John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Baqara

Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 271–286 · Quran text →

نیک اور بد لوگ ظاہر اور درپردہ حقیقت ٭٭

اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ ہر ایک خرچ اور نذر کو اور ہر بھلے عمل کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے وہ اپنے نیک بندوں کو جو اس کا حکم بجا لاتے ہیں اس سے ثواب کی امید رکھتے ہیں، اس کے وعدوں کو سچا جانتے ہیں، اس کے فرمان پر ایمان رکھتے ہیں، بہترین بدلہ عطا فرمائے گا اور ان کے خلاف جو لوگ اس کی حکم برداری سے جی چراتے ہیں گناہ کا کام کرتے ہیں، اس کی خبروں کو جھٹلاتے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، یہ ظالم ہیں قیامت کے دن قسم قسم کے سخت بدترین اور المناک عذاب انہیں ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو انہیں چھڑائے یا ان کی مدد میں اُٹھے۔ پھر فرمایا کہ ظاہر کر کے صدقہ دینا بھی اچھا ہے اور چھپا کر فقراء مساکین کو دینا بہت ہی بہتر ہے، اس لیے کہ یہ ریاکاری سے کوسوں دور ہے، ہاں یہ اور بات ہے کہ ظاہر کرنے میں کوئی دینی مصلحت یا دینی فائدہ ہو مثلاً اس لیے کہ اور لوگ بھی دیں وغیرہ۔ حدیث شریف میں ہے کہ صدقہ کا ظاہر کرنے والا مثل بلند آواز سے قرآن پڑھنے والے کے ہے اور اسے چھپانے والا آہستہ پڑھنے والے کی طرح ہے، [سنن ابوداود:1333، قال الشيخ الألباني:] ‏ پس اس آیت سے صدقہ جو پوشیدہ دیا جائے اس کی افضیلت ثابت ہوتی ہے

صفحہ نمبر938

، بخاری مسلم میں بروایت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سات شخصوں کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا، عادل بادشاہ، وہ نوجوان جو اپنی جوانی اللہ کی عبادت اور شریعت کی فرمانبرداری میں گزارے۔ وہ دو شخص جو اللہ تعالیٰ کیلئے آپس میں محبت رکھیں، اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں، وہ شخص جس کا دِل مسجد میں لگا رہے نکلنے کے وقت سے جانے کے وقت تک وہ شخص جو خلوت میں اللہ کا ذِکر کر کے رو دے، وہ شخص جسے کوئی منصب و جمال والی عورت بدکاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور وہ شخص جو اپنا صدقہ اس قدر چھپا کر دے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر تک نہ ہو، [صحیح بخاری:660:صحیح] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہلنے لگی، اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پیدا کر کے انہیں گاڑ دیا جس سے زمین کا ہلنا موقوف ہو گیا، فرشتوں کو پہاڑوں کی ایسی سنگین پیدائش پر تعجب ہوا انہوں نے دریافت کیا کہ باری تعالیٰ کیا تیری مخلوق میں پہاڑ سے زیادہ سخت چیز بھی کوئی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں لوہا، پوچھا اس سے بھی سخت کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں آگ، پوچھا اس سے زیادہ سخت چیز کوئی اور بھی ہے؟ فرمایا ہاں پانی، پوچھا کیا اس سے بھی زیادہ سختی والی کوئی چیز ہے؟ فرمایا ہاں ہوا، دریافت کیا اس سے بھی زیادہ سخت؟ فرمایا ابن آدم جو صدقہ کرتا ہے کہ بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر نہیں ہوتی، [سنن ترمذي:3369، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

آیت الکرسی کی تفسیر میں وہ حدیث گزر چکی ہے جس میں ہے کہ افضل صدقہ وہ ہے جو پوشیدگی سے کسی حاجت مند کو دے دیا جائے۔ باوجود مال کی قلت کے، پھر بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے، پھر اسی آیت کی تلاوت کی۔ [مسند احمد:178/5:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر939

ایک اور حدیث میں ہے پوشیدگی کا صدقہ اللہ کے غضب کو بجھا دیتا ہے۔ [سنن ترمذي:664، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنا آدھا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جو کچھ تھا لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑ آئے ہو؟ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہما نے جواب دیا اتنا ہی، سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما گو ظاہر کرنا نہیں چاہتے تھے اور چپکے سے سب کے سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کر چکے تھے، لیکن جب ان سے پوچھا گیا تو کہنا پڑا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کافی ہے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما یہ سن کر رو دئیے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کسی نیکی کے کام کی طرف ہم لپکے ہیں اس میں اے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما آپ کو آگے ہی آگے پاتے ہیں۔ [سنن ابوداود:1678، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ آیت کے الفاظ عام ہیں صدقہ خواہ فرض ہو یا خواہ نفل زکوٰۃ ہو یا خیرات اس کی پوشیدگی اظہار سے افضل ہے، لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نفلی صدقہ تو پوشیدہ دینا ستر گنی فضیلت رکھتا ہے لیکن فرضی زکوٰۃ کو علانیہ ادا کرنا پچیس گنی فضیلت رکھتا ہے۔

پھر فرمایا صدقے کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہاری خطاؤں اور برائیوں کو دور کر دے گا بالخصوص اس وقت جبکہ وہ چھپا کر دیا جائے، تمہیں بہت سی بھلائی ملے گی، درجات بڑھیں گے، گناہوں کا کفارہ ہو گا «یُکَفِّرُ» کو «یُکَفَّرْ» بھی پڑھا گیا ہے اس میں صورتاً یہ جواب شرط کے محل پر عطف ہو گا جو «فَنِعِمَّا هِيَ» ہے، جیسے «فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ الصَّالِحِينَ» [ 63-المنافقون: 10 ] ‏ میں «وَأَكُن» اللہ تعالیٰ پر تمہاری کوئی نیکی بدی سخاوت بخیلی پوشیدگی اور اظہار نیک نیتی اور دنیا طلبی پوشیدہ نہیں وہ پورا پورا بدلہ دے گا۔

صفحہ نمبر940

مستحق صدقات کون ہیں ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، [تفسیر ابن جریر الطبری:6202] ‏ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہر سائل کو دو، گو وہ کسی مذہب کا ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6199] ‏

صفحہ نمبر942

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا والی روایت آیت «لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ» [ 60-سورة الممتحنة: 8 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لیے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَيْهَا» [ 45۔ الجاثیہ: 15 ] ‏ اور «مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ» [ 41-فصلت: 46 ] ‏ اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پئے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1115/3] ‏ عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دِیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:1113/3] ‏ یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے، حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کر لی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لیے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی۔

صفحہ نمبر943

اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا کہ ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا، اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہو گئے۔ شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رُک جائے اور شاید مالدار کو عبرت حاصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔ [صحیح بخاری:1421] ‏

صفحہ نمبر944

پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کر کے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا مندی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کر سکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں «ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ» کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ» [ 4-النسأ: 101 ] ‏ اور «يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [ 73۔ المزمل: 20 ] ‏ میں ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہو جائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں۔ [صحیح بخاری:1479] ‏ تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں۔

صفحہ نمبر945

جیسے اور جگہ ہے «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [ 48۔ الفتح: 29 ] ‏ ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں اور فرمایا «وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ» [ 47۔ محمد: 30 ] ‏ ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مومن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، [سنن ترمذي:3127، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سنو قرآن کا فرمان ہے «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ» [ 45۔ الحجر: 75 ] ‏ بالیقین اس میں اہل بصیرت کیلئے نشانیاں ہیں، یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں۔

صفحہ نمبر946

دیکھو قرآن کہتا ہے «لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا» [ 2۔ البقرہ: 273 ] ‏ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے، قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کر لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے کہ جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بے نیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے، میں نے اپنے دِل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا۔ [مسند احمد:138/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما کا ہے۔

اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، [مسند احمد:9/3-44:حسن] ‏ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر947

ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم بنا ہو گا اس کا منہ نچا ہوا ہو گا، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کتنا پاس ہو تو؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا، [سنن ابوداود:1626، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث ضعیف ہے، شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ضرورت مند ہیں تو تین سو گنیاں انہیں بھجوائیں، آپ رضی اللہ عنہما خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور دو غلام بھی ہیں۔ [طبرانی کبیر:150/2] ‏ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔ [سنن نسائی:2595، قال الشيخ الألباني:حسن بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر948

پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہو گئے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے سال جبکہ آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی عیادت کو گئے تو فرمایا ایک روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع والے سال فرمایا تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی، [صحیح بخاری:6733:صحیح] ‏

مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، [مسند احمد:120/4:صحیح] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں ۔ [طبرانی کبیر:188/17:ضعیف جداً] ‏ ] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے، جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، [میزان الاعتدال:682/2:ضعیف جداً] ‏ یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، [طبرانی:11164:ضعیف جداً] ‏ اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بے غم ہیں۔

صفحہ نمبر949

مستحق صدقات کون ہیں ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، [تفسیر ابن جریر الطبری:6202] ‏ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہر سائل کو دو، گو وہ کسی مذہب کا ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6199] ‏

صفحہ نمبر942

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا والی روایت آیت «لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ» [ 60-سورة الممتحنة: 8 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لیے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَيْهَا» [ 45۔ الجاثیہ: 15 ] ‏ اور «مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ» [ 41-فصلت: 46 ] ‏ اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پئے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1115/3] ‏ عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دِیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:1113/3] ‏ یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے، حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کر لی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لیے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی۔

صفحہ نمبر943

اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا کہ ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا، اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہو گئے۔ شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رُک جائے اور شاید مالدار کو عبرت حاصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔ [صحیح بخاری:1421] ‏

صفحہ نمبر944

پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کر کے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا مندی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کر سکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں «ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ» کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ» [ 4-النسأ: 101 ] ‏ اور «يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [ 73۔ المزمل: 20 ] ‏ میں ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہو جائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں۔ [صحیح بخاری:1479] ‏ تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں۔

صفحہ نمبر945

جیسے اور جگہ ہے «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [ 48۔ الفتح: 29 ] ‏ ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں اور فرمایا «وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ» [ 47۔ محمد: 30 ] ‏ ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مومن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، [سنن ترمذي:3127، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سنو قرآن کا فرمان ہے «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ» [ 45۔ الحجر: 75 ] ‏ بالیقین اس میں اہل بصیرت کیلئے نشانیاں ہیں، یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں۔

صفحہ نمبر946

دیکھو قرآن کہتا ہے «لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا» [ 2۔ البقرہ: 273 ] ‏ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے، قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کر لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے کہ جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بے نیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے، میں نے اپنے دِل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا۔ [مسند احمد:138/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما کا ہے۔

اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، [مسند احمد:9/3-44:حسن] ‏ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر947

ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم بنا ہو گا اس کا منہ نچا ہوا ہو گا، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کتنا پاس ہو تو؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا، [سنن ابوداود:1626، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث ضعیف ہے، شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ضرورت مند ہیں تو تین سو گنیاں انہیں بھجوائیں، آپ رضی اللہ عنہما خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور دو غلام بھی ہیں۔ [طبرانی کبیر:150/2] ‏ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔ [سنن نسائی:2595، قال الشيخ الألباني:حسن بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر948

پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہو گئے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے سال جبکہ آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی عیادت کو گئے تو فرمایا ایک روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع والے سال فرمایا تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی، [صحیح بخاری:6733:صحیح] ‏

مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، [مسند احمد:120/4:صحیح] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں ۔ [طبرانی کبیر:188/17:ضعیف جداً] ‏ ] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے، جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، [میزان الاعتدال:682/2:ضعیف جداً] ‏ یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، [طبرانی:11164:ضعیف جداً] ‏ اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بے غم ہیں۔

صفحہ نمبر949

مستحق صدقات کون ہیں ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مسلمان صحابہ اپنے مشرک رشتہ داروں کے ساتھ سلوک کرنا ناپسند کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا اور یہ آیت اتری اور انہیں رخصت دی، [تفسیر ابن جریر الطبری:6202] ‏ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ صدقہ صرف مسلمانوں کو دیا جائے، جب یہ آیت اتری تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہر سائل کو دو، گو وہ کسی مذہب کا ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6199] ‏

صفحہ نمبر942

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا والی روایت آیت «لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ» [ 60-سورة الممتحنة: 8 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ، یہاں فرمایا تم جو نیکی کرو گے اپنے لیے ہی کرو گے جیسے اور جگہ ہے «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَمَنْ اَسَاءَ فَعَلَيْهَا» [ 45۔ الجاثیہ: 15 ] ‏ اور «مَّنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ» [ 41-فصلت: 46 ] ‏ اس جیسی اور آیتیں بھی بہت ہیں، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایماندار کا ہر خرچ اللہ ہی کیلئے ہوتا ہے گو وہ خود کھائے پئے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1115/3] ‏ عطا خراسان اس کا یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ جب تم نے اپنی مرضی سے مولا اور رضائے رب کیلئے دِیا تو لینے والا خواہ کوئی بھی ہو اور کیسے ہی اعمال کا کرنے والا ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:1113/3] ‏ یہ مطلب بھی بہت اچھا ہے، حاصل یہ ہے کہ نیک نیتی سے دینے والے کا اجر تو اللہ کے ذمہ ثابت ہو گیا ہے۔ اب خواہ وہ مال کسی نیک کے ہاتھ لگے یا بد کے یا غیر مستحق کے، اسے اپنے قصد اور اپنی نیک نیتی کا ثواب مل گیا۔ جبکہ اس نے دیکھ بھال کر لی پھر غلطی ہوئی تو ثواب ضائع نہیں جاتا اسی لیے آیت کے آخر میں بدلہ ملنے کی بشارت دی گئی۔

صفحہ نمبر943

اور بخاری و مسلم کی حدیث میں آیا کہ ایک شخص نے قصد کیا کہ آج رات میں صدقہ دوں گا، لے کر نکلا اور چپکے سے ایک عورت کو دے کر چلا آیا، صبح لوگوں میں باتیں ہونے لگیں کہ آج رات کو کوئی شخص ایک بدکار عورت کو خیرات دے گیا، اس نے بھی سنا اور اللہ کا شکر ادا کیا، پھر اپنے جی میں کہا آج رات اور صدقہ دوں گا، لے کر چلا اور ایک شخص کی مٹھی میں رکھ کر چلا آیا، صبح سنتا ہے کہ لوگوں میں چرچا ہو رہا ہے کہ آج شب ایک مالدار کو کوئی صدقہ دے گیا، اس نے پھر اللہ کی حمد کی اور ارادہ کیا کہ آج رات کو تیسرا صدقہ دوں گا، دے آیا، دن کو پھر معلوم ہوا کہ وہ چور تھا تو کہنے لگا، اللہ تیری تعریف ہے زانیہ عورت کے دئیے جانے پر بھی، مالدار شخص کو دئیے جانے پر بھی اور چور کو دینے پر بھی، خواب میں دیکھتا ہے کہ فرشتہ آیا اور کہہ رہا ہے تیرے تینوں صدقے قبول ہو گئے۔ شاید بدکار عورت مال پا کر اپنی حرام کاری سے رُک جائے اور شاید مالدار کو عبرت حاصل ہو اور وہ بھی صدقے کی عادت ڈال لے اور شاید چور مال پا کر چوری سے باز رہے۔ [صحیح بخاری:1421] ‏

صفحہ نمبر944

پھر فرمایا صدقہ ان مہاجرین کا حق ہے جو دنیوی تعلقات کاٹ کر ہجرتیں کر کے وطن چھوڑ کر کنبے قبیلے سے منہ موڑ کر اللہ کی رضا مندی کیلئے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئے ہیں، جن کے معاش کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں جو انہیں کافی ہو اور وہ سفر کر سکتے ہیں کہ چل پھر کر اپنی روزی حاصل کریں «ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ» کے معنی مسافرت کے ہیں جیسے «وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ» [ 4-النسأ: 101 ] ‏ اور «يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّـهِ» [ 73۔ المزمل: 20 ] ‏ میں ان کے حال سے جو لوگ ناواقف ہیں وہ ان کے لباس اور ظاہری حال اور گفتگو سے انہیں مالدار سمجھتے ہیں۔ ایک حدیث میں ہے مسکین وہی نہیں جو دربدر جاتے ہیں کہیں سے دو ایک کھجوریں مل گئیں کہیں سے دو ایک لقمے مل گئے، کہیں سے دو ایک وقت کا کھانا مل گیا بلکہ وہ بھی مسکین ہے جس کے پاس اتنا نہیں جس سے وہ بےپرواہ ہو جائے اور اس نے اپنی حالت بھی ایسی نہیں بنائی جس سے ہر شخص اس کی ضرورت کا احساس کرے اور کچھ احسان کرے اور نہ وہ سوال کے عادی ہیں۔ [صحیح بخاری:1479] ‏ تو انہیں ان کی اس حالت سے جان لے گا جو صاحب بصیرت پر مخفی نہیں رہتیں۔

