John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Maryam

Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہوگی۔ چاروں طرف سے اور خصوصا فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورة واقعہ میں ہے (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ) 56۔ الواقعة :25) وہاں کوئی بیہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجر سلام اور سلامتی کے۔ یہ استثنار منقطع ہے۔ صبح شام پاک طیب عمدہ خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بےمشقت وزحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے نہیں بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے ان کا بخور خوشبودار اگر ہوگا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے، ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہوگی نہ بغض سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہوگا۔ صبح شام تسبیح میں گزریں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں (مسند) پس صبح وشام باعتبار دنیا کے ہے وہاں رات نہیں بلکہ ہر وقت نور کا سماں ہے پردے گرجانے اور دروازے بند ہوجانے سے اہل جنت وقت شام کو اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیے گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی اس لئے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے اس لئے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چناچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ صبح شام کا ٹھیکہ ہے، رزق تو بیشمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں۔ یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے جن کی صفتیں (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ) 23۔ المؤمنون :1) کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لئے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے (اللہ اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)

اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہوگی۔ چاروں طرف سے اور خصوصا فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورة واقعہ میں ہے (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ) 56۔ الواقعة :25) وہاں کوئی بیہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجر سلام اور سلامتی کے۔ یہ استثنار منقطع ہے۔ صبح شام پاک طیب عمدہ خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بےمشقت وزحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے نہیں بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے ان کا بخور خوشبودار اگر ہوگا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے، ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہوگی نہ بغض سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہوگا۔ صبح شام تسبیح میں گزریں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں (مسند) پس صبح وشام باعتبار دنیا کے ہے وہاں رات نہیں بلکہ ہر وقت نور کا سماں ہے پردے گرجانے اور دروازے بند ہوجانے سے اہل جنت وقت شام کو اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیے گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی اس لئے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے اس لئے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چناچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ صبح شام کا ٹھیکہ ہے، رزق تو بیشمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں۔ یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے جن کی صفتیں (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ) 23۔ المؤمنون :1) کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لئے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے (اللہ اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)

اللہ تعالیٰ کے وعدے برحق ہیں۔جن جنتوں میں گناہوں سے توبہ کرنے والے داخل ہوں گے یہ جنتیں ہمیشہ والی ہوں گی جن کا غائبانہ وعدہ ان سے ان کا رب کرچکا ہے ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں لیکن تاہم دیکھنے سے بھی زیادہ انہیں ان پر یقین و ایمان ہے بات بھی یہی ہے کہ اللہ کے وعدے اٹل ہوتے ہیں وہ حقائق ہیں جو سامنے آکر ہی رہیں گے۔ نہ اللہ وعدہ خلافی کرے نہ وعدے کو بدلے یہ لوگ وہاں ضرور پہنچائے جائیں گے اور اسے ضرور پائیں گے۔ ماتیا کے معنی اتیا کے بھی آتے ہیں اور یہ بھی ہے کہ جہاں ہم جائیں وہ ہمارے پاس آہی گیا۔ جیسے کہتے ہیں مجھ پر پچاس سال آئے یا میں پچاس سال کو پہنچا۔ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہوتا ہے۔ ناممکن ہے کہ ان جنتوں میں کوئی لغو اور ناپسندیدہ کلام ان کے کانوں میں پڑے۔ صرف مبارک سلامت کی دھوم ہوگی۔ چاروں طرف سے اور خصوصا فرشتوں کی پاک زبانی یہی مبارک صدائیں کان میں گونجتی رہیں گی۔ جیسے سورة واقعہ میں ہے (لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِيْمًا 25 ۙ) 56۔ الواقعة :25) وہاں کوئی بیہودہ اور خلاف طبع سخن نہ سنیں گے بجر سلام اور سلامتی کے۔ یہ استثنار منقطع ہے۔ صبح شام پاک طیب عمدہ خوش ذائقہ روزیاں بلا تکلف و تکلیف بےمشقت وزحمت چلی آئیں گی۔ لیکن یہ نہ سمجھا جائے کہ جنت میں بھی دن رات ہونگے نہیں بلکہ ان انوار سے ان وقتوں کو جنتی پہچان لیں گے جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں۔ چناچہ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں پہلی جماعت جو جنت میں جائے گی ان کے چہرے چودویں رات کے چاند جیسے روشن اور نورانی ہوں گے۔ نہ وہاں انہیں تھوک آئے گا نہ ناک آئے گی نہ پیشاب پاخانہ۔ ان کے برتن اور فرنیچر سونے کے ہوں گے ان کا بخور خوشبودار اگر ہوگا، ان کے پسینے مشک بو ہوں گے، ہر ایک جنتی مرد کی دو بیویاں تو ایسی ہوں گی کہ ان کے پنڈے کی صفائی سے ان کی پنڈلیوں کی نلی کا گودا تک باہر نظر آئے۔ ان سب جنتوں میں نہ تو کسی کو کسی سے عداوت ہوگی نہ بغض سب ایک دل ہوں گے۔ کوئی اختلاف باہم دیگر نہ ہوگا۔ صبح شام تسبیح میں گزریں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں شہید لوگ اس وقت جنت کی ایک نہر کے کنارے جنت کے دروازے کے پاس سرخ رنگ قبوں میں ہیں۔ صبح شام روزی پہنچائے جاتے ہیں (مسند) پس صبح وشام باعتبار دنیا کے ہے وہاں رات نہیں بلکہ ہر وقت نور کا سماں ہے پردے گرجانے اور دروازے بند ہوجانے سے اہل جنت وقت شام کو اسی طرح پردوں کے ہٹ جانے اور دروازوں کے کھل جانے سے صبح کے وقت کو جان لیے گے۔ ان دروازوں کا کھلنا بند ہونا بھی جنتیوں کے اشاروں اور حکموں پر ہوگا۔ یہ دروازے بھی اس قدر صاف شفاف آئینہ نما ہیں کہ باہر کی چیزیں اندر سے نظر آئیں۔ چونکہ دنیا میں دن رات کی عادت تھی اس لئے جو وقت جب چاہیں گے پائیں گے۔ چونکہ عرب صبح شام ہی کھانا کھانے کے عادی تھے اس لئے جنتی رزق کا وقت بھی وہی بتایا گیا ہے ورنہ جنتی جو چاہیں جب چاہیں موجود پائیں گے۔ چناچہ ایک غریب منکر حدیث میں ہے کہ صبح شام کا ٹھیکہ ہے، رزق تو بیشمار ہر وقت موجود ہے لیکن اللہ کے دوستوں کے پاس ان اوقات میں حوریں آئیں گی جن میں ادنی درجے کی وہ ہوں گی جو صرف زعفران سے پیدا کی گئی ہیں۔ یہ نعمتوں والی جنتیں انہیں ملیں گی جو ظاہر باطن اللہ کے فرمانبردار تھے جو غصہ پی جانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے تھے جن کی صفتیں (قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ ۙ) 23۔ المؤمنون :1) کے شروع میں بیان ہوئی ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ یہی وارث فردوس بریں ہیں جن کے لئے دوامی طور پر جنت الفردوس اللہ نے لکھ دی ہے (اللہ اے اللہ ہمیں بھی تو اپنی رحمت کاملہ سے فردوس بریں میں پہنچا، آمین)

جبرائیل ؑ کی آمد میں تاخیر کیوں ؟ صحیح بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایا آپ جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب پر یہ آیت اتری ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کے آنے میں تاخیر ہوگئی جس سے حضور ﷺ غمگین ہوئے پھر آپ یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ روایت ہے کہ بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے جب آئے تو حضور ﷺ نے کہا اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ پس گو یہ یہ آیت سورة والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میرا شوق تو بہت ہی بےچین کئے ہوئے تھا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی۔ لیکن یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو حضور ﷺ نے رک جانے کی وجہ دریافت کی آپ نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں ؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے فرمایا مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کرلو آج وہ فرشتہ آرہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا۔ ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ کو اپنی یاد سے فرماموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان (وَالضُّحٰى ۙ) 93۔ الضحی :1) قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش۔ ابن ابی حاتم میں ہے آپ فرماتے ہیں جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جو حرام کردیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کرلو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق مالک مدبر متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ اس کے مثیل شبیہ ہم نام پلہ کوئی نہیں۔ وہ بابرکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔

جبرائیل ؑ کی آمد میں تاخیر کیوں ؟ صحیح بخاری شریف میں ہے آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ سے فرمایا آپ جتنا آتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ اس کے جواب پر یہ آیت اتری ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل ؑ کے آنے میں تاخیر ہوگئی جس سے حضور ﷺ غمگین ہوئے پھر آپ یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ روایت ہے کہ بارہ دن یا اس سے کچھ کم تک نہیں آئے تھے جب آئے تو حضور ﷺ نے کہا اتنی تاخیر کیوں ہوئی ؟ مشرکین تو کچھ اور ہی اڑانے لگے تھے اس پر یہ آیت اتری۔ پس گو یہ یہ آیت سورة والضحی کی آیت جیسی ہے۔ کہتے ہیں کہ چالیس دن تک ملاقات نہ ہوئی تھی جب ملاقات ہوئی تو آپ نے فرمایا میرا شوق تو بہت ہی بےچین کئے ہوئے تھا۔ حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا اس سے کسی قدر زیادہ شوق خود مجھے آپ کی ملاقات کا تھا لیکن میں اللہ کے حکم کا مامور اور پابند ہوں وہاں سے جب بھیجا جاؤں تب ہی آسکتا ہوں ورنہ نہیں اسی وقت یہ وحی نازل ہوئی۔ لیکن یہ روایت غریب ہے ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ نے آنے میں دیر لگائی پھر جب آئے تو حضور ﷺ نے رک جانے کی وجہ دریافت کی آپ نے جواب دیا کہ جب لوگ ناخن نہ کتروائیں، انگلیاں اور پوریاں صاف نہ رکھیں، مونچھیں پست نہ کرائیں، مسواک نہ کریں تو ہم کیسے آسکتے ہیں ؟ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے فرمایا مجلس درست اور ٹھیک ٹھاک کرلو آج وہ فرشتہ آرہا ہے جو آج سے پہلے زمین پر کبھی نہیں آیا۔ ہمارے آگے پیچھے کی تمام چیزیں اسی اللہ کی ہیں یعنی دنیا اور آخرت اور اس کے درمیان کی یعنی دونوں نفخوں کے درمیان کی چیزیں بھی اسی کی تملیک کی ہیں۔ آنے والے امور آخرت اور گزر چکے ہوئے امور دنیا اور دنیا آخرت کے درمیان کے امور سب اسی کے قبضے میں ہیں۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں اس نے آپ کو اپنی یاد سے فرماموش نہیں کیا۔ نہ اس کی یہ صفت۔ جیسے فرمان (وَالضُّحٰى ۙ) 93۔ الضحی :1) قسم ہے چاشت کے وقت کی اور رات کی جب وہ ڈھانپ لے نہ تو تیرا رب تجھ سے دستبردار ہے نہ ناخوش۔ ابن ابی حاتم میں ہے آپ فرماتے ہیں جو کچھ اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کردیا وہ حلال ہے اور جو حرام کردیا حرام ہے اور جس سے خاموش رہا وہ عافیت ہے تم اللہ کی عافیت کو قبول کرلو، اللہ کسی چیز کا بھولنے والا نہیں پھر آپ نے یہی جملہ تلاوت فرمایا۔ آسمان و زمین اور ساری مخلوق کا خالق مالک مدبر متصرف وہی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کے کسی حکم کو ٹال سکے۔ تو اسی کی عبادتیں کئے چلا جا اور اسی پر جما رہ اس کے مثیل شبیہ ہم نام پلہ کوئی نہیں۔ وہ بابرکت ہے وہ بلندیوں والا ہے اس کے نام میں تمام خوبیاں ہیں جل جلالہ۔

منکرین قیامت کی سوچ۔بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے۔ یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟ جوابا فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کردیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کا منکر ؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کردینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟ پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے جیسے فرمان ہے (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً 28؀) 45۔ الجاثية :28) ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا۔ جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے (حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ، جب وہاں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو۔

منکرین قیامت کی سوچ۔بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے۔ یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟ جوابا فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کردیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کا منکر ؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کردینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟ پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے جیسے فرمان ہے (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً 28؀) 45۔ الجاثية :28) ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا۔ جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے (حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ، جب وہاں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو۔

منکرین قیامت کی سوچ۔بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے۔ یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟ جوابا فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کردیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کا منکر ؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کردینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟ پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے جیسے فرمان ہے (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً 28؀) 45۔ الجاثية :28) ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا۔ جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے (حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ، جب وہاں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو۔

منکرین قیامت کی سوچ۔بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے۔ یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟ جوابا فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کردیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کا منکر ؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کردینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟ پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے جیسے فرمان ہے (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً 28؀) 45۔ الجاثية :28) ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا۔ جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے (حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ، جب وہاں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو۔

منکرین قیامت کی سوچ۔بعض منکرین قیامت قیامت کا آنا اپنے نزدیک محال سمجھتے تھے اور موت کے بعد جینا ان کے خیال میں ناممکن تھا وہ قیامت کا اور اس کے دن کی دوسری اور نئے سرے کی زندگی کا حال سن کر سخت تعجب کرتے تھے۔ جیسے قرآن کا فرمان ہے (وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ) 13۔ الرعد :5) یعنی اگر تجھے تعجب ہے تو ان کا یہ قول بھی تعجب سے خالی نہیں کہ یہ کیا ہم جب مر کر مٹی ہوجائیں گے پھر ہم نئی پیدائش میں پیدا کئے جائیں گے ؟ سورة یاسین میں فرمایا کیا انسان اسے نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے نطفے سے پیدا کیا، پھر ہم سے صاف صاف جھگڑا کرنے لگا اور ہم پر ہی باتیں بنانے لگا اور اپنی پیدائش کو بھلا کر کہنے لگا کہ ان ہڈیوں کو جو گل گئی ہیں کون زندہ کر دے گا ؟ تو جواب دے کہ انہیں وہ خالق حقیق زندہ کرے گا جس نے انہیں اول بار پیدا کیا تھا وہ ہر ایک اور ہر طرح کی پیدائش سے پورا باخبر ہے۔ یہاں بھی کافروں کے اسی اعتراض کا ذکر ہے کہ ہم مر کر پھر زندہ ہو کر کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں ؟ جوابا فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اسے یہ بھی معلوم کہ وہ کچھ نہ تھا اور ہم نے اسے پیدا کردیا۔ شروع پیدائش کا قائل اور دوسری پیدائش کا منکر ؟ جب کچھ نہ تھا تب تو اللہ اسے کچھ کردینے پر قادر تھا اور اب جب کہ کچھ نہ کچھ ضرور ہوگیا کیا اللہ قادر نہیں کہ اسے پھر سے پیدا کر دے ؟ پس ابتداء آفرنیش دلیل ہے دوبارہ کی پیدائش پر۔ جس نے ابتدا کی ہے وہی اعادہ کرے گا اور اعادہ بہ نسبت ابتدا کے ہمیشہ آسان ہوا کرتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے ابن آدم جھٹلا رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہ تھا مجھے ابن آدم ایذاء دے رہا ہے اور اسے یہ بھی لائق نہیں اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے میری ابتدا کی اعادہ نہ کرے گا حالانکہ ظاہر ہے کہ ابتدا بہ نسبت اعادہ کے مشکل ہوتی ہے اور اس کا مجھے ایذاء دینا یہ ہے کہ کہتا ہے میری اولاد ہے حالانکہ میں احد ہوں صمد ہوں نہ میرے ماں باپ نہ اولاد نہ میری جنس کا کوئی اور۔ مجھے اپنی ہی قسم ہے کہ میں ان سب کو جمع کروں گا اور جن جن شیطانوں کی یہ لوگ میرے سوا عبادت کرتے تھے انہیں بھی میں جمع کروں گا پھر انہیں جہنم کے سامنے لاؤں گا جہاں گھٹنوں کے بل گرے پڑیں گے جیسے فرمان ہے (وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً 28؀) 45۔ الجاثية :28) ہر امت کو تو دیکھے گا کہ گھٹنوں کے بل گری ہوئی ہوگی۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قیام کی حالت میں ان کا حشرہو گا۔ جب تمام اول آخر جمع ہوجائیں گے تو ہم ان میں سے بڑے بڑے مجرموں اور سرکشوں کو الگ کرلیں گے اور ان کے رئیس وامیر اور بدیوں و برائیوں کے پھیلانے والے ان کے پیشوا انہیں شرک وکفر کی تعلیم دینے والے انہیں اللہ کے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے علیحدہ کر لئے جائیں گے۔ جیسے فرمان ہے (حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ڛ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ، جب وہاں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے اگلوں کی بابت کہیں گے کہ اے اللہ انہی لوگوں نے ہمیں بہکا رکھا تھا تو انہیں دگنا عذاب کر الخ۔ پھر خبر کا خبر پر عطف ڈال کر فرماتا ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ سب سے زیادہ عذابوں کا اور دائمی عذابوں کا اور جہنم کی آگ کا سزاوار کون کون ہے ؟ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ فرمائے گا (لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ 38؀) 7۔ الاعراف :38) ہر ایک لئے دوہرا عذاب ہے لیکن تم علم سے کورے ہو۔

