John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Maryam

Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 91–98 · Quran text →

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

عیسیٰ ؑ کا تعارف اس مبارک سورت کے شروع میں اس بات کا ثبوت گزر چکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے باپ کے بغیر اپنے حکم سے حضرت مریم صدیقہ کے بطن سے پیدا کیا ہے۔ اس لئے یہاں ان لوگوں کی نادانی بیان ہو رہی ہے جو آپ کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔ جس سے ذات الہٰی پاک ہے۔ ان کے قول کو بیان فرمایا۔ پھر فرمایا یہ بڑی بھاری بات ہے ادا اور ادا تینوں لغت ہیں لیکن مشہور ادا ہے۔ ان کی یہ بات اتنی بری ہے کہ آسمان کپکپا کر ٹوٹ پڑے اور زمین جھٹکے لے لے کر پھٹ جائے۔ اس لئے کہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی عزت و عظمت جانتی ہے، ان میں رب کی توحید سمائی ہوئی ہے انہیں معلوم ہے کہ ان بدکار بےسمجھ انسانوں نے اللہ کی ذات پر تہمت باندھی ہے نہ اس کی جنس کا کوئی نہ اس کی ماں نہ اولاد نہ اس کے شریک نہ اس جیسا کوئی۔ تمام مخلوق اس کی وحدانیت کی شاہد ہے کائنات کا ایک ایک ذرہ اس کی توحید پر دلالت کرنے والا ہے۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کے شرک سے ساری مخلوق کانپ اٹھتی ہے۔ قریب ہوتا ہے کہ انتظام کائنات درہم برہم ہوجائے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی کار آمد نہیں ہوتی۔ کیا عجب کہ اس کے برعکس توحید کے ساتھ کے گناہ کل کے کل اللہ تعالیٰ معاف فرما دے۔ جیسے کہ حدیث میں ہے اپنے مرنے والوں کو لا الہ اللہ کی تلقین کرو۔ موت کے وقت جس نے اسے کہہ لیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی۔ صحابہ ؓ نے کہا حضور ﷺ جس نے زندگی میں کہہ لیا ؟ فرمایا اس کے لئے اور زیادہ واجب ہوگئی۔ قسم اللہ کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ زمین و آسمان اور ان کی اور ان کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی تمام چیزیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا الہ الا اللہ کی شہادت دوسرے پلڑے میں رکھی جائے تو وہ ان سب سے وزن میں بڑھ جائے اسی کی مزید دلیل وہ حدیث ہے جس میں توحید کے ایک چھوٹے سے پرچے کا گناہوں کے بڑے بڑے دفتروں سے وزنی ہوجانا آیا ہے واللہ اعلم۔ پس ان کا یہ مقولہ اتنا بد ہے جسے سن کر آسمان بوجہ اللہ کی عظمت کے کانپ اٹھے اور زمین بوجہ غضب کے پھٹ جائے اور پہاڑ پاش پاش ہوجائیں۔ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آج کوئی ایسا شخص بھی تجھ پر چڑھا جس نے اللہ کا ذکر کیا ہو ؟ وہ خوشی سے جواب دیتا ہے کہ ہاں۔ پس پہاڑ بھی باطل اور جھوٹ بات کو اور بھلی بات کو سنتے ہیں اور کلام نہیں کرتے۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت فرمائی۔ مروی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جب زمین کو اور اس کے درختوں کو پیدا کیا تو ہر درخت ابن آدم کو پھل پھول اور نفع دیتا تھا مگر جب زمین پر رہنے والے لوگوں نے اللہ کے لئے اولاد کا لفظ بولا تو زمین ہل گئی اور درختوں میں کانٹے پڑگئے۔ کعب کہتے ہیں ملائیکہ غضبناک ہوگئے اور جہنم زور شور سے بھڑک اٹھی۔ مسند احمد میں فرمان رسول ﷺ ہے کہ لوگوں کی ایذاء دہندہ باتوں پر اللہ سے زیادہ صابر کوئی نہیں۔ لوگ اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں، اس کی اولادیں مقرر کرتے ہیں اور وہ انہیں عافیت دے رہا ہے، روزیاں پہنچا رہا ہے، برائیاں ان سے ٹالتا رہتا ہے۔ پس ان کی اس بات سے کہ اللہ کی اولاد ہے زمین و آسمان اور پہاڑ تک تنگ ہیں اللہ کی عظمت وشان کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ اس کے لڑکے لڑکیاں ہوں اس لئے کہ تمام مخلوق اس کی غلامی میں ہے اس کی جوڑ کا یا اس جیسا کوئی اور نہیں زمین و آسمان میں جو ہیں سب اس کے زیر فرمان اور حاضر باش غلام ہیں وہ سب کا آقا سب کا پالنہار سب کا خبر لینے والا ہے۔ سب کی گنتی اس کے پاس ہے سب کو اس کے علم نے گھیر رکھا ہے سب اس کی قدرت کے احاطے میں ہیں۔ ہر مرد و عورت چھوٹے بڑے کی اسے اطلاع ہے شروع پیدائش سے ختم دنیا تک کا اسے علم ہے اس کا کوئی مددگار نہیں نہ اس کا شریک وساجی۔ ہر ایک بےیارو مددگار اس کے سامنے قیامت کے روز پیش ہونے والا ہے ساری مخلوق کے فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہی وحدہ لاشریک لہ سب کے حساب کتاب چکائے گا جو چاہے گا کرے گا عادل ہے ظالم نہیں کسی کی حق تلفی اس کی شان سے بعید ہے۔

اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ۔فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ حضرت جبرائیل ؑ بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں میں ندا کردیتے ہیں کہ فلاں دشمن الہٰی تم سب اس سے بیزار رہنا چناچہ آسمان والے اس سے بگڑتے بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے۔ (بخاری مسلم وغیرہ) مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہوجاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے سنو میں اس سے خوش ہوگیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کردیں۔ پس حضرت جبرائیل ؑ ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الہٰی ہوگئی پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد آنحضرت ﷺ کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح سے کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہوجائے اب وہ عبادت الہی کی طرف جھک پڑا جب دیکھو نماز میں۔ مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کرلیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کروں گا کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کردئے نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلان شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں اس لئے کہ یہ پوری سورت مکہ میں نازل ہوئی ہے ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سندا بھی صحیح نہیں واللہ اعلم۔ ہم نے قرآن کو اے نبی تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنادے اور جو حق سے ہٹے ہوئے باطل پر مٹے ہوئے استقامت سے دور خود بنیی میں مخمور جھگڑالو جھوٹے اندھے بہرے فاسق فاجر ظالم گنہگار بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے متنبہ کر دے جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا نبیوں کا انکار کیا تھا ہم نے ہلاک کردیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی رکز کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ۔فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ حضرت جبرائیل ؑ بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں میں ندا کردیتے ہیں کہ فلاں دشمن الہٰی تم سب اس سے بیزار رہنا چناچہ آسمان والے اس سے بگڑتے بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے۔ (بخاری مسلم وغیرہ) مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہوجاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے سنو میں اس سے خوش ہوگیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کردیں۔ پس حضرت جبرائیل ؑ ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الہٰی ہوگئی پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد آنحضرت ﷺ کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح سے کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہوجائے اب وہ عبادت الہی کی طرف جھک پڑا جب دیکھو نماز میں۔ مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کرلیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کروں گا کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کردئے نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلان شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں اس لئے کہ یہ پوری سورت مکہ میں نازل ہوئی ہے ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سندا بھی صحیح نہیں واللہ اعلم۔ ہم نے قرآن کو اے نبی تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنادے اور جو حق سے ہٹے ہوئے باطل پر مٹے ہوئے استقامت سے دور خود بنیی میں مخمور جھگڑالو جھوٹے اندھے بہرے فاسق فاجر ظالم گنہگار بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے متنبہ کر دے جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا نبیوں کا انکار کیا تھا ہم نے ہلاک کردیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی رکز کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا امین فرشتہ۔فرمان ہے کہ جن کے دلوں میں توحید رچی ہوئی ہے اور جن کے اعمال میں سنت کا نور ہے ضروری بات ہے کہ ہم اپنے بندوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا کردیں گے۔ چناچہ حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرنے لگتا ہے تو حضرت جبرائیل ؑ کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی فلاں انسان سے محبت رکھ۔ اللہ کا یہ امین فرشتہ بھی اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھر آسمانوں کے فرشتے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس کی مقبولیت زمین پر اتاری جاتی ہے اور جب کسی بندے سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ اس سے میں ناخوش ہوں تو بھی اس سے عداوت رکھ حضرت جبرائیل ؑ بھی اس کے دشمن بن جاتے ہیں پھر آسمانوں میں ندا کردیتے ہیں کہ فلاں دشمن الہٰی تم سب اس سے بیزار رہنا چناچہ آسمان والے اس سے بگڑتے بیٹھتے ہیں پھر وہی غضب اور ناراضگی زمین پر نازل ہوتی ہے۔ (بخاری مسلم وغیرہ) مسند احمد میں ہے کہ جو بندہ اپنے مولا کی مرضی کا طالب ہوجاتا ہے اور اس کی خوشی کے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ عزوجل جبرائیل ؑ سے فرماتا ہے کہ میرا فلاں بندہ مجھے خوش کرنا چاہتا ہے سنو میں اس سے خوش ہوگیا میں نے اپنی رحمتیں اس پر نازل کرنی شروع کردیں۔ پس حضرت جبرائیل ؑ ندا کرتے ہیں کہ فلاں پر رحمت الہٰی ہوگئی پھر حاملان عرش بھی یہی منادی کرتے ہیں پھر ان کے پاس والے غرض ساتوں آسمانوں میں یہ آواز گونج جاتی ہے پھر زمین پر اس کی مقبولیت اترتی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے ایسی ہی ایک اور حدیث بھی مسند احمد میں غرابت والی ہے جس میں یہ بھی ہے کہ محبت اور شہرت کسی کی برائی یا بھلائی کے ساتھ آسمانوں سے اللہ کی جانب سے اترتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں اسی قسم کی حدیث کے بعد آنحضرت ﷺ کا اس آیت قرآنی کو پڑھنا بھی مروی ہے۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ نیک عمل کرنے والے ایمانداروں سے اللہ خود محبت کرتا ہے اور زمین پر بھی ان کی محبت اور مقبولیت اتاری جاتی ہے۔ مومن ان سے محبت کرنے لگتے ہیں ان کا ذکر خیر ہوتا ہے اور ان کی موت کے بعد بھی ان کی بہترین شہرت باقی رہتی ہے۔ مصرم بن حبان کہتے ہیں کہ جو بندہ سچے اور مخلص دل سے اللہ کی طرف جھکتا ہے اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کو اس کی طرف جھکا دیتا ہے وہ اس سے محبت اور پیار کرنے لگتے ہیں۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا فرمان ہے بندہ جو بھلائی برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اسی کی چادر اوڑھا دیتا ہے حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ارادہ کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح سے کروں گا کہ تمام لوگوں میں میری نیکی کی شہرت ہوجائے اب وہ عبادت الہی کی طرف جھک پڑا جب دیکھو نماز میں۔ مسجد میں سب سے اول آئے اور سب کے بعد جائے اسی طرح سات ماہ اسے گزر گئے لیکن اس نے جب بھی سنا یہی سنا کہ لوگ اسے ریا کار کہتے ہیں اس نے یہ حالت دیکھ کر اب اپنے جی میں عہد کرلیا کہ میں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے عمل کروں گا کسی عمل میں تو نہ بڑھا لیکن خلوص کے ساتھ اعمال شروع کردئے نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑے ہی دنوں میں ہر شخص کی زبان سے نکلنے لگا کہ اللہ تعالیٰ فلان شخص پر رحم فرمائے اب تو وہ واقعی اللہ والا بن گیا ہے پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ ابن جریر میں ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کی ہجرت کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہ قول درست نہیں اس لئے کہ یہ پوری سورت مکہ میں نازل ہوئی ہے ہجرت کے بعد اس سورت کی کسی آیت کا نازل ہونا ثابت نہیں۔ اور جو اثر امام صاحب نے وارد کیا ہے وہ سندا بھی صحیح نہیں واللہ اعلم۔ ہم نے قرآن کو اے نبی تیری زبان میں یعنی عربی زبان میں بالکل آسان کر کے نازل فرمایا ہے جو فصاحت و بلاغت والی بہترین زبان ہے تاکہ تو انہیں جو اللہ کا خوف رکھتے ہیں، دلوں میں ایمان اور ظاہر میں نیک اعمال رکھتے ہیں، اللہ کی بشارتیں سنادے اور جو حق سے ہٹے ہوئے باطل پر مٹے ہوئے استقامت سے دور خود بنیی میں مخمور جھگڑالو جھوٹے اندھے بہرے فاسق فاجر ظالم گنہگار بد کردار ہیں انہیں اللہ کی پکڑ سے اور اس کے عذاب سے متنبہ کر دے جیسے قریش کے کفار وغیرہ۔ بہت سی امتوں کو جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا تھا نبیوں کا انکار کیا تھا ہم نے ہلاک کردیا۔ جن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا ایک کی آواز بھی دنیا میں نہیں رہی رکز کے لفظی معنی ہلکی اور دھیمی آواز کے ہیں۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com