John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Baqara

Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 151–180 · Quran text →

اللہ کی یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے! ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن و حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے تکلف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے۔

دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 3۔ آل عمران: 164 ] ‏ یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [ 14۔ ابراہیم: 28 ] ‏ کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا یہاں اللہ کی نعمت سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی لیے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔

موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا، حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا۔

صفحہ نمبر571

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے ایک قدسی حدیث میں ہے جو تجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔ [صحیح بخاری:7405] ‏ مسند احمد میں ہے کہ وہ جماعت فرشتوں کی ہے جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اگر تو اے بنی آدم میری طرف ایک ہاتھ بڑھائے گا میں تیری طرف دو ہاتھ بڑھاؤں گا اور اگر تو میری طرف چلتا ہوا آئے گا تو میں تیری طرف دوڑتا ہوا آؤں گا صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے۔ [عبدالرزاق:20575صحیح] ‏ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے بھی زیادہ قریب ہے پھر فرمایا میرا شکر کرو ناشکری نہ کرو اور جگہ ہے آیت «لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ» [ 14۔ ابراہیم: 7 ] ‏ یعنی تیرے رب کی طرف سے عام آگہی ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں برکت دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھنا میرا عذاب سخت ہے، مسند احمد میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نہایت قیمتی حلہ پہنے ہوئے آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی پر انعام کرتا ہے تو اس کا اثر اس پر دیکھنا چاہتا ہے۔ [مسند احمد:438/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر572

اللہ کی یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے! ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ اپنی بہت بڑی نعمت کا ذکر فرما رہا ہے کہ اس نے ہم میں ہماری جنس کا ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث فرمایا، جو اللہ تعالیٰ کی روشن اور نورانی کتب کی آیتیں ہمارے سامنے تلاوت فرماتا ہے اور رذیل عادتوں اور نفس کی شرارتوں اور جاہلیت کے کاموں سے ہمیں روکتا ہے اور ظلمت کفر سے نکال کر نور ایمان کی طرف رہبری کرتا ہے اور کتاب و حکمت یعنی قرآن و حدیث ہمیں سکھاتا ہے اور وہ راز ہم پر کھولتا ہے جو آج تک ہم پر نہیں کھلے تھے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے وہ لوگ جن پر صدیوں سے جہل چھایا ہوا تھا جنہیں صدیوں سے تاریکی نے گھیر رکھا تھا جن پر مدتوں سے بھلائی کا پر تو بھی نہیں پڑا تھا دنیا کی زبردست علامہ ہستیوں کے استاد بن گئے، وہ علم میں گہرے تکلف میں تھوڑے دلوں کے پاک اور زبان کے سچے بن گئے۔

دنیا کی حالت کا یہ انقلاب بجائے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کا ایک شاہد و عدل ہے اور جگہ ارشاد ہے آیت «لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ» [ 3۔ آل عمران: 164 ] ‏ یعنی ایسے اولوالعزم پیغمبر کی بعثت مومنوں پر اللہ کا ایک زبردست احسان ہے اس نعمت کو قدر نہ کرنے والوں کو قرآن کہتا ہے آیت «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّـهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ» [ 14۔ ابراہیم: 28 ] ‏ کیا تو انہیں نہیں دیکھتا جنہوں نے اللہ کی اس نعمت کے بدلے کفر کیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈالا یہاں اللہ کی نعمت سے مراد محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اسی لیے اس آیت میں بھی اپنی نعمت کا ذکر فرما کر لوگوں کو اپنی یاد اور اپنے شکر کا حکم دیا کہ جس طرح میں نے احسان تم پر کیا تم بھی میرے ذکر اور میرے شکر سے غفلت نہ کرو۔

موسیٰ علیہ السلام اللہ رب العزت سے عرض کرتے ہیں کہ اے اللہ تیرا شکر کس طرح کروں ارشاد ہوتا ہے مجھے یاد رکھو بھولو نہیں یاد شکر ہے اور بھول کفر ہے حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ اللہ کی یاد کرنے والے کو اللہ بھی یاد کرتا ہے اس کا شکر کرنے والے کو وہ زیادہ دیتا ہے اور ناشکرے کو عذاب کرتا ہے بزرگان سلف سے مروی ہے کہ اللہ سے پورا ڈرنا یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی نہ کی جائے اس کا ذکر کیا جائے غفلت نہ برتی جائے اس کا شکر کیا جائے ناشکری نہ کی جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا زانی، شرابی، چور اور قاتل نفس کو بھی یاد کرتا ہے؟ فرمایا ہاں برائی سے، حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے یاد کرو یعنی میرے ضروری احکام بجا لاؤ میں تمہیں یاد کروں گا یعنی اپنی نعمتیں عطا فرماؤں گا، حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تمہیں بخش دوں گا اور اپنی رحمتیں تم پر نازل کروں گا۔

صفحہ نمبر571

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کا یاد کرنا بہت بڑی چیز ہے ایک قدسی حدیث میں ہے جو تجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جو مجھے کسی جماعت میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں۔ [صحیح بخاری:7405] ‏ مسند احمد میں ہے کہ وہ جماعت فرشتوں کی ہے جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھاتا ہوں اور اگر تو اے بنی آدم میری طرف ایک ہاتھ بڑھائے گا میں تیری طرف دو ہاتھ بڑھاؤں گا اور اگر تو میری طرف چلتا ہوا آئے گا تو میں تیری طرف دوڑتا ہوا آؤں گا صحیح بخاری میں بھی یہ حدیث ہے۔ [عبدالرزاق:20575صحیح] ‏ حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس سے بھی زیادہ قریب ہے پھر فرمایا میرا شکر کرو ناشکری نہ کرو اور جگہ ہے آیت «لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ» [ 14۔ ابراہیم: 7 ] ‏ یعنی تیرے رب کی طرف سے عام آگہی ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں برکت دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو یاد رکھنا میرا عذاب سخت ہے، مسند احمد میں ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ نہایت قیمتی حلہ پہنے ہوئے آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی پر انعام کرتا ہے تو اس کا اثر اس پر دیکھنا چاہتا ہے۔ [مسند احمد:438/4:صحیح] ‏

صفحہ نمبر572

صلوۃ و صبر و سیلہ اور شہداء کا ذکر ٭٭

شکر کے بعد صبر کا بیان ہو رہا ہے اور ساتھ ہی نماز کا ذکر کر کے ان بڑے بڑے نیک کاموں کو ذریعہ نجات بنانے کا حکم ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے کہ انسان یا تو اچھی حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ شکر کا ہے یا اگر بری حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ صبر کا ہے، حدیث میں ہے، مومن کی کیا ہی اچھی حالت ہے کہ ہر کام میں اس کے لیے سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے اسے راحت ملتی ہے۔ شکر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے، رنج پہنچتا ہے صبر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2999] ‏ آیت میں اس کا بھی بیان ہو گیا کہ مصیبتوں پر تحمل کرے اور انہیں ٹالنے کا ذریعہ صبر و صلوۃ ہے، جیسے اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ آیت «وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ» [ البقرة: 45 ] ‏ صبر و صلوٰۃ کے ساتھ استعانت چاہو یہ ہے تو اہم کام لیکن رب کا ڈر رکھنے والوں پر بہت آسان ہے، حدیث میں ہے جب کوئی کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غم میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر574

صبر کی دو قسمیں ہیں، حرام اور گناہ کے کاموں کے ترک کرنے پر، اطاعت اور نیکی کے کاموں کے کرنے پر یہ صبر پہلے سے بڑا ہے، تیسری قسم صبر کی مصیبت، درد اور دکھ پر یہ بھی واجب ہے، جیسے عیبوں سے استغفار کرنا واجب ہے، حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی فرمانبرداری میں استقلال سے لگے رہنا چاہے انسان پر شاق گزرے طبیعت کے خلاف ہو جی نہ چاہے یہ بھی ایک صبر ہے۔ دوسرا صبر اللہ تعالیٰ کی منع کئے ہوئے کے کاموں سے رک جانا ہے چاہے طبعی میلان اس طرف ہو خواہش نفس اکسا رہی ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:144/1] ‏ امام زین العابدین فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ اٹھیں اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف بڑھیں گے فرشتے انہیں دیکھ کر پوچھیں گے کہ کہاں جا رہے ہو؟ جواب دیں گے ہم صابر لوگ ہیں اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے، مرتے دم تک اس پر اور اس پر صبر کیا اور جمے رہے، فرشتے کہیں گے پھر تو ٹھیک ہے بیشک تمہارا یہی بدلہ ہے اور اسی لائق تم ہو جاؤ جنت میں مزے کرو اچھے کام والوں کا اچھا ہی انجام ہے۔

صفحہ نمبر575

یہی قرآن فرماتا ہے آیت «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ 39-الزمر: 10 ] ‏ صابروں کو ان کا پورا پورا بدلہ بے حساب دیا جائے گا۔ حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرے اور مصیبتوں کا بدلہ اللہ کے ہاں ملنے کا یقین رکھے ان پر ثواب طلب کرے ہر گھبراہٹ پریشانی اور کٹھن موقعہ پر استقلال اور نیکی کی امید پر وہ خوش نظر آئے۔

صفحہ نمبر576

پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا۔ [صحیح مسلم:1887] ‏

صفحہ نمبر577

مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی، [مسند احمد:455/2:صحیح] ‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے۔

صفحہ نمبر578

صلوۃ و صبر و سیلہ اور شہداء کا ذکر ٭٭

شکر کے بعد صبر کا بیان ہو رہا ہے اور ساتھ ہی نماز کا ذکر کر کے ان بڑے بڑے نیک کاموں کو ذریعہ نجات بنانے کا حکم ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے کہ انسان یا تو اچھی حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ شکر کا ہے یا اگر بری حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ صبر کا ہے، حدیث میں ہے، مومن کی کیا ہی اچھی حالت ہے کہ ہر کام میں اس کے لیے سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے اسے راحت ملتی ہے۔ شکر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے، رنج پہنچتا ہے صبر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2999] ‏ آیت میں اس کا بھی بیان ہو گیا کہ مصیبتوں پر تحمل کرے اور انہیں ٹالنے کا ذریعہ صبر و صلوۃ ہے، جیسے اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ آیت «وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ» [ البقرة: 45 ] ‏ صبر و صلوٰۃ کے ساتھ استعانت چاہو یہ ہے تو اہم کام لیکن رب کا ڈر رکھنے والوں پر بہت آسان ہے، حدیث میں ہے جب کوئی کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غم میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے۔ [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر574

صبر کی دو قسمیں ہیں، حرام اور گناہ کے کاموں کے ترک کرنے پر، اطاعت اور نیکی کے کاموں کے کرنے پر یہ صبر پہلے سے بڑا ہے، تیسری قسم صبر کی مصیبت، درد اور دکھ پر یہ بھی واجب ہے، جیسے عیبوں سے استغفار کرنا واجب ہے، حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی فرمانبرداری میں استقلال سے لگے رہنا چاہے انسان پر شاق گزرے طبیعت کے خلاف ہو جی نہ چاہے یہ بھی ایک صبر ہے۔ دوسرا صبر اللہ تعالیٰ کی منع کئے ہوئے کے کاموں سے رک جانا ہے چاہے طبعی میلان اس طرف ہو خواہش نفس اکسا رہی ہو، [تفسیر ابن ابی حاتم:144/1] ‏ امام زین العابدین فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ اٹھیں اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف بڑھیں گے فرشتے انہیں دیکھ کر پوچھیں گے کہ کہاں جا رہے ہو؟ جواب دیں گے ہم صابر لوگ ہیں اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے، مرتے دم تک اس پر اور اس پر صبر کیا اور جمے رہے، فرشتے کہیں گے پھر تو ٹھیک ہے بیشک تمہارا یہی بدلہ ہے اور اسی لائق تم ہو جاؤ جنت میں مزے کرو اچھے کام والوں کا اچھا ہی انجام ہے۔

صفحہ نمبر575

یہی قرآن فرماتا ہے آیت «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ» [ 39-الزمر: 10 ] ‏ صابروں کو ان کا پورا پورا بدلہ بے حساب دیا جائے گا۔ حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرے اور مصیبتوں کا بدلہ اللہ کے ہاں ملنے کا یقین رکھے ان پر ثواب طلب کرے ہر گھبراہٹ پریشانی اور کٹھن موقعہ پر استقلال اور نیکی کی امید پر وہ خوش نظر آئے۔

صفحہ نمبر576

پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا۔ [صحیح مسلم:1887] ‏

صفحہ نمبر577

مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی، [مسند احمد:455/2:صحیح] ‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے۔

صفحہ نمبر578

وفائے عہد کے لیے آزمائش لازم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے، جیسے فرماتا ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [ 47۔ محمد: 31 ] ‏ یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کر لیں گے اور جگہ ہے آیت «فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112] ‏ مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بے صبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے، مال کی کمی سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ہے، جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں، پھلوں سے مراد اولاد ہے، لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر580

اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت «‏الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالآخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر581

امیرالمؤمنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ایک روز میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا «اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا» یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا۔

صفحہ نمبر582

جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو میں نے آیت «الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑھ لی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابوسلمہ رضی اللہ عنہما سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گزر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اوّل تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو ایسی بے جا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

[مسند احمد:27/4:صحیح] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، [صحیح مسلم:918] ‏ مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گزر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، [مسند احمد:201/1:ضعیف] ‏ ابن ماجہ میں ہے ابوسنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابوطلحہ خولانی رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہے کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور «اناللہ» پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔ [سنن ترمذي:1021، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر583

وفائے عہد کے لیے آزمائش لازم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے، جیسے فرماتا ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [ 47۔ محمد: 31 ] ‏ یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کر لیں گے اور جگہ ہے آیت «فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112] ‏ مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بے صبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے، مال کی کمی سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ہے، جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں، پھلوں سے مراد اولاد ہے، لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر580

اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت «‏الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالآخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر581

امیرالمؤمنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ایک روز میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا «اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا» یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا۔

صفحہ نمبر582

جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو میں نے آیت «الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑھ لی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابوسلمہ رضی اللہ عنہما سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گزر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اوّل تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو ایسی بے جا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

[مسند احمد:27/4:صحیح] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، [صحیح مسلم:918] ‏ مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گزر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، [مسند احمد:201/1:ضعیف] ‏ ابن ماجہ میں ہے ابوسنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابوطلحہ خولانی رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہے کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور «اناللہ» پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔ [سنن ترمذي:1021، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر583

وفائے عہد کے لیے آزمائش لازم ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی آزمائش ضرور کر لیا کرتا ہے کبھی ترقی اور بھلائی کے ذریعہ اور کبھی تنزل اور برائی سے، جیسے فرماتا ہے آیت «وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ وَالصّٰبِرِيْنَ وَنَبْلُوَا۟ اَخْبَارَكُمْ» [ 47۔ محمد: 31 ] ‏ یعنی ہم آزما کر مجاہدوں اور صبر کرنے والوں کو معلوم کر لیں گے اور جگہ ہے آیت «فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ» [16-النحل:112] ‏ مطلب یہ ہے کہ تھوڑا سا خوف، کچھ بھوک، کچھ مال کی کمی، کچھ جانوں کی کمی یعنی اپنوں اور غیر خویش و اقارب، دوست و احباب کی موت، کبھی پھلوں اور پیداوار کی نقصان وغیرہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزما لیتا ہے، صبر کرنے والوں کو نیک اجر اور اچھا بدلہ عنایت فرماتا ہے اور بے صبر جلد باز اور ناامیدی کرنے والوں پر اس کے عذاب اتر آتے ہیں۔ بعض سلف سے منقول ہے کہ یہاں خوف سے مراد اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے، بھوک سے مراد روزوں کی بھوک ہے، مال کی کمی سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی ہے، جان کی کمی سے مراد بیماریاں ہیں، پھلوں سے مراد اولاد ہے، لیکن یہ تفسیر ذرا غور طلب ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر580

اب بیان ہو رہا ہے کہ جن صبر کرنے والوں کی اللہ کے ہاں عزت ہے وہ کون لوگ ہیں؟ پس فرماتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو تنگی اور مصیبت کے وقت آیت «‏الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس بات سے اپنے دل کو تسلی دے لیا کرتے ہیں کہ ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور جو ہمیں پہنچا ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ان میں جس طرح وہ چاہے تصرف کرتا رہتا ہے اور پھر اللہ کے ہاں اس کا بدلہ ہے جہاں انہیں بالآخر جانا ہے، ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ کی نوازشیں اور الطاف ان پر نازل ہوتے ہیں عذاب سے نجات ملتی ہے اور ہدایت بھی نصیب ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر581

امیرالمؤمنین سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں دوبرابر کی چیزیں صلوات اور رحمت اور ایک درمیان کی چیز یعنی ہدایت ان صبر کرنے والوں کو ملتی ہے، مسند احمد میں ہے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میرے خاوند ابوسلمہ رضی اللہ عنہ ایک روز میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہو کر آئے اور خوشی خوشی فرمانے لگے آج تو میں نے ایک ایسی حدیث سنی ہے کہ میں بہت ہی خوش ہوا ہوں وہ حدیث یہ ہے کہ جس کسی مسلمان کو کوئی تکلیف پہنچے اور وہ کہے دعا «اللھم اجرنی فی مصیبتی واخلف لی خیرا منھا» یعنی اللہ مجھے اس مصیبت میں اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدلہ عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اسے اجر اور بدلہ ضرور دیتا ہے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے اس دعا کو یاد کر لیا۔

صفحہ نمبر582

جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو میں نے آیت «الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» [ البقرہ: 156 ] ‏ پڑھ کر پھر یہ دعا بھی پڑھ لی لیکن مجھے خیال آیا کہ بھلا ابوسلمہ رضی اللہ عنہما سے بہتر شخص مجھے کون مل سکتا ہے؟ جب میری عدت گزر چکی تو میں ایک روز ایک کھال کو دباغت دے رہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی میں نے اپنے ہاتھ دھو ڈالے کھال رکھ دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر تشریف لانے کی درخواست کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گدی پر بٹھا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اپنا نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی، میں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو میری خوش قسمتی کی بات ہے لیکن اوّل تو میں بڑی باغیرت عورت ہوں ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کے خلاف کوئی بات مجھ سے سرزد ہو جائے اور اللہ کے ہاں عذاب ہو دوسرے یہ کہ میں عمر رسیدہ ہوں، تیسرے بال بچوں والی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو ایسی بے جا غیرت اللہ تعالیٰ تمہاری دور کر دے گا اور عمر میں کچھ میں بھی چھوٹی عمر کا نہیں اور تمہارے بال بچے میرے ہی بال بچے ہیں میں نے یہ سن کر کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی عذر نہیں چنانچہ میرا نکاح اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اس دعا کی برکت سے میرے میاں سے بہت ہی بہتر یعنی اپنا رسول صلی اللہ علیہ وسلم عطا فرمایا۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

