John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Baqara

Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 181–210 · Quran text →

وصیت کی وضاحت ٭٭

اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے احکام نے اس وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، ہر وارث اپنا مقررہ حصہ بy وصیت لے لے گا، سنن وغیرہ میں عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، [سنن ترمذي:2121، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ البقرہ کی تلاوت کرتے ہیں جب آپ رضی اللہ عنہ اس آیت پر پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے [ حاکم:273/2] ‏ ] ‏ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ پہلے ماں باپ کے ساتھ اور کوئی رشتہ دار وارث نہ تھا اوروں کے لیے صرف وصیت ہوتی تھی پھر میراث کی آیتیں نازل ہوئیں اور ایک تہائی مال میں وصیت کا اختیار باقی رہا۔ اس آیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی آیت «لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۠ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا» [ 4۔ النسآء: 7 ] ‏ ہے۔

صفحہ نمبر647

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ، حسن، مجاہد، عطاء، سعید بن جبیر، محمد بن سیرین، [تفسیر ابن ابی حاتم:302/1] ‏ عکرمہ، [تفسیر ابن جریر الطبری:391/3] ‏ زید بن اسلم، ربیع بن انس، قتادہ، سدی، مقاتل بن حیان، طاؤس، ابراہیم نخعی، شریح، ضحاک اور زہری رحمہم اللہ یہ سب حضرات بھی اس آیت کو منسوخ بتاتے ہیں، لیکن باوجود اس کے تعجب ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر کبیر میں ابو مسلم اصفہانی سے یہ کیسے نقل کر دیا کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ آیت میراث اس کی تفسیر ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ تم پر وہ وصیت فرض کی گئی جس کا بیان آیت «يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ» [ 4۔ النسآء: 11 ] ‏ میں ہے اور یہی قول اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کا ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ وصیت کا حکم وارثوں کے حق میں منسوخ ہے اور جن کا ورثہ مقرر نہیں ان کے حق میں ثابت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن، مسروق، طاؤس، ضحاک، مسلم بن یسار اور علاء بن زیاد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے، میں کہتا ہوں سعید بن جبیر، ربیع بن انس، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں لیکن ان حضرات کے اس قول کی بنا پر پہلے فقہاء کی اصطلاح میں یہ آیت منسوخ نہیں ٹھہرتی اس لیے کہ میراث کی آیت سے وہ لوگ تو اس حکم سے مخصوص ہو گئے جن کا حصہ شریعت نے خود مقرر کر دیا اور جو اس سے پہلے اس آیت کے حکم کی رو سے وصیت میں داخل تھے کیونکہ قرابت دار عام ہیں خواہ ان کا ورثہ مقرر ہو یا نہ ہو تو اب وصیت ان کے لیے ہوئی جو وارث نہیں اور ان کے حق میں نہ رہی جو وارث ہیں، یہ قول اور بعض دیگر حضرات کا یہ قول کہ وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا اور وہ بھی غیر ضروری، دونوں کا مطلب قریباً ایک ہو گیا، لیکن جو لوگ وصیت کے اس حکم کو واجب کہتے ہیں اور روانی عبارت اور سیاق و سباق سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک تو یہ آیت منسوخ ہی ٹھہرے گی جیسے کہ اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کرام کا قول ہے۔

صفحہ نمبر648

پس والدین اور وراثت پانے والے قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا بالاجماع منسوخ ہے بلکہ ممنوع ہے حدیث شریف میں آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، آیت میراث کا حکم مستقل ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ واجب و فرض ہے ذوی الفروض اور عصبات کا حصہ مقرر ہے اور اس سے اس آیت کا حکم کلیتًہ اٹھ گیا، باقی رہے وہ قرابت دار جن کا کوئی ورثہ مقرر نہیں ان کے لیے تہائی مال میں وصیت کرانا مستحب ہے کچھ تو اس کا حکم اس آیت سے بھی نکلتا ہے دوسرے یہ کہ حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مرد مسلمان کو لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ وصیت کرنی چاہتا ہو تو دو راتیں بھی بغیر وصیت لکھے ہوئے گزارے راوی حدیث سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے سننے کے بعد میں نے تو ایک رات بھی بلا وصیت نہیں گزاری، [صحیح بخاری:2738] ‏

قرابت داروں اور رشتہ داروں سے سلوک و احسان کرنے کے بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں آئی ہیں، ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو جو مال میری راہ میں خرچ کرے گا میں اس کی وجہ سے تجھے پاک صاف کروں گا اور تیرے انتقال کے بعد بھی میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا سبب بناؤں گا ۔ [دار قطنی 148/4:ضعیف] ‏

خیرا سے مراد یہاں مال ہے اکثر جلیل القدر مفسرین کی یہی تفسیر ہے بعض مفسرین کا تو قول ہے کہ مال خواہ تھوڑا ہو خواہ بہت وصیت مشروع ہے جیسے میراث تھوڑے مال میں بھی ہے اور زیادہ میں بھی، بعض کہتے ہیں وصیت کا حکم اس وقت ہے جب زیادہ مال ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قریشی مر گیا ہے اور تین چار سو دینار اس کے ورثہ میں تھے اور اس نے وصیت کچھ نہیں کی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رقم وصیت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے آیت «إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ» [ البقرہ: 180 ] ‏ میں فرمایا ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک بیمار کی بیمار پرسی کو گئے اس سے کسی نے کہا وصیت کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وصیت خیر میں ہوتی ہے اور تو تو کم مال چھوڑ رہا ہے اسے اولاد کے لیے ہی چھوڑ جا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساٹھ دینار جس نے نہیں چھوڑے اس نے خیر نہیں چھوڑی یعنی اس کے ذمہ وصیت کرنا نہیں، طاؤس رحمہ اللہ، اسی دینار بتاتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ ایک ہزار بتاتے ہیں۔

معروف سے مراد نرمی اور احسان ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں وصیت کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اس میں بھلائی کرے برائی نہ کرے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے اسراف اور فضول خرچی نہ کرے۔

صفحہ نمبر649

بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک لڑکی ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کہا آدھے کی اجازت دیجئیے فرمایا نہیں کہا ایک تہائی کی اجازت دیجئیے فرمایا خیر تہائی مال کی وصیت کرو گو یہ بھی بہت ہے تم اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں فقیر اور تنگ دست چھوڑ کر جاؤ کہ وہ اوروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، [صحیح بخاری:6733] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کاش کہ لوگ تہائی سے ہٹ کر چوتھائی پر آ جائیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کی رخصت دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ تہائی بہت ہے۔ [صحیح بخاری:2742] ‏

صفحہ نمبر650

مسند احمد میں ہے حنظلہ بن جذیم بن حنفیہ کے دادا حنفیہ نے ایک یتیم بچے کے لیے جو ان کے ہاں پلتے تھے سو اونٹوں کی وصیت کی ان کی اولاد پر یہ بہت گراں گزرا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں نہیں صدقہ میں پانچ دو ورنہ دس دو ورنہ پندرہ ورنہ بیس ورنہ پچیس دو ورنہ تیس دو ورنہ پینتیس دو اگر اس پر بھی نہ مانوں تو خیر زیادہ سے زیادہ چالیس دو۔ [مسند احمد:67/5:حسن] ‏ پھر فرمایا جو شخص وصیت کو بدل دے اس میں کمی بیشی کر دے یا وصیت کو چھپالے اس کا گناہ بدلنے والے کے ذمہ ہے میت کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اللہ تعالیٰ وصیت کرنے والے کی وصیت کی اصلیت کو بھی جانتا ہے اور بدلنے والے کی تبدیلی کو بھی نہ اس سے کوئی آواز پوشیدہ نہ کوئی راز۔ حیف کے معنی خطا اور غلطی کے ہیں. [تفسیر ابن ابی حاتم:210-211] ‏ مثلا کسی وارث کو کسی طرح زیادہ دلوا دینا مثلا کہہ دیا کہ فلاں چیز فلاں کے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچ دی جائے وغیرہ اب یہ خواہ بطور غلطی اور خطا کے ہو یا زیادتی محبت و شفقت کی وجہ سے بغیر قصد ایسی حرکت سرزد ہو گئی ہو یا گناہ کے طور پر ہو تو وصی کو اس کے رد و بدل میں کوئی گناہ نہیں۔ وصیت کو شرعی احکام کے مطابق پوری ہو ایسی حالت میں بدلنے والے پر کوئی گناہ یا حرج نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زندگی میں ظلم کر کے صدقہ دینے والے کا صدقہ اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح موت کے وقت گناہگار کرنے والے کا صدقہ لوٹا دیا جاتا ہے یہ حدیث ابن مردویہ میں بھی مروی ہے۔

ابن ابی حاتم فرماتے ہیں ولید بن یزید جو اس حدیث کا راوی ہے اس نے اس میں غلطی کی ہے دراصل یہ کلام عروہ رحمہ اللہ کا ہے، ولید بن مسلم نے اسے اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور عروہ رحمہ اللہ سے آگے سند نہیں لے گئے۔

صفحہ نمبر651

امام ابن مردویہ بھی ایک مرفوع حدیث بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وصیت کی کمی بیشی کبیرہ گناہ ہے ۔ [دار قطنی:151/4:موقوف صحیح] ‏ لیکن اس حدیث کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے اس بارے میں سب سے اچھی وہ حدیث ہے جو مسند عبدالرزاق میں بروایت سیدنا ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی نیک لوگوں کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے اور وصیت میں ظلم کرتا ہے اور برائی کے عمل پر خاتمہ ہونے کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے اور بعض لوگ ستر برس تک بد اعمالیاں کرتے رہتے ہیں لیکن وصیت میں عدل وانصاف کرتے ہیں اور آخری عمل ان کا بھلا ہوتا ہے اور وہ جنتی بن جاتے ہیں، [سنن ابوداود:2867، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن پاک کی اس آیت کو پڑھ آیت «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» [ البقرہ: 229 ] ‏ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو۔

صفحہ نمبر652

وصیت کی وضاحت ٭٭

اس آیت میں ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے وصیت کرنے کا حکم ہو رہا ہے، میراث کے حکم سے پہلے یہ واجب تھا ٹھیک قول یہی ہے، لیکن میراث کے احکام نے اس وصیت کے حکم کو منسوخ کر دیا، ہر وارث اپنا مقررہ حصہ بy وصیت لے لے گا، سنن وغیرہ میں عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ سے حدیث ہے کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ میں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، [سنن ترمذي:2121، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سورۃ البقرہ کی تلاوت کرتے ہیں جب آپ رضی اللہ عنہ اس آیت پر پہنچتے ہیں تو فرماتے ہیں یہ آیت منسوخ ہے [ حاکم:273/2] ‏ ] ‏ آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ پہلے ماں باپ کے ساتھ اور کوئی رشتہ دار وارث نہ تھا اوروں کے لیے صرف وصیت ہوتی تھی پھر میراث کی آیتیں نازل ہوئیں اور ایک تہائی مال میں وصیت کا اختیار باقی رہا۔ اس آیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی آیت «لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۠ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا» [ 4۔ النسآء: 7 ] ‏ ہے۔

صفحہ نمبر647

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ، حسن، مجاہد، عطاء، سعید بن جبیر، محمد بن سیرین، [تفسیر ابن ابی حاتم:302/1] ‏ عکرمہ، [تفسیر ابن جریر الطبری:391/3] ‏ زید بن اسلم، ربیع بن انس، قتادہ، سدی، مقاتل بن حیان، طاؤس، ابراہیم نخعی، شریح، ضحاک اور زہری رحمہم اللہ یہ سب حضرات بھی اس آیت کو منسوخ بتاتے ہیں، لیکن باوجود اس کے تعجب ہے کہ امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر کبیر میں ابو مسلم اصفہانی سے یہ کیسے نقل کر دیا کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ آیت میراث اس کی تفسیر ہے اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ تم پر وہ وصیت فرض کی گئی جس کا بیان آیت «يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ» [ 4۔ النسآء: 11 ] ‏ میں ہے اور یہی قول اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کا ہے۔

بعض کہتے ہیں کہ وصیت کا حکم وارثوں کے حق میں منسوخ ہے اور جن کا ورثہ مقرر نہیں ان کے حق میں ثابت ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حسن، مسروق، طاؤس، ضحاک، مسلم بن یسار اور علاء بن زیاد رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے، میں کہتا ہوں سعید بن جبیر، ربیع بن انس، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں لیکن ان حضرات کے اس قول کی بنا پر پہلے فقہاء کی اصطلاح میں یہ آیت منسوخ نہیں ٹھہرتی اس لیے کہ میراث کی آیت سے وہ لوگ تو اس حکم سے مخصوص ہو گئے جن کا حصہ شریعت نے خود مقرر کر دیا اور جو اس سے پہلے اس آیت کے حکم کی رو سے وصیت میں داخل تھے کیونکہ قرابت دار عام ہیں خواہ ان کا ورثہ مقرر ہو یا نہ ہو تو اب وصیت ان کے لیے ہوئی جو وارث نہیں اور ان کے حق میں نہ رہی جو وارث ہیں، یہ قول اور بعض دیگر حضرات کا یہ قول کہ وصیت کا حکم ابتداء اسلام میں تھا اور وہ بھی غیر ضروری، دونوں کا مطلب قریباً ایک ہو گیا، لیکن جو لوگ وصیت کے اس حکم کو واجب کہتے ہیں اور روانی عبارت اور سیاق و سباق سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے ان کے نزدیک تو یہ آیت منسوخ ہی ٹھہرے گی جیسے کہ اکثر مفسرین اور معتبر فقہاء کرام کا قول ہے۔

صفحہ نمبر648

پس والدین اور وراثت پانے والے قرابت داروں کے لیے وصیت کرنا بالاجماع منسوخ ہے بلکہ ممنوع ہے حدیث شریف میں آ چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے اب وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں، آیت میراث کا حکم مستقل ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ واجب و فرض ہے ذوی الفروض اور عصبات کا حصہ مقرر ہے اور اس سے اس آیت کا حکم کلیتًہ اٹھ گیا، باقی رہے وہ قرابت دار جن کا کوئی ورثہ مقرر نہیں ان کے لیے تہائی مال میں وصیت کرانا مستحب ہے کچھ تو اس کا حکم اس آیت سے بھی نکلتا ہے دوسرے یہ کہ حدیث شریف میں صاف آ چکا ہے بخاری و مسلم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کسی مرد مسلمان کو لائق نہیں کہ اس کے پاس کوئی چیز ہو اور وہ وصیت کرنی چاہتا ہو تو دو راتیں بھی بغیر وصیت لکھے ہوئے گزارے راوی حدیث سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ اس فرمان کے سننے کے بعد میں نے تو ایک رات بھی بلا وصیت نہیں گزاری، [صحیح بخاری:2738] ‏

قرابت داروں اور رشتہ داروں سے سلوک و احسان کرنے کے بارے میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں آئی ہیں، ایک حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابن آدم تو جو مال میری راہ میں خرچ کرے گا میں اس کی وجہ سے تجھے پاک صاف کروں گا اور تیرے انتقال کے بعد بھی میرے نیک بندوں کی دعاؤں کا سبب بناؤں گا ۔ [دار قطنی 148/4:ضعیف] ‏

خیرا سے مراد یہاں مال ہے اکثر جلیل القدر مفسرین کی یہی تفسیر ہے بعض مفسرین کا تو قول ہے کہ مال خواہ تھوڑا ہو خواہ بہت وصیت مشروع ہے جیسے میراث تھوڑے مال میں بھی ہے اور زیادہ میں بھی، بعض کہتے ہیں وصیت کا حکم اس وقت ہے جب زیادہ مال ہو، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قریشی مر گیا ہے اور تین چار سو دینار اس کے ورثہ میں تھے اور اس نے وصیت کچھ نہیں کی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ رقم وصیت کے قابل نہیں اللہ تعالیٰ نے آیت «إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ» [ البقرہ: 180 ] ‏ میں فرمایا ہے، ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے ایک بیمار کی بیمار پرسی کو گئے اس سے کسی نے کہا وصیت کرو تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا وصیت خیر میں ہوتی ہے اور تو تو کم مال چھوڑ رہا ہے اسے اولاد کے لیے ہی چھوڑ جا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ساٹھ دینار جس نے نہیں چھوڑے اس نے خیر نہیں چھوڑی یعنی اس کے ذمہ وصیت کرنا نہیں، طاؤس رحمہ اللہ، اسی دینار بتاتے ہیں قتادہ رحمہ اللہ ایک ہزار بتاتے ہیں۔

معروف سے مراد نرمی اور احسان ہے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں وصیت کرنا ہر مسلمان پر ضروری ہے اس میں بھلائی کرے برائی نہ کرے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے اسراف اور فضول خرچی نہ کرے۔

صفحہ نمبر649

بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں مالدار ہوں اور میری وارث صرف میری ایک لڑکی ہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئیے کہ میں اپنے دو تہائی مال کی وصیت کروں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں کہا آدھے کی اجازت دیجئیے فرمایا نہیں کہا ایک تہائی کی اجازت دیجئیے فرمایا خیر تہائی مال کی وصیت کرو گو یہ بھی بہت ہے تم اپنے پیچھے اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑ کر جاؤ یہ بہتر ہے اس سے کہ تم انہیں فقیر اور تنگ دست چھوڑ کر جاؤ کہ وہ اوروں کے سامنے ہاتھ پھیلائیں، [صحیح بخاری:6733] ‏

صحیح بخاری شریف میں ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کاش کہ لوگ تہائی سے ہٹ کر چوتھائی پر آ جائیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تہائی کی رخصت دیتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ تہائی بہت ہے۔ [صحیح بخاری:2742] ‏

صفحہ نمبر650

مسند احمد میں ہے حنظلہ بن جذیم بن حنفیہ کے دادا حنفیہ نے ایک یتیم بچے کے لیے جو ان کے ہاں پلتے تھے سو اونٹوں کی وصیت کی ان کی اولاد پر یہ بہت گراں گزرا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں نہیں صدقہ میں پانچ دو ورنہ دس دو ورنہ پندرہ ورنہ بیس ورنہ پچیس دو ورنہ تیس دو ورنہ پینتیس دو اگر اس پر بھی نہ مانوں تو خیر زیادہ سے زیادہ چالیس دو۔ [مسند احمد:67/5:حسن] ‏ پھر فرمایا جو شخص وصیت کو بدل دے اس میں کمی بیشی کر دے یا وصیت کو چھپالے اس کا گناہ بدلنے والے کے ذمہ ہے میت کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ثابت ہو گیا، اللہ تعالیٰ وصیت کرنے والے کی وصیت کی اصلیت کو بھی جانتا ہے اور بدلنے والے کی تبدیلی کو بھی نہ اس سے کوئی آواز پوشیدہ نہ کوئی راز۔ حیف کے معنی خطا اور غلطی کے ہیں. [تفسیر ابن ابی حاتم:210-211] ‏ مثلا کسی وارث کو کسی طرح زیادہ دلوا دینا مثلا کہہ دیا کہ فلاں چیز فلاں کے ہاتھ اتنے اتنے میں بیچ دی جائے وغیرہ اب یہ خواہ بطور غلطی اور خطا کے ہو یا زیادتی محبت و شفقت کی وجہ سے بغیر قصد ایسی حرکت سرزد ہو گئی ہو یا گناہ کے طور پر ہو تو وصی کو اس کے رد و بدل میں کوئی گناہ نہیں۔ وصیت کو شرعی احکام کے مطابق پوری ہو ایسی حالت میں بدلنے والے پر کوئی گناہ یا حرج نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں زندگی میں ظلم کر کے صدقہ دینے والے کا صدقہ اسی طرح لوٹا دیا جائے گا جس طرح موت کے وقت گناہگار کرنے والے کا صدقہ لوٹا دیا جاتا ہے یہ حدیث ابن مردویہ میں بھی مروی ہے۔

ابن ابی حاتم فرماتے ہیں ولید بن یزید جو اس حدیث کا راوی ہے اس نے اس میں غلطی کی ہے دراصل یہ کلام عروہ رحمہ اللہ کا ہے، ولید بن مسلم نے اسے اوزاعی رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے اور عروہ رحمہ اللہ سے آگے سند نہیں لے گئے۔

صفحہ نمبر651

امام ابن مردویہ بھی ایک مرفوع حدیث بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وصیت کی کمی بیشی کبیرہ گناہ ہے ۔ [دار قطنی:151/4:موقوف صحیح] ‏ لیکن اس حدیث کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے اس بارے میں سب سے اچھی وہ حدیث ہے جو مسند عبدالرزاق میں بروایت سیدنا ابوہریرہ مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی نیک لوگوں کے اعمال ستر سال تک کرتا رہتا ہے اور وصیت میں ظلم کرتا ہے اور برائی کے عمل پر خاتمہ ہونے کی وجہ سے جہنمی بن جاتا ہے اور بعض لوگ ستر برس تک بد اعمالیاں کرتے رہتے ہیں لیکن وصیت میں عدل وانصاف کرتے ہیں اور آخری عمل ان کا بھلا ہوتا ہے اور وہ جنتی بن جاتے ہیں، [سنن ابوداود:2867، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر چاہو تو قرآن پاک کی اس آیت کو پڑھ آیت «تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ» [ البقرہ: 229 ] ‏ یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی حدیں ہیں ان سے آگے نہ بڑھو۔

صفحہ نمبر652

روداد روزہ اور صلوۃ ٭٭

اللہ تعالیٰ اس امت کے ایمان داروں کو مخاطب کر کے انہیں حکم دے رہا ہے کہ روزے رکھو روزے کے معنی اللہ تعالیٰ کے فرمان کی بجا آوری کی خالص نیت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع سے رک جانے کے ہیں اس سے فائدہ یہ ہے کہ نفس انسان پاک صاف اور طیب و طاہر ہو جاتا ہے ردی اخلاط اور بے ہودہ اخلاق سے انسان کا تنقیہ ہو جاتا ہے، اس حکم کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے کہ اس حکم کے ساتھ تم تنہا نہیں بلکہ تم سے اگلوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم تھا، اس بیان سے یہ بھی مقصد ہے کہ یہ امت اس فریِضہ کی بجا آوری میں اگلی امتوں سے پیچھے نہ رہ جائے جیسے اور جگہ ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ» [ 5۔ المائدہ: 48 ] ‏ یعنی ہر ایک کے لیے ایک طریقہ اور راستہ ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں آزما رہا ہے تمہیں چاہیئے کہ نیکیوں میں سبقت کرتے رہو، یہی یہاں بھی فرمایا کہ تم پر بھی روزے اسی طرح فرض ہیں جس طرح تم سے پہلے گزرنے والوں پر تھے، روزے سے بدن کو پاکیزگی ملتی ہے اور عمل شیطانی راہ پر چلنے سے رک جاتا ہے۔

صفحہ نمبر655

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے جوانو تم میں سے جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کر لے اور جسے طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ جوش کو سرد کر دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:5066] ‏

پھر روزوں کی مقدار بیان ہو رہی ہے کہ یہ چند دن ہی ہیں تاکہ کسی پر بھاری نہ پڑے اور ادائیگی سے قاصر نہ رہ جائے بلکہ ذوق وشوق سے اس الٰہی فریضہ کو بجا لائے، پہلے تو ہر ماہ میں تین روزوں کا حکم تھا پھر رمضان کے روزوں کا حکم ہوا اور اگلا حکم منسوخ ہوا اس کا مفصل بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر656

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عطاء قتادہ ضحاک رحمہ اللہ علیہم کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے زمانے سے ہر مہینہ میں تین روزوں کا حکم تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے بدلا اور ان پر اس مبارک مہینہ کے روزے فرض ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگلی امتوں پر بھی ایک مہینہ کامل کے روزے فرض تھے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ رمضان کے روزے تم سے پہلے کی امتوں پر بھی فرض تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی امتوں کو یہ حکم تھا کہ جب وہ عشاء کی نماز ادا کر لیں اور سو جائیں تو ان پر کھانا پینا عورتوں سے مباشرت کرنا حرام ہو جاتا ہے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگلے لوگوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس حالت میں روزے چھوڑ دے مشقت نہ اٹھائے اور اس کے بعد اور دنوں میں جبکہ یہ عذر ہٹ جائیں قضاء کر لیں، ہاں ابتداء اسلام میں جو شخص تندرست ہو اور مسافر بھی نہ ہو اسے بھی اختیار تھا خواہ روزہ رکھے خواہ نہ رکھے مگر فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے اگر ایک سے زیادہ کو کھلائے تو افضل تھا گو روزہ رکھنا فدیہ دینے سے زیادہ بہتر تھا، سیدنا ابن مسعود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد طاؤس مقاتل رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نماز کی اور روزے کی تین حالتیں بدلی گئیں۔ [پہلی تبدیلی] ‏ پہلے تو سولہ سترہ مہینہ تک مدینہ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف نماز ادا کی پھر «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [ البقرہ: 144 ] ‏ والی آیت آئی اور مکہ شریف کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرا۔

صفحہ نمبر657

[دوسری تبدیلی] ‏ یہ ہوئی کہ نماز کے لیے ایک دوسرے کو پکارتا تھا اور جمع ہو جاتے تھے لیکن اس سے آخر عاجز آ گئے پھر ایک انصاری عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا لیکن وہ خواب گویا بیداری کی سی حالت میں تھا کہ ایک شخص سبز رنگ کا حلہ پہنے ہوئے ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کہہ رہا ہے آیت «اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ» دوبارہ یونہی اذان پوری کی پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے تکبیر کہی جس میں آیت «قدقامت الصلوۃ» بھی دو مرتبہ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ سکھاؤ وہ اذان کہیں گے چنانچہ سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی آ کر اپنا یہی خواب بیان کیا تھا۔ لیکن ان سے پہلے سیدنا زید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آچکے تھے۔

[تیسری تبدیلی] ‏ یہ ہوئی کہ پہلے یہ دستور تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں کوئی آیا کچھ رکعتیں ہو چکی ہیں تو وہ کسی سے دریافت کرتا کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں وہ جواب دیتا کہ اتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں وہ اتنی رکعتیں ادا کرتا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آئے اور کہنے لگے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حال میں پاؤں گا اسی میں مل جاؤں گا اور جو نماز چھوٹ گئی ہے اسے حضور کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کروں گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رہی ہوئی رکعتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا معاذ رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے یہ اچھا طریقہ نکالا ہے تم بھی اب یونہی کیا کرو، یہ تین تبدیلیاں تو نماز کی ہوئیں،

روزوں کی تبدیلیاں سنیئے [اول ] ‏ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو ہر مہینہ میں تین روزے رکھتے تھے اور عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 183 ] ‏ نازل فرما کر رمضان کے روزے فرض کئے۔ [دوسرا] ‏ ابتدائی یہ حکم تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دیدے پھر یہ آیت «فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» [ 2۔ البقرہ: 185 ] ‏ تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے میں قیام کی حالت میں ہو وہ روزہ رکھا کرے پس جو شخص مقیم ہو مسافر نہ ہو تندرست ہو بیمار نہ ہو اس پر روزہ رکھنا ضروری ہو گیا ہاں بیمار اور مسافر کے لیے رخصت ملی اور ایسا بوڑھا انتہائی جو روزے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو اسے بھی رخصت دی گئی۔

صفحہ نمبر658

[تیسری] ‏ حالت یہ ہے کہ ابتداء میں کھانا پینا عورتوں کے پاس آنا سونے سے پہلے پہلے جائز تھا سو گیا تو پھر گو رات کو ہی جاگے لیکن کھانا پینا اور جماع اس کے لیے منع تھا پھر صرمہ نامی ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ دن بھر کام کاج کر کے رات کو تھکے ہارے گھر آئے عشاء کی نماز ادا کی اور نیند آ گئی دوسرے دن کچھ کھائے پئے بغیر روزہ رکھا لیکن حالت بہت نازک ہو گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا بات؟ تو انہوں نے سارا واقعہ کہہ دیا، ادھر یہ واقعہ تو ان کے ساتھ ہوا ادھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سو جانے کے بعد اپنی بیوی صاحبہ سے مجامعت کر لی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے اس قصور کا اقرار کیا جس پر آیت «أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ» [ البقرہ: 187 ] ‏ تک نازل ہوئی اور مغرب کے بعد سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور مجامعت کرنے کی رخصت دے دی گئی،

بخاری مسلم میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو اب ضروری نہ رہا جو چاہتا رکھ لیتا جو نہ چاہتا نہ رکھتا، [صحیح بخاری:2002] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ آیت «وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ» [ 2۔ البقرہ: 184 ] ‏ کا مطلب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہی کہ ابتداء اسلام میں جو چاہتا روزہ رکھتا جو چاہتا نہ رکھتا اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح بخاری میں ایک روایت آئی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت جو شخص چاہتا افطار کرتا اور فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اتری اور یہ منسوخ ہوئی، [صحیح بخاری:4507] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسے منسوخ کہتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4506] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منسوخ نہیں مراد اس سے بوڑھا مرد اور بڑھیا عورت ہے۔ جسے روزے کی طاقت نہ ہو، [صحیح بخاری:4506] ‏ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، کہتے ہیں عطار رحمہ اللہ کے پاس رمضان میں گیا دیکھا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس آیت نے پہلی آیت کا حکم منسوخ کر دیا، اب یہ حکم صرف بہت زیادہ بے طاقت بوڑھے بڑے کے لیے ہے،

حاصل کلام یہ ہے کہ جو شخص مقیم ہو اور تندرست ہو اس کے لیے یہ حکم نہیں بلکہ اسے روزہ ہی رکھنا ہو گا ہاں ایسے بوڑھے، بڑے معمر اور کمزور آدمی جنہیں روزے کی طاقت ہی نہ ہو روزہ نہ رکھیں اور نہ ان پر قضاء ضروری ہے لیکن اگر وہ مالدار ہوں تو آیا انہیں کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں ہمیں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول تو یہ ہے کہ چونکہ اس میں روزے کی طاقت نہیں لہٰذا یہ بھی مثل بچے کے ہے نہ اس پر کفارہ ہے نہ اس پر قضاء کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا،۔