صفحہ نمبر945

جیسے اور جگہ ہے «سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ» [ 48۔ الفتح: 29 ] ‏ ان کی نشانیاں ان کے چہروں پر ہیں اور فرمایا «وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْـقَوْلِ» [ 47۔ محمد: 30 ] ‏ ان کے لب و لہجہ سے تم انہیں پہچان لو گے، سنن کی ایک حدیث میں ہے مومن کی دانائی سے بچو، وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے، [سنن ترمذي:3127، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سنو قرآن کا فرمان ہے «اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِيْنَ» [ 45۔ الحجر: 75 ] ‏ بالیقین اس میں اہل بصیرت کیلئے نشانیاں ہیں، یہ لوگ کسی پر بوجھل نہیں ہیں، کسی سے ڈھٹائی کے ساتھ سوال نہیں کرتے نہ اپنے پاس ہوتے ہوئے کسی سے کچھ طلب کرتے ہیں، جس کے پاس ضرورت کے مطابق ہو اور پھر بھی وہ سوال کرے وہ چپک کر مانگنے والا کہلاتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک دو کھجوریں اور ایک دو لقمے لے کر چلے جانے والے ہی مسکین نہیں بلکہ حقیقتاً مسکین وہ ہیں جو باوجود حاجت کے خودداری برتیں اور سوال سے بچیں۔

صفحہ نمبر946

دیکھو قرآن کہتا ہے «لَا يَسْــَٔـلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا» [ 2۔ البقرہ: 273 ] ‏ یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مروی ہے، قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کو ان کی والدہ فرماتی ہیں تم بھی جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگ لاؤ جس طرح اور لوگ جا کر لے آتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں جب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے خطبہ فرما رہے تھے کہ جو شخص سوال سے بچے گا اللہ بھی اسے سوال سے بچا لے گا، جو شخص بےپرواہی برتے گا اللہ اسے فی الواقع بے نیاز کر دے گا، جو شخص پانچ اوقیہ کے برابر مال رکھتے ہوئے بھی سوال کرے وہ چمٹنے والا سوالی ہے، میں نے اپنے دِل میں سوچا کہ ہمارے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ اوقیہ سے بہت بہتر ہے۔ ایک اونٹنی غلام کے پاس ہے وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمت کی ہے پس میں تو یونہی سوال کئے بغیر ہی چلا آیا۔ [مسند احمد:138/4:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہما کا ہے۔

اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ جو لوگوں سے کنارہ کرے گا اللہ اسے آپ کفایت کرے گا اور جو ایک اوقیہ رکھتے ہوئے سوال کرے گا وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے، ان کی اونٹنی کا نام یاقوتہ تھا، [مسند احمد:9/3-44:حسن] ‏ ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر947

ایک حدیث میں ہے کہ جس کے پاس بےپرواہی کے لائق ہو پھر بھی وہ سوال کرے، قیامت کے دن اس کے چہرہ پر اس کا سوال زخم بنا ہو گا اس کا منہ نچا ہوا ہو گا، لوگوں نے کہا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کتنا پاس ہو تو؟ فرمایا پچاس درہم یا اس کی قیمت کا سونا، [سنن ابوداود:1626، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ یہ حدیث ضعیف ہے، شام میں ایک قریشی تھے جنہیں معلوم ہوا کہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ضرورت مند ہیں تو تین سو گنیاں انہیں بھجوائیں، آپ رضی اللہ عنہما خفا ہو کر فرمانے لگے اس اللہ کے بندے کو کوئی مسکین ہی نہیں ملا؟ جو میرے پاس یہ بھیجیں، میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ چالیس درہم جس کے پاس ہوں اور پھر وہ سوال کرے وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما کے گھرانے والوں کے پاس تو چالیس درہم بھی ہیں، چالیس بکریاں بھی ہیں اور دو غلام بھی ہیں۔ [طبرانی کبیر:150/2] ‏ ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی ہیں کہ چالیس درہم ہوتے ہوئے سوال کرنے والا الحاف کرنے والا اور مثل ریت کے ہے۔ [سنن نسائی:2595، قال الشيخ الألباني:حسن بالشواھد] ‏

صفحہ نمبر948

پھر فرمایا تمہارے تمام صدقات کا اللہ کو علم ہے اور جبکہ تم پورے محتاج ہو گئے، اللہ پاک اس وقت تمہیں اس کا بدلہ دے گا، اس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ پھر ان لوگوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں جو ہر وقت اللہ کے فرمان کے مطابق خرچ کرتے رہتے ہیں، انہیں اجر ملے گا اور ہر خوف سے امن پائیں گے، بال بچوں کے کھلانے پر بھی انہیں ثواب ملے گا، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے سال جبکہ آپ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی عیادت کو گئے تو فرمایا ایک روایت میں ہے کہ حجۃ الوداع والے سال فرمایا تو جو کچھ اللہ کی خوشی کیلئے خرچ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تیرے درجات بڑھائے گا، یہاں تک کہ تو جو اپنی بیوی کو کھلائے پلائے اس کے بدلے بھی، [صحیح بخاری:6733:صحیح] ‏

مسند میں ہے کہ مسلمان طلب ثواب کی نیت سے اپنے بال بچوں پر بھی جو خرچ کرتا ہے وہ بھی صدقہ ہے، [مسند احمد:120/4:صحیح] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس آیت کا شان نزول مسلمان مجاہدین کا وہ خرچ ہے جو وہ اپنے گھوڑوں پر کرتے ہیں ۔ [طبرانی کبیر:188/17:ضعیف جداً] ‏ ] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے، جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے پاس چار درہم تھے جن میں سے ایک راہ اللہ رات کو دِیا، ایک دن کو ایک پوشیدہ ایک ظاہر تو یہ آیت اتری، [میزان الاعتدال:682/2:ضعیف جداً] ‏ یہ روایت ضعیف ہے۔ دوسری سند سے یہی مروی ہے، [طبرانی:11164:ضعیف جداً] ‏ اطاعت الٰہی میں جو مال ان لوگوں نے خرچ کیا اس کا بدلہ قیامت کے دن اپنے پروردگار سے لیں گے، یہ لوگ نڈر اور بے غم ہیں۔

صفحہ نمبر949

تجارت اور سود کو ہم معنی کہنے والے کج بحث لوگ ٭٭

چونکہ پہلے ان لوگوں کا ذِکر ہوا ہے جو نیک کام صدقہ خیرات کرنے والے زکوٰتیں دینے والے حاجت مندوں اور رشتہ داروں کی مدد کرنے والے غرض ہر حال میں اور ہر وقت دوسروں کے کام آنے والے تھے تو ان کا بیان ہو رہا ہے جو کسی کو دینا تو ایک طرف رہا دوسروں سے چھیننے ظلم کرنے اور ناحق اپنے پرایوں کا مال ہضم کرنے والے ہیں، تو فرمایا کہ یہ سودخور لوگ اپنی قبروں سے دیوانوں اور پاگلوں خبطیوں اور بیہوشوں کی طرح اُٹھیں گے، پاگل ہوں گے، کھڑے بھی نہ ہو سکتے ہوں گے، ایک قرأت میں «مِنَ الۡمَسِّ» کے بعد «یَوْمَا الْقِیاَمَةَ» کا لفظ بھی ہے، ان سے کہا جائے گا کہ لو اب ہتھیار تھام لو اور اپنے رب سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جاؤ

صفحہ نمبر952

شب معراج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے پیٹ بڑے بڑے گھروں کی مانند تھے، پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ بتایا گیا سود اور بیاج لینے والے ہیں، اور روایت میں ہے کہ ان کے پیٹوں میں سانپ بھرے ہوئے تھے جو ڈستے رہتے تھے۔ [سنن ابن ماجه:2273، قال الشيخ الألباني:ضعیف جداً] ‏ اور ایک مطول حدیث میں ہے کہ ہم جب ایک سرخ رنگ نہر پر پہنچے جس کا پانی مثل خون کے سرخ تھا تو میں نے دیکھا اسں میں کچھ لوگ بمشکل تمام کنارے پر آتے ہیں تو ایک فرشتہ بہت سے پتھر لیے بیٹھا ہے، وہ ان کا منہ پھاڑ کر ایک پتھر ان کے منہ میں اتار دیتا ہے، وہ پھر بھاگتے ہیں پھر یہی ہوتا ہے، پوچھا تو معلوم ہوا یہ سو خوروں کا گروہ ہے، [صحیح بخاری:7047:صحیح] ‏

ان پر یہ وبال اس باعث ہے کہ یہ کہتے تھے کہ تجارت بھی تو سود ہی ہے ان کا یہ اعتراض شریعت اور احکام الٰہی پر تھا وہ سود کو تجارت کی طرح حلال جانتے تھے، جبکہ بیع پر سود کا قیاس کرنا ہی غلط ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ مشرکین تو تجارت کا شرعاً جائز ہونے کے قائل نہیں ورنہ یوں کہتے کہ سود مثل بیع ہے، ان کا کہنا یہ تھا کہ تجارت اور سود دونوں ایک جیسی چیزیں ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ایک کو حلال کہا جائے اور دوسری کو حرام؟

صفحہ نمبر953

پھر انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ حلت و حرمت اللہ کے حکم کی بنا پر ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ بھی کافروں کا قول ہی ہو، تو بھی انتہائی اچھے انداز سے جواباً کہا گیا اس میں مصلحت الٰہیہ کہ ایک کو اللہ نے حرام ٹھہرایا اور دوسرے کو حلال پھر اعتراض کیسا؟ علیم و حکیم اللہ کے حکموں پر اعتراض کرنے والے تم کون؟ کس کی ہستی ہے؟ اس سے بازپرس کرنے کی، تمام کاموں کی حقیقت کو ماننے والا تو وہی ہے وہ خوب جانتا ہے کہ میرے بندوں کا حقیقی نفع کس چیز میں اور فی الواقع نقصان کس چیز میں ہے، تو نفع والی چیزیں حلال کرتا ہے اور نقصان پہنچانے والی چیزیں حرام کرتا ہے، کوئی ماں اپنے دودھ پیتے بچے پر اتنی مہربان نہ ہو گی جتنا اللہ اپنے بندوں پر ہے، وہ روکتا ہے تو بھی مصلحت سے اور حکم دیتا ہے تو بھی مصلحت سے، اپنے رب کی نصیحت سن کر جو باز آ جائے اس کے پہلے کئے ہوئے تمام گناہ معاف ہیں،

جیسا فرمایا «عفا اللہ عما سلف» اور جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا تھا جاہلیت کے تمام سُود آج میرے ان قدموں تلے دفن کر دئیے گئے ہیں، چنانچہ سب سے پہلا سود جس سے میں دست بردار ہوتا ہوں وہ عباس رضی اللہ عنہما کا سود ہے، [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس جاہلیت میں جو سود لے چکے تھے ان کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔

صفحہ نمبر954

، ایک روایت میں ہے کہ ام محبہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں اور کہا کہ میں نے ایک غلام زید رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں آٹھ سو کا اس شرط پر بیچا کہ جب ان کے پاس رقم آئے تو وہ ادا کر دیں، اس کے بعد انہیں نقدی کی ضرورت پڑی تو وقت سے پہلے ہی وہ اسے فروخت کرنے کو تیار ہو گئے، میں نے چھ سو کا خرید لیا، ام المؤمنین صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تو نے بھی اور اس نے بھی بالکل خلاف شرع کیا، بہت برا کیا، جاؤ زید رضی اللہ عنہ سے کہہ دو اگر وہ توبہ نہ کرے گا تو اس کا جہاد بھی غارت جائے گا جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہے، میں نے کہا اگر وہ دو سو جو مجھے اس سے لینے ہیں چھوڑ دوں اور صرف چھ سو وصول کر لوں تاکہ مجھے میری پوری رقم آٹھ سو کی مل جائے، آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں، پھر آپ نے «فَمَن جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّهِ فَانتَهَىٰ فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ» [ البقرہ: 275 ] ‏ والی آیت پڑھ کر سنائی [دار قطنی:52/3 ] ‏ یہ اثر بھی مشہور ہے اور ان لوگوں کی دلیل ہے جو عینہ کے مسئلے کو حرام بتاتے ہیں اس کی تفصیل کتاب الاحکام میں ہے اور احادیث بھی ہیں، «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر955

پھر فرمایا کہ حرمت کا مسئلہ کانوں میں پڑنے کے بعد بھی سود لے تو وہ سزا کا مستحق ہے ہمیشہ کیلئے جہنمی ہے، جب یہ آیت اتری تو آپ نے فرمایا جو مخابرہ کو اب بھی نہ چھوڑے وہ اللہ کے رسول سے لڑنے کیلئے تیار ہو جائے۔ [سنن ابوداود:3406، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ «مخابرہ» اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص دوسروں کی زمین میں کھیتی بوئے اور اس سے یہ طے ہو کہ زمین کے اس محدود ٹکڑے سے جتنا اناج نکلے وہ میرا باقی تیرا اور“ مزابنہ“ اسے کہتے ہیں کہ درخت میں جو کھجوریں ہیں وہ میری ہیں اور میں اس کے بدلے اپنے پاس سے تجھے اتنی اتنی کھجوریں تیار دیتا ہوں، اور «محاقلہ» اسے کہتے ہیں کہ کھیت میں جو اناج خوشوں میں ہے اسے اپنے پاس سے کچھ اناج دے کر خریدنا، ان تمام صورتوں کو شریعت نے حرام قرار دیا تاکہ سود کی جڑیں کٹ جائیں، اس لیے کہ ان صورتوں میں صحیح طور پر کیفیت تبادلہ کا اندازہ نہیں ہوسکتا، پس بعض علماء نے اس کی کچھ علت نکالی، بعض نے کچھ، ایک جماعت نے اسی قیاس پر ایسے تمام کاروبار کو منع کیا، دوسری جماعت نے برعکس کیا، لیکن دوسری علت کی بنا پر۔

صفحہ نمبر956

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ذرا مشکل ہے۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں افسوس کہ تین مسئلے پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئے دادا کی میراث کا کلالہ اور سود کی صورتوں کا۔ [صحیح بخاری:5588:صحیح] ‏ یعنی بعض کاروبار کی ایسی صورتیں جن پر سود کا شبہ ہوتا ہے، اور وہ ذرائع جو سود کی مماثلت تک لے جاتے ہوں جب یہ حرام ہیں تو وہ بھی حرام ہی ٹھہریں گے، جیسا کہ وہ چیز واجب ہو جاتی ہے جس کے بغیر کوئی واجب پورا نہ ہوتا ہو،

بخاوی و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جس طرح حلال ظاہر ہے، اسی طرح حرام بھی ظاہر ہے لیکن کچھ کام درمیانی شبہ والے بھی ہیں، ان شبہات والے کاموں سے بچنے والے نے اپنے دین اور اپنی عزت کو بچا لیا اور جو ان مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس چرواہے کی طرح جو کسی کی چراگاہ کے آس پاس اپنے جانور چراتا ہو، تو ممکن ہے کوئی جانور اس چراگاہ میں بھی منہ مار لے، [صحیح بخاری:52:صحیح] ‏ سنن میں حدیث ہے کہ جو چیز تجھے شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور اسے لے لو جو شک شبہ سے پاک ہے، [سنن ترمذي:2518، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

دوسری حدیث میں ہے گناہ وہ ہے جو دِل میں کھٹکے طبیعت میں تردد ہو اور اس کے بارے میں لوگوں کا واقف ہونا اسے برا لگتا ہو، [صحیح مسلم:2553:صحیح] ‏ ایک اور روایت میں ہے اپنے دِل سے فتویٰ پوچھ لو لوگ چاہے کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں، [مسند احمد:227/4:حسن] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سود کی حرمت سب سے آخر میں نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4544] ‏ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما یہ فرما کر کہتے ہیں افسوس کہ اس کی پوری تفسیر بھی مجھ تک نہ پہنچ سکی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ لوگو سود کو بھی چھوڑو اور ہر اس چیز کو بھی جس میں سود کا بھی شائبہ ہو۔ [مسند احمد:36/1:صحیح] ‏

صفحہ نمبر957

سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے ایک خطبہ میں فرمایا شاید میں تمہیں بعض ان چیزوں سے روک دوں جو تمہارے لیے نفع والی ہوں اور ممکن ہے میں تمہیں کچھ ایسے احکام بھی دوں جو تمہاری مصلحت کیخلاف ہوں، سنو! قرآن میں سب سے آخر سود کی حرمت کی آیت اتری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا اور افسوس کہ اسے کھول کر ہمارے سامنے بیان نہ فرمایا پس تم ہر اس چیز کو چھوڑو جو تمہیں شک میں ڈالتی ہو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6306] ‏ ایک حدیث میں ہے کہ سود کے تہتر گناہ ہیں جن میں سب سے ہلکا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنی ماں سے بدکاری کرے، [سنن ابن ماجه:2274، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سب سے بڑا سود مسلمان کی ہتک عزت کرنا ہے۔ [بیهقی فی شعب الایمان:5519] ‏ فرماتے ہیں ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ سود کھائیں گے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کیا سب کے سب؟ فرمایا جو نہ کھائے گا اسے بھی غبار تو پہنچے گا ہی، [سنن ابوداود:3331، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر958