[مسند احمد:27/4:صحیح] ‏ صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، [صحیح مسلم:918] ‏ مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گزر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، [مسند احمد:201/1:ضعیف] ‏ ابن ماجہ میں ہے ابوسنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابوطلحہ خولانی رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہے کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور «اناللہ» پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔ [سنن ترمذي:1021، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر583

صفا اور مروہ کا طواف ٭٭

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عروہ رحمہ اللہ دریافت کرتے ہیں کہ اس آیت سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طواف نہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھتیجے تم صحیح نہیں سمجھے اگر یہ بیان مد نظر ہوتا تو «ان لا یطوف بھما» ہوتا۔ سنو آیت شریف کا شان نزول یہ ہے کہ مشلل [ ایک جگہ کا نام ہے ] ‏ کے پاس مناۃ بت تھا اسلام سے پہلے انصار اسے پوجتے تھے اور جو اس کے نام لبیک پکار لیتا وہ صفا مروہ کے طواف کرنے میں حرج سمجھتا تھا، اب بعد از اسلام ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صفا مروہ کے طواف کے حرج کے بارے میں سوال کیا تو یہ آیت اتری کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اسی کے بعد حضور علیہ السلام نے صفا مروہ کا طواف کیا اس لیے مسنون ہو گیا اور کسی کو اس کے ترک کرنے کا جواز نہ رہا [صحیح بخاری:1643] ‏ ابوبکر بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ نے جب یہ روایت سنی تو وہ کہنے لگے کہ بیشک یہ علمی بات ہے میں نے تو اس سے پہلے سنی ہی نہ تھی بعض اہل علم فرمایا کرتے تھے کہ انصار نے کہا تھا کہ ہمیں بیت اللہ کے طواف کا حکم ہے صفا مروہ کے طواف کا نہیں اس پر یہ آیت اتری ممکن ہے کہ شان نزول دونوں ہی ہوں، [صحیح بخاری:1643] ‏

صفحہ نمبر586

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان بہت سے بت تھے اور شیاطین رات بھر اس کے درمیان گھومتے رہتے تھے اسلام کے بعد لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں کے طواف کی بابت مسئلہ دریافت کیا جس پر یہ آیت اتری، «اساف» بت صفا پر تھا اور «نائلہ» مروہ پر، مشرک لوگ انہیں چھوتے اور چومتے تھے اسلام کے بعد لوگ اس سے الگ ہو گئے لیکن یہ آیت اتری جس سے یہاں کا طواف ثابت ہوا، سیرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ میں ہے کہ «اساف» اور «نائلہ» دو مرد و عورت تھے ان بدکاروں نے کعبہ میں زنا کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں پتھر بنا دیا، قریش نے انہیں کعبہ کے باہر رکھ دیا تاکہ لوگوں کو عبرت ہو لیکن کچھ زمانہ کے بعد ان کی عبادت شروع ہو گئی اور صفا مروہ پر لا کر نصب کر دئے گئے اور ان کا طواف شروع ہو گیا،

صحیح مسلم کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ شریف کا طواف کر چکے تو رکن کو چھو کر باب الصفا سے نکلے اور آیت تلاوت فرما رہے تھے پھر فرمایا میں بھی شروع کروں گا اس سے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شروع کرو اس سے جس سے اللہ نے شروع کیا یعنی صفا سے چل کر مروہ جاؤ۔ [صحیح مسلم:1218] ‏ سیدہ حبیبہ بنت تجزاۃ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفا مروہ کا طواف کرتے تھے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم قدرے دوڑ لگا رہے تھے اور اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تہمبند آپ کے ٹخنوں کے درمیان ادھر اھر ہو رہا تھا اور زبان سے فرماتے جاتے تھے لوگوں دوڑ کر چلو اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی لکھ دی ہے [مسند احمد:421/6:صحیح] ‏ اسی کی ہم معنی ایک روایت اور بھی ہے۔

صفحہ نمبر587

یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو صفا مروہ کی سعی کو حج کا رکن جانتے ہیں جیسے حضرت امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے موافقین کا مذہب ہے، حضرت امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی ہے حضرت امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب بھی یہی ہے، بعض اسے واجب تو کہتے ہیں لیکن حج کا رکن نہیں کہتے اگر عمداً یا سہواً یا کوئی شخص اسے چھوڑ دے تو ایک جانور ذبح کرنا پڑے گا۔ حضرت امام احمد سے ایک روایت اسی طرح مروی ہے اور ایک اور جماعت بھی یہی کہتی ہے اور ایک قول میں یہ مستحب ہے۔

حضرت امام ابوحنیفہ، ثوری، شعبی، ابن سیرین رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ سیدنا انس ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے عتیبہ کی بھی روایت ہے، ان کی دلیل آیت «فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ» [ البقرہ: 184 ] ‏ ہے، لیکن پہلا قول ہی زیادہ راجح ہے اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوہ صفا مروہ کا طواف کیا اور فرمایا احکام حج مجھ سے لو، [صحیح مسلم:1297] ‏ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس حج میں جو کچھ کیا وہ واجب ہو گیا اس کا کرنا ضروری ہے، اگر کوئی کام کسی خاص دلیل سے وجواب سے ہٹ جائے تو اور بات ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر588

علاوہ ازیں حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پرسعی لکھ دی یعنی فرض کر دی۔ [مسند احمد:421/6:صحیح بالشواھد] ‏ غرض یہاں بیان ہو رہا ہے کہ صفا مروہ کا طواف بھی اللہ تعالیٰ کے ان شرعی احکام میں سے ہے جنہیں ابراہیم علیہ السلام کو بجا آوری حج کے لیے سکھائے تھے یہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ اس کی اصل ہاجرہ کا یہاں سات پھیرے کرنا ہے جبکہ ابراہیم علیہ السلام نے انہیں ان کے چھوٹے بچے سمیت یہاں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور ان کے پاس کھانا پینا ختم ہو چکا تھا اور بچے کی جان پر آ بنی تھی تب ام اسمٰعیل علیہ السلام نہایت بے قراری، بے بسی، ڈر، خوف اور اضطراب کے ساتھ ان پہاڑوں کے درمیان اپنا دامن پھیلائے اللہ سے بھیک مانگتی پھر رہی تھیں۔ یہاں تک کہ آپ کا غم و ہم، رنج و کرب، تکلیف اور دکھ دور ہوا۔

صفحہ نمبر589

یہاں سے پھیرے کرنے والے حاجی کو بھی چاہیئے کہ نہایت ذلت و مسکنت خضوع و خشوع سے یہاں پھیرے کرے اور اپنی فقیری حاجت اور ذلت اللہ کے سامنے پیش کرے اور اپنی فقیری حاجت اور ذلت اللہ کے سامنے پیش کرے اور اپنے دل کی صلاحیت اور اپنے مال کی ہدایت اور اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرے اور نقائص اور عیبوں سے پاکیزگی اور نافرمانیوں سے نفرت چاہے اور ثابت قدمی نیکی فلاح اور بہبودی کی دعا مانگے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرے کہ گناہوں اور برائیوں کی تنگی کی راہ سے ہٹا کر کمال و غفران اور نیکی کی توفیق بخشے جیسے کہ ہاجرہ کے حال کو اس مالک نے ادھر سے ادھر کر دیا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص اپنی خوشی نیکی میں زیادتی کرے یعنی بجائے سات پھیروں کے آٹھ نو کرے نفلی حج و عمرے میں بھی صفا و مروہ کا طواف کرے اور بعض نے اسے عام رکھا ہے یعنی ہر نیکی میں زیادتی کرے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا اللہ تعالیٰ قدر دان اور علم والا ہے، یعنی تھوڑے سے کام پر بڑا ثواب دیتا ہے اور جزا کی صحیح مقدار کو جانتا ہے نہ تو وہ کسی کے ثواب کو کم کرے نہ کسی پر ذرہ برابر ظلم کرے، ہاں نیکیوں کا ثواب بڑھا کر عطا فرماتا ہے اور اپنے پاس عظیم عنایت فرماتا ہے۔ [4-النساء:40] ‏ «فالحمد والشکر للہ»

صفحہ نمبر590

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے ٭٭

اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپا لیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:170/1] ‏ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی۔ [سنن ابوداود:3641، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی امر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، [سنن ابوداود:3658، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ [صحیح بخاری:118] ‏

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں کافر کی پیشانی پر اس زور سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے کہ جاندار اس کا دھماکہ سنتے ہیں سوائے جن و انس کے۔ پھر وہ سب اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے یعنی تمام جانداروں کی۔

صفحہ نمبر591

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ» [ البقرہ: 159 ] ‏ سے مراد تمام جانور اور کل جن و انس ہے۔ مجاھد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب خشک سالی ہوتی ہے بارش نہیں برستی تو چوپائے جانور کہتے ہیں یہ بنی آدم کے گنہگاروں کے گناہ کی شومی قسمت سے ہے اللہ تعالیٰ نبی آدم کے گنہگاروں پر لعنت نازل کرے، [تفسیر ابن ابی حاتم:175/1] ‏ بعض مفسرین کہتے اس سے مراد فرشتے اور مومن لوگ ہیں، حدیث میں ہے عالم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اس آیت میں ہے کہ علم کے چھپانے والوں کو اللہ لعنت کرتا ہے اور فرشتے اور تمام لوگ اور کل لعنت کرنے والے یعنی ہر با زبان اور ہر بے زبان چاہے زبان سے کہے چاہے قرائن سے اور قیامت کے دن بھی سب چیزیں ان پر لعنت کریں گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا گیا جو اپنے اس فعل سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال کی پوری اصلاح کر لیں اور جو چھپایا تھا اسے ظاہر کریں ان لوگوں کی توبہ وہ اللہ تواب الرحیم قبول فرما لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے رجوع کر لے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر592

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے زبردست بدکاروں کی توبہ قبول نہیں ہوتی تھی لیکن نبی التوبہ اور نبی الرحمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ یہ مہربانی مخصوص ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جو کفر کریں توبہ نصیب نہ ہو اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں ان پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، یہ لعنت ان پر چپک جاتی ہے اور قیامت تک ساتھ ہی رہے گی اور دوزخ کی آگ میں لے جائے گی اور عذاب بھی ہمیشہ ہی رہے گا نہ تو عذاب میں کبھی کمی ہو گی نہ کبھی موقوف ہو گی بلکہ ہمیشہ دوام کے ساتھ سخت عذاب میں رہیں گے «نعوذباللہ من عذاب اللہ» ۔

صفحہ نمبر593

حضرت ابوالعالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں، قیامت کے دن کافر کو ٹھہرایا جائے گا پھر اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے پھر سب لوگ کافروں پر لعنت بھیجنے کے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد کے ائمہ کرام سب کے سب قنوت وغیرہ میں کفار پر لعنت بھیجتے تھے، لیکن کسی معین کافر پر لعنت بھجنے کے بارے میں علماء کرام کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ جائز نہیں اس لیے کہ اس کے خاتمہ کا کسی کو علم نہیں اور اس آیت کی یہ قید کہ مرتے دم تک وہ کافر رہے معین کافر دلیل ہے کسی پر لعنت نہ بھیجنے کی، ایک دوسری جماعت اس کی بھی قائل ہے جیسے فقیہ ابوبکر بن عربی مالکی رحمہ اللہ، لیکن ان کی دلیل ایک ضعیف حدیث ہے۔

صفحہ نمبر594

بعض نے اس حدیث سے یہ بھی دلیل لی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص باربار نشہ کی حالت میں لایا گیا اور اس پر باربار حد لگائی گئی تو ایک شخص نے کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو بار بار شراب پیتا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ بھیجو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہے، [صحیح بخاری:6780] ‏ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ رسول سے دوستی نہ رکھے اس پر لعنت بھیجنی جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر595

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے ٭٭

اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپا لیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:170/1] ‏ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی۔ [سنن ابوداود:3641، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی امر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، [سنن ابوداود:3658، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ [صحیح بخاری:118] ‏

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں کافر کی پیشانی پر اس زور سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے کہ جاندار اس کا دھماکہ سنتے ہیں سوائے جن و انس کے۔ پھر وہ سب اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے یعنی تمام جانداروں کی۔

صفحہ نمبر591

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ» [ البقرہ: 159 ] ‏ سے مراد تمام جانور اور کل جن و انس ہے۔ مجاھد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب خشک سالی ہوتی ہے بارش نہیں برستی تو چوپائے جانور کہتے ہیں یہ بنی آدم کے گنہگاروں کے گناہ کی شومی قسمت سے ہے اللہ تعالیٰ نبی آدم کے گنہگاروں پر لعنت نازل کرے، [تفسیر ابن ابی حاتم:175/1] ‏ بعض مفسرین کہتے اس سے مراد فرشتے اور مومن لوگ ہیں، حدیث میں ہے عالم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اس آیت میں ہے کہ علم کے چھپانے والوں کو اللہ لعنت کرتا ہے اور فرشتے اور تمام لوگ اور کل لعنت کرنے والے یعنی ہر با زبان اور ہر بے زبان چاہے زبان سے کہے چاہے قرائن سے اور قیامت کے دن بھی سب چیزیں ان پر لعنت کریں گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا گیا جو اپنے اس فعل سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال کی پوری اصلاح کر لیں اور جو چھپایا تھا اسے ظاہر کریں ان لوگوں کی توبہ وہ اللہ تواب الرحیم قبول فرما لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے رجوع کر لے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر592

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے زبردست بدکاروں کی توبہ قبول نہیں ہوتی تھی لیکن نبی التوبہ اور نبی الرحمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ یہ مہربانی مخصوص ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جو کفر کریں توبہ نصیب نہ ہو اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں ان پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، یہ لعنت ان پر چپک جاتی ہے اور قیامت تک ساتھ ہی رہے گی اور دوزخ کی آگ میں لے جائے گی اور عذاب بھی ہمیشہ ہی رہے گا نہ تو عذاب میں کبھی کمی ہو گی نہ کبھی موقوف ہو گی بلکہ ہمیشہ دوام کے ساتھ سخت عذاب میں رہیں گے «نعوذباللہ من عذاب اللہ» ۔

صفحہ نمبر593

حضرت ابوالعالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں، قیامت کے دن کافر کو ٹھہرایا جائے گا پھر اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے پھر سب لوگ کافروں پر لعنت بھیجنے کے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد کے ائمہ کرام سب کے سب قنوت وغیرہ میں کفار پر لعنت بھیجتے تھے، لیکن کسی معین کافر پر لعنت بھجنے کے بارے میں علماء کرام کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ جائز نہیں اس لیے کہ اس کے خاتمہ کا کسی کو علم نہیں اور اس آیت کی یہ قید کہ مرتے دم تک وہ کافر رہے معین کافر دلیل ہے کسی پر لعنت نہ بھیجنے کی، ایک دوسری جماعت اس کی بھی قائل ہے جیسے فقیہ ابوبکر بن عربی مالکی رحمہ اللہ، لیکن ان کی دلیل ایک ضعیف حدیث ہے۔

صفحہ نمبر594

بعض نے اس حدیث سے یہ بھی دلیل لی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص باربار نشہ کی حالت میں لایا گیا اور اس پر باربار حد لگائی گئی تو ایک شخص نے کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو بار بار شراب پیتا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ بھیجو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہے، [صحیح بخاری:6780] ‏ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ رسول سے دوستی نہ رکھے اس پر لعنت بھیجنی جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر595

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے ٭٭

اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپا لیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:170/1] ‏ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی۔ [سنن ابوداود:3641، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی امر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، [سنن ابوداود:3658، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ [صحیح بخاری:118] ‏

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں کافر کی پیشانی پر اس زور سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے کہ جاندار اس کا دھماکہ سنتے ہیں سوائے جن و انس کے۔ پھر وہ سب اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے یعنی تمام جانداروں کی۔

صفحہ نمبر591

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ» [ البقرہ: 159 ] ‏ سے مراد تمام جانور اور کل جن و انس ہے۔ مجاھد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب خشک سالی ہوتی ہے بارش نہیں برستی تو چوپائے جانور کہتے ہیں یہ بنی آدم کے گنہگاروں کے گناہ کی شومی قسمت سے ہے اللہ تعالیٰ نبی آدم کے گنہگاروں پر لعنت نازل کرے، [تفسیر ابن ابی حاتم:175/1] ‏ بعض مفسرین کہتے اس سے مراد فرشتے اور مومن لوگ ہیں، حدیث میں ہے عالم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اس آیت میں ہے کہ علم کے چھپانے والوں کو اللہ لعنت کرتا ہے اور فرشتے اور تمام لوگ اور کل لعنت کرنے والے یعنی ہر با زبان اور ہر بے زبان چاہے زبان سے کہے چاہے قرائن سے اور قیامت کے دن بھی سب چیزیں ان پر لعنت کریں گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا گیا جو اپنے اس فعل سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال کی پوری اصلاح کر لیں اور جو چھپایا تھا اسے ظاہر کریں ان لوگوں کی توبہ وہ اللہ تواب الرحیم قبول فرما لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے رجوع کر لے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر592

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے زبردست بدکاروں کی توبہ قبول نہیں ہوتی تھی لیکن نبی التوبہ اور نبی الرحمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ یہ مہربانی مخصوص ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جو کفر کریں توبہ نصیب نہ ہو اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں ان پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، یہ لعنت ان پر چپک جاتی ہے اور قیامت تک ساتھ ہی رہے گی اور دوزخ کی آگ میں لے جائے گی اور عذاب بھی ہمیشہ ہی رہے گا نہ تو عذاب میں کبھی کمی ہو گی نہ کبھی موقوف ہو گی بلکہ ہمیشہ دوام کے ساتھ سخت عذاب میں رہیں گے «نعوذباللہ من عذاب اللہ» ۔

