John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Maryam

Tafsir Ibn Kathir · Mary · 98 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23؀) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ

تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23؀) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ

تقدس مریم اور عوام حضرت مریم ؑ نے اللہ کے اس حکم کو بھی تسلیم کرلیا اور اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے لوگوں کے پاس آئیں۔ دیکھتے ہی ہر ایک انگشت بدنداں رہ گیا اور ہر منہ سے نکل گیا کہ مریم تو نے تو بڑا ہی برا کام کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ لوگ حضرت مریم کی جستجو میں نکلے تھے لیکن اللہ کی شان کہیں انہیں کھوج ہی نہ ملا۔ راستے میں ایک چرواہا ملا اس سے پوچھا کہ ایسی ایسی عورت کو تو نے کہیں اس جنگل میں دیکھا ہے ؟ اس نے کہا نہیں۔ لیکن میں نے رات کو عجیب بات دیکھی ہے کہ میری یہ تمام گائیں اس وادی کی طرف سجدے میں گرگئیں۔ میں نے تو اس سے پہلے کبھی ایسا واقعہ نہیں دیکھا۔ اور میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اس طرف ایک نور نظر آرہا تھا۔ وہ اس کی نشان دہی پر جا رہے تھے جو سامنے سے حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ بچے کو لئے ہوئے آتی دکھائی دی گئیں انہیں دیکھ کر آپ وہیں اپنے بچے کو گود میں لئے ہوئے بیٹھ گئیں۔ ان سب نے آپ کو گھیر لیا اور باتیں بنانے لگے۔ ان کا یہ کہنا کہ اے ہارون کی بہن اس سے مراد یہ ہے کہ آپ حضرت ہارون کی نسل سے تھیں۔ یا آپ کے گھرانے میں ہارون نامی ایک صالح شخص تھا اور اسی کی سی عبادت و ریاضت حضرت مریم صدیقہ کی تھی۔ اس لئے انہیں ہارون کی بہن کہا گیا۔ کوئی کہتا ہے ہارون نامی ایک بدکار شخص تھا اس لئے لوگوں نے طعن کی راہ سے انہیں اس کی بہن کہا۔ ان سب اقوال سے بڑھ کر غریب قول ایک یہ بھی ہے کہ حضرت ہارون و موسیٰ کی وہی سگی بہن ہیں جنہیں حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ نے جب حضرت موسیٰ ؑ کو پیٹی میں ڈال کر دریا میں چھوڑا تھا تو ان سے کہا تھا کہ تم اس طرح اس کے پیچھے پیچھے کنارے کنارے جاؤ کہ کسی کو خیال بھی نہ گزرے۔ یہ قول تو بالکل غلط ہوتا ہے اس لئے کہ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے آپ کے بعد صرف خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہی نبی ہوئے ہیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف میں ہے آپ فرماتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم سے سب سے زیادہ قریب میں ہوں اس لئے کہ مجھ میں اور ان کے درمیان اور کوئی نبی نہیں گزرا۔ پس اگر ماننا پڑے گا کہ آپ حضرت سلیمان ؑ اور جضرت داؤد ؑ سے بھی پہلے تھے کیونکہ قرآن کریم میں موجود ہے کہ حضرت داؤد ؑ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد ہوئے ہیں ملاحظہ ہو آیت (اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى02406) 2۔ البقرة :246) ، ان آیتوں میں حضرت داؤد کا واقعہ اور آپ کا جالوت کو قتل کرنا بیان ہوا ہے اور لفظ موجود ہیں کہ یہ موسیٰ کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہیں جو غلطی لگی ہے اس کی وجہ تورات کی یہ عبارت ہے جس میں ہے کہ جب حضرت موسیٰ مع بنی اسرائیل کے دریا سے پار ہوگئے اور فرعون مع اپنی قوم کے ڈوب مرا اس وقت مریم بنت عمران نے جو موسیٰ اور ہارون کی بہت تھیں، دف پر اللہ کے شکر کے ترانے بلند کئے آپ کے ساتھ اور عورتیں بھی تھیں۔ اس عبارت سے قرظی ؒ نے سمجھ لیا کہ یہی حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ ہیں حالانکہ یہ محض غلط ہے۔ ممکن ہے حضرت موسیٰ ؑ کی بہن کا نام بھی مریم ہو لیکن یہ کہ یہی مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی ماں تھیں اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ یہ محض ناممکن ہے ہوسکتا ہے کہ نام دونوں کا ایک ہو ایک نام پر دوسرے نام رکھے جاتے ہیں۔ بنی اسرائیل میں تو عادت تھی کہ وہ اپنے نبیوں ولیوں کے نام پر اپنے نام رکھتے تھے۔ مسند احمد میں مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے نجران بھیجا وہاں مجھ سے بعض نصرانیوں نے پوچھا کہ تم یا اخت ہارون پڑھتے ہو حالانکہ موسیٰ ؑ تو عیسیٰ ؑ سے بہت پہلے گزرے ہیں مجھ سے کوئی جواب بن نہ پڑا جب میں مدینے واپس آیا اور حضور ﷺ سے یہ ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تم نے انہیں اسی وقت کیوں نہ جواب دے دیا کہ وہ لوگ اپنے اگلے نبیوں اور نیک لوگوں کے نام پر اپنے اور اپنی اولادوں کے نام برابر رکھا کرتے تھے۔ صحیح مسلم شریف میں یہ بھی حدیث ہے امام ترمذی رحمۃ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ حضرت کعب نے کہا تھا کہ یہ ہارون حضرت موسیٰ ؑ کے بھائی ہارون نہیں اس پر ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا تو آپ نے کہا کہ اگر آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ سنا ہو تب تو ہمیں منظور ہے ورنہ تاریخی طور پر تو ان کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ یہ سن کر ام المومنین ؓ خاموش ہوگئیں۔ اس تاریخ میں ہمیں قدرے تامل ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں حضرت مریم ؑ کا گھرانہ اوپر سے ہی نیک صالح اور دیندار تھا اور یہ دینداری برابر گویا وراثتا چلی آرہی تھی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں اور بعض گھرانے اس کے خلاف بھی ہوتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک سب بد ہی بد۔ یہ ہارون بڑے بزرگ آدمی تھے اس وجہ سے بنی اسرائیل میں ہارون نام رکھنے کا عام طور عام شوق ہوگیا تھا یہاں تک مذکور ہے کہ جس دن حضرت ہارون کا جنازہ نکلا ہے تو آپ کے جنازے میں اسی ہارون نام کے چالیس ہزار آدمی تھے۔ الغرض وہ لوگ ملامت کرنے لگے کہ تم سے یہ برائی کیسے سرزد ہوگئی تم تو نیک کو کھ کی بچی ہو ماں باپ دونوں صالح سارا گھرانہ پاک پھر تم نے یہ کیا حرکت کی ؟ قوم کی یہ کڑوی کسیلی باتیں سن کر حسب فرمان آپ نے اپنے بچے کی طرف اشارہ کردیا کہ اس سے پوچھ لو۔ ان لوگوں کو تاؤ پر تاؤ آیا کہ دیکھو کیا ڈھٹائی کا جواب دیتی ہے گویا ہمیں پاگل بنا رہی ہے۔ بھلا گود کے بچے سے ہم کیا پوچھیں گے اور وہ ہمیں کیا بتائے گا ؟ اتنے میں بن بلائے آپ بول اٹھے کہ لوگوں میں اللہ کا ایک غلام ہوں۔ سب سے پہلا کلام حضرت عیسیٰ ؑ کا یہی ہے۔ اللہ کی تنزیہ اور تعظیم بیان کی اور اپنی غلامی اور بندگی کا اعلان کیا اللہ کی ذات کو اولاد سے پاک بتایا بلکہ ثابت کردیا کیونکہ اولاد غلام نہیں ہوتی پھر اپنی نبوت کا اظہار کر کہ مجھے اس نے کتاب دی ہے اور مجھے اپنا نبی بنایا ہے۔ اس میں اپنی والدہ کی برات بیان کی بلکہ دلیل بھی دے دی کہ میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں رب نے مجھے اپنی کتاب بھی عنایت فرما دی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب لوگ آپ کی والدہ ماجدہ سے باتیں بنا رہے تھے آپ اس وقت دودھ پی رہے تھے جسے چھوڑ کر بائیں کروٹ سے ہو کر ان کی طرف توجہ فرما کر یہ جواب دیا۔ کہتے ہیں اس قول کے وقت آ پکی انگلی اٹھی ہوئی تھی اور ہاتھ مونڈھے تک اونچا تھا۔ عکرمہ تو فرماتے ہیں مجھے اپنے کسی عمل کے اعلان کی اجازت ہے فرمایا بھلی بات کہنے اور بری بات کے روکنے کی اس لئے کہ یہی اصل دین ہے اور یہی انبیاء اللہ کا ورثہ ہے یہی کام ان کے سپرد ہوتا رہا۔ پس جماعتی مسئلہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی اس عام برکت سے مراد بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا ہے۔ جہاں بیٹھتے اٹھتے آتے جاتے یہ شغل برابر جاری رہتا۔ کبھی اللہ کی باتیں پہنچانے سے نہ رکتے۔ فرماتے ہیں مجھے حکم ملا ہے کہ زندگی بھر تک نماز وزکوۃ کا پابند رہوں۔ یہی حکم ہمارے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ملا۔ ارشاد ہے (واعبد ربک حتی یاتیک القین) مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں لگا رہ۔ پس حضرت عیسیٰ ؑ نے بھی فرمایا کہ " اس نے مجھ پر یہ دونوں کام میری زندگی کے آخری لمحے تک لکھ دیے ہیں۔ اس سے تقدیر کا ثبوت اور منکرین تقدیر کی تردید بھی ہوجاتی ہے۔ رب کی اطاعت کے اس حکم کے ساتھ ہی مجھے اپنی والدہ کی خدمت گزاری کا بھی حکم ملا ہے۔ عموما قرآن میں یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں جیسے آیت (وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا 23؀) 17۔ الإسراء :23) اور آیت (اَنِ اشْكُرْ لِيْ وَلِوَالِدَيْكَ ۭ اِلَيَّ الْمَصِيْرُ 14؀) 31۔ لقمان :14) میں۔ اس نے مجھے گردن کش نہیں بنایا کہ میں اس کی عبادت سے یہ والدہ کی اطاعت سے سرکشی اور تکبر کروں اور بدبخت بن جاؤں۔ کہتے ہیں جباروشقی وہ ہے جو غصے میں آکر خونریزی کر دے۔ فرماتے ہیں ماں باپ کا نافرمان وہی ہوتا ہے جو بدبخت اور گردن کش ہو۔ بدخلق وہی ہوتا ہے جو اکڑنے والا اور منافق ہو۔ مذکور ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے معجزوں کو دیکھ کر ایک عورت تعجب سے کہنے لگی مبارک ہے وہ پیٹ جس میں تو نے پرورش پائی اور مبارک ہے وہ سینہ جس نے تجھے دودھ پلایا۔ آپ نے جواب دیا مبارک ہے وہ جس نے کتاب اللہ کی تلاوت کی پھر تابعداری کی۔ اور سرکش اور بدبخت نہ بنا۔ پھر فرماتے ہیں میری پیدائش کے دن، موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے دن میں مجھ پر سلامتی ہے اس سے بھی آپ کی عبودیت اور منجملہ مخلوق کے ایک مخلوق الہٰی ہونا ثابت ہورہا ہے کہ آپ مثل انسانوں کے عدم سے وجود میں آئے پھر موت کا مزہ بھی چکھیں گے۔ پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھیں گے بھی۔ لیکن ہاں یہ تینوں موقعے خوب سخت اور کٹھن ہیں آپ پر آسان اور سہل ہوں گے نہ کوئی گھبراہٹ ہوگی نہ پریشانی بلکہ امن چین اور سراسر سلامتی ہی سلامتی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ

حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہوجاتا ہے۔ ادھر حکم ہوا ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم ؑ کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہوجا اسی وقت وہ ہوگیا یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف پارٹیوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چناچہ یہود نے کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی۔ اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الہٰی ہے۔ کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا ہے اور اپنے میں سے انہوں نے چار ہزار آدمی چھانٹے ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگایہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا زمین پر رہا جسے چاہا جلایا جسے چاہا مارا پھر آسمان پر چلا گیا اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا تو نے جھوٹ کہا اب دو نے تیسرے سے کہا اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا تم کہو اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں اور رسول تھے اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے ان میں سے جس کے تابع جو تھے وہ اسی کے قول پر ہوگئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں ان پر یہ ملعون چھاگئے انہیں دبا لیا انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کردیا۔ اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کردیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لئے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کرلیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کرلیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود میسیحت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریبا بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی وہاں ایک قبہ بنوادیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہوگئی۔ اور سب نے یقین کرلیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ عیسائی مذہب کم اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں اس کی اولادیں اور شریک وحصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پالیں لیکن اس عظیم الشان دن کو ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو گو جاری عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ نے آیت قرآن (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت فرمائی۔ یعنی تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور سخت ہے۔ بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی۔ خود قرآن فرماتا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48؀) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔ اور آیت میں ہے کہ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل سمجھیں انہیں جو مہلت ہے وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی۔ صحیح حدیث میں ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اسکا کلمہ ہیں جسے حضرت مریم ؑ کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت اور دوزخ حق ہے اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا۔

حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہوجاتا ہے۔ ادھر حکم ہوا ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم ؑ کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہوجا اسی وقت وہ ہوگیا یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف پارٹیوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چناچہ یہود نے کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی۔ اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الہٰی ہے۔ کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا ہے اور اپنے میں سے انہوں نے چار ہزار آدمی چھانٹے ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگایہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا زمین پر رہا جسے چاہا جلایا جسے چاہا مارا پھر آسمان پر چلا گیا اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا تو نے جھوٹ کہا اب دو نے تیسرے سے کہا اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا تم کہو اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں اور رسول تھے اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے ان میں سے جس کے تابع جو تھے وہ اسی کے قول پر ہوگئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں ان پر یہ ملعون چھاگئے انہیں دبا لیا انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کردیا۔ اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کردیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لئے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کرلیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کرلیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود میسیحت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریبا بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی وہاں ایک قبہ بنوادیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہوگئی۔ اور سب نے یقین کرلیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ عیسائی مذہب کم اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں اس کی اولادیں اور شریک وحصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پالیں لیکن اس عظیم الشان دن کو ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو گو جاری عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ نے آیت قرآن (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت فرمائی۔ یعنی تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور سخت ہے۔ بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی۔ خود قرآن فرماتا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48؀) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔ اور آیت میں ہے کہ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل سمجھیں انہیں جو مہلت ہے وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی۔ صحیح حدیث میں ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اسکا کلمہ ہیں جسے حضرت مریم ؑ کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت اور دوزخ حق ہے اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا۔

حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہوجاتا ہے۔ ادھر حکم ہوا ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم ؑ کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہوجا اسی وقت وہ ہوگیا یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف پارٹیوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چناچہ یہود نے کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی۔ اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الہٰی ہے۔ کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا ہے اور اپنے میں سے انہوں نے چار ہزار آدمی چھانٹے ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگایہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا زمین پر رہا جسے چاہا جلایا جسے چاہا مارا پھر آسمان پر چلا گیا اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا تو نے جھوٹ کہا اب دو نے تیسرے سے کہا اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا تم کہو اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں اور رسول تھے اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے ان میں سے جس کے تابع جو تھے وہ اسی کے قول پر ہوگئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں ان پر یہ ملعون چھاگئے انہیں دبا لیا انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کردیا۔ اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کردیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لئے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کرلیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کرلیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود میسیحت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریبا بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی وہاں ایک قبہ بنوادیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہوگئی۔ اور سب نے یقین کرلیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ عیسائی مذہب کم اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں اس کی اولادیں اور شریک وحصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پالیں لیکن اس عظیم الشان دن کو ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو گو جاری عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ نے آیت قرآن (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت فرمائی۔ یعنی تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور سخت ہے۔ بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی۔ خود قرآن فرماتا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48؀) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔ اور آیت میں ہے کہ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل سمجھیں انہیں جو مہلت ہے وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی۔ صحیح حدیث میں ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اسکا کلمہ ہیں جسے حضرت مریم ؑ کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت اور دوزخ حق ہے اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا۔

حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف اقوال۔اللہ تعالیٰ اپنے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے واقعہ میں جن جن لوگوں کا اختلاف تھا ان میں جو بات صحیح تھی وہ اتنی ہی تھی جتنی ہم نے بیان فرما دی۔ قول کی دوسری قرأت قول بھی ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں قال الحق ہے۔ قول کا رفع زیادہ ظاہر ہے جیسے (اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ01407ۧ) 2۔ البقرة :147) ، میں۔ یہ بیان فرما کر کہ جناب عیسیٰ ؑ اللہ کے نبی تھے اور اس کے بندے پھر اپنے نفس کی پاکیزگی بیان فرماتا ہے کہ اللہ کی شان سے گری ہوئی بات ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہ جاہل عالم جو افواہیں اڑا رہے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ پاک اور دور ہے وہ جس کام کو کرنا چاہتا ہے اسے سامان اسباب کی ضرورت نہیں پڑتی فرما دیتا ہے کہ ہوجا اسی وقت وہ کام اسی طرح ہوجاتا ہے۔ ادھر حکم ہوا ادھر چیز تیار موجود۔ جیسے فرمان ہے (اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ ۭخَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ 59؀) 3۔ آل عمران :59) یعنی حضرت عیسیٰ ؑ کی مثال اللہ کے نزدیک مثل آدم ؑ کے ہے کہ اسے مٹی سے بنا کر فرمایا ہوجا اسی وقت وہ ہوگیا یہ بالکل سچ ہے اور اللہ کا فرمان تجھے اس میں کسی قسم کا شک نہ کرنا چاہئے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا کہ میرا اور تم سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے تم سب اسی کی عبادت کرتے رہو۔ سیدھی راہ جسے میں اللہ کی جانب سے لے کر آیا ہوں یہی ہے۔ اس کی تابعداری کرنے والا ہدایت پر ہے اور اس کا خلاف کرنے والا گمراہی پر ہے یہ فرمان بھی آپ کا ماں کی گود سے ہی تھا۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے اپنے بیان اور حکم کے خلاف بعد والوں نے لب کشائی کی اور ان کے بارے میں مختلف پارٹیوں کی شکل میں یہ لوگ بٹ گئے۔ چناچہ یہود نے کہا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نعوذ باللہ ولد الزنا ہیں، اللہ کی لعنتیں ان پر ہوں کہ انہوں نے اللہ کے ایک بہترین رسول پر بدترین تہمت لگائی۔ اور کہا کہ ان کا یہ کلام وغیرہ سب جادو کے کرشمے تھے۔ اسی طرح نصاریٰ بہک گئے کہنے لگے کہ یہ تو خود اللہ ہے یہ کلام اللہ کا ہی ہے۔ کسی نے کہا یہ اللہ کا لڑکا ہے کسی نے کہا تین معبودوں میں سے ایک ہے ہاں ایک جماعت نے واقعہ کے مطابق کہا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہی قول صحیح ہے۔ اہل اسلام کا عقیدہ حضرت عیسیٰ ؑ کی نسبت یہی ہے اور یہی تعلیم الہٰی ہے۔ کہتے ہیں کہ بنواسرائیل کا مجمع جمع ہوا ہے اور اپنے میں سے انہوں نے چار ہزار آدمی چھانٹے ہر قوم نے اپنا اپنا ایک عالم پیش کیا۔ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ ؑ کے آسمان پر اٹھ جانے کے بعد کا ہے۔ یہ لوگ آپس میں متنازع ہوئے ایک تو کہنے لگایہ خود اللہ تھا جب تک اس نے چاہا زمین پر رہا جسے چاہا جلایا جسے چاہا مارا پھر آسمان پر چلا گیا اس گروہ کو یعقوبیہ کہتے ہیں لیکن اور تینوں نے اسے جھٹلایا اور کہا تو نے جھوٹ کہا اب دو نے تیسرے سے کہا اچھا تو کہہ تیرا کیا خیال ہے ؟ اس نے کہا وہ اللہ کے بیٹے تھے اس جماعت کا نام نسطوریہ پڑا۔ دو جو رہ گئے انہوں نے کہا تو نے بھی غلط کہا ہے۔ پھر ان دو میں سے ایک نے کہا تم کہو اس نے کہا میں تو یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہ تین میں سے ایک ہیں ایک تو اللہ جو معبود ہے۔ دوسرے یہی جو معبود ہیں تیسرے ان کی والدہ جو معبود ہیں۔ یہ اسرائیلیہ گروہ ہوا اور یہی نصرانیوں کے بادشاہ تھے ان پر اللہ کی لعنتیں۔ چوتھے نے کہا تم سب جھوٹے ہو حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے ہیں اور رسول تھے اللہ ہی کا کلمہ تھے اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح۔ یہ لوگ مسلمان کہلائے اور یہی سچے تھے ان میں سے جس کے تابع جو تھے وہ اسی کے قول پر ہوگئے اور آپس میں خوب اچھلے۔ چونکہ سچے اسلام والے ہر زمانے میں تعداد میں کم ہوتے ہیں ان پر یہ ملعون چھاگئے انہیں دبا لیا انہیں مارنا پیٹنا اور قتل کرنا شروع کردیا۔ اکثر مورخین کا بیان ہے کہ قسطنطین بادشاہ نے تین بار عیسائیوں کو جمع کیا آخری مرتبہ کے اجتماع میں ان کے دو ہزار ایک سو ستر علماء جمع ہوئے تھے لیکن یہ سب آپس میں حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مختلف آراء رکھتے تھے۔ سو کچھ کہتے تو ستر اور ہی کچھ کہتے، پچاس کچھ اور ہی کہہ رہے تھے، ساٹھ کا عقیدہ کچھ اور ہی تھا ہر ایک کا خیال دوسرے سے ٹکرا رہا تھا۔ سب سے بڑی جماعت تین سو آٹھ کی تھی۔ بادشاہ نے اس طرف کثرت دیکھ کر کثرت کا ساتھ دیا۔ مصلحت ملکی اسی میں تھی کہ اس کثیر گروہ کی طرفداری کی جائے لہذا اس کی پالیسی نے اسے اسی طرف متوجہ کردیا۔ اور اس نے باقی کے سب لوگوں کو نکلوا دیا اور ان کے لئے امانت کبریٰ کی رسم ایجاد کی جو دراصل سب سے زیادہ بدترین خیانت ہے۔ اب مسائل شرعیہ کی کتابیں ان علماء سے لکھوائیں اور بہت سی رسومات ملکی اور ضروریات شہری کو شرعی صورت میں داخل کرلیا۔ بہت سی نئی نئی باتیں ایجاد کیں اور اصلی دین مسیحی کی صورت کو مسخ کر کے ایک مجموعہ مرتب کرایا اور اسے لوگوں میں رائج کردیا اور اس وقت سے دین مسیحی یہی سمجھا جانے لگا۔ جب اس پر ان سب کو رضامند کرلیا تو اب چاروں طرف کلیسا، گرجے اور عبادت خانے بنوانے اور وہاں ان علماء کو بٹھانے اور ان کے ذریعے سے اس اپنی نومولود میسیحت کو پھیلانے کی کوشش میں لگ گیا۔ شام میں، جزیرہ میں، روم میں تقریبا بارہ ہزار ایسے مکانات اس کے زمانے میں تعمیر کرائے گئے اس کی ماں ہیلانہ نے جس جگہ سولی گڑھی ہوئی تھی وہاں ایک قبہ بنوادیا اور اس کی باقاعدہ پرستش شروع ہوگئی۔ اور سب نے یقین کرلیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ سولی پر چڑھ گئے حالانکہ ان کا یہ قول غلط ہے اللہ نے اپنے اس معزز بندے کو اپنی جانب آسمان پر چڑھا لیا ہے۔ یہ عیسائی مذہب کم اختلاف کی ہلکی سی مثال۔ ایسے لوگ جو اللہ پر جھوٹ افترا باندھیں اس کی اولادیں اور شریک وحصہ دار ثابت کریں گو وہ دنیا میں مہلت پالیں لیکن اس عظیم الشان دن کو ان کی ہلاکت انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی اور برباد ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو گو جاری عذاب نہ کرے لیکن بالکل چھوڑتا بھی نہیں۔ بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے لیکن جب اس کی پکڑ نازل ہوتی ہے تو پھر کوئی جائے پناہ باقی نہیں رہتی یہ فرما کر رسول اللہ ﷺ نے آیت قرآن (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ01002) 11۔ ھود :102) تلاوت فرمائی۔ یعنی تیرے رب کی پکڑ کا طریقہ ایسا ہی ہے جب وہ کسی ظلم سے آلودہ بستی کو پکڑتا ہے۔ یقین مانو کہ اس کی پکڑ نہایت المناک اور سخت ہے۔ بخاری مسلم کی اور حدیث میں ہے کہ ناپسند باتوں کو سن کر صبر کرنے والا اللہ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لوگ اس کی اولاد بتلاتے ہیں اور وہ انہیں روزیاں دے رہا ہے اور عافیت بھی۔ خود قرآن فرماتا ہے (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا ۚ وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ 48؀) 22۔ الحج :48) بہت سی بستیوں والے وہ ہیں جن کے ظالم ہونے کے باوجود میں نے انہیں ڈھیل دی پھر پکڑ لیا آخر لوٹنا تو میری ہی جانب ہے۔ اور آیت میں ہے کہ ظالم لوگ اپنے اعمال سے اللہ کو غافل سمجھیں انہیں جو مہلت ہے وہ اس دن تک ہے جس دن آنکھیں اوپر چڑھ جائیں گی۔ یہی فرمان یہاں بھی ہے کہ ان پر اس بہت بڑے دن کی حاضری نہایت سخت دشوار ہوگی۔ صحیح حدیث میں ہے جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ ایک ہے وہی معبود برحق ہے اس کے سوا لائق عبادت اور کوئی نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بندے اور اس کے پیغمبر ہیں اور اسکا کلمہ ہیں جسے حضرت مریم ؑ کی طرف ڈالا تھا اور اس کے پاس کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت اور دوزخ حق ہے اس کے خواہ کیسے ہی اعمال ہوں اللہ اسے ضرور جنت میں پہنچائے گا۔

قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کردیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑ کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں۔ پھر حضور ﷺ نے یہی آیت (وانذرہم) الخ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں (مسندامام احمد) ابن مسعود ؓ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت و افسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔ اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مرجائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں۔ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہوگا اور کام کے خاتمہ کا بھی یہی ہوگا۔ پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چناچہ اور آیت میں ہے (اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ 56؀ۙ) 39۔ الزمر :56) پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے خلیفہ اسلام امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے عبد الحمید بن عبدالرحمن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں لکھا حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کردیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑ کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں۔ پھر حضور ﷺ نے یہی آیت (وانذرہم) الخ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں (مسندامام احمد) ابن مسعود ؓ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت و افسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔ اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مرجائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں۔ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہوگا اور کام کے خاتمہ کا بھی یہی ہوگا۔ پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چناچہ اور آیت میں ہے (اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ 56؀ۙ) 39۔ الزمر :56) پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے خلیفہ اسلام امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے عبد الحمید بن عبدالرحمن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں لکھا حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