صفحہ نمبر659

دوسرا قول امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ کہ اس کے ذمہ کفارہ ہے، اکثر علماء کرام کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی تفسیروں سے بھی یہی ثابت ہوا ہے امام بخاری رحمہ اللہ کا پسندیدہ مسئلہ بھی یہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ بہت بڑی عمر والا بوڑھا جسے روزے کی طاقت نہ ہو تو فدیہ دیدے جیسے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی بڑی عمر میں بڑھاپے کے آخری دنوں میں سال دو سال تک روزہ نہ رکھا اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو روٹی گوشت کھلا دیا کرے، [صحیح بخاری:4505] ‏ مسند ابولیلیٰ میں ہے کہ جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو گئے تو گوشت روٹی تیار کر کے تیس مسکینوں کو بلا کر کھلا دیا کرتے۔ مسند ابی لیلیٰ204/7صحیح] ‏ اسی طرح حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت کے بارے میں جب انہیں اپنی جان کا یا اپنے بچے کی جان کا خوف ہو علماء میں سخت اختلاف ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ وہ روزہ نہ رکھیں فدیہ دے دیں اور جب خوف ہٹ جائے قضاء بھی کر لیں بعض کہتے ہیں صرف فدیہ ہے قضاء نہ کریں، بعض کہتے ہیں قضاء کر لیں فدیہ نہیں اور بعض کا قول ہے کہ نہ روزہ رکھیں نہ فدیہ نہ قضاء کریں امام ابن کثیر نے اس مسئلہ کو اپنی کتاب الصیام میں تفصیل کے ساتھ لکھاہے «‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» » ‏ [ بظاہر یہی بات دلائل سے زیادہ قریب نظر آتی ہے کہ یہ دونوں ایسی حالت میں روزہ رکھیں اور بعد میں قضاء کریں۔ نہ فدیہ دیں۔ ] ‏

صفحہ نمبر660

روداد روزہ اور صلوۃ ٭٭

اللہ تعالیٰ اس امت کے ایمان داروں کو مخاطب کر کے انہیں حکم دے رہا ہے کہ روزے رکھو روزے کے معنی اللہ تعالیٰ کے فرمان کی بجا آوری کی خالص نیت کے ساتھ کھانے پینے اور جماع سے رک جانے کے ہیں اس سے فائدہ یہ ہے کہ نفس انسان پاک صاف اور طیب و طاہر ہو جاتا ہے ردی اخلاط اور بے ہودہ اخلاق سے انسان کا تنقیہ ہو جاتا ہے، اس حکم کے ساتھ ہی فرمایا گیا ہے کہ اس حکم کے ساتھ تم تنہا نہیں بلکہ تم سے اگلوں کو بھی روزے رکھنے کا حکم تھا، اس بیان سے یہ بھی مقصد ہے کہ یہ امت اس فریِضہ کی بجا آوری میں اگلی امتوں سے پیچھے نہ رہ جائے جیسے اور جگہ ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ» [ 5۔ المائدہ: 48 ] ‏ یعنی ہر ایک کے لیے ایک طریقہ اور راستہ ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت کر دیتا لیکن وہ تمہیں آزما رہا ہے تمہیں چاہیئے کہ نیکیوں میں سبقت کرتے رہو، یہی یہاں بھی فرمایا کہ تم پر بھی روزے اسی طرح فرض ہیں جس طرح تم سے پہلے گزرنے والوں پر تھے، روزے سے بدن کو پاکیزگی ملتی ہے اور عمل شیطانی راہ پر چلنے سے رک جاتا ہے۔

صفحہ نمبر655

بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے جوانو تم میں سے جسے نکاح کی طاقت ہو وہ نکاح کر لے اور جسے طاقت نہ ہو وہ روزے رکھے اس لیے کہ یہ جوش کو سرد کر دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:5066] ‏

پھر روزوں کی مقدار بیان ہو رہی ہے کہ یہ چند دن ہی ہیں تاکہ کسی پر بھاری نہ پڑے اور ادائیگی سے قاصر نہ رہ جائے بلکہ ذوق وشوق سے اس الٰہی فریضہ کو بجا لائے، پہلے تو ہر ماہ میں تین روزوں کا حکم تھا پھر رمضان کے روزوں کا حکم ہوا اور اگلا حکم منسوخ ہوا اس کا مفصل بیان آ رہا ہے، ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر656

سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عطاء قتادہ ضحاک رحمہ اللہ علیہم کا فرمان ہے کہ نوح علیہ السلام کے زمانے سے ہر مہینہ میں تین روزوں کا حکم تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے بدلا اور ان پر اس مبارک مہینہ کے روزے فرض ہوئے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگلی امتوں پر بھی ایک مہینہ کامل کے روزے فرض تھے۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ رمضان کے روزے تم سے پہلے کی امتوں پر بھی فرض تھے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پہلی امتوں کو یہ حکم تھا کہ جب وہ عشاء کی نماز ادا کر لیں اور سو جائیں تو ان پر کھانا پینا عورتوں سے مباشرت کرنا حرام ہو جاتا ہے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگلے لوگوں سے مراد اہل کتاب ہیں۔ پھر بیان ہو رہا ہے کہ تم میں سے جو شخص ماہ رمضان میں بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ اس حالت میں روزے چھوڑ دے مشقت نہ اٹھائے اور اس کے بعد اور دنوں میں جبکہ یہ عذر ہٹ جائیں قضاء کر لیں، ہاں ابتداء اسلام میں جو شخص تندرست ہو اور مسافر بھی نہ ہو اسے بھی اختیار تھا خواہ روزہ رکھے خواہ نہ رکھے مگر فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے اگر ایک سے زیادہ کو کھلائے تو افضل تھا گو روزہ رکھنا فدیہ دینے سے زیادہ بہتر تھا، سیدنا ابن مسعود سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مجاہد طاؤس مقاتل رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نماز کی اور روزے کی تین حالتیں بدلی گئیں۔ [پہلی تبدیلی] ‏ پہلے تو سولہ سترہ مہینہ تک مدینہ میں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف نماز ادا کی پھر «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [ البقرہ: 144 ] ‏ والی آیت آئی اور مکہ شریف کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرا۔

صفحہ نمبر657

[دوسری تبدیلی] ‏ یہ ہوئی کہ نماز کے لیے ایک دوسرے کو پکارتا تھا اور جمع ہو جاتے تھے لیکن اس سے آخر عاجز آ گئے پھر ایک انصاری عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے خواب میں دیکھا لیکن وہ خواب گویا بیداری کی سی حالت میں تھا کہ ایک شخص سبز رنگ کا حلہ پہنے ہوئے ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر کہہ رہا ہے آیت «اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ» دوبارہ یونہی اذان پوری کی پھر تھوڑی دیر کے بعد اس نے تکبیر کہی جس میں آیت «قدقامت الصلوۃ» بھی دو مرتبہ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ سکھاؤ وہ اذان کہیں گے چنانچہ سب سے پہلے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی آ کر اپنا یہی خواب بیان کیا تھا۔ لیکن ان سے پہلے سیدنا زید بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آچکے تھے۔

[تیسری تبدیلی] ‏ یہ ہوئی کہ پہلے یہ دستور تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے ہیں کوئی آیا کچھ رکعتیں ہو چکی ہیں تو وہ کسی سے دریافت کرتا کہ کتنی رکعتیں ہو چکی ہیں وہ جواب دیتا کہ اتنی رکعتیں پڑھ لی ہیں وہ اتنی رکعتیں ادا کرتا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جاتا سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ آئے اور کہنے لگے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حال میں پاؤں گا اسی میں مل جاؤں گا اور جو نماز چھوٹ گئی ہے اسے حضور کے سلام پھیرنے کے بعد ادا کروں گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رہی ہوئی رکعتیں ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا معاذ رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے یہ اچھا طریقہ نکالا ہے تم بھی اب یونہی کیا کرو، یہ تین تبدیلیاں تو نماز کی ہوئیں،

روزوں کی تبدیلیاں سنیئے [اول ] ‏ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو ہر مہینہ میں تین روزے رکھتے تھے اور عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ» [ 2۔ البقرہ: 183 ] ‏ نازل فرما کر رمضان کے روزے فرض کئے۔ [دوسرا] ‏ ابتدائی یہ حکم تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دیدے پھر یہ آیت «فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» [ 2۔ البقرہ: 185 ] ‏ تم میں سے جو شخص رمضان کے مہینے میں قیام کی حالت میں ہو وہ روزہ رکھا کرے پس جو شخص مقیم ہو مسافر نہ ہو تندرست ہو بیمار نہ ہو اس پر روزہ رکھنا ضروری ہو گیا ہاں بیمار اور مسافر کے لیے رخصت ملی اور ایسا بوڑھا انتہائی جو روزے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو اسے بھی رخصت دی گئی۔

صفحہ نمبر658

[تیسری] ‏ حالت یہ ہے کہ ابتداء میں کھانا پینا عورتوں کے پاس آنا سونے سے پہلے پہلے جائز تھا سو گیا تو پھر گو رات کو ہی جاگے لیکن کھانا پینا اور جماع اس کے لیے منع تھا پھر صرمہ نامی ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ دن بھر کام کاج کر کے رات کو تھکے ہارے گھر آئے عشاء کی نماز ادا کی اور نیند آ گئی دوسرے دن کچھ کھائے پئے بغیر روزہ رکھا لیکن حالت بہت نازک ہو گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کیا بات؟ تو انہوں نے سارا واقعہ کہہ دیا، ادھر یہ واقعہ تو ان کے ساتھ ہوا ادھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سو جانے کے بعد اپنی بیوی صاحبہ سے مجامعت کر لی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے اس قصور کا اقرار کیا جس پر آیت «أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّـهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّـهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ» [ البقرہ: 187 ] ‏ تک نازل ہوئی اور مغرب کے بعد سے لے کر صبح صادق کے طلوع ہونے تک رمضان کی راتوں میں کھانے پینے اور مجامعت کرنے کی رخصت دے دی گئی،

بخاری مسلم میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلے عاشورہ کا روزہ رکھا جاتا جب رمضان کی فرضیت نازل ہوئی تو اب ضروری نہ رہا جو چاہتا رکھ لیتا جو نہ چاہتا نہ رکھتا، [صحیح بخاری:2002] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے۔ آیت «وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ» [ 2۔ البقرہ: 184 ] ‏ کا مطلب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہی کہ ابتداء اسلام میں جو چاہتا روزہ رکھتا جو چاہتا نہ رکھتا اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بھی صحیح بخاری میں ایک روایت آئی ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے وقت جو شخص چاہتا افطار کرتا اور فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد کی آیت اتری اور یہ منسوخ ہوئی، [صحیح بخاری:4507] ‏ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی اسے منسوخ کہتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4506] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ منسوخ نہیں مراد اس سے بوڑھا مرد اور بڑھیا عورت ہے۔ جسے روزے کی طاقت نہ ہو، [صحیح بخاری:4506] ‏ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ، کہتے ہیں عطار رحمہ اللہ کے پاس رمضان میں گیا دیکھا کہ وہ کھانا کھا رہے ہیں مجھے دیکھ کر فرمانے لگے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ اس آیت نے پہلی آیت کا حکم منسوخ کر دیا، اب یہ حکم صرف بہت زیادہ بے طاقت بوڑھے بڑے کے لیے ہے،

حاصل کلام یہ ہے کہ جو شخص مقیم ہو اور تندرست ہو اس کے لیے یہ حکم نہیں بلکہ اسے روزہ ہی رکھنا ہو گا ہاں ایسے بوڑھے، بڑے معمر اور کمزور آدمی جنہیں روزے کی طاقت ہی نہ ہو روزہ نہ رکھیں اور نہ ان پر قضاء ضروری ہے لیکن اگر وہ مالدار ہوں تو آیا انہیں کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں ہمیں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول تو یہ ہے کہ چونکہ اس میں روزے کی طاقت نہیں لہٰذا یہ بھی مثل بچے کے ہے نہ اس پر کفارہ ہے نہ اس پر قضاء کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا،۔

صفحہ نمبر659

دوسرا قول امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ ہے کہ کہ اس کے ذمہ کفارہ ہے، اکثر علماء کرام کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی تفسیروں سے بھی یہی ثابت ہوا ہے امام بخاری رحمہ اللہ کا پسندیدہ مسئلہ بھی یہی ہے وہ فرماتے ہیں کہ بہت بڑی عمر والا بوڑھا جسے روزے کی طاقت نہ ہو تو فدیہ دیدے جیسے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنی بڑی عمر میں بڑھاپے کے آخری دنوں میں سال دو سال تک روزہ نہ رکھا اور ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو روٹی گوشت کھلا دیا کرے، [صحیح بخاری:4505] ‏ مسند ابولیلیٰ میں ہے کہ جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو گئے تو گوشت روٹی تیار کر کے تیس مسکینوں کو بلا کر کھلا دیا کرتے۔ مسند ابی لیلیٰ204/7صحیح] ‏ اسی طرح حمل والی اور دودھ پلانے والی عورت کے بارے میں جب انہیں اپنی جان کا یا اپنے بچے کی جان کا خوف ہو علماء میں سخت اختلاف ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ وہ روزہ نہ رکھیں فدیہ دے دیں اور جب خوف ہٹ جائے قضاء بھی کر لیں بعض کہتے ہیں صرف فدیہ ہے قضاء نہ کریں، بعض کہتے ہیں قضاء کر لیں فدیہ نہیں اور بعض کا قول ہے کہ نہ روزہ رکھیں نہ فدیہ نہ قضاء کریں امام ابن کثیر نے اس مسئلہ کو اپنی کتاب الصیام میں تفصیل کے ساتھ لکھاہے «‏ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» » ‏ [ بظاہر یہی بات دلائل سے زیادہ قریب نظر آتی ہے کہ یہ دونوں ایسی حالت میں روزہ رکھیں اور بعد میں قضاء کریں۔ نہ فدیہ دیں۔ ] ‏

صفحہ نمبر660

نزول قرآن اور ماہ رمضان ٭٭

ماہ رمضان شریف کی فضیلت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے اسی ماہ مبارک میں قرآن کریم اترا مسند احمد کی حدیث میں ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے ابراہیمی صحیفہ رمضان کی پہلی رات اترا اور توراۃ چھٹی تاریخ اگلے تمام صحیفے اور توراۃ و انجیل تیرھویں تاریخ اور قرآن چوبیسویں تاریخ نازل ہوا۔ [مسند احمد:107/4:ضعیف] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ زبور بارھویں کو اور انجیل اٹھارہویں کو، اگلے تمام صحیفے اور توراۃ و انجیل و زبور جس پیغمبر پر اتریں ایک ساتھ ایک ہی مرتبہ اتریں لیکن قرآن کریم بیت العزت سے آسمانی دنیا تک تو ایک ہی مرتبہ نازل ہوا اور پھر وقتًا فوقتًا حسب ضرورت زمین پر نازل ہوتا رہا یہی مطلب آیت «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» [ 97۔ القدر: 1 ] ‏ اور آیت «اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِيْ لَيْلَةٍ مُّبٰرَكَةٍ اِنَّا كُنَّا مُنْذِرِيْنَ» [ 44۔ الدخان: 3 ] ‏ اور آیت «اُنۡزِلَ فِیۡہِ الۡقُرۡاٰنُ ہُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الۡہُدٰی وَ الۡفُرۡقَانِ» [ 2۔ البقرہ: 185 ] ‏ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم ایک ساتھ آسمان اول پر رمضان المبارک کے مہینے میں لیلتہ القدر کو نازل ہوا اور اسی کو لیلہ مبارکہ بھی کہا ہے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے یہی مروی ہے، آپ رضی اللہ عنہ سے جب یہ سوال ہوا کہ قران کریم تو مختلف مہینوں میں برسوں میں اترتا رہا پھر رمضان میں اور وہ بھی لیلتہ القدر میں اترنے کے کیا معنی؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے یہی مطلب بیان کیا [ ابن مردویہ وغیرہ ] ‏ آپ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ آدھی رمضان میں قرآن کریم دنیا کے آسمان کی طرف اترا بیت العزۃ میں رکھا گیا پھر حسب ضرورت واقعات اور سوالات پر تھوڑا تھوڑا اترتا رہا اور بیس سال میں کامل ہوا اس میں بہت سی آیتیں کفار کے جواب میں بھی اتریں کفار کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ قرآن کریم ایک ساتھ سارا کیوں نہیں اترا؟ جس کے جواب میں فرمایا گیا آیت «لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا» [ 25۔ الفرقان: 32 ] ‏ یہ اس لیے کہ تیرے دل کو برقرار اور مضبوط رکھیں۔

پھر قرآن کریم کی تعریف میں بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگوں کے دلوں کی ہدایت ہے اور اس میں واضح اور روشن دلیلیں ہیں تدبر اور غور و فکر کرنے والا اس سے صحیح راہ پر پہنچ سکتا ہے یہ حق و باطل حرام و حلال میں فرق ظاہر کرنے والا ہے ہدایت و گمراہی اور رشد و برائی میں علیحدگی کرنے والا ہے، بعض سلف سے منقول ہے کہ صرف رمضان کہنا مکروہ ہے شہر رمضان یعنی رمضان کا مہینہ کہنا چاہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رمضان نہ کہو یہ اللہ تعالیٰ کا نام ہے شہر رمضان یعنی رمضان کا مہینہ کہا کرو، [ابن عدی:53/7:موضوع] ‏ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ اور محمد بن کعب رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے، سیدنا ابن عباس اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کا مذہب اس کے خلاف ہے، رمضان نہ کہنے کے بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے لیکن سنداً وہ کمزور ہے امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس کے رد میں باب باندھ کر بہت سی حدیثیں بیان فرمائی ہیں ایک میں ہے جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور نیک نیتی کے ساتھ رکھے اس کے سبب اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں وغیرہ۔ [صحیح بخاری:38] ‏ غرض اس آیت سے ثابت ہوا کہ جب رمضان کا چاند چڑھے کوئی شخص اپنے گھر ہو، سفر میں نہ ہو اور تندرست بھی ہو اسے روزے رکھنے لازمی اور ضروری ہیں، پہلے اس قسم کے لوگوں کو بھی جو رخصت تھی وہ اٹھ گئی اس کا بیان فرما کر پھر بیمار اور مسافر کے لیے رخصت کا بیان فرمایا کہ یہ لوگ روزہ ان دنوں میں نہ رکھیں اور پھر قضاء کر لیں یعنی جس کے بدن میں کوئی تکلیف ہو جس کی وجہ سے روزے میں مشقت پڑے یا تکلیف بڑھ جائے یا سفر میں ہو تو افطار کر لے اور جتنے روزے جائیں اتنے دن پھر قضاء کر لے۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان حالتوں میں رخصت عطا فرما کر تمہیں مشقت سے بچا لینا یہ سراسر ہماری رحمت کا ظہور ہے اور احکام اسلام میں آسانی ہے۔

صفحہ نمبر662

اب یہاں چند مسائل بھی سنئے [ ١ ] ‏ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جو شخص اپنے گھر میں مقیم ہو اور چاند چڑھ جائے رمضان شریف کا مہینہ آ جائے پھر درمیان میں اسے سفر درپیش ہو تو اسے روزہ ترک کرنا جائز نہیں کیونکہ ایسے لوگوں کو روزہ رکھنے کا صاف حکم قرآن پاک میں موجود ہے، ہاں ان لوگوں کو بحالت سفر روزہ چھوڑنا جائز ہے جو سفر میں ہوں اور رمضان کا مہینہ آ جائے، لیکن یہ قول غریب ہے، ابومحمد بن حزم نے اپنی کتاب“ محلی“ میں صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم کی ایک جماعت کا یہی مذہب نقل کیا ہے لیکن اس میں کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں فتح مکہ کے غزوہ کے لیے نکلے روزے سے تھے ”کدید“ میں پہنچ کر روزہ افطار کیا اور لوگوں کو بھی حکم دیا کہ روزہ توڑ دیں۔ [صحیح بخاری:1948] ‏

صفحہ نمبر663

[ ٢ ] ‏ صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رحمہ اللہ علیہم کی ایک اور جماعت نے کہا کہ سفر میں روزہ توڑ دینا واجب ہے کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت «فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ» [ 2۔ البقرہ: 185 ] ‏ لیکن صحیح قول جو جمہور کا مذہب ہے یہ ہے کہ آدمی کو اختیار ہے خواہ رکھے خواہ نہ رکھے اس لیے کہ ماہ رمضان میں لوگ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلتے تھے بعض روزے سے ہوتے تھے بعض روزے سے نہیں ہوتے تھے پس روزے دار بے روزہ پر اور بے روزہ دار روزہ دار پر کوئی عیب نہیں پکڑاتا تھا۔ [صحیح مسلم:1116] ‏ اگر افطار واجب ہوتا تو روزہ رکھنے والوں پر انکار کیا جاتا، بلکہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بحالت سفر روزہ رکھنا ثابت ہے، بخاری و مسلم میں ہے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رمضان المبارک میں سخت گرمی کے موسم میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر ہاتھ رکھے رکھے پھر رہے تھے ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما کے۔ [صحیح بخاری:1945] ‏

[ ٣ ] ‏ تیسرا مسئلہ۔ ایک جماعت علماء کا خیال ہے جن میں امام شافعی رحمہ اللہ بھی ہیں کہ سفر میں روزہ رکھنا نہ رکھنے سے افضل ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بحالت سفر روزہ رکھنا ثابت ہے، ایک دوسری جماعت کا خیال ہے کہ روزہ نہ رکھنا افضل ہے کیونکہ اس میں رخصت پر عمل ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر کے روزے کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو روزہ توڑ دے اس نے اچھا کیا اور جو نہ توڑے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ [صحیح مسلم:1121] ‏ ایک اور حدیث شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی رخصتوں کو جو اس نے تمہیں دی ہیں تم لے لو۔ [سنن نسائی:2258، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ تیسری جماعت کا قول ہے کہ رکھنا نہ رکھنا دونوں برابر ہے۔ ان کی دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث ہے کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں روزے اکثر رکھا کرتا ہوں تو کیا اجازت ہے کہ سفر میں بھی روزے رکھ لیا کروں فرمایا اگر چاہو تو رکھو [صحیح بخاری:1942] ‏

صفحہ نمبر664

بعض لوگوں کا قول ہے کہ اگر روزہ بھاری پڑتا ہو تو افطار کرنا افضل ہے، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا اس پر سایہ کیا گیا ہے پوچھا یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم یہ روزے سے ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں [صحیح بخاری:1946] ‏ یہ خیال رہے کہ جو شخص سنت سے منہ پھیرے اور روزہ چھوڑنا سفر کی حالت میں بھی مکروہ جانے تو اس پر افطار ضروری ہے اور روزہ رکھنا حرام ہے۔ مسند احمد وغیرہ میں سیدنا ابن عمر جابر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے مروی ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رخصت کو قبول نہ کرے اس پر عرفات کے پہاڑوں برابر گناہ ہو گا۔ [مسند احمد:71/2:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر665

[ ۴ ] ‏ چوتھا مسئلہ: آیا قضاء روزوں میں پے در پے روزے رکھنے ضروری ہیں یا جدا جدا بھی رکھ لیے جائیں تو حرج نہیں؟ ایک مذہب بعض لوگوں کا یہ ہے کہ قضاء کو مثل ادا کے پورا کرنا چاہیئے، ایک کے پیچھے ایک یونہی لگاتار روزے رکھنے چاہئیں دوسرے یہ کہ پے در پے رکھنے واجب نہیں خواہ الگ الگ رکھے خواہ ایک ساتھ اختیار ہے جمہور سلف و خلف کا یہی قول ہے اور دلائل سے ثبوت بھی اسی کا ہے، رمضان میں پے در پے رورزے رکھنا اس لیے ہیں کہ وہ مہینہ ہی ادائیگی روزہ کا ہے اور رمضان کے نکل جانے کے بعد تو صرف وہ گنتی پوری کرنی ہے خواہ کوئی دن ہو اسی لیے قضاء کے حکم کے بعد اللہ کی آسانی کی نعمت کا بیان ہوا ہے۔

صفحہ نمبر666

مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہتر دین وہی ہے جو آسانی والا ہو، بہتر دین وہی ہے جو آسانی والا ہو، [مسند احمد:479/3:حسن] ‏ مسند ہی میں ایک اور حدیث میں ہے، ابوعروہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے معلوم ہوتا تھا کہ وضو یا غسل کر کے تشریف لا رہے ہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے شروع کر دیے کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم کیا فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ فلاں کام میں کوئی حرج ہے؟ آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا دین آسانیوں والا ہے تین مرتبہ یہی فرمایا، [مسند احمد:69/5:ضعیف] ‏ مسند ہی کی ایک اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں لوگو آسانی کرو سختی نہ کرو تسکین دو نفرت نہ دلاؤ۔ [صحیح بخاری:6125] ‏

صفحہ نمبر667

بخاری و مسلم کی حدیث میں بھی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا تم دونوں خوشخبریاں دینا، نفرت نہ دلانا، آسانیاں کرنا سختیاں نہ کرنا، آپس میں اتفاق سے رہنا اختلاف نہ کرنا. [صحیح بخاری:6124] ‏ سنن اور مسانید میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں یکطرفہ نرمی اور آسانی والے دین کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ [مسند احمد:266/5:حسن] ‏

صفحہ نمبر668

سیدنا محجن بن ادرع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا غور سے آپ اسے دیکھتے رہے پھر فرمایا کیا تم اسے سچائی کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تمام اہل مدینہ سے زیادہ نماز پڑھنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے نہ سناؤ کہیں یہ اس کی ہلاکت کا باعث نہ ہو سنو اللہ تعالیٰ کا ارادہ اس امت کے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں۔ [مسند احمد:32/5:ضعیف] ‏ پس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ مریض اور مسافر وغیرہ کو یہ رخصت دینا اور انہیں معذور جاننا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ آسانی کا ہے سختی کا نہیں اور قضاء کا حکم گنتی کے پورا کرنے کے لیے ہے اور اس رحمت نعمت ہدایت اور عبادت پر تمہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی بڑائی اور ذکر کرنا چاہیئے جیسے اور جگہ حج کے موقع پر فرمایا آیت «فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَاءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا» [ 2۔ البقرہ: 200 ] ‏ یعنی جب احکام حج ادا کر چکو تو اللہ کا ذکر کرو۔

اور جگہ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد فرمایا کہ جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور رزق تلاش کرو اور اللہ کا ذکر زیادہ کرو تاکہ تمہیں فلاح ملے، اور جگہ فرمایا آیت «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ» [ 15۔ الحجر: 98 ] ‏ یعنی سورج کے نکلنے سے پہلے سورج کے ڈوبنے سے پہلے رات کو اور سجدوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیا کرو، اسی لیے مسنون طریقہ یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کی حمد تسبیح اور تکبیر پڑھنی چاہیئے۔

صفحہ نمبر669

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز سے فارغ ہونا صرف اللہ اکبر کی آوازوں سے جانتے تھے۔ [صحیح بخاری:843] ‏ یہ آیت دلیل ہے اس امر کی کہ عید الفطر میں بھی تکبیریں پڑھنی چاہئیں داود، بن علی اصبہانی ظاہری رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ اس عید میں تکبیروں کا کہنا واجب ہے کیونکہ اس میں صیغہ امر کا ہے «ولتکبرو اللہ» اور اس کے بالکل برخلاف حنفی مذہب ہے وہ کہتے ہیں کہ اس عید میں تکبیریں پڑھنا مسنون نہیں، باقی بزرگان دین اسے مستحب بتاتے ہیں گو بعض تفصیلوں میں قدرے اختلاف ہے پھر فرمایا تاکہ تم شکر کرو یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لا کر اس کے فرائض کو ادا کر کے اس کے حرام کردہ کاموں سے بچ کر اس کی حدود کی حفاظت کر کے تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔

صفحہ نمبر670

دعا اور اللہ مجیب الدعوات ٭٭

ایک اعرابی نے پوچھا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہمارا رب قریب ہے؟ اگر قریب ہو تو ہم اس سے سرگوشیاں کر لیں یا دور ہے؟ اگر دور ہو تو ہم اونچی اونچی آوازوں سے اسے پکاریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس پر یہ آیت اتری. [تفسیر ابن جریر الطبری:480/3] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال پر کہ ہمارا رب کہاں ہے؟ یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:481/3] ‏ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آیت «وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ» [ 40۔ غافر: 60 ] ‏ نازل ہوئی یعنی مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کرتا رہوں گا تو لوگوں نے پوچھا کہ دعا کس وقت کرنی چاہیئے؟ اس پر یہ آیت اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:2915] ‏۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے ہر بلندی پر چڑھتے وقت اور ہر وادی میں اترتے وقت بلند آوازوں سے تکبیر کہتے جا رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ کر فرمانے لگے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو تم کسی کم سننے والے یا دور والے کو نہیں پکار رہے بلکہ جسے تم پکارتے ہو وہ تم سے تمہاری سواریوں کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے، اے عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ! سن لو! جنت کا خزانہ «لاحول ولاقوۃ الا باللہ» ہے [صحیح بخاری:6384] ‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میرے ساتھ جیسا عقیدہ رکھتا ہے میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جب بھی وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے میں اس کے قریب ہی ہوتا ہوں [صحیح مسلم:2686] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جب مجھے یاد کرتا ہے اور اس کے ہونٹ میرے ذکر میں ہلتے ہیں میں اس کے قریب ہوتا ہوں اس کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ [سنن ابن ماجه:379، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اس مضمون کی آیت کلام پاک میں بھی ہے فرمان ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ» [ 16۔ النحل: 128 ] ‏ جو تقویٰ و احسان و خلوص والے لوگ ہوں ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتا ہے، موسیٰ اور ہارون علیہما السلام سے فرمایا جاتا ہے آیت «اِنَّنِيْ مَعَكُمَآ اَسْمَعُ وَاَرٰى» [ 20۔ طہٰ: 46 ] ‏ میں تم دونوں کے ساتھ ہوں اور دیکھ رہا ہوں، مقصود یہ ہے کہ باری تعالیٰ دعا کرنے والوں کی دعا کو ضائع نہیں کرتا نہ ایسا ہوتا ہے کہ وہ اس دعا سے غافل رہے یا نہ سنے اس نے دعا کرنے کی دعوت دی ہے اور اس کے ضائع نہ ہونے کا وعدہ کیا ہے۔

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہاتھ بلند کر کے دعا مانگتا ہے تو وہ «ارحم الراحمین» اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرتے ہوئے شرماتا ہے۔ [سنن ابوداود:1488، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر671

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ سے کوئی ایسی دعا کرتا ہے جس میں نہ گناہ ہو نہ رشتے ناتے ٹوٹتے ہوں تو اسے اللہ تین باتوں میں سے ایک ضرور عطا فرماتا ہے یا تو اس کی دعا اسی وقت قبول فرما کر اس کی منہ مانگی مراد پوری کرتا یا اسے ذخیرہ کر کے رکھ چھوڑتا ہے اور آخرت میں عطا فرماتا ہے یا اس کی وجہ سے کوئی آنے والی بلا اور مصیبت کو ٹال دیتا ہے، لوگوں نے یہ سن کر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو ہم بکثرت دعا مانگا کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کے ہاں کیا کمی ہے؟ [مسند احمد:18/3:حسن] ‏