صفحہ نمبر593

حضرت ابوالعالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں، قیامت کے دن کافر کو ٹھہرایا جائے گا پھر اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے پھر سب لوگ کافروں پر لعنت بھیجنے کے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد کے ائمہ کرام سب کے سب قنوت وغیرہ میں کفار پر لعنت بھیجتے تھے، لیکن کسی معین کافر پر لعنت بھجنے کے بارے میں علماء کرام کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ جائز نہیں اس لیے کہ اس کے خاتمہ کا کسی کو علم نہیں اور اس آیت کی یہ قید کہ مرتے دم تک وہ کافر رہے معین کافر دلیل ہے کسی پر لعنت نہ بھیجنے کی، ایک دوسری جماعت اس کی بھی قائل ہے جیسے فقیہ ابوبکر بن عربی مالکی رحمہ اللہ، لیکن ان کی دلیل ایک ضعیف حدیث ہے۔

صفحہ نمبر594

بعض نے اس حدیث سے یہ بھی دلیل لی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص باربار نشہ کی حالت میں لایا گیا اور اس پر باربار حد لگائی گئی تو ایک شخص نے کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو بار بار شراب پیتا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ بھیجو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہے، [صحیح بخاری:6780] ‏ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ رسول سے دوستی نہ رکھے اس پر لعنت بھیجنی جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر595

حق بات کا چھپانا جرم عظیم ہے ٭٭

اس میں زبردست دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی باتیں یعنی شرعی مسائل چھپا لیا کرتے ہیں، اہل کتاب نے نعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپا لیا تھا جس پر ارشاد ہوتا ہے کہ حق کے چھپانے والے ملعون لوگ ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:170/1] ‏ جس طرح اس عالم کے لیے جو لوگوں میں اللہ کی باتیں پھیلائے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ پانی مچھلیاں اور ہوا کے پرند بھی۔ [سنن ابوداود:3641، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسی طرح ان لوگوں پر جو حق کی بات کو جانتے ہوئے گونگے بہرے بن جاتے ہیں ہر چیز لعنت بھیجتی ہے، صحیح حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا جس شخص نے کسی شرعی امر کی نسبت سوال کیا جائے اور وہ اسے چھپا لے اسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی، [سنن ابوداود:3658، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر یہ آیت نہ ہوتی تو میں ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ [صحیح بخاری:118] ‏

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قبر میں کافر کی پیشانی پر اس زور سے ہتھوڑا مارا جاتا ہے کہ جاندار اس کا دھماکہ سنتے ہیں سوائے جن و انس کے۔ پھر وہ سب اس پر لعنت بھیجتے ہیں یہی معنی ہیں کہ ان پر اللہ کی اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہے یعنی تمام جانداروں کی۔

صفحہ نمبر591

حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ» [ البقرہ: 159 ] ‏ سے مراد تمام جانور اور کل جن و انس ہے۔ مجاھد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب خشک سالی ہوتی ہے بارش نہیں برستی تو چوپائے جانور کہتے ہیں یہ بنی آدم کے گنہگاروں کے گناہ کی شومی قسمت سے ہے اللہ تعالیٰ نبی آدم کے گنہگاروں پر لعنت نازل کرے، [تفسیر ابن ابی حاتم:175/1] ‏ بعض مفسرین کہتے اس سے مراد فرشتے اور مومن لوگ ہیں، حدیث میں ہے عالم کے لیے ہر چیز استغفار کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں بھی اس آیت میں ہے کہ علم کے چھپانے والوں کو اللہ لعنت کرتا ہے اور فرشتے اور تمام لوگ اور کل لعنت کرنے والے یعنی ہر با زبان اور ہر بے زبان چاہے زبان سے کہے چاہے قرائن سے اور قیامت کے دن بھی سب چیزیں ان پر لعنت کریں گی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

پھر ان میں سے ان لوگوں کو الگ کر لیا گیا جو اپنے اس فعل سے باز آ جائیں اور اپنے اعمال کی پوری اصلاح کر لیں اور جو چھپایا تھا اسے ظاہر کریں ان لوگوں کی توبہ وہ اللہ تواب الرحیم قبول فرما لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کفر و بدعت کی طرف لوگوں کو بلانے والا ہو وہ بھی جب سچے دل سے رجوع کر لے تو اس کی توبہ بھی قبول ہوتی ہے۔

صفحہ نمبر592

بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اگلی امتوں میں ایسے زبردست بدکاروں کی توبہ قبول نہیں ہوتی تھی لیکن نبی التوبہ اور نبی الرحمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے ساتھ یہ مہربانی مخصوص ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جو کفر کریں توبہ نصیب نہ ہو اور کفر کی حالت میں ہی مر جائیں ان پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، یہ لعنت ان پر چپک جاتی ہے اور قیامت تک ساتھ ہی رہے گی اور دوزخ کی آگ میں لے جائے گی اور عذاب بھی ہمیشہ ہی رہے گا نہ تو عذاب میں کبھی کمی ہو گی نہ کبھی موقوف ہو گی بلکہ ہمیشہ دوام کے ساتھ سخت عذاب میں رہیں گے «نعوذباللہ من عذاب اللہ» ۔

صفحہ نمبر593

حضرت ابوالعالیہ اور قتادہ رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں، قیامت کے دن کافر کو ٹھہرایا جائے گا پھر اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا پھر فرشتے پھر سب لوگ کافروں پر لعنت بھیجنے کے مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد کے ائمہ کرام سب کے سب قنوت وغیرہ میں کفار پر لعنت بھیجتے تھے، لیکن کسی معین کافر پر لعنت بھجنے کے بارے میں علماء کرام کا ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ جائز نہیں اس لیے کہ اس کے خاتمہ کا کسی کو علم نہیں اور اس آیت کی یہ قید کہ مرتے دم تک وہ کافر رہے معین کافر دلیل ہے کسی پر لعنت نہ بھیجنے کی، ایک دوسری جماعت اس کی بھی قائل ہے جیسے فقیہ ابوبکر بن عربی مالکی رحمہ اللہ، لیکن ان کی دلیل ایک ضعیف حدیث ہے۔

صفحہ نمبر594

بعض نے اس حدیث سے یہ بھی دلیل لی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص باربار نشہ کی حالت میں لایا گیا اور اس پر باربار حد لگائی گئی تو ایک شخص نے کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو بار بار شراب پیتا ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس پر لعنت نہ بھیجو یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دوست رکھتا ہے، [صحیح بخاری:6780] ‏ اس سے ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ رسول سے دوستی نہ رکھے اس پر لعنت بھیجنی جائز ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر595

اکیلا حکمران ٭٭

یعنی حکمرانی میں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں نہ اس جیسا کوئی ہے وہ واحد اور احد ہے وہ فرد اور صمد ہے اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں، وہ رحمٰن اور رحیم ہے، سورۃ فاتحہ کے شروع میں ان دونوں ناموں کی پوری تفسیر گزر چکی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں، اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے، ایک یہ آیت «وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَٰنُ الرَّحِيمُ» [ البقرہ: 163] ‏ دوسری آیت «الم اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ» [ 3-آل عمران: 1، 2 ] ‏ [سنن ابوداود:1496، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس کے بعد اس توحید کی دلیل بیان ہو رہی ہے اسے بھی توجہ سے سنئیے فرماتے ہیں۔

صفحہ نمبر599

ٹھوس دلائل ٭٭

مطلب یہ ہے کہ اس اللہ کی فرماں روائی اور اس کی توحید کی دلیل ایک تو یہ آسمان ہے جس کی بلندی لطافت کشادگی جس کے ٹھہرے ہوئے اور چلنے پھرنے والے روشن ستارے تم دیکھ رہے ہو، پھر زمین کی پیدائش جو کثیف چیز ہے جو تمہارے قدموں تلے بچھی ہوئی ہے، جس میں بلند بلند چوٹیوں کے سر بہ فلک پہاڑ ہیں جس میں موجیں مارنے والے بے پایاں سمندر ہیں جس میں انواع واقسام کے خوش رنگ بیل بوٹے ہیں جس میں طرح طرح کی پیداوار ہوتی ہے جس میں تم رہتے سہتے ہو اور اپنی مرضی کے مطابق آرام دہ مکانات بنا کر بستے ہو اور جس سے سینکڑوں طرح کا نفع اٹھاتے ہو، پھر رات دن کا آنا جانا رات گئی دن آ گیا، دن گیا رات آ گئی۔ نہ وہ اس پر سبقت کرے نہ یہ اس پر۔ ہر ایک اپنے صحیح انداز سے آئے اور جائے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں، کبھی دن کا کچھ حصہ رات میں جائے کبھی رات کا کچھ حصہ دن میں آ جائے، پھر کشتیوں کو دیکھو جو خود تمہیں اور تمہارے مال و اسباب اور تجارتی چیزوں کو لے کر سمندر میں ادھر سے ادھر جاتی آتی رہتی ہیں، جن کے ذریعہ اس ملک والے اس ملک والوں سے اور اس ملک والے اس ملک والوں سے رابطہٰ اور لین دین کر سکتے ہیں، یہاں کی چیزیں وہاں اور وہاں کی یہاں پہنچ سکتی ہیں۔

صفحہ نمبر600

پھر اللہ تعالیٰ کا اپنی رحمت کاملہ سے بارش برسانا اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کر دینا، اس سے اناج اور کھیتیاں پیدا کرنا، چاروں طرف ریل پیل کر دینا، زمین میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے کار آمد جانوروں کو پیدا کرنا ان سب کی حفاظت کرنا، انہیں روزیاں پہنچانا ان کے لیے سونے بیٹھنے چرنے چگنے کی جگہ تیار کرنا، ہواؤں کو پورب پچھم چلانا، کبھی ٹھنڈی کبھی گرم کبھی کم کبھی زیادہ، بادلوں کو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کرنا، انہیں ایک طرف سے دوسری کی طرف لے جانا، ضرورت کی جگہ برسانا وغیرہ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن سے عقلمند اپنے اللہ کے وجود کو اور اس کی وحدانیت کو پالیتے ہیں، جیسے اور جگہ فرمایا کہ آسمان و زمین کی پیدائش اور رات دن کے آنے جانے میں عقل مندوں کے لیے نشانیاں ہیں، جو اٹھتے بیٹھتے لیٹتے اللہ تعالیٰ کا نام لیا کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی پیدائش میں غور فکر سے کام لیتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب تو نے انہیں بے کار نہیں بنایا تیری ذات پاک ہے تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ [3-آل عمران:190-191] ‏

صفحہ نمبر601

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ قریشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دے ہم اس سے گھوڑے اور ہتھیار وغیرہ خریدیں اور تیرا ساتھ دیں اور ایمان بھی لائیں آپ نے فرمایا پختہ وعدے کرتے ہو؟ انہوں نے کہا ہاں پختہ وعدہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا تمہاری دعا تو قبول ہے لیکن اگر یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے تو ان پر اللہ کا وہ عذاب آئے گا جو آج سے پہلے کسی پر نہ آیا ہو، آپ کانپ اٹھے اور عرض کرنے لگے نہیں اللہ تو انہیں یونہی رہنے دے میں انہیں تیری طرف بلاتا رہوں گا کیا عجب آج نہیں کل اور کل نہیں تو پرسوں ان میں سے کوئی نہ کوئی تیری طرف جھک جائے اس پر یہ آیت اتری کہ اگر انہیں قدرت کی نشانیاں دیکھنی ہیں تو کیا یہ نشانیاں کچھ کم ہیں؟

ایک اور شان نزول بھی مروی ہے کہ جب آیت «وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ» [ البقرہ: 163 ] ‏ اتری تو مشرکین کہنے لگے ایک اللہ تمام جہاں کا بندوبست کیسے کرے گا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ اللہ اتنی بڑی قدرت والا ہے، بعض روایتوں میں ہے اللہ کا ایک ہونا سن کر انہوں نے دلیل طلب کی جس پر یہ آیت نازل ہوئی اور قدرت کے نشان ہائے ان پر ظاہر کئے گئے۔

صفحہ نمبر602

محبت الہٰ اپنی پسند ہے؟ ٭٭

اس آیت میں مشرکین کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہو رہا ہے، یہ اللہ کا شریک مقرر کرتے ہیں اس جیسا اوروں کو ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی محبت اپنے دل میں ایسی ہی جماتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہیئے حالانکہ وہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے، وہ شریک اور حصہ داری سے پاک ہے بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ پیدا اسی اکیلے نے کیا ہے۔ [صحیح بخاری:7520] ‏ پھر فرمایا ایماندار اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ان کے دل عظمت الٰہی اور توحید ربانی سے معمور ہوتے ہیں، وہ اللہ کے سوا دوسرے سے ایسی محبت نہیں کرتے کسی اور سے التجا کرتے ہیں نہ دوسروں کی طرف جھکتے ہیں نہ اس کی پاک ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھر ان مشرکین کو جو اپنی جانوں پر شرک کے بوجھ کا ظلم کرتے ہیں انہیں اس عذاب کی خبر پہنچاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسے دیکھ لیں تو یقین ہو جائے کہ قدرتوں والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تمام چیزیں اسی کے ماتحت اور زیر فرمان ہیں اور اس کا عذاب بڑا بھاری ہے۔

صفحہ نمبر603

جیسے اور جگہ ہے کہ «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» [ 89-الفجر: 25، 26 ] ‏ اس دن نہ تو اس کے عذاب جیسا کوئی عذاب کر سکتا ہے نہ اس کی پکڑ جیسی کسی کی پکڑ ہو سکتی، دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر انہیں اس منظر کا علم ہوتا تو یہ اپنی گمراہی اور شرک و کفر پر ہرگز نہ اڑتے۔ اس دن ان لوگوں نے جن جن کو اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہو جائیں گے، فرشتے کہیں گے اللہ ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اللہ تری ذات پاک ہے تو ہی ہمارا ولی ہے، یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے ہیں انہیں پر ایمان رکھتے تھے، اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہو جائیں گے اور عبادت سے انکار کریں گے اور جگہ قرآن میں ہے کہ یہ لوگ جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ سب کے سب قیامت کے دن آیت «سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [ 19۔ مریم: 82 ] ‏ ان کی عبادت سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے، خلیل اللہ علیہ السلام کا فرمان ہے آیت «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» [ 29۔ العنکبوت: 25 ] ‏ تم نے اللہ کے سوا بتوں کی محبت دل میں بٹھا کر ان کی پوجا شروع کر دی ہے قیامت کے دن وہ تمہاری عبادت کا انکار کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور تمہارا مددگار کوئی نہ ہو گا۔

صفحہ نمبر604

اسی طرح اور جگہ ہےآیت «وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ الْقَوْلَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» [ 34۔ سبأ: 33، 31 ] ‏ یعنی یہ ظالم رب کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے اور اپنے پیشواؤں سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایماندار بن جاتے، وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اللہ پرستی سے روکا؟ حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے، وہ کہیں گے تمہاری دن رات کی مکاریاں تمہارے کفرانہ احکام تمہاری شرف کی تعلیم نے ہمیں پھانس لیا، اب سب دل سے نا دم ہوں گے اور ان کی گردنوں میں ان کے برے اعمال کے طوق ہوں گے اور جگہ ہے کہ اس دن شیطان بھی کہے گا آیت «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [ 14۔ ابراہیم: 22 ] ‏ یعنی اللہ کا وعدہ تو سچا تھا اور میں تمہیں جو سبز باغ دکھایا کرتا تھا وہ محض دھوکہ تھا لیکن تم پر میرا کوئی زور تو نہیں تھا میں نے تمہیں صرف کہا اور تم نے منظور کر لیا اب مجھے ملامت کرنے سے کیا فائدہ؟ اب اپنی جانوں کو لعنت ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری، میرا تمہارے اگلے شرک سے کوئی واسطہ نہیں جان لو کہ ظالموں کے لیے درناک عذاب ہے پھر فرمایا کہ وہ عذاب دیکھ لیں گے اور اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے نہ کوئی بھاگنے کی جگہ رہے گی نہ چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آئے گی دوستیاں کٹ جائیں گی رشتے ٹوٹ جائیں گے۔

صفحہ نمبر605

اور بلادلیل باتیں ماننے والے بے وجہ اعتقاد رکھنے والے پوجا پاٹ اور اطاعت کرنے والے جب اپنے پیشواؤں کو اس طرح بری الذمہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو نہایت حسرت ویاس سے کہیں گے کہ اگر اب ہم دنیا میں لوٹ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہوئے نہ ان کی طرف التفات کریں نہ ان کی باتیں مانیں نہ انہیں شریک اللہ سمجھیں بلکہ اللہ واحد کی خالص عبادت کریں۔ حالانکہ اگر درحقیقت یہ لوٹائے بھی جائیں تو وہی کریں گے جو اس سے پہلے کرتے تھے جیسے فرمایا آیت «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6۔ الانعام: 28 ] ‏ اسی لیے یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے کرتوت اسی طرح دکھائے گا ان پر حسرت و افسوس ہے یعنی اعمال نیک جو تھے وہ بھی ضائع ہو گئے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25۔ الفرقان: 23 ] ‏ اور جگہ ہے آیت «اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ» [ 14۔ ابراہیم: 18 ] ‏ اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّـهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّـهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 24۔ النور: 39 ] ‏ یعنی ان کے اعمال برباد ہیں ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جسے تند ہوائیں اڑا دیں، ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے مگر پاس جاؤ توریت کا تودا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ آگ سے نکلنے والے نہیں۔

صفحہ نمبر606

محبت الہٰ اپنی پسند ہے؟ ٭٭

اس آیت میں مشرکین کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہو رہا ہے، یہ اللہ کا شریک مقرر کرتے ہیں اس جیسا اوروں کو ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی محبت اپنے دل میں ایسی ہی جماتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہیئے حالانکہ وہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے، وہ شریک اور حصہ داری سے پاک ہے بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ پیدا اسی اکیلے نے کیا ہے۔ [صحیح بخاری:7520] ‏ پھر فرمایا ایماندار اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ان کے دل عظمت الٰہی اور توحید ربانی سے معمور ہوتے ہیں، وہ اللہ کے سوا دوسرے سے ایسی محبت نہیں کرتے کسی اور سے التجا کرتے ہیں نہ دوسروں کی طرف جھکتے ہیں نہ اس کی پاک ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھر ان مشرکین کو جو اپنی جانوں پر شرک کے بوجھ کا ظلم کرتے ہیں انہیں اس عذاب کی خبر پہنچاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسے دیکھ لیں تو یقین ہو جائے کہ قدرتوں والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تمام چیزیں اسی کے ماتحت اور زیر فرمان ہیں اور اس کا عذاب بڑا بھاری ہے۔