جہنم میں دخول یا ورود ؟ مسند امام احمد بن حنبل کی ایک قریب حدیث میں ہے ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے اس بارے میں اختلاف ہوا کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقوے کے نجات پاجائیں گے۔ میں نے حضرت جابر ؓ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وارد تو سب ہوں گے۔ اور روایت میں ہے کہ داخل تو سب ہوں کے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ ؑ پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہوجائے گا۔ خالد بن معدان ؒ فرماتے ہیں کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے کہیں گے اللہ نے تو فرمایا تھا کہ ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے اور ہمارا ورود تو ہوا ہی نہیں تو ان سے فرمایا جائے گا کہ تم وہیں سے گزر کر تو آرہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگ کو ٹھنڈی کردیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ ایک بار اپنی بیوی صاحبہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی رونے لگیں تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کیوں روئیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو روتا دیکھ کر۔ آپ نے فرمایا مجھے تو آیت (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ) 19۔ مریم :71) ، یاد آگئی اور رونا آگیا۔ مجھے کیا معلوم کہ میں نجات پاؤں گا نہیں ؟ اس وقت آپ بیمار تھے۔ حضرت ابو میسرہ ؒ جب رات کو اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتے تو رونے لگتے اور زبان سے بےساختہ نکل جاتا کہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے دھونے کی وجہ کیا ہے ؟ تو فرمایا یہی آیت ہے۔ یہ تو ثابت ہے کہ وہاں جانا ہوگا اور یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں ؟ ایک بزرگ شخص نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ہمیں جہنم پر سے گزرنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں یقینا معلوم ہے۔ پھر پوچھا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں سے پار ہوجاؤ گے ؟ انہوں نے فرمایا اس کا کوئی علم نہیں پھر فرمایا ہمارے لئے ہنسی خوشی کیسی ؟ یہ سن کر اس وقت سے لے کر موت کی گھڑی تک ان کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں آئی۔ نافع بن ارزق حضرت ابن عباس ؓ کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے تو آپ نے دلیل میں آیت قرآن (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) پیش کر کے فرمایا دیکھو یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے یا نہیں ؟ پھر آپ نے دوسری آیت تلاوت فرمائی (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ 98؀) 11۔ ھود :98) اور فرمایا بتاؤ فرعون اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا یا نہیں ؟ پس اب غور کرو کہ ہم اس میں داخل تو ضرور ہوں گے اب نکلیں گے بھی یا نہیں ؟ غالبا تجھے تو اللہ نہ نکالے گا اس لئے کہ تو اس کا منکر ہے یہ سن کر نافع کھسیانہ ہو کر ہنس دیا۔ یہ نافع خارجی تھا اس کی کنیت ابو راشد تھی۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے سمجھاتے ہوئے آیت (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86؀ۘ) 19۔ مریم :86) بھی پڑھی تھی۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ پہلے بزرگ لوگوں کی ایک دعا یہ بھی تھی کہ اللہم اخرجنی من النار سالمنا وادخلنی الجنۃ غانما اے اللہ مجھے جہنم سے صحیح سالم نکال لے اور جنت میں ہنسی خوشی پہنچا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ابو داؤد طیالسی میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کے مخاطب کفار ہیں۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں یہ ظالم لوگ ہیں اسی طرح ہم اس آیت کو پڑھتے تھے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نیک بد سب وارد ہوں گے۔ دیکھو فرعون اور اس کی قوم کے لئے اور گہنگاروں کے لئے بھی ورود کا لفظ دخول کے معنی میں خود قرآن کریم کی دو آیتوں میں وارد ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وارد تو سب ہوں گے پھر گزر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے اب بعض تو بجلی کی طرح گزر جائیں گے، بعض ہوا کی طرح، بعض پرندوں کی طرح، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح، بعض تیز چال والے پیدل انسان کی طرح یہاں تک کہ سب سے آخر جو مسلمان اس سے پار ہوگا یہ وہ ہوگا جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پرنور ہوگا گرتا پڑتا نجات پائے گا۔ پل صراط پھسلنی چیز ہے جس پر ببول جیسے اور گو گھرو جیسے کانٹے ہیں دونوں طرف فرشتوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں جہنم کے ٹکٹ ہوں گے جن سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے الخ۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا۔ پہلا گروہ تو بجلی کی طرح آن کی آن میں پار ہوجائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح جائے گا، تیسرا تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، چوتھا تیز رفتار جانور کی طرح۔ فرشتے ہر طرف سے دعائیں کر رہے ہونگے کہ اسے اللہ سلامت رکھ الہٰی بچا لے بخاری ومسلم کی بہت سی مرفوع احادیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ حضرت کعب ؒ کا بیان ہے کہ جہنم اپنی پیٹھ پر تمام لوگوں کو جما لے گی۔ جب سب نیک وبد جمع ہوجائیں گے تو حکم باری ہوگا کہ اپنے والوں کو تو پکڑ لے اور جنتیوں کو چھوڑ دے۔ اب جہنم سب برے لوگوں کا نوالہ کر جائے گی۔ وہ برے لوگوں کو اس طرح جانتی پہچانتی ہے جس طرح تم اپنی اولاد کو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ مومن صاف بچ جائیں گے۔ سنو جہنم کے داروغوں کے قد ایک سو سال کی راہ کے ہیں ان میں سے ہر ایک کے پاس گرز ہیں ایک مارتے ہیں تو سات لاکھ آدمیوں کا چورا ہوجاتا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اپنے رب کی ذات پاک سے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ کے جہاد میں جو ایمان دار شریک تھے ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا یہ سن کر حضرت حفصہ ؓ نے کہا یہ کیسے ؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے، تو آپ نے اس کے بعد کی دوسری آیت پڑھ دی کہ متقی لوگ اس سے نجات پاجائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں رہ جائیں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جس کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں اسے آگ نہ چھوئے گی مگر صرف قسم پوری ہونے کے طور پر۔ اس سے مراد یہی آیت ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی ؓ کو بخار چڑھا ہوا تھا جس کی عیادت کے لئے رسول مقبول ﷺ ہمارے ساتھ تشریف لے چلے آپ نے فرمایا کہ جناب باری عزوجل کا فرمان ہے کہ یہ بخار بھی ایک آگ ہے میں اپنے مومن بندوں کو اس میں اس لئے مبتلا کرتا ہوں کہ یہ جہنم کی آگ کا بدلہ ہوجائے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت مجاہد ؒ نے بھی یہی فرمایا کر پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة قل ہو اللہ احد دس مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا پھر تو ہم بہت سے محل بنالیں گے آپ نے جواب دیا اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں وہ بہتر سے بہتر اور بہت سے بہت دینے والا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں لکھ لے گا۔ فی الواقع ان کا ساتھ بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہے۔ اور جو شخص کسی تنخواہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی خوشی کے لئے مسلمان لشکروں کی، ان کی پشت کی طرف سے حفاظت کرنے کے لئے پہرہ دے وہ اپنی آنکھ سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری کرنے کے لئے، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بھی سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے اور روایت میں ہے سات ہزار گنا۔ ابو داؤد میں ہے کہ نماز روزہ اور ذکر اللہ، اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا درجہ رکھتے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس آیت سے گزرنا ہے۔ عبدالرحمن کہتے ہیں مسلمان تو پل صراط سے گزر جائیں گے اور مشرک جہنم میں جائیں گے حضور ﷺ نے فرمایا اس دن بہت سے مرد عورت اس پر سے پھسل جائیں گے۔ پل صراط پر جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہوجائیں گے، ہاں کافر گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی۔ پھر نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے۔ ملائیکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء بھی۔ پھر بہت سے لوگ تو جہنم میں سے اس حالت میں سے نکلیں گے کہ آگ انہیں کھا چکی ہوگی مگر چہرے کی سجدہ کی جگہ بچی ہوئی ہوگی۔ پھر اپنے اپنے باقی ایمان کے حساب سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ جن کے دلوں میں بقدر دینار کے ایمان ہوگا وہ اول نکلیں گے، پھر اس سے کم والے، یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان والے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے بھی کمی والے، پھر وہ جس نے اپنی پوری عمر میں لا الہ الا اللہ کہہ دیا ہو گو کچھ بھی نیکی نہ کی ہو پھر تو جہنم میں وہی رہ جائیں گے جن پر ہمیشہ اور دوام لکھا جا چکا ہے۔ یہ تمام خلاصہ ہے ان احادیث کا جو صحت کے ساتھ آچکی ہیں۔ پس پل صراط پر جانے کے بعد نیک لوگ پار ہوجائیں گے اور بد لوگ کٹ کٹ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔

جہنم میں دخول یا ورود ؟ مسند امام احمد بن حنبل کی ایک قریب حدیث میں ہے ابو سمیہ فرماتے ہیں جس ورود کا اس آیت میں ذکر ہے اس بارے میں اختلاف ہوا کوئی کہتا تھا مومن اس میں داخل نہ ہوں گے، کوئی کہتا تھا داخل تو ہوں گے لیکن پھر بہ سبب اپنے تقوے کے نجات پاجائیں گے۔ میں نے حضرت جابر ؓ سے مل کر اس بات کو دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وارد تو سب ہوں گے۔ اور روایت میں ہے کہ داخل تو سب ہوں کے ہر ایک نیک بھی اور ہر ایک بد بھی لیکن مومنوں پر وہ آگ ٹھنڈی اور سلامتی بن جائے گی جیسے ابراہیم خلیل اللہ ؑ پر تھی یہاں تک کہ اس ٹھنڈک کی شکایت خود آگ کرنے لگے گی پھر ان متقی لوگوں کا وہاں سے چھٹکارا ہوجائے گا۔ خالد بن معدان ؒ فرماتے ہیں کہ جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے کہیں گے اللہ نے تو فرمایا تھا کہ ہر ایک جہنم پروارد ہونے والا ہے اور ہمارا ورود تو ہوا ہی نہیں تو ان سے فرمایا جائے گا کہ تم وہیں سے گزر کر تو آرہے ہو لیکن اللہ تعالیٰ نے اس وقت آگ کو ٹھنڈی کردیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ ایک بار اپنی بیوی صاحبہ کے گھٹنے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے تھے کہ رونے لگے۔ آپ کی اہلیہ صاحبہ بھی رونے لگیں تو آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تم کیوں روئیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو روتا دیکھ کر۔ آپ نے فرمایا مجھے تو آیت (وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا ۚ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا 71؀ۚ) 19۔ مریم :71) ، یاد آگئی اور رونا آگیا۔ مجھے کیا معلوم کہ میں نجات پاؤں گا نہیں ؟ اس وقت آپ بیمار تھے۔ حضرت ابو میسرہ ؒ جب رات کو اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتے تو رونے لگتے اور زبان سے بےساختہ نکل جاتا کہ کاش کہ میں پیدا ہی نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا کہ آخر اس رونے دھونے کی وجہ کیا ہے ؟ تو فرمایا یہی آیت ہے۔ یہ تو ثابت ہے کہ وہاں جانا ہوگا اور یہ نہیں معلوم کہ نجات بھی ہوگی یا نہیں ؟ ایک بزرگ شخص نے اپنے بھائی سے فرمایا کہ آپ کو یہ تو معلوم ہے کہ ہمیں جہنم پر سے گزرنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں یقینا معلوم ہے۔ پھر پوچھا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ وہاں سے پار ہوجاؤ گے ؟ انہوں نے فرمایا اس کا کوئی علم نہیں پھر فرمایا ہمارے لئے ہنسی خوشی کیسی ؟ یہ سن کر اس وقت سے لے کر موت کی گھڑی تک ان کے ہونٹوں پر ہنسی نہیں آئی۔ نافع بن ارزق حضرت ابن عباس ؓ کا اس بارے میں اختلاف تھا کہ یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے تو آپ نے دلیل میں آیت قرآن (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ 98؀) 21۔ الأنبیاء :98) پیش کر کے فرمایا دیکھو یہاں ورود سے مراد داخل ہونا ہے یا نہیں ؟ پھر آپ نے دوسری آیت تلاوت فرمائی (يَـقْدُمُ قَوْمَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۭ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ 98؀) 11۔ ھود :98) اور فرمایا بتاؤ فرعون اپنی قوم کو جہنم میں لے جائے گا یا نہیں ؟ پس اب غور کرو کہ ہم اس میں داخل تو ضرور ہوں گے اب نکلیں گے بھی یا نہیں ؟ غالبا تجھے تو اللہ نہ نکالے گا اس لئے کہ تو اس کا منکر ہے یہ سن کر نافع کھسیانہ ہو کر ہنس دیا۔ یہ نافع خارجی تھا اس کی کنیت ابو راشد تھی۔ دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اسے سمجھاتے ہوئے آیت (وَّنَسُوْقُ الْمُجْرِمِيْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا 86؀ۘ) 19۔ مریم :86) بھی پڑھی تھی۔ اور یہ بھی فرمایا تھا کہ پہلے بزرگ لوگوں کی ایک دعا یہ بھی تھی کہ اللہم اخرجنی من النار سالمنا وادخلنی الجنۃ غانما اے اللہ مجھے جہنم سے صحیح سالم نکال لے اور جنت میں ہنسی خوشی پہنچا دے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ابو داؤد طیالسی میں یہ بھی مروی ہے کہ اس کے مخاطب کفار ہیں۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں یہ ظالم لوگ ہیں اسی طرح ہم اس آیت کو پڑھتے تھے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نیک بد سب وارد ہوں گے۔ دیکھو فرعون اور اس کی قوم کے لئے اور گہنگاروں کے لئے بھی ورود کا لفظ دخول کے معنی میں خود قرآن کریم کی دو آیتوں میں وارد ہے۔ ترمذی وغیرہ میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں وارد تو سب ہوں گے پھر گزر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ پل صراط سے سب کو گزرنا ہوگا یہی آگ کے پاس کھڑا ہونا ہے اب بعض تو بجلی کی طرح گزر جائیں گے، بعض ہوا کی طرح، بعض پرندوں کی طرح، بعض تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، بعض تیز رفتار اونٹوں کی طرح، بعض تیز چال والے پیدل انسان کی طرح یہاں تک کہ سب سے آخر جو مسلمان اس سے پار ہوگا یہ وہ ہوگا جس کے صرف پیر کے انگوٹھے پرنور ہوگا گرتا پڑتا نجات پائے گا۔ پل صراط پھسلنی چیز ہے جس پر ببول جیسے اور گو گھرو جیسے کانٹے ہیں دونوں طرف فرشتوں کی صفیں ہوں گی جن کے ہاتھوں میں جہنم کے ٹکٹ ہوں گے جن سے پکڑ پکڑ کر لوگوں کو جہنم میں دھکیل دیں گے الخ۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا۔ پہلا گروہ تو بجلی کی طرح آن کی آن میں پار ہوجائے گا، دوسرا گروہ ہوا کی طرح جائے گا، تیسرا تیز رفتار گھوڑوں کی طرح، چوتھا تیز رفتار جانور کی طرح۔ فرشتے ہر طرف سے دعائیں کر رہے ہونگے کہ اسے اللہ سلامت رکھ الہٰی بچا لے بخاری ومسلم کی بہت سی مرفوع احادیث میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ حضرت کعب ؒ کا بیان ہے کہ جہنم اپنی پیٹھ پر تمام لوگوں کو جما لے گی۔ جب سب نیک وبد جمع ہوجائیں گے تو حکم باری ہوگا کہ اپنے والوں کو تو پکڑ لے اور جنتیوں کو چھوڑ دے۔ اب جہنم سب برے لوگوں کا نوالہ کر جائے گی۔ وہ برے لوگوں کو اس طرح جانتی پہچانتی ہے جس طرح تم اپنی اولاد کو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ مومن صاف بچ جائیں گے۔ سنو جہنم کے داروغوں کے قد ایک سو سال کی راہ کے ہیں ان میں سے ہر ایک کے پاس گرز ہیں ایک مارتے ہیں تو سات لاکھ آدمیوں کا چورا ہوجاتا ہے۔ مسند میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے اپنے رب کی ذات پاک سے امید ہے کہ بدر اور حدیبیہ کے جہاد میں جو ایمان دار شریک تھے ان میں سے ایک بھی دوزخ میں نہ جائے گا یہ سن کر حضرت حفصہ ؓ نے کہا یہ کیسے ؟ قرآن تو کہتا ہے کہ تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے، تو آپ نے اس کے بعد کی دوسری آیت پڑھ دی کہ متقی لوگ اس سے نجات پاجائیں گے اور ظالم لوگ اسی میں رہ جائیں گے۔ بخاری ومسلم میں ہے کہ جس کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں اسے آگ نہ چھوئے گی مگر صرف قسم پوری ہونے کے طور پر۔ اس سے مراد یہی آیت ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ ایک صحابی ؓ کو بخار چڑھا ہوا تھا جس کی عیادت کے لئے رسول مقبول ﷺ ہمارے ساتھ تشریف لے چلے آپ نے فرمایا کہ جناب باری عزوجل کا فرمان ہے کہ یہ بخار بھی ایک آگ ہے میں اپنے مومن بندوں کو اس میں اس لئے مبتلا کرتا ہوں کہ یہ جہنم کی آگ کا بدلہ ہوجائے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ حضرت مجاہد ؒ نے بھی یہی فرمایا کر پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص سورة قل ہو اللہ احد دس مرتبہ پڑھ لے اس کے لئے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا پھر تو ہم بہت سے محل بنالیں گے آپ نے جواب دیا اللہ کے پاس کوئی کمی نہیں وہ بہتر سے بہتر اور بہت سے بہت دینے والا ہے۔ اور جو شخص اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھ لے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحوں میں لکھ لے گا۔ فی الواقع ان کا ساتھ بہترین ساتھیوں کا ساتھ ہے۔ اور جو شخص کسی تنخواہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اللہ کی خوشی کے لئے مسلمان لشکروں کی، ان کی پشت کی طرف سے حفاظت کرنے کے لئے پہرہ دے وہ اپنی آنکھ سے بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے گا مگر صرف قسم پوری کرنے کے لئے، کیونکہ اللہ کا فرمان ہے تم میں سے ہر ایک اس پر وارد ہونے والا ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بھی سات سو گنا زیادہ اجر رکھتا ہے اور روایت میں ہے سات ہزار گنا۔ ابو داؤد میں ہے کہ نماز روزہ اور ذکر اللہ، اللہ کی راہ کے خرچ پر سات سو گنا درجہ رکھتے ہیں۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مراد اس آیت سے گزرنا ہے۔ عبدالرحمن کہتے ہیں مسلمان تو پل صراط سے گزر جائیں گے اور مشرک جہنم میں جائیں گے حضور ﷺ نے فرمایا اس دن بہت سے مرد عورت اس پر سے پھسل جائیں گے۔ پل صراط پر جانے کے بعد پرہیزگار تو پار ہوجائیں گے، ہاں کافر گنہگار اپنے اپنے اعمال کے مطابق نجات پائیں گے۔ جیسے عمل ہوں گے اتنی دیر وہاں لگ جائے گی۔ پھر نجات یافتہ اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کی سفارش کریں گے۔ ملائیکہ شفاعت کریں گے اور انبیاء بھی۔ پھر بہت سے لوگ تو جہنم میں سے اس حالت میں سے نکلیں گے کہ آگ انہیں کھا چکی ہوگی مگر چہرے کی سجدہ کی جگہ بچی ہوئی ہوگی۔ پھر اپنے اپنے باقی ایمان کے حساب سے دوزخ سے نکالے جائیں گے۔ جن کے دلوں میں بقدر دینار کے ایمان ہوگا وہ اول نکلیں گے، پھر اس سے کم والے، یہاں تک کہ رائی کے دانے کے برابر ایمان والے، پھر اس سے کم والے، پھر اس سے بھی کمی والے، پھر وہ جس نے اپنی پوری عمر میں لا الہ الا اللہ کہہ دیا ہو گو کچھ بھی نیکی نہ کی ہو پھر تو جہنم میں وہی رہ جائیں گے جن پر ہمیشہ اور دوام لکھا جا چکا ہے۔ یہ تمام خلاصہ ہے ان احادیث کا جو صحت کے ساتھ آچکی ہیں۔ پس پل صراط پر جانے کے بعد نیک لوگ پار ہوجائیں گے اور بد لوگ کٹ کٹ کر جہنم میں گرپڑیں گے۔