صفحہ نمبر672

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین کا جو مسلمان اللہ عزوجل سے دعا مانگے اسے اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے یا تو اسے اس کی منہ مانگی مراد ملتی ہے یا ویسی ہی برائی ٹلتی ہے جب تک کہ گناہ کی اور رشتہ داری کے کٹنے کی دعا نہ ہو [سنن ترمذي:3573، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک کوئی شخص دعا میں جلدی نہ کرے اس کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے جلدی کرنا یہ کہ کہنے لگے میں تو ہر چند دعا مانگی لیکن اللہ قبول نہیں کرتا [صحیح بخاری:6340] ‏ بخاری کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اسے ثواب میں جنت عطا فرماتا ہے، صحیح مسلم میں یہ بھی ہے کہ نامقبولیت کا خیال کر کے وہ نا امیدی کے ساتھ دعا مانگنا ترک کر دے یہ جلدی کرنا ہے۔ [صحیح مسلم:2735] ‏ ابو جعفر طبری کی تفسیر میں یہ قول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان کیا گیا ہے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دل مثل برتنوں کے ہیں بعض بعض سے زیادہ نگرانی کرنے والے ہوتے ہیں، اے لوگوں تم جب اللہ تعالیٰ سے دعا مانگا کرو تو قبولیت کا یقین رکھا کرو، سنو غفلت والے دل کی دعا اللہ تعالیٰ ایک مرتبہ بھی قبول نہیں فرماتا۔ [مسند احمد:177/2:ضعیف] ‏

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ الہٰ العالمین! عائشہ کے اس سوال کا کیا جواب ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے مراد اس سے وہ شخص ہے جو نیک اعمال کرنے والا ہو اور سچی نیت اور نیک دلی کے ساتھ مجھے پکارے تو میں لبیک کہہ کر اس کی حاجت ضرور پوری کر دیتا ہوں [المیزان180/1:باطل و ضعیف جداً ] ‏ یہ حدیث اسناد کی رو سے غریب ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اے اللہ تو نے دعا کا حکم دیا ہے اور اجابت کا وعدہ فرمایا ہے میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں الٰہی میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں اے لاشریک اللہ میں حاضر ہوں حمد و نعمت اور ملک تیرے ہی لیے ہے تیرا کوئی شریک نہیں میری گواہی ہے کہ تو نرالا یکتا بیمثل اور ایک ہی ہے تو پاک ہے، بیوی بچوں سے دور ہے تیرا ہم پلہ کوئی نہیں تیری کفو کا کوئی نہیں تجھ جیسا کوئی نہیں میری گواہی کہ تیرا وعدہ سچا تیری ملاقات حق جنت و دوزخ قیامت اور دوبارہ جینا یہ سب برحق امر ہیں۔ [ الدیلمی فی مسند الفردوس:1798:ضعیف جداً] ‏

صفحہ نمبر673

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے اے ابن آدم! ایک چیز تو تیری ہے ایک میری ہے اور ایک مجھ اور تجھ میں مشترک ہے خالص میرا حق تو یہ ہے کہ ایک میری ہی عبادت کرے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ گویا میرے لیے مخصوص یہ ہے کہ تیرے ہر ہر عمل کا پورا پورا بدلہ میں تجھے ضرور دوں گا کسی نیکی کو ضائع نہ کروں گا مشترک چیز یہ ہے کہ تو دعا کر اور میں قبول کروں تیرا کام دعا کرنا اور میرا کام قبول کرنا [بزار فی کشف الاستار:؛18/1:ضعیف] ‏ دعا کی اس آیت کو روزوں کے احکام کی آیتوں کے درمیان وارد کرنے کی حکمت یہ ہے کہ روزے ختم ہونے کے بعد لوگوں کو دعا کی ترغیب ہو بلکہ روزہ افطار کے وقت وہ بکثرت دعائیں کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ روزے دار افطار کے وقت جو دعا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما افطار کے وقت اپنے گھر والوں کو اور بچوں کو سب کو بلا لیتے اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ [طیالسی:2262:ضعیف] ‏ ابن ماجہ میں بھی یہ روایت ہے اور اس میں صحابی کی یہ دعا منقول ہے دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ‏ءٍ ان تغفرلی» یعنی اے اللہ میں تیری اس رحمت کو تجھے یاد دلا کر جس نے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو میرے گناہ معاف فرما دے۔ [سنن ابن ماجه:1753، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ اور حدیث میں تین شخصوں کی دعا رد نہیں ہوتی عادل بادشاہ، روازے دار اور مظلوم اسے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ بلند کرے گا مظلوم کی بد دعا کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا گو دیر سے کروں۔ [سنن ترمذي:3598، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر674

رمضان میں مراعات اور کچھ پابندیاں ٭٭

ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھا کہ افطار کے بعد کھانا پینا، جماع کرنا عشاء کی نماز تک جائز تھا اور اگر کوئی اس سے بھی پہلے سوگیا تو اس پر نیند آتے ہی حرام ہو گیا، اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم کو قدرے مشقت ہوئی جس پر یہ رخصت کی آیتیں نازل ہوئیں اور آسانی کے احکام مل گئے رفث سے مراد یہاں جماع ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عطا مجاہد سعید بن جبیر طاؤس سالم بن عبداللہ بن عمرو بن دینا حسن قتادہ زہری ضحاک، ابراہیم نخعی، سدی، عطا خراسانی، مقاتل بن حبان رحمہم اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:367/1] ‏ لباس سے مراد سکون ہے، ربیع بن انس رحمہ اللہ لحاف کے معنی بیان کرتے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:381/1] ‏ مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی کے آپس کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ انہیں ان راتوں میں بھی اجازت دی جاتی ہے پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ اس آیت کا شان نزول کیا ہے؟ جس میں بیان ہو چکا ہے کہ جب یہ حکم تھا کہ افطار سے پہلے اگر کوئی سوجائے تو اب رات کو جاگ کر کھا پی نہیں سکتا اب اسے یہ رات اور دوسرا دن گزار کر مغرب سے پہلے کھانا پینا حلال ہو گا۔

صفحہ نمبر675

سیدنا قیس بن صرمہ انصاری رضی اللہ عنہ دن بھر کھیتی باڑی کا کام کر کے شام کو گھر آئے بیوی سے کہا کچھ کھانے کو ہے؟ جواب ملا کچھ نہیں میں جاتی ہوں اور کہیں سے لاتی ہوں وہ تو گئیں اور یہاں ان کی آنکھ لگ گئی جب آ کر دیکھا تو بڑا افسوس ہوا کہ اب یہ رات اور دوسرا دن بھوکے پیٹوں کیسے گزرے گا؟ چنانچہ جب آدھا دن ہوا تو سیدنا قیس رضی اللہ عنہ بھوک کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر ہوا اس پر یہ آیت اتری اور مسلمان بہت خوش ہوئے۔ [صحیح بخاری:1915] ‏ روایت میں یہ بھی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم رمضان بھر عورتوں کے پاس نہیں جاتے تھے لیکن بعض لوگوں سے کچھ ایسے قصور بھی ہو جایا کرتے تھے جس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4508 ] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ قصور کئی ایک حضرات سے ہو گیا تھا جن میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے جنہوں نے عشاء کی نماز کے بعد اپنی اہلیہ سے مباشرت کی تھی پھر دربار نبوت میں شکایتیں ہوئی اور یہ رحمت کی آیتیں اتریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2948] ‏ ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آ کر یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر رضی اللہ عنہ تم سے تو ایسی امید نہ تھی اسی وقت یہ آیت اتری ایک روایت میں ہے کہ سیدنا قیس رضی اللہ عنہ نے عشاء کی نماز کے بعد نیند سے ہوشیار ہو کر کھا پی لیا تھا اور صبح حاضر ہو کر سرکار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنا قصور بیان کیا تھا ایک اور روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب مباشرت کا ارادہ کیا تو بیوی صاحبہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آ گئی تھی لیکن انہوں نے اسے بہانہ سمجھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:2943] ‏ اس رات آپ دیر تک مجلس نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھے رہے تھے اور بہت رات گئے گھر پہنچے تھے ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی ایسا ہی قصور ہو گیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2949:حسن] ‏

«مَا کَتَبَ اللّٰہُ» سے مراد اولاد ہے، بعض نے کہا جماع مراد ہے بعض کہتے ہیں لیلۃ القدر مراد ہے قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں مراد یہ رخصت ہے تطبیق ان سب اقوال میں اس طرح ہو سکتی ہے کہ عموم کے طور پر سبھی مراد ہیں۔ جماع کی رخصت کے بعد کھانے پینے کی اجازت مل رہی ہے کہ صبح صادق تک اس کی بھی اجازت ہے۔

صفحہ نمبر676

صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب [ِمنَ الفجر] ‏ کا لفظ نہیں اترا تھا تو چند لوگوں نے اپنے پاؤں میں سفید اور سیاہ دھاگے باندھ لیے اور جب تک ان کی سفیدی اور سیاہی میں تمیز نہ ہوئی کھاتے پیتے رہے اس کے بعد یہ لفظ اترا اور معلوم ہو گیا کہ اس سے مراد رات سے دن ہے۔ [صحیح بخاری:1917] ‏ مسند احمد میں ہے سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دو دھاگے [ سیاہ اور سفید ] ‏ اپنے تکیے تلے رکھ لیے اور جب تک ان کے رنگ میں تمیز نہ ہوئی تب تک کھاتا پیتا رہا صبح کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیرا تکیہ بڑا لمبا چوڑا نکل اس سے مراد تو صبح کی سفیدی کا رات کی سیاہی سے ظاہر ہونا ہے۔ یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:1916] ‏ مطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امر قول کا یہ ہے کہ آیت میں تو دھاگوں سے مراد دن کی سفیدی اور رات کی تاریکی ہے اگر تیرے تکیہ تلے یہ دونوں آ جاتی ہوں تو گویا اس کی لمبائی مشرق و مغرب تک کی ہے، صحیح بخاری میں یہ تفسیر بھی روایتا موجود ہے۔ [صحیح بخاری:4509] ‏ بعض روایتوں میں یہ لفظ بھی ہے کہ پھر تو تو بڑی لمبی چوڑی گردن والا ہے، بعض لوگوں نے اس کے معنی بیان کئے ہیں کہ کند ذہن ہے لیکن یہ معنی غلط ہیں، بلکہ مطلب دونوں جملوں کا ایک ہی ہے کیونکہ جب تکیہ اتنا بڑا ہے تو گردن بھی اتنی بڑی ہی ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر677

بخاری شریف میں سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کا اسی طرح کا سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی طرح کا جواب تفصیل وار یہی ہے، آیت کے ان الفاظ سے سحری کھانے کا مستحب ہونا بھی ثابت ہوتا ہے اس لیے کہ اللہ کی رخصتوں پر عمل کرنا اسے پسند ہے، حضور علیہ السلام کا فرمان ہے کہ سحری کھایا کرو اس میں برکت ہے [صحیح بخاری:1923] ‏ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے ہی کا فرق ہے۔ [صحیح مسلم:1096] ‏ سحری کا کھانا برکت ہے اسے نہ چھوڑو اگر کچھ نہ ملے تو پانی کا گھونٹ ہی سہی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔ [مسند احمد:44/3:صحیح بالشواھد] ‏ اسی طرح کی اور بھی بہت سے حدیثیں ہیں سحری کو دیر کر کے کھانا چاہیئے ایسے وقت کہ فراغت کے کچھ ہی دیر بعد صبح صادق ہو جائے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سحری کھاتے ہی نماز کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے اذان اور سحری کے درمیان اتنا ہی فرق ہوتا تھا کہ پچاس آیتیں پڑھ لی جائیں۔ [صحیح بخاری:1921] ‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تک میری امت افطار میں جلدی کرے اور سحری میں تاخیر کرے تب تک بھلائی میں رہے گی۔ [مسند احمد:147/5:صحیح بالشواھد] ‏ یہ بھی حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام غذائے مبارک رکھا ہے۔ [سنن ابوداود:2344، قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواھد] ‏ مسند احمد وغیرہ کی حدیچ میں ہے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی ایسے وقت کہ گویا سورج طلوع ہونے والا ہی تھا لیکن اس میں ایک راوی عاصم بن ابو نجود منفرد ہیں اور مراد اس سے دن کی نزدیکی ہے جیسے فرمان باری تعالیٰ فاذا بلغن اجلہن الخ یعنی جب وہ عورتیں اپنے وقتوں کو پہنچ جائیں مراد یہ ہے کہ جب عدت کا زمانہ ختم ہو جانے کے قریب ہو یہی مراد یہاں اس حدیث سے بھی ہے کہ انہوں نے سحری کھائی اور صبح صادق ہو جانے کا یقین نہ تھا بلکہ ایسا وقت تھا کہ کوئی کہتا تھا ہو گئی کوئی کہتا تھا نہیں ہوئی کہ اکثر اصحاب رسول اللہ رضی اللہ عنہم کا دیر سے سحری کھانا اور آخری وقت تک کھاتے رہنا ثابت ہے۔ جیسے ابوبکر، عمر، علی، ابن مسعود، حذیفہ، ابوہریرہ ابن عمر، ابن عباس، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین کی بھی ایک بہت بڑی جماعت سے صبح صادق طلوع ہونے کے بالکل قریب تک ہی سحری کھانا مروی ہے، جیسے محمد بن علی بن حسین، ابومجلز، ابراہیم نخعی، ابوالضحی، ابووائل رحمہ اللہ علیہم وغیرہ،

شاگردان ابن مسعود رضی اللہ عنہ، عطا، حسن، حاکم بن عیینہ، مجاہد، عروہ بن زبیر، ابو الشعشاء، جابر بن زیاد، اعمش اور جابر بن رشد رحمہ اللہ علیہم اللہ تعالیٰ ان سب پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ہم نے ان سب کی اسناد اپنی مستقل کتاب کتاب الصیام میں بیان کر دی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن جریری نے اپنی تفسیر میں بعض لوگوں سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ سورج کے طلوع ہونے تک کھانا پینا جائز ہے جیسے غروب ہوتے ہی افطار کرنا، لیکن یہ قول کوئی اہل علم قبول نہیں کر سکتا کیونکہ نص قرآن کے خلاف ہے قرآن میں حیط کا لفظ موجود ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ کی اذان سن کر تم سحری سے نہ رک جایا کرو وہ رات باقی ہوتی ہے اذان دے دیا کرتے ہیں تم کھاتے پیتے رہو جب تک عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی اذان نہ سن لو وہ اذان نہیں کہتے جب تک فجرطلوع نہ ہو جائے۔ [صحیح بخاری:623] ‏ مسند احمد میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ وہ فجر نہیں جو آسمان کے کناروں میں لمبی پھیلتی ہے بلکہ وہ جو سرخی والی اور کنارے کنارے ظاہر ہونے والی ہوتی ہے۔ [مسند احمد:23/4:حسن] ‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اس میں ہے کہ اس پہلی فجر کو جو طلوع ہو کر اوپر کو چڑھتی ہے دیکھ کر کھانے پینے سے نہ رکو بلکہ کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ سرخ دھاری پیش ہو جائے۔ [سنن ابوداود:2348، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ ایک اور حدیث میں صبح کاذب اور اذان بلال کو ایک ساتھ بھی بیان فرمایا ہے۔ [صحیح مسلم:1094] ‏ ایک اور روایت میں صبح کاذب کو صبح کی سفیدی کے ستون کی مانند بتایا ہے، دوسری روایت میں اس پہلی اذان کو جس کے مؤذن بلال رضی اللہ عنہ تھے یہ وجہ بیان کی ہے کہ وہ سوتوں کو جگانے اور نماز تہجد پڑھنے والوں اور قضاء لوٹانے کے لیے ہوتی [سنن ابوداود:2346، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ فجر اس طرح نہیں ہے جب تک اس طرح نہ ہو [ یعنی آسمان میں اونچی چڑھنے والی نہیں ] ‏ [صحیح بخاری:621] ‏ بلکہ کناروں میں دھاری کی طرح ظاہر ہونے والی۔

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ فجر دوہیں ایک تو بھیڑیئے کی دم کی طرح ہے اس سے روزے دار پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی ہاں وہ فجر جو کناروں میں ظاہر ہو وہ صبح کی نماز اور روزے دار کا کھانا موقوف کرنے کا وقت ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3003:جید] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو سفیدی آسمان کے نیچے سے اوپر کو چڑھتی ہے اسے نماز کی حلت اور روزے کی حرمت سے کوئی سروکار نہیں لیکن فجر جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر چمکنے لگتی ہے وہ کھانا پینا حرام کرتی ہے۔ حضرت عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آسمان میں لمبی لمبی چڑھنے والی روشنی نہ تو روزہ رکھنے والے پر کھانا پیناحرام کرتی ہے نہ اس سے نماز کا وقت آیا ہوا معلوم ہوسکتا ہے نہ حج فوت ہوتا ہے لیکن جو صبح پہاڑوں کی چوٹیوں پر پھیل جاتی ہے یہ وہ صبح ہے کہ روزہ دار کے لیے سب چیزیں حرام کر دیتی ہے اور نمازی کو نماز حلال کر دیتی ہے اور حج فوت ہو جاتا ہے ان دونوں روایتوں کی سند صحیح ہے اور بہت سے سلف سے منقول ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے۔

صفحہ نمبر678

مسئلہ ٭٭

مسئلہ: چونکہ جماع کا اور کھانے پینے کا آخری وقت اللہ تعالیٰ نے روزہ رکھنے والے کے لیے صبح صادق کا مقرر کیا ہے اس سے اس مسئلہ پر بھی استدلال ہوسکتا ہے کہ صبح کے وقت جو شخص جنبی اٹھا وہ غسل کر لے اور اپنا روزہ پورا کر لے اس پر کوئی حرج نہیں، چاروں اماموں اور سلف و خلف کے جمہور علماء کرام کا یہی مذہب ہے، بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جماع کرتے صبح کے وقت جنبی اٹھتے پھر غسل کر کے روزہ رکھتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جنبہ ہونا احتلام کے سبب نہ ہوتا تھا، سیدہ ام سلمہ والی روایت میں ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ افطار کرتے تھے نہ قضاء کرتے تھے،

[صحیح بخاری:1925] ‏ صحیح مسلم شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں صبح نماز کا وقت آجانے تک جنبی ہوتا ہوں تو پھر کیا میں روزہ رکھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی بات میرے ساتھ بھی ہوتی ہے اور میں روزہ رکھتا ہوں اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے نہیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تو سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واللہ! مجھے تو امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ تقویٰ کی باتوں کو جاننے والا میں ہوں۔ [صحیح مسلم:1110] ‏

مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ جب صبح کی اذان ہو جائے اور تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ اس دن روزہ نہ رکھے، اس کی اسناد بہت عمدہ ہے اور یہ حدیث شرط شیخین پر ہے۔ جیسے کہ ظاہر ہے یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، [صحیح بخاری:1925] ‏ سنن نسائی میں یہ حدیث بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما ہے، وہ اسامہ بن زید سے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور مرفوع نہیں اور بعض دیگر علماء کا یہی مذہب ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، عطا، ہشام بن عروہ اور حسن بصری رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔

بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنبی ہو کر سوگیا ہو اور آنکھ کھلے تو صبح صادق ہو گئی ہو تو اس کے روزے میں کوئی نقصان نہیں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما والی حدیث کا یہی مطلب ہے اور اگر اس نے عمدا غسل نہیں کیا اور اسی حالت میں صبح صادق ہو گئی تو اس کا روزہ نہیں ہو گا عروہ، طاؤس اور حسن رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اگر فرضی روزہ ہو تو پورا تو کر لے لیکن قضاء لازم ہے اور نفلی روزہ ہو تو کوئی حرج نہیں، ابراہیم نخعی رحمہ اللہ یہی کہتے ہیں، خواجہ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت ہے بعض کہتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی حدیث سے منسوخ ہے لیکن حقیقت میں تاریخ کا پتہ نہیں جس سے نسخ ثابت ہو سکے۔

صفحہ نمبر679

ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی ناسخ یہ آیت قرآنی ہے لیکن یہ بھی دور کی بات ہے اس لیے کہ اس آیت کا بعد میں ہونا تاریخ سے ثابت نہیں بلکہ اس حیثیت سے تو بظاہر یہ حدیث اس آیت کے بعد کی ہے، بعض لوگ کہتے ہیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ” لا“ کمال نفی کا ہے یعنی اس شخص کا روزہ کامل نہیں کیونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا والی حدیث سے جواز صاف طور سے ثابت ہو رہا ہے یہی مسلک ٹھیک بھی ہے۔ اور دوسرے تمام اقوال سے یہ قول عمدہ ہے اور یوں کہنے سے دونوں روایتوں میں تطبیق کی صورت بھی نکل آتی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے کہ روزے کو رات تک پورا کرو اس سے ثابت ہوا کہ سورج کے ڈوبتے ہی روزہ افطار کر لینا چاہیئے، بخاری مسلم میں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے توروزے دار افطار کر لے۔ [صحیح بخاری:1954] ‏ بخاری مسلم میں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک لوگ افطار کرنے میں جلدی کریں گے خیر سے رہیں گے۔ [صحیح بخاری:1957] ‏ مسند احمد میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل کا ارشاد ہے کہ مجھے سب سے زیادہ پیارے وہ بندے ہیں جو روزہ افطار کرنے میں جلدی کرنے والے ہیں۔ [مسند احمد:329/2:ضعیف] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کو حسن غریب کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر680

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ بشری بن خصاصیہ کی بیوی صاحبہ لیلیٰ فرماتی ہیں کہ میں نے دو روزوں کو بغیر افطار کئے ملانا چاہا تو میرے خاوند نے مجھے منع کیا اور کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ کام نصرانیوں کا ہے تم تو روزے اس طرح رکھو جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ رات کو روزہ افطار کر لیا کرو۔ [مسند احمد:225/5:صحیح] ‏ اور بھی بہت سی احادیث روزے سے روزے کو ملانے کی ممانعت آئی ہے۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے سے روزہ نہ ملاؤ تو لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تو ملاتے ہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم جیسا نہیں ہوں میں رات گزارتا ہوں میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے لیکن لوگ پھر بھی اس سے باز نہ رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن دو راتوں کا برابر روزہ رکھا پھر چاند دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاند نہ چڑھتا تو میں یونہی روزوں کو ملائے جاتا گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عاجزی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔ [صحیح بخاری:1965] ‏

صفحہ نمبر681

بخاری و مسلم میں بھی یہ حدیث ہے اور اسی طرح روزے کے بے افطار کئے اور رات کو کچھ کھائے بغیر دوسرے روزے سے ملا لینے کی ممانعت میں بخاری و مسلم میں سیدنا انس سیدنا ابن عمر اور عائشہ رضی اللہ عنہم سے بھی مرفوع حدیثیں مروی ہیں۔ [صحیح بخاری:1964] ‏ پس ثابت ہوا کہ امت کو تو منع کیا گیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اس سے مستثنیٰ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی طاقت تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی جاتی تھی، یہ بھی خیال رہے کہ مجھے میرا رب کھلا پلا دیتا ہے اس سے مراد حقیقتاً کھانا پینا نہیں کیونکہ پھر تو روزے سے روزے کا وصال نہ ہوا بلکہ یہ صرف روحانی طور پر مدد ہے جیسے کہ ایک عربی شاعر کا شعر ہے ؎:

«لہا احادیث من ذکراک تشغلہا» «عن الشراب وتلہیہا عن الزاد»

یعنی اسے تیرے ذکر اور تیری باتوں میں وہ دلچسپی ہے کہ کھانے پینے یک قلم بےپرواہ ہو جاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص دوسری سحری تک رک رہنا چاہے تو یہ جائز ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روزے کو روزے سے مت ملاؤ جو ملانا ہی چاہے تو سحری تک ملا لے لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ملا دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تم جیسا نہیں مجھے تو رات ہی کو کھلانے والا کھلادیتا ہے اور پلانے والا پلا دیتا ہے۔ [صحیح بخاری:1967] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ ایک صحابیہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی آپ سحری کھا رہے تھے فرمایا آؤ تم بھی کھا لو اس نے کہا میں تو روزے سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روزہ کس طرح رکھتی ہو اس نے بیان کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح سحری کے وقت سے دوسری سحری کے وقت تک کا ملا ہوا روزہ کیوں نہیں رکھتیں؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:3042:ضعیف] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سحری سے دوسری سحری تک کا روزہ رکھتے تھے، [عبدالرزاق:7752:ضعیف] ‏ ابن جریر میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ سلف صالحین سے مروی ہے کہ وہ کئی کئی دن تک پے در پے بغیر کچھ کھائے روزہ رکھتے تھے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عبادت کے طور پر نہ تھا کہ بلکہ نفس کو مارنے کے لیے ریاضت کے طور پر تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے سمجھا ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے روکنا صرف شفقت اور مہربانی کے طور پر تھا نا کہ ناجائز بتانے کے طور پر جیسے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رحم کھا کر اس سے منع فرمایا تھا، پس سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے عامر رحمہ اللہ اور ان کی راہ چلنے والے اپنے نفس میں قوت پاتے تھے اور روزے پر روزہ رکھے جاتے تھے، یہ بھی مروی کہ جب وہ افطار کرتے تو پہلے گھی اور کڑوا گوند کھاتے تاکہ پہلے غذا پہنچنے سے آنتیں جل نہ جائیں، مروی ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ سات سات دن تک برابر روزے سے رہتے اس اثناء میں دن کو یا رات کو کچھ نہ کھاتے اور پھر ساتویں دن خوب تندرست چست وچالاک اور سب سے زیادہ قوی پائے جاتے۔

ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دن کا روزہ فرض کر دیا رہی رات تو جو چاہے کھا لے جو نہ چاہے نہ کھائے پھر فرمان ہوتا ہے کہ اعتکاف کی حالت میں عورتوں سے مباشرت نہ کرو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے جو شخص مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہو خواہ رمضان میں خواہ اور مہینوں میں اس پر دن کے وقت یا رات کے وقت اپنی بیوی سے جماع کرنا حرام ہے جب تک اعتکاف پورا نہ ہو جائے ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں پہلے لوگ اعتکاف کی حالت میں بھی جماع کر لیا کرتے تھے جس پر یہ آیت اتری اور مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے پر جماع حرام کیا گیا۔ مجاہدرحمہ اللہ اور قتادہ رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:541/3:] ‏

صفحہ نمبر682

پس علمائے کرام کا متفقہ فتویٰ ہے کہ اعتکاف والا اگر کسی ضروری حاجت کے لیے گھر میں جائے مثلاً پیشاب پاخانہ کے لیے یا کھانا کھانے کے لیے تو اس کام سے فارغ ہوتے ہی مسجد میں چلا آئے وہاں ٹھہرنا جائز نہیں نہ اپنی بیوی سے بوس وکنار وغیرہ جائز ہے نہ کسی اور کام میں سوائے اعتکاف کے مشغول ہونا اس کے لیے جائز ہے بلکہ بیمار کی بیمار پرسی کے لیے بھی جانا جائز نہیں ہاں یہ اور بات ہے کہ چلتے چلتے پوچھ لے اعتکاف کے اور بھی بہت سے احکام ہیں بعض میں اختلاف بھی ہے جن سب کو ہم نے اپنی مستقل کتاب کتاب الصیام کے آخر میں بیان کیے ہیں وللہ الحمد والمنۃ۔

چونکہ قرآن پاک میں روزے کے بیان کے بعد اعتکاف کا ذکر ہے اس لیے اکثر مصنفین نے بھی اپنی اپنی کتابوں میں روزے کے بعد ہی اعتکاف کے احکام بیان کئے ہیں اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اعتکاف روزے کی حالت میں کرنا چاہیئے یا رمضان کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی رمضان شریف کے آخری دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امہات المؤمنین رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ [صحیح بخاری:2026] ‏

بخاری و مسلم میں ہے کہ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعتکاف کی حالت میں حاضر ہوتی تھیں اور کوئی ضروری بات پوچھنے کی ہوتی تو وہ دریافت کر کے چلی جاتی ایک مرتبہ رات کو جب جانے لگیں تو چونکہ مکان مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ہو لیے کہ پہنچا آئیں راستہ میں دو انصاری صحابی مل گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ کو دیکھ کر شرم کے مارے جلدی جلدی قدم بڑھا کر جانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ سنو یہ میری بیوی صفیہ ہیں وہ کہنے لگے سبحان اللہ! [ کیا ہمیں کوئی اور خیال بھی ہو سکتا ہے؟ ] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا شیطان انسان کی رگ رگ میں خون کی طرح پھرتا رہتا ہے مجھے خیال ہوا کہ کہیں تمہارے دل میں کوئی بدگمانی نہ پیدا کر دے۔ [صحیح بخاری:2035] ‏

صفحہ نمبر683

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس واقعہ سے اپنی امت کو گویا سبق سکھا رہے ہیں کہ وہ تہمت کی جگہوں سے بچتے رہیں ورنہ ناممکن ہے کہ وہ پاکباز صحابہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کوئی برا خیال بھی دل میں لائیں اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی نسبت یہ خیال فرمائیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

آیت میں مراد مباشرت سے جماع اور اس کے اسباب ہیں جیسے بوس و کنار وغیرہ ورنہ کسی چیز کا لینا دینا وغیرہ یہ سب باتیں جائز ہیں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کی حالت میں میری طرف جھکا دیا کرتے تھے میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیا کرتی تھی حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کے دنوں میں ضروری حاجت کے رفع کے سوا اور وقت گھر میں تشریف نہیں لاتے تھے سیدہ عائشہ فرماتی ہیں اعتکاف کی حالت میں تو چلتے چلتے ہی گھر کے بیمار کی بیمار پرسی کر لیا کرتی ہوں۔ [صحیح بخاری:2029] ‏ پھر فرماتا ہے کہ یہ ہماری بیان کردہ باتیں اور فرض کئے ہوئے احکام اور مقرر کی ہوئی حدیں ہیں روزے اور روزوں کے احکام اور اس کے مسائل اور اس میں جو کام جائز ہیں یا جو ناجائز ہیں غرض وہ سب ہماری حدبندیاں ہیں خبردار ان کے قریب بھی نہ آنا نہ ان سے تجاوز کرنا نہ ان کے آگے بڑھنا۔

بعض کہتے ہیں یہ حد اعتکاف کی حالت میں مباشرت سے الگ رہنا ہے بعض کہتے ہیں ان آیتوں کے چاروں حکم مراد ہے پھر فرمایا جس طرح روزے اور اس کے احکام اور اس کے مسائل اور اس کی تفصیل ہم نے بیان کر دی اسی طرح اور احکام بھی ہم اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت سب کے سب تمام جہان کے لیے بیان کیا کرتے ہیں تاکہ وہ یہ معلوم کر سکیں کہ ہدایت کیا ہے اور اطاعت کسے کہتے ہیں؟ اور اس بنا پر وہ متقی بن جائیں جیسے اور جگہ ہے آیت «هُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ عَلٰي عَبْدِهٖٓ اٰيٰتٍ بَيِّنٰتٍ لِّيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَاِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [ 57۔ الحدید: 9 ] ‏ وہ اللہ جو اپنے بندے پر روشن آیتیں نازل فرماتا ہے تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے اللہ تعالیٰ تم پر رافت و رحمت کرنے والا ہے۔