صفحہ نمبر603

جیسے اور جگہ ہے کہ «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» [ 89-الفجر: 25، 26 ] ‏ اس دن نہ تو اس کے عذاب جیسا کوئی عذاب کر سکتا ہے نہ اس کی پکڑ جیسی کسی کی پکڑ ہو سکتی، دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر انہیں اس منظر کا علم ہوتا تو یہ اپنی گمراہی اور شرک و کفر پر ہرگز نہ اڑتے۔ اس دن ان لوگوں نے جن جن کو اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہو جائیں گے، فرشتے کہیں گے اللہ ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اللہ تری ذات پاک ہے تو ہی ہمارا ولی ہے، یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے ہیں انہیں پر ایمان رکھتے تھے، اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہو جائیں گے اور عبادت سے انکار کریں گے اور جگہ قرآن میں ہے کہ یہ لوگ جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ سب کے سب قیامت کے دن آیت «سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [ 19۔ مریم: 82 ] ‏ ان کی عبادت سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے، خلیل اللہ علیہ السلام کا فرمان ہے آیت «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» [ 29۔ العنکبوت: 25 ] ‏ تم نے اللہ کے سوا بتوں کی محبت دل میں بٹھا کر ان کی پوجا شروع کر دی ہے قیامت کے دن وہ تمہاری عبادت کا انکار کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور تمہارا مددگار کوئی نہ ہو گا۔

صفحہ نمبر604

اسی طرح اور جگہ ہےآیت «وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ الْقَوْلَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» [ 34۔ سبأ: 33، 31 ] ‏ یعنی یہ ظالم رب کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے اور اپنے پیشواؤں سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایماندار بن جاتے، وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اللہ پرستی سے روکا؟ حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے، وہ کہیں گے تمہاری دن رات کی مکاریاں تمہارے کفرانہ احکام تمہاری شرف کی تعلیم نے ہمیں پھانس لیا، اب سب دل سے نا دم ہوں گے اور ان کی گردنوں میں ان کے برے اعمال کے طوق ہوں گے اور جگہ ہے کہ اس دن شیطان بھی کہے گا آیت «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [ 14۔ ابراہیم: 22 ] ‏ یعنی اللہ کا وعدہ تو سچا تھا اور میں تمہیں جو سبز باغ دکھایا کرتا تھا وہ محض دھوکہ تھا لیکن تم پر میرا کوئی زور تو نہیں تھا میں نے تمہیں صرف کہا اور تم نے منظور کر لیا اب مجھے ملامت کرنے سے کیا فائدہ؟ اب اپنی جانوں کو لعنت ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری، میرا تمہارے اگلے شرک سے کوئی واسطہ نہیں جان لو کہ ظالموں کے لیے درناک عذاب ہے پھر فرمایا کہ وہ عذاب دیکھ لیں گے اور اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے نہ کوئی بھاگنے کی جگہ رہے گی نہ چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آئے گی دوستیاں کٹ جائیں گی رشتے ٹوٹ جائیں گے۔

صفحہ نمبر605

اور بلادلیل باتیں ماننے والے بے وجہ اعتقاد رکھنے والے پوجا پاٹ اور اطاعت کرنے والے جب اپنے پیشواؤں کو اس طرح بری الذمہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو نہایت حسرت ویاس سے کہیں گے کہ اگر اب ہم دنیا میں لوٹ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہوئے نہ ان کی طرف التفات کریں نہ ان کی باتیں مانیں نہ انہیں شریک اللہ سمجھیں بلکہ اللہ واحد کی خالص عبادت کریں۔ حالانکہ اگر درحقیقت یہ لوٹائے بھی جائیں تو وہی کریں گے جو اس سے پہلے کرتے تھے جیسے فرمایا آیت «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6۔ الانعام: 28 ] ‏ اسی لیے یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے کرتوت اسی طرح دکھائے گا ان پر حسرت و افسوس ہے یعنی اعمال نیک جو تھے وہ بھی ضائع ہو گئے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25۔ الفرقان: 23 ] ‏ اور جگہ ہے آیت «اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ» [ 14۔ ابراہیم: 18 ] ‏ اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّـهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّـهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 24۔ النور: 39 ] ‏ یعنی ان کے اعمال برباد ہیں ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جسے تند ہوائیں اڑا دیں، ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے مگر پاس جاؤ توریت کا تودا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ آگ سے نکلنے والے نہیں۔

صفحہ نمبر606

محبت الہٰ اپنی پسند ہے؟ ٭٭

اس آیت میں مشرکین کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہو رہا ہے، یہ اللہ کا شریک مقرر کرتے ہیں اس جیسا اوروں کو ٹھہراتے ہیں اور پھر ان کی محبت اپنے دل میں ایسی ہی جماتے ہیں جیسی اللہ کی ہونی چاہیئے حالانکہ وہ معبود برحق صرف ایک ہی ہے، وہ شریک اور حصہ داری سے پاک ہے بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سب سے بڑا گناہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے ساتھ شرک کرنا حالانکہ پیدا اسی اکیلے نے کیا ہے۔ [صحیح بخاری:7520] ‏ پھر فرمایا ایماندار اللہ تعالیٰ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ان کے دل عظمت الٰہی اور توحید ربانی سے معمور ہوتے ہیں، وہ اللہ کے سوا دوسرے سے ایسی محبت نہیں کرتے کسی اور سے التجا کرتے ہیں نہ دوسروں کی طرف جھکتے ہیں نہ اس کی پاک ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھر ان مشرکین کو جو اپنی جانوں پر شرک کے بوجھ کا ظلم کرتے ہیں انہیں اس عذاب کی خبر پہنچاتا ہے کہ اگر یہ لوگ اسے دیکھ لیں تو یقین ہو جائے کہ قدرتوں والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، تمام چیزیں اسی کے ماتحت اور زیر فرمان ہیں اور اس کا عذاب بڑا بھاری ہے۔

صفحہ نمبر603

جیسے اور جگہ ہے کہ «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ» [ 89-الفجر: 25، 26 ] ‏ اس دن نہ تو اس کے عذاب جیسا کوئی عذاب کر سکتا ہے نہ اس کی پکڑ جیسی کسی کی پکڑ ہو سکتی، دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر انہیں اس منظر کا علم ہوتا تو یہ اپنی گمراہی اور شرک و کفر پر ہرگز نہ اڑتے۔ اس دن ان لوگوں نے جن جن کو اپنا پیشوا بنا رکھا تھا وہ سب ان سے الگ ہو جائیں گے، فرشتے کہیں گے اللہ ہم ان سے بیزار ہیں یہ ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اللہ تری ذات پاک ہے تو ہی ہمارا ولی ہے، یہ لوگ تو جنات کی عبادت کرتے ہیں انہیں پر ایمان رکھتے تھے، اسی طرح جنات بھی ان سے بیزاری کا اعلان کریں گے اور صاف صاف ان کے دشمن ہو جائیں گے اور عبادت سے انکار کریں گے اور جگہ قرآن میں ہے کہ یہ لوگ جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ سب کے سب قیامت کے دن آیت «سَيَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا» [ 19۔ مریم: 82 ] ‏ ان کی عبادت سے انکار کریں گے اور ان کے دشمن بن جائیں گے، خلیل اللہ علیہ السلام کا فرمان ہے آیت «اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» [ 29۔ العنکبوت: 25 ] ‏ تم نے اللہ کے سوا بتوں کی محبت دل میں بٹھا کر ان کی پوجا شروع کر دی ہے قیامت کے دن وہ تمہاری عبادت کا انکار کریں گے اور آپس میں ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور تمہارا مددگار کوئی نہ ہو گا۔

صفحہ نمبر604

اسی طرح اور جگہ ہےآیت «وَلَوْ تَرٰٓى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ښ يَرْجِــعُ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضِ الْقَوْلَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِيْنَ اسْـتَكْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِيْنَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُم بِهِ كَافِرُونَ» [ 34۔ سبأ: 33، 31 ] ‏ یعنی یہ ظالم رب کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے اور اپنے پیشواؤں سے کہہ رہے ہوں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ایماندار بن جاتے، وہ جواب دیں گے کیا ہم نے تمہیں اللہ پرستی سے روکا؟ حقیقت یہ ہے کہ تم خود مجرم تھے، وہ کہیں گے تمہاری دن رات کی مکاریاں تمہارے کفرانہ احکام تمہاری شرف کی تعلیم نے ہمیں پھانس لیا، اب سب دل سے نا دم ہوں گے اور ان کی گردنوں میں ان کے برے اعمال کے طوق ہوں گے اور جگہ ہے کہ اس دن شیطان بھی کہے گا آیت «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [ 14۔ ابراہیم: 22 ] ‏ یعنی اللہ کا وعدہ تو سچا تھا اور میں تمہیں جو سبز باغ دکھایا کرتا تھا وہ محض دھوکہ تھا لیکن تم پر میرا کوئی زور تو نہیں تھا میں نے تمہیں صرف کہا اور تم نے منظور کر لیا اب مجھے ملامت کرنے سے کیا فائدہ؟ اب اپنی جانوں کو لعنت ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں نہ تم میری، میرا تمہارے اگلے شرک سے کوئی واسطہ نہیں جان لو کہ ظالموں کے لیے درناک عذاب ہے پھر فرمایا کہ وہ عذاب دیکھ لیں گے اور اور تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے نہ کوئی بھاگنے کی جگہ رہے گی نہ چھٹکارے کی کوئی صورت نظر آئے گی دوستیاں کٹ جائیں گی رشتے ٹوٹ جائیں گے۔

صفحہ نمبر605

اور بلادلیل باتیں ماننے والے بے وجہ اعتقاد رکھنے والے پوجا پاٹ اور اطاعت کرنے والے جب اپنے پیشواؤں کو اس طرح بری الذمہ ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو نہایت حسرت ویاس سے کہیں گے کہ اگر اب ہم دنیا میں لوٹ جائیں تو ہم بھی ان سے ایسے ہی بیزار ہو جائیں جیسے یہ ہم سے ہوئے نہ ان کی طرف التفات کریں نہ ان کی باتیں مانیں نہ انہیں شریک اللہ سمجھیں بلکہ اللہ واحد کی خالص عبادت کریں۔ حالانکہ اگر درحقیقت یہ لوٹائے بھی جائیں تو وہی کریں گے جو اس سے پہلے کرتے تھے جیسے فرمایا آیت «وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ» [ 6۔ الانعام: 28 ] ‏ اسی لیے یہاں فرمایا اللہ تعالیٰ ان کے کرتوت اسی طرح دکھائے گا ان پر حسرت و افسوس ہے یعنی اعمال نیک جو تھے وہ بھی ضائع ہو گئے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَقَدِمْنَآ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَـعَلْنٰهُ هَبَاءً مَّنْثُوْرًا» [ 25۔ الفرقان: 23 ] ‏ اور جگہ ہے آیت «اَعْمَالُهُمْ كَرَمَادِ اشْـتَدَّتْ بِهِ الرِّيْحُ فِيْ يَوْمٍ عَاصِفٍ» [ 14۔ ابراہیم: 18 ] ‏ اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّـهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّـهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ 24۔ النور: 39 ] ‏ یعنی ان کے اعمال برباد ہیں ان کے اعمال کی مثال راکھ کی طرح ہے جسے تند ہوائیں اڑا دیں، ان کے اعمال ریت کی طرح ہیں جو دور سے پانی دکھائی دیتا ہے مگر پاس جاؤ توریت کا تودا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ لوگ آگ سے نکلنے والے نہیں۔

صفحہ نمبر606

روزی دینے والا کون؟ ٭٭

اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں روکتا ہوں کہ شیطان کی راہ پر نہ چلو جس طرح اور لوگوں نے اس کی چال چل کر بعض حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کر لیں، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پروردگار عالم فرماتا ہے میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے اسے ان کے لیے حلال کر دیا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا مگر شیطان نے اس دین حنیف سے انہیں ہٹا دیا اور میری حلال کردہ چیزوں کو ان پر حرام کر دیا۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

صفحہ نمبر609

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جس وقت اس آیت کی تلاوت ہوئی تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کو قبول فرمایا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ پاک چیزیں اور حلال لقمہ کھاتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول فرماتا رہے گا قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے حرام کا لقمہ جو انسان اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے اس کی نحوست کی وجہ سے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی جو گوشت پوست حرام سے پلا وہ جہنمی ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1812، ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 35-فاطر: 6 ] ‏ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اس کی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں۔ [35-فاطر:6] ‏ اور جگہ فرمایا آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [ 18۔ الکہف: 50 ] ‏ کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟ حالانکہ حقیقتاً وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے۔ آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ» [ البقرہ: 168 ] ‏ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:221/1] ‏ جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھا لو۔

صفحہ نمبر610

ابورافع رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی کہ میں ایک دن یہودیہ ہوں ایک دن نصرانیہ ہوں اور میرے تمام غلام آزاد ہیں اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، اب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس مسئلہ پوچھنے آیا اس صورت میں کیا کیا جائے؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شیطان کے قدموں کی پیروی ہے، پھر میں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس وقت مدینہ بھر میں ان سے زیادہ فقیہہ عورت کوئی نہ تھی میں نے ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا یہاں بھی یہی جواب ملا، عاصم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی فتویٰ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ جو قسم غصہ کی حالت کھائی جائے اور جو نذر ایسی حالت میں مانی جائے وہ شیطانی قدم کی تابعداری ہے اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے برابر دیدے۔ پھر فرمایا کہ شیطان تمہیں برے کاموں اور اس سے بھی بڑھ کر زناکاری اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ سے ان باتوں کو جوڑ لینے کو کہتا ہے جن کا تمہیں علم نہ ہو ان باتوں کو اللہ سے متعلق کرتا ہے جن کا اسے علم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا ہر کافر اور بدعتی ان میں داخل ہے جو برائی کا حکم کرے اور بدی کی طرف رغبت دلائے۔

صفحہ نمبر611

روزی دینے والا کون؟ ٭٭

اوپر چونکہ توحید کا بیان ہوا تھا اس لیے یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ تمام مخلوق کا روزی رساں بھی وہی ہے، فرماتا ہے کہ میرا یہ احسان بھی نہ بھولو کہ میں نے تم پر پاکیزہ چیزیں حلال کیں جو تمہیں لذیذ اور مرغوب ہیں جو نہ جسم کو ضرر پہنچائیں نہ صحت کو نہ عقل و ہوش کو ضرر دیں، میں تمہیں روکتا ہوں کہ شیطان کی راہ پر نہ چلو جس طرح اور لوگوں نے اس کی چال چل کر بعض حلال چیزیں اپنے اوپر حرام کر لیں، صحیح مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ پروردگار عالم فرماتا ہے میں نے جو مال اپنے بندوں کو دیا ہے اسے ان کے لیے حلال کر دیا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا مگر شیطان نے اس دین حنیف سے انہیں ہٹا دیا اور میری حلال کردہ چیزوں کو ان پر حرام کر دیا۔ [صحیح مسلم:2865] ‏

صفحہ نمبر609

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جس وقت اس آیت کی تلاوت ہوئی تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ میری دعاؤں کو قبول فرمایا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے سعد رضی اللہ عنہ پاک چیزیں اور حلال لقمہ کھاتے رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری دعائیں قبول فرماتا رہے گا قسم ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے حرام کا لقمہ جو انسان اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے اس کی نحوست کی وجہ سے چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی جو گوشت پوست حرام سے پلا وہ جہنمی ہے۔ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1812، ضعیف] ‏

پھر فرمایا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے، جیسے اور جگہ فرمایا کہ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 35-فاطر: 6 ] ‏ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو اس کی اور اس کے دوستوں کی تو یہ عین چاہت ہے کہ لوگوں کو عذاب میں جھونکیں۔ [35-فاطر:6] ‏ اور جگہ فرمایا آیت «اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَذُرِّيَّتَهٗٓ اَوْلِيَاءَ مِنْ دُوْنِيْ وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا» [ 18۔ الکہف: 50 ] ‏ کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو اپنا دوست سمجھتے ہو؟ حالانکہ حقیقتاً وہ تمہارا دشمن ہے ظالموں کے لیے برا بدلہ ہے۔ آیت «يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ» [ البقرہ: 168 ] ‏ سے مراد اللہ تعالیٰ کی ہر معصیت ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:221/1] ‏ جس میں شیطان کا بہکاوا شامل ہوتا ہے شعبی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ اپنے لڑکے کو ذبح کرے گا حضرت مسروق رحمہ اللہ کے پاس جب یہ واقعہ پہنچا تو آپ رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ وہ شخص ایک مینڈھا ذبح کر دے ورنہ نذر شیطان کے نقش قدم سے ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک دن بکرے کا پایا نمک لگا کر کھا رہے تھے ایک شخص جو آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ ہٹ کر دور جا بیٹھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کھاؤ اس نے کہا میں نہیں کھاؤنگا آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا روزے سے ہو؟ کہا نہیں میں تو اسے اپنے اوپر حرام کر چکا ہوں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ شیطان کی راہ چلنا ہے اپنی قسم کا کفارہ دو اور کھا لو۔

صفحہ نمبر610

ابورافع رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا تو وہ کہنے لگی کہ میں ایک دن یہودیہ ہوں ایک دن نصرانیہ ہوں اور میرے تمام غلام آزاد ہیں اگر تو اپنی بیوی کو طلاق نہ دے، اب میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس مسئلہ پوچھنے آیا اس صورت میں کیا کیا جائے؟ تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا شیطان کے قدموں کی پیروی ہے، پھر میں زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور اس وقت مدینہ بھر میں ان سے زیادہ فقیہہ عورت کوئی نہ تھی میں نے ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا یہاں بھی یہی جواب ملا، عاصم اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی فتویٰ، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتویٰ ہے کہ جو قسم غصہ کی حالت کھائی جائے اور جو نذر ایسی حالت میں مانی جائے وہ شیطانی قدم کی تابعداری ہے اس کا کفارہ قسم کے کفارے کے برابر دیدے۔ پھر فرمایا کہ شیطان تمہیں برے کاموں اور اس سے بھی بڑھ کر زناکاری اور اس سے بھی بڑھ کر اللہ سے ان باتوں کو جوڑ لینے کو کہتا ہے جن کا تمہیں علم نہ ہو ان باتوں کو اللہ سے متعلق کرتا ہے جن کا اسے علم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا ہر کافر اور بدعتی ان میں داخل ہے جو برائی کا حکم کرے اور بدی کی طرف رغبت دلائے۔

