، صلہ رحمی کرتے تھے، غلام آزاد کرتے تھے، ذمہ داری کا خیال رکھتے تھے۔ تو کیا ہم ان کے لیے استغفار نہ کریں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں، میں بھی اپنے والد کے لیے استغفار کرتا ہوں جیسے کہ ابراہیم اپنے والد کے لیے کرتے تھے۔ اس پر «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ» [ 9- التوبہ: 113 ] نازل ہوئی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کا عذر بیان ہوا اور فرمایا «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ» [ 9- التوبہ: 114 ] مذکور ہے کہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے چند باتیں وحی کی ہیں جو میرے کانوں میں گونج رہی ہیں اور میرے دل میں جگہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے حکم فرمایا گیا کہ میں کسی اس شخص کے لیے استغفار نہ کروں جو شرک پر مرا ہو۔ اور یہ کہ جو شخص اپنا فالتو مال دیدے اس کے لیے یہی افضل ہے اور جو روک رکھے اس کے لیے برائی ہے۔ ہاں برابر سرابر حسب ضرورت پر اللہ کے ہاں ملامت نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایک یہودی مر گیا جس کا ایک لڑکا تھا لیکن وہ مسلمان تھا اس لیے اپنے باپ کے جنازے میں وہ شریک نہ ہوا۔ جب عبداللہ بن عباس کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمانے لگے اسے جنازے میں جانا چاہیئے تھا اور دفن میں بھی موجود رہنا چاہیئے تھا اور باپ کی زندگی تک اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنی چاہیئے تھی۔
صفحہ نمبر3606
ہاں موت کے بعد اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیتا۔ پھر آپ نے «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» تلاوت فرمائی کہ ابراہیم نے یہ طریقہ نہیں چھوڑا۔ اس کی صحت کی گواہ ابوداؤد وغیرہ کہ یہ روایت بھی ہو سکتی ہے کہ ابوطالب کی موت پر علی رضی اللہ عنہا آ کر کہتے ہیں کہ یا رسول اللہ آپ کے بوڑھے چچا گمراہ مر گئے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ انہیں دفنا کر سیدھے میرے پاس آؤ الخ۔ مروی ہے کہ جب ابوطالب کا جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا تو آپ نے فرمایا میں تجھ سے صلہ رحمی کا رشتہ نبھا چکا۔ عطا بن ابی رباح فرماتے ہیں میں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے والوں میں سے کسی کے جنازے کی نماز نہ چھوڑوں گا۔ گو وہ کوئی حبشن زنا سے حاملہ ہی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مشرکوں پر ہی نماز و دعا حرام کی ہے اور فرمایا ہے «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ،» ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے سنا کہ وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے جو ابوہریرہ اور اس کی ماں کے لیے استغفار کرے۔ تو اس نے کہا باپ کے لیے بھی۔ آپ نے فرمایا نہیں اس لیے کہ میرا باپ شرک پر مرا ہے۔ آیت میں فرمان الٰہی ہے کہ «قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ آلِهَتِي يَا إِبْرَاهِيمُ ۖ لَئِن لَّمْ تَنتَهِ لَأَرْجُمَنَّكَ ۖ وَاهْجُرْنِي مَلِيًّا قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّهُ كَانَ بِي حَفِيًّا» [ 19-مريم: 46، 47 ] اس نے [ ان کے والد نے ] کہا ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا اور تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جا، ابراہیم نے سلام علیک کہا [ اور کہا کہ ] میں آپ کے لیے اپنے پروردگار سے بخشش مانگوں گا۔ بیشک وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام پر اپنے باپ کا اللہ کا دشمن ہونا کھل گیا۔ یعنی وہ کفر ہی پر مر گیا۔ مروی ہے کہ قیامت کے دن جب ابراہیم علیہ السلام سے ان کا باپ ملے گا۔ نہایت سرا سیمگی پریشانی کی حالت میں چہرہ غبار آلود اور کالا پڑا ہوا ہو گا کہے گا کہ ابراہیم آج میں تیری نافرمانی نہ کروں گا۔ ابراہیم علیہ السلام جناب باری میں عرض کریں گے کہ میرے رب تو نے مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
صفحہ نمبر3607
اور میرا باپ تیری رحمت سے دور ہو کر عذاب میں مبتلا ہو یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس پر فرمایا جائے گا کہ اپنی پیٹھ پیچھے دیکھو۔ دیکھیں گے کہ ایک بجو کیچڑ میں لتھڑا ہوا کھڑا ہے۔ یعنی آپ کے والد کی صورت مسخ ہو گئی ہو گی اور اس کے پاؤں پکڑ کر گھسیٹ کر اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ فرماتا ہے کہ ابراہیم بڑا ہی دعا کرنے والا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے «أَوَّاهٌ» کا مطلب دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا رونے دھونے والا، اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ و زاری کرنے والا۔ ابن مسعود فرماتے ہیں بہت ہی رحم کرنے والا، مخلوق رب کے ساتھ نرمی اور سلوک اور مہربانی کرنے والا۔ ابن عباس کا قول ہے پورے یقین والا۔ سچے ایمان والا، توبہ کرنے والا، حبشی زبان میں «أَوَّاهٌ» مومن اور موقن یقین و ایمان والے کو کہتے ہیں۔ ذوالنجادین نامی ایک صحابی کو اس بنا پر کہ جب قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا تو وہ اسی وقت دعا کے ساتھ آواز اٹھاتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «أَوَّاهٌ» فرمایا۔ [ مسند احمد ] «أَوَّاهٌ» سے مراد تسبیح پڑھنے والا۔ ضحٰی کی نماز پڑھنے والا۔ اپنے گناہوں کی یاد آنے پر استغفار کرنے والا۔ اللہ کے دین کی حفاظت کرنے والا۔ رب سے ڈرنے والا۔ پوشیدہ اگر کوئی گناہ ہو جائے تو توبہ کرنے والا بھی مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر ہوا کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بکثرت یاد کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح بیان کرتا رہتا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ «أَوَّاهٌ» ہے۔ [ ابن جریر ] اسی ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک میت کو دفن کر کے فرمایا یقیناً تو «أَوَّاهٌ» یعنی بکثرت تلاوت کلام اللہ شریف کرنے والا تھا۔ اور روایت میں ہے کہ ایک شخص بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہوئے اپنی دوا میں «أَوَّاهٌ» «أَوَّاهٌ» کر رہا تھا
صفحہ نمبر3608
۔ اس کے انتقال کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے دفن میں شامل تھے چونکہ رات کا وقت تھا اس لیے آپ کے ساتھ چراغ بھی تھا۔ [ ابن جریر ] یہ روایت غریب ہے۔ کعب احبار فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم کے سامنے جہنم کا ذکر ہوتا تھا تو آپ اس سے پناہ مانگا کرتے تھے۔ ابن عباس فرماتے ہیں «أَوَّاهٌ» یعنی «فقیہ» ۔ امام ابن جریر کا فیصلہ یہ ہے کہ سب سے بہتر قول ان تمام اقوال میں یہ ہے کہ مراد اس لفظ سے بکثرت دعا کرنے والا ہے۔ الفاظ کے مناسب بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر یہ فرمایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کے لیے استغفار کیا کرتے تھے اور تھے بھی بکثرت دعا مانگنے والے۔ بردبار بھی تھے، جو آپ پر ظلم کرے، آپ سے برا پیش آئے آپ تحمل کر جایا کرتے تھے۔ باپ نے آپ کو ایذاء دی صاف کہہ دیا تھا کہ تو میرے معبودوں سے منہ پھیر رہا ہے تو اگر اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر مار ڈالوں گا۔ وغیرہ لیکن پھر بھی آپ نے ان کے لیے استغفار کرنے کا وعدہ کر لیا، پس اللہ فرماتا ہے کہ «إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ» ابراہیم «أَوَّاهٌ» اور حلیم تھے۔
صفحہ نمبر3609
معصیت کا تسلسل گمراہی کا بیج ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَىٰ عَلَى الْهُدَىٰ» [ 41-فصلت: 17 ] ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔
صفحہ نمبر3611
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔
صفحہ نمبر3612
وہ پورا باخبر اور سب سے بڑھ کر علم والا ہے۔ پھر مومنین کو مشرکین سے اور ان کے ذی اختیار بادشاہوں سے جہاد کی رغبت دلاتا ہے۔ اور انہیں اپنی مدد پر بھروسہ کرنے کو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کا ملک میں ہی ہوں۔ تم میرے دشمنوں سے مرعوب مت ہونا۔ کون ہے جو ان کا حمایتی بن سکے؟ اور کون ہے جو ان کی مدد پر میرے مقابلے میں آسکتا ہے؟ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے اصحاب کے مجمع میں بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کیا جو میں سنتا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے کان میں کوئی آواز نہیں آ رہی۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کا چرچرانا سن رہا ہوں درحقیقت میں ان کا چرچرانا ٹھیک بھی ہے۔ ان میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں اور قیام میں نہ ہو۔ کعب احبار فرماتے ہیں ساری زمین میں سوئی کے ناکے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو یہاں کا علم اللہ کی طرف نہ پہنچاتا ہو۔ آسمان کے فرشتوں کی گنتی زمین کے سنگریزوں سے بڑی ہے۔ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان کا فاصلہ ایک سو سال کا ہے۔
صفحہ نمبر3613
معصیت کا تسلسل گمراہی کا بیج ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «وَأَمَّا ثَمُودُ فَهَدَيْنَاهُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَىٰ عَلَى الْهُدَىٰ» [ 41-فصلت: 17 ] ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔
صفحہ نمبر3611
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ وہ کریم و عادل اللہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد حجت پوری کئے بغیر گمراہ نہیں کرتا۔ جیسے اور جگہ ہے کہ ثمودیوں کو ہم نے ہدایت دی لیکن انہوں نے بینائی کے باجود اندھے پن کو ترجیح دی۔ اوپر کی آیت کی مناسبت کی وجہ سے مشرکوں کے لیے استغفار نہ کرنے کے بارے میں خاص طور پر اور اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت کے چھوڑنے اور ہر طاعت کے بجا لانے میں عام طور پر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے بیان فرما چکا ہے۔ اب جو چاہے کرے، جو چاہے چھوڑے۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ مومنوں کو مشرک مردوں کے استغفار سے روکے بغیر ہی ان کے اس استغفار کی وجہ سے انہیں اپنے نزدیک گمراہ بنا دے۔ حالانکہ اس سے پیشتر وہ انہیں ایمان کی راہ پر لاچکا ہے۔ پس پہلے اپنی کتاب کے ذریعے انہیں اس سے روک رہا ہے۔ اب جو مان گیا اور اللہ کی ممانعت کے کام سے رک گیا اس پر اس سے پہلے کئے ہوئے کام کی وجہ سے گمراہی لازم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے کہ طاعت و معصیت حکم و ممانعت کے بعد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے مطیع اور عاصی ظاہر نہیں ہوتا۔ پہلے ہی ان چیزوں کو وہ ظاہر فرما دیتا ہے جس سے بچانا چاہتا ہے۔