صفحہ نمبر684

منصف، انصاف اور مدعی ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جس پر کسی اور کا مال چاہیئے اور اس حقدار کے پاس کوئی دلیل نہ ہو تو یہ شخص کا انکار کر جائے اور حاکم کے پاس جا کر بری ہو جائے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ اس پر اس کا حق ہے وہ اس کا مال مار رہا ہے اور حرام کھا رہا ہے اور اپنے تئیں کو گنہگاروں میں کر رہا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:551/3] ‏

مجاہد سعید بن جبیر، عکرمہ، مجاہد، حسن، قتادہ، سدی مقاتل بن حیان، عبدالرحمٰن بن زید اسلم رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں کہ باوجود اس علم کے کہ تو ظالم ہے جھگڑا نہ کر، [تفسیر ابن ابی حاتم:393/1:] ‏ بخاری و مسلم میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں انسان ہوں میرے پاس لوگ جھگڑا لے کر آتے ہیں شاید ایک دوسرے سے زیادہ حجت باز ہو اور میں اس کی چکنی چپڑی تقریر سن کر اس کے حق میں فیصلہ کر دوں [ حالانکہ درحقیقت میرا فیصلہ واقعہ کے خلاف ہو ] ‏ تو سمجھ لو کہ جس کے حق میں اس طرح کے فیصلہ سے کسی مسلمان کے حق کو میں دلوا دوں وہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے خواہ اٹھا لے خواہ نہ اٹھائے، [صحیح بخاری:2680] ‏ میں کہتا ہوں یہ آیت اور حدیث اس امر پر دلیل ہے کہ حاکم کا حکم کسی معاملہ کی حقیقت کو شریعت کے نزدیک بدلتا نہیں، فی الواقع بھی نفس الامر کے مطابق ہو تو خیر ورنہ حاکم کو تو اجر ملے گا، لیکن اس فیصلہ کی بنا پر حق کو ناحق بنا لینے والا اللہ کا مجرم ٹھہرے گا اور اس پر وبال باقی رہے گا، جس پر آیت مندرجہ بالا گواہ ہے، کہ تم اپنے دعوے کو باطل ہونے کا علم رکھتے ہوئے لوگوں کے مال مار کھانے کے لیے جھوٹے مقدمات بنا کر جھوٹے گواہ گزار کر ناجائز طریقوں سے حکام کو غلطی کھلا کر اپنے دعووں کو ثابت نہ کیا کرو،

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں لوگو! سمجھ لو کہ قاضی کا فیصلہ تیرے لیے حرام کو حلال نہیں کر سکتا اور نہ باطل کو حق کر سکتا ہے، قاضی تو اپنی عقل سمجھ سے گواہوں کی گواہی کے مطابق ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ صادر کر دیتا ہے اور وہ بھی آخر انسان ممکن ہے خطا کرے اور ممکن ہے خطا سے بچ جائے تو جان لو کہ اگر فیصلہ قاضی کا واقعہ کے خلاف ہو تو تم صرف قاضی کا فیصلہ اسے جائز مال نہ سمجھ لو یہ جھگڑا باقی ہی ہے یہاں تک قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دونوں جمع کرے اور باطل والوں پر حق والوں کو غلبہ دے کر ان کا حق ان سے دلوائے اور دنیا میں جو فیصلہ ہوا تھا اس کے خلاف فیصلہ صادر فرما کر اس کی نیکیوں میں اسے بدلہ دلوائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/3] ‏

صفحہ نمبر685

چاند اور مہ وسال ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے چاند کے بارے میں سوال کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس سے قرض وغیرہ کے وعدوں کی میعاد معلوم ہو جاتی ہے، عورتوں کی عدت کا وقت معلوم ہوتا ہے، حج کا وقت معلوم ہوتا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:554/3] ‏ مسلمانوں کے روزے کے افطار کا تعلق بھی اسی سے ہے، مسند عبدالرزاق میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کو لوگوں کے وقت معلوم کرنے کے لیے بنایا ہے اسے دیکھ کر روزے رکھو اسے دیکھ کر عید مناؤ اگر ابر و باراں کی وجہ سے چاند نہ دیکھ سکو تو تیس دن پورے گن لیا کرو، [عبدالرزاق:7306] ‏ اس روایت کو امام حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [حاکم:423/1] ‏

یہ حدیث اور سندوں سے بھی مروی ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک موقوف روایت میں بھی یہ مضمون وارد ہوا ہے۔ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے کہ بھلائی گھروں کے پیچھے سے آنے میں نہیں بلکہ بھلائی تقویٰ میں ہے گھروں میں دروازوں سے آؤ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ جاہلیت کے زمانہ یہ دستور تھا کہ احرام میں ہوتے تو گھروں میں پشت کی جانب سے آتے جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [صحیح بخاری:4512] ‏ ابوداؤد طیالسی میں بھی یہ روایت ہے۔ [طیالسی:717:صحیح علی شرط الشیخین] ‏ انصار کا عام دستور تھا کہ سفر سے جب واپس آتے تو گھر کے دروازے میں نہیں گھستے تھے دراصل یہ بھی جاہلیت کے زمانہ میں قریشیوں نے اپنے لیے ایک اور امتیاز قائم کر لیا تھا کہ اپنا نام انہوں نے حمس رکھا تھا احرام کی حالت یہ تو براہ راست اپنے گھروں میں آ سکتے تھے لیکن دوسرے لوگ سیدھے راستے گھروں میں داخل نہیں ہو سکتے تھے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ سے اس کے دروازے سے نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ ایک انصاری صحابی سیدنا قطبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اسی دروازے سے نکلے اس پر لوگوں نے صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ایک تجارت پیشہ شخص ہیں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح اس دروازے سے کیوں نکلے؟ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جواب دیا کہ میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طرح کرتے دیکھا کیا۔ مانا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حمس میں سے ہیں لیکن میں بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین پر ہی ہوں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی [حاکم:483/1:صحیح] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے بھی یہ روایت مروی ہے حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جاہلیت کے زمانے میں بہت سی قوموں کا یہ رواج تھا کہ جب وہ سفر کے ارادے سے نکلتے پھر سفر ادھورا چھوڑ کر اگر کسی وجہ سے واپس چلے آتے تو گھر کے دروازے سے گھر میں نہ آتے بلکہ پیچھے کی طرف سے چڑھ کر آتے جس سے اس آیت میں روکا گیا، [تفسیر ابن ابی حاتم:401/1] ‏ محمد بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں اعتکاف کی حالت میں بھی یہی دستور تھا جسے اسلام نے ختم کیا، عطا فرماتے ہیں اہل مدینہ کا عیدوں میں بھی یہی دستور تھا جسے اسلام نے ختم کر دیا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے حکموں کو بجا لانا اس کے منع کئے ہوئے کاموں سے رک جانا اس کا ڈر دل میں رکھنا یہ چیزیں ہیں جو دراصل اس دن کام آنے والی ہیں جس دن ہر شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا اور پوری پوری جزا سزا پائے گا۔

صفحہ نمبر686

حکم جہاد اور شرائط ٭٭

حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر الطبری:561/3] ‏ بلکہ عبدالرحمٰن بن زید بن سلام رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [ 9۔ التوبہ: 5 ] ‏ ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لیے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں آمادہ کرنا ہے کہ اپنے ایسے دشمنوں سے کیوں جہاد نہ کروں جو تمہارے اور تمہارے دین کے کھلے دشمن ہیں، جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان سے لڑو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 9۔ التوبہ: 36 ] ‏ یعنی مل جل کر مشرکوں سے جہاد کرو جس طرح وہ تم سے سب کے سب مل کر لڑائی کرتے ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی فرمایا انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا قصد تمہارے قتل کا اور تمہیں جلا وطن کرنے کا ہے تمہارا بھی اس کے بدلے میں یہی قصد رہنا چاہیئے۔

پھر فرمایا تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، خیانت اور چوری نہ کرو، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، ان بوڑھے بڑے لوگوں کو بھی نہ مارو جو نہ لڑنے کے لائق ہیں نہ لڑائی میں دخل دیتے ہیں درویشوں اور تارک دنیا لوگوں کو بھی قتل نہ کرو بلکہ بلا مصلحت جنگ۔ نہ درخت کاٹو نہ حیوانوں کو ضائع کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔ [صحیح مسلم:1731] ‏

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم و زیادتی نہ کرو دھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، [مسند احمد:300/1] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوے میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہت برا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، [صحیح بخاری:3014] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ مثالیں دیں ایک تو ظاہر کر دی باقی چھوڑ دیں فرمایا کہ کچھ لوگ کمزور اور مسکین تھے کہ ان پر زور آور مالدار دشمن چڑھ آیا اللہ تعالیٰ نے ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر قیامت تک کے لیے ناراض ہو گیا۔ [مسند احمد:407/5] ‏ یہ حدیث اسناداً صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ جب یہ کمزور قوم غالب آ گئی تو انہوں نے ظلم و زیادتی شروع کر دی فرمان باری تعالیٰ کا کوئی لحاظ نہ کیا اس کے باعث پروردگار عالم ان سے ناراض ہو گیا، اس بارے میں احادیث اور آثار بکثرت ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و زیادتی اللہ کو ناپسند ہے اور ایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتا ہے، چونکہ جہاد کے احکام میں بظاہر قتل و خون ہوتا ہے اس لیے یہ بھی فرما دیا کہ ادھر اگر قتل و خون ہے تو ادھر اللہ کے ساتھ کفر و شرک ہے اور اس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کو روکنا ہے اور یہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے، ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہاری یہ خطا کاریاں اور بدکاریاں قتل سے زیادہ زبوں تر ہیں۔

صفحہ نمبر687

پھر فرمان جاری ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں ان سے لڑائی نہ کرو جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ شہر حرمت والا ہے آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے سے لے کر قیامت تک باحرمت ہی ہے صرف تھوڑے سے وقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اسے حلال کر دیا تھا لیکن وہ آج اس وقت بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک اس کا یہ احترام اور بزرگی باقی رہے گی اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں اگر کوئی شخص اس میں لڑائی کو جائز کہے اور میری جنگ کو دلیل میں لائے تو تم کہہ دینا اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی تھی لیکن تمہیں کوئی اجازت نہیں۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد فتح مکہ کا دن ہے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے جہاد کیا تھا اور مکہ کو فتح کیا تھا چند مشرکین بھی مارے گئے تھے۔ گو بعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مکہ صلح سے فتح ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے جو مسجد میں چلا جائے امن میں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے وہ بھی امن ہے۔ [صحیح مسلم:1780] ‏

پھر فرمایا کہ «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ» [ 22-الحج: 39 ] ‏ ہاں اگر وہ تم سے یہاں لڑائی شروع کر دیں تو تمہیں اجازت ہے کہ تم بھی یہیں ان سے لڑو تاکہ یہ ظلم دفع ہو سکے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن اپنے اصحاب سے لڑائی کی بیعت لی جب قریشیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر یورش کی تھی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت تلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے بیعت لی۔

صفحہ نمبر688

پھر اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو دفع کر دیا چنانچہ اس نعمت کا بیان اس آیت میں ہے کہ وہ آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ 48۔ الفتح: 24 ] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ کفار حرم میں لڑائی بند کر دیں اور اس سے باز آ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا گو انہوں نے مسلمانوں کو حرم میں قتل کیا ہو باری تعالیٰ ایسے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تاکہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:415/1] ‏

اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب اور بلند ہو جائے اور تمام دین پر ظاہر ہو جائے، جیسے بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری جتانے کے لیے لڑتا ہے ایک شخص حمیت و غیرت قومی سے لڑتا ہے، ایک شخص ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر لڑتا ہے تو فرمائیے کہ ان میں سے کون شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو صرف اس کے لیے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہو اس کے دین کا بول بالا ہو۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں کہ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ «لا الہ الا اللہ» کہیں ان کی جان و مال کا تحفظ میرے ذمہ ہو گا مگر اسلامی احکام اور ان کے باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ [صحیح بخاری:25] ‏

پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار شرک و کفر سے اور تمہیں قتل کرنے سے باز آ جائیں تو تم بھی ان سے رک جاؤ اس کے بعد جو قتال کرے گا وہ ظالم ہو گا اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دینا ضروری ہے یہی معنی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:574/3] ‏ یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ و جدال ہو، یہاں لفظ «‏عدوان» ‏ جو کہ زیادتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لیے ہے حقیقتاً وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت «الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ» [ البقرة: ١٩٤ ] ‏ یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کر لو اور جگہ ہے آیت «جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [ 10۔ یونس: 27 ] ‏ یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ» [ 16۔ النحل: 126 ] ‏ یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پاس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا ”بدلے“ کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا و عذاب نہیں، عکرمہ اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما کا فرمان ہے اصلی ظالم وہی ہے جو «لا الہٰ الا اللہ» کو تسلیم کرنے سے انکار کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/3] ‏

صفحہ نمبر689

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس دو شخص آئے جب کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر لوگوں نے چڑھائی کر رکھی تھی اور انہیں گھیر کر کہا کہ لوگ تو مر کٹ رہے ہیں آپ عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں کیوں اس لڑائی میں شامل نہیں ہوتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کا خون حرام کر دیا ہے، انہوں نے کہا کیا جناب باری کا یہ فرمان نہیں کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم تو لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ دب گیا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین غالب آ گیا لیکن اب تم چاہتے ہو کہ تم لڑو تاکہ فتنہ پیدا ہو اور دوسرے مذاہب ابھر آئیں۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمٰن آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کیوں چھوڑ رکھا ہے اور یہ کیا اختیار کر رکھا ہے کہ حج پر حج کر رہے ہو ہر دوسرے سال حج کو جایا کرتے ہو حالانکہ جہاد کے فضائل آپ رضی اللہ عنہ سے مخفی نہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے سنو! اسلام کی بنائیں پانچ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، اس نے کہا کیا قرآن پاک کا یہ حکم «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ‏ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏ آپ نے نہیں سنا کہ ایمان والوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جھگڑیں تو تم ان میں صلح کرا دو اگر پھر بھی ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ پھر سے اللہ کا فرمانبردار بن جائے، اور جگہ ارشاد ہے «‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ» ‏ [ البقرہ: 193 ] ‏ ان سے لڑو تاوقتیکہ فتنہ مٹ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تعمیل کر لی جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تھوڑے تھے جو اسلام قبول کرتا تھا اس پر فتنہ آ پڑتا تھا یا تو قتل کر دیا جاتا یا سخت عذاب میں پھنس جاتا یہاں تک کہ یہ پاک دین پھیل گیا اور اس کے حلقہ بگوش بہ کثرت ہو گئے اور فتنہ برباد ہو گیا اس نے کہا اچھا تو پھر فرمائیے کہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا گو تم اس معافی سے برا مناؤ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یہ دیکھو ان کا مکان یہ رہا جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ [صحیح بخاری:4514] ‏

صفحہ نمبر690

حکم جہاد اور شرائط ٭٭

حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر الطبری:561/3] ‏ بلکہ عبدالرحمٰن بن زید بن سلام رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [ 9۔ التوبہ: 5 ] ‏ ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لیے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں آمادہ کرنا ہے کہ اپنے ایسے دشمنوں سے کیوں جہاد نہ کروں جو تمہارے اور تمہارے دین کے کھلے دشمن ہیں، جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان سے لڑو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 9۔ التوبہ: 36 ] ‏ یعنی مل جل کر مشرکوں سے جہاد کرو جس طرح وہ تم سے سب کے سب مل کر لڑائی کرتے ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی فرمایا انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا قصد تمہارے قتل کا اور تمہیں جلا وطن کرنے کا ہے تمہارا بھی اس کے بدلے میں یہی قصد رہنا چاہیئے۔

پھر فرمایا تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، خیانت اور چوری نہ کرو، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، ان بوڑھے بڑے لوگوں کو بھی نہ مارو جو نہ لڑنے کے لائق ہیں نہ لڑائی میں دخل دیتے ہیں درویشوں اور تارک دنیا لوگوں کو بھی قتل نہ کرو بلکہ بلا مصلحت جنگ۔ نہ درخت کاٹو نہ حیوانوں کو ضائع کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔ [صحیح مسلم:1731] ‏

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم و زیادتی نہ کرو دھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، [مسند احمد:300/1] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوے میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہت برا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، [صحیح بخاری:3014] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ مثالیں دیں ایک تو ظاہر کر دی باقی چھوڑ دیں فرمایا کہ کچھ لوگ کمزور اور مسکین تھے کہ ان پر زور آور مالدار دشمن چڑھ آیا اللہ تعالیٰ نے ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر قیامت تک کے لیے ناراض ہو گیا۔ [مسند احمد:407/5] ‏ یہ حدیث اسناداً صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ جب یہ کمزور قوم غالب آ گئی تو انہوں نے ظلم و زیادتی شروع کر دی فرمان باری تعالیٰ کا کوئی لحاظ نہ کیا اس کے باعث پروردگار عالم ان سے ناراض ہو گیا، اس بارے میں احادیث اور آثار بکثرت ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و زیادتی اللہ کو ناپسند ہے اور ایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتا ہے، چونکہ جہاد کے احکام میں بظاہر قتل و خون ہوتا ہے اس لیے یہ بھی فرما دیا کہ ادھر اگر قتل و خون ہے تو ادھر اللہ کے ساتھ کفر و شرک ہے اور اس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کو روکنا ہے اور یہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے، ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہاری یہ خطا کاریاں اور بدکاریاں قتل سے زیادہ زبوں تر ہیں۔

صفحہ نمبر687

پھر فرمان جاری ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں ان سے لڑائی نہ کرو جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ شہر حرمت والا ہے آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے سے لے کر قیامت تک باحرمت ہی ہے صرف تھوڑے سے وقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اسے حلال کر دیا تھا لیکن وہ آج اس وقت بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک اس کا یہ احترام اور بزرگی باقی رہے گی اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں اگر کوئی شخص اس میں لڑائی کو جائز کہے اور میری جنگ کو دلیل میں لائے تو تم کہہ دینا اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی تھی لیکن تمہیں کوئی اجازت نہیں۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد فتح مکہ کا دن ہے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے جہاد کیا تھا اور مکہ کو فتح کیا تھا چند مشرکین بھی مارے گئے تھے۔ گو بعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مکہ صلح سے فتح ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے جو مسجد میں چلا جائے امن میں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے وہ بھی امن ہے۔ [صحیح مسلم:1780] ‏

پھر فرمایا کہ «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ» [ 22-الحج: 39 ] ‏ ہاں اگر وہ تم سے یہاں لڑائی شروع کر دیں تو تمہیں اجازت ہے کہ تم بھی یہیں ان سے لڑو تاکہ یہ ظلم دفع ہو سکے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن اپنے اصحاب سے لڑائی کی بیعت لی جب قریشیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر یورش کی تھی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت تلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے بیعت لی۔

صفحہ نمبر688

پھر اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو دفع کر دیا چنانچہ اس نعمت کا بیان اس آیت میں ہے کہ وہ آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ 48۔ الفتح: 24 ] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ کفار حرم میں لڑائی بند کر دیں اور اس سے باز آ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا گو انہوں نے مسلمانوں کو حرم میں قتل کیا ہو باری تعالیٰ ایسے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تاکہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:415/1] ‏

اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب اور بلند ہو جائے اور تمام دین پر ظاہر ہو جائے، جیسے بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری جتانے کے لیے لڑتا ہے ایک شخص حمیت و غیرت قومی سے لڑتا ہے، ایک شخص ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر لڑتا ہے تو فرمائیے کہ ان میں سے کون شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو صرف اس کے لیے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہو اس کے دین کا بول بالا ہو۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں کہ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ «لا الہ الا اللہ» کہیں ان کی جان و مال کا تحفظ میرے ذمہ ہو گا مگر اسلامی احکام اور ان کے باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ [صحیح بخاری:25] ‏

پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار شرک و کفر سے اور تمہیں قتل کرنے سے باز آ جائیں تو تم بھی ان سے رک جاؤ اس کے بعد جو قتال کرے گا وہ ظالم ہو گا اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دینا ضروری ہے یہی معنی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:574/3] ‏ یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ و جدال ہو، یہاں لفظ «‏عدوان» ‏ جو کہ زیادتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لیے ہے حقیقتاً وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت «الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ» [ البقرة: ١٩٤ ] ‏ یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کر لو اور جگہ ہے آیت «جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [ 10۔ یونس: 27 ] ‏ یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ» [ 16۔ النحل: 126 ] ‏ یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پاس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا ”بدلے“ کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا و عذاب نہیں، عکرمہ اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما کا فرمان ہے اصلی ظالم وہی ہے جو «لا الہٰ الا اللہ» کو تسلیم کرنے سے انکار کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/3] ‏

صفحہ نمبر689

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس دو شخص آئے جب کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر لوگوں نے چڑھائی کر رکھی تھی اور انہیں گھیر کر کہا کہ لوگ تو مر کٹ رہے ہیں آپ عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں کیوں اس لڑائی میں شامل نہیں ہوتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کا خون حرام کر دیا ہے، انہوں نے کہا کیا جناب باری کا یہ فرمان نہیں کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم تو لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ دب گیا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین غالب آ گیا لیکن اب تم چاہتے ہو کہ تم لڑو تاکہ فتنہ پیدا ہو اور دوسرے مذاہب ابھر آئیں۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمٰن آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کیوں چھوڑ رکھا ہے اور یہ کیا اختیار کر رکھا ہے کہ حج پر حج کر رہے ہو ہر دوسرے سال حج کو جایا کرتے ہو حالانکہ جہاد کے فضائل آپ رضی اللہ عنہ سے مخفی نہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے سنو! اسلام کی بنائیں پانچ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، اس نے کہا کیا قرآن پاک کا یہ حکم «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ‏ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏ آپ نے نہیں سنا کہ ایمان والوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جھگڑیں تو تم ان میں صلح کرا دو اگر پھر بھی ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ پھر سے اللہ کا فرمانبردار بن جائے، اور جگہ ارشاد ہے «‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ» ‏ [ البقرہ: 193 ] ‏ ان سے لڑو تاوقتیکہ فتنہ مٹ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تعمیل کر لی جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تھوڑے تھے جو اسلام قبول کرتا تھا اس پر فتنہ آ پڑتا تھا یا تو قتل کر دیا جاتا یا سخت عذاب میں پھنس جاتا یہاں تک کہ یہ پاک دین پھیل گیا اور اس کے حلقہ بگوش بہ کثرت ہو گئے اور فتنہ برباد ہو گیا اس نے کہا اچھا تو پھر فرمائیے کہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا گو تم اس معافی سے برا مناؤ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یہ دیکھو ان کا مکان یہ رہا جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ [صحیح بخاری:4514] ‏

صفحہ نمبر690

حکم جہاد اور شرائط ٭٭

حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر الطبری:561/3] ‏ بلکہ عبدالرحمٰن بن زید بن سلام رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [ 9۔ التوبہ: 5 ] ‏ ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لیے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں آمادہ کرنا ہے کہ اپنے ایسے دشمنوں سے کیوں جہاد نہ کروں جو تمہارے اور تمہارے دین کے کھلے دشمن ہیں، جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان سے لڑو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 9۔ التوبہ: 36 ] ‏ یعنی مل جل کر مشرکوں سے جہاد کرو جس طرح وہ تم سے سب کے سب مل کر لڑائی کرتے ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی فرمایا انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا قصد تمہارے قتل کا اور تمہیں جلا وطن کرنے کا ہے تمہارا بھی اس کے بدلے میں یہی قصد رہنا چاہیئے۔

پھر فرمایا تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، خیانت اور چوری نہ کرو، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، ان بوڑھے بڑے لوگوں کو بھی نہ مارو جو نہ لڑنے کے لائق ہیں نہ لڑائی میں دخل دیتے ہیں درویشوں اور تارک دنیا لوگوں کو بھی قتل نہ کرو بلکہ بلا مصلحت جنگ۔ نہ درخت کاٹو نہ حیوانوں کو ضائع کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔ [صحیح مسلم:1731] ‏

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم و زیادتی نہ کرو دھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، [مسند احمد:300/1] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوے میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہت برا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، [صحیح بخاری:3014] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ مثالیں دیں ایک تو ظاہر کر دی باقی چھوڑ دیں فرمایا کہ کچھ لوگ کمزور اور مسکین تھے کہ ان پر زور آور مالدار دشمن چڑھ آیا اللہ تعالیٰ نے ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر قیامت تک کے لیے ناراض ہو گیا۔ [مسند احمد:407/5] ‏ یہ حدیث اسناداً صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ جب یہ کمزور قوم غالب آ گئی تو انہوں نے ظلم و زیادتی شروع کر دی فرمان باری تعالیٰ کا کوئی لحاظ نہ کیا اس کے باعث پروردگار عالم ان سے ناراض ہو گیا، اس بارے میں احادیث اور آثار بکثرت ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و زیادتی اللہ کو ناپسند ہے اور ایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتا ہے، چونکہ جہاد کے احکام میں بظاہر قتل و خون ہوتا ہے اس لیے یہ بھی فرما دیا کہ ادھر اگر قتل و خون ہے تو ادھر اللہ کے ساتھ کفر و شرک ہے اور اس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کو روکنا ہے اور یہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے، ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہاری یہ خطا کاریاں اور بدکاریاں قتل سے زیادہ زبوں تر ہیں۔

صفحہ نمبر687

پھر فرمان جاری ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں ان سے لڑائی نہ کرو جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ شہر حرمت والا ہے آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے سے لے کر قیامت تک باحرمت ہی ہے صرف تھوڑے سے وقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اسے حلال کر دیا تھا لیکن وہ آج اس وقت بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک اس کا یہ احترام اور بزرگی باقی رہے گی اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں اگر کوئی شخص اس میں لڑائی کو جائز کہے اور میری جنگ کو دلیل میں لائے تو تم کہہ دینا اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی تھی لیکن تمہیں کوئی اجازت نہیں۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد فتح مکہ کا دن ہے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے جہاد کیا تھا اور مکہ کو فتح کیا تھا چند مشرکین بھی مارے گئے تھے۔ گو بعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مکہ صلح سے فتح ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے جو مسجد میں چلا جائے امن میں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے وہ بھی امن ہے۔ [صحیح مسلم:1780] ‏

پھر فرمایا کہ «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ» [ 22-الحج: 39 ] ‏ ہاں اگر وہ تم سے یہاں لڑائی شروع کر دیں تو تمہیں اجازت ہے کہ تم بھی یہیں ان سے لڑو تاکہ یہ ظلم دفع ہو سکے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن اپنے اصحاب سے لڑائی کی بیعت لی جب قریشیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر یورش کی تھی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت تلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے بیعت لی۔

صفحہ نمبر688

پھر اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو دفع کر دیا چنانچہ اس نعمت کا بیان اس آیت میں ہے کہ وہ آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ 48۔ الفتح: 24 ] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ کفار حرم میں لڑائی بند کر دیں اور اس سے باز آ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا گو انہوں نے مسلمانوں کو حرم میں قتل کیا ہو باری تعالیٰ ایسے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تاکہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:415/1] ‏

اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب اور بلند ہو جائے اور تمام دین پر ظاہر ہو جائے، جیسے بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری جتانے کے لیے لڑتا ہے ایک شخص حمیت و غیرت قومی سے لڑتا ہے، ایک شخص ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر لڑتا ہے تو فرمائیے کہ ان میں سے کون شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو صرف اس کے لیے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہو اس کے دین کا بول بالا ہو۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں کہ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ «لا الہ الا اللہ» کہیں ان کی جان و مال کا تحفظ میرے ذمہ ہو گا مگر اسلامی احکام اور ان کے باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ [صحیح بخاری:25] ‏

پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار شرک و کفر سے اور تمہیں قتل کرنے سے باز آ جائیں تو تم بھی ان سے رک جاؤ اس کے بعد جو قتال کرے گا وہ ظالم ہو گا اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دینا ضروری ہے یہی معنی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:574/3] ‏ یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ و جدال ہو، یہاں لفظ «‏عدوان» ‏ جو کہ زیادتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لیے ہے حقیقتاً وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت «الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ» [ البقرة: ١٩٤ ] ‏ یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کر لو اور جگہ ہے آیت «جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [ 10۔ یونس: 27 ] ‏ یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ» [ 16۔ النحل: 126 ] ‏ یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پاس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا ”بدلے“ کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا و عذاب نہیں، عکرمہ اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما کا فرمان ہے اصلی ظالم وہی ہے جو «لا الہٰ الا اللہ» کو تسلیم کرنے سے انکار کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/3] ‏

صفحہ نمبر689

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس دو شخص آئے جب کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر لوگوں نے چڑھائی کر رکھی تھی اور انہیں گھیر کر کہا کہ لوگ تو مر کٹ رہے ہیں آپ عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں کیوں اس لڑائی میں شامل نہیں ہوتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کا خون حرام کر دیا ہے، انہوں نے کہا کیا جناب باری کا یہ فرمان نہیں کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم تو لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ دب گیا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین غالب آ گیا لیکن اب تم چاہتے ہو کہ تم لڑو تاکہ فتنہ پیدا ہو اور دوسرے مذاہب ابھر آئیں۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمٰن آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کیوں چھوڑ رکھا ہے اور یہ کیا اختیار کر رکھا ہے کہ حج پر حج کر رہے ہو ہر دوسرے سال حج کو جایا کرتے ہو حالانکہ جہاد کے فضائل آپ رضی اللہ عنہ سے مخفی نہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے سنو! اسلام کی بنائیں پانچ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، اس نے کہا کیا قرآن پاک کا یہ حکم «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ‏ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏ آپ نے نہیں سنا کہ ایمان والوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جھگڑیں تو تم ان میں صلح کرا دو اگر پھر بھی ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ پھر سے اللہ کا فرمانبردار بن جائے، اور جگہ ارشاد ہے «‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ» ‏ [ البقرہ: 193 ] ‏ ان سے لڑو تاوقتیکہ فتنہ مٹ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تعمیل کر لی جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تھوڑے تھے جو اسلام قبول کرتا تھا اس پر فتنہ آ پڑتا تھا یا تو قتل کر دیا جاتا یا سخت عذاب میں پھنس جاتا یہاں تک کہ یہ پاک دین پھیل گیا اور اس کے حلقہ بگوش بہ کثرت ہو گئے اور فتنہ برباد ہو گیا اس نے کہا اچھا تو پھر فرمائیے کہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا گو تم اس معافی سے برا مناؤ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یہ دیکھو ان کا مکان یہ رہا جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ [صحیح بخاری:4514] ‏