قیامت کا دن دوزخیوں کے لئے یوم حسرت۔ارشاد ہے کہ آج دنیا میں یہ کفار آنکھیں بند کئے ہوئے اور کانوں میں جیسے ٹھونسے ہوئے ہیں، لیکن قیامت کے دن ان کی آنکھیں خوب روشن ہوجائیں گی اور کان بھی خوب کھل جائیں گے۔ جیسے فرمان الہٰی ہے (وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الْمُجْرِمُوْنَ نَاكِسُوْا رُءُوْسِهِمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۭ رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ 12 ؀) 32۔ السجدة :12) کاش کہ تو دیکھتا جب یہ گنہگار لوگ اپنے رب کے سامنے شرمسار سرنگوں کھڑے ہوئے کہہ رہے ہوں گے کہ اے اللہ ہم نے دیکھا سنا۔ الخ پس اس دن نہ دیکھنا کام آئے نہ سننا نہ حسرت و افسوس کرنا نہ واویلا کرنا۔ اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں سے دنیا میں کام لے کر اللہ کے دین کو مان لیتے تو آج انہیں حسرت و افسوس نہ کرنا پڑتا اس دن آنکھیں کھولیں گے اور آج اندھے بہرے بنے پھرتے ہیں نہ ہدایت کو طلب کرتے ہیں نہ دیکھتے ہیں نہ بھلی باتیں سنتے ہیں نہ مانتے ہیں۔ مخلوق کو اس حسرت والے دن سے خبردار کر دیجئے جب کہ تمام کام فیصل کردیے جائیں گے، جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں بھیج دیے جائیں گے۔ اس حسرت و ندامت کے دن سے یہ آج غافل ہو رہے ہیں بلکہ ایمان و یقین بھی رکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں چلے جانے کے بعد موت کو ایک بھیڑ کی شکل میں لایا جائے گا اور جنت دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا پھر اہل جنت سے پوچھا جائے گا کہ اسے جانتے ہو ؟ وہ دیکھ کر کہیں گے کہ ہاں یہ موت ہے دوزخیوں سے بھی یہ سوال ہوگا اور وہ بھی یہی جواب دیں گے۔ اب حکم ہوگا اور موت کو ذبح کردیا جائے گا اور ندا کردی جائے گی کہ اہل جنت تمہارے لئے ہمیشہ موت نہیں اور اہل جہنم تمہارے لئے بھی اب ہمیشہ موت نہیں۔ پھر حضور ﷺ نے یہی آیت (وانذرہم) الخ، تلاوت فرمائی۔ اور آپ نے اشارہ کیا اور فرمایا اہل دنیا غفلت دنیا میں ہیں (مسندامام احمد) ابن مسعود ؓ نے ایک واقعہ مطول بیان فرماتے ہوئے فرمایا کہ ہر شخص اپنے دوزخ اور جنت کے گھر کو دیکھ رہا ہوگا وہ دن ہی حسرت و افسوس کا ہے جہنمی اپنے جنتی گھر کو دیکھ رہا ہوگا اور اس سے کہا جاتا ہوگا کہ اگر تم عمل کرتے تو تمہیں یہ جگہ ملتی وہ حسرت و افسوس کرنے لگیں گے ادھر جنتیوں کو ان کا جہنم کا گھر دکھا کر فرمایا جائے گا کہ اگر اللہ کا احسان تم پر نہ ہوتا تو تم یہاں ہوتے۔ اور روایت میں ہے کہ موت کو ذبح کرکے جب ہمیشہ کے لیے آواز لگادی جائے گی اس وقت جنتی تو اس قدر خوش ہوں گے کہ اگر اللہ نہ بچائے تو مارے خوشی کے مرجائیں اور جہنمی اس قدر رنجیدہ ہو کر چیخیں گے کہ اگر موت ہوتی تو ہلاک ہوجائیں۔ پس اس آیت کا یہی مطلب ہے یہ وقت حسرت کا بھی ہوگا اور کام کے خاتمہ کا بھی یہی ہوگا۔ پس اس آیت کا مطلب ہے یہ وقت حسرت بھی ہوگا اور کام کا بھی یہی ہوگا۔ پس یوم الحسرت بھی قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے چناچہ اور آیت میں ہے (اَنْ تَـقُوْلَ نَفْسٌ يّٰحَسْرَتٰى عَلٰي مَا فَرَّطْتُّ فِيْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَاِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِيْنَ 56؀ۙ) 39۔ الزمر :56) پھر بتایا کہ خالق مالک متصرف اللہ ہی ہے سب اسی کی ملکیت ہے اور سب کو فنا ہے باقی صرف اللہ تبارک وتعالیٰ جل شانہ ہی ہے کوئی ملکیت اور تصرف کا سچا دعویدار بجز اس کے کوئی نہیں تمام خلق کا وارث حاکم وہی ہے اس کی ذات ظلم سے پاک ہے خلیفہ اسلام امیر المومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے عبد الحمید بن عبدالرحمن کو کوفے میں خط لکھا، جس میں لکھا حمد وصلوۃ کے بعد اللہ نے روز اول سے ہی ساری مخلوق پر فنا لکھ دی ہے۔ سب کو اس کی طرف پہنچنا ہے، اس نے اپنی نازل کردہ سچی کتاب میں جسے اپنے علم سے محفوظ کئے ہوئے ہے اور جس کی نگہبانی اپنے فرشتوں سے کرا رہا ہے لکھ دیا ہے کہ زمین کا اور اس کے اوپر جو ہیں ان کا وارث وہی ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

بتوں کی پوجا۔مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60؀ۙ) 36۔ يس :60) ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور آیت میں ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) ، یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا۔ ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بیکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 16۔ النحل :63) یعنی یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے۔

بتوں کی پوجا۔مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60؀ۙ) 36۔ يس :60) ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور آیت میں ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) ، یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا۔ ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بیکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 16۔ النحل :63) یعنی یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے۔

بتوں کی پوجا۔مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60؀ۙ) 36۔ يس :60) ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور آیت میں ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) ، یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا۔ ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بیکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 16۔ النحل :63) یعنی یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے۔

بتوں کی پوجا۔مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60؀ۙ) 36۔ يس :60) ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور آیت میں ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) ، یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا۔ ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بیکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 16۔ النحل :63) یعنی یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے۔

بتوں کی پوجا۔مشرکین مکہ جو بت پرست ہیں اور اپنے آپ کو خلیل اللہ کا متبع خیال کرتے ہیں ان کے سامنے اے نبی ﷺ خود حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ بیان کیجئے۔ اس سچے نبی نے اپنے باپ کی بھی پرواہ نہ کی اور اس کے سامنے بھی حق کو واضح کردیا اور اسے بت پرستی سے روکا۔ صاف کہا کہ کیوں ان بتوں کی پوجا پاٹ کر رہے ہوں جو نہ نفع پہنچا سکیں نہ ضرر۔ فرمایا کہ میں بیشک آپ کا بچہ ہوں لیکن اللہ کا علم جو میرے پاس ہے آپ کے پاس نہیں آپ میری اتباع کیجئے میں آپ کو راہ راست دکھاؤں گا برائیوں سے بچادوں گا۔ ابا جی یہ بت پرستی تو شیطان کی تابعداری ہے وہی اس کی راہ سمجھاتا ہے اور وہی اس سے خوش ہوتا ہے۔ جیسے سورة یاسین میں ہے (اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَيْكُمْ يٰبَنِيْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطٰنَ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ 60؀ۙ) 36۔ يس :60) ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے انسانوں کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور آیت میں ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) ، یہ لوگ تو عورتوں کو پکارتے ہیں اور اللہ کو چھوڑتے ہیں دراصل یہ سرکش شیطان کے پکارنے والے ہیں آپ نے فرمایا شیطان اللہ کا نافرمان ہے، مخالف ہے، اس کی فرمابرداری سے تکبر کرنے والا ہے، اسی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا ہے اگر تو نے بھی اس کی اطاعت کی تو وہ اپنی حالت پر تجھے بھی پہنچادے گا۔ ابا جان آپ کے اس شرک وعصیان کی وجہ سے مجھے تو خوف ہے کہ کہیں آپ پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آجائے اور آپ شیطان کے دوست اور اس کے ساتھی نہ بن جائیں اور اللہ کی مدد اور اس کا ساتھ آپ سے چھوٹ نہ جائے۔ دیکھو شیطان خود بیکس بےبس ہے اس کی تابعداری آپ کو بری جگہ پہنچا دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے۔ (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ الْيَوْمَ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ 63؀) 16۔ النحل :63) یعنی یہ یقینی اور قسمیہ بات ہے کہ تجھ سے پہلے کی امتوں کی طرف بھی ہم نے رسول بھیجے لیکن شیطان نے ان کی بداعمالیاں انہیں مزین کر کے دکھلائیں اور وہی ان کا ساتھی بن گیا لیکن کام کچھ نہ آیا اور قیامت کے دن عذاب الیم میں پھنس گئے۔