صفحہ نمبر3612
وہ پورا باخبر اور سب سے بڑھ کر علم والا ہے۔ پھر مومنین کو مشرکین سے اور ان کے ذی اختیار بادشاہوں سے جہاد کی رغبت دلاتا ہے۔ اور انہیں اپنی مدد پر بھروسہ کرنے کو فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کا ملک میں ہی ہوں۔ تم میرے دشمنوں سے مرعوب مت ہونا۔ کون ہے جو ان کا حمایتی بن سکے؟ اور کون ہے جو ان کی مدد پر میرے مقابلے میں آسکتا ہے؟ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اپنے اصحاب کے مجمع میں بیٹھے ہوئے فرمانے لگے کیا جو میں سنتا ہوں تم بھی سن رہے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے کان میں کوئی آواز نہیں آ رہی۔ آپ نے فرمایا میں آسمانوں کا چرچرانا سن رہا ہوں درحقیقت میں ان کا چرچرانا ٹھیک بھی ہے۔ ان میں ایک بالشت بھر جگہ ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ سجدے میں اور قیام میں نہ ہو۔ کعب احبار فرماتے ہیں ساری زمین میں سوئی کے ناکے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں جہاں کوئی نہ کوئی فرشتہ مقرر نہ ہو جو یہاں کا علم اللہ کی طرف نہ پہنچاتا ہو۔ آسمان کے فرشتوں کی گنتی زمین کے سنگریزوں سے بڑی ہے۔ عرش کے اٹھانے والے فرشتوں کے ٹخنے اور پنڈلی کے درمیان کا فاصلہ ایک سو سال کا ہے۔
صفحہ نمبر3613
باب
مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی کمی تھی، راستوں میں پانی نہ تھا۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی۔ پھر تو یہ ہو گیا تھا کہ ایک کھجور ایک جماعت کو ملتی یہ چوس کر اسے دیتا وہ اور کو اور ایک ایک چوس کر پانی پی لیتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت ان پر لازم کر دی اور انہیں واپس لایا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس سختی کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا۔ سخت گرمیوں کے زمانے میں ہم نگلنے کو تھے، ایک منزل میں تو پیاس کے مارے ہماری گردنیں ٹوٹنے لگیں یہاں تک کہ لوگ اپنے اونٹوں کو ذبح کر کے اس کی اوجھڑی نچوڑ کر اس پانی کو پیتے اور پھر اسے اپنے کلیجے سے لگا لیتے اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو ہمیشہ ہی قبول فرمایا ہے۔ اب بھی دعا کیجئے کہ اللہ قبول فرمائے آپ نے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کی اس وقت آسمان پر ابر چھا گیا اور برسنے لگا اور خوب برسا جس کے پاس جتنے برتن تھے سب بھر لیے پھر بارش رک گئی اب جو ہم دیکھتے ہیں تو ہمارے لشکر کے احاطے سے باہر ایک قطرہ بھی کہیں نہیں برسا تھا۔ پس اس جہاد میں جنہوں نے روپے پیسے سے، سواری سے، خوراک سے، سامان رسد اور ہتھیار سے پانی وغیرہ سے غرض کسی طرح بھی مومنوں کی مدد کی تھی، ان کی فضیلت و برتری بیان ہو رہی ہے۔ یہی وہ وقت تھا کہ بعض کے دل پھر جانے کے قریب ہو گئے تھے۔ مشقت شدت اور بھوک پیاس نے دلوں کو ہلا دیا تھا، مسلمان جھنجھوڑ دیئے گئے تھے لیکن رب نے انہیں سنبھال لیا اور اپنی طرف جھکا لیا اور ثابت قدمی عطا فرما کر خود بھی ان پر مہربان ہو گیا، اللہ تعالیٰ جیسی رافعت و رحمت اور کس کی ہے؟ وہ ان پر خوب ہی رحمت و کرم رکھتا ہے۔
صفحہ نمبر3615
باب
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبیداللہ جو آپ کے نابینا ہو جانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کر لے جایا، لے آیا کرتے تھے۔
کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں ”میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے، ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھہر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبری میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہو سکا، اس کے بجائے الحمداللہ میں لیلۃالعقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی۔ اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔
اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے۔ اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کر دیا کہ وہ پوری پوری تیاری کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آ سکے۔ پس کوئی بازپرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔
صفحہ نمبر3616
ہاں اللہ کی وحی آ جائے یہ تو بات ہی اور ہے اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے، سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کر لوں لیکن ادھر ادھر شام ہو جاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں، روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کر لوں گا۔
یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام، صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آ گیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے۔ میں نے کہا خیر چلے گئے اور کئی دن ہو گئے تو کیا ہوا میں تیز چل کر جا ملوں گا؟ لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہو سکا۔ ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا: ”اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔“ یہ سن کر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ یہ درست نہیں فرما رہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔
جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔
صفحہ نمبر3617
یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے شریف کے قریب آگئے تو میرے دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہو گیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔
پس میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔صاف صاف سچ سچ بات کہ دوں گا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسبِ عادت پہلے مسجد میں آئے، دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والےآنے لگے اور عذر معذرت کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی 80 سے کچھ اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد الہٰ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لئے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ نے غصے سے تبسم فرمایا اورر مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیسے رک گئے؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔“
میں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر آج جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہو گیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما دے کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج سچ کی بنا پر اگر آپ مجھ سے بگڑیں تو ہو سکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔“
صفحہ نمبر3618
”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سچ تو یہ ہے کہ واللہ! مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرصت تھی، اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہے تو یہ سچا۔ اچھا تم جاؤ اللہ تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔“
میں کھڑا ہو گیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن تعجب ہے کہ تو نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کر دوں۔ پھر میں نے پوچھا: ”کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے“؟ انہوں نے کہا: ”ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔“ میں نے کہا: ”وہ کون کون ہیں“؟ انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہو گیا اور میں گھر چلا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہو گئے، کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہوں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔
وہ دونوں بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ رہے، باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبعیت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں؟ پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کن انکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کر دیا۔
ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ! انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: ”ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا میں اللہ، رسول سے محبت رکھتا ہوں“؟ اس نے پھر خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کو ذیادہ علم ہے۔“ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت ہی غمگین ہو کر میں پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔
میں بازار جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینہ میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتا دیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔
صفحہ نمبر3619
میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ۔ ہم ہر طرح کی خدمت گزاریوں کے لیے تیار ہیں۔
میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گزر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آ رہا ہے اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا: ”یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں“؟ اس نے کہا: ”نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔“
میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کر دے۔ ہاں سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ”میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کر دیا کروں۔“ آپ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”واللہ! ان میں تو حرکت کی قوت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔“
مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کر لو جتنی سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔
صفحہ نمبر3620
دس دن اس بات پر بھی گزر گئے۔ اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی۔ اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوش ہو جا۔
واللہ! میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آ گئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔
ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آ رہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آ گئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ! اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
