Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Maryam
Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 1–30 · Quran text →
دعا اور قبولیت۔اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا۔ موالی کو کسائی نے موالی پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین حضرت عثمان بن عفان سے خفت کو خفت پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا ؑ جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے۔ ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ (وورث سلیمان داود) سلیمان داؤد ؑ کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے۔ حضرت زکریا ؑ اولاد یعقوب ؑ میں تھے۔ ابو صالح ؒ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے۔ حسن ؒ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی ؒ کا قول ہے میری اور آل یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ عبد الرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا ؑ پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے۔ ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کرسکتیں واللہ اعلم۔ اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔
دعا اور قبولیت۔اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا۔ موالی کو کسائی نے موالی پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین حضرت عثمان بن عفان سے خفت کو خفت پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا ؑ جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے۔ ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ (وورث سلیمان داود) سلیمان داؤد ؑ کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے۔ حضرت زکریا ؑ اولاد یعقوب ؑ میں تھے۔ ابو صالح ؒ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے۔ حسن ؒ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی ؒ کا قول ہے میری اور آل یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ عبد الرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا ؑ پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے۔ ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کرسکتیں واللہ اعلم۔ اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔
دعا اور قبولیت۔اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا۔ موالی کو کسائی نے موالی پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین حضرت عثمان بن عفان سے خفت کو خفت پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا ؑ جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے۔ ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ (وورث سلیمان داود) سلیمان داؤد ؑ کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے۔ حضرت زکریا ؑ اولاد یعقوب ؑ میں تھے۔ ابو صالح ؒ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے۔ حسن ؒ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی ؒ کا قول ہے میری اور آل یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ عبد الرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا ؑ پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے۔ ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کرسکتیں واللہ اعلم۔ اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔
دعا اور قبولیت۔اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا۔ موالی کو کسائی نے موالی پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین حضرت عثمان بن عفان سے خفت کو خفت پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا ؑ جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے۔ ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ (وورث سلیمان داود) سلیمان داؤد ؑ کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے۔ حضرت زکریا ؑ اولاد یعقوب ؑ میں تھے۔ ابو صالح ؒ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے۔ حسن ؒ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی ؒ کا قول ہے میری اور آل یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ عبد الرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا ؑ پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے۔ ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کرسکتیں واللہ اعلم۔ اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔
دعا اور قبولیت۔اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا۔ موالی کو کسائی نے موالی پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین حضرت عثمان بن عفان سے خفت کو خفت پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا ؑ جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے۔ ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ (وورث سلیمان داود) سلیمان داؤد ؑ کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے۔ حضرت زکریا ؑ اولاد یعقوب ؑ میں تھے۔ ابو صالح ؒ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے۔ حسن ؒ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی ؒ کا قول ہے میری اور آل یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ عبد الرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا ؑ پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے۔ ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کرسکتیں واللہ اعلم۔ اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔
دعا اور قبولیت۔اس سورت کے شروع میں جو پانچ حروف ہیں انہیں حروف مقطعہ کہا جاتا ہے ان کا تفصیلی بیان ہم سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کرچکے ہیں۔ اللہ کے بندے حضرت زکریا نبی ؑ پر جو لطف الہٰی نازل ہوا اس کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ ایک قرأت ہے۔ یہ لفظ مد سے بھی ہے اور قصر سے بھی۔ دونوں قرأتیں مشہور ہیں۔ آپ بنو اسرائیل کے زبر دست رسول تھے۔ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ بڑھئی کا پیشہ کر کے اپنا پیٹ پالتے تھے۔ رب سے دعا کرتے ہیں لیکن اس وجہ سے کہ لوگوں کے نزدیک یہ انوکھی دعا تھی کوئی سنتا تو خیال کرتا کہ لو بڑھاپے میں اولاد کی چاہت ہوئی ہے۔ اور یہ وجہ بھی تھی کہ پوشیدہ دعا اللہ کو زیادہ پیاری ہوتی ہے اور قبولیت سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ متقی دل کو بخوبی جانتا ہے اور آہستگی کی آواز کو پوری طرح سنتا ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ جو شخص اپنے والوں کی پوری نیند کے وقت اٹھے اور پوشیدگی سے اللہ کو پکارے کہ اے میرے پروردگار اے میرے پالنہار اے میرے رب اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ اسی وقت جواب دیتا ہے کہ لبیک میں موجود ہوں میں تیرے پاس ہوں۔ دعا میں کہتے ہیں کہ اے اللہ میرے قوی کمزور ہوگئے ہیں میری ہڈیاں کھوکھلی ہوچکی ہیں میرے سر کے بالوں کی سیاہی اب تو سفیدی سے بدل گئی ہے یعنی ظاہری اور پوشیدگی کی تمام طاقتیں زائل ہوگئی ہیں اندرونی اور بیرونی ضعف نے گھیر لیا ہے۔ میں تیرے دروازے سے کبھی خالی ہاتھ نہیں گیا تجھ کریم سے جو مانگا تو نے عطا فرمایا۔ موالی کو کسائی نے موالی پڑھا ہے۔ مراد اس سے عصبہ ہیں۔ امیرا لمومنین حضرت عثمان بن عفان سے خفت کو خفت پڑھنا مروی ہے یعنی میرے بعد میرے والے بہت کم ہیں۔ پہلی قرأت پر مطلب یہ ہے کہ چونکہ میری اولاد نہیں اور جو میرے رشتے دار ہیں ان سے خوف ہے کہ مبادہ یہ کہیں میرے بعد کوئی برا تصرف نہ کردیں تو تو مجھے اولاد عنایت فرما جو میرے بعد میری نبوت سنبھالے۔ یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ آپ کو اپنے مال املاک کے ادھر ادھر ہوجانے کا خوف تھا۔ انبیاء (علیہم السلام) اس سے بہت پاک ہیں۔ ان کا مرتبہ اس سے بہت سوا ہے کہ وہ اس لئے اولاد مانگیں کہ اگر اولاد نہ ہوئی تو میرا ورثہ دور کے رشتے داروں میں چلا جائے گا۔ دوسرے بہ ظاہر یہ بھی ہے کہ حضرت زکریا ؑ جو عمر بھر اپنی ہڈیاں پیل کر بڑھئی کا کام کر کے اپنا پیٹ اپنے ہاتھ کے کام سے پالتے رہے ان کے پاس ایسی کون سی بڑی رقم تھی کہ جس کے ورثے کے لئے اس قدر پس وپیش ہوتا کہ کہیں یہ دولت ہاتھ سے نکل نہ جائے۔ انبیاء علہم السلام تو یوں بھی ساری دنیا سے زیادہ مال سے بےرغبت اور دنیا کے زاہد ہوتے ہیں۔ تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ بخاری ومسلم میں کئی سندوں سے حدیث ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ہمارا ورثہ تقسیم نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑیں سب صدقہ ہے۔ ترمذی میں صحیح سند سے مروی ہے کہ ہم اس سے مطلب ورثہ نبوت ہے نہ کہ مالی ورثہ۔ اسی لئے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ (وورث سلیمان داود) سلیمان داؤد ؑ کے وارث ہوئے۔ یعنی نبوت کے وراث ہوئے۔ نہ کہ مال کے ورنہ مال میں اور اولاد بھی شریک ہوتی ہے۔ تخصیص نہیں ہوتی۔ چوتھی وجہ یہ بھی ہے اور یہ بھی معقول وجہ ہے کہ اولاد کا وارث ہونا تو عام ہے، سب میں ہے تمام مذہبوں میں ہے پھر کوئی ضرورت نہ تھی کہ حضرت زکریا اپنی دعا میں یہ وجہ بیان فرماتے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ورثہ کوئی خالص ورثہ تھا اور وہ نبوت کا وارث بننا تھا۔ پس ان تمام وجوہ سے ثابت ہے کہ اس سے مراد ورثہ نبوت ہے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے ہم جماعت انبیاء کا ورثہ نہیں بٹتا ہم جو چھوڑ جائیں صدقہ ہے۔ مجاہد رحمۃ اللہ فرماتے ہیں مراد ورثہ علم ہے۔ حضرت زکریا ؑ اولاد یعقوب ؑ میں تھے۔ ابو صالح ؒ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بھی اپنے بڑوں کی طرح نبی ہے۔ حسن ؒ فرماتے ہیں نبوت اور علم کا وارث بنے۔ سدی ؒ کا قول ہے میری اور آل یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وراث ہو۔ زید بن اسلم بھی یہی فرماتے ہیں ابو صالح کا قول یہ بھی ہے کہ میرے مال کا اور خاندان حضرت یعقوب ؑ کی نبوت کا وہ وارث ہو۔ عبد الرزاق میں حدیث ہے کہ اللہ تعالیٰ زکریا ؑ پر رحم کرے بھلا انہیں وراثت مال سے کیا غرض تھی ؟ اللہ تعالیٰ لوط ؑ پر رحم کرے وہ کسی مضبوط قلعے کی تمنا کرنے لگے۔ ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میرے بھائی زکریا پر اللہ کا رحم ہو کہنے لگے اے اللہ مجھے اپنے پاس سے والی عطا فرما جو میرا اور آل یقوب کا وارث بنے لیکن یہ سب حدیثیں مرسل ہیں جو صحیح احادیث کا معارضہ نہیں کرسکتیں واللہ اعلم۔ اور اے اللہ اسے اپنا پسندیدہ غلام بنالے اور ایسا دین دار دیانتدار بنا کہ تیری محبت کے علاوہ تمام مخلوق بھی اس سے محبت کرے اس کا دین اور اخلاق ہر ایک پسندیدگی اور پیار کی نظر سے دیکھے۔
دعا قبول ہوئی۔حضرت زکریا ؑ کی دعا مقبول ہوتی ہے اور فرمایا جاتا ہے کہ آپ ایک بچے کی خوشخبری سن لیں جس کا نام یحییٰ ہے جیسے اور آیت میں ہے (ھُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ 38) 3۔ آل عمران :38) ، میں حضرت زکریا ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے اللہ مجھے اپنے پاس سے بہتری اولاد عطا فرما تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ فرشتوں نے انہیں آواز دی اور وہ اس وقت کی نماز کی جگہ میں کھڑے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے جو سردار ہوگا اور پاکباز ہوگا اور نبی ہوگا اور پورے نیک کار اعلیٰ درجے کے بھلے لوگوں میں سے ہوگا۔ یہاں فرمایا کہ ان سے پہلے اس نام کا کوئی اور انسان نہیں ہوا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مشابہ کوئی اور نہ ہوگا یہی معنی سمیا کے آیت (هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا 65) 19۔ مریم :65) میں ہے۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ اس سے پہلے کسی بانجھ عورت سے ایسی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت زکریا کے ہاں کوئی اولاد نہیں ہوتی تھی۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی شروع عمر سے بےاولاد تھیں۔ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت سارہ (علیہما السلام) نے بھی بچے کے ہونے کی بشارت سن کر بیحد تعجب کیا تھا لیکن ان کے تعجب کی وجہ ان کا بےاولاد ہونا اور بانجھ ہونا نہ تھی۔ بلکہ بہت زیادہ بڑھاپے میں اولاد کا ہونا یہ تعجب کی وجہ تھی اور حضرت زکریا ؑ کے ہاں تو اس پورے بڑھاپے تک کوئی اولاد ہوئی نہ تھی اس لئے حضرت خلیل اللہ ؑ نے فرمایا تھا کہ مجھے اس انتہائی بڑھاپے میں تم اولاد کی خبر کیسے دے رہے ہو ؟ ورنہ اس سے تیرہ سال پہلے آپ کے ہاں حضرت اسماعیل ؑ ہوئے تھے آپ کی بیوی صاحبہ نے بھی خوشخبری کو سن کر تعجب سے کہا تھا کہ کیا اس بڑھے ہوئے بڑھاپے میں میرے ہاں اولاد ہوگی ؟ ساتھ ہی میرے میاں بھی غایت درجے کے بوڑھے ہیں۔ یہ تو سخت تر تعجب خیز چیز ہے۔ یہ سن کر فرشتوں نے کہا کہ کیا تمہیں امر الہٰی سے تعجب ہے ؟ اے ابراہیم کے گھرانے والو تم پر اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہیں اللہ تعریفوں اور بزرگیوں والا ہے۔
بشارت قبولیت سن کر۔حضرت زکریا ؑ اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی میں بوڑھا اور بیحد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا خشک ٹہنی جیسا ہوگیا ہوں گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہوگئی ہے پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہوگی ؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب وخوشی دریافت کی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور ﷺ ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں ؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو عتیا پڑھتے تھے یا عسیا (احمد) فرشتے نے جواب دیا کہ یہ تو وعدہ ہوچکا اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہوگا اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنادیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔ جسے فرمان ہے (هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا) 76۔ الإنسان :1) یعنی یقینا انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔
بشارت قبولیت سن کر۔حضرت زکریا ؑ اپنی دعا کی قبولیت اور اپنے ہاں لڑکا ہونے کی بشارت سن کر خوشی اور تعجب سے کیفیت دریافت کرنے لگے کہ بظاہر اسباب تو یہ امر مستعد اور ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دونوں جانب سے حالت ناامیدی کی ہے۔ بیوی بانجھ جس سے اب تک اولاد نہیں ہوئی میں بوڑھا اور بیحد بوڑھا جس کی ہڈیوں میں اب تو گودا بھی نہیں رہا خشک ٹہنی جیسا ہوگیا ہوں گھر والی بھی بڑھیا پھوس ہوگئی ہے پھر ہمارے ہاں اولاد کیسے ہوگی ؟ غرض رب العالمین سے کیفیت بوجہ تعجب وخوشی دریافت کی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں تمام سنتوں کو جانتا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہیں ہوا کہ حضور ﷺ ظہر عصر میں پڑھتے تھے یا نہیں ؟ اور نہ یہ معلوم ہے کہ اس لفظ کو عتیا پڑھتے تھے یا عسیا (احمد) فرشتے نے جواب دیا کہ یہ تو وعدہ ہوچکا اسی حالت میں اسی بیوی سے تمہارے ہاں لڑکا ہوگا اللہ کے ذمے یہ کام مشکل نہیں۔ اس سے زیادہ تعجب والا اور اس سے بڑی قدرت والا کام تو تم خود دیکھ چکے ہو اور وہ خود تمہارا وجود ہے جو کچھ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنادیا۔ پس جو تمہاری پیدائش پر قادر تھا وہ تمہارے ہاں اولاد دینے پر بھی قادر ہے۔ جسے فرمان ہے (هَلْ اَتٰى عَلَي الْاِنْسَانِ حِيْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْـــًٔا مَّذْكُوْرًا) 76۔ الإنسان :1) یعنی یقینا انسان پر اس کے زمانے کا ایسا وقت بھی گزرا ہے جس میں وہ کوئی قابل ذکر چیز ہی نہ تھا۔
تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ۔حضرت زکریا ؑ اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لئے ظاہر فرمائی تھی تو ارشاد ہوا کہ تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح استغفار حمد وثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کرسکتے تھے۔ ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ سویا کے معنی پے درپے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے چناچہ سورة آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کرسکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ پس ان تین دن رات میں آپ کسی انسان سے کوئی بات نہیں کرسکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ اپنے حجرے سے جہاں جاکر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ پر انعام کی تھی اور جس تسبیح وذکر کا آپ کو حکم ہوا تھا وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے اس لئے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔
تشفی قلب کے لیے ایک اور مانگ۔حضرت زکریا ؑ اپنے مزیداطمینان اور تشفی قلب کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس بات پر کوئی نشان ظاہر فرما جیسے کہ خلیل اللہ ؑ نے مردوں کے جی اٹھنے کے دیکھنے کی تمنا اسی لئے ظاہر فرمائی تھی تو ارشاد ہوا کہ تو گونگا نہ ہوگا بیمار نہ ہوگا لیکن تیری زبان لوگوں سے باتیں نہ کرسکے گی تین دن رات تک یہی حالت رہے گی۔ یہی ہوا بھی کہ تسبیح استغفار حمد وثنا وغیرہ پر تو زبان چلتی تھی لیکن لوگوں سے بات نہ کرسکتے تھے۔ ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ سویا کے معنی پے درپے کے ہیں یعنی مسلسل برابر تین شبانہ روز تمہاری زبان دنیوی باتوں سے رکی رہے گی۔ پہلا قول بھی آپ ہی سے مروی ہے اور جمہور کی تفسیر بھی یہی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے چناچہ سورة آل عمران میں اس کا بیان بھی گزر چکا ہے کہ علامت طلب کرنے پر فرمان ہوا کہ تین دن تک تم صرف اشاروں کنایوں سے لوگوں سے باتیں کرسکتے ہو۔ ہاں اپنے رب کی یاد بکثرت کرو اور صبح شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔ پس ان تین دن رات میں آپ کسی انسان سے کوئی بات نہیں کرسکتے تھے ہاں اشاروں سے اپنا مطلب سمجھا دیا کرتے تھے لیکن یہ نہیں کہ آپ گونگے ہوگئے ہوں۔ اب آپ اپنے حجرے سے جہاں جاکر تنہائی میں اپنے ہاں اولاد ہونے کی دعا کی تھی باہر آئے اور جو نعمت اللہ نے آپ پر انعام کی تھی اور جس تسبیح وذکر کا آپ کو حکم ہوا تھا وہی قوم کو بھی حکم دیا لیکن چونکہ بول نہ سکتے تھے اس لئے انہیں اشاروں سے سمجھایا یا زمین پر لکھ کر انہیں سمجھا دیا۔
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ حضرت یحییٰ ؑ کا وجود حضرت زکریا ؑ کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے۔ کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے لغت میں محبت شقفت رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت و محبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ اسک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا پس ہر میل کچیل سے ہر گناہ اور معصیت سے آپ بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوتے کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا انہیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے حضرت یحییٰ ؑ کو سلامتی ملی۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے حضرت یحییٰ ؑ کے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔ یہ حدیث مرفوعا اور دوسندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں واللہ اعلم۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں حضرت یحییٰ ؑ سے فرمانے لگے آپ میرے لئے استغفار کیجئے آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت یحییٰ ؑ نے جواب دیا آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا میں نے آپ ہی اپنے اوپر سلام کیا اور آپ پر خود اللہ نے سلام کہا۔ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ حضرت یحییٰ ؑ کا وجود حضرت زکریا ؑ کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے۔ کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے لغت میں محبت شقفت رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت و محبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ اسک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا پس ہر میل کچیل سے ہر گناہ اور معصیت سے آپ بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوتے کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا انہیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے حضرت یحییٰ ؑ کو سلامتی ملی۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے حضرت یحییٰ ؑ کے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔ یہ حدیث مرفوعا اور دوسندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں واللہ اعلم۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں حضرت یحییٰ ؑ سے فرمانے لگے آپ میرے لئے استغفار کیجئے آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت یحییٰ ؑ نے جواب دیا آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا میں نے آپ ہی اپنے اوپر سلام کیا اور آپ پر خود اللہ نے سلام کہا۔ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ حضرت یحییٰ ؑ کا وجود حضرت زکریا ؑ کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے۔ کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے لغت میں محبت شقفت رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت و محبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ اسک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا پس ہر میل کچیل سے ہر گناہ اور معصیت سے آپ بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوتے کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا انہیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے حضرت یحییٰ ؑ کو سلامتی ملی۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے حضرت یحییٰ ؑ کے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔ یہ حدیث مرفوعا اور دوسندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں واللہ اعلم۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں حضرت یحییٰ ؑ سے فرمانے لگے آپ میرے لئے استغفار کیجئے آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت یحییٰ ؑ نے جواب دیا آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا میں نے آپ ہی اپنے اوپر سلام کیا اور آپ پر خود اللہ نے سلام کہا۔ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