صفحہ نمبر611

گمراہی اور جہالت کیا ہے؟ ٭٭

یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔

صفحہ نمبر613

پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بے خبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں وہ نہ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں نہ ان میں زندگی ہے نہ انہیں کچھ احساس ہے۔ کافروں کی یہ جماعت حق کی باتوں کے سننے سے بہری ہے حق کہنے سے بے زبان ہے حق کے راہ چلنے سے اندھی ہے عقل وفہم سے دور ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ» [ 6-الأنعام: 39 ] ‏ یعنی ہماری باتوں کو جھٹلانے والے بہرے، گونگے اور اندھیرے میں ہیں جسے اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ لگا دے۔

صفحہ نمبر614

گمراہی اور جہالت کیا ہے؟ ٭٭

یعنی ان کافروں اور مشرکوں سے جب کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی پیروی کرو اور اپنی ضلالت وجہالت کو چھوڑ دو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بڑوں کی راہ لگے ہوئے ہیں جن چیزوں کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے ہم بھی کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے جس کے جواب میں قرآن کہتا ہے کہ وہ تو فہم و ہدایت سے غافل تھے۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں اتری ہے۔

صفحہ نمبر613

پھر ان کی مثال دی کہ جس طرح چرنے چگنے والے جانور اپنے چرواہے کی کوئی بات صحیح طور سے سمجھ نہیں سکتے صرف آواز کانوں میں پڑتی ہے اور کلام کی بھلائی برائی سے بے خبر رہتے ہیں اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جن جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں اور مرادیں مانگتے ہیں وہ نہ سنتے ہیں نہ جانتے ہیں نہ ان میں زندگی ہے نہ انہیں کچھ احساس ہے۔ کافروں کی یہ جماعت حق کی باتوں کے سننے سے بہری ہے حق کہنے سے بے زبان ہے حق کے راہ چلنے سے اندھی ہے عقل وفہم سے دور ہے، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا صُمٌّ وَبُكْمٌ فِي الظُّلُمَاتِ» [ 6-الأنعام: 39 ] ‏ یعنی ہماری باتوں کو جھٹلانے والے بہرے، گونگے اور اندھیرے میں ہیں جسے اللہ چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے سیدھی راہ لگا دے۔

صفحہ نمبر614

حلال اور حرام کیا ہے؟ ٭٭

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو، لقمہ حلال دعا عبادت کی قبولیت کا سبب ہے اور لقمہ حرام عدم قبولیت کا، مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ پاک چیز کو قبول فرماتا ہے اس نے رسولوں کو اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ وہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک اعمال کریں فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا» [ 23۔ المؤمنون: 51 ] ‏ اور فرمایا آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 172 ] ‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے وہ پراگندہ بالوں والا غبار آلود ہوتا ہے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتا ہے اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے لیکن اس کا کھانا پینا لباس اور غذا سب حرام کے ہیں اس لیے اس کی اس وقت کی ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ [صحیح مسلم:1015] ‏ حلال چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد حرام چیزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ تم پر مردار جانور جو اپنی موت آپ مر گیا ہو جسے شرعی طور پر ذبح نہ کیا گیا ہو حرام ہے خواہ کسی نے اس کا گلا گھونٹ دیا ہو یا لکڑی اور لٹھ لگنے سے مر گیا ہو کہیں سے گر پڑا ہو اور مر گیا ہو یا دوسرے جانوروں نے اپنے سینگ سے اسے ہلاک کر دیا ہو یا درندوں نے اسے مار ڈالا ہو یہ سب میتہ میں داخل ہیں اور حرام ہیں لیکن اس میں سے پانی کے جانور مخصوص ہیں وہ اگرچہ خودبخود مر جائیں تو بھی حلال ہیں۔ آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» [ 5۔ المائدہ: 96 ] ‏ اس کا پورا بیان اس آیت کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

عنبر نامی جانور کا مرا ہوا ملنا اور صحابہ کا اسے کھانا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے جائز قرار دینا یہ سب باتیں حدیث میں ہیں۔ [صحیح بخاری:4360] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، [سنن ابوداود:83، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہم پر حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی کلیجی اور تلی، [سنن ابن ماجه:3314، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سورۃ المائدہ میں اس کا بیان تفصیل وار آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر616

مسئلہ ٭٭

مردار جانور کا دودھ اور اس کے انڈے جو اس میں ہوں نجس ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اس لیے کہ وہ بھی میت کا ایک جزو ہے، امام مالک رحمتہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ تو وہ پاک لیکن میت میں شامل کی وجہ سے جنس ہو جاتا ہے، اسی طرح مردار کی کھیس [ کھیری ] ‏ بھی مشہور مذہب میں ان بزرگوں کے نزدیک ناپاک ہے گو اس میں اختلاف بھی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا مجوسیوں کا پنیر کھانا گو بطور اعتراض ان پر وارد ہو سکتا ہے مگر اس کا جواب قرطبی رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ دودھ بہت ہی کم ہوتا ہے اور کوئی بہنے والی ایسی تھوڑی سی چیز اگر کسی مقدار میں زیادہ بہنے والی میں بڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔

صفحہ نمبر617

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی اور پنیر اور گورخر کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال بتایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا اور جس کا بیان نہیں وہ سب معاف ہیں۔ [سنن ترمذي:1726، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرمایا تم پر سور کا گوشت بھی حرام ہے خواہ اسے ذبح کیا ہو خواہ وہ خود مر گیا ہو، سور کی چربی کا حکم بھی یہی ہے اس لیے کہ چونکہ اکثر گوشت ہی ہوتا ہے اور چربی گوشت کے ساتھ ہی ہوتی ہے پس جب گوشت حرام ہوا تو چربی بھی حرام ہوئی، دوسرے اس لیے بھی کہ گوشت میں ہی چربی ہوتی ہے اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے نام پر مشہور کی جائے وہ بھی حرام ہے جاہلیت کے زمانہ میں کافر لوگ اپنے معبودان باطل کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا۔

صفحہ نمبر618

ایک مرتبہ ایک عورت نے گڑیا کے نکاح پر ایک جانور ذبح کیا تو حسن بصری رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ اسے نہ کھانا چاہیئے اس لیے کہ وہ ایک تصویر کے لیے ذبح کیا گیا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ عجمی لوگ جو اپنے تہوار اور عید کے موقعہ پر جانور ذبح کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی اس میں سے ہدیہ بھیجتے ہیں ان کا گوشت کھانا چاہیئے یا نہیں؟ تو فرمایا اس دن کی عظمت کے لیے جو جانور ذبح کیا جائے اسے نہ کھاؤ ہاں ان کے درختوں کے پھل کھاؤ۔ [تفسیر قرطبی:224/2] ‏

صفحہ نمبر619

پھر اللہ تعالیٰ نے ضرورت اور حاجت کے وقت جبکہ کچھ اور کھانے کو نہ ملے ان حرام چیزوں کا کھا لینا مباح کیا ہے اور فرمایا جو شخص بے بس ہو جائے مگر باغی اور سرکش اور حد سے بڑھ جانے والا نہ ہو اس پر ان چیزوں کے کھانے میں گناہ نہیں اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا مہربان ہے باغ اور عاد کی تفسیر میں حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ڈاکو راہزن مسلمان بادشاہ پر چڑھائی کرنے والا سلطنت اسلام کا مخالف اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سفر کرنے والا سبھی کے لیے اس اضطرار کے وقت بھی حرام چیزیں حرام ہی رہتی ہیں، غیر باغ کی تفسیر مقاتل بن حبان یہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اسے حلال سمجھنے والا نہ ہو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:236/1] ‏ اور اس میں لذت اور مزہ کا خواہشمند نہ ہو، اسے بھون بھان کر لذیذ بنا کر اچھا پکا کر نہ کھائے بلکہ جیسا تیسا صرف جان بچانے کے لیے کھا لے اور اگر ساتھ لے تو اتنا کہ زندگی کے ساتھ حلال چیز کے ملنے تک باقی رہ جائے جب حلال چیز مل گئی اسے پھینک دے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسے خوب پیٹ بھر کر نہ کھائے، حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اس کے کھانے کے لیے مجبور کر دیا جائے اور بے اختیار ہو جائے اس کا بھی یہی حکم ہے۔

صفحہ نمبر620

مسئلہ ٭٭

ایک شخص بھوک کے مارے بے بس ہو گیا ہے اسے ایک مردار جانور نظر پڑا اور کسی دوسرے کی حلال چیز بھی دکھائی دی جس میں نہ رشتہ کا ٹوٹنا ہے نہ ایذاء دہی ہے تو اسے اس دوسرے کی چیز کو کھا لینا چاہیئے مردار نہ کھائے، پھر آیا اس چیز کی قیمت یا وہی چیز اس کے ذمہ رہے گی یا نہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ رہے گی دوسرے یہ کہ نہ رہے گی۔ نہ رہنے والے قول کی تائید میں یہ حدیث ہے جو ابن ماجہ میں ہے، عباد بن شرحبیل غبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے ہاں ایک سال قحط سالی پڑی میں مدینہ گیا اور ایک کھیت میں سے کچھ بالیں توڑ کر چھیل کر دانے چبانے لگا اور تھوڑی سی بالیں اپنی چادر میں باندھ کر چلا کھیت والے نے دیکھ لیا اور مجھے پکڑ کر مارا پیٹا اور میری چادر چھین لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ عرض کیا تو آپ نے اس شخص کو کہا اس بھوکے کو نہ تو تو نے کھانا کھلایا نہ اس کے لیے کوئی اور کوشش کی نہ اسے کچھ سمجھایا سکھایا یہ بے چارہ بھوکا تھا نادان تھا جاؤ اس کا کپڑا واپس کرو اور ایک وسق یا آدھا وسق غلہ اسے دے دو، [سنن ابوداود:2620، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ [ ایک وسق چار من کے قریب ہوتا ہے ] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ درختوں میں لگے ہوئے پھلوں کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو حاجت مند شخص ان میں سے کچھ کھا لے، لے کر نہ جائے اس پر کچھ جرم نہیں۔ [سنن ابوداود:1710،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر621

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ اضطراب اور بے بسی کے وقت اتنا کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں جس سے بے بسی اور اضطرار ہٹ جائے، یہ بھی مروی ہے کہ تین لقموں سے زیادہ نہ کھائے غرض ایسے وقت میں اللہ کی مہربانی اور نوازش ہے یہ حرام اس کے لیے حلال ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں اضطرار کے وقت بھی جو شخص حرام چیز نہ کھائے اور مر جائے وہ جہنمی ہے، [بیھقی:357/9:ضعیف] ‏ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے وقت ایسی چیز کھانی ضروری ہے نہ کہ صرف رخصت ہی ہو، یہی بات زیادہ صحیح ہے جیسے کہ بیمار کا روزہ چھوڑ دینا وغیرہ۔

صفحہ نمبر622

حلال اور حرام کیا ہے؟ ٭٭

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ تم پاک صاف اور حلال طیب چیزیں کھایا کرو اور میری شکر گزاری کرو، لقمہ حلال دعا عبادت کی قبولیت کا سبب ہے اور لقمہ حرام عدم قبولیت کا، مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگو اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ پاک چیز کو قبول فرماتا ہے اس نے رسولوں کو اور ایمان والوں کو حکم دیا کہ وہ پاک چیزیں کھائیں اور نیک اعمال کریں فرمان ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا» [ 23۔ المؤمنون: 51 ] ‏ اور فرمایا آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 172 ] ‏ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص لمبا سفر کرتا ہے وہ پراگندہ بالوں والا غبار آلود ہوتا ہے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا کرتا ہے اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے لیکن اس کا کھانا پینا لباس اور غذا سب حرام کے ہیں اس لیے اس کی اس وقت کی ایسی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ [صحیح مسلم:1015] ‏ حلال چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد حرام چیزوں کا بیان ہو رہا ہے کہ تم پر مردار جانور جو اپنی موت آپ مر گیا ہو جسے شرعی طور پر ذبح نہ کیا گیا ہو حرام ہے خواہ کسی نے اس کا گلا گھونٹ دیا ہو یا لکڑی اور لٹھ لگنے سے مر گیا ہو کہیں سے گر پڑا ہو اور مر گیا ہو یا دوسرے جانوروں نے اپنے سینگ سے اسے ہلاک کر دیا ہو یا درندوں نے اسے مار ڈالا ہو یہ سب میتہ میں داخل ہیں اور حرام ہیں لیکن اس میں سے پانی کے جانور مخصوص ہیں وہ اگرچہ خودبخود مر جائیں تو بھی حلال ہیں۔ آیت «اُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» [ 5۔ المائدہ: 96 ] ‏ اس کا پورا بیان اس آیت کی تفسیر میں آئے گا۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

عنبر نامی جانور کا مرا ہوا ملنا اور صحابہ کا اسے کھانا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہونا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے جائز قرار دینا یہ سب باتیں حدیث میں ہیں۔ [صحیح بخاری:4360] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ سمندر کا پانی پاک ہے اور اس کا مردہ حلال ہے، [سنن ابوداود:83، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دو مردے اور دو خون ہم پر حلال ہیں مچھلی اور ٹڈی کلیجی اور تلی، [سنن ابن ماجه:3314، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سورۃ المائدہ میں اس کا بیان تفصیل وار آئے گا۔ ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر616

مسئلہ ٭٭

مردار جانور کا دودھ اور اس کے انڈے جو اس میں ہوں نجس ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے اس لیے کہ وہ بھی میت کا ایک جزو ہے، امام مالک رحمتہ اللہ سے ایک روایت میں ہے کہ تو وہ پاک لیکن میت میں شامل کی وجہ سے جنس ہو جاتا ہے، اسی طرح مردار کی کھیس [ کھیری ] ‏ بھی مشہور مذہب میں ان بزرگوں کے نزدیک ناپاک ہے گو اس میں اختلاف بھی ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم کا مجوسیوں کا پنیر کھانا گو بطور اعتراض ان پر وارد ہو سکتا ہے مگر اس کا جواب قرطبی رحمہ اللہ نے یہ دیا ہے کہ دودھ بہت ہی کم ہوتا ہے اور کوئی بہنے والی ایسی تھوڑی سی چیز اگر کسی مقدار میں زیادہ بہنے والی میں بڑ جائے تو کوئی حرج نہیں۔

صفحہ نمبر617

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گھی اور پنیر اور گورخر کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال بتایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا اور جس کا بیان نہیں وہ سب معاف ہیں۔ [سنن ترمذي:1726، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ پھر فرمایا تم پر سور کا گوشت بھی حرام ہے خواہ اسے ذبح کیا ہو خواہ وہ خود مر گیا ہو، سور کی چربی کا حکم بھی یہی ہے اس لیے کہ چونکہ اکثر گوشت ہی ہوتا ہے اور چربی گوشت کے ساتھ ہی ہوتی ہے پس جب گوشت حرام ہوا تو چربی بھی حرام ہوئی، دوسرے اس لیے بھی کہ گوشت میں ہی چربی ہوتی ہے اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ پھر فرمایا کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے نام پر مشہور کی جائے وہ بھی حرام ہے جاہلیت کے زمانہ میں کافر لوگ اپنے معبودان باطل کے نام پر جانور ذبح کیا کرتے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا۔

صفحہ نمبر618

ایک مرتبہ ایک عورت نے گڑیا کے نکاح پر ایک جانور ذبح کیا تو حسن بصری رحمہ اللہ نے فتویٰ دیا کہ اسے نہ کھانا چاہیئے اس لیے کہ وہ ایک تصویر کے لیے ذبح کیا گیا، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ عجمی لوگ جو اپنے تہوار اور عید کے موقعہ پر جانور ذبح کرتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی اس میں سے ہدیہ بھیجتے ہیں ان کا گوشت کھانا چاہیئے یا نہیں؟ تو فرمایا اس دن کی عظمت کے لیے جو جانور ذبح کیا جائے اسے نہ کھاؤ ہاں ان کے درختوں کے پھل کھاؤ۔ [تفسیر قرطبی:224/2] ‏

صفحہ نمبر619

پھر اللہ تعالیٰ نے ضرورت اور حاجت کے وقت جبکہ کچھ اور کھانے کو نہ ملے ان حرام چیزوں کا کھا لینا مباح کیا ہے اور فرمایا جو شخص بے بس ہو جائے مگر باغی اور سرکش اور حد سے بڑھ جانے والا نہ ہو اس پر ان چیزوں کے کھانے میں گناہ نہیں اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا مہربان ہے باغ اور عاد کی تفسیر میں حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں، ڈاکو راہزن مسلمان بادشاہ پر چڑھائی کرنے والا سلطنت اسلام کا مخالف اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں سفر کرنے والا سبھی کے لیے اس اضطرار کے وقت بھی حرام چیزیں حرام ہی رہتی ہیں، غیر باغ کی تفسیر مقاتل بن حبان یہ بھی کرتے ہیں کہ وہ اسے حلال سمجھنے والا نہ ہو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:236/1] ‏ اور اس میں لذت اور مزہ کا خواہشمند نہ ہو، اسے بھون بھان کر لذیذ بنا کر اچھا پکا کر نہ کھائے بلکہ جیسا تیسا صرف جان بچانے کے لیے کھا لے اور اگر ساتھ لے تو اتنا کہ زندگی کے ساتھ حلال چیز کے ملنے تک باقی رہ جائے جب حلال چیز مل گئی اسے پھینک دے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اسے خوب پیٹ بھر کر نہ کھائے، حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو شخص اس کے کھانے کے لیے مجبور کر دیا جائے اور بے اختیار ہو جائے اس کا بھی یہی حکم ہے۔