صفحہ نمبر3621
مجھے دیکھتے ہی طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ کعب طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔
صفحہ نمبر3622
میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے «لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [ 9-التوبہ: 117 ] سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہو جاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا «سَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ ۖ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» [ 9- التوبة: 95، 96 ] یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کر لو۔ اچھا تم چشم پوشی کر لو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہو گا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہو جاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کر لی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔
صفحہ نمبر3623
اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑ گیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ «وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا» ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ مؤخر کر دینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمداللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہو جاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔
صفحہ نمبر3624
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کر لو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو؟ بقول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سچوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بیرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔
صفحہ نمبر3625
باب
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سیدنا عبیداللہ جو آپ کے نابینا ہو جانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کر لے جایا، لے آیا کرتے تھے۔
کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں ”میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے، ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھہر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبری میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہو سکا، اس کے بجائے الحمداللہ میں لیلۃالعقبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ تھا جب کہ ہم نے اسلام پر موافقت کی تھی۔ اور میرے نزدیک تو یہ چیز بدر سے بھی زیادہ محبوب ہے گو بدر کی شہرت لوگوں میں بہت زیادہ ہے۔
اچھا اب غزوہ تبوک کی غیر حاضری کا واقعہ سنئے۔ اس وقت مجھے جو آسانی اور قوت تھی وہ اس سے پہلے کبھی میسر نہ آئی تھی۔ اس وقت میرے پاس دو اونٹنیاں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے میں جاتے توریہ کرتے یعنی ایسے الفاظ کہتے کہ لوگ صاف مطلب نہ سمجھیں۔ لیکن چونکہ اس وقت موسم سخت گرم تھا، سفر بہت دور دراز کا تھا، دشمن بڑی تعداد میں تھا، پس آپ نے مسلمانوں کے سامنے اپنا مقصد صاف صاف واضح کر دیا کہ وہ پوری پوری تیاری کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت مسلمانوں کی تعداد بھی اتنی زیادہ تھی کہ رجسٹر میں ان کے نام نہ آ سکے۔ پس کوئی بازپرس نہ تھی جو بھی چاہتا کہ میں رک جاؤں وہ رک سکتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا رکنا مخفی رہ سکتا تھا۔
صفحہ نمبر3616
ہاں اللہ کی وحی آ جائے یہ تو بات ہی اور ہے اس لڑائی کے سفر کے وقت پھل پکے ہوئے تھے، سائے بڑھے ہوئے تھے۔ مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیاریوں میں تھے، میری یہ حالت تھی کہ صبح نکلتا تھا کہ سامان تیار کر لوں لیکن ادھر ادھر شام ہو جاتی اور میں خالی ہاتھ گھر لوٹ جاتا۔ اور کہتا کوئی بات نہیں، روپیہ ہاتھ تلے ہے، کل خرید لوں گا اور تیاری کر لوں گا۔
یہاں تک کہ یوں ہی صبح شام، صبح شام آج کل آج کل کرتے کوچ کا دن آ گیا اور لشکر اسلام بجانب تبوک چل پڑا میں نے کہا کوئی بات نہیں ایک دو دن میں میں بھی پہنچتا ہوں۔ یونہی آج کا کام کل پر ڈالا اور کل کا پرسوں پر یہاں تک کہ لشکر دور جا پہنچا۔ گرے پڑے لوگ بھی چل دیئے۔ میں نے کہا خیر چلے گئے اور کئی دن ہو گئے تو کیا ہوا میں تیز چل کر جا ملوں گا؟ لیکن افسوس کہ یہ بھی مجھ سے نہ ہو سکا۔ ارادوں ہی ارادوں میں رہ گیا۔ اب تو یہ حالت تھی میں بازاروں میں نکلتا تو مجھے سوائے منافقوں اور بیمار لولے لنگڑے اندھے مریضوں اور معذور لوگوں کے اور کوئی نظر نہ آتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچ کر مجھے یاد فرمایا کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کیا کیا؟ اس پر بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا: ”اسے تو اچھے کپڑوں اور جسم کی راحت رسانی نے روک رکھا ہے۔“ یہ سن کر سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آپ یہ درست نہیں فرما رہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارا خیال تو کعب کی نسبت بہتر ہی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے۔