پس غبار سے بچنے کیلئے ان اسباب کے پاس بھی نہ پھٹکنا چاہیئے جو ان حرام کاموں کی طرف پہنچانے والے ہوں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیت حرمت سود میں نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں آ کر اس کی تلاوت کی اور سودی کاروبار اور سودی تجارت کو حرام قرار دیا، [صحیح بخاری:2084:صحیح] ‏ بعض ائمہ فرماتے ہیں کہ اسی طرح شراب اور اس طرح کی تمام خرید و فروخت وغیرہ وہ وسائل [ ذرائع ] ‏ ہیں جو اس تک پہنچانے والے ہیں سب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام کئے ہیں، صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت اس لیے کی کہ جب ان پر چربی حرام ہوئی تو انہوں نے حیلہ سازی کر کے چربی کو پگھلا کر بیچا، [صحیح بخاری:2223:صحیح] ‏ اور اس کی قیمت کھائی غرض دھوکہ بازی اور حیلہ سازی کرکے حرام کو حلال بنانے کی کوشش کی چنانچہ یہ کوشش کرنا بھی حرام ہے اور موجب لعنت ہے،

اسی طرح پہلے وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جو شخص دوسرے کی تین طلاق والی عورت سے اس لیے نکاح کرے کہ پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے اس پر اور اس خاوند پر اللہ کی پھٹکار اور اس کی لعنت ہے، آیت «حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» [ البقرہ: 230 ] ‏ کی تفسیر میں دیکھ لیجئے، حدیث شریف میں ہے سود کھانے والے پر کھلانے والے پر شہادت دینے والوں پر گواہ بننے والوں پر لکھنے والے پر سب پر اللہ کی لعنت ہے، [صحیح مسلم:1598:صحیح] ‏ ظاہر ہے کاتب و شاہد کو کیا ضرورت پڑی ہے جو وہ خواہ مخواہ اللہ کی لعنت اپنے اوپر لے، اسی طرح بظاہر عقد شرعی کی صورت کا اظہار اور نیت میں فساد رکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں کو نہیں بلکہ تمہارے دِلوں اور نیتوں کو دیکھتے ہیں۔ [صحیح مسلم:2564:صحیح] ‏ علامہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان حیلوں حوالوں کے رَد میں ایک مستقل کتاب [ ”ابطال التحلیل“ ] ‏ لکھی ہے جو اس موضوع میں بہترین کتاب ہے اللہ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے اور ان سے خوش ہو۔ [آمین] ‏

صفحہ نمبر959

سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے «قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ» [ 5-المائدة: 100 ] ‏، یعنی ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتا گو تمہیں ناپاک کی زیادتی تعجب میں ڈالے۔ ارشاد فرمایا آیت «وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ» [ 8-الأنفال: 37 ] ‏۔ الا یہ خباثت والی چیزوں کو تہ و بالا کر کے وہ جہنم میں جھونک دے گا اور جگہ ہے «وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ» [ 30۔ الروم: 39 ] ‏، یعنی سود دے کر جو مال تم بڑھانا چاہتے ہو وہ دراصل بڑھتا نہیں، اسی واسطے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ سود سے اگر مال میں اضافہ ہو بھی جائے لیکن انجام کار کمی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏

صفحہ نمبر960

مسند کی ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے اور اناج پھیلا ہوا دیکھ کر پوچھا یہ غلہ کہاں سے آیا؟ لوگوں نے کہا بکنے کیلئے آیا ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے دعا کی کہ اللہ اس میں برکت دے، لوگوں نے کہا یہ غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے پہلے ہی جمع کر لیا تھا، پوچھا کس نے جمع کیا تھا، لوگوں نے کہا ایک تو فروخ نے جو عثمان کے مولی ہیں اور دوسرے آپ کے آزاد کردہ غلام نے، آپ رضی اللہ عنہما نے دونوں کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ جواب دیا کہ ہم اپنے مالوں سے خریدتے ہیں اور جب چاہیں بیچیں، ہمیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں میں مہنگا بیچنے کے خیال سے غلہ روک رکھے اسے اللہ مفلس کر دے گا، یہ سن کر فروخ تو فرمانے لگے کہ میری توبہ ہے میں اللہ سے اور پھر آپ سے عہد کرتا ہوں کہ پھر یہ کام نہ کروں گا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے پھر بھی یہی کہا کہ ہم اپنے مال سے خریدتے ہیں اور نفع اٹھا کر بیچتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے؟ راوی حدیث ابویحییٰ فرماتے ہیں میں نے پھر دیکھا کہ اسے جذام ہو گیا اور جذامی [ کوڑھ ] ‏ بنا پھرتا تھا، [مسند احمد:21/1:ضعیف] ‏ ابن ماجہ میں ہے جو شخص مسلمانوں کا غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے روک رکھے اللہ تعالیٰ اسے مفلس کر دے گا یا جذامی۔ [سنن ابن ماجه:2155، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر961

پھر فرماتا ہے وہ صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ «یُرۡبِی» کی دوسری قرأت «یُرَبّیَ» بھی ہے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور بھی خیرات کرے اسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی داہنے ہاتھ لیتا ہے پھر اسے پال کر بڑا کرتا ہے [ جس طرح تم لوگ اپنے بچھڑوں کو پالتے ہو ] ‏ اور اس کا ثواب پہاڑ کے برابر بنا دیتا ہے، [صحیح بخاری:1410:صحیح] ‏ اور پاک چیز کے سوا وہ ناپاک چیز کو قبول نہیں فرماتا، ایک اور روایت میں ہے کہ ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ملتا ہے، [سنن ترمذي:661، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے کہ ایک لقمہ مثل احد کے ہو کر ملتا ہے، پس تم صدقہ خیرات کیا کرو، پھر فرمایا ناپسندیدہ کافروں، نافرمان زبان زور اور نافرمان فعل والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات نہ کریں اور اللہ کی طرف سے صدقہ خیرات کے سبب مال میں اضافہ کے وعدہ کی پرواہ کئے بغیر دنیا کا مال دینار جمع کرتے پھریں اور بدترین اور خلاف شرع طریقوں سے کمائیاں کریں لوگوں کے مال باطل اور ناحق طریقوں سے کھا جائیں، یہ اللہ کے دشمن ہیں ان ناشکروں اور گنہگاروں سے اللہ کا پیار ممکن نہیں-

صفحہ نمبر962

پھر ان بندوں کی تعریف ہو رہی ہے جو اپنے رب کے احکام کی بجا آوری کریں، مخلوق کے ساتھ سلوک و احسان قائم کریں، نمازیں قائم کریں، زکوٰۃ دیتے رہیں، یہ قیامت کے دن تمام دکھ درد سے امن میں رہیں گے کوئی کھٹکا بھی ان کے دل پر نہ گزرے گا بلکہ رب العالمین اپنے انعام و اکرام سے انہیں سرفراز فرمائے گا۔

صفحہ نمبر963

سود کا کاروبار برکت سے محروم ہوتا ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ سود کو برباد کرتا ہے یعنی یا تو اسے بالکل غارت کر دیتا ہے یا سودی کاروبار سے خیر و برکت ہٹا دیتا ہے علاوہ ازیں دنیا میں بھی وہ تباہی کا باعث بنتا ہے اور آخرت میں عذاب کا سبب، جیسے ہے «قُل لَّا يَسْتَوِي الْخَبِيثُ وَالطَّيِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِيثِ» [ 5-المائدة: 100 ] ‏، یعنی ناپاک اور پاک برابر نہیں ہوتا گو تمہیں ناپاک کی زیادتی تعجب میں ڈالے۔ ارشاد فرمایا آیت «وَيَجْعَلَ الْخَبِيثَ بَعْضَهُ عَلَىٰ بَعْضٍ فَيَرْكُمَهُ جَمِيعًا فَيَجْعَلَهُ فِي جَهَنَّمَ» [ 8-الأنفال: 37 ] ‏۔ الا یہ خباثت والی چیزوں کو تہ و بالا کر کے وہ جہنم میں جھونک دے گا اور جگہ ہے «وَمَآ اٰتَيْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِيْٓ اَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰهِ» [ 30۔ الروم: 39 ] ‏، یعنی سود دے کر جو مال تم بڑھانا چاہتے ہو وہ دراصل بڑھتا نہیں، اسی واسطے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ سود سے اگر مال میں اضافہ ہو بھی جائے لیکن انجام کار کمی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:395/1:صحیح] ‏

صفحہ نمبر960

مسند کی ایک اور روایت میں ہے کہ امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد سے نکلے اور اناج پھیلا ہوا دیکھ کر پوچھا یہ غلہ کہاں سے آیا؟ لوگوں نے کہا بکنے کیلئے آیا ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے دعا کی کہ اللہ اس میں برکت دے، لوگوں نے کہا یہ غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے پہلے ہی جمع کر لیا تھا، پوچھا کس نے جمع کیا تھا، لوگوں نے کہا ایک تو فروخ نے جو عثمان کے مولی ہیں اور دوسرے آپ کے آزاد کردہ غلام نے، آپ رضی اللہ عنہما نے دونوں کو بلوایا اور فرمایا تم نے ایسا کیوں کیا؟ جواب دیا کہ ہم اپنے مالوں سے خریدتے ہیں اور جب چاہیں بیچیں، ہمیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص مسلمانوں میں مہنگا بیچنے کے خیال سے غلہ روک رکھے اسے اللہ مفلس کر دے گا، یہ سن کر فروخ تو فرمانے لگے کہ میری توبہ ہے میں اللہ سے اور پھر آپ سے عہد کرتا ہوں کہ پھر یہ کام نہ کروں گا لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے پھر بھی یہی کہا کہ ہم اپنے مال سے خریدتے ہیں اور نفع اٹھا کر بیچتے ہیں، اس میں کیا حرج ہے؟ راوی حدیث ابویحییٰ فرماتے ہیں میں نے پھر دیکھا کہ اسے جذام ہو گیا اور جذامی [ کوڑھ ] ‏ بنا پھرتا تھا، [مسند احمد:21/1:ضعیف] ‏ ابن ماجہ میں ہے جو شخص مسلمانوں کا غلہ گراں بھاؤ بیچنے کیلئے روک رکھے اللہ تعالیٰ اسے مفلس کر دے گا یا جذامی۔ [سنن ابن ماجه:2155، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر961

پھر فرماتا ہے وہ صدقہ کو بڑھاتا ہے۔ «یُرۡبِی» کی دوسری قرأت «یُرَبّیَ» بھی ہے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے جو شخص اپنی پاک کمائی سے ایک کھجور بھی خیرات کرے اسے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی داہنے ہاتھ لیتا ہے پھر اسے پال کر بڑا کرتا ہے [ جس طرح تم لوگ اپنے بچھڑوں کو پالتے ہو ] ‏ اور اس کا ثواب پہاڑ کے برابر بنا دیتا ہے، [صحیح بخاری:1410:صحیح] ‏ اور پاک چیز کے سوا وہ ناپاک چیز کو قبول نہیں فرماتا، ایک اور روایت میں ہے کہ ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ملتا ہے، [سنن ترمذي:661، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اور روایت میں ہے کہ ایک لقمہ مثل احد کے ہو کر ملتا ہے، پس تم صدقہ خیرات کیا کرو، پھر فرمایا ناپسندیدہ کافروں، نافرمان زبان زور اور نافرمان فعل والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صدقہ خیرات نہ کریں اور اللہ کی طرف سے صدقہ خیرات کے سبب مال میں اضافہ کے وعدہ کی پرواہ کئے بغیر دنیا کا مال دینار جمع کرتے پھریں اور بدترین اور خلاف شرع طریقوں سے کمائیاں کریں لوگوں کے مال باطل اور ناحق طریقوں سے کھا جائیں، یہ اللہ کے دشمن ہیں ان ناشکروں اور گنہگاروں سے اللہ کا پیار ممکن نہیں-

صفحہ نمبر962

پھر ان بندوں کی تعریف ہو رہی ہے جو اپنے رب کے احکام کی بجا آوری کریں، مخلوق کے ساتھ سلوک و احسان قائم کریں، نمازیں قائم کریں، زکوٰۃ دیتے رہیں، یہ قیامت کے دن تمام دکھ درد سے امن میں رہیں گے کوئی کھٹکا بھی ان کے دل پر نہ گزرے گا بلکہ رب العالمین اپنے انعام و اکرام سے انہیں سرفراز فرمائے گا۔

صفحہ نمبر963

سودخور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ٭٭

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہو جائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہو گیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد ادا نہ کریں گے آخر جھگڑا بڑھا عتاب بن اسید جو مکہ شریف کے نائب تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیج دی اور انہیں قابلِ وصول سود لینا حرام قرا دیا چنانچہ وہ تائب ہوئے اور اپنا سود بالکل چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1140/3] ‏

صفحہ نمبر965

اس آیت میں ہے ان لوگوں پر جو سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود بھی اس پر جمے رہیں، زبردست وعید ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سودخور سے قیامت کے دن کہا جائے گا، لے اپنے ہتھیار لے لے اور اللہ سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جا، آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں امام وقت پر فرض ہے کہ سودخور لوگ جو اسے نہ چھوڑیں ان سے توبہ کرائے اور اگر نہ کریں تو ان کی گردن مار دے، [تفسیر ابن جریر الطبری:25/6] ‏ حسن اور ابن سیرین کا فرمان بھی یہی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو اللہ نے انہیں ہلاکت کی دھمکی دی انہیں ذلیل کئے جانے کے قابل ٹھہرایا، خبردار سود سے اور سودی لین دین سے بچتے رہو حلال چیزوں اور حلال خرید و فروخت بہت کچھ ہے، فاقے گزرتے ہوں تاہم اللہ کی معصیت سے رکو، وہ روایت بھی یاد ہو گی جو پہلے گزر چکی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے معاملہ کی نسبت جس میں سود تھا، زید بن ارقم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا جہاد بھی برباد ہو گیا اس لیے کہ جہاد اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور سود خوری خود اللہ سے مقابلہ کرنا ہے لیکن اس کی اسناد کمزور ہے،

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر توبہ کر لو تو اصل مال جو کسی پر فرض ہے بیشک لے لو۔ نہ تم تول میں زیادہ لے کر اس پر ظلم کرو نہ کم دے کر یا نہ دے کر وہ تم پر ظلم کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا جاہلیت کا تمام سود میں برباد کرتا ہوں۔ اصلی رقم لے لو، سود لے کر نہ کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تمہارا مال مار کر تم پر زیادتی کرے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا تمام سود میں ختم کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر966

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تنگی والا شخص اور اس کے پاس تمہارے قرض کی ادائیگی کے قابل مال نہ ہو تو اسے مہلت دو کہ کچھ اور مدت کے بعد ادا کر دے یہ نہ کرو کہ سود در سود لگائے چلے جاؤ کہ مدت گزر گئی، اب اتنا اتنا سود لیں گے، بلکہ بہتر تو یہ بات ہے کہ ایسے غرباء کو اپنا قرض معاف کر دو، طبرانی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اللہ کے عرش کا سایہ چاہتا ہے وہ یا تو ایسے تنگی والے شخص کو مہلت دے یا معاف کر دے، [طبرانی:899:ضعیف] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے جو شخص مفلس آدمی پر اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دِنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اس سے دگنی رقم کے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، یہ سن کر سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دن اس کے مثل ثواب ملنے کا فرمایا تھا آج دو مثل فرماتے ہیں، فرمایا ہاں جب تک معیاد ختم نہیں ہوئی مثل کا ثواب اور معیاد گزرنے کے بعد دو مثل کا،

ابوقتادہ رحمہ اللہ کا قرض ایک شخص کے ذمہ تھا وہ تقاضا کرنے کو آتے لیکن یہ چھپ رہتے اور نہ ملتے، ایک دن آئے گھر سے ایک بچہ نکلا، آپ رحمہ اللہ نے اس سے پوچھا اس نے کہا ہاں گھر میں موجود ہیں کھانا کھا رہے ہیں، اب ابوقتادہ رحمہ اللہ نے اونچی آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا مجھے معلوم ہو گیا کہ تم گھر میں موجود ہو، آؤ باہر آؤ، جواب دو۔ وہ بیچارے باہر نہیں نکلے آپ رحمہ اللہ نے کہا کیوں چھپ رہے ہو؟ کہا بات یہ ہے کہ میں مفلس ہوں اس وقت میرے پاس رقم نہیں بوجہ شرمندگی کے آپ رحمہ اللہ سے نہیں ملتا، آپ رحمہ اللہ نے کہا قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی، آپ روئے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص نادار قرضدار کو ڈھیل دے یا اپنا قرضہ معاف کر دے وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہو گا۔ [صحیح مسلم:1563:صحیح] ‏