صفحہ نمبر620

مسئلہ ٭٭

ایک شخص بھوک کے مارے بے بس ہو گیا ہے اسے ایک مردار جانور نظر پڑا اور کسی دوسرے کی حلال چیز بھی دکھائی دی جس میں نہ رشتہ کا ٹوٹنا ہے نہ ایذاء دہی ہے تو اسے اس دوسرے کی چیز کو کھا لینا چاہیئے مردار نہ کھائے، پھر آیا اس چیز کی قیمت یا وہی چیز اس کے ذمہ رہے گی یا نہیں اس میں دو قول ہیں ایک یہ کہ رہے گی دوسرے یہ کہ نہ رہے گی۔ نہ رہنے والے قول کی تائید میں یہ حدیث ہے جو ابن ماجہ میں ہے، عباد بن شرحبیل غبری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہمارے ہاں ایک سال قحط سالی پڑی میں مدینہ گیا اور ایک کھیت میں سے کچھ بالیں توڑ کر چھیل کر دانے چبانے لگا اور تھوڑی سی بالیں اپنی چادر میں باندھ کر چلا کھیت والے نے دیکھ لیا اور مجھے پکڑ کر مارا پیٹا اور میری چادر چھین لی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ عرض کیا تو آپ نے اس شخص کو کہا اس بھوکے کو نہ تو تو نے کھانا کھلایا نہ اس کے لیے کوئی اور کوشش کی نہ اسے کچھ سمجھایا سکھایا یہ بے چارہ بھوکا تھا نادان تھا جاؤ اس کا کپڑا واپس کرو اور ایک وسق یا آدھا وسق غلہ اسے دے دو، [سنن ابوداود:2620، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ [ ایک وسق چار من کے قریب ہوتا ہے ] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ درختوں میں لگے ہوئے پھلوں کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو حاجت مند شخص ان میں سے کچھ کھا لے، لے کر نہ جائے اس پر کچھ جرم نہیں۔ [سنن ابوداود:1710،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر621

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ اضطراب اور بے بسی کے وقت اتنا کھا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں جس سے بے بسی اور اضطرار ہٹ جائے، یہ بھی مروی ہے کہ تین لقموں سے زیادہ نہ کھائے غرض ایسے وقت میں اللہ کی مہربانی اور نوازش ہے یہ حرام اس کے لیے حلال ہے مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں اضطرار کے وقت بھی جو شخص حرام چیز نہ کھائے اور مر جائے وہ جہنمی ہے، [بیھقی:357/9:ضعیف] ‏ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے وقت ایسی چیز کھانی ضروری ہے نہ کہ صرف رخصت ہی ہو، یہی بات زیادہ صحیح ہے جیسے کہ بیمار کا روزہ چھوڑ دینا وغیرہ۔

صفحہ نمبر622

بدترین لوگ ٭٭

صفحہ نمبر624

علاوہ ازیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ عادت نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر آمادہ کر دیا اور ان کی وہ جماعت جس کے ہاتھ سے نکل جانے کے ڈر نے انہیں کلام اللہ چھپانے پر آمادہ کیا تھا بلآخر ہاتھ سے جاتی رہیں ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ایمان لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر ان حق کے چھپانے والوں کی جانیں لیں اور ان سے باقاعدہ جہاد کیا، قرآن کریم میں ان کی حقائق چھپانے والی حرکتوں کو جگہ جگہ بیان کیا گیا، اور فرمایا ہے کہ جو مال تم کماتے ہو اللہ کی باتوں کو چھپا کر یہ دراصل آگ کے انگارے ہیں، جنہیں تم پیٹ میں بھر رہے ہو۔

صفحہ نمبر625

قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو یتیموں کا مال ظلم سے ہڑپ کر لیں، ان کے لیے بھی یہی فرمایا ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا» [ 4-النساء: 10 ] ‏ وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [صحیح بخاری:5634] ‏ پھر فرمایا ان سے تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت بھی نہیں کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ المناک عذابوں میں مبتلا کرئے گا۔ اس لیے کہ ان کے اس کرتوت کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور اب ان پر سے نظر رحمت ہٹ گئی ہے اور یہ ستائش اور تعریف کے قابل نہیں رہے بلکہ سزا یاب ہوں گے اور وہاں تلملاتے رہیں گے۔ حدیث شریف میں ہے تین قسم کے لوگوں سے اللہ بات چیت نہ کرئے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں زانی بڈھا، جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔ [صحیح مسلم:107] ‏

فرمایا کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی انہیں چاہیئے تھا کہ توراۃ میں جو خبریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھیں انہیں ان پڑھوں تک پہنچاتے لیکن اس کے بدلے انہوں نے انہیں چھپا لیا اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، ان کے اظہار پر جو نعمتیں اور رحمتیں انہیں ملنے والی تھیں ان کے بدلے زحمتیں اور عذاب اپنے سر لے لیے۔

پھر فرماتا ہے انہیں وہ درد ناک اور حیرت انگیز عذاب ہوں گے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جائے اور یہ بھی معنی ہیں کہ انہیں آگ کے عذاب کی برداشت پر کس چیز نے آمادہ کیا جو یہ اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول ہو گئے۔

صفحہ نمبر626

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق اس لیے ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی باتوں کی ہنسی کھیل سمجھا اور جو کتاب اللہ حق کو ظاہر کرنے اور باطل کا نابود کرنے کے لیے اتری تھی انہوں نے اس کی مخالفت کی ظاہر کرنے کی باتیں چھپائیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو ظاہر نہ کیا فی الواقع اس کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑے۔

صفحہ نمبر627

بدترین لوگ ٭٭

صفحہ نمبر624

علاوہ ازیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ عادت نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر آمادہ کر دیا اور ان کی وہ جماعت جس کے ہاتھ سے نکل جانے کے ڈر نے انہیں کلام اللہ چھپانے پر آمادہ کیا تھا بلآخر ہاتھ سے جاتی رہیں ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ایمان لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر ان حق کے چھپانے والوں کی جانیں لیں اور ان سے باقاعدہ جہاد کیا، قرآن کریم میں ان کی حقائق چھپانے والی حرکتوں کو جگہ جگہ بیان کیا گیا، اور فرمایا ہے کہ جو مال تم کماتے ہو اللہ کی باتوں کو چھپا کر یہ دراصل آگ کے انگارے ہیں، جنہیں تم پیٹ میں بھر رہے ہو۔

صفحہ نمبر625

قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو یتیموں کا مال ظلم سے ہڑپ کر لیں، ان کے لیے بھی یہی فرمایا ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا» [ 4-النساء: 10 ] ‏ وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [صحیح بخاری:5634] ‏ پھر فرمایا ان سے تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت بھی نہیں کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ المناک عذابوں میں مبتلا کرئے گا۔ اس لیے کہ ان کے اس کرتوت کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور اب ان پر سے نظر رحمت ہٹ گئی ہے اور یہ ستائش اور تعریف کے قابل نہیں رہے بلکہ سزا یاب ہوں گے اور وہاں تلملاتے رہیں گے۔ حدیث شریف میں ہے تین قسم کے لوگوں سے اللہ بات چیت نہ کرئے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں زانی بڈھا، جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔ [صحیح مسلم:107] ‏

فرمایا کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی انہیں چاہیئے تھا کہ توراۃ میں جو خبریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھیں انہیں ان پڑھوں تک پہنچاتے لیکن اس کے بدلے انہوں نے انہیں چھپا لیا اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، ان کے اظہار پر جو نعمتیں اور رحمتیں انہیں ملنے والی تھیں ان کے بدلے زحمتیں اور عذاب اپنے سر لے لیے۔

پھر فرماتا ہے انہیں وہ درد ناک اور حیرت انگیز عذاب ہوں گے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جائے اور یہ بھی معنی ہیں کہ انہیں آگ کے عذاب کی برداشت پر کس چیز نے آمادہ کیا جو یہ اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول ہو گئے۔

صفحہ نمبر626

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق اس لیے ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی باتوں کی ہنسی کھیل سمجھا اور جو کتاب اللہ حق کو ظاہر کرنے اور باطل کا نابود کرنے کے لیے اتری تھی انہوں نے اس کی مخالفت کی ظاہر کرنے کی باتیں چھپائیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو ظاہر نہ کیا فی الواقع اس کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑے۔

صفحہ نمبر627

بدترین لوگ ٭٭

صفحہ نمبر624

علاوہ ازیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ عادت نے لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق پر آمادہ کر دیا اور ان کی وہ جماعت جس کے ہاتھ سے نکل جانے کے ڈر نے انہیں کلام اللہ چھپانے پر آمادہ کیا تھا بلآخر ہاتھ سے جاتی رہیں ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی ایمان لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر ان حق کے چھپانے والوں کی جانیں لیں اور ان سے باقاعدہ جہاد کیا، قرآن کریم میں ان کی حقائق چھپانے والی حرکتوں کو جگہ جگہ بیان کیا گیا، اور فرمایا ہے کہ جو مال تم کماتے ہو اللہ کی باتوں کو چھپا کر یہ دراصل آگ کے انگارے ہیں، جنہیں تم پیٹ میں بھر رہے ہو۔

صفحہ نمبر625

قرآن کریم نے ان لوگوں کے بارے میں بھی جو یتیموں کا مال ظلم سے ہڑپ کر لیں، ان کے لیے بھی یہی فرمایا ہے کہ «إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا» [ 4-النساء: 10 ] ‏ وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں اور قیامت کے دن بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جو شخص سونے چاندی کے برتن میں کھاتا پیتا ہے وہ بھی اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ [صحیح بخاری:5634] ‏ پھر فرمایا ان سے تعالیٰ قیامت کے دن بات چیت بھی نہیں کرے گا نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ المناک عذابوں میں مبتلا کرئے گا۔ اس لیے کہ ان کے اس کرتوت کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا ہے اور اب ان پر سے نظر رحمت ہٹ گئی ہے اور یہ ستائش اور تعریف کے قابل نہیں رہے بلکہ سزا یاب ہوں گے اور وہاں تلملاتے رہیں گے۔ حدیث شریف میں ہے تین قسم کے لوگوں سے اللہ بات چیت نہ کرئے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہیں زانی بڈھا، جھوٹا بادشاہ، متکبر فقیر۔ [صحیح مسلم:107] ‏

فرمایا کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی لے لی انہیں چاہیئے تھا کہ توراۃ میں جو خبریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تھیں انہیں ان پڑھوں تک پہنچاتے لیکن اس کے بدلے انہوں نے انہیں چھپا لیا اور خود بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، ان کے اظہار پر جو نعمتیں اور رحمتیں انہیں ملنے والی تھیں ان کے بدلے زحمتیں اور عذاب اپنے سر لے لیے۔

پھر فرماتا ہے انہیں وہ درد ناک اور حیرت انگیز عذاب ہوں گے کہ دیکھنے والا ششدر رہ جائے اور یہ بھی معنی ہیں کہ انہیں آگ کے عذاب کی برداشت پر کس چیز نے آمادہ کیا جو یہ اللہ کی نافرمانیوں میں مشغول ہو گئے۔

صفحہ نمبر626

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس عذاب کے مستحق اس لیے ہوئے کہ انہوں نے اللہ کی باتوں کی ہنسی کھیل سمجھا اور جو کتاب اللہ حق کو ظاہر کرنے اور باطل کا نابود کرنے کے لیے اتری تھی انہوں نے اس کی مخالفت کی ظاہر کرنے کی باتیں چھپائیں اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفتوں کو ظاہر نہ کیا فی الواقع اس کتاب کے بارے میں اختلاف کرنے والے دور کی گمراہی میں جا پڑے۔

صفحہ نمبر627

ایمان کا ایک پہلو ٭٭

اس پاک آیت میں صحیح عقیدے اور راہ مستقیم کی تعلیم ہو رہی ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا کہ ایمان کیا چیز ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، انہوں نے پھر سوال کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی پھر یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو نیکی سے محبت اور برائی سے عداوت ایمان ہے [تفسیر ابن ابی حاتم:287/1:ضعیف و منقطع] ‏ لیکن اس روایت کی سند منقطع ہے، مجاہد رحمہ اللہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں حالانکہ ان کی ملاقات ثابت نہیں ہوئی۔ ایک شخص نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرما دی اس نے کہا میں آپ رضی اللہ عنہ سے بھلائی کے بارے میں سوال نہیں کرتا میرا سوال ایمان کے بارے میں ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سن ایک شخص نے یہی سوال حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت فرما دی وہ بھی تمہاری طرح راضی نہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مومن جب نیک کام کرتا ہے تو اس کا جی خوش ہو جاتا ہے اور اسے ثواب کی امید ہوتی ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو اس کا دل غمیگین ہو جاتا ہے اور وہ عذاب سے ڈرنے لگتا ہے۔ [ ابن مردویہ ] ‏

صفحہ نمبر630

یہ روایت بھی منقطع ہے اب اس آیت کی تفسیر سنیے۔ مومنوں کو پہلے تو حکم ہوا کہ وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں پھر انہیں کعبہ کی طرف گھما دیا گیا جو اہل کتاب پر اور بعض ایمان والوں پر بھی شاق گزرا پس اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان فرمائی کہ اس کا اصل مقصد اطاعت فرمان اللہ ہے وہ جدھر منہ کرنے کو کہے کر لو، اہل تقویٰ اصل بھلائی اور کامل ایمان یہی ہے کہ مالک کے زیر فرمان رہو، اگر کوئی مشرق کیطرف منہ کرے یا مغرب کی طرف منہ پھیر لے اور اللہ کا حکم نہ ہو تو وہ اس توجہ سے ایماندار نہیں ہو جائے گا بلکہ حقیقت میں باایمان وہ ہے جس میں وہ اوصاف ہوں جو اس آیت میں بیان ہوئے۔

صفحہ نمبر631

قرآن کریم نے ایک اور جگہ فرمایا ہے آیت «لَنْ يَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلٰكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوٰي مِنْكُمْ» [ 22۔ الحج: 37 ] ‏ یعنی تمہاری قربانیوں کے گوشت اور لہو اللہ کو نہیں پہنچتے بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ تم نمازیں پڑھو اور دوسرے اعمال نہ کرو یہ کوئی بھلائی نہیں۔ یہ حکم اس وقت تھا جب مکہ سے مدینہ کی طرف لوٹے تھے لیکن پھر اس کے بعد اور فرائض اور احکام نازل ہوئے اور ان پر عمل کرنا ضروری قرار دیا گیا، مشرق و مغرب کو اس کے لیے خاص کیا گیا کہ یہود مغرب کی طرف اور نصاریٰ مشرق کی طرف منہ کیا کرتے تھے، پس غرض یہ ہے کہ یہ تو صرف لفظی ایمان ہے ایمان کی حقیقت تو عمل ہے، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بھلائی یہ ہے کہ اطاعت کا مادہ دل میں پیدا ہو جائے، فرائض پابندی کے ساتھ ادا ہوں، تمام بھلائیوں کا عامل ہو، حق تو یہ ہے کہ جس نے اس آیت پر عمل کر لیا اس نے کامل اسلام پا لیا اور دل کھول کر بھلائی سمیٹ لی، اس کا ذات باری تعالیٰ پر ایمان ہے یہ وہ جانتا ہے کہ معبود برحق وہی ہے فرشتوں کے وجود کو اور اس بات کو کہ وہ اللہ کا پیغام اللہ کے مخصوص بندوں پر لاتے ہیں یہ مانتا ہے، کل آسمانی کتابوں کو برحق جانتا ہے اور سب سے آخری کتاب قرآن کریم کو جو کہ تمام اگلی کتابوں کو سچا کہنے والی تمام بھلائیوں کی جامع اور دین و دنیا کی سعادت پر مشتمل ہے وہ مانتا ہے، اسی طرح اول سے آخر تک کے تمام انبیاء پر بھی اس کا ایمان ہے، بالخصوص خاتم الانبیاء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ مال کو باوجود مال کی محبت کے راہ اللہ میں خرچ کرتا ہے۔

صفحہ نمبر632

صحیح حدیث شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں افضل صدقہ یہ ہے کہ تو اپنی صحت اور مال کی محبت کی حالت میں اللہ کے نام دے باوجودیکہ مال کی کمی کا اندیشہ ہو اور زیادتی کی رغبت بھی ہو [صحیح بخاری:1419] ‏ مستدرک حاکم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰي حُبِّهٖ ذَوِي الْقُرْبٰى وَالْيَـتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّاىِٕلِيْنَ وَفِي الرِّقَابِ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰھَدُوْا» [ 2۔ البقرہ: 177 ] ‏ پڑھ کر فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے تم صحت میں اور مال کی چاہت کی حالت میں فقیری سے ڈرتے ہوئے اور امیری کی خواہش رکھتے ہوئے صدقہ کرو، [حاکم:272/2:موقوف] ‏ لیکن اس روایت کا موقوف ہونا زیادہ صحیح ہے، اصل میں یہ فرمان سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے، قرآن کریم میں سورۃ دھر [ الانسان ] ‏ میں فرمایا آیت «وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰي حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَـتِـيْمًا وَّاَسِيْرًا» [ 76۔ الانسان: 8 ] ‏ مسلمان باوجود کھانے کی چاہت کے مسکینوں یتیموں اور قیدیوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہیں اللہ کی خوشنودی کے لیے کھلاتے ہیں نہ تم سے اس کا بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ اور جگہ فرمایا آیت «لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ» [ 3۔ آل عمران: 92 ] ‏ جب تک تم اپنی چاہت کی چیزیں اللہ کے نام نہ دو تم حقیقی بھلائی نہیں پاسکتے۔ اور جگہ فرمایا آیت «وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ» [ 59۔ الحشر: 9 ] ‏ یعنی باوجود اپنی حاجت اور ضرورت کے بھی وہ دوسروں کو اپنے نفس پر مقدم کرتے ہیں پس یہ لوگ بڑے پایہ کے ہیں کیونکہ پہلی قسم کے لوگوں نے تو اپنی پسندیدہ چیز باوجود اس کی محبت کے دوسروں کو دی لیکن ان بزرگوں نے اپنی چاہت کی وہ چیز جس کے وہ خود محتاج تھے دوسروں کو دے دی اور اپنی حاجت مندی کا خیال بھی نہ کیا۔

صفحہ نمبر633

«ذَوِي الْقُرْبَىٰ» انہیں کہتے ہیں جو رشتہ دار ہوں صدقہ دیتے وقت یہ دوسروں سے زیادہ مقدم ہیں۔ حدیث میں ہے مسکین کو دینا اکہرا ثواب ہے اور قرابت دار مسکین کو دینا دوہرا ثواب ہے، ایک ثواب صدقہ کا دوسرا صلہ رحمی کا۔ تمہاری بخشش اور خیراتوں کے زیادہ مستحق یہ ہیں، قرآن کریم میں ان کے ساتھ سلوک کرنے کا حکم کئی جگہ ہے۔ [سنن ابوداود:2355، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یتیم سے مراد وہ چھوٹے بچے ہیں جن کے والد مر گئے ہوں اور ان کا کمانے والا کوئی نہ ہو نہ خود انہیں اپنی روزی حاصل کرنے کی قوت و طاقت ہو، حدیث شریف میں ہے بلوغت کے بعد یتیمی نہیں رہتی۔ [سنن ابوداود:2873، قال الشيخ الألباني:سندہ ضعیف ولہ شواھد] ‏