جب مجھے معلوم ہوا کہ اب آپ لوٹ رہے ہیں تو میرا جی بہت ہی گھبرایا۔ اور میں حیلے بہانے سوچنے لگا کہ یوں یوں بہانہ بنا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غصے سے نکل جاؤں گا اپنے والوں سے بھی رائے ملا لوں گا۔
صفحہ نمبر3617
یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینے شریف کے قریب آگئے تو میرے دل سے باطل اور جھوٹ بالکل الگ ہو گیا۔ اور میں نے سمجھ لیا کہ جھوٹے حیلے مجھے نجات نہیں دلوا سکے۔ سچ ہی کا آخر بول بالا رہتا ہے۔
پس میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جھوٹ نہیں بولوں گا۔صاف صاف سچ سچ بات کہ دوں گا۔ آپ خیر سے تشریف لائے اور حسبِ عادت پہلے مسجد میں آئے، دو رکعت نماز ادا کی اور وہیں بیٹھے اسی وقت اس جہاد میں شرکت نہ کرنے والےآنے لگے اور عذر معذرت کرنے لگے۔ یہ لوگ اسی 80 سے کچھ اوپر تھے۔ آپ ان کی باتیں سنتے اور اندرونی حالت سپرد الہٰ کر کے ظاہری باتوں کو قبول فرما کر ان کے لئے استغفار کرتے۔ میں بھی حاضر ہوا اور سلام کیا۔ آپ نے غصے سے تبسم فرمایا اورر مجھے اپنے پاس بلایا میں قریب آن کر بیٹھ گیا۔ آپ نے فرمایا: ”تم کیسے رک گئے؟ تم نے سواری بھی خرید لی تھی۔“
میں نے کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ کے سوا کسی اور کے پاس میں بیٹھا ہوتا تو بیسیوں باتیں بنا لیتا۔ بولنے میں اور باتیں بنانے میں میں کسی سے پیچھے نہیں ہوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر آج جھوٹ سچ ملا کر آپ کے غصے سے میں آزاد ہو گیا تو ممکن ہے کل اللہ تعالیٰ آپ کو حقیقت حال سے مطلع فرما دے کر پھر مجھ سے ناراض کر دے۔ اور آج سچ کی بنا پر اگر آپ مجھ سے بگڑیں تو ہو سکتا ہے کہ میری سچائی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے پھر خوش کر دے۔“
صفحہ نمبر3618
”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سچ تو یہ ہے کہ واللہ! مجھے کوئی عذر نہ تھا۔ مجھے اس وقت جو آسانی اور فرصت تھی، اتنی تو کبھی اس سے پہلے میسر بھی نہیں ہوئی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہے تو یہ سچا۔ اچھا تم جاؤ اللہ تمہارے بارے میں جو فیصلہ کرے گا وہی ہو گا۔“
میں کھڑا ہو گیا، بنو سلمہ کے چند شخص بھی میرے ساتھ ہی اٹھے اور ساتھ ہی چلے اور مجھ سے کہنے لگے اس سے پہلے تو تم سے کبھی کوئی اس قسم کی خطا نہیں ہوئی۔ لیکن تعجب ہے کہ تو نے کوئی عذر معذرت پیش نہیں کی جیسے کہ اوروں نے کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم تمہارے لیے استغفار کرتے تو تمہیں یہ کافی تھا۔ الغرض کچھ اس طرح یہ لوگ میرے پیچھے پڑے کہ مجھے خیال آنے لگا کہ پھر واپس جاؤں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی پہلی بات کو جھٹلا کر کوئی حیلہ غلط سلط میں بھی پیش کر دوں۔ پھر میں نے پوچھا: ”کیوں جی کوئی اور بھی میرے جیسا اس معاملے میں اور ہے“؟ انہوں نے کہا: ”ہاں دو شخص اور ہیں اور انہیں بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں ملا ہے۔“ میں نے کہا: ”وہ کون کون ہیں“؟ انہوں نے جواب دیا مرارہ بن ربیع عامری اور حلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دونوں صالح اور نیک بدری صحابیوں کا نام جب میں نے سنا تو مجھے پورا اطمینان ہو گیا اور میں گھر چلا گیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تینوں سے کلام کرنے سے مسلمانوں کو روک دیا تھا۔ لوگ ہم سے الگ ہو گئے، کوئی ہم سے بولتا چالتا نہ تھا یہاں تک کہ مجھے تو اپنا وطن پر دیس معلوم ہونے لگا کہ گویا میں یہاں کی کسی چیز سے واقف ہی نہیں ہوں۔ پچاس راتیں ہم پر اسی طرح گزر گئیں۔
وہ دونوں بدری بزرگ تو تھک ہار کر اپنے اپنے مکانوں میں بیٹھ رہے، باہر اندر آنا جانا بھی انہوں نے چھوڑ دیا۔ میں ذرا زیادہ آنے جانے والا اور تیز طبعیت والا تھا۔ نہ میں نے مسجد جانا چھوڑا، نہ بازاروں میں جانا آنا ترک کیا۔ مجھ سے کوئی بولتا نہ تھا۔ نماز کے بعد جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں لوگوں کے مجمع میں تشریف فرما ہوتے تو میں آتا اور سلام کرتا اور اپنے جی میں کہتا کہ میرے سلام کے جواب میں آپ کے ہونٹ ہلے بھی یا نہیں؟ پھر آپ کے قریب ہی کہیں بیٹھ جاتا اور کن انکھیوں سے آپ کو دیکھتا رہتا۔ جب میں نماز میں ہوتا تو آپ کی نگاہ مجھ پر پڑتی لیکن جہاں میں آپ کی طرف التفات کرتا، آپ میری طرف سے منہ موڑ لیتے۔ آخر اس ترک کلامی کی طویل مدت نے مجھے پریشان کر دیا۔
ایک روز میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار سے کود کر ان کے پاس گیا۔ مجھے ان سے بہت ہی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا لیکن واللہ! انہوں نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: ”ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تجھے اللہ کی قسم کیا تو نہیں جانتا میں اللہ، رسول سے محبت رکھتا ہوں“؟ اس نے پھر خاموشی اختیار کی میں نے دوبارہ انہیں قسم دی اور پوچھا وہ پھر بھی خاموش رہے میں نے سہ بارہ انہیں قسم دے کر یہی سوال کیا اس کے جواب میں بھی وہ خاموش رہے اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کو ذیادہ علم ہے۔“ اب تو میں اپنے دل کو نہ روک سکا۔ میری دونوں آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بہت ہی غمگین ہو کر میں پھر دیوار پر چڑھ کر باہر نکل گیا۔