کثرت مال فریب زندگی۔اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل وبرہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان وشوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پر تکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی اور بارونق ہیں ؟ پس ہم جو کہ مال ودولت، شان وشوکت، عزت وآبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں ؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے، کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کافروں نے کہا (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ ۭ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ 11 ؀) 46۔ الأحقاف :11) اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ ؟ حضرت نوح ؑ کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ (انومن لک واتبعک الا رزلون) تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدار بن نہیں سکتے۔ اور آیت میں ہے کہ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے ؟ پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کردیا۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان وشوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت میں اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کردیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو انکے باغات انکی نہریں انکی کھیتاں انکے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کردیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے۔ مقام سے مراد مسکین اور نعمتیں ہیں "، ندی " سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں جیسے آیت (فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ ۭ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَاب اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 29؀) 29۔ العنکبوت :29) میں ہے یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں لباس میں مال میں متاع میں صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔

کثرت مال فریب زندگی۔اللہ کی صاف صریح آیتوں سے پروردگار کے دلیل وبرہان والے کلام سے کفار کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا وہ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں دیدے پھیر لیتے ہیں اور اپنی ظاہری شان وشوکت سے انہیں مرعوب کرنا چاہتے ہیں۔ کہتے ہیں بتاؤ کس کے مکانات پر تکلف ہیں اور کس کی بیٹھکیں سجی ہوئی اور بارونق ہیں ؟ پس ہم جو کہ مال ودولت، شان وشوکت، عزت وآبرو میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں ہم اللہ کے پیارے ہیں یا یہ جو کہ چھپے پھرتے ہیں ؟ کھانے پینے کو نہیں پاتے، کہیں ارقم بن ابو ارقم کے گھر چھپتے ہیں، کہیں اور، ادھر ادھر بھاگتے پھرتے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے کافروں نے کہا (لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ ۭ وَاِذْ لَمْ يَهْتَدُوْا بِهٖ فَسَيَقُوْلُوْنَ ھٰذَآ اِفْكٌ قَدِيْمٌ 11 ؀) 46۔ الأحقاف :11) اگر یہ دین بہتر ہوتا تو اسے پہلے ہم مانتے یا یہ ؟ حضرت نوح ؑ کی قوم نے بھی یہی کہا تھا کہ (انومن لک واتبعک الا رزلون) تیرے ماننے والے تو سب غریب محتاج لوگ ہیں ہم تیرے تابعدار بن نہیں سکتے۔ اور آیت میں ہے کہ اسی طرح انہیں دھوکہ لگ رہا ہے اور کہہ اٹھتے ہیں کہ کیا یہی وہ اللہ کے پیارے بندے ہیں جنہیں اللہ نے ہم پر فضیلت دی ہے ؟ پھر ان کے اس مغالطے کا جواب دیا کہ ان سے پہلے ان سے بھی ظاہر داری میں بڑھے ہوئے اور مالداری میں آگے نکلے ہوئے لوگ تھے لیکن ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہم نے انہیں تہس نہس کردیا۔ ان کی مجلسیں، ان کے مکانات ان کی قوتیں، ان کی مالداریاں ان سے سوا تھیں۔ شان وشوکت میں، ٹیپ ٹاپ میں، تکلفات میں، امارت میں اور شرافت میں ان سے کہیں زیادہ تھے۔ ان کے تکبر اور عناد کی وجہ سے ہم نے ان کا بھس اڑا دیا۔ غارت اور برباد کردیا۔ فرعونیوں کو دیکھ لو انکے باغات انکی نہریں انکی کھیتاں انکے شاندار مکانات اور عالیشان محلات اب تک موجود ہیں اور وہ غارت کردیے گئے مچھلیوں کا لقمہ بن گئے۔ مقام سے مراد مسکین اور نعمتیں ہیں "، ندی " سے مراد مجلسیں اور بیٹھکیں ہیں۔ عرب میں بیٹھکوں اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں کو نادی اور ندی کہتے ہیں جیسے آیت (فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ ۭ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَاب اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 29؀) 29۔ العنکبوت :29) میں ہے یہی ان مشرکین کا قول تھا کہ ہم بہ اعتبار دنیا تم سے بہت بڑھے ہوئے ہیں لباس میں مال میں متاع میں صورت شکل میں ہم تم سے افضل ہیں۔