صفحہ نمبر634

مساکین وہ ہیں جن کے پاس اتنا ہو جو ان کے کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کا کافی ہو سکے، ان کے ساتھ بھی سلوک کیا جائے جس سے ان کی حاجت پوری ہو اور فقر و فاقہ اور قلت وذلت کی حالت سے بچ سکیں، بخاری و مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مسکین صرف وہی لوگ نہیں جو مانگتے پھرتے ہوں اور ایک ایک دو دو کھجوریں یا ایک ایک دو دو لقمے روٹی کے لے جاتے ہوں بلکہ مسکین وہ بھی ہیں جن کے پاس اتنا نہ ہو کہ ان کے سب کام نکل جائیں نہ وہ اپنی حالت ایسی بنائیں جس سے لوگوں کو علم ہو جائے اور انہیں کوئی کچھ دیدے۔ [صحیح بخاری:1476] ‏

صفحہ نمبر635

ا «ابْنَ السَّبِيلِ» مسافر کو کہتے ہیں، اسی طرح وہ شخص بھی جو اطاعت اللہ میں سفر کر رہا ہو اسے جانے آنے کا خرچ دینا، مہمان بھی اسی حکم میں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مہمان کو بھی ابن السبیل میں داخل کرتے ہیں اور دوسرے بزرگ سلف بھی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:259/1] ‏ سائلین وہ لوگ ہیں جو اپنی حاجت ظاہر کر کے لوگوں سے کچھ مانگیں، انہیں بھی صدقہ زکوٰۃ دینا چاہیئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سائل کا حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار آئے [سنن ابوداود:1665، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ آیت «وَفِي الرِّقَابِ» [ البقرہ: 177 ] ‏ سے مراد غلاموں کو آزادی دلانا ہے خواہ یہ وہ غلام ہوں جنہوں نے اپنے مالکوں کو مقررہ قیمت کی ادائیگی کا لکھ دیا ہو کہ اتنی رقم ہم تمہیں ادا کر دیں گے تو ہم آزاد ہیں لیکن اب ان بیچاروں سے ادا نہیں ہو سکی تو ان کی امداد کر کے انہیں آزاد کرانا، ان تمام قسموں کی اور دوسرے اسی قسم کے لوگوں کی پوری تفسیر سورۃ برات میں آیت «إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ» [ 9-سورۃ التوبہ: 60 ] ‏ کی تفسیر میں بیان ہو گی ان شاءاللہ تعالیٰ،

سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مال میں زکوٰۃ کے سوا کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کا حق ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی، اس حدیث کا ایک راوی ابوحمزہ میمون اعور ضعیف ہے۔

صفحہ نمبر636

پھر فرمایا نماز کو وقت پر پورے رکوع سجدے اطمینان اور آرام خشوع اور خضوع کے ساتھ ادا کرے جس طرح ادائیگی کا شریعت کا حکم ہے اور زکوٰۃ کو بھی ادا کرے یا یہ معنی کہ اپنے نفس کو بے معنی باتوں اور رذیل اخلاقوں سے پاک کرے جیسے فرمایا آیت «قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا» [ 91۔ الشمس: 9 ] ‏ یعنی اپنے نفس کو پاک کرنے والا فلاح پا گیا اور اسے گندگی میں لتھیڑنے [ لت پت کرنے والا ] ‏ تباہ ہو گیا موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے ہی فرمایا تھا کہ آیت «فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰ أَن تَزَكَّىٰ وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ» [ 79-النازعات: 18، 19 ] ‏ اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے آیت «وَوَيْلٌ لِّـلْمُشْرِكِيْنَ ۝ الَّذِيْنَ لَا يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ» [ 41۔ فصلت: 7، 6 ] ‏ یعنی ان مشرکوں کو ویل ہے جو زکوٰۃ ادا نہیں کرتے یا یہ کہ جو اپنے آپ کو شرک سے پاک نہیں کرتے، پس یہاں مندرجہ بالا آیت زکوٰۃ سے مراد زکوٰۃ نفس یعنی اپنے آپ کو گندگیوں اور شرک و کفر سے پاک کرنا ہے، اور ممکن ہے مال کی زکوٰۃ مراد ہو تو اور احکام نفلی صدقہ سے متعلق سمجھے جائیں گے جیسے اوپر حدیث بیان ہوئی کہ مال میں زکوٰۃ کے سوا اور حق بھی ہیں۔ پھر فرمایا وعدے پورے کرنے والے جیسے اور جگہ ہے آیت «يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ» [ 13۔ الرعد: 20 ] ‏ یہ لوگ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وعدے نہیں توڑتے، [سنن ترمذي:659، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ وعدے توڑنا نفاق کی خصلت ہے، جیسے حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں، بات کرتے ہوئے جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔ [صحیح بخاری:33] ‏

صفحہ نمبر637

ایک اور حدیث میں ہے جھگڑے کے وقت گالیاں بکنا۔ [صحیح بخاری:34] ‏ پھرفرمایا فقر و فاقہ میں مال کی کمی کے وقت بدن کی بیماری کے وقت لڑائی کے موقعہ پر دشمنان دین کے سامنے میدان جنگ میں جہاد کے وقت صبر و ثابت قدم رہنے والے اور فولادی چٹان کی طرح جم جانے والے۔ صابرین کا نصب بطور مدح کے ہے ان سختیوں اور مصیبتوں کے وقت صبر کی تعلیم اور تلقین ہو رہی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے ہمارا بھروسہ اسی پر ہے۔ پھر فرمایا ان اوصاف والے لوگ ہی سچے ایمان والے ہیں ان کا ظاہر باطن قول فعل یکساں ہے اور متقی بھی یہی لوگ ہیں کیونکہ اطاعت گزار ہیں اور نافرمانیوں سے دور ہیں۔

صفحہ نمبر638

قصاص کی وضاحت ٭٭

یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے کہ اگلے لوگ حد سے بڑھ گئے اور اللہ کا حکم بدل دیا، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بنو قریظہ اور بنونضیر کی جنگ ہوئی تھی جس میں بنونضیر غالب آئے تھے اب یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب نضیری کسی قرظی کو قتل کرے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک سو وسق کھجور دیت میں لی جاتی تھی اور جب کوئی قرظی نضیری کو مار ڈالے تو قصاص میں اسے قتل کر دیا جاتا تھا اور اگر دیت لی جائے تو دوگنی دیت یعنی دو سو وسق کھجور لی جاتی تھی۔

صفحہ نمبر639

پس اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی اس رسم کو مٹایا اور عدل ومساوات کا حکم دیا، ابوحاتم کی روایت میں شان نزول یوں بیان ہوا ہے کہ عرب کے دو قبیلوں میں جدال و قتال ہوا تھا اسلام کے بعد اس کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور کہا کہ ہمارے غلام کے بدلے ان کا آزاد قتل ہو اور عورت کے بدلے مرد قتل ہو تو ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہے قرآن فرماتا ہے آیت «أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ» الخ، [5-المائدة:45] ‏ پس ہر قاتل مقتول کے بدلے مار ڈالا جائے گا خواہ آزاد نے کسی غلام کو قتل کیا ہو خواہ اس کے برعکس ہو خواہ مرد نے عورت کو قتل کیا ہو خواہ اس کے برعکس ہو،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کرتے تھے جس پر «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [ 5۔ المائدہ: 45 ] ‏ نازل ہوئی پس آزاد لوگ سب برابر ہیں جسن کے بدلے جان لی جائے گی خواہ قاتل مرد ہو خواہ عورت ہو اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو جب کہ ایک آزاد انسان نے ایک آزاد انسان کو مار ڈالا ہے تو اسے بھی مار ڈالا جائے گا اسی طرح یہی حکم غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جاری ہو گا اور جو کوئی جان لینے کے قصد سے دوسرے کو قتل کرے گا وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا اور یہی حکم قتل کے علاوہ اور زخموں کا اور دوسرے اعضاء کی بربادی کا بھی ہے، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ بھی اس آیت کو آیت [ النفس بالنفس ] ‏ سے منسوخ بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر640

مسئلہ ٭٭

امام ابوحنیفہ امام ثوری امام ابن ابی لیلیٰ اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے کہ آزاد نے اگر غلام کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہ بھی قتل کیا جائے گا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ قتادہ رحمہ اللہ اور حکم رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، امام بخاری، علی بن مدینی، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ علیہم اور ایک اور روایت کی رو سے ثوری رحمہ اللہ کا بھی مذہب یہی ہے کہ اگر کوئی آقا اپنے غلام کو مار ڈالے تو اس کے بدلے اس کی جان لی جائے گی دلیل میں یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے ہم اسے قتل کریں گے اور جو شخص اپنے غلام کو ناک کاٹ کرے ہم بھی اس کی ناک کاٹ دیں گے اور جو اسے خصی کرے اس سے بھی یہی بدلہ لیا جائے۔ [سنن ابوداود:4515، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

لیکن جمہور کا مذہب ان بزرگوں کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ غلام مال ہے اگر وہ خطا سے قتل ہو جائے تو دیت یعنی جرمانہ نہیں دینا پڑتا صرف اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کے نقصان پر بھی بدلے کا حکم نہیں۔ آیا مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء امت کا مذہب تو یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے گا اور دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حدیث «لا یقتل مسلم بکافر» مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحیح بخاری:111] ‏

اس حدیث کے خلاف نہ تو کوئی صحیح حدیث ہے کہ کوئی ایسی تاویل ہو سکتی ہے جو اس کے خلاف ہو، لیکن تاہم صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل کر دیا جائے۔

صفحہ نمبر641

مسئلہ ٭٭

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور عطا رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مرد عورت کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور دلیل میں مندرجہ بالا آیت کو پیش کرتے ہیں لیکن جمہور علماء اسلام اس کے خلاف ہیں کیونکہ سورۃ المائدہ کی آیت عام ہے جس میں آیت «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [ 5-المائدة: 45 ] ‏ موجود ہے علاوہ ازیں حدیث شریف میں بھی ہے حدیث «المسلون تتکافا دماء ھم» [سنن ابوداود:2751، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یعنی مسلمانوں کے خون آپس میں یکساں ہیں، لیث رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ خاوند اگر اپنی بیوی کو مار ڈالے تو خاصتہ اس کے بدلے اس کی جان نہیں لی جائے۔

صفحہ نمبر642

مسئلہ ٭٭

چاروں اماموں اور جمہور امت کا مذہب ہے کہ کئی ایک نے مل کر ایک مسلمان کو قتل کیا ہے تو وہ سارے اس ایک کے بدلے قتل کر دئیے جائیں گے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک شخص کو سات شخص مل کر مار ڈالتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ ان ساتوں کو قتل کراتے ہیں اور فرماتے ہیں اگر صفا کے تمام لوگ بھی اس قتل میں شریک ہوتے تو میں قصاص میں سب کو قتل کرا دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے خلاف آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے اعتراض نہیں کیا پس اس بات پر گویا اجماع ہو گیا۔

لیکن امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک کے بدلے ایک ہی قتل کیا جائے زیادہ قتل نہ کیے جائیں۔ سیدنا معاذ ابن زبیر رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان زہری ابن سیرین حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے، ابن المندر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی زیادہ صحیح ہے اور ایک جماعت کو ایک مقتول کے بدلے قتل کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس مسئلہ کو نہیں مانتے تھے پس جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہوا تو اب مسئلہ غور طلب ہو گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ کسی قاتل کو مقتول کا کوئی وارث کچھ حصہ معاف کر دے یعنی قتل کے بدلے وہ دیت قبول کر لے یا دیت بھی اپنے حصہ کی چھوڑ دے اور صاف معاف کر دے، اگر وہ دیت پر راضی ہو گیا ہے تو قاتل کو مشکل نہ ڈالے بلکہ اچھائی سے دیت وصول کرے اور قاتل کو بھی چاہیئے کہ بھلائی کے ساتھ اسے دیت ادا کر دے، حیل وحجت نہ کرے۔

صفحہ نمبر643

مسئلہ ٭٭

امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں کا اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا ایک روایت کی رو سے یہ مذہب ہے کہ مقتول کے اولیاء کا قصاص چھوڑ کر دیت پر راضی ہونا اس وقت جائز ہے جب خود قاتل بھی اس پر آمادہ ہوا لیکن اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اس میں قاتل کی رضا مندی شرط نہیں

صفحہ نمبر644

مسئلہ ٭٭

سلف کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورتیں قصاص سے درگزر کر کے دیت پر اگر رضامند ہوں تو ان کا اعتبار نہیں۔ حسن، قتادہ، زہرہ، ابن شبرمہ، لیث اور اوزاعی رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے لیکن باقی علماء دین ان کے مخالف ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے بھی دیت پر رضا مندی ظاہر کی تو قصاص جاتا رہے گا پھر فرماتے ہیں کہ قتل عمد میں دیت لینا یہ اللہ کی طرف سے تخفیف اور مہربانی ہے اگلی امتوں کو یہ اختیار نہ تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بنی اسرائیل پر قصاص فرض تھا انہیں قصاص سے درگزر کرنے اور دیت لینے کی اجازت نہ تھی لیکن اس مات پر یہ مہربانی ہوئی کہ دیت لینی بھی جائز کی گئی تو یہاں تین چیزیں ہوئیں قصاص دیت اور معانی اگلی امتوں میں صرف قصاص اور معافی ہی تھی دیت نہ تھی، بعض لوگ کہتے ہیں اہل تورات کے ہاں صرف قصاص اور معافی تھی اور اہل انجیل کے ہاں صرف معافی ہی تھی۔ پھر فرمایا جو شخص دیت یعنی جرمانہ لینے کے بعد یا دیت قبول کر لینے کے بعد بھی زیادتی پر تل جائے اس کے لیے سخت درد ناک عذاب ہے۔ مثلاً دیت لینے کے بعد پر قتل کے درپے ہو وغیرہ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس شخص کا کوئی مقتول یا مجروح ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص یعنی بدلہ لے لے یا درگزر کرے۔ معاف کر دے یا دیت یعنی جرمانہ لے لے اور اگر کچھ اور کرنا چاہے تو اسے روک دو ان میں سے ایک کر چکنے کے بعد بھی جو زیادتی کرے وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جائے گا [سنن ابوداود:4496، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دیت وصول کر لی پھر قاتل کو قتل کیا تو اب میں اس سے دیت بھی نہ لوں گا بلکہ اسے قتل کروں گا۔ [سنن ابوداود:4507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے عقلمندو قصاص میں نسل انسان کی بقاء ہے اس میں حکمت عظیمہ ہے گو بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بدلے ایک قتل ہوا تو دو مرے لیکن دراصل اگر سوچو تو پتہ چلے گا کہ یہ سبب زندگی ہے، قاتل کو خود خیال ہو گا کہ میں اسے قتل نہ کروں ورنہ خود بھی قتل کر دیا جاؤں گا تو وہ اس فعل بد سے رک جائے گا تو دو آدمی قتل و خون سے بچ گئے۔

اگلی کتابوں میں بھی یہ بات تو بیان فرمائی تھی کہ آیت «القتل انفی للقتل» قتل قتل کو روک دیتا ہے لیکن قرآن پاک میں بہت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا یہ تمہارے بچاؤ کا سبب ہے کہ ایک تو اللہ کی نافرمانی سے محفوظ رہو گے دوسرے نہ کوئی کسی کو قتل کرے گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے گا زمین پر امن و امان سکون و سلام رہے گا، تقویٰ نیکیوں کے کرنے اور کل برائیوں کے چھوڑنے کا نام ہے۔

صفحہ نمبر645

قصاص کی وضاحت ٭٭

یعنی اے مسلمانوں قصاص کے وقت عدل سے کام لیا کرو آزاد کے بدلے آزاد غلام کے بدلے غلام عورت کے بدلے عورت اس بارے میں حد سے نہ بڑھو جیسے کہ اگلے لوگ حد سے بڑھ گئے اور اللہ کا حکم بدل دیا، اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں بنو قریظہ اور بنونضیر کی جنگ ہوئی تھی جس میں بنونضیر غالب آئے تھے اب یہ دستور ہو گیا تھا کہ جب نضیری کسی قرظی کو قتل کرے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جاتا تھا بلکہ ایک سو وسق کھجور دیت میں لی جاتی تھی اور جب کوئی قرظی نضیری کو مار ڈالے تو قصاص میں اسے قتل کر دیا جاتا تھا اور اگر دیت لی جائے تو دوگنی دیت یعنی دو سو وسق کھجور لی جاتی تھی۔

صفحہ نمبر639

پس اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کی اس رسم کو مٹایا اور عدل ومساوات کا حکم دیا، ابوحاتم کی روایت میں شان نزول یوں بیان ہوا ہے کہ عرب کے دو قبیلوں میں جدال و قتال ہوا تھا اسلام کے بعد اس کا بدلہ لینے کی ٹھانی اور کہا کہ ہمارے غلام کے بدلے ان کا آزاد قتل ہو اور عورت کے بدلے مرد قتل ہو تو ان کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہے قرآن فرماتا ہے آیت «أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ» الخ، [5-المائدة:45] ‏ پس ہر قاتل مقتول کے بدلے مار ڈالا جائے گا خواہ آزاد نے کسی غلام کو قتل کیا ہو خواہ اس کے برعکس ہو خواہ مرد نے عورت کو قتل کیا ہو خواہ اس کے برعکس ہو،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ لوگ مرد کو عورت کے بدلے قتل نہیں کرتے تھے جس پر «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [ 5۔ المائدہ: 45 ] ‏ نازل ہوئی پس آزاد لوگ سب برابر ہیں جسن کے بدلے جان لی جائے گی خواہ قاتل مرد ہو خواہ عورت ہو اسی طرح مقتول خواہ مرد ہو خواہ عورت ہو جب کہ ایک آزاد انسان نے ایک آزاد انسان کو مار ڈالا ہے تو اسے بھی مار ڈالا جائے گا اسی طرح یہی حکم غلاموں اور لونڈیوں میں بھی جاری ہو گا اور جو کوئی جان لینے کے قصد سے دوسرے کو قتل کرے گا وہ قصاص میں قتل کیا جائے گا اور یہی حکم قتل کے علاوہ اور زخموں کا اور دوسرے اعضاء کی بربادی کا بھی ہے، امام مالک رحمتہ اللہ علیہ بھی اس آیت کو آیت [ النفس بالنفس ] ‏ سے منسوخ بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر640