صفحہ نمبر690

حکم جہاد اور شرائط ٭٭

حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ شریف میں جہاد کا پہلا حکم یہی نازل ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے حکم کی رو سے صرف ان لوگوں سے ہی لڑتے تھے جو آپ سے لڑیں جو آپ سے نہ لڑیں خود ان سے لڑائی نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ سورۃ برأت نازل ہوئی، [تفسیر ابن جریر الطبری:561/3] ‏ بلکہ عبدالرحمٰن بن زید بن سلام رحمہ اللہ تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اور ناسخ آیت «فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [ 9۔ التوبہ: 5 ] ‏ ہے یعنی جہاں کہیں مشرکین کو پاؤ انہیں قتل کرو، لیکن اس بارے میں اختلاف ہے اس لیے کہ اس سے تو مسلمانوں کو رغبت دلانا اور انہیں آمادہ کرنا ہے کہ اپنے ایسے دشمنوں سے کیوں جہاد نہ کروں جو تمہارے اور تمہارے دین کے کھلے دشمن ہیں، جیسے وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان سے لڑو جیسے اور جگہ فرمایا آیت «وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ» [ 9۔ التوبہ: 36 ] ‏ یعنی مل جل کر مشرکوں سے جہاد کرو جس طرح وہ تم سے سب کے سب مل کر لڑائی کرتے ہیں چنانچہ اس آیت میں بھی فرمایا انہیں قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ان کا قصد تمہارے قتل کا اور تمہیں جلا وطن کرنے کا ہے تمہارا بھی اس کے بدلے میں یہی قصد رہنا چاہیئے۔

پھر فرمایا تجاوز کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو ناک کان وغیرہ نہ کاٹو، خیانت اور چوری نہ کرو، عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو، ان بوڑھے بڑے لوگوں کو بھی نہ مارو جو نہ لڑنے کے لائق ہیں نہ لڑائی میں دخل دیتے ہیں درویشوں اور تارک دنیا لوگوں کو بھی قتل نہ کرو بلکہ بلا مصلحت جنگ۔ نہ درخت کاٹو نہ حیوانوں کو ضائع کرو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ مقاتل بن حیان رحمہ اللہ وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی فرمایا ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجاہدین کو فرمان دیا کرتے تھے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو خیانت نہ کرو، بدعہدی سے بچو، ناک کان وغیرہ اعضاء نہ کاٹو، بچوں کو اور زاہد لوگوں کو جو عبادت خانوں میں پڑے رہتے ہیں قتل نہ کرو۔ [صحیح مسلم:1731] ‏

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ کا نام لے کر نکلو اللہ کی راہ میں جہاد کرو کفار سے لڑو ظلم و زیادتی نہ کرو دھوکہ بازی نہ کرو۔ دشمن کے اعضاء بدن نہ کاٹو درویشوں کو قتل نہ کرو، [مسند احمد:300/1] ‏ بخاری و مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ ایک غزوے میں ایک عورت قتل کی ہوئی پائی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بہت برا مانا اور عورتوں اور بچوں کے قتل کو منع فرما دیا، [صحیح بخاری:3014] ‏

مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک، تین، پانچ، سات، نو، گیارہ مثالیں دیں ایک تو ظاہر کر دی باقی چھوڑ دیں فرمایا کہ کچھ لوگ کمزور اور مسکین تھے کہ ان پر زور آور مالدار دشمن چڑھ آیا اللہ تعالیٰ نے ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ نے ان ضعیفوں کی مدد کی اور ان طاقتوروں پر انہیں غالب کر دیا اب ان لوگوں نے ان پر ظلم و زیادتی شروع کر دی جس کے باعث اللہ تعالیٰ ان پر قیامت تک کے لیے ناراض ہو گیا۔ [مسند احمد:407/5] ‏ یہ حدیث اسناداً صحیح ہے، مطلب یہ ہے کہ جب یہ کمزور قوم غالب آ گئی تو انہوں نے ظلم و زیادتی شروع کر دی فرمان باری تعالیٰ کا کوئی لحاظ نہ کیا اس کے باعث پروردگار عالم ان سے ناراض ہو گیا، اس بارے میں احادیث اور آثار بکثرت ہیں جن سے صاف ظاہر ہے کہ ظلم و زیادتی اللہ کو ناپسند ہے اور ایسے لوگوں سے اللہ ناخوش رہتا ہے، چونکہ جہاد کے احکام میں بظاہر قتل و خون ہوتا ہے اس لیے یہ بھی فرما دیا کہ ادھر اگر قتل و خون ہے تو ادھر اللہ کے ساتھ کفر و شرک ہے اور اس مالک کی راہ سے اس کی مخلوق کو روکنا ہے اور یہ فتنہ قتل سے بہت زیادہ سخت ہے، ابو مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں تمہاری یہ خطا کاریاں اور بدکاریاں قتل سے زیادہ زبوں تر ہیں۔

صفحہ نمبر687

پھر فرمان جاری ہوتا ہے کہ بیت اللہ میں ان سے لڑائی نہ کرو جیسے بخاری و مسلم میں ہے کہ یہ شہر حرمت والا ہے آسمان و زمین کی پیدائش کے زمانے سے لے کر قیامت تک باحرمت ہی ہے صرف تھوڑے سے وقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اسے حلال کر دیا تھا لیکن وہ آج اس وقت بھی حرمت والا ہے اور قیامت تک اس کا یہ احترام اور بزرگی باقی رہے گی اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں اگر کوئی شخص اس میں لڑائی کو جائز کہے اور میری جنگ کو دلیل میں لائے تو تم کہہ دینا اللہ تعالیٰ نے صرف اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تھوڑے سے وقت کے لیے اجازت دی تھی لیکن تمہیں کوئی اجازت نہیں۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے مراد فتح مکہ کا دن ہے جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں سے جہاد کیا تھا اور مکہ کو فتح کیا تھا چند مشرکین بھی مارے گئے تھے۔ گو بعض علماء کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مکہ صلح سے فتح ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف ارشاد فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے وہ امن میں ہے جو مسجد میں چلا جائے امن میں ہے جو ابوسفیان کے گھر میں چلا جائے وہ بھی امن ہے۔ [صحیح مسلم:1780] ‏

پھر فرمایا کہ «أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ» [ 22-الحج: 39 ] ‏ ہاں اگر وہ تم سے یہاں لڑائی شروع کر دیں تو تمہیں اجازت ہے کہ تم بھی یہیں ان سے لڑو تاکہ یہ ظلم دفع ہو سکے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ والے دن اپنے اصحاب سے لڑائی کی بیعت لی جب قریشیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر یورش کی تھی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت تلے اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم سے بیعت لی۔

صفحہ نمبر688

پھر اللہ تعالیٰ نے اس لڑائی کو دفع کر دیا چنانچہ اس نعمت کا بیان اس آیت میں ہے کہ وہ آیت «وَهُوَ الَّذِيْ كَفَّ اَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ اَنْ اَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ» [ 48۔ الفتح: 24 ] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ کفار حرم میں لڑائی بند کر دیں اور اس سے باز آ جائیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دے گا گو انہوں نے مسلمانوں کو حرم میں قتل کیا ہو باری تعالیٰ ایسے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ ان مشرکین سے جہاد جاری رکھو تاکہ یہ شرک کا فتنہ مٹ جائے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:415/1] ‏

اور اللہ تعالیٰ کا دین غالب اور بلند ہو جائے اور تمام دین پر ظاہر ہو جائے، جیسے بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص اپنی بہادری جتانے کے لیے لڑتا ہے ایک شخص حمیت و غیرت قومی سے لڑتا ہے، ایک شخص ریاکاری اور دکھاوے کے طور پر لڑتا ہے تو فرمائیے کہ ان میں سے کون شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا وہی ہے جو صرف اس کے لیے لڑے کہ اللہ تعالیٰ کی بات بلند ہو اس کے دین کا بول بالا ہو۔ [صحیح بخاری:2810] ‏

بخاری و مسلم کی ایک اور حدیث میں کہ مجھے حکم کیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ «لا الہ الا اللہ» کہیں ان کی جان و مال کا تحفظ میرے ذمہ ہو گا مگر اسلامی احکام اور ان کے باطنی حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ [صحیح بخاری:25] ‏

پھر فرمایا کہ اگر یہ کفار شرک و کفر سے اور تمہیں قتل کرنے سے باز آ جائیں تو تم بھی ان سے رک جاؤ اس کے بعد جو قتال کرے گا وہ ظالم ہو گا اور ظالموں کو ظلم کا بدلہ دینا ضروری ہے یہی معنی ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کے اس قول کے کہ جو لڑیں ان سے ہی لڑا جائے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:574/3] ‏ یا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ان حرکات سے رک جائیں تو وہ ظلم یعنی شرک سے ہٹ گئے پھر کوئی وجہ نہیں کہ ان سے جنگ و جدال ہو، یہاں لفظ «‏عدوان» ‏ جو کہ زیادتی کے معنی میں ہے وہ زیادتی کے مقابلہ میں زیادتی کے بدلے کے لیے ہے حقیقتاً وہ زیادتی نہیں جیسے فرمایا آیت «الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ» [ البقرة: ١٩٤ ] ‏ یعنی تم پر جو زیادتی کرے تم بھی اس پر اس جیسی زیادتی کر لو اور جگہ ہے آیت «جَزَاءُ سَـيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَتَرْهَقُھُمْ ذِلَّةٌ» [ 10۔ یونس: 27 ] ‏ یعنی برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے اور جگہ فرمان ہے آیت «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ» [ 16۔ النحل: 126 ] ‏ یعنی اگر تم سزا اور عذاب کرو تو اسی مثل سزا کرو جو تم کئے گئے ہو، پاس ان تینوں جگہوں میں زیادتی برائی اور سزا ”بدلے“ کے طور پر کہا گیا ہے ورنہ فی الواقع وہ زیادتی برائی اور سزا و عذاب نہیں، عکرمہ اور قتادہ رحمہ اللہ علیہما کا فرمان ہے اصلی ظالم وہی ہے جو «لا الہٰ الا اللہ» کو تسلیم کرنے سے انکار کرے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:573/3] ‏

صفحہ نمبر689

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس دو شخص آئے جب کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ پر لوگوں نے چڑھائی کر رکھی تھی اور انہیں گھیر کر کہا کہ لوگ تو مر کٹ رہے ہیں آپ عمر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں کیوں اس لڑائی میں شامل نہیں ہوتے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو اللہ تعالیٰ نے مسلمان بھائی کا خون حرام کر دیا ہے، انہوں نے کہا کیا جناب باری کا یہ فرمان نہیں کہ ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے آپ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم تو لڑتے رہے یہاں تک کہ فتنہ دب گیا اور اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین غالب آ گیا لیکن اب تم چاہتے ہو کہ تم لڑو تاکہ فتنہ پیدا ہو اور دوسرے مذاہب ابھر آئیں۔ [صحیح بخاری:4513] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمٰن آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا کیوں چھوڑ رکھا ہے اور یہ کیا اختیار کر رکھا ہے کہ حج پر حج کر رہے ہو ہر دوسرے سال حج کو جایا کرتے ہو حالانکہ جہاد کے فضائل آپ رضی اللہ عنہ سے مخفی نہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھتیجے سنو! اسلام کی بنائیں پانچ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، پانچوں وقتوں کی نماز ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا، زکوٰۃ دینا، بیت اللہ شریف کا حج کرنا، اس نے کہا کیا قرآن پاک کا یہ حکم «وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّـهِ» ‏ [ 49-الحجرات: 9 ] ‏ آپ نے نہیں سنا کہ ایمان والوں کی دو جماعتیں اگر آپس میں جھگڑیں تو تم ان میں صلح کرا دو اگر پھر بھی ایک گروہ دوسرے پر بغاوت کرے تو باغی گروہ سے لڑو یہاں تک کہ وہ پھر سے اللہ کا فرمانبردار بن جائے، اور جگہ ارشاد ہے «‏وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ» ‏ [ البقرہ: 193 ] ‏ ان سے لڑو تاوقتیکہ فتنہ مٹ جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی تعمیل کر لی جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمان تھوڑے تھے جو اسلام قبول کرتا تھا اس پر فتنہ آ پڑتا تھا یا تو قتل کر دیا جاتا یا سخت عذاب میں پھنس جاتا یہاں تک کہ یہ پاک دین پھیل گیا اور اس کے حلقہ بگوش بہ کثرت ہو گئے اور فتنہ برباد ہو گیا اس نے کہا اچھا تو پھر فرمائیے کہ سیدنا علی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کا کیا خیال ہے فرمایا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا گو تم اس معافی سے برا مناؤ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے اور یہ دیکھو ان کا مکان یہ رہا جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ [صحیح بخاری:4514] ‏

صفحہ نمبر690

بیعت رضوان ٭٭

ذوالقعدہ سن ٦ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سمیت مکہ کو تشریف لے چلے لیکن مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حدیبیہ والے میدان میں روک لیا بالآخر اس بات پر صلح ہوئی کہ آئندہ سال آپ عمرہ کریں اور اس سال واپس تشریف لے جائیں چونکہ ذی القعدہ کا مہینہ بھی حرمت والا مہینہ ہے اس لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:575/3] ‏ مسند احمد میں حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرمت والے مہینوں میں جنگ نہیں کرتے تھے ہاں اگر کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کرے تو اور بات ہے بلکہ جنگ کرتے ہوئے اگر حرمت والے مہینے آ جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لڑائی موقوف کر دیتے۔ [مسند احمد:334/4] ‏

حدیبیہ کے میدان میں بھی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ عثمان رضی اللہ عنہ کو مشرکین نے قتل کر دیا جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لے کر مکہ شریف میں گئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چودہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم سے ایک درخت تلے مشرکوں سے جہاد کرنے کی بیعت لی پھر جب معلوم ہوا کہ یہ خبر غلط ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور صلح کی طرف مائل ہو گئے۔ پھر جو واقعہ ہوا وہ ہوا۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوازن کی لڑائی سے حنین والے دن فارغ ہوئے اور مشرکین طائف میں جا کر قلعہ بند ہو گئے تو آپ نے اس کا محاصرہ کر لیا چالیس دن تک یہ محاصرہ رہا بالآخر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کے بعد محاصرہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف لوٹ گئے اور جعرانہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے کا احرام باندھا یہیں حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں اور یہ عمرہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذوالقعدہ میں ہوا یہ سن ٨ ہجری کا واقعہ ہے، اللہ تعالیٰ آپ پر درود وسلام بھیجے۔ [صحیح مسلم:3033] ‏

صفحہ نمبر694

پھر فرماتا ہے «وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِّلصَّابِرِينَ» [ 16-النحل: 126 ] ‏ جو تم پر زیادتی کرے تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کر لو، یعنی مشرکین سے بھی عدل کا خیال رکھو، یہاں بھی زیادتی کے بدلے کو زیادتی سے تعبیر کرنا ویسا ہی ہے جیسے اور جگہ «وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا» [ 42-الشورى: 40 ] ‏ عذاب وسزا کے بدلے میں برائی کے لفظ سے بیان کیا گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ آیت مکہ شریف میں اتری جہاں مسلمانوں میں کوئی شوکت و شان نہ تھی نہ جہاد کا حکم تھا پھر یہ آیت مدینہ شریف میں جہاد کے حکم سے منسوخ ہو گئی، لیکن امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس بات کی تردید کی ہے اور فرماتے ہیں کہ یہ آیت مدنی ہے عمرہ قضاء کے بعد نازل ہوئی ہے مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ ارشاد ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور پرہیزگاری اختیار کرو اور اسے جان لو کہ ایسے ہی لوگوں کے ساتھ دین و دنیا میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت رہتی ہے۔

صفحہ نمبر695

حق جہاد کیا ہے؟ ٭٭

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ آیت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحیح بخاری:4516] ‏ اور بزرگوں نے بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی بیان فرمایا ہے، ابوعمران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین میں سے ایک نے قسطنطنیہ کی جنگ میں کفار کے لشکر پر دلیرانہ حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتا ہوا ان میں گھس گیا تو بعض لوگ کہنے لگے کہ یہ دیکھو یہ اپنے ہاتھوں اپنی جان کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا اس آیت کا صحیح مطلب ہم جانتے ہیں سنو! یہ آیت ہمارے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ و جہاد میں شریک رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد پر تلے رہے یہاں تک کہ اسلام غالب ہوا اور مسلمان غالب آ گئے تو ہم انصاریوں نے ایک مرتبہ جمع ہو کر آپس میں مشورہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے ساتھ ہمیں مشرف فرمایا ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لگے رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمرکابی میں جہاد کرتے رہے اب بحمد اللہ اسلام پھیل گیا مسلمانوں کا غلبہ ہو گیا لڑائی ختم ہو گئی ان دنوں میں نہ ہم نے اپنی اولاد کی خبرگیری کی نہ مال کی دیکھ بھال کی نہ کھیتیوں اور باغوں کا کچھ خیال کیا اب ہمیں چاہیئے کہ اپنے خانگی معاملات کی طرف توجہ کریں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، پس جہاد کو چھوڑ کر بال بچوں اور بیوپار تجارت میں مشغول ہو جانا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔ [سنن ابوداود:2512، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر696

ایک اور روایت میں ہے کہ قسطنطنیہ کی لڑائی کے وقت مصریوں کے سردار سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے اور شامیوں کے سردار سیدنا یزید بن فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ تھے۔ [سنن ترمذي:2972، قال الشيخ الألباني:] ‏ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اگر میں اکیلا تنہا دشمن کی صف میں گھس جاؤں اور وہاں گِر جاؤں اور قتل کر دیا جاؤں تو کیا اس آیت کے مطابق میں اپنی جان کو آپ ہی ہلاک کرنے والا بنوں گا؟ آپ نے جواب دیا نہیں نہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے آیت «فَقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ» [ 4۔ النسآء: 84 ] ‏ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی راہ میں لڑتا رہ تو اپنی جان کا ہی مالک ہے اسی کو تکلیف دے یہ آیت تو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے رک جانے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [مسند احمد:281/4] ‏

ترمذی کی ایک اور روایت میں اتنی زیادتی ہے کہ آدمی کا گناہوں پر گناہ کئے چلے جانا اور توبہ نہ کرنا یہ اپنے ہاتھوں اپنے تئیں ہلاک کرنا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ مسلمانوں نے دمشق کا محاصرہ کیا اور ازدشنوہ کے قبیلہ کا ایک آدمی جرات کر کے دشمنوں میں گھس گیا ان کی صفیں چیرتا پھاڑتا اندر چلا گیا لوگوں نے اسے برا جانا اور سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ شکایت کی چنانچہ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا اور فرمایا قرآن میں ہے اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔

صفحہ نمبر697

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لڑائی میں اس طرح کی بہادری کرنا اپنی جان کو بربادی میں ڈالنا نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں مال خرچ نہ کرنا ہلاکت میں پڑنا ہے، ضحاک بن ابو جبیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار اپنے مال اللہ کی راہ میں کھلے دل سے خرچ کرتے رہتے تھے لیکن ایک سال قحط سالی کے موقع پر انہوں نے وہ خرچ روک لیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد بخل کرنا ہے۔

صفحہ نمبر698

حضرت نعمان بن بشیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گنہگار کا رحمت باری سے نا امید ہو جانا یہ ہلاک ہونا ہے اور حضرات مفسرین بھی فرماتے ہیں کہ گناہ ہو جائیں پھر بخشش سے نا امید ہو کر گناہوں میں مشغول ہو جانا اپنے ہاتھوں پر آپ ہلاک ہونا ہے، التَّہۡلُکَۃِ سے مراد اللہ کا عذاب بھی بیان کیا گیا ہے، قرطبی وغیرہ سے روایت ہے کہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتے تھے اور اپنے ساتھ کچھ خرچ نہیں لے جاتے تھے اب یا تو وہ بھوکوں مریں یا ان کا بوجھ دوسروں پر پڑے تو ان سے اس آیت میں فرمایا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اسے اس کی راہ کے کاموں میں لگاؤ اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو کہ بھوک پیاس سے یا پیدل چل چل کر مر جاؤ۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کو جن کے پاس کچھ ہے حکم ہو رہا ہے کہ تم احسان کرو تاکہ اللہ تمہیں دوست رکھے نیکی کے ہر کام میں خرچ کیا کرو بالخصوص جہاد کے موقعہ پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ رکو یہ دراصل خود تمہاری ہلاکت ہے، پس احسان اعلیٰ درجہ کی اطاعت ہے جس کا یہاں حکم ہو رہا ہے اور ساتھ ہی یہ بیان ہو رہا ہے کہ احسان کرنے والے اللہ کے دوست ہیں۔

صفحہ نمبر699

حج اور عمرہ کے مسائل ٭٭

اوپر چونکہ روزوں کا ذکر ہوا تھا پھر جہاد کا بیان ہوا اب حج کا تذکرہ ہو رہا ہے اور حکم ہوتا ہے کہ حج اور عمرے کو پورا کرو، ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حج اور عمرے کو شروع کرنے کے بعد پورا کرنا چاہیئے، تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ حج و عمرے کو شروع کرنے کے بعد ان کا پورا کرنا لازم ہے گو عمرے کے واجب ہونے اور مستحب ہونے میں علماء کے دو قول ہیں جنہیں ہم نے پوری طرح کتاب الاحکام میں بیان کر دیا ہے «فللہ الحمد والمنۃ»

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پورا کرنا یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھو۔

صفحہ نمبر700

سیدنا سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا تمام کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے گھر سے احرام باندھو تمہارا سفر صرف حج و عمرے کی غرض سے ہو میقات پہنچ کر لبیک پکارنا شروع کر دو تمہارا ارادہ تجارت یعنی کسی اور دنیوی غرض کا نہ ہو، کہ نکلے تو اپنے کام کو اور مکہ کے قریب پہنچ کر خیال آ گیا کہ آؤ حج و عمرہ بھی کرتا چلوں گو اس طرح بھی حج و عمرہ ادا ہو جائے لیکن یہ پورا کرنا نہیں پورا کرنا یہ ہے کہ صرف اسی ارادے سے گھر سے نکلو مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا پورا کرنا یہ ہے کہ انہیں میقات سے شروع کرے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:437/1] ‏

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان کا پورا کرنا یہ ہے کہ ان دونوں کو الگ الگ ادا کرے اور عمرے کو حج کے مہینوں میں نہ کرے اس لیے کہ قرآن شریف میں ہے آیت «اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ» [ 2۔ البقرہ: 197 ] ‏ حج کے مہینے مقرر ہیں۔ [ایضاً] ‏ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا پورا ہونا نہیں ان سے پوچھا گیا کہ محرم میں عمرہ کرنا کیسا ہے؟ کہا لوگ اسے تو پورا کہتے تھے لیکن اس قول میں شبہ ہے اس لیے کہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور چاروں ذوالقعدہ میں کئے ایک سن ٦ ہجری میں ذوالقعدہ کے مہینے میں، دوسرا ذوالقعدہ سن ٧ ہجری میں عمرۃ القضاء تیسرا ذوالقعدہ سن ٨ ہجری میں عمرۃ الجعرانہ، چوتھا ذوالقعدہ سن ١٠ہجری میں حج کے ساتھ۔ [سنن ابوداود:1993، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ان عمروں کے سوا ہجرت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اور کوئی عمرہ نہیں ہوا، ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ [صحیح مسلم:1256] ‏

یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے فرمایا تھا کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے جانے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن سواری کی وجہ سے ساتھ نہ جا سکیں جیسے کہ بخاری شریف میں یہ واقعہ منقول ہے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ تو صاف فرماتے ہیں کہ یہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے لیے ہی مخصوص ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر701

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حج و عمرے کا احرام باندھنے کے بعد بغیر پورا کئے چھوڑنا جائز نہیں، حج اس وقت پورا ہوتا ہے جبکہ قربانی والے دن جمرہ عقبہ کو کنکر مار لے اور بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا مروہ کے درمیان دوڑ لے اب حج ادا ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حج عرفات کا نام ہے اور عمرہ طواف ہے عبداللہ کی قرأت یہ ہے آیت «واتموا الحج والعمرۃ الی البیت» عمرہ بیت اللہ تک جاتے ہی پورا ہو گیا، سعید بن جبیر سے جب یہ ذکر ہوا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سیدنا ابن عباس کی قرأت بھی یہی تھی، علقمہ رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:7/4] ‏ ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے حدیث «واقیموا الحج والعمرۃ الی البیت»، شعبی رحمہ اللہ کی قرأت میں والعمرۃ ہے وہ فرماتے ہیں عمرہ واجب نہیں گو اس کے خلاف بھی ان سے مروی ہے، بہت سی احادیث میں بہت سندوں کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے۔ [صحیح بخاری:1556] ‏

ایک اور حدیث میں ہے عمرہ حج میں قیامت تک کے لیے داخل ہو گیا۔ [مسند احمد:175/4] ‏ ابو محمد بن ابی حاتم نے اپنی کتاب میں ایک روایت وارد کی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور زعفران کی خوشبو سے مہک رہا تھا اس نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے احرام کے بارے میں کیا حکم ہے اس پر یہ آیت اتری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ سائل کہاں ہے؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں موجود ہوں فرمایا اپنے زعفرانی کپڑے اتار ڈال اور خوب مل کر غسل کر لو اور جو اپنے حج میں کرتا ہے وہی عمرے میں بھی کر۔ [التمھیدلابن البر:251/2] ‏ یہ حدیث غریب ہے اور یہ سیاق عجیب ہے بعض روایتوں میں غسل کا اور اس آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں۔ [صحیح بخاری:1536] ‏ ایک روایت میں اس کا نام سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ آیا ہے دوسری روایت میں سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرمایا اگر تم گھیر لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو کر ڈالو مفسرین نے ذکر کیا کہ یہ آیت سن ٦ ہجری میں حدیبیہ کے میدان میں اتری جبکہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ جانے سے روکا تھا اور اسی بارے میں پوری سورۃ الفتح اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو رخصت ملی کہ وہ اپنی قربانیوں کو وہیں ذبح کر ڈالیں چنانچہ ستر اونٹ ذبح کئے گئے سرمنڈوائے گئے اور احرام کھول دئیے گئے اول مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو سن کر لوگ ذرا جھجھکے اور انہیں انتظار تھا کہ شاید کوئی ناسخ حکم اترے یہاں تک کہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے، اور اپنا سر منڈوایا پھر بس لوگ آمادہ ہو گئے بعض نے سر منڈوا لیا، بعض نے کچھ بال کتروا لیے جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سر منڈوانے والوں پر رحم کرے لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم بال کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سرمنڈوانے والوں کے لیے یہی دعا کی، تیسری مرتبہ کتروانے والوں کے لیے بھی دعا کر دی۔ [صحیح بخاری:1727] ‏ سات سات شخص ایک ایک اونٹ میں شریک تھے صحابہ کی کل تعداد چودہ سو تھی۔ [صحیح بخاری:1451] ‏ حدیبیہ کے میدان میں ٹھہرے ہوئے تھے جو حد حرم سے باہر تھا گو یہ بھی مروی ہے کہ حد حرم کے کنارے پر تھے، «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر702

علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ یہ حکم صرف ان لوگوں کے لیے ہی ہے جنہیں دشمن گھیرے یا کسی بیماری وغیرہ سے بھی کوئی مجبور ہو جائے تو اس کے لیے بھی رخصت ہے کہ وہ اسی جگہ احرام کھول ڈالے اور سر منڈوالے اور قربانی کر دے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ تو صرف پہلی قسم کے لوگوں کے لیے ہی بتاتے ہیں، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، طاؤس، زہری اور زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں، لیکن مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ جس شخص کا ہاتھ پاؤں ٹوٹ جائے یا بیمار ہو جائے یا لنگڑا لولا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا وہ اگلے سال حج کر لے راوی حدیث کہتا ہے کہ میں نے اسے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ [سنن ابوداود:1862، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سے ذکر کیا انہوں نے بھی فرمایا سچ ہے سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے۔

صفحہ نمبر703

سیدنا ابن مسعود، ابن زبیر رضی اللہ عنہما، علقمہ سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، مجاہد، نخعی، عطا اور مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے کہ بیمار ہو جانا اور لنگڑا لولا ہو جانا بھی ایسا ہی عذر ہے، سفیان ثوری رحمہ اللہ ہر مصیبت و ایذاء کو ایسا ہی عذر بتاتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:445/1] ‏

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ سیدنا زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ضباعہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتی ہیں کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرا ارادہ حج کا ہے لیکن میں بیمار رہتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج کو چلی جاؤ اور شرط کر لو کہ میرے احرام سے فارغ ہونے کی وہی جگہ ہو گی جہاں میں مرض کی وجہ سے رک جاؤں۔ [صحیح بخاری:5089] ‏ اسی حدیث کی بنا پر بعض علماء کرام کا فتویٰ ہے کہ حج میں شرط کرنا ناجائز ہے، امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر یہ حدیث صحیح ہو تو میرا قول بھی یہی ہے، امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ حدیث باکل صحیح ہے۔

صفحہ نمبر704

پس امام صاحب کا مذہب بھی یہی ہوا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو قربانی میسر ہو اسے قربان کر دے، سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ایک بکری ذبح کر دے۔ [موطا:385/1] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اونٹ ہو گائے ہو بکری ہو بھیڑ ہو ان کے نر ہوں۔ ان آٹھوں قسموں میں سے جسے چاہے ذبح کرے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:450/1] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صرف بکری بھی مروی ہے اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا اور چاروں اماموں کا بھی یہی مذہب ہے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد صرف اونٹ اور گائے ہی ہے، غالبًا ان کی دلیل حدیبیہ والا واقعہ ہو گا اس میں کسی صحابی سے بکری کا ذبح کرنا منقول نہیں، گائے اور اونٹ ہی ان بزرگوں نے قربان کئے ہیں، بخاری و مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم سات سات آدمی گائے اور اونٹ میں شریک ہو جائیں، [صحیح مسلم:1318] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی منقول ہے کہ جس جانور کے ذبح کرنے کی وسعت ہو اسے ذبح کر ڈالے، اگر مالدار ہے تو اونٹ اس سے کم حیثیت والا ہے تو گائے ورنہ پھر بکری عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مہنگے سستے داموں پر موقوف ہے، جمہور کے اس قول کی کہ ”بکری کافی ہے“ کی یہ دلیل ہے کہ قرآن نے میسر آسان ہونے کا ذکر فرمایا ہے یعنی کم سے کم وہ چیز جس پر قربانی کا اطلاق ہو سکے اور قربانی کے جانور اونٹ گائے بکریاں اور بھیڑیں ہی ہیں جیسے حبر البحر۔

ترجمان قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے، بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ بکری کی قربانی کی۔ [صحیح بخاری:1703] ‏

صفحہ نمبر705

پھر فرمایا جب تک قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے تم اپنے سروں کو نہ منڈواؤ، اس کا عطف آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ» [ 2۔ البقرہ: 196 ] ‏ پر ہے، آیت «فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ» [ 2۔ البقرہ: 196 ] ‏ پر نہیں امام ابن جریر رحمہ اللہ سے یہاں سہو ہو گیا ہے وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے حدیبیہ والے سال جبکہ مشرکین رکاوٹ بن گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حرم میں نہ جانے دیا تو حرم سے باہر ہی سب نے سر بھی منڈوائے اور قربانیاں بھی کر دیں، لیکن امن کی حالت میں جبکہ حرم میں پہنچ سکتے ہوں تو جائز نہیں جب تک کہ قربانی اپنی جگہ پر نہ پہنچ جائے اور حاجی حج و عمرے کے جملہ احکام سے فارغ نہ ہو لے اگر وہ حج و عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے ہوئے ہو تو ان میں سے ایک کو کرنے والے ہو تو خواہ اس نے صرف حج کا احرام باندھا ہو خواہ تمتع کی نیت کی ہو۔