صفحہ نمبر967

ابولیلیٰ نے ایک حدیث روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ بتا میرے لیے تو نے کیا نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا اے اللہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی ایسی نیکی مجھ سے نہیں ہوئی جو آج میں اس کی جزا طلب کر سکوں، اللہ اس سے پھر پوچھے گا وہ پھر یہی جواب دے گا پھر پوچھے گا پھر یہی کہے گا، پروردگار ایک چھوٹی سی بات البتہ یاد پڑتی ہے کہ تو نے اپنے فضل سے کچھ مال بھی مجھے دے رکھا تھا میں تجارت پیشہ شخص تھا، لوگ ادھار سدھار لے جاتے تھے، میں اگر دیکھتا کہ یہ غریب شخص ہے اور وعدہ پر قرض نہ ادا کر سکا تو میں اسے اور کچھ مدت کی مہلت دے دیتا، عیال داروں پر سختی نہ کرتا، زیادہ تنگی والا اگر کسی کو پاتا تو معاف بھی کر دیتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں تجھ پر آسانی کیوں نہ کروں، میں تو سب سے زیادہ آسانی کرنے والا ہوں، جا میں نے تجھے بخشا جنت میں داخل ہو جا، [صحیح بخاری:2077] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی مدد کرے یا قرض دار بےمال کی اعانت کرے یا غلام جس نے لکھ کر دیا ہو کہ اتنی رقم دے دوں تو آزاد ہوں، اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ [حاکم:89/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر968

۔ مسند احمد میں ہے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں اور اس کی تکلیف و مصیبت دور ہو جائے اسے چاہیئے کہ تنگی والوں پر کشادگی کرے، [مسند احمد:23/2:ضعیف] ‏ عباد بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد طلب علم میں نکلے اور ہم نے کہا کہ انصاریوں سے حدیثیں پڑھیں، سب سے پہلے ہماری ملاقات سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کے غلام تھے جن کے ہاتھ میں ایک دفتر تھا اور غلام و آقا کا ایک ہی لباس تھا، میرے باپ نے کہا چچا آپ تو اس وقت غصہ میں نظر آتے ہیں، فرمایا ہاں سنو فلاں شخص پر میرا کچھ قرض تھا، مدت ختم ہو چکی تھی، میں قرض مانگنے گیا، سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مکان پر ہیں، گھر میں سے جواب ملا کہ نہیں، اتفاقاً ایک چھوٹا بچہ باہر آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارے والد کہاں ہیں؟ اس نے کہا آپ کی آواز سن کر چارپائی تلے جا چھپے ہیں، میں نے پھر آواز دی اور کہا تمہارا اندر ہونا مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپو نہیں باہر آؤ جواب دو، وہ آئے میں نے کہا کیوں چھپ رہے ہو، کہا محض اس لیے کہ میرے پاس روپیہ تو اس وقت ہے نہیں، آپ سے ملوں گا تو کوئی جھوٹا عذر حیلہ بیان کرں گا یا غلط وعدہ کروں گا، اس لیے سامنے ہونے سے جھجھکتا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سے جھوٹ کیا کہوں؟ میں نے کہا سچ کہتے ہو، اللہ کی قسم تمہارے پاس روپیہ نہیں، اس نے کہا ہاں سچ کہتا ہوں اللہ کی قسم کچھ نہیں، تین مرتبہ میں نے قسم کھلائی اور انہوں نے کھائی، میں نے اپنے دفتر میں سے ان کا نام کاٹ دیا اور رقم جمع کر لی اور کہہ دیا کہ جاؤ میں نے تمہارے نام سے یہ رقم کاٹ دی ہے، اب اگر تمہیں مل جائے تو دے دینا ورنہ معاف۔ سنو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دِل نے اسے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سختی والے کو ڈھیل دے یا معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا، [صحیح مسلم:3006] ‏

صفحہ نمبر969

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد آتے ہوئے زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جو شخص کسی نادار پر آسانی کر دے یا اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا، سنو جنت کے کام مشقت والے ہیں اور خواہش کیخلاف ہیں، اور جہنم کے کام آسانی والے اور خواہشِ نفس کے مطابق ہیں، نیک بخت وہ لوگ ہیں جو فتنوں سے بچ جائیں، وہ انسان جو غصے کا گھونٹ پی لے اس کو اللہ تعالیٰ ایمان سے نوازتا ہے، [مسند احمد:327/1:ضعیف جداً] ‏

طبرانی میں ہے جو شخص کسی مفلس شخص پر رحم کر کے اپنے قرض کی وصولی میں اس پر سختی نہ کرے اللہ بھی اس کے گناہوں پر اس کو نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔ [طبرانی کبیر:11330:ضعیف] ‏ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، انہیں دنیا کے زوال، مال کے فنا، آخرت کا آنا، اللہ کی طرف لوٹنا، اللہ کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان تمام اعمال پر جزا و سزا کا ملنا یاد دلاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت یہی ہے، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو راتوں تک زندہ رہے اور ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6312:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اکتیس دن کی بھی مروی ہے، ابن جریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلف کا قول ہے کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نو رات زندہ رہے ہفتہ کے دن سے ابتداء ہوئی اور پیر والے دن انتقال ہوا۔ الغرض قرآن کریم میں سب سے آخر یہی آیت نازل ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر970

سودخور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ٭٭

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہو جائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہو گیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد ادا نہ کریں گے آخر جھگڑا بڑھا عتاب بن اسید جو مکہ شریف کے نائب تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیج دی اور انہیں قابلِ وصول سود لینا حرام قرا دیا چنانچہ وہ تائب ہوئے اور اپنا سود بالکل چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1140/3] ‏

صفحہ نمبر965

اس آیت میں ہے ان لوگوں پر جو سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود بھی اس پر جمے رہیں، زبردست وعید ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سودخور سے قیامت کے دن کہا جائے گا، لے اپنے ہتھیار لے لے اور اللہ سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جا، آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں امام وقت پر فرض ہے کہ سودخور لوگ جو اسے نہ چھوڑیں ان سے توبہ کرائے اور اگر نہ کریں تو ان کی گردن مار دے، [تفسیر ابن جریر الطبری:25/6] ‏ حسن اور ابن سیرین کا فرمان بھی یہی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو اللہ نے انہیں ہلاکت کی دھمکی دی انہیں ذلیل کئے جانے کے قابل ٹھہرایا، خبردار سود سے اور سودی لین دین سے بچتے رہو حلال چیزوں اور حلال خرید و فروخت بہت کچھ ہے، فاقے گزرتے ہوں تاہم اللہ کی معصیت سے رکو، وہ روایت بھی یاد ہو گی جو پہلے گزر چکی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے معاملہ کی نسبت جس میں سود تھا، زید بن ارقم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا جہاد بھی برباد ہو گیا اس لیے کہ جہاد اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور سود خوری خود اللہ سے مقابلہ کرنا ہے لیکن اس کی اسناد کمزور ہے،

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر توبہ کر لو تو اصل مال جو کسی پر فرض ہے بیشک لے لو۔ نہ تم تول میں زیادہ لے کر اس پر ظلم کرو نہ کم دے کر یا نہ دے کر وہ تم پر ظلم کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا جاہلیت کا تمام سود میں برباد کرتا ہوں۔ اصلی رقم لے لو، سود لے کر نہ کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تمہارا مال مار کر تم پر زیادتی کرے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا تمام سود میں ختم کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر966

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تنگی والا شخص اور اس کے پاس تمہارے قرض کی ادائیگی کے قابل مال نہ ہو تو اسے مہلت دو کہ کچھ اور مدت کے بعد ادا کر دے یہ نہ کرو کہ سود در سود لگائے چلے جاؤ کہ مدت گزر گئی، اب اتنا اتنا سود لیں گے، بلکہ بہتر تو یہ بات ہے کہ ایسے غرباء کو اپنا قرض معاف کر دو، طبرانی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اللہ کے عرش کا سایہ چاہتا ہے وہ یا تو ایسے تنگی والے شخص کو مہلت دے یا معاف کر دے، [طبرانی:899:ضعیف] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے جو شخص مفلس آدمی پر اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دِنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اس سے دگنی رقم کے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، یہ سن کر سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دن اس کے مثل ثواب ملنے کا فرمایا تھا آج دو مثل فرماتے ہیں، فرمایا ہاں جب تک معیاد ختم نہیں ہوئی مثل کا ثواب اور معیاد گزرنے کے بعد دو مثل کا،

ابوقتادہ رحمہ اللہ کا قرض ایک شخص کے ذمہ تھا وہ تقاضا کرنے کو آتے لیکن یہ چھپ رہتے اور نہ ملتے، ایک دن آئے گھر سے ایک بچہ نکلا، آپ رحمہ اللہ نے اس سے پوچھا اس نے کہا ہاں گھر میں موجود ہیں کھانا کھا رہے ہیں، اب ابوقتادہ رحمہ اللہ نے اونچی آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا مجھے معلوم ہو گیا کہ تم گھر میں موجود ہو، آؤ باہر آؤ، جواب دو۔ وہ بیچارے باہر نہیں نکلے آپ رحمہ اللہ نے کہا کیوں چھپ رہے ہو؟ کہا بات یہ ہے کہ میں مفلس ہوں اس وقت میرے پاس رقم نہیں بوجہ شرمندگی کے آپ رحمہ اللہ سے نہیں ملتا، آپ رحمہ اللہ نے کہا قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی، آپ روئے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص نادار قرضدار کو ڈھیل دے یا اپنا قرضہ معاف کر دے وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہو گا۔ [صحیح مسلم:1563:صحیح] ‏

صفحہ نمبر967

ابولیلیٰ نے ایک حدیث روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ بتا میرے لیے تو نے کیا نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا اے اللہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی ایسی نیکی مجھ سے نہیں ہوئی جو آج میں اس کی جزا طلب کر سکوں، اللہ اس سے پھر پوچھے گا وہ پھر یہی جواب دے گا پھر پوچھے گا پھر یہی کہے گا، پروردگار ایک چھوٹی سی بات البتہ یاد پڑتی ہے کہ تو نے اپنے فضل سے کچھ مال بھی مجھے دے رکھا تھا میں تجارت پیشہ شخص تھا، لوگ ادھار سدھار لے جاتے تھے، میں اگر دیکھتا کہ یہ غریب شخص ہے اور وعدہ پر قرض نہ ادا کر سکا تو میں اسے اور کچھ مدت کی مہلت دے دیتا، عیال داروں پر سختی نہ کرتا، زیادہ تنگی والا اگر کسی کو پاتا تو معاف بھی کر دیتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں تجھ پر آسانی کیوں نہ کروں، میں تو سب سے زیادہ آسانی کرنے والا ہوں، جا میں نے تجھے بخشا جنت میں داخل ہو جا، [صحیح بخاری:2077] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی مدد کرے یا قرض دار بےمال کی اعانت کرے یا غلام جس نے لکھ کر دیا ہو کہ اتنی رقم دے دوں تو آزاد ہوں، اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ [حاکم:89/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر968

۔ مسند احمد میں ہے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں اور اس کی تکلیف و مصیبت دور ہو جائے اسے چاہیئے کہ تنگی والوں پر کشادگی کرے، [مسند احمد:23/2:ضعیف] ‏ عباد بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد طلب علم میں نکلے اور ہم نے کہا کہ انصاریوں سے حدیثیں پڑھیں، سب سے پہلے ہماری ملاقات سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کے غلام تھے جن کے ہاتھ میں ایک دفتر تھا اور غلام و آقا کا ایک ہی لباس تھا، میرے باپ نے کہا چچا آپ تو اس وقت غصہ میں نظر آتے ہیں، فرمایا ہاں سنو فلاں شخص پر میرا کچھ قرض تھا، مدت ختم ہو چکی تھی، میں قرض مانگنے گیا، سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مکان پر ہیں، گھر میں سے جواب ملا کہ نہیں، اتفاقاً ایک چھوٹا بچہ باہر آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارے والد کہاں ہیں؟ اس نے کہا آپ کی آواز سن کر چارپائی تلے جا چھپے ہیں، میں نے پھر آواز دی اور کہا تمہارا اندر ہونا مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپو نہیں باہر آؤ جواب دو، وہ آئے میں نے کہا کیوں چھپ رہے ہو، کہا محض اس لیے کہ میرے پاس روپیہ تو اس وقت ہے نہیں، آپ سے ملوں گا تو کوئی جھوٹا عذر حیلہ بیان کرں گا یا غلط وعدہ کروں گا، اس لیے سامنے ہونے سے جھجھکتا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سے جھوٹ کیا کہوں؟ میں نے کہا سچ کہتے ہو، اللہ کی قسم تمہارے پاس روپیہ نہیں، اس نے کہا ہاں سچ کہتا ہوں اللہ کی قسم کچھ نہیں، تین مرتبہ میں نے قسم کھلائی اور انہوں نے کھائی، میں نے اپنے دفتر میں سے ان کا نام کاٹ دیا اور رقم جمع کر لی اور کہہ دیا کہ جاؤ میں نے تمہارے نام سے یہ رقم کاٹ دی ہے، اب اگر تمہیں مل جائے تو دے دینا ورنہ معاف۔ سنو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دِل نے اسے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سختی والے کو ڈھیل دے یا معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا، [صحیح مسلم:3006] ‏

صفحہ نمبر969

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد آتے ہوئے زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جو شخص کسی نادار پر آسانی کر دے یا اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا، سنو جنت کے کام مشقت والے ہیں اور خواہش کیخلاف ہیں، اور جہنم کے کام آسانی والے اور خواہشِ نفس کے مطابق ہیں، نیک بخت وہ لوگ ہیں جو فتنوں سے بچ جائیں، وہ انسان جو غصے کا گھونٹ پی لے اس کو اللہ تعالیٰ ایمان سے نوازتا ہے، [مسند احمد:327/1:ضعیف جداً] ‏

طبرانی میں ہے جو شخص کسی مفلس شخص پر رحم کر کے اپنے قرض کی وصولی میں اس پر سختی نہ کرے اللہ بھی اس کے گناہوں پر اس کو نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔ [طبرانی کبیر:11330:ضعیف] ‏ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، انہیں دنیا کے زوال، مال کے فنا، آخرت کا آنا، اللہ کی طرف لوٹنا، اللہ کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان تمام اعمال پر جزا و سزا کا ملنا یاد دلاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت یہی ہے، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو راتوں تک زندہ رہے اور ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6312:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اکتیس دن کی بھی مروی ہے، ابن جریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلف کا قول ہے کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نو رات زندہ رہے ہفتہ کے دن سے ابتداء ہوئی اور پیر والے دن انتقال ہوا۔ الغرض قرآن کریم میں سب سے آخر یہی آیت نازل ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر970

سودخور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ٭٭

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہو جائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہو گیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد ادا نہ کریں گے آخر جھگڑا بڑھا عتاب بن اسید جو مکہ شریف کے نائب تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیج دی اور انہیں قابلِ وصول سود لینا حرام قرا دیا چنانچہ وہ تائب ہوئے اور اپنا سود بالکل چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1140/3] ‏

صفحہ نمبر965

اس آیت میں ہے ان لوگوں پر جو سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود بھی اس پر جمے رہیں، زبردست وعید ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سودخور سے قیامت کے دن کہا جائے گا، لے اپنے ہتھیار لے لے اور اللہ سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جا، آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں امام وقت پر فرض ہے کہ سودخور لوگ جو اسے نہ چھوڑیں ان سے توبہ کرائے اور اگر نہ کریں تو ان کی گردن مار دے، [تفسیر ابن جریر الطبری:25/6] ‏ حسن اور ابن سیرین کا فرمان بھی یہی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو اللہ نے انہیں ہلاکت کی دھمکی دی انہیں ذلیل کئے جانے کے قابل ٹھہرایا، خبردار سود سے اور سودی لین دین سے بچتے رہو حلال چیزوں اور حلال خرید و فروخت بہت کچھ ہے، فاقے گزرتے ہوں تاہم اللہ کی معصیت سے رکو، وہ روایت بھی یاد ہو گی جو پہلے گزر چکی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے معاملہ کی نسبت جس میں سود تھا، زید بن ارقم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا جہاد بھی برباد ہو گیا اس لیے کہ جہاد اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور سود خوری خود اللہ سے مقابلہ کرنا ہے لیکن اس کی اسناد کمزور ہے،

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر توبہ کر لو تو اصل مال جو کسی پر فرض ہے بیشک لے لو۔ نہ تم تول میں زیادہ لے کر اس پر ظلم کرو نہ کم دے کر یا نہ دے کر وہ تم پر ظلم کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا جاہلیت کا تمام سود میں برباد کرتا ہوں۔ اصلی رقم لے لو، سود لے کر نہ کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تمہارا مال مار کر تم پر زیادتی کرے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا تمام سود میں ختم کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر966