پیدائش یحییٰ علیہ السلام۔بمطابق بشارت الہٰی حضرت زکریا ؑ کے ہاں حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات سکھا دی جو ان میں پڑھی جاتی تھی اور جس کا احکام نیک لوگ اور انبیاء دوسروں کو بتلاتے تھے اس وقت ان کی عمر بچپن کی ہی تھی اسی لئے اپنی اس انوکھی نعمت کا بھی ذکر کیا کہ بچہ بھی دیا اور اسے آسمانی کتاب کا عالم بھی بچپن سے ہی کردیا اور حکم دے دیا کہ حرص اجتہاد کوشش اور قوت کے ساتھ کتاب اللہ سیکھ لے۔ ساتھ ہی ہم نے اسے اسی کم عمری میں فہم وعلم، قوت وعزم، دانائی اور حلم عطا فرمایا نیکیوں کی طرف بچپن سے ہی جھک گئے اور کوشش وخلوص کے ساتھ اللہ کی عبادت اور مخلوق کی خدمت میں لگ گئے۔ بچے آپ سے کھیلنے کو کہتے تھے مگر یہ جواب پاتے تھے کہ ہم کھیل کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔ حضرت یحییٰ ؑ کا وجود حضرت زکریا ؑ کے لئے ہماری رحمت کا کرشمہ تھا جس پر بجز ہمارے اور کوئی قادر نہیں حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی مروی ہے۔ کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ حنان کا مطلب کیا ہے لغت میں محبت شقفت رحمت وغیرہ کے معنی میں یہ آتا ہے بہ ظاہر یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اسے بچپن سے ہی حکم دیا اور اسے شفقت و محبت اور پاکیزگی عطا فرمائی۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ اسک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک یا حنان یا منان پکارتا رہے گا پس ہر میل کچیل سے ہر گناہ اور معصیت سے آپ بچے ہوئے تھے۔ صرف نیک اعمال آپ کی عمر کا خلاصہ تھا آپ گناہوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے یکسو تھے ساتھ ہی ماں باپ کے فرمابردار اطاعت گزار اور ان کے ساتھ نیک سلوک تھے کبھی کسی بات میں ماں باپ کی مخالفت نہیں کی کبھی ان کے فرمان سے باہر نہیں ہوتے کبھی ان کی روک کے بعد کسی کام کو نہیں کیا کوئی سرکشی کوئی نافرمانی کی خو آپ میں نہ تھی۔ ان اوصاف جمیلہ اور خصائل حمیدہ کے بدلے تینوں حالتوں میں آپ کو اللہ کی طرف سے امن وامان اور سلامتی ملی۔ یعنی پیدائش والے دن موت والے دن اور حشر والے دن۔ یہی تینوں جگہیں گھبراہٹ کی اور انجان ہوتی ہیں۔ انسان ماں کے پیٹ سے نکلتے ہی ایک نئی دنیا دیکھتا ہے جو اس کی آج تک کی دنیا سے عظیم الشان اور بالکل مختلف ہوتی ہے موت والے دن اس مخلوق سے وابسطہ پڑتا ہے جس سے حیات میں کبھی بھی واسطہ نہیں پڑا انہیں کبھی نہ دیکھا۔ محشروالے دن بھی علی ہذالقیاس اپنے تئیں ایک بہت بڑے مجمع میں جو بالکل نئی چیز ہے دیکھ کر حیرت زدہ ہوجاتا ہے۔ پس ان تینوں وقتوں میں اللہ کی طرف سے حضرت یحییٰ ؑ کو سلامتی ملی۔ ایک مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا تمام لوگ قیامت کے دن کچھ نہ کچھ گناہ لے کر جائیں گے سوائے حضرت یحییٰ ؑ کے۔ حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ آپ نے گناہ بھی کبھی نہیں کیا۔ یہ حدیث مرفوعا اور دوسندوں سے بھی مروی ہے لیکن وہ دونوں سندیں بھی ضغیف ہیں واللہ اعلم۔ حضرت حسن ؒ فرماتے ہیں حضرت یحییٰ ؑ سے فرمانے لگے آپ میرے لئے استغفار کیجئے آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت یحییٰ ؑ نے جواب دیا آپ مجھ سے بہتر ہیں حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا میں نے آپ ہی اپنے اوپر سلام کیا اور آپ پر خود اللہ نے سلام کہا۔ اب ان دونوں نے ہی اللہ کی فضیلت ظاہر کی۔
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورة آل عمران میں بھی اور سورة انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔ حضرت مریم ؑ عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد ؑ کی نسل میں سے تھیں۔ " بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا۔ سورة آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت زہد وتقوی زبان زد عوام ہوگیا۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا ؑ کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ حضرت زکریا ؑ پر حضرت مریم (علیہا السلام) کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصا یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ ؓ بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کردیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ01903ۙ) 26۔ الشعراء :193) میں ہے۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں، کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل ؑ کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے لاحب کی دوسری قرأت لیھب ہے۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں۔ ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔ یہ سن کر مریم صدیقہ ؑ کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی " بغیا " سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے۔ فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے۔ وہ جو چاہے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔ آدم ؑ کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔ پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا۔ مروی ہے کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہوچکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل ؑ کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت ﷺ سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں ہم نے اس میں روح پھونکی تھی۔ اور آیت میں ہے وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرچکا ہے۔
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورة آل عمران میں بھی اور سورة انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔ حضرت مریم ؑ عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد ؑ کی نسل میں سے تھیں۔ " بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا۔ سورة آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت زہد وتقوی زبان زد عوام ہوگیا۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا ؑ کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ حضرت زکریا ؑ پر حضرت مریم (علیہا السلام) کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصا یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ ؓ بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کردیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ01903ۙ) 26۔ الشعراء :193) میں ہے۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں، کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل ؑ کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے لاحب کی دوسری قرأت لیھب ہے۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں۔ ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔ یہ سن کر مریم صدیقہ ؑ کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی " بغیا " سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے۔ فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے۔ وہ جو چاہے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔ آدم ؑ کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔ پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا۔ مروی ہے کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہوچکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل ؑ کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت ﷺ سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں ہم نے اس میں روح پھونکی تھی۔ اور آیت میں ہے وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرچکا ہے۔