بخاری مسلم میں ہے کہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! سب نے تو احرام کھول ڈالے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو احرام میں ہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے اپنا سر منڈوا لیا ہے اور اپنی قربانی کے جانور کے گلے میں علامت ڈال دی ہے جب تک یہ ذبح نہ ہو جائے میں احرام نہیں اتار سکتا۔ [صحیح بخاری:1566] ‏

صفحہ نمبر706

پھر حکم ہوتا ہے کہ بیمار اور سر کی تکلیف والا شخص فدیہ دیدے صحیح بخاری شریف میں ہے عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں کوفے کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ مجھے لوگ اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے جوئیں میرے منہ پر چل رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر فرمایا تمہاری حالت یہاں تک پہنچ گئی ہو گی میں خیال بھی نہیں کر سکتا کیا تمہیں اتنی طاقت نہیں کہ ایک بکری ذبح کر ڈالو میں نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں تو مفلس آدمی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اپنا سرمنڈوا دو اور تین روزے رکھ لینا یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع [ تقریباً سوا سیر سوا چھٹانک ] ‏ اناج دے دینا یہ آیت میرے بارے میں اتری ہے اور حکم کے اعتبار سے ہر ایک ایسے معذور شخص کو شامل ہے۔ [صحیح بخاری:4517] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ میں ہنڈیا تلے آگ سلگا رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری یہ حالت دیکھ کر مجھے یہ مسئلہ بتایا، [صحیح بخاری:5665] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ حدیبیہ کا ہے اور میرے سر پر بڑے بڑے بال تھے جن میں بکثرت جوئیں ہو گئی تھیں، [صحیح بخاری:4190] ‏ ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ پھر میں نے سرمنڈوا دیا اور ایک بکری ذبح کر دی، ایک اور حدیث میں ہے [ نسک ] ‏ یعنی قربانی ایک بکری ہے اور روزے اگر رکھے تو تین رکھے اگر صدقہ دے تو ایک فرق [ پیمانہ ] ‏ چھ مسکینوں کے درمیان تقسیم کر دینا ہے، [الدر المنثور للسیوطی:515/1] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہما، محمد بن کعب، علقمہ، ابراہیم، مجاہد، عطا، سدی اور ربیع بن انس رحمہم اللہ کا بھی یہی فتویٰ ہے، ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کو تینوں مسئلے بتا کر فرما دیا تھا کہ اس میں سے جس پر تم چاہو عمل کرو کافی ہے، [سنن ابوداود:1861، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جہاں دو تین صورتیں لفظ ”او“ کے ساتھ بیان ہوئی ہوں وہاں اختیار ہوتا ہے جسے چاہے کر لے۔

صفحہ نمبر707

حضرت مجاہد، عکرمہ، عطاء، طاؤس، حسن، حمید، اعرج، ابراہیم نخعی اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے چاروں اماموں کا اور اکثر علماء کا بھی یہی مذہب ہے کہ اگر چاہے روزے رکھ لے اگر چاہے صدقہ کر دے اگر چاہے قربانی کر لے روزے تین ہیں صدقہ ایک فرق یعنی تین صاع یعنی آٹھ سیر میں آدھی چھٹانک کم ہے چھ مسکینوں پر تقسیم کر دے اور قربانی ایک بکری کی ہے، ان تینوں صورتوں میں سے جو چاہے کر لے، پروردگار رحمنٰ و رحیم کو چونکہ یہاں رخصت دینی تھی اس لیے سب سے پہلے روزے بیان فرمائے جو سب سے آسان صورت ہے، صدقہ کا ذکر کیا پھر قربانی کا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ افضیلت پر عمل کرانا تھا اس لیے پہلے قربانی کا ذکر کیا پھر چھ مسکینوں کو کھلانے کا پھر تین روزے رکھنے کا، سبحان اللہ دونوں مقام کے اعتبار سے دونوں ترکیبیں کس قدر درست اور برمحل ہیں، «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

صفحہ نمبر708

سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا جاتا ہے تو فرماتے ہیں کہ غلہ کا حکم لگایا جائے گا اگر اس کے پاس ہے تو ایک بکری خرید لے ورنہ بکری کی قیمت درہموں سے لگائی جائے اور اس کا غلہ خریدا جائے اور صدقہ کر دیا جائے ورنہ ہر آدھے صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے،

حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب محرم کے سر میں تکلیف ہو تو بال منڈوا دے اور اور ان تین میں سے ایک فدیہ ادا کر دے روزے دس ہیں، صدقہ دس مسکینوں کا کھانا بتلاتے ہیں لیکن یہ اقوال ٹھیک نہیں اس لیے کہ مرفوع حدیث میں آ چکا ہے کہ روزے تین ہیں اور چھ مسکینوں کا کھانا ہے اور ان تینوں صورتوں میں اختیار ہے قربانی کی بکری کر دے خواہ تین روزے رکھ لے خواہ چھ فقیروں کو کھانا کھلا دے، ہاں یہ ترتیب احرام کی حالت میں شکار کرنے والے پر ہے جیسے کہ قرآن کریم کے الفاظ ہیں اور فقہاء کا اجماع ہے لیکن یہاں ترتیب ضروری نہیں اختیار ہے، طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قربانی اور یہ صدقہ مکہ میں ہی کر دے لیکن روزے جہاں چاہے رکھ لے۔

صفحہ نمبر709

ایک اور روایت میں ہے ابو اسماء جو ابن جعفر کے مولیٰ ہیں فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حج کو نکلے آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا علی اور حسین رضی اللہ عنہما بھی تھے میں ابو جعفر کے ساتھ تھا ہم نے دیکھا کہ ایک شخص سویا ہوا ہے اور اس کی اونٹنی اس کے سرہانے بندھی ہوئی ہے میں نے اسے جگایا دیکھا تو وہ حسین رضی اللہ عنہ تھے ابن جعفر انہیں لے کر چلے یہاں تک کہ ہم سقیا میں پہنچے وہاں بیس دن تک ہم ان کی تیمارداری میں رہے ایک مرتبہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا حال ہے؟ جناب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا آپ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ سر منڈوا لو پھر اونٹ منگوا کر ذبح کر دیا، تو اگر اس اونٹ کا نحر کرنا احرام سے حلال ہونے کے لیے تھا تو خیر اور اگر یہ فدیہ کے لیے تھا تو ظاہر ہے کہ مکہ کے باہر یہ قربانی ہوئی۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ تمتع والا شخص بھی قربانی کرے، خواہ حج و عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھا ہو یا پہلے عمرے کا احرام باندھا ہو یا اس سے فارغ ہو کر حج کا احرام باندھ لیا ہو، اصل تمتع یہی ہے اور فقہاء کے کلام میں بھی مشہور یہی ہے اور عام تمتع ان دونوں قسموں میں شامل ہے، جیسے کہ اس پر صحیح حدیثیں دلالت کرتی ہیں بعض راوی تو کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حج تمتع کیا تھا بعض کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قارن تھے اور اتنا سب کہتے ہیں کہ قربانی کے جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، پس آیت میں یہ حکم ہے کہ تمتع کرنے والا جس قربانی پر قادر ہو وہ کر ڈالے جس کا ادنی درجہ ایک بکری کو قربان کرنا ہے گو گائے کی قربانی بھی کر سکتا ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی جو سب کی سب تمتع والی تھیں۔ [سنن ابوداود:1751، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر710

اس سے ثابت ہوا کہ تمتع بھی مشروع ہے، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تمتع کی آیت بھی قرآن میں نازل ہو چکی ہے اور ہم نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا پھر نہ تو قرآن میں اس کی ممانعت نازل ہوئی نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا لیکن لوگوں نے اپنی رائے سے اسے ممنوع قرار دیا، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد غالبًا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں امام المحدثین کی یہ بات بالکل صحیح ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ وہ لوگوں کو اس سے روکتے تھے اور فرماتے تھے کہ اگر ہم کتاب اللہ کو لیں تو اس میں بھی حج و عمرے کے پورا کرنے کا حکم موجود ہے آیت «وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ» [ 2۔ البقرہ: 196 ] ‏ لیکن یہ یاد رہے کہ لوگ بکثرت بیت اللہ شریف کا قصد حج و عمرے کے ارادے سے کریں جیسے کہ آپ سے صراحۃ مروی ہے رضی اللہ عنہ۔

پھر فرمایا جو شخص قربانی نہ کر سکے وہ تین روزے حج میں رکھ لے اور سات روزے اس وقت رکھ لے جب حج سے لوٹے یہ پورے دس ہو جائیں گے، یعنی قربانی کی طاقت جسے نہ ہو وہ روزے رکھ لے تین تو ایام حج میں اور بقیہ بعد میں، علماء کا فرمان ہے کہ اولیٰ یہ ہے کہ یہ روزے عرفے سے پہلے ذی الحجہ کے دنوں میں رکھ لے حضرت طاؤس مجاہد رحمہ اللہ علیہما وغیرہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اول شوال میں بھی یہ روزے جائز ہیں، شعبی رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں روزوں کو اگر عرفہ کے دن کا روزہ شامل کر کے ختم کرے تو بھی اختیار ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ منقول ہے کہ اگر عرفے سے پہلے دو دنوں میں دو روزے رکھ لے اور تیسرا عرفہ کے دن ہو تو بھی جائز ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی فرماتے ہیں ایک روزہ یوم الترویہ سے پہلے ایک یوم الترویہ کا اور ایک عرفہ کا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان بھی یہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:94/4] ‏ اگر کسی شخص سے یہ تینوں روزے یا ایک دو چھوٹ گئے ہوں اور ایام تشریق یعنی بقر و عید کے بعد کے تین دن آ جائیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ وہ ان دنوں میں بھی یہ روزے رکھ سکتا ہے [صحیح بخاری:1997] ‏ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے، سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے بھی یہی مروی ہے، عکرمہ، حسن بصری اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:98/4] ‏

صفحہ نمبر711

حضرت امام شافعی کا نیا قول یہ ہے کہ ان دنوں میں یہ روزے ناجائز ہیں، کیونکہ صحیح مسلم شریف میں حدیث ہے کہ ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔ [صحیح مسلم:1141] ‏ پھر سات روزے لوٹنے کے وقت اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جب لوٹ کر اپنی قیام گاہ پہنچ جاؤ پس لوٹتے وقت راستہ میں بھی یہ سات روزے رکھ سکتا ہے مجاہد رحمہ اللہ اور عطا رحمہ اللہ یہی کہتے ہیں، یا مراد وطن میں پہنچ جانے سے ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں اور بھی بہت سے تابعین کا یہی مذہب ہے بلکہ ابن جریر تو اس پر اجماع بتاتے ہیں،

بخاری شریف کی ایک مطول حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرے کا حج کے ساتھ تمتع کیا اور قربانی دی ذوالحلیفہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی ساتھ لے لی تھی عمرے کے لیے پھر حج کی تہلیل کی لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا بعض لوگوں نے تو قربانی ساتھ ہی رکھ لی تھی۔

صفحہ نمبر712

بعض کے ساتھ قربانی کے جانور نہ تھے مکہ شریف پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی ہے وہ حج ختم ہونے تک احرام میں رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں وہ بیت اللہ شریف کا طواف کر کے صفا مروہ کے درمیان دوڑ کر احرام کھول ڈالے سر کے بال منڈوالے یا کتروالے پھر حج کا احرام باندھے اگر قربانی کی طاقت نہ ہو تو تین روزے تو حج میں رکھ لے اور سات روزے جب اپنے وطن پہنچے تب رکھ لے [صحیح بخاری:1691] ‏ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سات روزے وطن میں جانے کے بعد ہیں۔

پھر فرمایا یہ پورے دس ہیں یہ فرمان تاکید کے لیے ہے جیسے عربوں میں کہا جاتا ہے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کانوں سے سنا ہاتھ سے لکھا اور قرآن میں بھی ہے آیت «وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم مَّا فَرَّطْنَا فِي الْكِتَابِ مِن شَيْءٍ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ» [ 6-الأنعام: 38 ] ‏ نہ کوئی پرندہ جو اپنے دونوں پروں سے اڑتا ہو اور جگہ ہے آیت «وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ» [ 39۔ العنکبوت: 48 ] ‏ تو اپنے دائیں ہاتھ سے لکھنا نہیں، اور جگہ ہے «وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً» [ 7-الأعراف: 142 ] ‏ ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو تیس راتوں کا وعدہ دیا اور دس اور اس کے ساتھ پورا کیا اور اس کے رب کا وقت مقررہ چالیس راتوں کو پورا ہوا، پس جیسے ان سب جگہوں میں صرف تاکید ہے ایسے ہی یہ جملہ بھی تاکید کے لیے ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تمام و کمال کرنے کا حکم ہے اور کاملہ کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہ قربانی کے بدلے کافی ہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد الحرام کے رہنے والے نہ ہوں، اس پر تو اجماع ہے کہ حرم والے تمتع نہیں کر سکتے۔

صفحہ نمبر713

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں، بلکہ آپ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مکہ والو تم تمتع نہیں کر سکتے باہر والوں کے لیے تمتع ہے تم کو تو ذرا سی دور جانا پڑتا ہے تھوڑے سا فاصلہ طے کیا پھر عمرے کا احرام باندھ لیا، طاؤس رحمہ اللہ کی تفسیر بھی یہی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:111/4] ‏ لیکن عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میقات یعنی احرام باندھنے کے مقامات کے اندر ہوں وہ بھی اسی حکم میں ہیں ان کے لیے بھی تمتع کرنا جائز نہیں، مکحول رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، تو عرفات والوں کا مزدلفہ والوں کا عرفہ اور رجیع کے رہنے والوں کا بھی یہی حکم ہے۔

زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مکہ شریف سے ایک دن کی راہ کے فاصلہ پر ہو یا اس کے قریب وہ تو تمتع کر سکتا ہے اور لوگ نہیں کر سکتے، عطاء رحمہ اللہ دو دن بھی فرماتے ہیں، امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب یہ ہے کہ اہل حرم اور جو اتنے فاصلے پر ہوں کہ وہاں مکی لوگوں کے لیے نماز قصر کرنا جائز نہ ہو ان سب کے لیے یہی حکم ہے اس لیے کہ یہ سب حاضر کہے جائیں گے ان کے علاوہ سب مسافر، اور ان سب کے لیے حج میں تمتع کرنا جائز ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرو اس کے احکام بجا لاؤ جن کاموں سے اس نے منع کیا ہے رک جاؤ اور یقین رکھو کہ اس کے نافرمانوں کو وہ سخت سزا کرتا ہے۔

صفحہ نمبر714

احرام کے مسائل ٭٭

عربی دان حضرات نے کہا ہے کہ مطلب اگلے جملہ کا یہ ہے کہ حج حج ہے ان مہینوں کا جو معلوم اور مقرر ہیں، پس حج کے مہینوں میں احرام باندھنا دوسرے مہینوں کے احرام سے زیادہ کامل ہے، گو اور ماہ کا احرام بھی صحیح ہے، امام مالک، امام ابوحنیفہ، امام احمد، امام اسحٰق، امام ابراہیم نخعی، امام ثوری، امام لیث، اللہ تعالیٰ ان پر سب رحمتیں نازل فرمائے فرماتے ہیں کہ سال بھر میں جس مہینہ میں چاہے حج کا احرام باندھ سکتا ہے ان بزرگوں کی دلیل «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ» [ 2-البقرہ: 189 ] ‏ الخ ہے، دوسری دلیل یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کو نسک کہا گیا ہے اور عمرے کا احرام حج کے مہینوں میں ہی باندھنا صحیح ہو گا بلکہ اگر اور ماہ میں حج کا احرام باندھا تو غیر صحیح ہے لیکن اس سے عمرہ بھی ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اس میں امام صاحب کے دو قول ہیں ابن عباس جابر، عطا مجاہد رحمہم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے کہ حج کا احرام حج کے مہینوں کے سوا باندھنا غیر صحیح ہے اور اس پر دلیل «الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ» [ 2۔ البقرہ: 197 ] ‏ ہے عربی دان حضرات کی ایک دوسری جماعت کہتی ہے کہ آیت کے ان الفاظ سے مطلب یہ ہے کہ حج کا وقت خاص خاص مقرر کردہ مہینے میں تو ثابت ہوا کہ ان مہینوں سے پہلے حج کا جو احرام باندھے گا وہ صحیح نہ ہو گا جس طرح نماز کے وقت سے پہلے کوئی نماز پڑھ لے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں مسلم بن خالد نے خبر دی انہوں نے ابن جریج سے سنا اور انہیں عمرو بن عطاء نے کہا ان سے عکرمہ نے ذکر کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ کسی شخص کو لائق نہیں کہ حج کے مہینوں کے سوا بھی حج کا احرام باندھے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ» [ 2۔ البقرہ: 197 ] ‏ اس روایت کی اور بھی بہت سی سندیں ہیں۔

صفحہ نمبر715

ایک سند میں ہے کہ سنت یہی ہے، صحیح ابن خزیمہ میں بھی یہ روایت منقول ہے، اصول کی کتابوں میں یہ مسئلہ طے شدہ ہے کہ صحابی کا فرمان حکم میں مرفوع حدیث کے مساوی ہوتا ہے پس یہ حکم رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو گیا اور صحابی بھی یہاں وہ صحابی ہیں جو مفسر قرآن اور ترجمان القرآن ہیں، علاوہ ازیں ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حج کا احرام باندھنا کسی کو سوا حج کے مہینوں کے لائق نہیں، اس کی اسناد بھی اچھی ہیں، لیکن شافعی رحمہ اللہ اور بیہقی رحمہ اللہ نے روایت کی ہے کہ اس حدیث کے راوی سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ حج کے مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھ لیا جائے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا نہیں، [بیہقی:343/4:ضعیف] ‏ یہ موقوف حدیث ہی زیادہ ثابت اور زیادہ صحیح ہے اور صحابی کے اس فتویٰ کی تقویت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول سے بھی ہوتی ہے کہ سنت یوں ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اشہر معلومات سے مراد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں شوال ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے ہیں [بخاری:کتاب الحج،تعلیقًا قبل الحدیث،1560] ‏ یہ روایت ابن جریر میں بھی ہے، مستدرک حکم میں بھی ہے اور امام حاکم اسے صحیح بتلاتے ہیں۔ [حاکم:276/2:صحیح] ‏ عمر، عطا، مجاہد، ابراہیم نخعی، شعبی، حسن، ابن سیرین، مکحول، قتادہ، ضحاک بن مزاحم، ربیع بن انس، مقاتل بن حیان رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:486/2] ‏ امام شافعی، امام ابوحنیفہ، امام احمد بن حنبل، ابو یوسف اور ابوثور رحمۃ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اشہر کا لفظ جمع ہے تو اس کا اطلاق دو پورے مہینوں اور تیسرے کے بعض حصے پر بھی ہوسکتا ہے، جیسے عربی میں کہا جاتا ہے کہ میں نے اس سال یا آج کے دن اسے دیکھا ہے پس حقیقت میں سارا سال اور پورا دن تو دیکھتا نہیں رہتا بلکہ دیکھنے کا وقت تھوڑا ہی ہوتا ہے مگر اغلباً [ تقریباً ] ‏ ایسا بول دیا کرتے ہیں اسی طرح یہاں بھی اغلباً [تقریباً] ‏ تیسرے مہینہ کا ذکر ہے قرآن میں بھی ہے «فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ» [ 2۔ البقرہ: 203 ] ‏ حالانکہ وہ جلدی ڈیڑھ دن کی ہوتی ہے مگر گنتی میں دو دن کہے گئے، امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا ایک پہلا قول یہ بھی ہے کہ شوال ذوالقعدہ اور ذوالحجہ کا پورا مہینہ ہے،

سیدنا ابن عمر سے بھی یہی مروی ہے، ابن شہاب، عطاء رحمہ اللہ علیہما، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے طاؤس، مجاہد، عروہ ربیع اور قتادہ رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ آیا ہے لیکن وہ موضوع ہے، کیونکہ اس کا راوی حسین بن مخارق ہے جس پر احادیث کو وضع کرنے کی تہمت ہے، بلکہ اس کا مرفوع ہونا ثابت نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر716

امام مالک کے اس قول کو مان لینے کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ ذوالحجہ کے مہینے میں عمرہ کرنا صحیح نہ ہو گا یہ مطلب نہیں کہ دس ذی الحجہ کے بعد بھی حج ہو سکتا ہے، چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ درست نہیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی ان اقوال کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں کہ حج کا زمانہ تو منیٰ کے دن گزرتے ہی جاتا رہا، محمد بن سیرین رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میرے علم میں تو کوئی اہل علم ایسا نہیں جو حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ کرنے کو ان مہینوں کے اندر عمرہ کرنے سے افضل ماننے میں شک کرتا ہو، قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ابن عون نے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کے مسئلہ کو پوچھا تو آپ رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ اسے لوگ پورا عمرہ نہیں مانتے، سیدنا عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی حج کے مہینوں کے علاوہ عمرہ کرنا پسند فرماتے تھے بلکہ ان مہینوں میں عمرہ کرنے کو منع کرتے تھے «وَاللهُ اَعْلَمُ»

[ اس سے اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے ] ‏ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالقعدہ میں چار عمرے ادا فرمائے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ ادا فرماتے ہیں اور ذوالقعدہ بھی حج کا مہینہ ہے پس حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز ٹھہرا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جو شخص ان مہینوں میں حج مقرر کرے یعنی حج کا احرام باندھ لے اس سے ثابت ہوا کہ حج کا احرام باندھنا اور اسے پورا کرنا لازم ہے، فرض سے مراد یہاں واجب و لازم کر لینا ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:121/4] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں حج اور عمرے کا احرام باندھنے والے سے مراد ہے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرض سے مراد احرام ہے، ابراہیم اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی قول ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:123/4] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں احرام باندھ لینے اور لبیک پکار لینے کے بعد کہیں ٹھہرا رہنا ٹھیک نہیں اور بزرگوں کا بھی یہی قول ہے، بعض بزرگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ فرض سے مراد لبیک پکارنا ہے۔ [ رفث ] ‏ سے مراد جماع ہے جیسے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاىِٕكُمْ» [ 2۔ البقرہ: 187 ] ‏ یعنی روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے جماع کرنا تمہارے لیے حلال کیا گیا ہے، احرام کی حالت میں جماع اور اس کے تمام مقدمات بھی حرام ہیں جیسے مباشرت کرنا، بوسہ لینا، ان باتوں کا عورتوں کی موجودگی میں ذکر کرنا۔ گویا بعض نے مردوں کی محفلوں میں بھی ایسی باتیں کرنے کو دریافت کرنے پر فرمایا کہ عورتوں کے سامنے اس قسم کی باتیں کرنا رفث ہے۔ رفث کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ جماع وغیرہ کا ذکر کیا جائے، فحش باتیں کرنا، دبی زبان سے ایسے ذکر کرنا، اشاروں کنایوں میں جماع کا ذکر، اپنی بیوی سے کہنا کہ احرام کھل جائے تو جماع کریں گے، چھیڑ چھاڑ کرنا، مساس کرنا وغیرہ یہ سب رفث میں داخل ہے اور احرام کی حالت میں یہ سب باتیں حرام ہیں مختلف مفسروں کے مختلف اقوال کا مجموعہ یہ ہے۔

فسوق کے معنی عصیان ونافرمانی شکار گالی گلوچ وغیرہ بد زبانی ہے جیسے حدیث میں ہے مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے، [صحیح بخاری:48] ‏ اللہ کے سوا دوسرے کے تقرب کے لیے جانوروں کو ذبح کرنا بھی فسق ہے جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَيْرِ اللّٰهِ بِهٖ» [ 6۔ الانعام: 145 ] ‏ بد القاب سے یاد کرنا بھی فسق ہے قرآن فرماتا ہے آیت «وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ» [ 49-الحجرات: 11 ] ‏ مختصر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہرنافرمانی فسق میں داخل ہے گو یہ فسق ہر وقت حرام ہے لیکن حرمت والے مہینوں میں اس کی حرمت اور بڑھ جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَافَّةً» [ 9۔ التوبہ: 136 ] ‏ ان حرمت والے مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اس طرح حرم میں بھی یہ حرمت بڑھ جاتی ہے ارشاد ہے آیت «وَمَنْ يُّرِدْ فِيْهِ بِاِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ» [ 22۔ الحج: 25 ] ‏ یعنی حرم میں جو الحاد اور بے دینی کا ارادہ کرے اور اسے ہم المناک عذاب دیں گے،

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد فسق سے وہ کام ہیں جو احرام کی حالت میں منع ہیں جیسے شکار کھیلنا بال منڈوانا یا کتروانا یا ناخن لینا وغیرہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے لیکن بہترین تفسیر وہی ہے جو ہم نے بیان کی یعنی ہر گناہ سے روکا گیا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:126/4] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر717

بخاری و مسلم میں ہے جو شخص بیت اللہ کا حج کرے نہ رفث کرے نہ فسق تو وہ گناہوں سے ایسا نکل جاتا ہے جیسے اپنے پیدا ہونے کا دن تھا۔ [صحیح بخاری:1521] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ حج میں جھگڑا نہیں یعنی حج کے وقت اور حج کے ارکان وغیرہ میں جھگڑا نہ کرو اور اس کا پورا بیان اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے، حج کے مہینے مقرر ہو چکے ہیں ان میں کمی زیادتی نہ کرو، موسم حج کو آگے پیچھے نہ کرو جیسا کہ مشرکین کا وطیرہ تھا جس کی مذمت قرآن کریم میں اور جگہ فرما دی گئی ہے اسی طرح قریش مشعرِ حرام کے پاس مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے اور باقی عرب عرفات میں ٹھہرتے تھے پھر آپس میں جھگڑتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ ہم صحیح راہ پر اور طریق ابراہیمی پر ہیں جس سے یہاں ممانعت کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں وقت حج ارکان حج اور ٹھہرنے وغیرہ کی جگہیں بیان کر دی ہیں اب نہ کوئی ایک دوسرے پر فخر کرے نہ حج کے دن آگے پیچھے کرے بس یہ جھگڑے اب مٹا دو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ حج کے سفر میں آپس میں نہ جھگڑو نہ ایک دوسرے کو غصہ دلاؤ نہ کسی کو گالیاں دو، بہت سے مفسرین کا یہ قول بھی ہے اور بہت سے مفسرین کا پہلا قول بھی ہے، عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی کا اپنے غلام کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا یہ اس میں داخل نہیں ہاں مارے نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ غلام کو اگر مار بھی لے تو کوئی ڈر خوف نہیں۔

صفحہ نمبر718

مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج میں تھے ور عرج میں ٹھہرے ہوئے تھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کا سامان سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے خادم کے پاس تھا سیدنا صدیق رضی اللہ عنہما اس کا انتظار کر رہے تھے تھوڑی دیر میں وہ آ گیا اس سے پوچھا کہ اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا کل رات کو گم ہو گیا آپ رضی اللہ عنہما ناراض ہوئے اور فرمانے لگے ایک اونٹ کو بھی تو سنبھال نہ سکا یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہما نے اسے مارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے دیکھو احرام کی حالت میں کیا کر رہے ہیں؟ یہ حدیث ابوداؤد اور ابن ماجہ میں بھی ہے، [سنن ابوداود:1818، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ حج کے تمام ہونے میں یہ بھی ہے لیکن یہ خیال رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اس کام پر یہ فرمانا اس میں نہایت لطافت کے ساتھ ایک قسم کا انکار ہے پس مسئلہ یہ ہوا کہ اسے چھوڑ دینا ہی اولیٰ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر719

مسند عبد بن حمید میں ہے کہ جو شخص اپنا حج پورا کرے اور مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے ایذاء نہ پائیں اس کے تمام اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ [عبد بن حمید:1150:ضعیف] ‏ پھر فرمایا تم جو بھلائی کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، چونکہ اوپر ہر برائی سے روکا تھا کہ نہ کوئی برا کام کرو نہ بری بات کہو تو یہاں نیکی کی رغبت دلائی جا رہی ہے کہ ہر نیکی کا پورا بدلہ قیامت کے دن پاؤ گے۔

صفحہ نمبر720

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ توشہ اور سفر خرچ لے لیا کرو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں لوگ بلا خرچ سفر کو نکل کھڑے ہوتے تھے پھر لوگوں سے مانگتے پھرتے جس پر یہ حکم ہوا، [تفسیر ابن جریر الطبری:3736] ‏ عکرمہ، عیینہ رحمہ اللہ علیہما بھی یہی فرماتے ہیں، بخاری نسائی وغیرہ میں یہ روایتیں مروی ہیں، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یمنی لوگ ایسا کرتے تھے اور اپنے تئیں متوکل کہتے تھے، [صحیح بخاری:1523] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ جب احرام باندھتے تو جو کچھ توشہ بھنا ہوتا سب پھینک دیتے اور نئے سرے سے نیا سامان کرتے اس پر یہ حکم ہوا کہ ایسا نہ کرو آٹا ستو وغیرہ توشے ہیں ساتھ لے لو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:156/4] ‏ دیگر بہت سے معتبر مفسرین نے بھی اسی طرح کہا ہے بلکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ انسان کی عزت اسی میں ہے کہ وہ عمدہ سامان سفر ساتھ رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سے دل کھول کر خرچ کرنے کی شرط کر لیا کرتے تھے۔

صفحہ نمبر721

چونکہ دنیوی توشہ کا حکم دیا ہے تو ساتھ ہی فرمایا ہے کہ آخرت کے توشہ کی تیاری بھی کر لو یعنی اپنی قبر میں اپنے ساتھ خوف اللہ لے کر جاؤ جیسے اور جگہ لباس کا ذکر کر کے ارشاد فرمایا آیت «وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ» [ 7۔ الاعراف: 26 ] ‏ پرہیزگاری کا لباس بہتر ہے، یعنی خشوع خضوع طاعت وتقویٰ کے باطنی لباس سے بھی خالی نہ رہو، بلکہ یہ لباس اس ظاہری لباس سے کہیں زیادہ بہتر اور نفع دینے والا ہے، ایک حدیث میں بھی ہے کہ دنیا میں اگر کچھ کھوؤ گے تو آخرت میں پاؤ گے یہاں کا توشہ وہاں فائدہ دے گا [طبرانی کبیر:2271:صحیح] ‏ اس حکم کو سن کر ایک مسکین صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنا تو ہونا چاہیئے جس سے کسی سے سوال نہ کرنا پڑے اور بہترین خزانہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ [ ابن ابی حاتم ] ‏