مسئلہ ٭٭

امام ابوحنیفہ امام ثوری امام ابن ابی لیلیٰ اور داؤد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے کہ آزاد نے اگر غلام کو قتل کیا ہے تو اس کے بدلے وہ بھی قتل کیا جائے گا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ قتادہ رحمہ اللہ اور حکم رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے، امام بخاری، علی بن مدینی، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ علیہم اور ایک اور روایت کی رو سے ثوری رحمہ اللہ کا بھی مذہب یہی ہے کہ اگر کوئی آقا اپنے غلام کو مار ڈالے تو اس کے بدلے اس کی جان لی جائے گی دلیل میں یہ حدیث بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص اپنے غلام کو قتل کرے ہم اسے قتل کریں گے اور جو شخص اپنے غلام کو ناک کاٹ کرے ہم بھی اس کی ناک کاٹ دیں گے اور جو اسے خصی کرے اس سے بھی یہی بدلہ لیا جائے۔ [سنن ابوداود:4515، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

لیکن جمہور کا مذہب ان بزرگوں کے خلاف ہے وہ کہتے ہیں آزاد غلام کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ غلام مال ہے اگر وہ خطا سے قتل ہو جائے تو دیت یعنی جرمانہ نہیں دینا پڑتا صرف اس کے مالک کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے اور اسی طرح اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ کے نقصان پر بھی بدلے کا حکم نہیں۔ آیا مسلمان کافر کے بدلے قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ اس بارے میں جمہور علماء امت کا مذہب تو یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے گا اور دلیل صحیح بخاری شریف کی یہ حدیث ہے کہ حدیث «لا یقتل مسلم بکافر» مسلمان کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ [صحیح بخاری:111] ‏

اس حدیث کے خلاف نہ تو کوئی صحیح حدیث ہے کہ کوئی ایسی تاویل ہو سکتی ہے جو اس کے خلاف ہو، لیکن تاہم صرف امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ مسلمان کافر کے بدلے قتل کر دیا جائے۔

صفحہ نمبر641

مسئلہ ٭٭

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور عطا رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مرد عورت کے بدلے قتل نہ کیا جائے اور دلیل میں مندرجہ بالا آیت کو پیش کرتے ہیں لیکن جمہور علماء اسلام اس کے خلاف ہیں کیونکہ سورۃ المائدہ کی آیت عام ہے جس میں آیت «اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَالْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوْحَ قِصَاصٌ» [ 5-المائدة: 45 ] ‏ موجود ہے علاوہ ازیں حدیث شریف میں بھی ہے حدیث «المسلون تتکافا دماء ھم» [سنن ابوداود:2751، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یعنی مسلمانوں کے خون آپس میں یکساں ہیں، لیث رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ خاوند اگر اپنی بیوی کو مار ڈالے تو خاصتہ اس کے بدلے اس کی جان نہیں لی جائے۔

صفحہ نمبر642

مسئلہ ٭٭

چاروں اماموں اور جمہور امت کا مذہب ہے کہ کئی ایک نے مل کر ایک مسلمان کو قتل کیا ہے تو وہ سارے اس ایک کے بدلے قتل کر دئیے جائیں گے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک شخص کو سات شخص مل کر مار ڈالتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ ان ساتوں کو قتل کراتے ہیں اور فرماتے ہیں اگر صفا کے تمام لوگ بھی اس قتل میں شریک ہوتے تو میں قصاص میں سب کو قتل کرا دیتا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اس فرمان کے خلاف آپ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے اعتراض نہیں کیا پس اس بات پر گویا اجماع ہو گیا۔

لیکن امام احمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ایک کے بدلے ایک ہی قتل کیا جائے زیادہ قتل نہ کیے جائیں۔ سیدنا معاذ ابن زبیر رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان زہری ابن سیرین حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے بھی یہ قول مروی ہے، ابن المندر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی زیادہ صحیح ہے اور ایک جماعت کو ایک مقتول کے بدلے قتل کرنے کی کوئی دلیل نہیں اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے یہ ثابت ہے کہ وہ اس مسئلہ کو نہیں مانتے تھے پس جب صحابہ رضی اللہ عنہم میں اختلاف ہوا تو اب مسئلہ غور طلب ہو گیا۔ پھر فرماتا ہے کہ یہ اور بات ہے کہ کسی قاتل کو مقتول کا کوئی وارث کچھ حصہ معاف کر دے یعنی قتل کے بدلے وہ دیت قبول کر لے یا دیت بھی اپنے حصہ کی چھوڑ دے اور صاف معاف کر دے، اگر وہ دیت پر راضی ہو گیا ہے تو قاتل کو مشکل نہ ڈالے بلکہ اچھائی سے دیت وصول کرے اور قاتل کو بھی چاہیئے کہ بھلائی کے ساتھ اسے دیت ادا کر دے، حیل وحجت نہ کرے۔

صفحہ نمبر643

مسئلہ ٭٭

امام مالک رحمہ اللہ کا مشہور مذہب اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور آپ کے شاگردوں کا اور امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا ایک روایت کی رو سے یہ مذہب ہے کہ مقتول کے اولیاء کا قصاص چھوڑ کر دیت پر راضی ہونا اس وقت جائز ہے جب خود قاتل بھی اس پر آمادہ ہوا لیکن اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ اس میں قاتل کی رضا مندی شرط نہیں

صفحہ نمبر644

مسئلہ ٭٭

سلف کی ایک جماعت کہتی ہے کہ عورتیں قصاص سے درگزر کر کے دیت پر اگر رضامند ہوں تو ان کا اعتبار نہیں۔ حسن، قتادہ، زہرہ، ابن شبرمہ، لیث اور اوزاعی رحمہ اللہ علیہم کا یہی مذہب ہے لیکن باقی علماء دین ان کے مخالف ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی عورت نے بھی دیت پر رضا مندی ظاہر کی تو قصاص جاتا رہے گا پھر فرماتے ہیں کہ قتل عمد میں دیت لینا یہ اللہ کی طرف سے تخفیف اور مہربانی ہے اگلی امتوں کو یہ اختیار نہ تھا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بنی اسرائیل پر قصاص فرض تھا انہیں قصاص سے درگزر کرنے اور دیت لینے کی اجازت نہ تھی لیکن اس مات پر یہ مہربانی ہوئی کہ دیت لینی بھی جائز کی گئی تو یہاں تین چیزیں ہوئیں قصاص دیت اور معانی اگلی امتوں میں صرف قصاص اور معافی ہی تھی دیت نہ تھی، بعض لوگ کہتے ہیں اہل تورات کے ہاں صرف قصاص اور معافی تھی اور اہل انجیل کے ہاں صرف معافی ہی تھی۔ پھر فرمایا جو شخص دیت یعنی جرمانہ لینے کے بعد یا دیت قبول کر لینے کے بعد بھی زیادتی پر تل جائے اس کے لیے سخت درد ناک عذاب ہے۔ مثلاً دیت لینے کے بعد پر قتل کے درپے ہو وغیرہ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس شخص کا کوئی مقتول یا مجروح ہو تو اسے تین باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے یا قصاص یعنی بدلہ لے لے یا درگزر کرے۔ معاف کر دے یا دیت یعنی جرمانہ لے لے اور اگر کچھ اور کرنا چاہے تو اسے روک دو ان میں سے ایک کر چکنے کے بعد بھی جو زیادتی کرے وہ ہمیشہ کے لیے جہنمی ہو جائے گا [سنن ابوداود:4496، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے دیت وصول کر لی پھر قاتل کو قتل کیا تو اب میں اس سے دیت بھی نہ لوں گا بلکہ اسے قتل کروں گا۔ [سنن ابوداود:4507، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اے عقلمندو قصاص میں نسل انسان کی بقاء ہے اس میں حکمت عظیمہ ہے گو بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک کے بدلے ایک قتل ہوا تو دو مرے لیکن دراصل اگر سوچو تو پتہ چلے گا کہ یہ سبب زندگی ہے، قاتل کو خود خیال ہو گا کہ میں اسے قتل نہ کروں ورنہ خود بھی قتل کر دیا جاؤں گا تو وہ اس فعل بد سے رک جائے گا تو دو آدمی قتل و خون سے بچ گئے۔

اگلی کتابوں میں بھی یہ بات تو بیان فرمائی تھی کہ آیت «القتل انفی للقتل» قتل قتل کو روک دیتا ہے لیکن قرآن پاک میں بہت ہی فصاحت و بلاغت کے ساتھ اس مضمون کو بیان کیا گیا۔ پھر فرمایا یہ تمہارے بچاؤ کا سبب ہے کہ ایک تو اللہ کی نافرمانی سے محفوظ رہو گے دوسرے نہ کوئی کسی کو قتل کرے گا نہ کہ وہ قتل کیا جائے گا زمین پر امن و امان سکون و سلام رہے گا، تقویٰ نیکیوں کے کرنے اور کل برائیوں کے چھوڑنے کا نام ہے۔

صفحہ نمبر645

وصیت کی وضاحت ٭٭

اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے احکام نے اس وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، ہر وارث اپنا مقررہ حصہ بy وصیت لے لے گا، سنن وغیرہ میں عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، [سنن ترمذي:2121، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ البقرہ کی تلاوت کرتے ہیں جب آپ رضی اللہ عنہ اس آیت پر پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے [ حاکم:273/2] ‏ ] ‏ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ پہلے ماں باپ کے ساتھ اور کوئی رشتہ دار وارث نہ تھا اوروں کے لیے صرف وصیت ہوتی تھی پھر میراث کی آیتیں نازل ہوئیں اور ایک تہائی مال میں وصیت کا اختیار باقی رہا۔ اس آیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی آیت «لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۠ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا» [ 4۔ النسآء: 7 ] ‏ ہے۔

صفحہ نمبر647

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ، حسن، مجاہد، عطاء، سعید بن جبیر، محمد بن سیرین، [تفسیر ابن ابی حاتم:302/1] ‏ عکرمہ، [تفسیر ابن جریر الطبری:391/3] ‏ زید بن اسلم، ربیع بن انس، قتادہ، سدی، مقاتل بن حیان، طاؤس، ابراہیم نخعی، شریح، ضحاک اور زہری رحمہم اللہ یہ سب حضرات بھی اس آیت کو منسوخ بتاتے ہیں، لیکن باوجود اس کے تعجب ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر کبیر میں ابو مسلم اصفہانی سے یہ کیسے نقل کر دیا کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ آیت میراث اس کی تفسیر ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ تم پر وہ وصیت فرض کی گئی جس کا بیان آیت «يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ» [ 4۔ النسآء: 11 ] ‏ میں ہے اور یہی قول اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کا ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ وصیت کا حکم وارثوں کے حق میں منسوخ ہے اور جن کا ورثہ مقرر نہیں ان کے حق میں ثابت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن، مسروق، طاؤس، ضحاک، مسلم بن یسار اور علاء بن زیاد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے، میں کہتا ہوں سعید بن جبیر، ربیع بن انس، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں لیکن ان حضرات کے اس قول کی بنا پر پہلے فقہاء کی اصطلاح میں یہ آیت منسوخ نہیں ٹھہرتی اس لیے کہ میراث کی آیت سے وہ لوگ تو اس حکم سے مخصوص ہو گئے جن کا حصہ شریعت نے خود مقرر کر دیا اور جو اس سے پہلے اس آیت کے حکم کی رو سے وصیت میں داخل تھے کیونکہ قرابت دار عام ہیں خواہ ان کا ورثہ مقرر ہو یا نہ ہو تو اب وصیت ان کے لیے ہوئی جو وارث نہیں اور ان کے حق میں نہ رہی جو وارث ہیں، یہ قول اور بعض دیگر حضرات کا یہ قول کہ وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا اور وہ بھی غیر ضروری، دونوں کا مطلب قریباً ایک ہو گیا، لیکن جو لوگ وصیت کے اس حکم کو واجب کہتے ہیں اور روانی عبارت اور سیاق و سباق سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک تو یہ آیت منسوخ ہی ٹھہرے گی جیسے کہ اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کرام کا قول ہے۔

صفحہ نمبر648

پس والدین اور وراثت پانے والے قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا بالاجماع منسوخ ہے بلکہ ممنوع ہے حدیث شریف میں آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، آیت میراث کا حکم مستقل ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ واجب و فرض ہے ذوی الفروض اور عصبات کا حصہ مقرر ہے اور اس سے اس آیت کا حکم کلیتًہ اٹھ گیا، باقی رہے وہ قرابت دار جن کا کوئی ورثہ مقرر نہیں ان کے لیے تہائی مال میں وصیت کرانا مستحب ہے کچھ تو اس کا حکم اس آیت سے بھی نکلتا ہے دوسرے یہ کہ حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مرد مسلمان کو لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ وصیت کرنی چاہتا ہو تو دو راتیں بھی بغیر وصیت لکھے ہوئے گزارے راوی حدیث سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے سننے کے بعد میں نے تو ایک رات بھی بلا وصیت نہیں گزاری، [صحیح بخاری:2738] ‏

قرابت داروں اور رشتہ داروں سے سلوک و احسان کرنے کے بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں آئی ہیں، ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو جو مال میری راہ میں خرچ کرے گا میں اس کی وجہ سے تجھے پاک صاف کروں گا اور تیرے انتقال کے بعد بھی میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا سبب بناؤں گا ۔ [دار قطنی 148/4:ضعیف] ‏

خیرا سے مراد یہاں مال ہے اکثر جلیل القدر مفسرین کی یہی تفسیر ہے بعض مفسرین کا تو قول ہے کہ مال خواہ تھوڑا ہو خواہ بہت وصیت مشروع ہے جیسے میراث تھوڑے مال میں بھی ہے اور زیادہ میں بھی، بعض کہتے ہیں وصیت کا حکم اس وقت ہے جب زیادہ مال ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قریشی مر گیا ہے اور تین چار سو دینار اس کے ورثہ میں تھے اور اس نے وصیت کچھ نہیں کی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رقم وصیت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے آیت «إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ» [ البقرہ: 180 ] ‏ میں فرمایا ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک بیمار کی بیمار پرسی کو گئے اس سے کسی نے کہا وصیت کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وصیت خیر میں ہوتی ہے اور تو تو کم مال چھوڑ رہا ہے اسے اولاد کے لیے ہی چھوڑ جا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساٹھ دینار جس نے نہیں چھوڑے اس نے خیر نہیں چھوڑی یعنی اس کے ذمہ وصیت کرنا نہیں، طاؤس رحمہ اللہ، اسی دینار بتاتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ ایک ہزار بتاتے ہیں۔

معروف سے مراد نرمی اور احسان ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں وصیت کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اس میں بھلائی کرے برائی نہ کرے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے اسراف اور فضول خرچی نہ کرے۔

صفحہ نمبر649

بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک لڑکی ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کہا آدھے کی اجازت دیجئیے فرمایا نہیں کہا ایک تہائی کی اجازت دیجئیے فرمایا خیر تہائی مال کی وصیت کرو گو یہ بھی بہت ہے تم اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں فقیر اور تنگ دست چھوڑ کر جاؤ کہ وہ اوروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، [صحیح بخاری:6733] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کاش کہ لوگ تہائی سے ہٹ کر چوتھائی پر آ جائیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کی رخصت دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ تہائی بہت ہے۔ [صحیح بخاری:2742] ‏

صفحہ نمبر650

مسند احمد میں ہے حنظلہ بن جذیم بن حنفیہ کے دادا حنفیہ نے ایک یتیم بچے کے لیے جو ان کے ہاں پلتے تھے سو اونٹوں کی وصیت کی ان کی اولاد پر یہ بہت گراں گزرا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں نہیں صدقہ میں پانچ دو ورنہ دس دو ورنہ پندرہ ورنہ بیس ورنہ پچیس دو ورنہ تیس دو ورنہ پینتیس دو اگر اس پر بھی نہ مانوں تو خیر زیادہ سے زیادہ چالیس دو۔ [مسند احمد:67/5:حسن] ‏ پھر فرمایا جو شخص وصیت کو بدل دے اس میں کمی بیشی کر دے یا وصیت کو چھپالے اس کا گناہ بدلنے والے کے ذمہ ہے میت کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اللہ تعالیٰ وصیت کرنے والے کی وصیت کی اصلیت کو بھی جانتا ہے اور بدلنے والے کی تبدیلی کو بھی نہ اس سے کوئی آواز پوشیدہ نہ کوئی راز۔ حیف کے معنی خطا اور غلطی کے ہیں. [تفسیر ابن ابی حاتم:210-211] ‏ مثلا کسی وارث کو کسی طرح زیادہ دلوا دینا مثلا کہہ دیا کہ فلاں چیز فلاں کے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچ دی جائے وغیرہ اب یہ خواہ بطور غلطی اور خطا کے ہو یا زیادتی محبت و شفقت کی وجہ سے بغیر قصد ایسی حرکت سرزد ہو گئی ہو یا گناہ کے طور پر ہو تو وصی کو اس کے رد و بدل میں کوئی گناہ نہیں۔ وصیت کو شرعی احکام کے مطابق پوری ہو ایسی حالت میں بدلنے والے پر کوئی گناہ یا حرج نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زندگی میں ظلم کر کے صدقہ دینے والے کا صدقہ اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح موت کے وقت گناہگار کرنے والے کا صدقہ لوٹا دیا جاتا ہے یہ حدیث ابن مردویہ میں بھی مروی ہے۔

ابن ابی حاتم فرماتے ہیں ولید بن یزید جو اس حدیث کا راوی ہے اس نے اس میں غلطی کی ہے دراصل یہ کلام عروہ رحمہ اللہ کا ہے، ولید بن مسلم نے اسے اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور عروہ رحمہ اللہ سے آگے سند نہیں لے گئے۔

صفحہ نمبر651

امام ابن مردویہ بھی ایک مرفوع حدیث بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وصیت کی کمی بیشی کبیرہ گناہ ہے ۔ [دار قطنی:151/4:موقوف صحیح] ‏ لیکن اس حدیث کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے اس بارے میں سب سے اچھی وہ حدیث ہے جو مسند عبدالرزاق میں بروایت سیدنا ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی نیک لوگوں کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے اور وصیت میں ظلم کرتا ہے اور برائی کے عمل پر خاتمہ ہونے کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے اور بعض لوگ ستر برس تک بد اعمالیاں کرتے رہتے ہیں لیکن وصیت میں عدل وانصاف کرتے ہیں اور آخری عمل ان کا بھلا ہوتا ہے اور وہ جنتی بن جاتے ہیں، [سنن ابوداود:2867، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن پاک کی اس آیت کو پڑھ آیت «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» [ البقرہ: 229 ] ‏ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو۔

صفحہ نمبر652

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com