مشرکوں سے مباہلہ۔ان کافروں کو جو تمہیں ناحق پر اور اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں اور اپنی خوش حالی اور فارغ البالی پر اطیمنان کئے بیٹھے ہوئے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ گمراہوں کی رسی دراز ہوتی ہے انہیں اللہ کی طرف سے ڈھیل دی جاتی ہے جب تک کہ قیامت نہ آجائے یا ان کی موت نہ آجائے۔ اس وقت انہیں پورا پتہ چل جائے گا کہ فی الواقع برا شخص کون تھا اور کس کے ساتھی کمزور تھے دنیا تو ڈھلتی چڑھتی چھاؤں ہے نہ خود اس کا عتبار نہ اس کے سامان اسباب کا۔ یہ تو اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی رہیں گے۔ گویا اس آیت میں مشرکوں سے مباہلہ ہے جیسے یہودیوں سے سورة جمعہ میں مباہلہ کی آیت ہے کہ آؤ ہمارے مقابلہ میں موت کی تمنا کرو۔ اسی طرح سورة آل عمران میں مباہلے کا ذکر ہے کہ جب تم اپنے خلاف دلیلیں سن کر بھی عیسیٰ ؑ کے ابن اللہ ہونے کے مدعی ہو تو آؤ بال بچوں سمیت میدان میں جاکر جھوٹے پر اللہ کی لعنت پڑنے کی دعا کریں۔ پس نہ تو مشرکین مقابلے پر آئے نہ یہود کی ہمت پڑتی نہ نصرانی مرد میدان بنے۔

گمراہوں کی گمراہی میں ترقی۔جس طرح گمراہوں کی گمراہی بڑھتی رہتی ہے اسی طرح ہدایت والوں کی ہدایت بڑھتی رہتی ہے جیسے فرمان ہے کہ کوئی سورت اترتی ہے تو بعض لوگ کہنے لگتے ہیں تم میں سے کس کو اس نے ایمان میں زیادہ کردیا ؟ الخ، باقیات صالحات کی پوری تفسیر ان ہی لفظوں کی تشریح میں سورة کہف میں گزر چکی ہے۔ یہاں فرماتا ہے کہ یہی پائیدار نیکیاں جزا اور ثواب کے لحاظ سے اور انجام اور بدلے کے لحاظ سے نیکوں کے لئے بہتر ہیں۔ عبدالرزاق میں ہے کہ ایک دن حضور ﷺ ایک خشک درخت تلے بیٹھے ہوئے تھے اس کی شاخ پکڑ کر ہلائی تو سوکھے پتے جھڑنے لگے آپ نے فرمایا دیکھو اسی طرح انسان کے گناہ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر سبحان اللہ والحمد للہ کہنے سے جھڑتے ہیں۔ اے ابو درداء ان کا ورد رکھ اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے کہ تو انہیں نہ کہہ سکے یہی باقیات صالحات ہیں یہی جنت کے خزانے ہیں اس کو سن کر حضرت ابو دارداء کا یہ حال تھا کہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے کہ واللہ میں تو ان کلمات کو پڑھتا ہی رہوں گا کبھی ان سے زبان نہ روکوں گا گو لوگ مجھے مجنون کہنے لگیں۔ ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث دوسری سند سے ہے۔

عیار مقروض اور حضرت خباب۔حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا ہے کہ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی ؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول قرار لے لیا ؟ اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے اس لئے مجھے جو جواب دیا میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا اس پر یہ آیتیں آتری اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا چاندی ریشم پھل پھول وغیرہ ہوں گے ؟ ہم نے کہا ہاں ہے تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں فردا تک اتریں۔ ولدا کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے واللہ اعلم۔ اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے ؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے ؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے ؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول وقرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو ؟ چناچہ آیت (لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا 87؀ۘ) 19۔ مریم :87) میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہوجانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے اس کا کفر بھی ملنا تو کجا اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہوگا ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (ونرثہ ماعندہ) ہے۔ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا۔

عیار مقروض اور حضرت خباب۔حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا ہے کہ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی ؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول قرار لے لیا ؟ اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے اس لئے مجھے جو جواب دیا میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا اس پر یہ آیتیں آتری اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا چاندی ریشم پھل پھول وغیرہ ہوں گے ؟ ہم نے کہا ہاں ہے تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں فردا تک اتریں۔ ولدا کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے واللہ اعلم۔ اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے ؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے ؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے ؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول وقرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو ؟ چناچہ آیت (لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا 87؀ۘ) 19۔ مریم :87) میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہوجانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے اس کا کفر بھی ملنا تو کجا اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہوگا ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (ونرثہ ماعندہ) ہے۔ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا۔

عیار مقروض اور حضرت خباب۔حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا ہے کہ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی ؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول قرار لے لیا ؟ اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے اس لئے مجھے جو جواب دیا میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا اس پر یہ آیتیں آتری اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا چاندی ریشم پھل پھول وغیرہ ہوں گے ؟ ہم نے کہا ہاں ہے تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں فردا تک اتریں۔ ولدا کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے واللہ اعلم۔ اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے ؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے ؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے ؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول وقرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو ؟ چناچہ آیت (لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا 87؀ۘ) 19۔ مریم :87) میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہوجانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے اس کا کفر بھی ملنا تو کجا اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہوگا ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (ونرثہ ماعندہ) ہے۔ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا۔