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورة آل عمران میں بھی اور سورة انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔ حضرت مریم ؑ عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد ؑ کی نسل میں سے تھیں۔ " بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا۔ سورة آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت زہد وتقوی زبان زد عوام ہوگیا۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا ؑ کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ حضرت زکریا ؑ پر حضرت مریم (علیہا السلام) کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصا یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ ؓ بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کردیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ01903ۙ) 26۔ الشعراء :193) میں ہے۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں، کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل ؑ کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے لاحب کی دوسری قرأت لیھب ہے۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں۔ ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔ یہ سن کر مریم صدیقہ ؑ کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی " بغیا " سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے۔ فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے۔ وہ جو چاہے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔ آدم ؑ کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔ پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا۔ مروی ہے کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہوچکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل ؑ کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت ﷺ سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں ہم نے اس میں روح پھونکی تھی۔ اور آیت میں ہے وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرچکا ہے۔
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورة آل عمران میں بھی اور سورة انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔ حضرت مریم ؑ عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد ؑ کی نسل میں سے تھیں۔ " بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا۔ سورة آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت زہد وتقوی زبان زد عوام ہوگیا۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا ؑ کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ حضرت زکریا ؑ پر حضرت مریم (علیہا السلام) کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصا یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ ؓ بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کردیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ01903ۙ) 26۔ الشعراء :193) میں ہے۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں، کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل ؑ کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے لاحب کی دوسری قرأت لیھب ہے۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں۔ ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔ یہ سن کر مریم صدیقہ ؑ کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی " بغیا " سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے۔ فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے۔ وہ جو چاہے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔ آدم ؑ کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔ پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا۔ مروی ہے کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہوچکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل ؑ کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت ﷺ سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں ہم نے اس میں روح پھونکی تھی۔ اور آیت میں ہے وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرچکا ہے۔
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورة آل عمران میں بھی اور سورة انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔ حضرت مریم ؑ عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد ؑ کی نسل میں سے تھیں۔ " بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا۔ سورة آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت زہد وتقوی زبان زد عوام ہوگیا۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا ؑ کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ حضرت زکریا ؑ پر حضرت مریم (علیہا السلام) کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصا یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ ؓ بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کردیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ01903ۙ) 26۔ الشعراء :193) میں ہے۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں، کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل ؑ کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے لاحب کی دوسری قرأت لیھب ہے۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں۔ ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔ یہ سن کر مریم صدیقہ ؑ کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی " بغیا " سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے۔ فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے۔ وہ جو چاہے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔ آدم ؑ کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔ پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا۔ مروی ہے کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہوچکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل ؑ کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت ﷺ سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں ہم نے اس میں روح پھونکی تھی۔ اور آیت میں ہے وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرچکا ہے۔