میں بازار جا رہا تھا کہ میں نے شام کے ایک قبطی کو جو مدینہ میں غلہ بیچنے آیا تھا یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ کوئی مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے اسے میری طرف اشارہ کر کے بتا دیا وہ میرے پاس آیا اور مجھے شاہ غسان کا خط دیا۔
صفحہ نمبر3619
میں لکھا پڑھا تو تھا ہی۔ میں نے پڑھا تو اس میں لکھا تھا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سردار نے تم پر ظلم کیا ہے تم کوئی ایسے گرے پڑے آدمی نہیں ہو تم یہاں دربار میں چلے آؤ۔ ہم ہر طرح کی خدمت گزاریوں کے لیے تیار ہیں۔
میں نے اپنے دل میں سوچا یہ ایک اور مصیبت اور منجانب اللہ آزمائش ہے۔ میں نے تو جا کر چولھے میں اس رقعے کو جلا دیا۔ چالیس راتیں جب گزر چکیں تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد میرے پاس آ رہا ہے اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو۔ میں نے پوچھا: ”یعنی کیا طلاق دے دوں یا کیا کروں“؟ اس نے کہا: ”نہیں طلاق نہ دو لیکن ان سے ملو جلو نہیں۔“
میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی پیغام پہنچا۔ میں نے تو اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ تم اپنے میکے چلی جاؤ اور وہیں رہو جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس امر کا فیصلہ نہ کر دے۔ ہاں سیدنا ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی نے آن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ”میرے خاوند بہت بوڑھے ہیں، کمزور بھی ہیں اور گھر میں کوئی خادم بھی نہیں اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کا کام کاج کر دیا کروں۔“ آپ نے فرمایا: ”اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ تم سے ملیں نہیں۔“ انہوں نے کہا: ”واللہ! ان میں تو حرکت کی قوت ہی نہیں اور جب سے یہ بات پیدا ہوئی ہے تب سے لے کر آج تک ان کے آنسو تھمے ہی نہیں۔“
مجھ سے بھی میرے بعض دوستوں نے کہا کہ تم بھی اتنی اجازت تو حاصل کر لو جتنی سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ کے لیے ملی ہے۔ لیکن میں نے جواب دیا کہ میں اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں کہوں گا۔ اللہ جانے آپ جواب میں کیا ارشاد فرمائیں؟ ظاہر ہے کہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔
صفحہ نمبر3620
دس دن اس بات پر بھی گزر گئے۔ اور ہم سے سلام کلام بند ہونے کی پوری پچاس راتیں گزر چکیں۔ اس پچاسویں رات کو صبح کی نماز میں نے اپنے گھر کی چھت پر ادا کی۔ اور میں دل برداشتہ حیران و پریشان اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ اپنی جان سے تنگ تھا، زمین باوجود اپنی کشادگی کے مجھ پر تنگ تھی کہ میرے کان میں سلع پہاڑی پر سے کسی کی آواز آئی کہ وہ با آواز بلند کہہ رہا تھا کہ اے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خوش ہو جا۔
واللہ! میں اس وقت سجدے میں گڑ پڑا اور سمجھ گیا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے قبولیت توبہ کی کوئی خبر آ گئی۔ بات بھی یہی تھی صبح کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر صحابہ سے بیان فرمائی تھی اور یہ سنتے ہی وہ پیدل اور سوار ہم تینوں کی طرف دوڑ پڑے تھے کہ ہمیں خبر پہنچائیں۔
ایک صاحب تو اپنے گھوڑے پر سوار میری طرف خوشخبری لیے ہوئے آ رہے تھے لیکن اسلم کے ایک صاحب نے دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ کر باآواز بلند میرا نام لے کر مجھے خوشخبری پہنچائی سوار سے پہلے ان کی آواز میرے کان میں آ گئی۔ جب یہ صاحب میرے پاس پہنچے تو میں نے اپنے پہنے ہوئے دونوں کپڑے انہیں بطور انعام دے دیئے واللہ! اس دن میرے پاس اور کچھ بھی نہ تھا۔ دو کپڑے اور ادھار لے کر میں نے پہنے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں جوق در جوق لوگ مجھ سے ملنے لگے اور مجھے میری توبہ کی بشارت مبارکباد دینے لگے۔ کہ کعب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کا تمہاری توبہ کو قبول فرما لینا تمہیں مبارک ہو۔ میں جب مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور دیگر صحابہ بھی حاضر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
صفحہ نمبر3621
مجھے دیکھتے ہی طلحہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور دوڑتے ہوئے آگے بڑھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور مجھے مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے ان کے اور کوئی صاحب کھڑے نہیں ہوئے۔ کعب طلحہ کی اس محبت کو ہمیشہ ہی اپنے دل میں لیے رہے۔ جب میں نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلام کیا، اس وقت آپ کے چہرہ مبارک کی رگیں خوشی سے چمک رہی تھیں۔ آپ نے فرمایا کعب تم پر تمہاری پیدائش سے لے کر آج تک آج جیسا خوشی کا دن کوئی نہیں گزرا۔ میں نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ یہ خوشخبری آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ عزوجل کی جانب سے؟ آپ نے فرمایا نہیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی ہوتی تو آپ کا چہرہ مثل چاند کے ٹکڑے کے چمکنے لگ جاتا تھا اور ہر شخص چہرے مبارک کو دیکھتے ہی پہنچان لیا کرتا تھا۔ میں نے آپ کے پاس بیٹھ کر عرض کیا کہ یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لے تو میرا سب مال اللہ کے نام صدقہ ہے۔ اس کے رسول کے سپرد ہے۔ آپ نے فرمایا تھوڑا بہت مال اپنے پاس رکھ لو، یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا جو حصہ میرا خیبر میں ہے وہ تو میرا رہا باقی للہ خیرات ہے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری نجات کا ذریعہ میرا سچ بولنا ہے میں نے یہ بھی نذر مانی ہے کہ باقی زندگی بھی سوائے سچ کے کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالوں گا۔