عیار مقروض اور حضرت خباب۔حضرت خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں میں لوہار تھا اور میرا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمے تھا میں اس سے تقاضا کرنے کو گیا تو اس نے کہا میں تو تیرا قرض اس وقت تک ادا نہ کروں گا جب تک کہ تو حضرت محمد ﷺ کی تابعداری سے نہ نکل جائے میں نے کہا میں تو یہ کفر اس وقت تک بھی نہیں کرسکتا کہ تو مر کر دوبارہ زندہ ہو۔ اس کافر نے کہا بس تو پھر یہی رہی جب میں مرنے کے بعد زندہ ہوں گا تو ضرور مجھے میرا مال اور میری اولاد بھی ملے گی وہیں تیرا قرض بھی ادا کردوں گا تو آجانا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ (بخاری مسلم) دوسری روایت میں ہے کہ میں نے مکہ میں اس کی تلوار بنائی تھی اس کی اجرت میری ادھار تھی۔ فرماتا ہے کہ کیا اسے غیب کی خبر مل گئی ؟ یا اس نے اللہ رحمان سے کوئی قول قرار لے لیا ؟ اور روایت میں ہے کہ اس پر میرے بہت سے درہم بطور قرض کے چڑھ گئے اس لئے مجھے جو جواب دیا میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا اس پر یہ آیتیں آتری اور روایت میں ہے کہ کئی ایک مسلمانوں کا قرض اس کے ذمے تھا ان کے تقاضوں پر اس نے کہا کہ کیا تمہارے دین میں یہ نہیں کہ جنت میں سونا چاندی ریشم پھل پھول وغیرہ ہوں گے ؟ ہم نے کہا ہاں ہے تو کہا بس تو یہ چیزیں مجھے ضرور ملیں گی میں وہیں تم سب کو دے دوں گا۔ پس یہ آیتیں فردا تک اتریں۔ ولدا کی دوسری قرأت واؤ کے پیش سے بھی ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبر سے تو مفرد کے معنی میں ہے اور پیش سے جمع کے معنی میں ہے۔ قیس قبیلے کی یہی لغت ہے واللہ اعلم۔ اس مغرور کو جواب ملتا ہے کہ کیا اسے غیب پر اطلاع ہے ؟ اسے آخرت کے اپنے انجام کی خبر ہے ؟ جو یہ قسمیں کھا کر کہہ رہا ہے ؟ یا اس نے اللہ سے کوئی قول وقرار، عہد و پیمان لیا ہے یا اس نے اللہ کی توحید مان لی ہے کہ اس کی وجہ سے اسے دخول جنت کا یقین ہو ؟ چناچہ آیت (لَا يَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا 87؀ۘ) 19۔ مریم :87) میں اللہ کی وحدانیت کے کلمے کا قائل ہوجانا ہی مراد لیا گیا ہے۔ پھر اس کے کلام کی تاکید کے ساتھ نفی کی جاتی ہے۔ اور اس کے خلاف موکد بیان ہو رہا ہے کہ اس کا یہ غرور کا کلمہ بھی ہمارے ہاں لکھا جا چکا ہے اس کا کفر بھی ملنا تو کجا اس کے برعکس دنیا کا مال و متاع اور اولاد و کنبہ بھی اس سے چھین لیا جائے گا اور وہ تن تنہا ہمارے حضور میں پیش ہوگا ابن مسعود ؓ کی قرأت میں (ونرثہ ماعندہ) ہے۔ اس کی جمع جتھا اور اس کے عمل ہمارے قبضے میں ہیں۔ یہ تو خالی ہاتھ سب کچھ چھوڑ چھاڑ ہمارے سامنے پیش ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہوگی۔ معبود عابدوں کے لئے اور عابد معبودوں کے لئے بلائے بےدرماں حسرت بےپایا ہوجائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں جیسے فرمان ہے کہ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہوجاتے ہیں۔ تو جلدی نہ کر ان کے لئے کوئی بدعا نہ کر ہم نے خود عمدا انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں ہی اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں آخر سخت عذابوں کی طرف بےبسی کے ساتھ جا پڑیں گے تم فائدہ حاصل کرلو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال کے مہینے دن اور وقت شمار کررہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہوگی۔ معبود عابدوں کے لئے اور عابد معبودوں کے لئے بلائے بےدرماں حسرت بےپایا ہوجائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں جیسے فرمان ہے کہ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہوجاتے ہیں۔ تو جلدی نہ کر ان کے لئے کوئی بدعا نہ کر ہم نے خود عمدا انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں ہی اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں آخر سخت عذابوں کی طرف بےبسی کے ساتھ جا پڑیں گے تم فائدہ حاصل کرلو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال کے مہینے دن اور وقت شمار کررہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہوگی۔ معبود عابدوں کے لئے اور عابد معبودوں کے لئے بلائے بےدرماں حسرت بےپایا ہوجائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں جیسے فرمان ہے کہ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہوجاتے ہیں۔ تو جلدی نہ کر ان کے لئے کوئی بدعا نہ کر ہم نے خود عمدا انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں ہی اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں آخر سخت عذابوں کی طرف بےبسی کے ساتھ جا پڑیں گے تم فائدہ حاصل کرلو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال کے مہینے دن اور وقت شمار کررہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے سوا معبود۔کافروں کا خیال ہے کہ ان کے اللہ کے سوا اور معبود ان کے حامی مددگار ہوں گے۔ غلط خیال ہے بلکہ محال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس اور بالکل برعکس ہے ان کی پوری محتاجی کے دن یعنی قیامت میں یہ صاف منکر ہوجائیں گے اور اپنے عابدوں کے دشمن بن کر کھڑے ہوں گے۔ جیسے فرمایا ان سے بڑھ کر بد راہ اور گم کردہ راہ کون ہے جو اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکار رہا ہے جو قیامت تک جواب نہ دے سکیں ان کی دعا سے بالکل غافل ہوں اور روز محشر ان کے دشمن بن جائیں اور ان کی عبادت کا بالکل انکار کر جائیں۔ کلا کی دوسری قرأت کل بھی ہے خود یہ کفار بھی اس دن اللہ کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ کا انکار کرجائیں گے۔ یہ سب عابد و معبود جہنمی ہوں گے، ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ وہ اس پر یہ اس پر لعنت و پھٹکار کرے گا، ہر ایک دوسرے پر ڈالے گا، ایک دوسرے کو برا کہے گا، سخت تر جھگڑے پڑیں گے، سارے تعلقات کٹ جائیں گے، ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ مدد تو کہاں مروت تک نہ ہوگی۔ معبود عابدوں کے لئے اور عابد معبودوں کے لئے بلائے بےدرماں حسرت بےپایا ہوجائیں گے۔ کیا تجھے نہیں معلوم کہ ان کافروں کو ہر وقت شیاطین نافرمانیوں پر آمادہ کرتے رہتے، مسلمانوں کے خلاف اکساتے رہتے ہیں، آرزو میں بڑھاتے ہیں، طغیان اور سرکشی میں آگے کرتے رہتے ہیں جیسے فرمان ہے کہ ذکر رحمان سے منہ موڑنے والے شیطان کے حوالے ہوجاتے ہیں۔ تو جلدی نہ کر ان کے لئے کوئی بدعا نہ کر ہم نے خود عمدا انہیں ڈھیل دے رکھی ہے انہیں بڑھتا رہنے دے آخر وقت مقررہ پر دبوچ لئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے کرتوتوں سے بیخبر نہیں ہے انہیں تو کچھ یونہی سی ڈھیل ہے جس میں ہی اپنے گناہوں میں بڑھے چلے جار ہے ہیں آخر سخت عذابوں کی طرف بےبسی کے ساتھ جا پڑیں گے تم فائدہ حاصل کرلو لیکن یاد رکھو کہ تمہارا اصلی ٹھکانا دوزخ ہی ہے۔ ہم ان کے سال کے مہینے دن اور وقت شمار کررہے ہیں ان کے سانس بھی ہمارے گنے ہوئے ہیں مقررہ وقت پورا ہوتے ہی عذابوں میں پھنس جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان۔جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف اللہ سے خوف نہ کھانے والے، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبرا قہرا جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے ؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لئے کھڑا ہے پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لئے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی۔ ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے ابن ابی حاتم کی روایت ہے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پر دار اونٹنیاں اپنی سواری کے لئے موجود پائیں گے جن پر سونے کے پالان ہوں گے جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہوگا جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہوجائیں گے دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہوجائیں گے اور بال جم جائیں گے اسکے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہوگا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے خاوند آگئے خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گرپڑنا چاہیں گے لیکن وہ فورا کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں آپ کا حکم بردار ہوں اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لاسکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سر تاج ہیں ہمارے محبوب ہیں میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی۔ یہ اندر داخل ہوں گے دیکھیں گے کہ سو سو گزر بلند بالاخانے ہیں لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے ہر مکان میں ستر تخت ہیں ہر تخت پر ستر حوریں ہیں ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہوگی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے۔ چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز وسفید پرنج اڑ رہے ہیں جس کے گوشت کھانے کو جی چاہا وہ خود بخود حاضر ہوگیا جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھالیا اور پھر وہ قدرت الہٰی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آرہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئے گئے۔ وہ یہ ہے بدلہ ہے تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کردیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے۔ یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ حضرت علی ؓ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا مومن تو ایک دوسروں کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں یہ خود کہیں گے کہ (فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ01000ۙ) 26۔ الشعراء :100) ہمارا کوئی سفارشی نہیں نہ سچا دوست ہے۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کو گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بےزاری اور لا تعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کرلیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس سے میرا عہد ہے وہ کھڑا ہوجائے۔ لوگوں نے کہا حضرت ہمیں بھی وہ بتا دیجئے آپ نے فرمایا یوں کہو (اللہم فاظر السموات والارض عالم الغیب والشہادۃ فانی اعہد الیک فی ہذہ الحیوۃ الدنیا انک ان تکلنی الی عمل یقبنی من الشر ویباعدنی من الخیر وانیلا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عہدا تودیہ لی یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد) اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے خائفا مستجیرا مسغفرا راہبا راغبا لیک (ابن ابی حاتم)

اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان۔جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف اللہ سے خوف نہ کھانے والے، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبرا قہرا جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے ؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لئے کھڑا ہے پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لئے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی۔ ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے ابن ابی حاتم کی روایت ہے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پر دار اونٹنیاں اپنی سواری کے لئے موجود پائیں گے جن پر سونے کے پالان ہوں گے جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہوگا جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہوجائیں گے دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہوجائیں گے اور بال جم جائیں گے اسکے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہوگا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے خاوند آگئے خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گرپڑنا چاہیں گے لیکن وہ فورا کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں آپ کا حکم بردار ہوں اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لاسکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سر تاج ہیں ہمارے محبوب ہیں میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی۔ یہ اندر داخل ہوں گے دیکھیں گے کہ سو سو گزر بلند بالاخانے ہیں لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے ہر مکان میں ستر تخت ہیں ہر تخت پر ستر حوریں ہیں ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہوگی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے۔ چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز وسفید پرنج اڑ رہے ہیں جس کے گوشت کھانے کو جی چاہا وہ خود بخود حاضر ہوگیا جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھالیا اور پھر وہ قدرت الہٰی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آرہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئے گئے۔ وہ یہ ہے بدلہ ہے تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کردیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے۔ یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ حضرت علی ؓ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا مومن تو ایک دوسروں کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں یہ خود کہیں گے کہ (فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ01000ۙ) 26۔ الشعراء :100) ہمارا کوئی سفارشی نہیں نہ سچا دوست ہے۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کو گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بےزاری اور لا تعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کرلیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس سے میرا عہد ہے وہ کھڑا ہوجائے۔ لوگوں نے کہا حضرت ہمیں بھی وہ بتا دیجئے آپ نے فرمایا یوں کہو (اللہم فاظر السموات والارض عالم الغیب والشہادۃ فانی اعہد الیک فی ہذہ الحیوۃ الدنیا انک ان تکلنی الی عمل یقبنی من الشر ویباعدنی من الخیر وانیلا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عہدا تودیہ لی یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد) اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے خائفا مستجیرا مسغفرا راہبا راغبا لیک (ابن ابی حاتم)