ناممکن کو ممکن بنانے پہ قادر اللہ تعالیٰ۔اوپر حضرت زکریا ؑ کا ذکر ہوا تھا اور یہ بیان فرمایا گیا تھا کہ وہ اپنے پورے بڑھاپے تک بےاولاد رہے ان کی بیوی کو کچھ ہوا ہی نہ تھا بلکہ اولاد کی صلاحیت ہی نہ تھی اس پر اللہ نے اس عمر میں ان کے ہاں اپنی قدرت سے اولاد عطا فرمائی حضرت یحییٰ ؑ پیدا ہوئے جو نیک کار اور وفا شعار تھے اس کے بعد اس سے بھی بڑھ کر اپنی قدرت کا نظارہ پیش کرتا ہے۔ حضرت مریم ؑ کا واقعہ بیان کرتا ہے کہ وہ کنواری تھیں۔ کسی مرد کا ہاتھ تک انہیں نہ لگا تھا اور بےمرد کے اللہ تعالیٰ نے محض اپنی قدرت کاملہ سے انہیں اولاد عطا فرمائی حضرت عیسیٰ ؑ جیسا فرزند انہیں دیا جو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر اور روح اللہ اور کلمۃ اللہ تھے۔ پس چونکہ ان دو قصوں میں پوری مناسبت ہے اسی لئے یہاں بھی اور سورة آل عمران میں بھی اور سورة انبیاء میں بھی ان دونوں کو متصل بیان فرمایا۔ تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کی بےمثال قدرت اور عظیم الشان سلطنت کا معائنہ کرلیں۔ حضرت مریم ؑ عمران کی صاحبزادی تھیں حضرت داؤد ؑ کی نسل میں سے تھیں۔ " بنو اسرائیل میں یہ گھرانہ طیب وطاہر تھا۔ سورة آل عمران میں آپ کی پیدائش وغیرہ کا مفصل بیان گزر چکا ہے اس زمانے کے دستور کے مطابق آپ کی والدہ صاحبہ نے آپ کو بیت المقدس کی مسجد اقدس کی خدمت کے لئے دنیوی کاموں سے آزاد کردیا تھا۔ اللہ نے یہ نذر قبول فرما لی اور حضرت مریم کی نشو ونما بہترین طور پر کی اور آپ اللہ کی عبادت میں، ریاضت میں اور نیکیوں میں مشغول ہوگئیں۔ آپ کی عبادت و ریاضت زہد وتقوی زبان زد عوام ہوگیا۔ آپ اپنے خالو حضرت زکریا ؑ کی پرورش و تربیت میں تھیں۔ جو اس وقت کے بنی اسرائیلی نبی تھے۔ تمام بنی اسرائیل دینی امور میں انہی کے تابع فرمان تھے۔ حضرت زکریا ؑ پر حضرت مریم (علیہا السلام) کی بہت سی کرامتیں ظاہر ہوئیں خصوصا یہ کہ جب کبھی آپ ان کے عبادت خانے میں جاتے نئی قسم کے بےموسم پھل وہاں موجودپاتے دریافت کیا کرتے کہ مریم یہ کہاں سے آئے ؟ جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے وہ ایسا قادر ہے کہ جسے چاہے بےحساب روزیاں عطا فرمائے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت مریم کے بطن سے حضرت عیسیٰ ؑ کو پیدا کرے جو منجملہ پانچ اولوالعزم پیغمبروں کے ایک ہیں۔ آپ مسجد قدس کے مشرقی جانب گئیں یا تو بوجہ کپڑے آنے کے یا کسی اور سبب سے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب پر بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہونا اور حج کرنا فرض کیا گیا تھا لیکن چونکہ مریم صدیقہ ؓ بیت المقدس سے مشرق کی طرف گئی تھیں جیسے فرمان الہٰی ہے اس وجہ سے ان لوگوں نے مشرق رخ نمازیں شروع کردیں۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی ولادت گاہ کو انہوں نے از خود قبلہ بنا لیا۔ مروی ہے کہ جس جگہ آپ گئی تھیں، وہ جگہ یہاں سے دور اور بےآباد تھی۔ کہتے ہیں کہ وہاں آپ کا کھیت تھا، جسے پانی پلانے کے لیے آپ گئی تھیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہیں حجرہ بنا لیا تھا کہ لوگوں سے الگ تھلگ عبادت الہٰی میں فراغت کے ساتھ مشغول رہیں۔ واللہ اعلم۔ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش۔جب یہ لوگوں سے دور گئیں اور ان میں اور آپ میں حجاب ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنے امین فرشتے حضرت جبرائیل ؑ کو بھیجا، وہ پوری انسانی شکل میں آپ پر ظاہر ہوئے۔ یہاں روح سے مراد یہی بزرگ فرشتے ہیں۔ جیسے آیت قرآن (نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ01903ۙ) 26۔ الشعراء :193) میں ہے۔ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ روز ازل میں جب کہ ابن آدم کی تمام روحوں سے اللہ کا اقرار لیا گیا تھا۔ اسی روح نے آپ سے باتیں کیں اور آپ کے جسم میں حلول کرگئی۔ لیکن یہ قول علاوہ غریب ہونے کے بالکل ہی منکر ہے بہت ممکن ہے کہ یہ بنی اسرئیلی قول ہو۔ آپ نے جب اس تنہائی کے مکان میں ایک غیر شخص کو دیکھا تو یہ سمجھ کر کہ کہیں یہ کوئی برا آدمی نہ ہو، اسے اللہ کا خوف دلایا کہ اگر تو پرہیزگار ہے تو اللہ کا خوف کر۔ میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں۔ اتنا پتہ تو آپ کو ان کے بشرے سے چل گیا تھا کہ یہ کوئی بھلا انسان ہے۔ اور یہ جانتی تھیں کہ نیک شخص کو اللہ کا ڈر اور خوف کافی ہے۔ فرشتے نے آپ کا خوف وہراس ڈر اور گھبراہٹ دور کرنے کے لئے صاف کہہ دیا کہ اور کوئی گمان نہ کرو میں تو اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ ہوں، کہتے ہیں کہ اللہ کا نام سن کر حضرت جبرائیل ؑ کانپ اٹھے اور اپنی صورت پر آگئے اور کہہ دیا میں اللہ کا قاصد ہوں۔ اس لئے اللہ نے مجھے بھیجا ہے کہ وہ تجھے ایک پاک نفس فرزند عطا کرنا چاہتا ہے لاحب کی دوسری قرأت لیھب ہے۔ ابو عمر و بن علا جو ایک مشہور معروف قاری ہیں۔ ان کی یہی قرأت ہے۔ دونوں قرأتوں کی توجیہ اور مطلب بالکل صاف ہے اور دونوں میں استلزام بھی ہے۔ یہ سن کر مریم صدیقہ ؑ کو اور تعجب ہوا کہ سبحان اللہ مجھے بچہ کیسے ہوگا ؟ میرا تو نکاح ہی نہیں ہوا اور برائی کا مجھے تصور تک نہیں ہوا۔ میرے جسم پر کسی انسان کا کبھی ہاتھ ہی نہیں لگا۔ میں بدکار نہیں پھر میرے ہاں اولاد کیسی " بغیا " سے مراد زنا کار ہے جیسے حدیث میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں ہے کہ مہر البغی زانیہ کی خرچی حرام ہے۔ فرشتے نے آپ کے تعجب کو یہ فرما کر دور کرنا چاہا کہ یہ سب سچ ہے لیکن اللہ اس پر قادر ہے کہ بغیر خاوند کے اور بغیر کسی اور بات کے بھی اولاد دے دے۔ وہ جو چاہے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بچے کو اور اس واقعہ کو اپنے بندوں کی تذکیر کا سبب بنا دے گا۔ یہ قدرت الہٰی کی ایک نشانی ہوگی تاکہ لوگ جان لیں کہ وہ خالق ہر طرح کی پیدائش پر قادر ہے۔ آدم ؑ کو بغیر عورت مرد کے پیدا کیا حوا کو صرف مرد سے بغیر عورت کے پیدا کیا۔ باقی تمام انسانوں کو مرد و عورت سے پیدا کیا سوائے حضرت عیسیٰ ؑ کے کہ وہ بغیر مرد کے صرف عورت سے ہی پیدا ہوئے۔ پس تقیسم کی یہ چار ہی صورتیں ہوسکتی تھیں جو سب پوری کردی گئیں اور اپنی کمال قدرت اور عظیم سلطنت کی مثال قائم کردی۔ فی الواقع نہ اس کے سوا کوئی معبود نہ پروردگار۔ اور یہ بچہ اللہ کی رحمت بنے گا، رب کا پیغمبر بنے گا اللہ کی عبادت کی دعوت اس کی مخلوق کو دے گا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوش خبری سناتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا جو دنیا اور آخرت میں آبرودار ہوگا اور ہوگا بھی اللہ کا مقرب وہ گہوارے میں ہی بولنے لگے گا اور ادھیڑ عمر میں بھی۔ اور صالح لوگوں میں سے ہوگا یعنی بچپن اور بڑھاپے میں اللہ کے دین کی دعوت دے گا۔ مروی ہے کہ حضرت مریم نے فرمایا کہ خلوت اور تنہائی کے موقعہ پر مجھ سے حضرت عیسیٰ ؑ بولتے تھے اور مجمع میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے تھے یہ حال اس وقت کا ہے جب کہ آپ میرے پیٹ میں تھے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ کام علم اللہ میں مقدر اور مقرر ہوچکا ہے وہ اپنی قدرت سے یہ کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ بہت ممکن ہے کہ یہ قول بھی حضرت جبرائیل ؑ کا ہو۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ فرمان الہٰی آنحضرت ﷺ سے ہو۔ اور مراد اس سے روح کا پھونک دینا ہو۔ جیسے فرمان ہے کہ عمران کی بیٹی مریم باعصمت بیوی تھیں ہم نے اس میں روح پھونکی تھی۔ اور آیت میں ہے وہ باعصمت عورت جس میں ہم نے اپنی روح پھونک دی۔ پس اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو ہو کر ہی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ارادہ کرچکا ہے۔