باپ کی ابراہیم ؑ کو دھمکی۔حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا، انہیں برا کہتا رہا، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہوجائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔ مومنوں کا یہی شیویہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں جیسے کہ قرآن میں ہے (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا 63؀) 25۔ الفرقان :63) جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ سلام۔ اور آیت میں ہے لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا کہ میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لئے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی مسجد حرام بنانے کے بعد بھی آپ کے ہاں اولاد ہوجانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ اے اللہ مجھے میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرو۔ آپ ہی کی اقتدا میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لئے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم ؑ قابل اتباع ہیں لیکن اس باب میں ان کا فعل اس قابل نہیں اور آیت میں فرمایا (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ01103) 9۔ التوبہ :113) ، یعنی نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرنا چاہئے الخ۔ اور فرمایا کہ ابراہیم کا یہ استغفار صرف اس بنا پر تھا کہ آپ اپنے والد سے اس کا وعدہ کرچکے تھے لیکن جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بری ہوگئے۔ ابراہیم تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں، میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ عسی یقین کے معنوں میں ہے اس لئے کہ آپ انحضرت ﷺ کے بعد سید الانبیاء ہیں ﷺ۔

باپ کی ابراہیم ؑ کو دھمکی۔حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا، انہیں برا کہتا رہا، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہوجائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔ مومنوں کا یہی شیویہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں جیسے کہ قرآن میں ہے (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا 63؀) 25۔ الفرقان :63) جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ سلام۔ اور آیت میں ہے لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا کہ میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لئے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی مسجد حرام بنانے کے بعد بھی آپ کے ہاں اولاد ہوجانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ اے اللہ مجھے میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرو۔ آپ ہی کی اقتدا میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لئے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم ؑ قابل اتباع ہیں لیکن اس باب میں ان کا فعل اس قابل نہیں اور آیت میں فرمایا (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ01103) 9۔ التوبہ :113) ، یعنی نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرنا چاہئے الخ۔ اور فرمایا کہ ابراہیم کا یہ استغفار صرف اس بنا پر تھا کہ آپ اپنے والد سے اس کا وعدہ کرچکے تھے لیکن جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بری ہوگئے۔ ابراہیم تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں، میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ عسی یقین کے معنوں میں ہے اس لئے کہ آپ انحضرت ﷺ کے بعد سید الانبیاء ہیں ﷺ۔

باپ کی ابراہیم ؑ کو دھمکی۔حضرت ابراہیم ؑ کے اس طرح سمجھانے پر ان کے باپ نے جو جہالت کا جواب دیا وہ بیان ہو رہا ہے کہ اس نے کہا ابراہیم تو میرے معبودوں سے بیزار ہے، ان کی عبادت سے تجھے انکار ہے اچھا سن رکھ اگر تو اپنی اس حرکت سے باز نہ آیا، انہیں برا کہتا رہا، ان کی عیب جوئی اور انہیں گالیاں دینے سے نہ رکا تو میں تجھے سنگسار کر دونگا۔ مجھے تو تکلیف نہ دے نہ مجھ سے کچھ کہہ۔ یہی بہتر ہے کہ تو سلامتی کے ساتھ مجھ سے الگ ہوجائے ورنہ میں تجھے سزا دوں گا۔ مجھ سے تو تو اب ہمیشہ کے لئے گیا گزرا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا اچھا خوش رہو میری طرف سے آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی کیونکہ آپ میرے والد ہیں بلکہ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ آپ کو نیک توفیق دے اور آپ کے گناہ بخشے۔ مومنوں کا یہی شیویہ ہوتا ہے کہ وہ جاہلوں سے بھڑتے نہیں جیسے کہ قرآن میں ہے (وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا 63؀) 25۔ الفرقان :63) جاہلوں سے جب ان کا خطاب ہوتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ سلام۔ اور آیت میں ہے لغو باتوں سے وہ منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم پر سلام ہو۔ ہم جاہلوں کے درپے نہیں ہوتے۔ پھر فرمایا کہ میرا رب میرے ساتھ بہت مہربان ہے اسی کی مہربانی ہے کہ مجھے ایمان و اخلاص کی ہدایت کی۔ مجھے اس سے اپنی دعا کی قبولیت کی امید ہے اسی وعدے کے مطابق آپ ان کے لئے بخشش طلب کرتے رہے۔ شام کی ہجرت کے بعد بھی مسجد حرام بنانے کے بعد بھی آپ کے ہاں اولاد ہوجانے کے بعد بھی آپ کہتے رہے کہ اے اللہ مجھے میرے ماں باپ کو اور تمام ایمان والوں کو حساب کے قائم ہونے کے دن بخش دے۔ آخر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی کہ مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرو۔ آپ ہی کی اقتدا میں پہلے پہل مسلمان بھی ابتداء اسلام کے زمانے میں اپنے قرابت دار مشرکوں کے لئے طلب بخشش کی دعائیں کرتے رہے۔ آخر آیت نازل ہوئی کہ بیشک ابراہیم ؑ قابل اتباع ہیں لیکن اس باب میں ان کا فعل اس قابل نہیں اور آیت میں فرمایا (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ01103) 9۔ التوبہ :113) ، یعنی نبی کو اور ایمانداروں کو مشرکوں کے لئے استغفار نہ کرنا چاہئے الخ۔ اور فرمایا کہ ابراہیم کا یہ استغفار صرف اس بنا پر تھا کہ آپ اپنے والد سے اس کا وعدہ کرچکے تھے لیکن جب آپ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بری ہوگئے۔ ابراہیم تو بڑے ہی اللہ دوست اور علم والے تھے۔ پھر فرماتے ہیں کہ میں تم سب سے اور تمہارے ان تمام معبودوں سے الگ ہوں، میں صرف اللہ واحد کا عابد ہوں، اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کرتا میں فقط اسی سے دعائیں اور التجائیں کرتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنی دعاؤں میں محروم نہ رہوں گا۔ واقعہ بھی یہی ہے اور یہاں پر لفظ عسی یقین کے معنوں میں ہے اس لئے کہ آپ انحضرت ﷺ کے بعد سید الانبیاء ہیں ﷺ۔

لا تعلق ہونے کا اعلان۔خلیل اللہ ؑ ماں باپ کو رشتے کنبے کو قوم وملک کو اللہ کے دین پر قربان کرچکے سب سے یک طرف ہوگئے اپنی برات اور علیحدگی کا اعلان کردیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کردی آپ کے ہاں حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق کے ہاں یعقوب ؑ ہوئے۔ جیسے فرمان ہے (وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72؀) 21۔ الأنبیاء :72) اور آیت میں ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71؀) 11۔ ھود :71) یعنی اسحاق کے پیچھے یعقوب پس حضرت اسحاق حضرت یعقوب ؑ کے والد تھے جیسے سورة بقرہ کی آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ01303) 2۔ البقرة :133) ، میں صاف لفظ ہیں کہ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق ؑ۔ پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی بیٹا دیا بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے بعد آپ کے فرزند حضرت یوسف ؑ بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لئے کہ حضرت یوسف ؑ کی نبوت کے وقت خلیل اللہ ؑ زندہ نہ تھے یہ دونوں نبوتیں یعنی حضرت اسحاق ؑ و یعقوب ؑ کی نبوت آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لئے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے فرمایا، یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ۔ اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں۔ فصلوۃ اللہ وسلامہ علہیم اجمعین۔

لا تعلق ہونے کا اعلان۔خلیل اللہ ؑ ماں باپ کو رشتے کنبے کو قوم وملک کو اللہ کے دین پر قربان کرچکے سب سے یک طرف ہوگئے اپنی برات اور علیحدگی کا اعلان کردیا تو اللہ نے ان کی نسل جاری کردی آپ کے ہاں حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوئے اور حضرت اسحاق کے ہاں یعقوب ؑ ہوئے۔ جیسے فرمان ہے (وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً ۭ وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ 72؀) 21۔ الأنبیاء :72) اور آیت میں ہے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ 71؀) 11۔ ھود :71) یعنی اسحاق کے پیچھے یعقوب پس حضرت اسحاق حضرت یعقوب ؑ کے والد تھے جیسے سورة بقرہ کی آیت (اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ01303) 2۔ البقرة :133) ، میں صاف لفظ ہیں کہ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے پوچھا کہ تم سب میرے بعد کس کی عبادت کروگے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اسی اللہ کی جس کی عبادت آپ کرتے ہیں اور آپ کے والد ابراہیم اسماعیل اور اسحاق ؑ۔ پس یہاں مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس کی نسل جاری رکھی بیٹا دیا بیٹے کے ہاں بیٹا دیا اور دونوں نبی بنا کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ یہ ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کے بعد آپ کے فرزند حضرت یوسف ؑ بھی نبی بنائے گئے تھے ان کا ذکر یہاں نہیں کیا اس لئے کہ حضرت یوسف ؑ کی نبوت کے وقت خلیل اللہ ؑ زندہ نہ تھے یہ دونوں نبوتیں یعنی حضرت اسحاق ؑ و یعقوب ؑ کی نبوت آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے تھی اس لئے اس احسان کا ذکر بیان فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ سے جب سوال ہوا کہ سب سے بہتر شخص کون ہے فرمایا، یوسف بن یعقوب نبی اللہ بن اسحاق نبی اللہ بن ابراہیم نبی اللہ وخلیل اللہ۔ اور حدیث میں ہے کریم بن کریم بن کریم بن کریم، یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم ہیں۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ ہم نے انہیں اپنی بہت ساری رحمتیں دیں اور ان کا ذکر خیر اور ثنا جمیل کو دنیا میں ان کے بعد بلندی کے ساتھ باقی رکھا یہاں تک کہ ہر مذہب والے ان کے گن گاتے ہیں۔ فصلوۃ اللہ وسلامہ علہیم اجمعین۔