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تنگی والا شخص اور اس کے پاس تمہارے قرض کی ادائیگی کے قابل مال نہ ہو تو اسے مہلت دو کہ کچھ اور مدت کے بعد ادا کر دے یہ نہ کرو کہ سود در سود لگائے چلے جاؤ کہ مدت گزر گئی، اب اتنا اتنا سود لیں گے، بلکہ بہتر تو یہ بات ہے کہ ایسے غرباء کو اپنا قرض معاف کر دو، طبرانی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اللہ کے عرش کا سایہ چاہتا ہے وہ یا تو ایسے تنگی والے شخص کو مہلت دے یا معاف کر دے، [طبرانی:899:ضعیف] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے جو شخص مفلس آدمی پر اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دِنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اس سے دگنی رقم کے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، یہ سن کر سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دن اس کے مثل ثواب ملنے کا فرمایا تھا آج دو مثل فرماتے ہیں، فرمایا ہاں جب تک معیاد ختم نہیں ہوئی مثل کا ثواب اور معیاد گزرنے کے بعد دو مثل کا،

ابوقتادہ رحمہ اللہ کا قرض ایک شخص کے ذمہ تھا وہ تقاضا کرنے کو آتے لیکن یہ چھپ رہتے اور نہ ملتے، ایک دن آئے گھر سے ایک بچہ نکلا، آپ رحمہ اللہ نے اس سے پوچھا اس نے کہا ہاں گھر میں موجود ہیں کھانا کھا رہے ہیں، اب ابوقتادہ رحمہ اللہ نے اونچی آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا مجھے معلوم ہو گیا کہ تم گھر میں موجود ہو، آؤ باہر آؤ، جواب دو۔ وہ بیچارے باہر نہیں نکلے آپ رحمہ اللہ نے کہا کیوں چھپ رہے ہو؟ کہا بات یہ ہے کہ میں مفلس ہوں اس وقت میرے پاس رقم نہیں بوجہ شرمندگی کے آپ رحمہ اللہ سے نہیں ملتا، آپ رحمہ اللہ نے کہا قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی، آپ روئے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص نادار قرضدار کو ڈھیل دے یا اپنا قرضہ معاف کر دے وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہو گا۔ [صحیح مسلم:1563:صحیح] ‏

صفحہ نمبر967

ابولیلیٰ نے ایک حدیث روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ بتا میرے لیے تو نے کیا نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا اے اللہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی ایسی نیکی مجھ سے نہیں ہوئی جو آج میں اس کی جزا طلب کر سکوں، اللہ اس سے پھر پوچھے گا وہ پھر یہی جواب دے گا پھر پوچھے گا پھر یہی کہے گا، پروردگار ایک چھوٹی سی بات البتہ یاد پڑتی ہے کہ تو نے اپنے فضل سے کچھ مال بھی مجھے دے رکھا تھا میں تجارت پیشہ شخص تھا، لوگ ادھار سدھار لے جاتے تھے، میں اگر دیکھتا کہ یہ غریب شخص ہے اور وعدہ پر قرض نہ ادا کر سکا تو میں اسے اور کچھ مدت کی مہلت دے دیتا، عیال داروں پر سختی نہ کرتا، زیادہ تنگی والا اگر کسی کو پاتا تو معاف بھی کر دیتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں تجھ پر آسانی کیوں نہ کروں، میں تو سب سے زیادہ آسانی کرنے والا ہوں، جا میں نے تجھے بخشا جنت میں داخل ہو جا، [صحیح بخاری:2077] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی مدد کرے یا قرض دار بےمال کی اعانت کرے یا غلام جس نے لکھ کر دیا ہو کہ اتنی رقم دے دوں تو آزاد ہوں، اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ [حاکم:89/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر968

۔ مسند احمد میں ہے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں اور اس کی تکلیف و مصیبت دور ہو جائے اسے چاہیئے کہ تنگی والوں پر کشادگی کرے، [مسند احمد:23/2:ضعیف] ‏ عباد بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد طلب علم میں نکلے اور ہم نے کہا کہ انصاریوں سے حدیثیں پڑھیں، سب سے پہلے ہماری ملاقات سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کے غلام تھے جن کے ہاتھ میں ایک دفتر تھا اور غلام و آقا کا ایک ہی لباس تھا، میرے باپ نے کہا چچا آپ تو اس وقت غصہ میں نظر آتے ہیں، فرمایا ہاں سنو فلاں شخص پر میرا کچھ قرض تھا، مدت ختم ہو چکی تھی، میں قرض مانگنے گیا، سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مکان پر ہیں، گھر میں سے جواب ملا کہ نہیں، اتفاقاً ایک چھوٹا بچہ باہر آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارے والد کہاں ہیں؟ اس نے کہا آپ کی آواز سن کر چارپائی تلے جا چھپے ہیں، میں نے پھر آواز دی اور کہا تمہارا اندر ہونا مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپو نہیں باہر آؤ جواب دو، وہ آئے میں نے کہا کیوں چھپ رہے ہو، کہا محض اس لیے کہ میرے پاس روپیہ تو اس وقت ہے نہیں، آپ سے ملوں گا تو کوئی جھوٹا عذر حیلہ بیان کرں گا یا غلط وعدہ کروں گا، اس لیے سامنے ہونے سے جھجھکتا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سے جھوٹ کیا کہوں؟ میں نے کہا سچ کہتے ہو، اللہ کی قسم تمہارے پاس روپیہ نہیں، اس نے کہا ہاں سچ کہتا ہوں اللہ کی قسم کچھ نہیں، تین مرتبہ میں نے قسم کھلائی اور انہوں نے کھائی، میں نے اپنے دفتر میں سے ان کا نام کاٹ دیا اور رقم جمع کر لی اور کہہ دیا کہ جاؤ میں نے تمہارے نام سے یہ رقم کاٹ دی ہے، اب اگر تمہیں مل جائے تو دے دینا ورنہ معاف۔ سنو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دِل نے اسے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سختی والے کو ڈھیل دے یا معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا، [صحیح مسلم:3006] ‏

صفحہ نمبر969

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد آتے ہوئے زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جو شخص کسی نادار پر آسانی کر دے یا اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا، سنو جنت کے کام مشقت والے ہیں اور خواہش کیخلاف ہیں، اور جہنم کے کام آسانی والے اور خواہشِ نفس کے مطابق ہیں، نیک بخت وہ لوگ ہیں جو فتنوں سے بچ جائیں، وہ انسان جو غصے کا گھونٹ پی لے اس کو اللہ تعالیٰ ایمان سے نوازتا ہے، [مسند احمد:327/1:ضعیف جداً] ‏

طبرانی میں ہے جو شخص کسی مفلس شخص پر رحم کر کے اپنے قرض کی وصولی میں اس پر سختی نہ کرے اللہ بھی اس کے گناہوں پر اس کو نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔ [طبرانی کبیر:11330:ضعیف] ‏ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، انہیں دنیا کے زوال، مال کے فنا، آخرت کا آنا، اللہ کی طرف لوٹنا، اللہ کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان تمام اعمال پر جزا و سزا کا ملنا یاد دلاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت یہی ہے، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو راتوں تک زندہ رہے اور ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6312:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اکتیس دن کی بھی مروی ہے، ابن جریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلف کا قول ہے کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نو رات زندہ رہے ہفتہ کے دن سے ابتداء ہوئی اور پیر والے دن انتقال ہوا۔ الغرض قرآن کریم میں سب سے آخر یہی آیت نازل ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر970

سودخور قابل گردن زنی ہیں اور قرض کے مسائل ٭٭

ان آیات میں اللہ تعالیٰ ایماندار بندوں کو تقوے کا حکم دے رہا ہے اور ایسے کاموں سے روک رہا ہے جن سے وہ ناراض ہو اور لوگ اس کی قربت سے محروم ہو جائیں تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرو اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور تمہارا سود جن مسلمانوں پر باقی ہے خبردار اس سے اب نہ لو جبکہ وہ حرام ہو گیا، یہ آیت قبیلہ ثقیف بن عمرو بن عمیر اور بنو مخزوم کے قبیلے بنو مغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جاہلیت کے زمانہ میں ان کا سودی کاروبار تھا، اسلام کے بعد بنو عمرہ نے بنو مغیرہ سے اپنا سود طلب کیا اور انہوں نے کہا کہ اب ہم اسے اسلام لانے کے بعد ادا نہ کریں گے آخر جھگڑا بڑھا عتاب بن اسید جو مکہ شریف کے نائب تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ لکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لکھوا کر بھیج دی اور انہیں قابلِ وصول سود لینا حرام قرا دیا چنانچہ وہ تائب ہوئے اور اپنا سود بالکل چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1140/3] ‏

صفحہ نمبر965

اس آیت میں ہے ان لوگوں پر جو سود کی حرمت کا علم ہونے کے باوجود بھی اس پر جمے رہیں، زبردست وعید ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سودخور سے قیامت کے دن کہا جائے گا، لے اپنے ہتھیار لے لے اور اللہ سے لڑنے کیلئے آمادہ ہو جا، آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں امام وقت پر فرض ہے کہ سودخور لوگ جو اسے نہ چھوڑیں ان سے توبہ کرائے اور اگر نہ کریں تو ان کی گردن مار دے، [تفسیر ابن جریر الطبری:25/6] ‏ حسن اور ابن سیرین کا فرمان بھی یہی ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دیکھو اللہ نے انہیں ہلاکت کی دھمکی دی انہیں ذلیل کئے جانے کے قابل ٹھہرایا، خبردار سود سے اور سودی لین دین سے بچتے رہو حلال چیزوں اور حلال خرید و فروخت بہت کچھ ہے، فاقے گزرتے ہوں تاہم اللہ کی معصیت سے رکو، وہ روایت بھی یاد ہو گی جو پہلے گزر چکی کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک ایسے معاملہ کی نسبت جس میں سود تھا، زید بن ارقم کے بارے میں فرمایا تھا کہ ان کا جہاد بھی برباد ہو گیا اس لیے کہ جہاد اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کا نام ہے اور سود خوری خود اللہ سے مقابلہ کرنا ہے لیکن اس کی اسناد کمزور ہے،

پھر ارشاد ہوتا ہے اگر توبہ کر لو تو اصل مال جو کسی پر فرض ہے بیشک لے لو۔ نہ تم تول میں زیادہ لے کر اس پر ظلم کرو نہ کم دے کر یا نہ دے کر وہ تم پر ظلم کرے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا جاہلیت کا تمام سود میں برباد کرتا ہوں۔ اصلی رقم لے لو، سود لے کر نہ کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تمہارا مال مار کر تم پر زیادتی کرے، سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہما کا تمام سود میں ختم کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3334، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر966

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تنگی والا شخص اور اس کے پاس تمہارے قرض کی ادائیگی کے قابل مال نہ ہو تو اسے مہلت دو کہ کچھ اور مدت کے بعد ادا کر دے یہ نہ کرو کہ سود در سود لگائے چلے جاؤ کہ مدت گزر گئی، اب اتنا اتنا سود لیں گے، بلکہ بہتر تو یہ بات ہے کہ ایسے غرباء کو اپنا قرض معاف کر دو، طبرانی کی حدیث میں ہے کہ جو شخص قیامت کے دن اللہ کے عرش کا سایہ چاہتا ہے وہ یا تو ایسے تنگی والے شخص کو مہلت دے یا معاف کر دے، [طبرانی:899:ضعیف] ‏

مسند احمد کی حدیث میں ہے جو شخص مفلس آدمی پر اپنا قرض وصول کرنے میں نرمی کرے اور اسے ڈھیل دے اس کو جتنے دن وہ قرض کی رقم ادا نہ کر سکے اتنے دِنوں تک ہر دن اتنی رقم خیرات کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر دن اس سے دگنی رقم کے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا، یہ سن کر سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم پہلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دن اس کے مثل ثواب ملنے کا فرمایا تھا آج دو مثل فرماتے ہیں، فرمایا ہاں جب تک معیاد ختم نہیں ہوئی مثل کا ثواب اور معیاد گزرنے کے بعد دو مثل کا،

ابوقتادہ رحمہ اللہ کا قرض ایک شخص کے ذمہ تھا وہ تقاضا کرنے کو آتے لیکن یہ چھپ رہتے اور نہ ملتے، ایک دن آئے گھر سے ایک بچہ نکلا، آپ رحمہ اللہ نے اس سے پوچھا اس نے کہا ہاں گھر میں موجود ہیں کھانا کھا رہے ہیں، اب ابوقتادہ رحمہ اللہ نے اونچی آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا مجھے معلوم ہو گیا کہ تم گھر میں موجود ہو، آؤ باہر آؤ، جواب دو۔ وہ بیچارے باہر نہیں نکلے آپ رحمہ اللہ نے کہا کیوں چھپ رہے ہو؟ کہا بات یہ ہے کہ میں مفلس ہوں اس وقت میرے پاس رقم نہیں بوجہ شرمندگی کے آپ رحمہ اللہ سے نہیں ملتا، آپ رحمہ اللہ نے کہا قسم کھاؤ، اس نے قسم کھا لی، آپ روئے اور فرمانے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص نادار قرضدار کو ڈھیل دے یا اپنا قرضہ معاف کر دے وہ قیامت کے دن اللہ کے عرش کے سائے تلے ہو گا۔ [صحیح مسلم:1563:صحیح] ‏

صفحہ نمبر967

ابولیلیٰ نے ایک حدیث روایت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا کہ بتا میرے لیے تو نے کیا نیکی کی ہے؟ وہ کہے گا اے اللہ ایک ذرے کے برابر بھی کوئی ایسی نیکی مجھ سے نہیں ہوئی جو آج میں اس کی جزا طلب کر سکوں، اللہ اس سے پھر پوچھے گا وہ پھر یہی جواب دے گا پھر پوچھے گا پھر یہی کہے گا، پروردگار ایک چھوٹی سی بات البتہ یاد پڑتی ہے کہ تو نے اپنے فضل سے کچھ مال بھی مجھے دے رکھا تھا میں تجارت پیشہ شخص تھا، لوگ ادھار سدھار لے جاتے تھے، میں اگر دیکھتا کہ یہ غریب شخص ہے اور وعدہ پر قرض نہ ادا کر سکا تو میں اسے اور کچھ مدت کی مہلت دے دیتا، عیال داروں پر سختی نہ کرتا، زیادہ تنگی والا اگر کسی کو پاتا تو معاف بھی کر دیتا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھر میں تجھ پر آسانی کیوں نہ کروں، میں تو سب سے زیادہ آسانی کرنے والا ہوں، جا میں نے تجھے بخشا جنت میں داخل ہو جا، [صحیح بخاری:2077] ‏

مستدرک حاکم میں ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے غازی کی مدد کرے یا قرض دار بےمال کی اعانت کرے یا غلام جس نے لکھ کر دیا ہو کہ اتنی رقم دے دوں تو آزاد ہوں، اس کی مدد کرے اللہ تعالیٰ اسے اس دن سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا۔ [حاکم:89/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر968

۔ مسند احمد میں ہے جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی دعائیں قبول کی جائیں اور اس کی تکلیف و مصیبت دور ہو جائے اسے چاہیئے کہ تنگی والوں پر کشادگی کرے، [مسند احمد:23/2:ضعیف] ‏ عباد بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد طلب علم میں نکلے اور ہم نے کہا کہ انصاریوں سے حدیثیں پڑھیں، سب سے پہلے ہماری ملاقات سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی، ان کے ساتھ ان کے غلام تھے جن کے ہاتھ میں ایک دفتر تھا اور غلام و آقا کا ایک ہی لباس تھا، میرے باپ نے کہا چچا آپ تو اس وقت غصہ میں نظر آتے ہیں، فرمایا ہاں سنو فلاں شخص پر میرا کچھ قرض تھا، مدت ختم ہو چکی تھی، میں قرض مانگنے گیا، سلام کیا اور پوچھا کہ کیا وہ مکان پر ہیں، گھر میں سے جواب ملا کہ نہیں، اتفاقاً ایک چھوٹا بچہ باہر آیا میں نے اس سے پوچھا تمہارے والد کہاں ہیں؟ اس نے کہا آپ کی آواز سن کر چارپائی تلے جا چھپے ہیں، میں نے پھر آواز دی اور کہا تمہارا اندر ہونا مجھے معلوم ہو گیا ہے اب چھپو نہیں باہر آؤ جواب دو، وہ آئے میں نے کہا کیوں چھپ رہے ہو، کہا محض اس لیے کہ میرے پاس روپیہ تو اس وقت ہے نہیں، آپ سے ملوں گا تو کوئی جھوٹا عذر حیلہ بیان کرں گا یا غلط وعدہ کروں گا، اس لیے سامنے ہونے سے جھجھکتا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، آپ رضی اللہ عنہ سے جھوٹ کیا کہوں؟ میں نے کہا سچ کہتے ہو، اللہ کی قسم تمہارے پاس روپیہ نہیں، اس نے کہا ہاں سچ کہتا ہوں اللہ کی قسم کچھ نہیں، تین مرتبہ میں نے قسم کھلائی اور انہوں نے کھائی، میں نے اپنے دفتر میں سے ان کا نام کاٹ دیا اور رقم جمع کر لی اور کہہ دیا کہ جاؤ میں نے تمہارے نام سے یہ رقم کاٹ دی ہے، اب اگر تمہیں مل جائے تو دے دینا ورنہ معاف۔ سنو میری دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دِل نے اسے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی سختی والے کو ڈھیل دے یا معاف کر دے، اللہ تعالیٰ اسے اپنے سایہ میں جگہ دے گا، [صحیح مسلم:3006] ‏