مریم (علیہا السلام) اور حضرت جبرائیل ؑ۔مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ لاکھ اپنی برات پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا (علیہا السلام) کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں۔ آپ نے فرمایا خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا۔ وہ قدرت الہٰی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا اسی وجہ سے حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے اور آپ کے والد نے آپ کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ نے فرشتوں کو حضرت آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ کے لیے مخصوص ہوگئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہوگیا کیونکہ یہ تعظیم الہٰی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی والدہ اکثر حضرت مریم سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کردیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لئے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموما زندہ نہیں رہتا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حمل کے ساتھ ہی بچہ ہوگیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور دردزہ کا ذکر ان آیتوں میں "" کے ساتھ ہے اور "" تعقیب کے لئے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہر چیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ 12 ۚ) 23۔ المؤمنون :12) میں ہوا ہے کہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا پھر نطفے کو پھٹکی بنایا پھر اس پھٹکی کو لو تھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں۔ یہاں بھی دو جگہ "" ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ 63ۚ) 22۔ الحج :63) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ "" یہاں بھی ہے پس تعقیب ہر چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ نے حمل کا زمانہ پورا گزارا مسجد میں ہی۔ مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم (علیہا السلام) کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن حضرت مریم کے زہد وتقوی، عبادت وریاضت، خشیت الہٰی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی، لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے حمل کا اظہار ہوتا گیا اب تو خاموش نہ رہ سکے ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے ؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایاوہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی، سب سے پہلے اللہ نے آدم ؑ کو پیدا کیا وہ بےباپ کے تھے بلکہ بےماں کے بھی ان کی تو سمجھ میں آگیا اور حضرت مریم (علیہا السلام) اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب حضرت صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔ امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے قوم نے پھبتیاں پھینکی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کردیں اور حضرت یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب دردزہ اٹھا تو آپ کجھور کے ایک درخت کی جڑ میں آبیٹھیں کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت لحم تھا۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کی جگہ بھی بیت لحم تھا۔ واللہ اعلم۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا انکے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت واطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی اس قدر شرم وحیا دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہوجاتی کہ نہ کوئی یاد کرے۔ نہ ڈھونڈے، نہ ذکر کرے، احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ01001) 12۔ یوسف :101) ، کی تفسیر بیان کردیا ہے۔
مریم (علیہا السلام) اور حضرت جبرائیل ؑ۔مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ لاکھ اپنی برات پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا (علیہا السلام) کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں۔ آپ نے فرمایا خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا۔ وہ قدرت الہٰی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا اسی وجہ سے حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے اور آپ کے والد نے آپ کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ نے فرشتوں کو حضرت آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ کے لیے مخصوص ہوگئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہوگیا کیونکہ یہ تعظیم الہٰی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی والدہ اکثر حضرت مریم سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کردیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لئے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموما زندہ نہیں رہتا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حمل کے ساتھ ہی بچہ ہوگیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور دردزہ کا ذکر ان آیتوں میں "" کے ساتھ ہے اور "" تعقیب کے لئے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہر چیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ 12 ۚ) 23۔ المؤمنون :12) میں ہوا ہے کہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا پھر نطفے کو پھٹکی بنایا پھر اس پھٹکی کو لو تھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں۔ یہاں بھی دو جگہ "" ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ 63ۚ) 22۔ الحج :63) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ "" یہاں بھی ہے پس تعقیب ہر چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ نے حمل کا زمانہ پورا گزارا مسجد میں ہی۔ مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم (علیہا السلام) کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن حضرت مریم کے زہد وتقوی، عبادت وریاضت، خشیت الہٰی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی، لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے حمل کا اظہار ہوتا گیا اب تو خاموش نہ رہ سکے ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے ؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایاوہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی، سب سے پہلے اللہ نے آدم ؑ کو پیدا کیا وہ بےباپ کے تھے بلکہ بےماں کے بھی ان کی تو سمجھ میں آگیا اور حضرت مریم (علیہا السلام) اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب حضرت صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔ امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے قوم نے پھبتیاں پھینکی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کردیں اور حضرت یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب دردزہ اٹھا تو آپ کجھور کے ایک درخت کی جڑ میں آبیٹھیں کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت لحم تھا۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کی جگہ بھی بیت لحم تھا۔ واللہ اعلم۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا انکے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت واطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی اس قدر شرم وحیا دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہوجاتی کہ نہ کوئی یاد کرے۔ نہ ڈھونڈے، نہ ذکر کرے، احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ01001) 12۔ یوسف :101) ، کی تفسیر بیان کردیا ہے۔