صفحہ نمبر722

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ «وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ» [ 2-البقرہ: 197 ] ‏ عقلمندو مجھ سے ڈرتے رہا کرو، یعنی میرے عذابوں سے، میری پکڑ دھکڑ سے، میری گرفت سے، میری سزاؤں سے ڈرو، دب کر میرے احکام کی تعمیل کرو، میرے ارشاد کے خلاف نہ کرو تاکہ نجات پا سکو یہ ہی عقلی امتیاز ہے۔

صفحہ نمبر723

تجارت اور حج ٭٭

صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازار تھے اسلام کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم ایام حج میں تجارت کو گناہ سمجھ کر ڈرے تو انہیں اجازت دی گئی کہ ایام حج میں تجارت کرنا گناہ نہیں، [صحیح بخاری:1770] ‏ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ حج کے دنوں میں احرام سے پہلے یا احرام کے بعد حاجی کے لیے خرید و فروخت حلال ہے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قرأت میں آیت «من ربکم» کے بعد [فِی مَوَاسِمِ الْحَجَّ] ‏ کا لفظ بھی ہے، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:2771] ‏ دوسرے مفسرین نے بھی اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ ایک شخص حج کو نکلتا ہے اور ساتھ ہی خوش الحانی کے ساتھ پڑھتا جاتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ رضی اللہ عنہما نے یہی آیت پڑھ کر سنائی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:165/4] ‏

صفحہ نمبر724

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ابوامامہ تیمی رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ ہم حج میں جانور کرایہ پر دیتے ہیں کیا ہمارا حج ہو جاتا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم بیت اللہ شریف کا طواف نہیں کرتے؟ کیا تم عرفات میں نہیں ٹھہرتے؟ کیا تم شیطانوں کو کنکریاں نہیں مارتے؟ کیا تم سر نہیں منڈواتے؟ اس نے کہا یہ سب کام تو ہم کرتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سنو ایک شخص نے یہی سوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا اور اس کے جواب میں جبرائیل علیہ السلام آیت «لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ» [ 2۔ البقرہ: 198 ] ‏ لے کر اترے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا کہ تم حاجی ہو تمہارا حج ہو گیا۔ [مسند احمد:155/2:صحیح] ‏ مسند عبدالرزاق میں بھی یہ روایت ہے کہ اور تفسیر عبد بن حمید وغیرہ میں بھی، بعض روایتوں میں الفاظ کی کچھ کمی بیشی بھی ہے، ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ کیا تم احرام نہیں باندھتے [ایضاً] ‏

صفحہ نمبر725

امیرالمؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ کیا آپ حضرات حج کے دنوں میں تجارت بھی کرتے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اور تجارت کا موسم ہی کون سا تھا؟ [تفسیر ابن جریر الطبری:168/4] ‏ عرفات کو منصرف [ یعنی تصرف کر کے ] ‏ پڑھا گیا ہے حالانکہ اس کے غیر منصرف ہونے کے دو سبب اس میں موجود ہیں یعنی [اسم علم ] ‏ اور تانیث، اس لیے کہ دراصل یہ جمع ہے جیسے مسلمات اور مومنات ایک خاص جگہ کا نام مقرر کر دیا گیا ہے اس لیے اصلیت کی رعایت کی گئی اور منصرف پڑھا گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:171/4] ‏ عرفہ وہ جگہ ہے جہاں کا ٹھہرنا حج کا بنیادی رکن ہے مسند احمد وغیرہ میں حدیث ہے کہ حج عرفات ہے تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا جو سورج نکلنے سے پہلے عرفات میں پہنچ گیا اس نے حج کو پا لیا، منیٰ کے تین دنوں میں جلدی یا دیر کی جا سکتی ہے، پر کوئی گناہ نہیں، [سنن ابوداود:1949، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ٹھہرنے کا وقت عرفے کے دن سورج ڈھلنے کے بعد سے لے کر عید کی صبح صادق کے طلوع ہونے تک ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں ظہر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک یہاں ٹھہرے رہے اور فرمایا تھا مجھ سے حج کے طریقے سیکھ لو، [صحیح مسلم:1297] ‏

امام مالک رحمہ اللہ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ کا یہی مذہب ہے کہ دسویں کی فجر سے پہلے جو شخص عرفات میں پہنچ جائے، اس نے حج پا لیا، امام احمد رحمہ اللہ، فرماتے ہیں کہ ٹھہرنے کا وقت عرفہ کے دن کے شروع سے ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں نماز کے لیے نکلے تو ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور اس نے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں طی کی پہاڑیوں سے آ رہا ہوں اپنی سواری کو میں نے تھکا دیا اور اپنے نفس پر بڑی مشقت اٹھائی واللہ ہر ہر پہاڑ پر ٹھہرتا آیا ہوں کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہمارے یہاں کی اس نماز میں پہنچ جائے اور ہمارے ساتھ چلتے وقت تک ٹھہرا رہے اور اس سے پہلے وہ عرفات میں بھی ٹھہر چکا ہو خواہ رات کو خواہ دن کو اس کا حج پورا ہو گیا اور وہ فریضہ سے فارغ ہو گیا۔ [سنن ابوداود:1950، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام ترمذی رحمہ اللہ اسے صحیح کہتے ہیں، امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور انہوں نے آپ علیہ السلام کو حج کرایا جب عرفات میں پہنچے تو پوچھا کہ [ عرفت ] ‏ کیا تم نے پہچان لیا؟ خلیل اللہ نے جواب دیا [ عرفت ] ‏ میں نے جان لیا کیونکہ اس سے پہلے یہاں آچکے تھے اس لیے اس جگہ کا نام ہی عرفہ ہو گیا۔ [عبدالرزاق:97/5] ‏

صفحہ نمبر726

حضرت عطاء رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ابومجلز رضی اللہ عنہ سے بھی یہی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» [تفسیر ابن ابی حاتم:519/2] ‏ ”مشعر الحرام“ ”مشعر الاقصی“ اور ”الال“ بھی ہے، اور اس پہاڑ کو بھی عرفات کہتے ہیں جس کے درمیان جبل الرحمۃ ہے، ابوطالب کے ایک مشہور قصیدے میں بھی ایک شعر ان معنوں کا ہے، اہل جاہلیت بھی عرفات میں ٹھہرتے تھے جب پہاڑ کی دھوپ چوٹیوں پر ایسی باقی رہ جاتی جیسے آدمی کے سر پر عمامہ ہوتا ہے تو وہ وہاں سے چل پڑتے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے اس وقت چلے جب سورج بالکل غروب ہو گیا، پھر مزدلفہ میں پہنچ کر یہاں پڑاؤ کیا اور سویرے اندھیرے ہی اندھیرے بالکل اول وقت میں رات کے اندھیرے اور صبح کی روشنی کے ملے جلے وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہیں نماز صبح ادا کی اور جب روشنی واضح ہو گئی تو صبح کی نماز کے آخری وقت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے کوچ کیا سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عرفات میں خطبہ سنایا اور حسب عادت حمد و ثنا کے بعد امابعد کہہ کر فرمایا کہ حج اکبر آج ہی کا دن ہے دیکھو مشرک اور بت پرست تو یہاں سے جب دھوپ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اس طرح ہوتی تھی جس طرح لوگوں کے سروں پر عمامہ ہوتا ہے تو سورج غروب ہونے سے پیشتر ہی لوٹ جاتے تھے لیکن ہم سورج غروب ہونے کے بعد یہاں سے واپس ہوں گے وہ مشعر الحرام سے سورج نکلنے کے بعد چلتے تھے جبکہ اتنی وہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر دھوپ اس طرح نمایاں ہو جاتی جس طرح لوگوں کے سروں پر عمامے ہوتے ہیں لیکن ہم سورج نکلنے سے پہلے ہی چل دیں گے ہمارا طریقہ مشرکین کے طریقے کے خلاف ہے۔ [طبرانی کبیر:28/20:صحیح] ‏

امام حاکم نے اسے شرط شیخین پر اور بالکل صحیح بتلایا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو گیا کہ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ان لوگوں کا قول ٹھیک نہیں جو فرماتے ہیں کہ سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے لیکن آپ سے کچھ سنا نہیں،

معرور بن سوید رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو عرفات سے لوٹتے ہوئے دیکھا گویا اب تک بھی وہ منظر میرے سامنے ہے، آپ رضی اللہ عنہ کے سر کے اگلے حصے پر بال نہ تھے اپنے اونٹ پر تھے اور فرما رہے تھے ہم واضح روشنی میں لوٹے صحیح مسلم کی جابر والی ایک مطول حدیث جس میں حجۃ الوداع کا پورا بیان ہے اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج کے غروب ہونے تک عرفات میں ٹھہرے جب سورج چھپ گیا اور قدرے زردی ظاہر ہونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے اپنی سواری پر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو سوار کیا اور اونٹنی کی نکیل تان لی یہاں تک کہ اس کا سر پالان کے قریب پہنچ گیا اور دائیں ہاتھ سے لوگوں کو اشارہ فرماتے جاتے تھے کہ لوگو آہستہ آہستہ چلو نرمی اطمینان و سکون اور دلجمعی کے ساتھ چلو جب کوئی پہاڑی آئی تو نکیل قدرے ڈھیلی کرتے تاکہ جانور بہ آسانی اوپر چڑھ جائے، مزدلفہ میں آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نماز ادا کی اذان ایک ہی کہلوائی اور دونوں نمازوں کی تکبیریں الگ الگ کہلوائیں مغرب کے فرضوں اور عشاء کے فرضوں کے درمیان سنت نوافل کچھ نہیں پڑھے پھر لیٹ گئے، صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد نماز فجر ادا کی جس میں اذان و اقامت ہوئی پھر قصوی نامی اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر الحرام میں آئے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر دعا میں مشغول ہو گئے اور اللہ اکبر اور لا الہٰ الا اللہ اور اللہ کی توحید بیان کرنے لگے یہاں تک کہ خوب سویرا ہو گیا، سورج نکلنے سے پہلے ہی پہلے آپ یہاں سے روانہ ہو گئے، [صحیح مسلم:1218] ‏

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے سوال ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب یہاں سے چلے تو کیسی چال چلتے تھے فرمایا اور درمیانہ دھیمی چال سواری چلا رہے تھے ہاں جب راستہ میں کشادگی دیکھتے تو ذرا تیز کر لیتے۔ [صحیح بخاری:1666] ‏

صفحہ نمبر727

پھر فرمایا عرفات سے لوٹتے ہوئے مشعرالحرام میں اللہ کا ذکر کرو یعنی یہاں دونوں نمازیں جمع کر لیں، عمرو بن میمون رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مشعرالحرام کے بارے میں دریافت فرماتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ خاموش رہتے ہیں جب قافلہ مزدلفہ میں جا کر اترتا ہے تو فرماتے ہیں سائل کہاں ہے یہ ہے مشعر الحرام، آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ مزدلفہ تمام کا تمام مشعر الحرام ہے، پہاڑ بھی اور اس کے آس پاس کی کل جگہ، آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ قزح پر بھیڑ بھاڑ کر رہے ہیں تو فرمایا یہ لوگ کیوں بھیڑ بھاڑ کر رہے ہیں؟ یہاں کی سب جگہ مشعر الحرام ہے، اور بھی بہت سے مفسرین نے یہی فرمایا ہے کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کی کل جگہ مشعر الحرام ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:521/2] ‏

عطاء رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ مزدلفہ کہاں ہے آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب عرفات سے چلے اور میدان عرفات کے دونوں کنارے چھوڑے پھر مزدلفہ شروع ہو گیا وادی محسر تک جہاں چاہو ٹھہرو لیکن میں تو قزح سے ادھر ہی ٹھہرنا پسند کرتا ہوں تاکہ راستے سے یکسوئی ہو جائے، مشاعر کہتے ہیں ظاہری نشانوں کو مزدلفہ کو مشعر الحرام اس لیے کہتے ہیں کہ وہ حرم میں داخل ہے، سلف صالحین کی ایک جماعت کا اور بعض اصحاب شافعی رحمہ اللہ کا مثلا قفال اور ابن خزیمہ رحمہ اللہ علیہما کا خیال ہے کہ یہاں کا ٹھہرنا حج کا رکن ہے بغیر یہاں ٹھہرے حج صحیح نہیں ہوتا کیونکہ ایک حدیث سیدنا عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے اس معنی کی مروی ہے، بعض کہتے ہیں یہ ٹھہرنا واجب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک قول یہ بھی ہے اگر کوئی یہاں نہ ٹھہرا تو قربانی دینی پڑے گی، امام صاحب کا دوسرا قول یہ ہے کہ مستحب ہے اگر نہ بھی ٹھہرا تو کچھ حرج نہیں، پس یہ تین قول ہوئے ہم یہاں اس بحث کو زیادہ طول دینا مناسب نہیں سمجھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [ قرآن کریم کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی زیادہ تائید کرتے ہیں واللہ اعلم۔ مترجم ] ‏

ایک مرسل حدیث میں ہے کہ عرفات کا سارا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے، عرفات سے بھی اٹھو اور مزدلفہ کی کل حد بھی ٹھہرنے کی جگہ ہے ہاں وادی محسر نہیں، [مسند احمد:82/4:مرسل و ضعیف] ‏ مسند احمد کی اس حدیث میں اس کے بعد ہے کہ مکہ شریف کی تمام گلیاں قربانی کی جگہ ہیں اور ایام تشریق سب کے سب قربانی کے دن ہیں، لیکن یہ حدیث بھی منقطع ہے اس لیے کہ سلیمان بن موسیٰ رشدق نے جبیر بن مطعم رحمہ اللہ کو نہیں پایا لیکن اس کی اور سندیں بھی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [مسند احمد:82/4:صحیح لغیرہ] ‏

صفحہ نمبر728

پھر ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو جیسے کہ اس نے تمہیں ہدایت دی ہے کہ احکام حج وضاحت کے ساتھ بیان فرما دئیے اور خلیل اللہ کی اس سنت کو واضح کر دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے تم اس سے بے خبر تھے، یعنی اس ہدایت سے پہلے، اس قرآن سے پہلے، اس رسول سے پہلے، فی الواقع ان تینوں باتوں سے پہلے دنیا گمراہی میں تھی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر729

قریش سے خطاب اور معمول نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ٭٭

«”ثُمَّ“» یہاں پر خبر کا خبر پر عطف ڈالنے کے لیے ہے تاکہ ترتیب ہو جائے، گویا کہ عرفات میں ٹھہرنے والے کو حکم ملا کہ وہ یہاں سے مزدلفہ جائے تاکہ مشعر الحرام کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کر سکے، اور یہ بھی فرما دیا کہ وہ تمام لوگوں کے ساتھ عرفات میں ٹھہرے، جیسے کہ عام لوگ یہاں ٹھہرتے تھے البتہ قریشیوں نے فخر و تکبر اور نشان امتیاز کے طور پر یہ ٹھہرا لیا تھا کہ وہ حد حرم سے باہر نہیں جاتے تھے، اور حرم کی آخری حد پر ٹھہر جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اللہ والے ہیں اسی کے شہر کے رئیس ہیں اور اس کے گھر کے مجاور ہیں،

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ قریش اور ان کے ہم خیال لوگ مزدلفہ میں ہی رک جایا کرتے تھے اور اپنا نام حمس رکھتے تھے باقی کل عرب عرفات میں جا کر ٹھہرتے تھے اور وہیں سے لوٹتے تھے اسی لیے اسلام نے حکم دیا کہ جہاں سے عام لوگ لوٹتے ہیں تم وہی سے لوٹا کرو، [صحیح بخاری:4520] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد، عطاء، قتادہ، سدی رحمہ اللہ علیہم وغیرہ یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:186/4] ‏ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی تفسیر کو پسند کرتے ہیں اور اسی پر اجماع بتاتے ہیں، مسند احمد میں ہے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا اونٹ عرفات میں گم ہو گیا میں اسے ڈھونڈنے کے لیے نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں ٹھہرے ہوئے دیکھا کہنے لگا یہ کیا بات ہے کہ یہ حمس ہیں اور پھر یہاں حرم کے باہر آ کر ٹھہرے ہیں، [صحیح بخاری:1664] ‏ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ افاضہ سے مراد یہاں مزدلفہ سے رمی جمار کے لیے منیٰ کو جاتا ہے، [صحیح بخاری:4521] ‏ «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

اور الناس سے مراد ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں، بعض کہتے ہیں مراد امام ہے، ابن جریر فرماتے ہیں اگر اس کے خلاف اجماع کی حجت نہ ہوتی تو یہی قول رائج رہتا۔

صفحہ نمبر730

پھر استغفار کا ارشاد ہوتا ہے جو عموماً عبادات کے بعد فرمایا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نماز سے فارغ ہو کر تین مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:591] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:843] ‏ یہ بھی مروی ہے کہ عرفہ کے دن شام کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے استغفار کیا، [سنن ابن ماجه:3013، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی مروی ہے کہ تمام استغفاروں کا سردار یہ استغفار ہے دعا «اَللّٰہُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَا إِلٰہَ إِلاَّ أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُکَ وَأَنَا عَلٰی عَہْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ أَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَأَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لیْ فَإِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلاَّ أَنْتَ.» [صحیح بخاری:6306] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص اسے رات کے وقت پڑھ لے اگر اسی رات مر جائے گا تو قطعا جنتی ہو گا اور جو شخص اسے دن کے وقت پڑھے گا اور اسی دن مرے گا تو وہ بھی جنتی ہے۔

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی دعا سکھائے کہ میں نماز میں اسے پڑھا کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پڑھو دعا «اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ] ‏» ۔ [صحیح بخاری:834] ‏ استغفار کے بارے میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر731

تکمیل حج کے بعد ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کر دیا کرتا تھا سخاوت وشجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے،

غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لیے او اشد پر زبر تمیز کی بنا پر لائی گئی ہے، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے «او اشد قسوۃ» [2-البقرة:74] ‏ میں اور «او اشد خشیۃ» [4-النساء:77] ‏ میں اور «او یزیدون» [37-الصافات:147] ‏ میں اور «او ادنیٰ» [53-النجم:9] ‏ میں، ان تمام مقامات میں لفظ «”أَوْ“» ‏ ہرگز ہرگز شک کے لیے نہیں ہے بلکہ «”فجر عنہ“» کی تحقیق کے لیے ہے، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

صفحہ نمبر732

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کر کے دعائیں مانگو کیونکہ یہ موقعہ قبولیت کا ہے، ساتھ ہی ان لوگوں کی برائی بھی بیان ہو رہی ہے جو اللہ سے سوال کرتے ہوئے صرف دنیا طلبی کرتے ہیں اور آخرت کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے فرمایا ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اعراب یہاں ٹھہر کر صرف یہی دعائیں مانگتے ہیں کہ الہٰ اس سال بارشیں اچھی برسا تاکہ غلے اچھے پیدا ہوں اولادیں بکثرت ہوں وغیرہ۔ لیکن مومنوں کی دعائیں دونوں جہان کی بھلائیوں کی ہوتی تھیں اس لیے ان کی تعریفیں کی گئیں، اس دعا میں تمام بھلائیاں دین و دنیا کی جمع کر دی ہیں اور تمام برائیوں سے بچاؤ ہے، اس لیے کہ دنیا کی بھلائی میں عافیت، راحت، آسانی، تندرستی، گھربار، بیوی بچے، روزی، علم، عمل، اچھی سواریاں، نوکر چاکر، لونڈی، غلام، عزت و آبرو وغیرہ تمام چیزیں آ گئیں اور آخرت کی بھلائی میں حساب کا آسان ہونا گھبراہٹ سے نجات پانا نامہ اعمال کا دائیں ہاتھ میں ملنا سرخ رو ہونا بالآخر عزت کے ساتھ جنت میں داخل ہونا سب آ گیا،

پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلاً حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ، قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:542/2] ‏ بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4522] ‏

اس حدیث میں ہے ”ربنا“ سے پہلے ”اللہم“ بھی ہے، قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہی دعا بتائی [مسند احمد:101/3:صحیح] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں آپ نے یہی دعا «اللہم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آ گئیں [ ابن ابی حاتم ] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے؟ تو نے یہ دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفاء دے دی۔ [مسند احمد:107/3:صحیح] ‏ رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:1892، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ لیکن اس کی سند میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے گزرو تو دعا آیت «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھا کرو۔ [میزان الاعتدال:4602:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر733

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے آ کر پوچھا کہ میں نے ایک قافلہ کی ملازمت کر لی ہے اس اجرت پر وہ مجھے اپنے ساتھ سواری پر سوار کر لیں اور حج کے موقعہ پر مجھے وہ رخصت دے دیں کہ میں حج ادا کر لوں ویسے اور دنوں میں میں ان کی خدمت میں لگا رہوں تو فرمائیے کیا اس طرح میرا حج ادا ہو جائے گا آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہاں بلکہ تو تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں فرمان ہے آیت «أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ البقرہ: 202 ] ‏ [مستدرک حاکم:277/2] ‏

صفحہ نمبر734

تکمیل حج کے بعد ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کر دیا کرتا تھا سخاوت وشجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے،

غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لیے او اشد پر زبر تمیز کی بنا پر لائی گئی ہے، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے «او اشد قسوۃ» [2-البقرة:74] ‏ میں اور «او اشد خشیۃ» [4-النساء:77] ‏ میں اور «او یزیدون» [37-الصافات:147] ‏ میں اور «او ادنیٰ» [53-النجم:9] ‏ میں، ان تمام مقامات میں لفظ «”أَوْ“» ‏ ہرگز ہرگز شک کے لیے نہیں ہے بلکہ «”فجر عنہ“» کی تحقیق کے لیے ہے، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

صفحہ نمبر732

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کر کے دعائیں مانگو کیونکہ یہ موقعہ قبولیت کا ہے، ساتھ ہی ان لوگوں کی برائی بھی بیان ہو رہی ہے جو اللہ سے سوال کرتے ہوئے صرف دنیا طلبی کرتے ہیں اور آخرت کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے فرمایا ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اعراب یہاں ٹھہر کر صرف یہی دعائیں مانگتے ہیں کہ الہٰ اس سال بارشیں اچھی برسا تاکہ غلے اچھے پیدا ہوں اولادیں بکثرت ہوں وغیرہ۔ لیکن مومنوں کی دعائیں دونوں جہان کی بھلائیوں کی ہوتی تھیں اس لیے ان کی تعریفیں کی گئیں، اس دعا میں تمام بھلائیاں دین و دنیا کی جمع کر دی ہیں اور تمام برائیوں سے بچاؤ ہے، اس لیے کہ دنیا کی بھلائی میں عافیت، راحت، آسانی، تندرستی، گھربار، بیوی بچے، روزی، علم، عمل، اچھی سواریاں، نوکر چاکر، لونڈی، غلام، عزت و آبرو وغیرہ تمام چیزیں آ گئیں اور آخرت کی بھلائی میں حساب کا آسان ہونا گھبراہٹ سے نجات پانا نامہ اعمال کا دائیں ہاتھ میں ملنا سرخ رو ہونا بالآخر عزت کے ساتھ جنت میں داخل ہونا سب آ گیا،

پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلاً حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ، قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:542/2] ‏ بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4522] ‏

اس حدیث میں ہے ”ربنا“ سے پہلے ”اللہم“ بھی ہے، قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہی دعا بتائی [مسند احمد:101/3:صحیح] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں آپ نے یہی دعا «اللہم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آ گئیں [ ابن ابی حاتم ] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے؟ تو نے یہ دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفاء دے دی۔ [مسند احمد:107/3:صحیح] ‏ رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:1892، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ لیکن اس کی سند میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے گزرو تو دعا آیت «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھا کرو۔ [میزان الاعتدال:4602:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر733

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے آ کر پوچھا کہ میں نے ایک قافلہ کی ملازمت کر لی ہے اس اجرت پر وہ مجھے اپنے ساتھ سواری پر سوار کر لیں اور حج کے موقعہ پر مجھے وہ رخصت دے دیں کہ میں حج ادا کر لوں ویسے اور دنوں میں میں ان کی خدمت میں لگا رہوں تو فرمائیے کیا اس طرح میرا حج ادا ہو جائے گا آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہاں بلکہ تو تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں فرمان ہے آیت «أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ البقرہ: 202 ] ‏ [مستدرک حاکم:277/2] ‏

صفحہ نمبر734

تکمیل حج کے بعد ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ فراغت حج کے بعد اللہ تعالیٰ کا بہ کثرت ذکر کرو، اگلے جملے کے ایک معنی تو یہ بیان کیے گئے ہیں کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرو جس طرح بچہ اپنے ماں باپ کو یاد کرتا رہتا ہے، دوسرے معنی یہ ہیں کہ اہل جاہلیت حج کے موقع پر ٹھہرتے وقت کوئی کہتا تھا میرا باپ بڑا مہمان نواز تھا کوئی کہتا تھا وہ لوگوں کے کام کاج کر دیا کرتا تھا سخاوت وشجاعت میں یکتا تھا وغیرہ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ فضول باتیں چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی بزرگیاں بڑائیاں عظمتیں اور عزتیں بیان کرو، اکثر مفسرین نے یہی بیان کیا ہے،

غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کی کثرت کرو، اسی لیے او اشد پر زبر تمیز کی بنا پر لائی گئی ہے، یعنی اس طرح اللہ کی یاد کرو جس طرح اپنے بڑوں پر فخر کیا کرتے تھے۔ او سے یہاں خبر کی مثلیت کی تحقیق ہے جیسے «او اشد قسوۃ» [2-البقرة:74] ‏ میں اور «او اشد خشیۃ» [4-النساء:77] ‏ میں اور «او یزیدون» [37-الصافات:147] ‏ میں اور «او ادنیٰ» [53-النجم:9] ‏ میں، ان تمام مقامات میں لفظ «”أَوْ“» ‏ ہرگز ہرگز شک کے لیے نہیں ہے بلکہ «”فجر عنہ“» کی تحقیق کے لیے ہے، یعنی وہ ذکر اتنا ہی ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

صفحہ نمبر732

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ کا ذکر بکثرت کر کے دعائیں مانگو کیونکہ یہ موقعہ قبولیت کا ہے، ساتھ ہی ان لوگوں کی برائی بھی بیان ہو رہی ہے جو اللہ سے سوال کرتے ہوئے صرف دنیا طلبی کرتے ہیں اور آخرت کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے فرمایا ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اعراب یہاں ٹھہر کر صرف یہی دعائیں مانگتے ہیں کہ الہٰ اس سال بارشیں اچھی برسا تاکہ غلے اچھے پیدا ہوں اولادیں بکثرت ہوں وغیرہ۔ لیکن مومنوں کی دعائیں دونوں جہان کی بھلائیوں کی ہوتی تھیں اس لیے ان کی تعریفیں کی گئیں، اس دعا میں تمام بھلائیاں دین و دنیا کی جمع کر دی ہیں اور تمام برائیوں سے بچاؤ ہے، اس لیے کہ دنیا کی بھلائی میں عافیت، راحت، آسانی، تندرستی، گھربار، بیوی بچے، روزی، علم، عمل، اچھی سواریاں، نوکر چاکر، لونڈی، غلام، عزت و آبرو وغیرہ تمام چیزیں آ گئیں اور آخرت کی بھلائی میں حساب کا آسان ہونا گھبراہٹ سے نجات پانا نامہ اعمال کا دائیں ہاتھ میں ملنا سرخ رو ہونا بالآخر عزت کے ساتھ جنت میں داخل ہونا سب آ گیا،

پھر اس کے بعد عذاب جہنم سے نجات چاہنا اس سے یہ مطلب ہے کہ ایسے اسباب اللہ تعالیٰ مہیا کر دے مثلاً حرام کاریوں سے اجتناب گناہ اور بدیوں کا ترک وغیرہ، قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جسے شکر گزاروں اور ذکر کرنے والی زبان اور صبر کرنے والا جسم مل گیا اسے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل گئی اور عذاب سے نجات پا گیا، [تفسیر ابن جریر الطبری:542/2] ‏ بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو بکثرت پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح بخاری:4522] ‏

اس حدیث میں ہے ”ربنا“ سے پہلے ”اللہم“ بھی ہے، قتادہ رحمہ اللہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کس دعا کو پڑھتے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب میں یہی دعا بتائی [مسند احمد:101/3:صحیح] ‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب خود بھی کبھی دعا مانگتے اس دعا کو نہ چھوڑتے، چنانچہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ کہا کہ آپ کے یہ بھائی چاہتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا کریں آپ نے یہی دعا «اللہم رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھی پھر کچھ دیر بیٹھے اور بات چیت کرنے کے بعد جب وہ جانے لگے تو پھر دعا کی درخواست کی آپ نے فرمایا کیا تم ٹکڑے کرانا چاہتے ہو اس دعا میں تو تمام بھلائیاں آ گئیں [ ابن ابی حاتم ] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مسلمان بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے دیکھا کہ وہ بالکل دبلا پتلا ہو رہا ہے صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ رہ گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم کوئی دعا بھی اللہ تعالیٰ سے مانگا کرتے تھے؟ اس نے کہا ہاں میری یہ دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ جو عذاب تو مجھے آخرت میں کرنا چاہتا ہے وہ دنیا میں ہی کر ڈال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ کسی میں ان کے برداشت کی طاقت بھی ہے؟ تو نے یہ دعا «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» کیوں نہ پڑھی؟ چنانچہ بیمار نے اب سے اسی دعا کو پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس شفاء دے دی۔ [مسند احمد:107/3:صحیح] ‏ رکن نبی حج اور رکن اسود کے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابوداود:1892، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ لیکن اس کی سند میں ضعف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، آپ فرماتے ہیں کہ میں جب کبھی رکن کے پاس سے گزرتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ وہاں فرشتہ ہے اور وہ آمین کہہ رہا ہے تم جب کبھی یہاں سے گزرو تو دعا آیت «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» پڑھا کرو۔ [میزان الاعتدال:4602:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر733

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے آ کر پوچھا کہ میں نے ایک قافلہ کی ملازمت کر لی ہے اس اجرت پر وہ مجھے اپنے ساتھ سواری پر سوار کر لیں اور حج کے موقعہ پر مجھے وہ رخصت دے دیں کہ میں حج ادا کر لوں ویسے اور دنوں میں میں ان کی خدمت میں لگا رہوں تو فرمائیے کیا اس طرح میرا حج ادا ہو جائے گا آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہاں بلکہ تو تو ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں فرمان ہے آیت «أُولَٰئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [ البقرہ: 202 ] ‏ [مستدرک حاکم:277/2] ‏