خلوص ابراہیم ؑ۔اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی، نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کردیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی۔ فرمایا تھا (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34؀) 28۔ القصص :34) ، اور آیت میں ہے (قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36۔) 20۔ طه :36) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کردیا۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں (فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13؀) 26۔ الشعراء :13) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ ؑ سے بڑے تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما۔

خلوص ابراہیم ؑ۔اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی، نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کردیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی۔ فرمایا تھا (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34؀) 28۔ القصص :34) ، اور آیت میں ہے (قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36۔) 20۔ طه :36) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کردیا۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں (فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13؀) 26۔ الشعراء :13) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ ؑ سے بڑے تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما۔

خلوص ابراہیم ؑ۔اپنے خلیل ؑ کا بیان فرما کر اب اپنے کلیم ؑ کا بیان فرماتا ہے۔ مُخلَصاً کی دوسری قرأت مُخلِصاً بھی ہے۔ یعنی وہ بااخلاص عبات کرنے والے تھے۔ مروی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ ؑ سے دریافت کیا کہ اے روح اللہ ہمیں بتائیے مخلص شخص کون ہے ؟ آپ نے فرمایا جو محض اللہ کے لئے عمل کرے اسے اس بات کی چاہت نہ ہو کہ لوگ میری تعریفیں کریں۔ دوسری قرأت میں مخلصا ہے یعنی اللہ کے چیدہ اور برگزیدہ بندے حضرت موسیٰ ؑ جیسے فرمان باری ہے (اِنِّى اصْطَفَيْتُكَ عَلَي النَّاسِ بِرِسٰلٰتِيْ وَبِكَلَامِيْ ڮ فَخُذْ مَآ اٰتَيْتُكَ وَكُنْ مِّنَ الشّٰكِرِيْنَ01404) 7۔ الاعراف :144) آپ اللہ کے نبی اور رسول تھے پانچ بڑے بڑے جلیل القدر اولو العزم رسولوں میں سے ایک آپ ہیں یعنی، نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور محمد صلوات اللہ وسلامہ علیہم وعلی سائر الانبیاء اجمعین۔ ہم نے انہیں مبارک پہاڑطور کی دائیں جانب سے آواز دی سرگوشی کرتے ہوئے اپنے قریب کرلیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپ آگ کی تلاش میں طور کی طرف یہاں آگ دیکھ کر بڑھے تھے۔ ابن عباس ؓ وغیرہ فرماتے ہیں اس قدر قریب ہوگئے کہ قلم کی آواز سننے لگے۔ مراد اس سے توراۃ لکھنے کی قلم ہے۔ سدی کہتے ہیں آسمان میں گئے اور کلام باری سے مشرف ہوئے۔ کہتے ہیں انہی باتوں میں یہ فرمان بھی ہے کہ اے موسیٰ جب کہ میں ترے دل کو شکر گزار اور تیری زبان کو اپنا ذکر کرنے والی بنا دوں اور تجھے ایسی بیوی دوں جو نیکی کے کاموں میں تیری معاون ہو تو سمجھ لے کہ میں نے تجھ سے کوئی بھلائی اٹھا نہیں رکھی۔ اور جسے میں یہ چیزیں نہ دوں سمجھ لے کہ اسے کوئی بھلائی نہیں ملی۔ ان پر ایک مہربانی ہم نے یہ بھی کی کہ ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر ان کی امداد کے لئے ان کے ساتھ کردیا جیسے کہ آپ کی چاہت اور دعا تھی۔ فرمایا تھا (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ ۡ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 34؀) 28۔ القصص :34) ، اور آیت میں ہے (قَالَ قَدْ اُوْتِيْتَ سُؤْلَكَ يٰمُوْسٰى 36۔) 20۔ طه :36) موسیٰ تیرا سوال ہم نے پورا کردیا۔ آپ کی دعا کے لفظ یہ بھی وارد ہیں (فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ 13؀) 26۔ الشعراء :13) ، ہارون کو بھی رسول بنا الخ کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ دعا اور اس سے بڑھ کر شفاعت کسی نے کسی کی دنیا میں نہیں کی۔ حضرت ہارون حضرت موسیٰ ؑ سے بڑے تھے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھما۔

ابو الحجاز ؑ۔حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے آپ سارے حجاز کے باپ ہیں جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آجانا۔ حسب وعدہ حضرت اسماعیل ؑ وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھیرے رہے یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا اب اس شخص کو یاد آیا اس نے آکر دیکھا کہ آپ وہیں انتظار میں ہیں پوچھا کہ کیا آپ کل سے یہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب وعدہ ہوچکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تو کہتے ہیں یہیں انتظار میں ہی آپ کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں وہیں مکان کرلیا تھا۔ عبداللہ بن الحما کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے میں نے آپ سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ یہیں ٹھہریے میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ مشقت میں ڈال دیا میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا۔ (خرائطی) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ نے بوقت ذبح کیا تھا کہ اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ چناچہ فی الواقع آپ نے وعدے کی وفا کی اور صبرو برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے ایمان والو وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت۔ ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں یہی وعدے کی سچائی حضرت اسماعیل ؑ میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفیٰ ﷺ میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ نے نہیں کیا۔ آپ نے ایک مرتبہ ابو العاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا پورا کیا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کردیا کہ جس سے نبی کریم ﷺ نے جو وعدہ کیا ہو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور حضور ﷺ پر جس کا قرض ہو میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چناچہ حضرت جابر بن عبداللہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے حضرت جابر ؓ کو بلوا کر فرمایا لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو۔ پھر حضرت اسماعیل کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ حضرت اسحاق ؑ کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چناچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اولاد ابراہیم ؑ میں سے اللہ نے حضرت اسماعیل ؑ کو پسند فرمایا، الخ۔ پھر آپ کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ آپ اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے۔ یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا آنحضرت ﷺ کو ہے (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۭ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى01302) 20۔ طه :132) ، اپنی اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ۔ اور آیت میں ہے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم :6) ، اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنیے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں۔ پس مسلمانوں کو حکم الہٰی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں گناہوں سے روکتے رہیں یونہی بےتعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے (ابو داؤد، ابن ماجہ) آپ کا فرمان ہے کہ جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کرلیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لئے جاتے ہیں (ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)