مریم (علیہا السلام) اور معجزات۔(من تحتہا) کی دوسری قرأت من تحتھا بھی ہے یہ خطاب کرنے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برات و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں حضرت جبرائیل ؑ نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ پانی تم پی لو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الہٰی سے کھجوریں جھڑنے لگیں کھانا پینا سب کچھ موجود ہوگیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔ حضرت عمرو بن میمون کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لئے کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کھجور کے درخت کا اکرام کرو یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم ؑ پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نرمادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ نہ ملیں تو خشک ہی سہی کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لئے اس کے نیچے حضرت مریم ؑ کو اتارا یہ حدیث بالکل منکر ہے تساقط کی دوسری قرأت تساقط اور تسقط بھی ہے مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے سمجھا دینا کہ سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس دو شخص آئے۔ ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا آپ نے پوچھا اس کی کیا وجہ ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا آپ نے فرمایا اسے توڑ دے سلام کلام شروع کر یہ تو صرف حضرت مریم (علیہا السلام) کے لئے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت و کرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لئے اسے عذربنا دیا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن زید کہتے ہیں جب حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں تو آپ نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا ؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی ؟ کون سا عذر پیش کرسکوں گی ؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی کاش کہ میں نسیا منسیا ہوگئی ہوتی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں میں آپ ان سب سے نبٹ لوں گا آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔
مریم (علیہا السلام) اور معجزات۔(من تحتہا) کی دوسری قرأت من تحتھا بھی ہے یہ خطاب کرنے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برات و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں حضرت جبرائیل ؑ نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ پانی تم پی لو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الہٰی سے کھجوریں جھڑنے لگیں کھانا پینا سب کچھ موجود ہوگیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔ حضرت عمرو بن میمون کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لئے کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کھجور کے درخت کا اکرام کرو یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم ؑ پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نرمادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ نہ ملیں تو خشک ہی سہی کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لئے اس کے نیچے حضرت مریم ؑ کو اتارا یہ حدیث بالکل منکر ہے تساقط کی دوسری قرأت تساقط اور تسقط بھی ہے مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے سمجھا دینا کہ سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس دو شخص آئے۔ ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا آپ نے پوچھا اس کی کیا وجہ ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا آپ نے فرمایا اسے توڑ دے سلام کلام شروع کر یہ تو صرف حضرت مریم (علیہا السلام) کے لئے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت و کرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لئے اسے عذربنا دیا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن زید کہتے ہیں جب حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں تو آپ نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا ؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی ؟ کون سا عذر پیش کرسکوں گی ؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی کاش کہ میں نسیا منسیا ہوگئی ہوتی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں میں آپ ان سب سے نبٹ لوں گا آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔
مریم (علیہا السلام) اور معجزات۔(من تحتہا) کی دوسری قرأت من تحتھا بھی ہے یہ خطاب کرنے والے حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ حضرت عیسیٰ ؑ کا تو پہلا کلام وہی تھا جو آپ نے اپنی والدہ کی برات و پاکدامنی میں لوگوں کے سامنے کیا تھا۔ اس وادی کے نیچے کے کنارے سے اس گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں حضرت جبرائیل ؑ نے یہ تشفی دی تھی۔ یہ قول بھی کہا گیا ہے کہ یہ بات حضرت عیسیٰ ؑ نے ہی کہی تھی۔ آواز آئی کہ غمگین نہ ہو تیرے قدموں تلے تیرے رب نے صاف شفاف شیریں پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے یہ پانی تم پی لو۔ ایک قول یہ ہے کہ اس چشمے سے مراد خود حضرت عیسیٰ ؑ ہیں۔ لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔ چناچہ اس پانی کے ذکر کے بعد ہی کھانے کا ذکر ہے کہ کھجور کے اس درخت کو ہلاؤ اس میں سے تروتازہ کھجوریں جھڑیں گی وہ کھاؤ۔ کہتے ہیں یہ درخت سوکھا پڑا ہوا تھا اور یہ قول بھی ہے کہ پھل دار تھا۔ بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت وہ درخت کھجوروں سے خالی تھا لیکن آپ کے ہلاتے ہی اس میں سے قدرت الہٰی سے کھجوریں جھڑنے لگیں کھانا پینا سب کچھ موجود ہوگیا اور اجازت بھی دے دی۔ فرمایا کھا پی اور دل کو مسرور رکھ۔ حضرت عمرو بن میمون کا فرمان ہے کہ نفاس والی عورتوں کے لئے کھجوروں سے اور خشک کھجوروں سے بہتر اور کوئی چیز نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کھجور کے درخت کا اکرام کرو یہ اسی مٹی سے پیدا ہوا ہے جس سے آدم ؑ پیدا ہوئے تھے اس کے سوا اور کوئی درخت نرمادہ مل کر نہیں پھلتا۔ عورتوں کو ولادت کے وقت تر کھجوریں کھلاؤ نہ ملیں تو خشک ہی سہی کوئی درخت اس سے بڑھ کر اللہ کے پاس مرتبے والا نہیں۔ اسی لئے اس کے نیچے حضرت مریم ؑ کو اتارا یہ حدیث بالکل منکر ہے تساقط کی دوسری قرأت تساقط اور تسقط بھی ہے مطلب تمام قرأتوں کا ایک ہی ہے پھر ارشاد ہوا کہ کسی سے بات نہ کرنا اشارے سے سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے سمجھا دینا کہ سمجھا دینا کہ میں آج روزے سے ہوں یا تو مراد یہ ہے کہ ان کے روزے میں کلام ممنوع تھا یا یہ کہ میں نے بولنے سے ہی روزہ رکھا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس دو شخص آئے۔ ایک نے تو سلام کیا، دوسرے نے نہ کیا آپ نے پوچھا اس کی کیا وجہ ؟ لوگوں نے کہا اس نے قسم کھائی ہے کہ آج یہ کسی سے بات نہ کرے گا آپ نے فرمایا اسے توڑ دے سلام کلام شروع کر یہ تو صرف حضرت مریم (علیہا السلام) کے لئے ہی تھا کیونکہ اللہ کو آپ کی صداقت و کرامت ثابت کرنا منظور تھی اس لئے اسے عذربنا دیا تھا۔ حضرت عبد الرحمن بن زید کہتے ہیں جب حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں تو آپ نے کہا میں کیسے نہ گھبراؤں خاوند والی میں نہیں، کسی کی ملکیت کی لونڈی باندی میں نہیں مجھے دنیا نہ کہے گی کہ یہ بچہ کیسے ہوا ؟ میں لوگوں کے سامنے کیا جواب دے سکوں گی ؟ کون سا عذر پیش کرسکوں گی ؟ ہاے کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مرگئی ہوتی کاش کہ میں نسیا منسیا ہوگئی ہوتی۔ اس وقت حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا اماں آپ کو کسی سے بولنے کی ضرورت نہیں میں آپ ان سب سے نبٹ لوں گا آپ تو انہیں صرف یہ سمجھا دینا کہ آج سے آپ نے چپ رہنے کی نذر مان لی ہے۔
تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ
تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ
تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ
تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