صفحہ نمبر969

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد آتے ہوئے زمین کی طرف اشارہ کر کے فرمایا جو شخص کسی نادار پر آسانی کر دے یا اسے معاف کر دے اللہ تعالیٰ اسے جہنم کی گرمی سے بچا لے گا، سنو جنت کے کام مشقت والے ہیں اور خواہش کیخلاف ہیں، اور جہنم کے کام آسانی والے اور خواہشِ نفس کے مطابق ہیں، نیک بخت وہ لوگ ہیں جو فتنوں سے بچ جائیں، وہ انسان جو غصے کا گھونٹ پی لے اس کو اللہ تعالیٰ ایمان سے نوازتا ہے، [مسند احمد:327/1:ضعیف جداً] ‏

طبرانی میں ہے جو شخص کسی مفلس شخص پر رحم کر کے اپنے قرض کی وصولی میں اس پر سختی نہ کرے اللہ بھی اس کے گناہوں پر اس کو نہیں پکڑتا یہاں تک کہ وہ توبہ کرلے۔ [طبرانی کبیر:11330:ضعیف] ‏ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نصیحت کرتا ہے، انہیں دنیا کے زوال، مال کے فنا، آخرت کا آنا، اللہ کی طرف لوٹنا، اللہ کو اپنے اعمال کا حساب دینا اور ان تمام اعمال پر جزا و سزا کا ملنا یاد دلاتا ہے اور اپنے عذابوں سے ڈراتا ہے، یہ بھی مروی ہے کہ قرآن کریم کی سب سے آخری آیت یہی ہے، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف نو راتوں تک زندہ رہے اور ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو پیر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6312:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت میں اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اکتیس دن کی بھی مروی ہے، ابن جریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سلف کا قول ہے کہ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نو رات زندہ رہے ہفتہ کے دن سے ابتداء ہوئی اور پیر والے دن انتقال ہوا۔ الغرض قرآن کریم میں سب سے آخر یہی آیت نازل ہوئی ہے۔

صفحہ نمبر970

حفظ قرآن اور لین دین میں گواہ اور لکھنے کی تاکید ٭٭

یہ آیت قرآن کریم کی تمام آیتوں سے بڑی ہے، سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قرآن کی سب سے بڑی آیت یہی «آیت الدین» ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:41/6] ‏ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلے انکار کرنے والے آدم علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور قیامت تک کی ان کی تمام اولاد نکالی، آپ علیہ السلام نے اپنی اولاد کو دیکھا، ایک شخص کو خوب تروتازہ اور نورانی دیکھ کر پوچھا کہ الٰہی ان کا کیا نام ہے؟ جناب باری نے فرمایا یہ تمہارے لڑکے داؤد علیہ السلام ہیں، پوچھا اللہ ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا ساٹھ سال، کہا اے اللہ اس کی عمر کچھ اور بڑھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں، ہاں اگر تم اپنی عمر میں سے انہیں کچھ دینا چاہو تو دے دو، کہا اے اللہ میری عمر میں سے چالیس سال اسے دئیے جائیں، چنانچہ دے دئیے گئے، آدم علیہ السلام کی اصلی عمر ایک ہزار سال کی تھی، اس لین دین کو لکھا گیا اور فرشتوں کو اس پر گواہ کیا گیا آدم علیہ السلام کی موت جب آئی، کہنے لگے اے اللہ میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ تم نے اپنے لڑکے داؤد علیہ السلام کو دے دئیے ہیں، تو آدم علیہ السلام نے انکار کیا جس پر وہ لکھا ہوا دکھایا گیا اور فرشتوں کی گواہی گزری، دوسری روایت میں ہے کہ آدم علیہ السلام کی عمر پھر اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار پوری کی اور داؤد علیہ السلام کی ایک سو سال کی۔ [مسند احمد:251/1:حسن لغیرہ] ‏ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کے راوی علی بن زین بن جدعان کی حدیثیں منکر ہوتی ہیں، مستدرک حاکم میں بھی یہ روایت ہے۔ [مستدرک حاکم:586/2] ‏

صفحہ نمبر974

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ایماندار بندوں کو ارشاد فرمایا ہے کہ وہ ادھار کے معاملات لکھ لیا کریں تاکہ رقم اور معیاد خوب یاد رہے، گواہ کو بھی غلطی نہ ہو، اس سے ایک وقت مقررہ کیلئے ادھار دینے کا جواز بھی ثابت ہوا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ معیاد مقرر کر کے قرض کے لین دین کی اجازت اس آیت سے بخوبی ثابت ہوتی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے والوں کا ادھار لین دین دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ناپ تول یا وزن مقرر کر لیا کرو، بھاؤ تاؤ چکا لیا کرو اور مدت کا بھی فیصلہ کر لیا کرو۔ [صحیح بخاری:2239:صحیح] ‏

صفحہ نمبر975

قرآن حکیم کہتا ہے کہ لکھ لیا کرو اور حدیث شریف میں ہے کہ ہم ان پڑھ امت ہیں، نہ لکھنا جانیں نہ حساب، [صحیح بخاری:1913] ‏ ان دونوں میں تطبیق اس طرح ہے کہ دینی مسائل اور شرعی امور کے لکھنے کی تو مطلق ضرورت ہی نہیں خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بے حد آسان اور بالکل سہل کر دیا گیا۔ قرآن کا حفظ اور احادیث کا حفظ قدرتاً لوگوں پر سہل ہے، لیکن دنیوی چھوٹی بڑی لین دین کی باتیں اور وہ معاملات جو ادھار سدھار ہوں، ان کی بابت بیشک لکھ لینے کا حکم ہوا اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ حکم بھی وجوباً نہیں پس نہ لکھنا دینی امور کا ہے اور لکھ لینا دنیوی کام کا ہے۔ بعض لوگ اس کے وجوب کی طرف بھی گئے ہیں،

ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو ادھار دے وہ لکھ لے اور جو بیچے وہ گواہ کر لے، ابوسلیمان مرعشی رحمہ اللہ جنہوں نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہما کی صحبت بہت اٹھائی تھی انہوں نے ایک دن اپنے پاس والوں سے کہا اس مظلوم کو بھی جانتے ہو جو اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی لوگوں نے کہا یہ کس طرح؟ فرمایا یہ وہ شخص ہے جو ایک مدت کیلئے ادھار دیتا ہے اور نہ گواہ رکھتا ہے نہ لکھت پڑھت کرتا ہے۔

صفحہ نمبر976

پھر مدت گزرنے پر تقاضا کرتا ہے اور دوسرا شخص انکار کر جاتا ہے، اب یہ اللہ سے دعا کرتا ہے لیکن پروردگار قبول نہیں کرتا اس لیے کہ اس نے کام اس کے فرمان کیخلاف کیا ہے اور اپنے رب کا نافرمان ہوا ہے، حضرت ابوسعید شعبی ربیع بن انس حسن ابن جریج ابن زید رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا قول ہے کہ پہلے تو یہ واجب تھا پھر وجوب منسوخ ہو گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:47/6] ‏ اور فرمایا گیا کہ اگر ایک دوسرے پر اطمینان ہو تو جسے امانت دی گئی ہے اسے چاہیئے کہ ادا کر دے، اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے، گو یہ واقعہ اگلی امت کا ہے لیکن تاہم ان کی شریعت ہماری شریعت ہے۔ جب تک ہماری شریعت پر اسے انکار نہ ہو اس واقعہ میں جسے اب ہم بیان کرتے ہیں لکھت پڑھت کے نہ ہونے اور گواہ مقرر نہ کئے جانے پر شارع علیہ السلام نے انکار نہیں کیا۔

صفحہ نمبر977

مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل کے ایک شخص نے دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار ادھار مانگے، اس نے کہا گواہ لاؤ، جواب دیا کہ اللہ کی گواہی کافی ہے، کہا ضمانت لاؤ، جواب دیا اللہ کی ضمانت کافی ہے، کہا تو نے سچ کہا، ادائیگی کی معیاد مقرر ہو گئی اور اس نے اسے ایک ہزار دینار گن دئیے، اس نے تری کا سفر کیا اور اپنے کام سے فارغ ہوا، جب معیاد پوری ہونے کو آئی تو یہ سمندر کے قریب آیا کہ کوئی جہاز کشتی ملے تو اس میں بیٹھ جاؤں اور رقم ادا کر آؤں، لیکن کوئی جہاز نہ ملا، جب دیکھا کہ وقت پر نہیں پہنچ سکتا تو اس نے ایک لکڑی لی، اسے بیچ سے کھوکھلی کر لی اور اس میں ایک ہزار دینار رکھ دئیے اور ایک پرچہ بھی رکھ دیا، پھر منہ کو بند کر دیا اور اللہ سے دعا کی کہ پروردگار تجھے خوب علم ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیے اس نے مجھ سے ضمانت طلب کی، میں نے تجھے ضامن کیا اور وہ اس پر خوش ہو گیا، گواہ مانگا، میں نے گواہ بھی تجھی کو رکھا، وہ اس پر بھی خوش ہو گیا، اب جبکہ اپنا قرض ادا کر آؤں لیکن کوئی کشتی نہیں ملی، اب میں اس رقم کو تجھے سونپتا ہوں اور سمندر میں ڈال دیتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ یہ رقم اسے پہنچا دے، پھر اس لکڑی کو سمندر میں ڈال دیا اور خود چلا گیا لیکن پھر بھی کشتی کی تلاش میں رہا کہ مل جائے تو جاؤں، یہاں تو یہ ہوا، وہاں جس شخص نے اسے قرض دیا تھا، جب اس نے دیکھا کہ وقت پورا ہوا اور آج اسے آ جانا چاہیئے تھا، تو وہ بھی دریا کنارے آن کھڑا ہوا کہ وہ آئے گا اور میری رقم مجھے دیدے گا یا کسی کے ہاتھ بھجوائے گا، مگر جب شام ہونے کو آئی اور کوئی کشتی اس کی طرف سے نہیں آئی تو یہ واپس لوٹا،

صفحہ نمبر978

کنارے پر ایک لکڑی دیکھی تو یہ سمجھ کر کہ خالی ہاتھ تو جا ہی رہا ہوں، اس لکڑی کو بھی لے چلوں، پھاڑ کر سکھا لوں گا جلانے کے کام آئے گی، گھر پہنچ کر جب اسے چیرتا ہے تو کھنا کھن بجتی ہوئی اشرفیاں نکلتی ہیں، گنتا ہے تو پوری ایک ہزار ہیں، وہیں پرچہ پر نظر پڑتی ہے، اسے بھی اٹھا کر پڑھ لیتا ہے، پھر ایک دن وہی شخص آتا ہے اور ایک ہزار دینار پیش کر کے کہتا ہے یہ لیجئے آپ کی رقم، معاف کیجئے گا میں نے ہر چند کوشش کی کہ وعدہ خلافی نہ ہو لیکن کشتی کے نہ ملنے کی وجہ سے مجبور ہو گیا اور دیر لگ گئی، آج کشتی ملی، آپ کی رقم لے کر حاضر ہوا، اس نے پوچھا کیا میری رقم آپ نے بھجوائی بھی ہے؟ اس نے کہا میں کہہ چکا ہوں کہ مجھے کشتی نہ ملی تھی، اس نے کہا آپ اپنی رقم لے کر خوش ہو کر چلے جاؤ، آپ نے جو رقم لکڑی میں ڈال کر اسے توکل علی اللہ ڈالی تھی، اسے اللہ نے مجھ تک پہنچا دیا اور میں نے اپنی رقم پوری وصول پالی۔ [صحیح بخاری:2291] ‏ اس حدیث کی سند بالکل صحیح ہے، صحیح بخاری شریف میں سات جگہ یہ حدیث آئی ہے۔ [صحیح بخاری:1498] ‏

صفحہ نمبر979

پھر فرمان ہے کہ لکھنے والا عدل و حق کے ساتھ لکھے، کتابت میں کسی فریق پر ظلم نہ کرے، ادھر ادھر کچھ کمی بیشی نہ کرے بلکہ لین دین والے دونوں متفق ہو کر جو لکھوائیں وہی لکھے، لکھا پڑھا شخص معاملہ کو لکھنے سے انکار نہ کرے، جب اسے لکھنے کو کہا جائے لکھ دے، جس طرح اللہ کا یہ احسان اس پر ہے کہ اس نے اسے لکھنا سکھایا اسی طرح جو لکھنا نہ جانتے ہوں ان پر یہ احسان کرے اور ان کے معاملہ کو لکھ دیا کرے۔ حدیث میں ہے یہ بھی صدقہ ہے کہ کسی کام کرنے والے کا ہاتھ بٹا دو، کسی گرے پڑے کا کام کر دو، [صحیح بخاری:2518] ‏ اور حدیث میں ہے جو علم کو جان کر پھر اُسے چھپائے، قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی، [سنن ابوداود:3658، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

مجاہد رحمہ اللہ اور عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کاتب پر لکھ دینا اس آیت کی رو سے واجب ہے۔ جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اللہ سے ڈرے، نہ کمی بیشی کرے نہ خیانت کرے۔ اگر یہ شخص بےسمجھ ہے اسراف وغیرہ کی وجہ سے روک دیا گیا ہے یا کمزور ہے یعنی بچہ ہے یا حواس درست نہیں یا جہالت اور کندذہنی کی وجہ سے لکھوانا بھی نہیں جانتا تو جو اس کا والی اور بڑا ہو، وہ لکھوائے۔

صفحہ نمبر980

پھر فرمایا کتابت کے ساتھ شہادت بھی ہونی چاہیئے تاکہ معاملہ خوب مضبوط اور بالکل صاف ہو جائے۔ دو عورتوں کو ایک عورت کے قائم مقام کرنا عورت کے نقصان کے سبب ہے، جیسے صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عورتو صدقہ کرو اور بکثرت استغفار کرتی رہو، میں نے دیکھا ہے کہ جہنم میں تم بہت زیادہ تعداد میں جاؤ گی، ایک عورت نے پوچھا یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لعنت زیادہ بھیجا کرتی ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو، میں نے نہیں دیکھا کہ باوجود عقل دین کی کمی کے، مردوں کی عقل مارنے والی تم سے زیادہ کوئی ہو، اس نے پھر پوچھا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں دین کی عقل کی کمی کیسے ہے؟ فرمایا عقل کی کمی تو اس سے ظاہر ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ایام حیض میں نہ نماز ہے نہ روزہ۔ [صحیح مسلم:79:صحیح] ‏

صفحہ نمبر981

گواہوں کی نسبت فرمایا کہ یہ شرط ہے کہ وہ عدالت والے ہوں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ جہاں کہیں قرآن شریف میں گواہ کا ذِکر ہے وہاں عدالت کی شرط ضروری ہے، گو وہاں لفظوں میں نہ ہو اور جن لوگوں نے ان کی گواہی رَد کر دی ہے جن کا عادل ہونامعلوم نہ ہو ان کی دلیل بھی یہی آیت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ گواہ عادل اور پسندیدہ ہونا چاہیئے۔ دو عورتیں مقرر ہونے کی حکمت بھی بیان کر دی گئی ہے کہ اگر ایک گواہی کو بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے کی «فَتُذَکَّرَ» کی دوسری قرأت «فَتُذَکِّرَ» بھی ہے، جو لوگ کہتے ہیں کہ اس کی شہادت اس کے ساتھ مل کر شہادت مرد کے کر دے گی انہوں نے مکلف کیا ہے، صحیح بات پہلی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر982

گواہوں کو چاہیئے کہ جب وہ بلائے جائیں انکار نہ کریں یعنی جب ان سے کہا جائے کہ آؤ اس معاملہ پر گواہ رہو تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیئے جیسے کاتب کی بابت بھی یہی فرمایا گیا ہے، یہاں سے یہ بھی فائدہ حاصل کیا گیا ہے کہ گواہ رہنا بھی فرض کفایہ ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ جمہور کا مذہب یہی ہے [تفسیر ابن جریر الطبری:68/6] ‏ اور یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ جب گواہ گواہی دینے کیلئے طلب کیا جائے یعنی جب اس سے واقعہ پوچھا جائے تو وہ خاموش نہ رہے، چنانچہ ابومجلز مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں کہ جب گواہ بننے کیلئے بلائے جاؤ تو تمہیں اختیار ہے خواہ گواہ بننا پسند کرو یا نہ کرو یا نہ جاؤ لیکن جب گواہ ہو چکو پھر گواہی دینے کیلئے جب بلایا جائے تو ضرور جانا پڑے گا، [تفسیر ابن ابی حاتم:181/3] ‏ صحیح مسلم اور سنن کی حدیث میں ہے اچھے گواہ وہ ہیں جو بے پوچھے ہی گواہی دے دیا کریں، [صحیح مسلم:1719:صحیح] ‏ بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں جو آیا ہے کہ بدترین گواہ وہ ہیں جن سے گواہی طلب نہ کی جائے اور وہ گواہی دینے بیٹھ جائیں، [صحیح بخاری:6428:صحیح] ‏ اور وہ حدیث جس میں ہے کہ پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی قسمیں گواہیوں پر اور گواہیاں قسموں پر پیش پیش رہیں گی، [صحیح بخاری:2652:صحیح] ‏ اور روایت میں آیا ہے کہ ان سے گواہی نہ لی جائے گی تاہم وہ گواہی دیں گے، [صحیح بخاری:2651:صحیح] ‏ تو یاد رہے [ مذمت جھوٹی گواہی دینے والوں کی اور تعریف سچی گواہی دینے والوں کی ہے ] ‏ اور یہی ان مختلف احادیث میں تطبیق ہے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں آیت دونوں حالتوں پر شامل ہے، یعنی گواہی دینے کیلئے بھی اور گواہ رہنے کیلئے بھی انکار نہ کرنا چاہیئے۔