صفحہ نمبر3622
میرا ایمان ہے کہ سچ کی وجہ سے جو نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی وہ کسی مسلمان کو نہیں ملی۔ اس وقت سے لے کر آج تک بحمد اللہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اور جو عمر باقی ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ سے مجھے یہی امید ہے۔ اللہ رب العزت نے «لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ» [ 9-التوبہ: 117 ] سے کئی آیتیں تک ہماری توبہ کے بارے نازل فرمائیں۔ اسلام کی نعمت کے بعد مجھ پر اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت یہ بھی ہے کہ میں نے اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی جھوٹ بات نہ کہی جیسے کہ اوروں نے جھوٹی باتیں بنائیں ورنہ میں بھی ان کی طرح ہلاک ہو جاتا۔ ان جھوٹے لوگوں کو کلام اللہ شریف میں بہت ہی برا کہا گیا۔ فرمایا «سَيَحْلِفُونَ بِاللَّـهِ لَكُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ ۖ إِنَّهُمْ رِجْسٌ ۖ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ ۖ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» [ 9- التوبة: 95، 96 ] یعنی تمہارے واپس آنے کے بعد یہ لوگ قسمیں کھا کھا کر چاہتے ہیں کہ تم ان سے چشم پوشی کر لو۔ اچھا تم چشم پوشی کر لو لیکن یاد رہے کہ اللہ کے نزدیک یہ لوگ گندے اور پلید ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ان کے عمل کا بدلہ ہو گا۔ یہ تمہیں رضامند کرنے کے لیے حلف اٹھا رہے ہیں تم گو ان سے راضی ہو جاؤ لیکن ایسے فاسق لوگوں سے اللہ خوش نہیں۔ تم تینوں کے امر ان لوگوں کے امر سے پیچھے ڈال دیا گیا تھا۔ ان کے عذر تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمائے تھے، ان سے دوبارہ بیعت کر لی تھی اور ان کے لیے استغفار بھی کیا تھا۔
صفحہ نمبر3623
اور ہمارا معاملہ تاخیر میں پڑ گیا تھا جس کا فیصلہ خود اللہ تعالیٰ نے فرما دیا۔ اسی لیے آیت کے الفاظ «وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا» ہیں۔ پس اس پیچھے چھوڑ دئیے جانے سے مراد غزوے سے رک جانا نہیں بلکہ ان لوگوں کے جھوٹے عذر کے قبول کئے جانے سے ہمارا معاملہ مؤخر کر دینا ہے۔ یہ حدیث بالکل صحیح ہے بخاری مسلم دونوں میں ہے۔ الحمداللہ اس حدیث میں اس آیت کی پوری اور صحیح تفسیر موجود ہے۔ کہ تینوں بزرگ انصاری تھے رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ایک روایت میں مرارہ بن ربیعہ کے بدلے ربیع بن مرارہ آیا ہے۔ ایک میں ربیع بن مرار یا مرار بن ربیع ہے۔ لیکن صحیح وہی ہے جو بخاری و مسلم میں ہے یعنی مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہ۔ ہاں زہری کی اوپر والی روایت میں جو یہ لفظ ہے کہ وہ دونوں بدری صحابی تھے جو کعب کی طرح چھوڑ دئیے گئے تھے یہ خطا ہے۔ ان تینوں بزرگوں میں سے ایک بھی بدری نہیں واللہ اعلم۔ چونکہ آیت میں ذکر تھا کہ کسی طرح ان بزرگوں نے صحیح سچا واقع کہہ دیا جس سے گو کچھ دنوں تک وہ رنج و غم میں رہے لیکن آخر سلامتی اور ابدی راحت ملی۔ اس کے بعد ہی فرماتا ہے کہ اے مومنو سچ بولا کرو اور سچائی کو لازم پکڑے رہو سچوں میں ہو جاؤ تاکہ ہلاکت سے نجات پاؤ، غم رنجم سے چھوٹ جاؤ۔
صفحہ نمبر3624
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لوگو سچائی کو لازم کر لو، سچ بھلائی کی رہبری کرتا ہے اور بھلائی جنت کی رہبری کرتی ہے۔ انسان کے سچ بولنے اور سچ پر کار بند رہنے سے اللہ کے ہاں صدیق لکھ لیا جاتا ہے۔ جھوٹ سے بچو۔ جھوٹ بولتے رہنے سے اللہ کے ہاں کذاب لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قصداً یا مذاقاً کسی حالت میں بھی جھوٹ انسان کے لائق نہیں۔ کیونکہ اللہ مالک الملک فرماتا ہے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بن جاؤ، پس کیا تم اس میں کسی کے لیے بھی رخصت پاتے ہو؟ بقول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سچوں سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ہیں۔ اگر سچوں کے ساتھ بننا چاہتے ہو تو دنیا میں بیرغبت رہو اور مسلمانوں کو نہ ستاؤ۔
صفحہ نمبر3625
غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو نے والوں کو تنبیہہ ٭٭
ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ تعالیٰ ڈانٹ رہا ہے کہ مدینے والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو مجاہدین کے برابر ثواب والا نہیں سمجھنا چاہیئے۔ وہ اس اجر و ثواب سے محروم رہ گئے جو ان مجاہدین فی سبیل اللہ کو ملا۔
مجاہدین کو ان کی پیاس پر، تکلیف پر بھوک پر، ٹھہرنے اور چلنے پر، ظفر اور غلبے پر، غرض ہر ہر حرکت و سکون پر اللہ کی طرف سے اجر عظیم ملتا رہتا ہے۔ رب کی ذات اس سے پاک ہے کہ کسی نیکی کرنے والے کی محنت برباد کر دے۔ [18-الکھف:30]
صفحہ نمبر3627