ابو الحجاز ؑ۔حضرت اسماعیل بن حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کا ذکر خیر بیان ہو رہا ہے آپ سارے حجاز کے باپ ہیں جو نذر اللہ کے نام کی مانتے تھے جو عبادت کرنے کا ارادہ کرتے تھے پوری ہی کرتے تھے۔ ہر حق ادا کرتے تھے ہر وعدے کی وفا کرتے تھے۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ فلاں جگہ آپ کو ملوں گا وہاں آپ آجانا۔ حسب وعدہ حضرت اسماعیل ؑ وہاں گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا تھا۔ آپ اس کے انتظار میں وہیں ٹھیرے رہے یہاں تک کہ ایک دن رات پورا گزر گیا اب اس شخص کو یاد آیا اس نے آکر دیکھا کہ آپ وہیں انتظار میں ہیں پوچھا کہ کیا آپ کل سے یہیں ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب وعدہ ہوچکا تھا تو پھر میں آپ کے آئے بغیر کیسے ہٹ سکتا تھا اس نے معذرت کی کہ میں بالکل بھول گیا تھا۔ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تو کہتے ہیں یہیں انتظار میں ہی آپ کو ایک سال کامل گزر چکا تھا۔ ابن شوزب کہتے ہیں وہیں مکان کرلیا تھا۔ عبداللہ بن الحما کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت سے پہلے میں نے آپ سے کچھ تجارتی لین دین کیا تھا میں چلا گیا اور یہ کہہ گیا کہ آپ یہیں ٹھہریے میں ابھی واپس آتا ہوں پھر مجھے خیال ہی نہ رہا وہ دن گزرا وہ رات گزری دوسرا دن گزر گیا تیسرے دن مجھے خیال آیا تو دیکھا آپ وہیں تشریف فرما ہیں۔ آپ نے فرمایا تم نے مجھ مشقت میں ڈال دیا میں آج تین دن سے یہیں تمہارا انتظار کرتا رہا۔ (خرائطی) یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اس وعدے کا ذکر ہے جو آپ نے بوقت ذبح کیا تھا کہ اباجی آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے۔ چناچہ فی الواقع آپ نے وعدے کی وفا کی اور صبرو برداشت سے کام لیا۔ وعدے کی وفا نیک کام ہے اور وعدہ خلافی بہت بری چیز ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے ایمان والو وہ باتیں زبان سے کیوں نکالتے ہو جن پر خود عمل نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بات نہایت ہی غضبناکی کی ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ، وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت۔ ان آفتوں سے مومن الگ تھلگ ہوتے ہیں یہی وعدے کی سچائی حضرت اسماعیل ؑ میں تھی اور یہی پاک صفت جناب محمد مصطفیٰ ﷺ میں بھی تھی۔ کبھی کسی سے کسی وعدے کے خلاف آپ نے نہیں کیا۔ آپ نے ایک مرتبہ ابو العاص بن ربیع کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے مجھ سے جو بات کی سچی کی اور جو وعدہ اس نے مجھ سے کیا پورا کیا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے تخت خلافت نبوی پر قدم رکھتے ہی اعلان کردیا کہ جس سے نبی کریم ﷺ نے جو وعدہ کیا ہو میں اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہوں اور حضور ﷺ پر جس کا قرض ہو میں اس کی ادائیگی کے لیے موجود ہوں۔ چناچہ حضرت جابر بن عبداللہ تشریف لائے اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو میں تجھے تین لپیں بھر کر دونگا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس جب بحرین کا مال آیا تو آپ نے حضرت جابر ؓ کو بلوا کر فرمایا لو لپ بھر لو۔ آپ کی لپ میں پانچ سو درہم آئے حکم دیا کہ تین لپوں کے پندرہ سو درہم لے لو۔ پھر حضرت اسماعیل کا رسول نبی ہونا بیان فرمایا۔ حالانکہ حضرت اسحاق ؑ کا صرف نبی ہونا بیان فرمایا گیا ہے اس سے آپ کی فضیلت اپنے بھائی پر ثابت ہوتی ہے۔ چناچہ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اولاد ابراہیم ؑ میں سے اللہ نے حضرت اسماعیل ؑ کو پسند فرمایا، الخ۔ پھر آپ کی مزید تعریف بیان ہو رہی ہے کہ آپ اللہ کی اطاعت پر صابر تھے اور اپنے گھرانے کو بھی یہی حکم فرماتے رہتے تھے۔ یہی فرمان اللہ تعالیٰ کا آنحضرت ﷺ کو ہے (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۭ لَا نَسْــَٔــلُكَ رِزْقًا ۭ نَحْنُ نَرْزُقُكَ ۭ وَالْعَاقِبَةُ للتَّقْوٰى01302) 20۔ طه :132) ، اپنی اہل و عیال کو نماز کا حکم کرتا رہ اور خود بھی اس پر مضبوطی سے عامل رہ۔ اور آیت میں ہے (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ) 66۔ التحریم :6) ، اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنیے اہل و عیال کو اس آگ سے بچا لو جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر۔ جہاں عذاب کرنے والے فرشتے رحم سے خالی زور آور اور بڑے سخت ہیں۔ ناممکن ہے کہ اللہ کے حکم کا وہ خلاف کریں بلکہ جو ان سے کہا گیا ہے اسی کی تابعداری میں مشغول ہیں۔ پس مسلمانوں کو حکم الہٰی ہو رہا ہے کہ اپنے گھر بار کو اللہ کی باتوں کی ہدایت کرتے رہیں گناہوں سے روکتے رہیں یونہی بےتعلیم نہ چھوڑیں کہ وہ جہنم کا لقمہ بن جائیں رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اس مرد پر اللہ کا رحم ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اپنے بستر سے اٹھتا ہے پھر اپنی بیوی کو اٹھاتا ہے اور اگر وہ نہیں اٹھتی تو اس کے منہ پر پانی چھڑک کر اسے نیند سے بیدار کرتا ہے اس عورت پر بھی اللہ کی رحمت ہو جو رات کو تہجد پڑھنے کے لئے اٹھتی ہے۔ پھر اپنے میاں کو جگاتی ہے اور نہ جاگے تو اس کے منہ پر پانی کا چھینٹا ڈالتی ہے (ابو داؤد، ابن ماجہ) آپ کا فرمان ہے کہ جب انسان رات کو جاگے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے اور دونوں دو رکعت بھی نماز کی ادا کرلیں تو اللہ کے ہاں اللہ کا ذکر کرنے والے مردوں عورتوں میں دونوں کے نام لکھ لئے جاتے ہیں (ابوداؤد، نسائی ابن ماجہ)

حضرت ادریس ؑ کا تعارف۔حضرت ادریس ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس ؑ سے ملاقات کی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر ؒ نے ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے حضرت کعب ؓ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس ؑ کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا جب چوتھے آسمان پر آپ پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے حضرت ادریس ؑ کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا وہ کہاں ہیں ؟ اس نے کہا یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر اس کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چناچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب ؒ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے واللہ اعلم۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں دیکھ کر فرمایا صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو حضرت ادریس ؑ کی روح پرواز ہوچکی تھی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ درزی تھے سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر سبحان اللہ کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے مجاہد ؒ تو کہتے ہیں حضرت ادریس ؑ آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ مرے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح بےموت اٹھا لئے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن ؒ کہتے بلند مکان سے مراد جنت ہے۔

حضرت ادریس ؑ کا تعارف۔حضرت ادریس ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس ؑ سے ملاقات کی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر ؒ نے ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے حضرت کعب ؓ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس ؑ کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا جب چوتھے آسمان پر آپ پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے حضرت ادریس ؑ کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا وہ کہاں ہیں ؟ اس نے کہا یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر اس کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چناچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب ؒ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے واللہ اعلم۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں دیکھ کر فرمایا صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو حضرت ادریس ؑ کی روح پرواز ہوچکی تھی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ درزی تھے سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر سبحان اللہ کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے مجاہد ؒ تو کہتے ہیں حضرت ادریس ؑ آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ مرے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح بےموت اٹھا لئے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن ؒ کہتے بلند مکان سے مراد جنت ہے۔

انبیاء کی جماعت کا ذکر۔فرمان الہٰی ہے کہ یہ ہے جماعت انبیاء یعنی جن کا ذکر اس سورت میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی حضرت ادریس صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور اولاد سے ان کی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے اس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم ؑ سے مراد حضرت اسحاق، حضرت یعقوب حضرت اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ہیں علیہم السلام۔ یہی قول ہے حضرت سدی ؒ اور ابن جریر ؒ کا۔ اسی لئے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو حضرت نوح ؑ کے ساتھی تھے کیونکہ حضرت ادریس تو حضرت نوح ؑ کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ حضرت نوح ؑ کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر حضرت ادریس ؑ ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ادریس بنی اسرائیلی نبی ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں حضرت ادریس کا بھی حضور ﷺ سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو بنی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو۔ تو بھائی صالح کہا نہ کہ صالح ولد جیسے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت آدم (علیہما السلام) نے کہا تھا۔ مروی ہے کہ حضرت ادریس ؑ حضرت نوح ؑ سے پہلے کے ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ لا الہ الا اللہ کے قائل اور معتقدین بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لئے قرار دیا ہے اس کی دلیل سورة انعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، حضرت نوح ؑ ، حضرت داؤد ؑ ، حضرت سیلمان ؑ ، حضرت ایوب ؑ ، حضرت یوسف ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ ، حضرت زکریا ؑ ، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت الیاس ؑ ، حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت یونس ؑ ، وغیرہ کا ذکر ہے اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ۭ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ 90؀) 6۔ الانعام :90) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتدا کر اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کردیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت مجاہد ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے آپ نے فرمایا ہاں پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا تمہارے نبی ﷺ کو ان کی اقتدا کا حکم کیا گیا ہے اور حضرت داؤد ؑ بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں۔ فرمان ہے کہ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل وبراہین پر خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے اسی لئے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اوراقتدا ہوجائے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ نے سورة مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں ؟ (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)

حدود الہٰی کے محافظ۔نیک لوگوں کا خصوصا انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر کیا جو حدود الہٰی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے۔ اسی لئے امام احمد ؒ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔ یہی ایک قول حضرت امام شافعی ؒ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا۔ اس مسئلہ کو تقصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ نے فرمایا ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ تو کفر ہے۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کردینا ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔ عطابن ابو رباح ؒ یہی فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کردیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو قاری تین قسم کے ہوتے ہیں مومن منافق اور فاجر۔ راوی حدیث حضرت ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضرت مائی عائشہ ؓ اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔ حضرت کعب بن احبار ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشا کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کرکے پیٹو بن کر کھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو شہب عطا رومی ؒ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ پر وحی آئی کہ اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہوجاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کردیتا ہوں۔ مسند احمد میں ہے مجھے اپنی امت میں دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑجائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے۔ غیا کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غی جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔ ابن جریر میں ہے لقمان بن عامر فرماتے ہیں میں حضرت ابو امامہ صدی بن عجلان باہلی ؓ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھنکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے۔ غی کا ذکر آیت (فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا 59؀ۙ) 19۔ مریم :59) میں ہے اور اثام کا ذکر آیت (وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68؀ۙ) 25۔ الفرقان :68) میں ہے اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث کی رو سے بھی غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے ہاں جو ان کاموں سے توبہ کرلے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گیا اس کی عاقبت سنوار دے گا اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ۔ یہ لوگ جو نیکیاں کریں ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہوگا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کردیتا ہے۔ سورة فرقان میں گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنا کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور ورحیم ہے۔