صفحہ نمبر983

پھر فرمایا چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا لکھنے سے کسمساؤ نہیں بلکہ مدت وغیرہ بھی لکھ لیا کرو۔ ہمارا یہ حکم پورے عدل والا اور بغیر شک و شبہ فیصلہ ہو سکتا ہے۔ پھر فرمایا جبکہ نقد خرید و فروخت ہو رہی ہو تو چونکہ باقی کچھ نہیں رہتا اس لیے اگر نہ لکھا جائے تو کسی جھگڑے کا احتمال نہیں، لہٰذا کتابت کی شرط تو ہٹا دی گئی، اب رہی شہادت تو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ ادھار ہو یا نہ ہو، ہر حال میں اپنے حق پر گواہ کر لیا کرو، دیگر بزرگوں سے مروی ہے کہ «فَإِنْ أَمِنَ بَعْضُكُم بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ» [ البقرہ: 283 ] ‏ فرما کر اس حکم کو بھی ہٹا دیا

صفحہ نمبر984

یہ بھی ذہن نشین رہے کہ جمہور کے نزدیک یہ حکم واجب نہیں بلکہ استحباب کے طور پر اچھائی کیلئے ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے جس سے صاف ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید و فروخت کی جبکہ اور کوئی گواہ شاہد نہ تھا، چنانچہ مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک گھوڑا خریدا اور اعرابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دولت خانہ کی طرف رقم لینے کیلئے چلا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ذرا جلد نکل آئے اور وہ آہستہ آہستہ آ رہا تھا، لوگوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ گھوڑا بک گیا ہے، انہوں نے قیمت لگانی شروع کی یہاں تک کہ جتنے داموں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچا تھا اس سے زیادہ دام لگ گئے، اعرابی کی نیت پلٹی اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا یا تو گھوڑا اسی وقت نقد دے کر لے لو یا میں اور کے ہاتھ بیچ دیتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سُن کر رکے اور فرمانے لگے تو تو اسے میرے ہاتھ بیچ چکا ہے پھر یہ کیا کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم میں نے تو نہیں بیچا، صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غلط کہتا ہے، میرے تیرے درمیان معاملہ طے ہو چکا ہے، اب لوگ ادھر اُدھر سے بیچ میں بولنے لگے، اس گنوار نے کہا اچھا تو گواہ لائیے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بیچ دیا، مسلمانوں نے ہر چند کہا کہ بدبخت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اللہ کے پیغمبر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تو حق ہی نکلتا ہے، لیکن وہ یہی کہے چلا جائے کہ لاؤ گواہ پیش کرو، اتنے میں سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ آ گئے اور اعرابی کے اس قول کو سن کر فرمانے لگے میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے بیچ دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ تو فروخت کر چکا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو کیسے شہادت دے رہا ہے، سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق اور سچائی کی بنیاد پر یہ شہادت دی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج سے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی دو گواہوں کے برابر ہے۔ [سنن ابوداود:3607، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر985

پس اس حدیث سے خرید و فروخت پر گواہی دو گواہوں کی ضروری نہ رہی، لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ تجارت پر بھی دو گواہ ہوں، کیونکہ ابن مردویہ اور حاکم میں ہے کہ تین شخص ہیں جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں لیکن قبول نہیں کی جاتی، ایک تو وہ کہ جس کے گھر بداخلاق عورت ہو اور وہ اسے طلاق نہ دے، دوسرا وہ شخص جو کسی یتیم کا مال اس کی بلوغت کے پہلے اسے سونپ دے، تیسرا وہ شخص جو کسی کو مال قرض دے اور گواہ نہ رکھے، [مستدرک حاکم:302/2] ‏ امام حاکم اسے شرط بخاری و مسلم پر صحیح بتلاتے ہیں، بخاری مسلم اس لیے نہیں لائے کہ شعبہ کے شاگرد اس روایت کو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر موقوف بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر986

پھر فرماتا ہے کہ کاتب کو چاہیئے کہ جو لکھا گیا وہی لکھے اور گواہ کو چاہیئے کہ واقعہ کیخلاف گواہی نہ دے اور نہ گواہی کو چھپائے، حسن رحمہ اللہ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا یہی قول ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ مطلب بیان کرتے ہیں کہ ان دونوں کو ضرر نہ پہنچایا جائے مثلاً انہیں بلانے کیلئے گئے، وہ کسی اپنے کام میں مشغول ہوں تو یہ کہنے لگے کہ تم پر یہ فرض ہے۔ اپنا حرج کرو اور چلو، یہ حق انہیں نہیں، اور بہت سے بزرگوں سے بھی یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر987

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میں جس سے روکوں اس کا کرنا اور جو کام کرنے کو کہوں اس سے رک جانا یہ بدکاری ہے جس کا وبال تم سے چھٹے گا نہیں۔ پھر فرمایا اللہ سے ڈرو اس کا لحاظ رکھو، اس کی فرمانبرداری کرو، اس کے روکے ہوئے کاموں سے رُک جاؤ، اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھا رہا ہے جیسے اور جگہ فرمایا «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا» [ 8۔ الانفال: 29 ] ‏ اے ایمان والو اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہیں دلیل دیدے گا، اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ» [ 57-الحديد: 28 ] ‏ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھو وہ تمہیں دوہری رحمتیں دے گا اور تمہیں نور عطا فرمائے گا جس کی روشنی میں تم چلتے رہو گے۔ پھر فرمایا تمام کاموں کا انجام اور حقیقت سے ان کی مصلحتوں اور دور اندیشیوں سے اللہ آگاہ ہے اس سے کوئی چیز مخفی نہیں، اس کا علم تمام کائنات کو گھیرے ہوئے ہے اور ہرچیز کا اسے حقیقی علم ہے۔

صفحہ نمبر988

مسئلہ رہن، تحریر اور گواہی ٭٭

یعنی بحالت سفر اگر ادھار کا لین دین ہو اور کوئی لکھنے والا نہ ملے یا ملے مگر قلم و دوات یا کاغذ نہ ہو تو رہن رکھ لیا کرو اور جس چیز کو رہن رکھنا ہو اسے حقدار کے قبضے میں دے دو۔ مقبوضہ کے لفظ سے استدلال کیا گیا ہے کہ رہن جب تک قبضہ میں نہ آ جائے لازم نہیں ہوتا، جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور کا مذہب ہے اور دوسری جماعت نے استدلال کیا ہے کہ رہن کا مرتہن کے ہاتھ میں مقبوض ہونا ضروری ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ اور ایک دوسری جماعت میں یہی منقول ہے، ایک اور جماعت کا قول ہے کہ رہن صرف میں ہی مشروع ہے، جیسے مجاہدرحمہ اللہ وغیرہ لیکن صحیح بخاری، صحیح مسلم، شافعی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت فوت ہوئے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ مدینے کے ایک یہودی ابوالشحم کے پاس تیس وسق جو کے بدلے گروی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کے کھانے کیلئے لیے تھے۔ [صحیح بخاری:2069] ‏ ان مسائل کے بسط و تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں بلکہ احکام کی بڑی بڑی کتابیں ہیں۔ «وللہ الحمد والمنتہ و بہ المستعان» اس سے بعد کے جملے «فَإِنْ أَمِنَ» سے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس کے پہلے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1202/3:] ‏

شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب نہ دینے کا خوف نہ ہو تو نہ لکھنے اور نہ گواہ رکھنے کی کوئی حرج نہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:1203/3] ‏ جسے امانت دی جائے اسے خوف الٰہی رکھنا چاہیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ادا کرنے کی ذمہ داری اس ہاتھ پر ہے جس نے کچھ لیا۔ ارشاد ہے شہادت کو نہ چھپاؤ نہ اس میں خیانت کرو نہ اس کے اظہار کرنے سے رکو۔

صفحہ نمبر989

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں جھوٹی شہادت دینی یا شہادت کو چھپانا گناہِ کبیرہ ہے، یہاں بھی فرمایا اس کا چھپانے والا خطا کار دِل والا ہے جیسے اور جگہ ہے «وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللّٰهِ اِنَّآ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِيْنَ» [ 5۔ المائدہ: 106 ] ‏ یعنی ہم اللہ کی شہادت کو نہیں چھپاتے، اگر ہم ایسا کریں گے تو یقیناً ہم گنہگاروں میں سے ہیں، اور جگہ فرمایا «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّـهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا» [ 4-النساء: 135 ] ‏ ایمان والو عدل و انصاف کے ساتھ اللہ کے حکم کی تعمیل یعنی گواہیوں پر ثابت قدم رہو، گو اس کی برائی خود تمہیں پہنچے یا تمہارے ماں باپ کو یا رشتے کنبے والوں کو اگر وہ مالدار ہو تو اور فقیر ہو تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے اولیٰ ہے، خواہشوں کے پیچھے پڑ کر عدل سے نہ ہٹو اور اگر تم زبان دباؤ گے یا پہلو تہی کرو گے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ بھی تمہارے اعمال سے خبردار ہے، اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ گواہی کو نہ چھپاؤ اس کا چھپانے والا گنہگار دِل والا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔

صفحہ نمبر990

انسان کے ضمیر سے خطاب ٭٭

یعنی آسمان و زمین کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ چھوٹی بڑی چھپی یا کھلی ہر بات کو وہ جانتا ہے۔ ہر پوشیدہ اور ظاہر عمل کا وہ حساب لینے والا ہے، جیسے اور جگہ فرمایا «قُلْ إِن تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّـهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» [ 3-آل عمران: 29 ] ‏ کہہ دے کہ تمہارے سینوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپاؤ یا ظاہر کرو اللہ تعالیٰ کو اس کا بخوبی علم ہے، وہ آسمان و زمین کی ہرچیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے اور فرمایا «يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفَى» [ 20-طه: 7 ] ‏ وہ ہر چھپی ہوئی اور علانیہ بات کو خوب جانتا ہے، مزید اس معنی کی بہت سی آیتیں ہیں، یہاں اس کے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ وہ اس پر حساب لے گا،

جب یہ آیت اتری تو صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم بہت پریشان ہوئے کہ چھوٹی بڑی تمام چیزوں کا حساب ہو گا، اپنے ایمان کی زیادتی اور یقین کی مضبوطی کی وجہ سے وہ کانپ اٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر گھٹنوں کے بل گر پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم نماز، روزہ، جہاد، صدقہ وغیرہ کا ہمیں حکم ہوا، وہ ہماری طاقت میں تھا ہم نے حتیٰ المقدور کیا لیکن اب جو یہ آیت اتری ہے اسے برداشت کرنے کی طاقت ہم میں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم یہود و نصاریٰ کی طرح یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم نے سنا اور نہیں مانا، تمہیں چاہیئے کہ یوں کہو ہم نے سنا اور مانا، اے اللہ ہم تیری بخشش چاہتے ہیں۔ ہمارے رب ہمیں تو تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے تسلیم کر لیا اور زبانوں پر یہ کلمات جاری ہو گئے تو آیت «اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 285 ] ‏ اتری اور اللہ تعالیٰ نے اس تکلیف کو دور کر دیا اور آیت «لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ» [ 2۔ البقرہ: 286 ] ‏ نازل ہوئی۔ [صحیح مسلم:125:صحیح] ‏

صفحہ نمبر991

صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تکلیف کو ہٹا کر «لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ» [ 2-البقرہ: 286 ] ‏ اتاری، [صحیح مسلم:125-126:صحیح] ‏ اور جب مسلمانوں نے کہا کہ اے اللہ ہماری بھول چوک اور ہماری خطا پر ہمیں نہ پکڑ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا «نعم»، یعنی میں یہی کروں گا۔ انہوں نے کہا «رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا» [ 2-البقرہ: 286 ] ‏، اللہ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو ہم سے اگلوں پر ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بھی قبول، پھر کہا «رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ» [ 2-البقرہ: 286 ] ‏ اے اللہ ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈال، اسے بھی قبول کیا گیا۔ پھر دعا مانگی «وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ» [ 2-البقرہ: 286 ] ‏ اے اللہ ہمیں معاف فرما دے، ہمارے گناہ بخش اور کافروں پر ہماری مدد کر، اللہ تعالیٰ نے اسے بھی قبول فرمایا، یہ حدیث اور بھی بہت سے انداز سے مروی ہے۔

صفحہ نمبر992

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر واقعہ بیان کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت «وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّـهُ» [ البقرہ: 284 ] ‏ کی تلاوت فرمائی اور بہت روئے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اس آیت کے اترتے یہی حال صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کا ہوا تھا، وہ سخت غمگین ہو گئے اور کہا دِلوں کے مالک تو ہم نہیں۔ دِل کے خیالات پر بھی پکڑے گئے تو یہ تو بڑی مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا» کہو، چنانچہ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے کہا اور بعد والی آیتیں اتریں اور عمل پر تو پکڑ طے ہوئی لیکن دِل کے خطرات اور نفس کے وسوسے سے پکڑ منسوخ ہو گئی، [مسند احمد:332/1:صحیح] ‏

دوسرے طریق سے یہ روایت ابن مرجانہ سے بھی اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ قرآن نے فیصلہ کر دیا کہ تم اپنے نیک و بد اعمال پر پکڑے جاؤ گے خواہ زبانی ہوں خواہ دوسرے اعضاء کے گناہ ہوں، لیکن دِلی وسواس معاف ہیں اور بھی بہت سے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے اس کا منسوخ ہونا مروی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دِلی خیالات سے درگزر فرما لیا، گرفت اسی پر ہو گی جو کہیں یا کریں۔ [صحیح بخاری:2528:صحیح] ‏

صفحہ نمبر993

بخاری مسلم میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میرا بندہ برائی کا ارادہ کرے تو اسے نہ لکھو جب تک اس سے برائی سرزد ہو، اگر کر گزرے تو ایک برائی لکھو اور جب نیکی کا اراد کرے تو صرف ارادہ سے ہی نیکی لکھ لو اور اگر نیکی کر بھی لے تو ایک کے بدلے دس نیکیاں لکھو۔ [صحیح بخاری:7501:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ ایک نیکی کے بدلے ساتھ سو تک لکھی جاتی ہیں، [صحیح مسلم:128] ‏

اور روایت میں ہے کہ جب بندہ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو فرشتے جناب باری میں عرض کرتے ہیں کہ اللہ تیرا یہ بندہ بدی کرنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رُکے رہو جب تک کر نہ لے، اس کے نامہ اعمال میں نہ لکھو اگر لکھو گے تو ایک لکھنا اور اگر چھوڑ دے تو ایک نیکی لکھ لینا کیونکہ مجھ سے ڈر کر چھوڑتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو پختہ اور پورا مسلمان بن جائے اس کی ایک ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک بڑھتا جاتا ہے اور برائی نہیں بڑھتی، اور روایت میں ہے کہ سات سو سے بھی کبھی کبھی، [صحیح مسلم:129] ‏ نیکی بڑھا دی جاتی ہے، [صحیح مسلم:131:صحیح] ‏ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ بڑا برباد ہونے والا وہ ہے جو باوجود اس رحم و کرم کے بھی برباد ہو، ایک مرتبہ اصحاب رضی اللہ عنہم نے آ کر عرض کیا کبھی کبھی تو ہمارے دِل میں ایسے وسوسے اٹھتے ہیں کہ زبان سے ان کا بیان کرنا بھی ہم پر گراں گزرتا ہے۔ آپ نے فرمایا ایسا ہونے لگا؟ انہوں نے عرض کیا ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ صریح ایمان ہے۔ [صحیح مسلم:132:صحیح] ‏

صفحہ نمبر994

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ قیامت والے دن جب تمام مخلوق کو اللہ تعالیٰ جمع کرے گا تو فرمائے گا کہ میں تمہیں تمہارے دِلوں کے ایسے بھید بتاتا ہوں جس سے میرے فرشتے بھی آگاہ نہیں، مومنوں کو تو بتانے کے بعد پھر معاف فرما دیا جائے گا لیکن منافق اور شک و شبہ کرنے والے لوگوں کو ان کے کفر کی درپردہ اطلاع دے کر بھی ان کی پکڑ ہو گی۔ ارشاد ہے آیت «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ» [ البقرہ: 225 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے دِلوں کی کمائی پر ضرور پکڑے گا یعنی دِلی شک اور دِلی نفاق کی بنا پر، حسن بصری بھی اسے منسوخ نہیں کہتے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی روایت سے متفق ہیں اور فرماتے ہیں کہ حساب اور چیز ہے عذاب اور چیز ہے۔ حساب لیے جانے اور عذاب کیا جانا لازم نہیں، ممکن ہے حساب کے بعد معاف کر دیا جائے اور ممکن ہے سزا ہو،

چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ ہم طواف کر رہے تھے ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی سرگوشی کے متعلق کیا سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایمان والے کو اپنے پاس بلائے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا پھر اس سے کہے گا بتا تو نے فلاں فلاں گناہ کیا؟ فلاں فلاں گناہ کیا؟ وہ غریب اقرار کرتا جائے گا، جب بہت سے گناہ ہونے کا اقرار کر لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا سُن دنیا میں بھی میں نے تیرے ان گناہوں کی پردہ پوشی کی، اور اب آج کے دن بھی میں ان تمام گناہوں کو معاف فرما دیتا ہوں، اب اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا جائے گا، ہاں البتہ کفار و منافق کو تمام مجمع کے سامنے رسوا کیا جائے گا اور ان کے گناہ ظاہر کئے جائیں گے اور پکارا جائے گا کہ «هَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَىٰ رَبِّهِمْ أَلَا لَعْنَةُ اللَّـهِ عَلَى الظَّالِمِينَ» [ 11-هود: 18 ] ‏ یہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر تہمت لگائی، ان ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہے۔ [صحیح بخاری:2441] ‏

صفحہ نمبر995

سیدنا زید رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ اس آیت کے بارے میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا ہے تب سے لے کر آج تک مجھ سے کسی شخص نے نہیں پوچھا، مگر آج تو نے پوچھا تو سُن اس سے مراد بندے کو دنیاوی تکلیفیں مثلاً بخار وغیرہ تکلیفیں پہنچانا ہے، یہاں تک کہ مثلاً ایک جیب میں نقدی رکھی اور بھول گیا، تھوڑی پریشانی ہوئی مگر دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا وہاں سے نقدی مل گی، اس پر بھی اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں، یہاں تک کہ مرنے کے وقت وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس طرح خالص سرخ سونا ہو۔ [سنن ترمذي:2991، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ ترمذی وغیرہ، یہ حدیث غریب ہے۔

صفحہ نمبر996

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ٭٭

ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنیے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ [صحیح بخاری:5009:صحیح] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد:151/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ وقت کی نمازیں، سورۃ البقرہ کے خاتمہ کی آیتیں اور توحید والوں کے تمام گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:173:صحیح] ‏

مسند میں ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں، [مسند احمد:147/4:صحیح لغیرہ] ‏ ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، میں سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی، [مسند احمد:383/5:صحیح] ‏ ابن مردویہ میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے، یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں، [ابن الضریس فی فضائل القرآن:169:موقوف] ‏

اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورۃ البقرہ ختم کی، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جا سکتا۔ [سنن ترمذي:2882، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر997

ابن مردویہ میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ البقرہ کا خاتمہ اور آیت الکرسی پڑھتے تو ہنس دیتے اور فرماتے یہ دونوں رحمٰن کے عرش تلے کا خزانہ ہیں اور جب «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا» [4-النساء:123] ‏ اور آیت «وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» [ 53-النجم: 39-41 ] ‏ پڑھتے تو زبان سے «اناللہ» نکل جاتا اور سست ہو جاتے، [الدر المنثور للسیوطی:7/2:ضعیف] ‏ ابن مردویہ میں ہے کہ مجھے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں، اور مزید مفصل کی سورتیں بھی وہاں سے ہی دی گئی ہیں۔ [مستدرک حاکم:568/1:ضعیف] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا، اس سے ایک فرشتہ اترا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی مبارک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:805:صحیح] ‏ پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں۔

صفحہ نمبر998

مطلب آیت کا یہ ہے کہ رسول یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ایمان لائے جو ان کی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل ہوا، اسے سن کر آپ نے فرمایا وہ ایمان لانے کا پورا مستحق ہے، [مستدرک حاکم:287/2:منقطع و ضعیف] ‏ اور دوسرے ایماندار بھی ایمان لائے، ان سب نے مان لیا کہ اللہ ایک ہے، وہ وحدانیت کا مالک ہے، وہ تنہا ہے، وہ بے نیاز ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنے والا ہے، یہ [ ایمان والے ] ‏ تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں، تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، آسمانی کتابوں کو انبیاء کرام پر جو اتری ہیں سچی جانتے ہیں۔ وہ نبیوں میں فرق نہیں سمجھتے کہ ایک کو مانیں دوسرے کو نہ مانیں بلکہ سب کو سچا جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ پاکباز طبقہ رشد و ہدایت والا اور لوگوں کی خیر کی طرف رہبری کرنے والا ہے، گو بعض احکام ہر نبی کے زمانہ میں تبدیل ہوتے رہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سب کی ناسخ ٹھہری،

خاتم الانبیاء و مرسلین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الٰہی ہمیں تسلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن۔

صفحہ نمبر999

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعدار امت کے یہاں ثناء و صفت بیان ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر دعا کیجئے قبول کی جائے گی، مانگیے کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6498:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا یہ اس کا لطف و کرم اور احسان و انعام ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کو جو کھٹکا ہوا تھا اور ان پر جو یہ فرمان گراں گزرا تھا کہ دِل کے خطرات پر بھی حساب لیا جائے گا وہ دھڑکا اس آیت سے اُٹھ گیا۔ مطلب یہ کہ گو حساب ہو، سوال ہو لیکن جو چیز طاقت سے باہر ہے اس پر عذاب نہیں کیونکہ دِل میں کسی خیال کا دفعتاً آ جانا روکے رُک نہیں سکتا بلکہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ایسے وسوسوں کو برا جاننا دلیل ایمان ہے، بلکہ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی، اعمال صالحہ کرو گے جزا پاؤ گے، برے اعمال کرو گے تو سزا بھگتو گے۔

صفحہ نمبر1000

پھر دعا کی تعلیم دی اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرمایا، کہ اے اللہ بھولے چوکے جو احکام ہم سے چھوٹ گئے ہوں یا جو برے کام ہو گئے ہوں یا شرعی احکام میں غلطی کر کے جو خلاف شرع کام ہم سے ہوئے ہوں وہ معاف فرما، پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے اسے قبول فرما لیا، [صحیح مسلم:125:صحیح] ‏ میں نے یہی کیا اور حدیث میں بھی آ چکا کہ میری امت کی بھول چوک معاف ہے اور جو کام زبردستی کرائے جائیں وہ بھی معاف ہیں۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اے اللہ عز و جل ہم پر مشکل اور سخت اعمال کی مشقت نہ ڈال جیسے اگلے دین والوں پر سخت سخت احکام تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی رحمت بنا کر بھیج کر دور کیے گئے اور آپ کو ہر طرح سہولت اور آسانی دی گئی اسے بھی پروردگار نے قبول فرمایا، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ [خطیب:209/7:صحیح بالشواھد] ‏

اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو، حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1235/3] ‏ اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو، اس لیے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا۔ تو ہمارا ولی و ناصر ہے، تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں، تو ہی ہمارا سہارا ہے، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے، تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں۔

اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کر دینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:146/6] ‏

صفحہ نمبر1001

بقرہ کی آخری آیات اور ان کی فضیلت ٭٭

ان دونوں آیتوں کی حدیثیں سنیے، صحیح بخاری میں ہے جو شخص ان دونوں آیتوں کو رات کو پڑھ لے اسے یہ دونوں کافی ہیں۔ [صحیح بخاری:5009:صحیح] ‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں عرش تلے کے خزانہ سے دیا گیا ہوں مجھ سے پہلے کسی نبی کو یہ نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد:151/5:صحیح] ‏ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی اور آپ سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان میں ہے، جو چیز آسمان کی طرف چڑھتی ہے وہ یہیں تک ہی پہنچتی ہے اور یہاں سے ہی لے جائی جاتی ہے اور جو چیز اوپر سے نازل ہوتی ہے وہ بھی یہیں تک پہنچتی ہے، پھر یہاں سے آگے لے جائی جاتی ہے اور اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھکے ہوئے تھیں، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں دی گئیں۔ پانچ وقت کی نمازیں، سورۃ البقرہ کے خاتمہ کی آیتیں اور توحید والوں کے تمام گناہوں کی بخشش۔ [صحیح مسلم:173:صحیح] ‏

مسند میں ہے کہ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سورۃ البقرہ کی ان دونوں آخری آیتوں کو پڑھتے رہا کرو، میں انہیں عرش کے نیچے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں، [مسند احمد:147/4:صحیح لغیرہ] ‏ ابن مردویہ میں ہے کہ ہمیں لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، میں سورۃ البقرہ کی یہ آخری آیتیں عرش تلے کے خزانوں سے دیا گیا ہوں جو نہ میرے پہلے کسی کو دی گئیں نہ میرے بعد کسی کو دی جائیں گی، [مسند احمد:383/5:صحیح] ‏ ابن مردویہ میں ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اسلام کے جاننے والوں میں سے کوئی شخص آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں پڑھے بغیر سو جائے، یہ وہ خزانہ ہے جو تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عرش تلے کے خزانہ سے دئیے گئے ہیں، [ابن الضریس فی فضائل القرآن:169:موقوف] ‏

اور حدیث ترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے تک ایک کتاب لکھی جس میں سے دو آیتیں اتار کر سورۃ البقرہ ختم کی، جس گھر میں یہ تین راتوں تک پڑھی جائیں اس گھر کے قریب بھی شیطان نہیں جا سکتا۔ [سنن ترمذي:2882، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں لیکن حاکم اپنی مستدرک میں اسے صحیح کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر997

ابن مردویہ میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ البقرہ کا خاتمہ اور آیت الکرسی پڑھتے تو ہنس دیتے اور فرماتے یہ دونوں رحمٰن کے عرش تلے کا خزانہ ہیں اور جب «مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللَّـهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا» [4-النساء:123] ‏ اور آیت «وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ وَأَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُرَىٰ ثُمَّ يُجْزَاهُ الْجَزَاءَ الْأَوْفَىٰ» [ 53-النجم: 39-41 ] ‏ پڑھتے تو زبان سے «اناللہ» نکل جاتا اور سست ہو جاتے، [الدر المنثور للسیوطی:7/2:ضعیف] ‏ ابن مردویہ میں ہے کہ مجھے سورۃ فاتحہ اور سورۃ بقرہ کی آخری آیتیں عرش کے نیچے سے دی گئی ہیں، اور مزید مفصل کی سورتیں بھی وہاں سے ہی دی گئی ہیں۔ [مستدرک حاکم:568/1:ضعیف] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جہاں جبرائیل علیہ السلام بھی تھے کہ اچانک ایک دہشت ناک بہت بڑے دھماکے کی آواز کے ساتھ آسمان کا وہ دروازہ کھلا جو آج تک کبھی نہیں کھلا تھا، اس سے ایک فرشتہ اترا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشی مبارک ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دو نور دئیے جاتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دئیے گئے سورۃ فاتحہ اور سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں۔ ان کے ایک ایک حرف پر آپ کو نور دیا جائے گا۔ [صحیح مسلم:805:صحیح] ‏ پس یہ دس حدیثیں ان مبارک آیتوں کی فضیلت ہیں۔

صفحہ نمبر998

مطلب آیت کا یہ ہے کہ رسول یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ایمان لائے جو ان کی طرف سے ان کے رب کی جانب سے نازل ہوا، اسے سن کر آپ نے فرمایا وہ ایمان لانے کا پورا مستحق ہے، [مستدرک حاکم:287/2:منقطع و ضعیف] ‏ اور دوسرے ایماندار بھی ایمان لائے، ان سب نے مان لیا کہ اللہ ایک ہے، وہ وحدانیت کا مالک ہے، وہ تنہا ہے، وہ بے نیاز ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنے والا ہے، یہ [ ایمان والے ] ‏ تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں، تمام رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں، آسمانی کتابوں کو انبیاء کرام پر جو اتری ہیں سچی جانتے ہیں۔ وہ نبیوں میں فرق نہیں سمجھتے کہ ایک کو مانیں دوسرے کو نہ مانیں بلکہ سب کو سچا جانتے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ پاکباز طبقہ رشد و ہدایت والا اور لوگوں کی خیر کی طرف رہبری کرنے والا ہے، گو بعض احکام ہر نبی کے زمانہ میں تبدیل ہوتے رہے یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سب کی ناسخ ٹھہری،

خاتم الانبیاء و مرسلین آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، قیامت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت باقی رہے گی اور ایک جماعت اس کی اتباع بھی کرتی رہے گی۔ انہوں نے اقرار بھی کیا کہ ہم نے اللہ کا کلام سنا اور احکام الٰہی ہمیں تسلیم ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے رب ہمیں مغفرت رحمت اور لطف عنایت فرما، تیری ہی طرف ہمیں لوٹنا ہے یعنی حساب والے دِن۔

صفحہ نمبر999

حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعدار امت کے یہاں ثناء و صفت بیان ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر دعا کیجئے قبول کی جائے گی، مانگیے کہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6498:مرسل و ضعیف] ‏ پھر فرمایا اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا یہ اس کا لطف و کرم اور احسان و انعام ہے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کو جو کھٹکا ہوا تھا اور ان پر جو یہ فرمان گراں گزرا تھا کہ دِل کے خطرات پر بھی حساب لیا جائے گا وہ دھڑکا اس آیت سے اُٹھ گیا۔ مطلب یہ کہ گو حساب ہو، سوال ہو لیکن جو چیز طاقت سے باہر ہے اس پر عذاب نہیں کیونکہ دِل میں کسی خیال کا دفعتاً آ جانا روکے رُک نہیں سکتا بلکہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ ایسے وسوسوں کو برا جاننا دلیل ایمان ہے، بلکہ اپنی اپنی کرنی اپنی اپنی بھرنی، اعمال صالحہ کرو گے جزا پاؤ گے، برے اعمال کرو گے تو سزا بھگتو گے۔

صفحہ نمبر1000

پھر دعا کی تعلیم دی اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرمایا، کہ اے اللہ بھولے چوکے جو احکام ہم سے چھوٹ گئے ہوں یا جو برے کام ہو گئے ہوں یا شرعی احکام میں غلطی کر کے جو خلاف شرع کام ہم سے ہوئے ہوں وہ معاف فرما، پہلے صحیح مسلم کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے کہ اس دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں نے اسے قبول فرما لیا، [صحیح مسلم:125:صحیح] ‏ میں نے یہی کیا اور حدیث میں بھی آ چکا کہ میری امت کی بھول چوک معاف ہے اور جو کام زبردستی کرائے جائیں وہ بھی معاف ہیں۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

اے اللہ عز و جل ہم پر مشکل اور سخت اعمال کی مشقت نہ ڈال جیسے اگلے دین والوں پر سخت سخت احکام تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی رحمت بنا کر بھیج کر دور کیے گئے اور آپ کو ہر طرح سہولت اور آسانی دی گئی اسے بھی پروردگار نے قبول فرمایا، حدیث میں بھی ہے کہ میں یکسوئی والا اور آسان دین دے کر بھیجا گیا ہوں۔ [خطیب:209/7:صحیح بالشواھد] ‏

اے اللہ تکلیفیں بلائیں اور مشقتیں ہم پر نہ ڈال جن کی برداشت کی طاقت ہم میں نہ ہو، حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد فریب اور غلبہ شہوت ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:1235/3] ‏ اس کے جواب میں بھی قبولیت کا اعلان رب عالم کی طرف سے کیا گیا۔ اور ہماری تقصیروں کو معاف فرما جو تیری نافرمانی کا کوئی کام نہ ہو، اس لیے بزرگوں کا قول ہے کہ گنہگار کو تین باتوں کی ضرورت ہے۔ ایک تو اللہ کی معافی تاکہ عذاب سے نجات پائے، دوسرے پردہ پوشی تاکہ رسوائی سے بچے، تیسرے عصمت کی تاکہ دوسری بار گناہ میں مبتلا نہ ہو، اس پر بھی جناب باری نے قبولیت کا اعلان کیا۔ تو ہمارا ولی و ناصر ہے، تجھی پر ہمارا بھروسہ ہے، تجھی سے ہم مدد طلب کرتے ہیں، تو ہی ہمارا سہارا ہے، تیری مدد کے سوا نہ تو ہم کسی نفع کے حاصل کرنے پر قادر ہیں نہ کسی برائی سے بچ سکتے ہیں، تو ہماری ان لوگوں پر مدد فرما جو تیرے دین کے منکر ہیں تیری وحدانیت کو نہیں مانتے، تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے، تیرے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں، مشرک ہیں۔

اے اللہ تو ہمیں ان پر غالب کر دینا اور دین میں ہم ہی ان پر فاتح رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں بھی فرمایا ہاں میں نے یہ بھی دعا قبول فرمائی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما جب اس آیت کو ختم کرتے آمین کہتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:146/6] ‏

صفحہ نمبر1001

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com