اللہ تعالیٰ کے معزز مہمان۔جو لوگ اللہ کی باتوں پر ایمان لائے، پیغمبروں کی تصدیق کی، اللہ کی فرمانبرداری کی، گناہوں سے بچے رہے، پروردگار کا ڈر دل میں رکھا وہ اللہ کے ہاں بطور معزز مہمانوں کے جمع ہوں گے نورانی سانڈنیوں کی سواری پر آئیں گے اور خدائی مہمان خانے میں بہ عزت داخل کئے جائیں گے۔ ان کے برخلاف اللہ سے خوف نہ کھانے والے، گنہگار، رسولوں کے دشمن، دھکے کھا کھا کر اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے پیاس کے مارے زبان نکالے ہوئے جبرا قہرا جہنم کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ اب بتلاؤ کہ کون مرتبے والا اور کون اچھے ساتھیوں والا ہے ؟ مومن اپنی قبر سے منہ اٹھا کر دیکھے گا کہ اس کے سامنے ایک حسین خوبصورت شخص پاکیزہ پوشاک پہنے خوشبو سے مہکتا چمکتا دمکتا چہرہ لئے کھڑا ہے پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گا آپ نے پہچانا نہیں میں تو آپ کے نیک اعمال کا مجسمہ ہوں آپ کے عمل نورانی حسین اور مہکتے ہوئے تھے آئیے اب آپ کو میں اپنے کندھوں پر چڑھا کر بہ عزت و اکرام محشر میں لے چلوں گا کیونکہ دنیا کی زندگی میں میں آپ پر سوار رہا ہوں۔ پس مومن اللہ کے پاس سواری پر سوار جائے گا۔ ان کی سواری کے لئے نورانی اونٹ بھی مہیا ہوں گے۔ یہ سب ہنسی خوشی آبرو عزت کے ساتھ جنت میں جائیں گے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں وفد کا یہ دستور ہی نہیں کہ وہ پیدل آئے۔ یہ متقی حضرات ایسی نورانی اونٹنیوں پر سوار ہوں گے کہ مخلوق کی نگاہوں میں ان سے بہتر کوئی سواری کبھی نہیں آئی۔ ان کے پالان سونے کے ہوں گے۔ یہ جنت کے دروازوں تک ان ہی سواریوں پر جائیں گے۔ ان کی نکیلیں زبر جد کی ہونگی۔ ایک مرفوع روایت میں ہے لیکن حدیث بہت ہی غریب ہے ابن ابی حاتم کی روایت ہے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے میں نے اس آیت کی تلاوت کی اور کہا یا رسول اللہ ﷺ وفد تو سواری پر سوار آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا قسم اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ یہ پارسا لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور اسی وقت سفید رنگ نورانی پر دار اونٹنیاں اپنی سواری کے لئے موجود پائیں گے جن پر سونے کے پالان ہوں گے جن کے پیروں سے نور بلند ہو رہا ہوگا جو ایک ایک قدم اتنی دور رکھیں گے جہاں تک نگاہ کام کرے یہ ان پر سوار ہو کر ایک جنتی درخت کے پاس پہنچیں گے جہاں سے دو نہریں جاری دیکھیں گے ایک کا پانی پئیں گے جس سے ان کے دلوں کے میل دور ہوجائیں گے دوسری میں غسل کریں گے جس سے ان کے جسم نورانی ہوجائیں گے اور بال جم جائیں گے اسکے بعد نہ کبھی ان کے بال الجھیں نہ جسم میلے ہوں ان کے چہرے چمک اٹھیں گے اور یہ جنت کے دروازے پر پہنچیں گے۔ سرخ یاقوت کا حلقہ سونے کے دروازے پر ہوگا جسے یہ کھٹکھٹائیں گے نہایت سریلی آواز اس سے نکلے گی اور حوروں کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کے خاوند آگئے خازن جنت آئیں گے اور دروازے کھولیں گے جنتی ان کے نورانی جسموں اور شگفتہ چہروں کو دیکھ کر سجدے میں گرپڑنا چاہیں گے لیکن وہ فورا کہہ اٹھے گا کہ میں تو آپ کا تابع ہوں آپ کا حکم بردار ہوں اب ان کے ساتھ یہ چلیں گے۔ ان کی حوریں تاب نہ لاسکیں گی اور خیموں سے نکل کر ان سے چمٹ جائیں گی اور کہیں گی کہ آپ ہمارے سر تاج ہیں ہمارے محبوب ہیں میں ہمیشہ آپ کی والی ہوں جو موت سے دور ہوں میں نعمتوں والی ہوں کہ کبھی میری نعمتیں ختم نہ ہوں گی میں خوش رہنے والی ہوں کہ کبھی نہ روٹھوں گی میں یہیں رہنے والی ہوں کہ کبھی آپ سے دور نہ ہوؤں گی۔ یہ اندر داخل ہوں گے دیکھیں گے کہ سو سو گزر بلند بالاخانے ہیں لولو اور موتیوں پر زرد سرخ سبز رنگ کی دیواریں سونے کی ہیں۔ ہر دیوار ایک دوسرے کی ہم شکل ہے ہر مکان میں ستر تخت ہیں ہر تخت پر ستر حوریں ہیں ہر حور پر ستر جوڑے ہیں تاہم ان کی کمر جھلک رہی ہے ان کے جماع کی مقدار دنیا کی پوری ایک رات کے برابر ہوگی۔ صاف شفاف پانی کی، خالص دودھ کی جو جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا، بہترین خوش ذائقہ بےضرر شراب طہور کی جسے کسی انسان نے نہیں نچوڑا، عمدہ خالص شہد کی جو مکھیوں کے پیٹ سے نہیں نکلا، نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ پھلدار درخت میووں سے لدے ہوئے جھوم رہے ہوں گے۔ چاہے کھڑے کھڑے میوے توڑ لیں چاہے بیٹھے بیٹھے چاہے لیٹے لیٹے۔ سبز وسفید پرنج اڑ رہے ہیں جس کے گوشت کھانے کو جی چاہا وہ خود بخود حاضر ہوگیا جہاں کا گوشت کھانا چاہا کھالیا اور پھر وہ قدرت الہٰی سے زندہ چلا گیا۔ چاروں طرف سے فرشتے آرہے ہیں اور سلام کہہ رہے ہیں اور بشارتیں سنا رہے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو یہی وہ جنت ہے جس کی تم خوشخبریاں دیے جاتے رہے اور آج اس کے مالک بنا دئے گئے۔ وہ یہ ہے بدلہ ہے تمہارے نیک اعمال کا جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ ان کی حوروں میں سے اگر کسی کا ایک بال بھی زمین پر ظاہر کردیا جائے تو سورج کی روشنی ماند پڑجائے۔ یہ حدیث تو مرفوع بیان ہوئی ہے لیکن تعجب نہیں کہ یہ موقوف ہی ہو جیسے کہ حضرت علی ؓ کے اپنے قول سے بھی مروی ہے۔ واللہ اعلم۔ ٹھیک اس کے برعکس گنہگار لوگ اوندھے منہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے جانوروں کی طرح دھکے دے کر جہنم کی طرف جمع کئے جائیں گے اس وقت پیاس کے مارے ان کی حالت بری ہو رہی ہوگی۔ کوئی ان کی شفاعت کرنے والا ان کے حق میں ایک بھلا لفظ نکالنے والا نہ ہوگا مومن تو ایک دوسروں کی شفاعت کریں گے لیکن یہ بدنصیب اس سے محروم ہیں یہ خود کہیں گے کہ (فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِيْنَ01000ۙ) 26۔ الشعراء :100) ہمارا کوئی سفارشی نہیں نہ سچا دوست ہے۔ ہاں جنہوں نے اللہ سے عہد لے لیا ہے یہ استثنا منقطع ہے۔ مراد اس عہد سے اللہ کی توحید کو گواہی اور اس پر استقامت ہے یعنی صرف اللہ کی عبادت، دوسروں کی پوجا سے بےزاری اور لا تعلقی، صرف اسی سے مدد کی امید، تمام آرزوں کے پورا ہونے کی اسی سے آس۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں ان موحدین نے اللہ کا وعدہ حاصل کرلیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس سے میرا عہد ہے وہ کھڑا ہوجائے۔ لوگوں نے کہا حضرت ہمیں بھی وہ بتا دیجئے آپ نے فرمایا یوں کہو (اللہم فاظر السموات والارض عالم الغیب والشہادۃ فانی اعہد الیک فی ہذہ الحیوۃ الدنیا انک ان تکلنی الی عمل یقبنی من الشر ویباعدنی من الخیر وانیلا اثق الا برحمتک فاجعل لی عندک عہدا تودیہ لی یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد) اور روایت میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے خائفا مستجیرا مسغفرا راہبا راغبا لیک (ابن ابی حاتم)

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com