حدود الہٰی کے محافظ۔نیک لوگوں کا خصوصا انبیاء کرام (علیہم السلام) کا ذکر کیا جو حدود الہٰی کے محافظ، نیک اعمال کے نمونے بدیوں سے بچتے ہیں۔ اب برے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ان کے بعد کے زمانے والے ایسے ہوئے کہ وہ نمازوں تک سے بےپرواہ بن گئے اور جب نماز جیسے فریضے کی اہمیت کو بھلا بیٹھے تو ظاہر ہے کہ اور واہیات کی وہ کیا پرواہ کریں گے ؟ کیونکہ نماز تو دین کی بنیاد ہے اور تمام اعمال سے افضل وبہتر ہے۔ یہ لوگ نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے دنیا کی زندگی پر اطمینان سے ریجھ کئے انہیں قیامت کے دن سخت خسارہ ہوگا بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔ نماز کے ضائع کرنے سے مراد یا تو اسے بالکل ہی چھوڑنا بیٹھنا ہے۔ اسی لئے امام احمد ؒ اور بہت سے سلف خلف کا مذہب ہے کہ نماز کا تارک کافر ہے۔ یہی ایک قول حضرت امام شافعی ؒ کا بھی ہے کیونکہ حدیث میں ہے کہ بندے اور شرک کے درمیان نماز کا چھوڑنا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ ہم میں اور ان میں فرق نماز کا ہے جس نے نماز چھوڑ دی وہ کافر ہوگیا۔ اس مسئلہ کو تقصیل سے بیان کرنے کا یہ مقام نہیں۔ یا نماز کے ترک سے مراد نماز کے وقتوں کی صحیح طور پر پابندی کا نہ کرنا ہے کیونکہ ترک نماز تو کفر ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے دریافت کیا گیا کہ قرآن کریم میں نماز کا ذکر بہت زیادہ ہے، کہیں نمازوں میں سستی کرنے والوں کے عذاب کا بیان ہے، کہیں نماز کی مداوت کا فرمان ہے، کہیں محافظت کا۔ آپ نے فرمایا ان سے مراد وقتوں میں سستی نہ کرنا اور وقتوں کی پابندی کرنا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم تو سمجھتے تھے کہ اس سے مراد نمازوں کا چھوڑ دینا اور نہ چھوڑنا ہے۔ آپ نے فرمایا یہ تو کفر ہے۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کی حفاظت کرنے والا غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، ان کا ضائع کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنا ہے اور ان کا ضائع کرنا ان کے وقتوں کی پابندی نہ کرنا ہے۔ خلیفۃ المسلمین امیرالمومنین حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ اس سے مراد سرے سے نماز چھوڑ دینا نہیں بلکہ نماز کے وقت کو ضائع کردینا ہے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ بدترین لوگ قریب بہ قیامت آئیں گے جب کہ اس امت کے صالح لوگ باقی نہ رہے ہوں گے اس وقت یہ لوگ جانوروں کی طرح کودتے پھاندتے پھریں گے۔ عطابن ابو رباح ؒ یہی فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آخری زمانے میں ہوں گے۔ حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں یہ اس امت کے لوگ ہوں گے جو چوپایوں اور گدھوں کی مانند راستوں میں اچھل کود کریں گے اور اللہ تعالیٰ سے جو آسمان میں ہے بالکل نہ ڈریں گے اور نہ لوگوں سے شرمائیں گے ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا یہ ناخلف لوگ ساٹھ سال کے بعد ہوں گے جو نمازوں کو ضائع کردیں گے اور شہوت رانیوں میں لگ جائیں گے اور قیامت کے دن خمیازہ بھگتیں گے۔ پھر ان کے بعد وہ نالائق لوگ آئیں گے جو قرآن کی تلاوت تو کریں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔ یاد رکھو قاری تین قسم کے ہوتے ہیں مومن منافق اور فاجر۔ راوی حدیث حضرت ولید سے جب ان کے شاگرد نے اس کی تفصیل پوچھی تو آپ نے فرمایا ایماندار تو اس کی تصدیق کریں گے۔ نفاق والے اس پر عقیدہ نہ رکھیں گے اور فاجر اس سے اپنی شکم پری کرے گا۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضرت مائی عائشہ ؓ اصحاب صفہ کے لیے جب کچھ خیرات بھجواتیں تو کہہ دیتیں کہ بربری مرد و عورت کو نہ دینا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ یہی وہ ناخلف ہیں جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔ محمد بن کعب قرظی کا فرمان ہے کہ مراد اس سے مغرب کے بادشاہ ہیں جو بدترین بادشاہ ہیں۔ حضرت کعب بن احبار ؒ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں منافقوں کے وصف قرآن کریم میں پاتا ہوں۔ یہ نشے پینے والے، نمازیں چھوڑنے والے، شطرنج چوسر وغیرہ کھیلنے والے، عشا کی نمازوں کے وقت سو جانے والے، کھانے پینے میں مبالغہ اور تکلف کرکے پیٹو بن کر کھانے والے، جماعتوں کو چھوڑنے والے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں مسجدیں ان لوگوں سے خالی نظر آتی ہیں اور بیٹھکیں بارونق بنی ہوئی ہیں۔ ابو شہب عطا رومی ؒ فرماتے ہیں حضرت داؤد ؑ پر وحی آئی کہ اپنے ساتھیوں کو ہوشیار کر دے کہ وہ اپنی نفسانی خواہشوں سے باز رہیں جن کے دل خواہشوں کے پھیر میں رہتے ہیں، میں ان کی عقلوں پر پردہ ڈال دیتا ہوں جب کوئی بندہ شہوت میں اندھا ہوجاتا ہے تو سب سے ہلکی سزا میں اسے یہ دیتا ہوں کہ اپنی اطاعت سے اسے محروم کردیتا ہوں۔ مسند احمد میں ہے مجھے اپنی امت میں دو چیزوں کا بہت ہی خوف ہے ایک تو یہ کہ لوگ جھوٹ کے اور بناؤ کے اور شہوت کے پیچھے پڑجائیں گے اور نمازوں کو چھوڑ بیٹھیں گے، دوسرے یہ کہ منافق لوگ دنیا دکھاوے کو قرآن کے عامل بن کر سچے مومنوں سے لڑیں جھگڑیں گے۔ غیا کے معنی خسران اور نقصان اور برائی کے ہیں۔ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ غی جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور نہایت سخت عذابوں والی۔ اس میں خون پیپ بھرا ہوا ہے۔ ابن جریر میں ہے لقمان بن عامر فرماتے ہیں میں حضرت ابو امامہ صدی بن عجلان باہلی ؓ کے پاس گیا اور ان سے التماس کی کہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث مجھے سنائیں۔ آپ نے فرمایا حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر دس اوقیہ کے وزن کا کوئی پتھر جہنم کے کنارے سے جہنم میں پھنکا جائے تو وہ پچاس سال تک تو جہنم کی تہ میں نہیں پہنچ سکتا۔ پھر وہ غی اور اثام میں پہنچے گا۔ غی اور اثام جہنم کے نیچے کے دو کنویں ہیں جہاں دوزخیوں کا لہو پیپ جمع ہوتا ہے۔ غی کا ذکر آیت (فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا 59؀ۙ) 19۔ مریم :59) میں ہے اور اثام کا ذکر آیت (وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا 68؀ۙ) 25۔ الفرقان :68) میں ہے اس حدیث کو فرمان رسول سے روایت کرنا منکر ہے اور یہ حدیث کی رو سے بھی غریب ہے۔ پھر فرماتا ہے ہاں جو ان کاموں سے توبہ کرلے یعنی نمازوں کی سستی اور خواہش نفسانی کی پیروی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمالے گیا اس کی عاقبت سنوار دے گا اسے جہنم سے بچا کر جنت میں پہنچائے گا، توبہ اپنے سے پہلے کے تمام گناہوں کو معاف کرا دیتی ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے بےگناہ۔ یہ لوگ جو نیکیاں کریں ان کے اجر انہیں ملیں گے کسی ایک نیکی کا ثواب کم نہ ہوگا۔ توبہ سے پہلے کے گناہوں پر کوئی پکڑ نہ ہوگی۔ یہ ہے کرم اس کریم کا اور یہ ہے حلم اس حلیم کا کہ توبہ کے بعد اس گناہ کو بالکل مٹا دیتا ہے ناپید کردیتا ہے۔ سورة فرقان میں گناہوں کا ذکر فرما کر ان کی سزاؤں کا بیان کر کے پھر استثنا کیا اور فرمایا کہ اللہ غفور ورحیم ہے۔

Source. Tafsir Ibn Kathir, Hafiz Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://quran.com/. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com