صفحہ نمبر734

ایام تشریق ٭٭

آیت میں «أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ» سے مراد ایام تشریق اور ایام معلومات سے مراد ذی الحجہ کے دس دن ہیں، [تفسیر قرطبی:3/3] ‏ ذکر اللہ سے مراد یہ ہے کہ ایام تشریق میں فرض نمازوں کے بعد اللہ اکبر اللہ اکبر کہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:545/2] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں عرفے کا دن قربانی کا دن اور ایام تشریق ہمارے یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں اور یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔ [مسند احمد:152/4:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔ [مسند احمد:75/5:صحیح] ‏ پہلے یہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ عرفات کل ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایام تشریق سب قربانی کے دن ہیں، اور یہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ منیٰ کے دن تین ہیں دو دن میں جلدی یا دیر کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں، ابن جریر کی ایک حدیث میں ہے کہ ایام تشریق کھانے اور ذکر اللہ کرنے کے دن ہیں، [مسند احمد:229/2:صحیح] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہما کو بھیجا کہ وہ منیٰ میں گھوم کر منادی کر دیں کہ ان دنوں میں کوئی روزہ نہ رکھیں یہ دن کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے ہیں۔ [مسند احمد:513/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر737

ایک اور مرسل روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مگر جس پر قربانی کے بدلے روزے ہوں اس کے لیے یہ زائد نیکی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:2918:صحیح بالشواھد] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ منادی سیدنا بشر بن سحیم رضی اللہ عنہ تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3917:صحیح] ‏ اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کے روزوں کی ممانعت فرمائی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:3916:صحیح] ‏

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہو کر شعب انصار میں کھڑے ہو کر یہ حکم سنایا تھا، کہ لوگو یہ دن روزوں کے نہیں بلکہ کھانے پینے اور ذکر اللہ کرنے کے ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:3919:صحیح] ‏ سیدنا ابن عباس فرماتے ہیں ایام معدودات ایام تشریق ہیں اور یہ چار دن ہیں دسویں ذی الحجہ کی اور تین دن اس کے بعد کے یعنی دس سے تیرہ تک، [تفسیر ابن جریر الطبری:547/2] ‏ سیدنا ابن عمر، ابن زبیر، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم، عطاء مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابو مالک، ابراہیم نخعی، یحییٰ بن ابی کثیر، حسن، قتادہ، سدی، زہری، ربیع بن انس، ضحاک، مقاتل بن حیان، عطاء خراسانی رحمہ اللہ علیہم، امام مالک رضی اللہ عنہ وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:547/2] ‏

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ تین دن ہیں دسویں گیارہویں اور بارہویں ان میں جب چاہو قربانی کرو لیکن افضل پہلا دن ہے مگر مشہور قول یہی ہے اور آیت کریمہ کے الفاظ کی ظاہری دلالت بھی اسی پر ہے کیونکہ دو دن میں جلدی یا دیر معاف ہے تو ثابت ہوا کہ عید کے بعد تین دن ہونے چاہئیں اور ان دنوں میں اللہ کا ذکر کرنا قربانیوں کے ذبح کے وقت ہے، اور یہ بھی پہلے بیان ہو چکا ہے کہ راجح مذہب اس میں امام شافعی رحمہ اللہ کا ہے کہ قربانی کا وقت عید کے دن سے ایام تشریق کے ختم ہونے تک ہے، اور اس سے مراد نمازوں کے بعد کا مقررہ ذکر بھی ہے اور ویسے عام طور پر یہی اللہ کا ذکر مراد ہے، اور اس کے مقررہ وقت میں گو علماء کرام کا اختلاف ہے لیکن زیادہ مشہور قول جس پر عمل درآمد بھی ہے یہ ہے کہ عرفے کی صبح سے ایام تشریق کے آخر دن کی عصر کی نماز تک، اس بارے میں ایک مرفوع حدیث بھی دارقطنی میں ہے لیکن اس کا مرفوع ہونا صحیح نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمہ میں تکبیر کہتے اور آپ رضی اللہ عنہ کی تکبیر پر بازار والے لوگ تکبیر کہتے ہیں یہاں تک کہ منیٰ کا میدان گونج اٹھتا اسی طرح یہ مطلب بھی ہے کہ شیطانوں کو کنکریاں مارنے کے وقت تکبیر اور اللہ کا ذکر کیا جائے جو ایام تشریق کے ہر دن ہو گا، ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے کہ بیت اللہ کا طواف صفا مروہ کی سعی شیطانوں کو کنکریاں مارنی یہ سب اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے ہے۔ [سنن ابوداود:1888، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حج کی پہلی اور دوسری واپسی کا ذکر کیا اور اس کے بعد لوگ ان پاک مقامات کو چھوڑ کر اپنے اپنے شہروں اور مقامات کو لوٹ جائیں گے اس لیے ارشاد فرمایا کہ «وَهُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ» [ 23-المؤمنون: 79 ] ‏ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو اور یقین رکھو کہ تمہیں اس کے سامنے جمع ہونا ہے اسی نے تمہیں زمین میں پھیلایا پھر وہی سمیٹ لے گا پھر اسی کی طرف حشر ہو گا۔ پس جہاں کہیں ہو اس سے ڈرتے رہا کرو۔

صفحہ نمبر738

دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی ٭٭

سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:229/4] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں «من یشری» والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [ البقرہ: 204 ] ‏ والی آیت نازل ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:230/4] ‏ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور یہی صحیح ہے، نوف بکالی جو توراہ وانجیل کے بھی عالم تھے فرماتے ہیں کہ میں اس امت کے بعض لوگوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں پاتا ہوں لکھا ہے کہ بعض لوگ دین کے حیلے سے دنیا کماتے ہیں ان کی زبانیں تو شہد سے زیادہ میٹھی ہیں لیکن دل ایلوے [ مصبر ] ‏ سے زیادہ کڑوے ہیں لوگوں کے لیے بکریوں کی کھالیں پہنتے ہیں لیکن ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔

صفحہ نمبر739

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکے بازیاں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کی قسم کہ میں ان پر وہ فتنہ بھیجوں گا کہ بردبار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے، قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے پڑھئے آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [ البقرہ: 204 ] ‏ سعید المقبری نے بھی جب یہ بات اور کتابوں کے حوالے سے بیان کی تو سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ قرآن شریف میں بھی ہے اور اسی آیت کی تلاوت کی تھی۔ سعید کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سنیے آیت شان نزول کے اعتبار سے گو کسی کے بارے میں ہی ہو لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہوئی ہے۔

ابن محیصن کی قرأت میں «وَيُشْهِدُ اللَّهَ» ہے معنی یہ ہوں گے کہ گو وہ اپنی زبان سے کچھ ہی کہے لیکن اس کے دل کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جیسے اور جگہ آیت «اِذَا جَاءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ» [ 63۔ المنافقون: 1 ] ‏ یعنی منافق تیرے پاس آ کر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں،

لیکن جمہور کی قرأت «یشھداللہ» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ لوگوں کے سامنے تو اپنی خیانت چھپاتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے ان کے دل کا کفر ونفاق ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ» [ 4۔ النسآء: 108 ] ‏ یعنی لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہیں کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے، صحیح معنی آیت کے یہی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/4] ‏ ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔

صفحہ نمبر740

«”أَلَدُّ“» کے معنی لغت میں ہیں سخت ٹیڑھا جیسے اور جگہ ہے آیت «وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا» [ 19۔ مریم: 97 ] ‏ یہی حالت منافق کی ہے کہ وہ اپنی حجت میں جھوٹ بولتا ہے اور حق سے ہٹ جاتا ہے، سیدھی بات چھوڑ دیتا ہے اور افترا اور بہتان بازی کرتا ہے اور گالیاں بکتا ہے، صحیح حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے بے وفا ئی کرے، جب جھگڑا کرے گالیاں بکے، [صحیح بخاری:34] ‏

ایک اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ برا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ [صحیح بخاری:2457] ‏ اس کی کئی ایک سندیں ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ برے اقوال والا ہے اسی طرح افعال بھی اس کے بدترین ہیں تو قول تو یہ ہے لیکن فعل اس کے سراسر خلاف ہے، عقیدہ بالکل فاسد ہے۔

صفحہ نمبر741

نماز اور ہماری رفتار ٭٭

سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت «ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» [ 79۔ النازعات: 22 ] ‏ اور فرمان ہے آیت «فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [ 62۔ الجمعہ: 9 ] ‏ یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لیے آؤ بلکہ سکینت و وقار کے ساتھ آؤ۔ [صحیح بخاری:636] ‏

صفحہ نمبر742

دل بھیڑیوں کے اور کھال انسانوں کی ٭٭

سدی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ آیت اخنس بن شریق ثقفی کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ منافق شخص تھا ظاہر میں مسلمان تھا اور لیکن باطن میں مخالف تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:229/4] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے سیدنا خبیب رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کی برائیاں کی تھیں جو رجیع میں شہید کئے گئے تھے تو ان شہداء کی تعریف میں «من یشری» والی آیت اتری اور ان منافقین کی مذمت کے بارے میں آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [ البقرہ: 204 ] ‏ والی آیت نازل ہوئی، بعض کہتے ہیں کہ یہ آیت عام ہے تمام منافقوں کے بارے میں پہلی اور دوسری آیت ہے اور تمام مومنوں کی تعریف کے بارے میں تیسری آیت ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:230/4] ‏ قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ کا قول یہی ہے اور یہی صحیح ہے، نوف بکالی جو توراہ وانجیل کے بھی عالم تھے فرماتے ہیں کہ میں اس امت کے بعض لوگوں کی برائیاں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب میں پاتا ہوں لکھا ہے کہ بعض لوگ دین کے حیلے سے دنیا کماتے ہیں ان کی زبانیں تو شہد سے زیادہ میٹھی ہیں لیکن دل ایلوے [ مصبر ] ‏ سے زیادہ کڑوے ہیں لوگوں کے لیے بکریوں کی کھالیں پہنتے ہیں لیکن ان کے دل بھیڑیوں جیسے ہیں۔

صفحہ نمبر739

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا وہ مجھ پر جرأت کرتے ہیں اور میرے ساتھ دھوکے بازیاں کرتے ہیں مجھے اپنی ذات کی قسم کہ میں ان پر وہ فتنہ بھیجوں گا کہ بردبار لوگ بھی حیران رہ جائیں گے، قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ منافقوں کا وصف ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے پڑھئے آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَىٰ مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ» [ البقرہ: 204 ] ‏ سعید المقبری نے بھی جب یہ بات اور کتابوں کے حوالے سے بیان کی تو سیدنا محمد بن کعب رضی اللہ عنہ نے یہی فرمایا تھا کہ یہ قرآن شریف میں بھی ہے اور اسی آیت کی تلاوت کی تھی۔ سعید کہنے لگے میں جانتا ہوں کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی ہے آپ رحمہ اللہ نے فرمایا سنیے آیت شان نزول کے اعتبار سے گو کسی کے بارے میں ہی ہو لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہوئی ہے۔

ابن محیصن کی قرأت میں «وَيُشْهِدُ اللَّهَ» ہے معنی یہ ہوں گے کہ گو وہ اپنی زبان سے کچھ ہی کہے لیکن اس کے دل کا حال اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے جیسے اور جگہ آیت «اِذَا جَاءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ» [ 63۔ المنافقون: 1 ] ‏ یعنی منافق تیرے پاس آ کر تیری نبوت کی گواہی دیتے ہیں اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے لیکن اللہ کی گواہی ہے کہ یہ منافق یقینًا جھوٹے ہیں،

لیکن جمہور کی قرأت «یشھداللہ» ہے تو معنی یہ ہوئے کہ لوگوں کے سامنے تو اپنی خیانت چھپاتے ہیں لیکن اللہ کے سامنے ان کے دل کا کفر ونفاق ظاہر ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «يَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَھُوَ مَعَھُمْ اِذْ يُبَيِّتُوْنَ مَا لَا يَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ» [ 4۔ النسآء: 108 ] ‏ یعنی لوگوں سے چھپاتے ہیں لیکن اللہ سے نہیں چھپا سکتے،

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ لوگوں کے سامنے اسلام ظاہر کرتے ہیں اور ان کے سامنے قسمیں کھا کر باور کراتے ہیں کہ جو ان کی زبان پر ہے وہ ہی ان کے دل میں ہے، صحیح معنی آیت کے یہی ہیں کہ عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ اور مجاہد رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:233/4] ‏ ابن جریر بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔

صفحہ نمبر740

«”أَلَدُّ“» کے معنی لغت میں ہیں سخت ٹیڑھا جیسے اور جگہ ہے آیت «وَتُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا» [ 19۔ مریم: 97 ] ‏ یہی حالت منافق کی ہے کہ وہ اپنی حجت میں جھوٹ بولتا ہے اور حق سے ہٹ جاتا ہے، سیدھی بات چھوڑ دیتا ہے اور افترا اور بہتان بازی کرتا ہے اور گالیاں بکتا ہے، صحیح حدیث میں ہے کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرے جھوٹ بولے جب وعدہ کرے بے وفا ئی کرے، جب جھگڑا کرے گالیاں بکے، [صحیح بخاری:34] ‏

ایک اور حدیث میں ہے سب سے زیادہ برا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ [صحیح بخاری:2457] ‏ اس کی کئی ایک سندیں ہیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح یہ برے اقوال والا ہے اسی طرح افعال بھی اس کے بدترین ہیں تو قول تو یہ ہے لیکن فعل اس کے سراسر خلاف ہے، عقیدہ بالکل فاسد ہے۔

صفحہ نمبر741

نماز اور ہماری رفتار ٭٭

سعی سے مراد یہاں قصد جیسے اور جگہ ہے آیت «ثُمَّ اَدْبَرَ يَسْعٰى» [ 79۔ النازعات: 22 ] ‏ اور فرمان ہے آیت «فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ» [ 62۔ الجمعہ: 9 ] ‏ یعنی جمعہ کی نماز کا قصد و ارادہ کرو، یہاں سعی کے معنی دوڑنے کے نہیں کیونکہ نماز کے لیے دوڑ کر جانا ممنوع ہے، حدیث شریف میں ہے جب تم نماز کے لیے آؤ بلکہ سکینت و وقار کے ساتھ آؤ۔ [صحیح بخاری:636] ‏

صفحہ نمبر742

منافقوں کا مزید تعارف ٭٭

غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی معنی مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہیں کہ ان لوگوں کے نفاق اور ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے جس سے کھیتیوں کو اور جانوروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو بانی فساد ہوں ناپسند کرتا ہے۔ ان بدکرداروں کو جب وعظ نصیحت کے ذریعہ سمجھایا جائے تو یہ اور بھڑک اٹھتے ہیں اور مخالفت کے جوش میں گناہوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں آیت «وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ اَلنَّارُ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [ 22۔ الحج: 72 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی آیتیں جب ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کافروں کے منہ چڑھ جاتے ہیں اور پڑھنے والوں پر جھپٹتے ہیں، سنو، اس سے بھی بڑھ کر سنو، کافروں کے لیے ہمارا فرمان جہنم کا ہے جو بدترین جگہ ہے، یہاں بھی یہی فرمایا کہ انہیں جہنم کافی ہے یعنی سزا میں وہ بدترین اوڑھنا بچھونا ہے۔

صفحہ نمبر744

مومن کون؟ ٭٭

منافقوں کی مذموم خصلتیں بیان فرما کر اب مومنوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں، یہ آیت سیدنا صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنی چاہی تو کافروں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں مال لے کر نہیں جانے دیں گے اگر تم مال چھوڑ کر جانا چاہتے ہو تو تمہیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے سب مال سے علیحدگی کر لی اور کفار نے اس پر قبضہ کر لیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی جس پر یہ آیت اتری۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت آپ رضی اللہ عنہ کے استقبال کے لیے حرہ تک آئی اور مبارکبادیاں دیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بڑا اچھا بیو پار کیا بڑے نفع کی تجارت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:248/4] ‏ آپ رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے اللہ تعالیٰ آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان والی نہ کرے آخر بتاؤ تو یہ مبارکبادیاں کیا ہیں۔ ان بزرگوں نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی۔ قریش نے ان سے کہا تھا کہ جب آپ مکہ میں آئے آپ کے پاس مال نہ تھا یہ سب مال یہیں کمایا اب اس مال کو لے کر ہم جانے نہ دیں گے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے مال کو چھوڑا اور دین لے کر خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو گئے،

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ ہجرت کے ارادے سے نکلے اور کفار مکہ کو علم ہوا تو سب نے آن کر گھیر لیا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے تیر نکال لیے اور فرمایا اے مکہ والو تم خوب جانتے ہو کہ میں کیسا تیر انداز ہوں میرا ایک نشانہ بھی خطا نہیں جاتا جب تک یہ تیر ختم نہ ہوں گے میں تم کو چھیدتا رہوں گا اس کے بعد تلوار سے تم سے لڑوں گا اور اس میں بھی تم میں سے کسی سے کم نہیں ہوں جب تلوار کے بھی ٹکڑے ہو جائیں گے پھر تم میرے پاس آسکتے ہو پھر جو چاہو کر لو اگر یہ تمہیں منظور ہے تو بسم اللہ ورنہ سنو میں تمہیں اپنا کل مال دئیے دیتا ہوں سب لے لو اور مجھے جانے دو وہ مال لینے پر رضامند ہو گئے اور اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہاں بذریعہ وحی یہ آیت نازل ہو چکی تھی آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبارک باد دی۔ [حاکم:400/3صحیح] ‏

اکثر مفسرین کا یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت عام ہے ہر مجاہد فی سبیل اللہ کی شان ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» [ 9۔ التوبہ: 111 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے جنت دے دی ہے یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور شہید بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ سچا عہد توراہ انجیل اور قرآن میں موجود ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچے عہد والا اور کون ہو گا تم اے ایماندارو اس خرید فروخت اور ادلے بدلے سے خوش ہو جاؤ یہی بڑی کامیابی ہے، ہشام بن عامر نے جبکہ کفار کی دونوں صفوں میں گھس کر ان پر یکہ وتنہا بےپناہ حملہ کر دیا تو بعض لوگوں نے اسے خلاف شرع سمجھا۔ لیکن سیدنا عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما وغیرہ نے ان کی تردید کی اور اسی آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ» [ البقرہ: 207 ] ‏ کی تلاوت کر کے سنا دی۔

صفحہ نمبر745

منافقوں کا مزید تعارف ٭٭

غرض یہ کہ ان منافقوں کا قصد زمین میں فساد پھیلانا کھیتی باڑی، زمین کی پیداوار اور حیوانوں کی نسل کو برباد کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ بھی معنی مجاہد رحمہ اللہ سے مروی ہیں کہ ان لوگوں کے نفاق اور ان کی بدکرداریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ بارش کو روک لیتا ہے جس سے کھیتیوں کو اور جانوروں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو بانی فساد ہوں ناپسند کرتا ہے۔ ان بدکرداروں کو جب وعظ نصیحت کے ذریعہ سمجھایا جائے تو یہ اور بھڑک اٹھتے ہیں اور مخالفت کے جوش میں گناہوں پر آمادہ ہو جاتے ہیں آیت «وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ اَلنَّارُ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ» [ 22۔ الحج: 72 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ کے کلام کی آیتیں جب ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کافروں کے منہ چڑھ جاتے ہیں اور پڑھنے والوں پر جھپٹتے ہیں، سنو، اس سے بھی بڑھ کر سنو، کافروں کے لیے ہمارا فرمان جہنم کا ہے جو بدترین جگہ ہے، یہاں بھی یہی فرمایا کہ انہیں جہنم کافی ہے یعنی سزا میں وہ بدترین اوڑھنا بچھونا ہے۔

صفحہ نمبر744

مومن کون؟ ٭٭

منافقوں کی مذموم خصلتیں بیان فرما کر اب مومنوں کی تعریفیں ہو رہی ہیں، یہ آیت سیدنا صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کے حق میں نازل ہوئی ہے یہ مکہ میں مسلمان ہوئے تھے جب مدینہ کی طرف ہجرت کرنی چاہی تو کافروں نے ان سے کہا کہ ہم تمہیں مال لے کر نہیں جانے دیں گے اگر تم مال چھوڑ کر جانا چاہتے ہو تو تمہیں اختیار ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے سب مال سے علیحدگی کر لی اور کفار نے اس پر قبضہ کر لیا اور آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی جس پر یہ آیت اتری۔

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت آپ رضی اللہ عنہ کے استقبال کے لیے حرہ تک آئی اور مبارکبادیاں دیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے بڑا اچھا بیو پار کیا بڑے نفع کی تجارت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:248/4] ‏ آپ رضی اللہ عنہ یہ سن کر فرمانے لگے اللہ تعالیٰ آپ کی تجارتوں کو بھی نقصان والی نہ کرے آخر بتاؤ تو یہ مبارکبادیاں کیا ہیں۔ ان بزرگوں نے فرمایا آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خوشخبری سنائی۔ قریش نے ان سے کہا تھا کہ جب آپ مکہ میں آئے آپ کے پاس مال نہ تھا یہ سب مال یہیں کمایا اب اس مال کو لے کر ہم جانے نہ دیں گے چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے مال کو چھوڑا اور دین لے کر خدمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو گئے،

ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ رضی اللہ عنہ ہجرت کے ارادے سے نکلے اور کفار مکہ کو علم ہوا تو سب نے آن کر گھیر لیا آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ترکش سے تیر نکال لیے اور فرمایا اے مکہ والو تم خوب جانتے ہو کہ میں کیسا تیر انداز ہوں میرا ایک نشانہ بھی خطا نہیں جاتا جب تک یہ تیر ختم نہ ہوں گے میں تم کو چھیدتا رہوں گا اس کے بعد تلوار سے تم سے لڑوں گا اور اس میں بھی تم میں سے کسی سے کم نہیں ہوں جب تلوار کے بھی ٹکڑے ہو جائیں گے پھر تم میرے پاس آسکتے ہو پھر جو چاہو کر لو اگر یہ تمہیں منظور ہے تو بسم اللہ ورنہ سنو میں تمہیں اپنا کل مال دئیے دیتا ہوں سب لے لو اور مجھے جانے دو وہ مال لینے پر رضامند ہو گئے اور اس طرح آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی وہاں بذریعہ وحی یہ آیت نازل ہو چکی تھی آپ رضی اللہ عنہ کو دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبارک باد دی۔ [حاکم:400/3صحیح] ‏

اکثر مفسرین کا یہ قول بھی ہے کہ یہ آیت عام ہے ہر مجاہد فی سبیل اللہ کی شان ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ» [ 9۔ التوبہ: 111 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں اور ان کے بدلے جنت دے دی ہے یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور شہید بھی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ سچا عہد توراہ انجیل اور قرآن میں موجود ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچے عہد والا اور کون ہو گا تم اے ایماندارو اس خرید فروخت اور ادلے بدلے سے خوش ہو جاؤ یہی بڑی کامیابی ہے، ہشام بن عامر نے جبکہ کفار کی دونوں صفوں میں گھس کر ان پر یکہ وتنہا بےپناہ حملہ کر دیا تو بعض لوگوں نے اسے خلاف شرع سمجھا۔ لیکن سیدنا عمر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما وغیرہ نے ان کی تردید کی اور اسی آیت «وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ» [ البقرہ: 207 ] ‏ کی تلاوت کر کے سنا دی۔

صفحہ نمبر745

مکمل اطاعت ہی مقصود ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے «کافۃ» کے معنی سب کے سب پورے پورے، عکرمہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ رضی اللہ عنہما وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو، لیکن اس میں عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں ہے معلوم ہوتا ہے وہ اعلیٰ عالم تھے اور پورے مسلمان تھے انہیں مکمل طور پر معلوم تھا کہ ہفتہ کے دن کی عزت منسوخ ہو چکی ہے اس کے بجائے اسلامی عید جمعہ کے دن کی مقرر ہو چکی ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ ایسی خواہش میں اوروں کا ساتھ دیں،

بعض مفسرین نے «کافۃ» کو حال کہا ہے یعنی تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے یعنی اپنی طاقت بھر اسلام کے کل احکام کو مانو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اہل کتاب باوجود ایمان لانے کے توراۃ کے بعض احکام پر جمے ہوئے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ محمدی دین میں پوری طرح آ جاؤ اس کا کوئی عمل نہ چھوڑو توراۃ پر صرف ایمان رکھنا کافی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ «إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ» [ البقرہ: 169 ] ‏ اللہ کی اطاعت کرتے رہو شیطان کی نہ مانو وہ تو برائیوں اور بدکاریوں کو اور اللہ پر بہتان باندھنے کو اکساتا ہے۔ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 35-فاطر: 6 ] ‏ اس کی اور اس کے گروہ کی تو خواہش یہ ہے کہ تم جہنمی بن جاؤ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ اگر تم دلائل معلوم کرنے کے بعد بھی حق سے ہٹ جاؤ تو جان رکھو کہ اللہ بھی بدلہ لینے میں غالب ہے نہ اس سے کوئی بھاگ کر بچ سکے نہ اس پر کوئی غالب ہے اپنی پکڑ میں وہ حکیم ہے اپنے امر میں وہ کفار پر غلبہ رکھتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:591/2] ‏ اور عذروحجت کو کاٹ دینے میں حکمت رکھتا ہے۔

صفحہ نمبر747

مکمل اطاعت ہی مقصود ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے اوپر ایمان لانے والوں اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ وہ کل احکام کو بجا لائیں کل ممنوعات سے بچ جائیں کامل شریعت پر عمل کریں سلم سے مراد سلام ہے اطاعت اور صلح جوئی بھی مراد ہے «کافۃ» کے معنی سب کے سب پورے پورے، عکرمہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام اسد بن عبید ثقلیہ رضی اللہ عنہما وغیرہ جو یہود سے مسلمان ہوئے تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گزارش کی ہمیں ہفتہ کے دن کی عزت اور راتوں کے وقت توراۃ پر عمل کرنے کی اجازت دی جائے جس پر یہ آیت اتری کہ اسلامی احکام پر عمل کرتے رہو، لیکن اس میں عبداللہ کا نام کچھ ٹھیک نہیں ہے معلوم ہوتا ہے وہ اعلیٰ عالم تھے اور پورے مسلمان تھے انہیں مکمل طور پر معلوم تھا کہ ہفتہ کے دن کی عزت منسوخ ہو چکی ہے اس کے بجائے اسلامی عید جمعہ کے دن کی مقرر ہو چکی ہے پھر ناممکن ہے کہ وہ ایسی خواہش میں اوروں کا ساتھ دیں،

بعض مفسرین نے «کافۃ» کو حال کہا ہے یعنی تم سب کے سب اسلام میں داخل ہو جاؤ، لیکن پہلی بات زیادہ صحیح ہے یعنی اپنی طاقت بھر اسلام کے کل احکام کو مانو، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ بعض اہل کتاب باوجود ایمان لانے کے توراۃ کے بعض احکام پر جمے ہوئے تھے ان سے کہا جاتا ہے کہ محمدی دین میں پوری طرح آ جاؤ اس کا کوئی عمل نہ چھوڑو توراۃ پر صرف ایمان رکھنا کافی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ «إِنَّمَا يَأْمُرُكُم بِالسُّوءِ وَالْفَحْشَاءِ وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللَّـهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ» [ البقرہ: 169 ] ‏ اللہ کی اطاعت کرتے رہو شیطان کی نہ مانو وہ تو برائیوں اور بدکاریوں کو اور اللہ پر بہتان باندھنے کو اکساتا ہے۔ «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ» [ 35-فاطر: 6 ] ‏ اس کی اور اس کے گروہ کی تو خواہش یہ ہے کہ تم جہنمی بن جاؤ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔ اگر تم دلائل معلوم کرنے کے بعد بھی حق سے ہٹ جاؤ تو جان رکھو کہ اللہ بھی بدلہ لینے میں غالب ہے نہ اس سے کوئی بھاگ کر بچ سکے نہ اس پر کوئی غالب ہے اپنی پکڑ میں وہ حکیم ہے اپنے امر میں وہ کفار پر غلبہ رکھتا ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:591/2] ‏ اور عذروحجت کو کاٹ دینے میں حکمت رکھتا ہے۔

صفحہ نمبر747

تذکرہ شفاعت ٭٭

اس آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ کفار کو دھمکا رہا ہے کہ کیا انہیں قیامت ہی کا انتظار ہے جس دن حق کے ساتھ فیصلے ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے کئے کو بھگت لے گا، جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت «كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ» [ 89-الفجر: 21- 23 ] ‏ یعنی جب زمین کے ریزے ریزے اور تیرا رب خود آ جائے گا اور فرشتوں کی صفیں کی صفیں بندھ جائیں گی اور جہنم بھی لا کر کھڑی کر دی جائے گی اس دن یہ لوگ عبرت ونصیحت حاصل کریں گے لیکن اس سے کیا فائدہ؟ اور جگہ فرمایا آیت «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِيَهُمُ الْمَلٰىِٕكَةُ اَوْ يَاْتِيَ رَبُّكَ اَوْ يَاْتِيَ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ» [ 6۔ الانعام: 158 ] ‏ یعنی کیا انہیں اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود اللہ تعالیٰ آئے یا اس کی بعض نشانیاں آ جائیں اگر یہ ہو گیا تو پھر انہیں نہ ایمان نفع دے نہ نیک اعمال کا وقت رہے،

امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک لمبی حدیث لکھی ہے جس میں صور وغیرہ کا مفصل بیان ہے جس کے راوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ مسند وغیرہ میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ جب لوگ گھبرا جائیں گے تو انبیاء علیہم السلام سے شفاعت طلب کریں گے آدم علیہ السلام سے لے کر ایک ایک پیغمبر علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ایک ایک پیغمبر کے پاس جائیں گے اور وہاں سے صاف جواب پائیں گے یہاں تک کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیں گے میں تیار ہوں میں ہی اس کا اہل ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جائیں گے اور عرش تلے سجدے میں گر پڑیں گے اور اللہ تعالیٰ سے سفارش کریں گے کہ وہ بندوں کا فیصلہ کرنے کے لیے تشریف لائے اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت قبول فرمائے گا اور بادلوں کے سائبان میں آئے گا دنیا کا آسمان ٹوٹ جائے گا اور اس کے تمام فرشتے آ جائیں گے پھر دوسرا بھی پھٹ جائے گا اور اس کے فرشتے بھی آ جائیں گے اسی طرح ساتوں آسمان شق ہو جائیں گے اور ان کے فرشتے بھی آ جائیں گے، پھر اللہ کا عرش اترے گا اور بزرگ تر فرشتے نازل ہوں گے اور خود وہ جبار اللہ جل شانہ تشریف لائے گا فرشتے سب کے سب تسبیح خوانی میں مشغول ہوں گے ان کی تسبیح اس وقت یہ ہو گی۔ دعا «سُبْحَانَ ذِی الْمُلْکِ وَالْمَلَکُوْتِ، سُبْحَانَ ذِی الْعِزَّةِ وَالْجَبَرُوْتِ، سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْحَيِ الَّذِی لَا يَمُوْتُ، سبحان الذی یمیت الخلائق وَلَا يَمُوْتُ، سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ رَبُّنَا وَرَبُّ الْمَلَائِکَةِ وَالرُّوْحِ، سُبُّوحٌ قُدُّوْسٌ، سبحان ربنا الاعلیٰ سبحان ذی السلطان والعطمۃ، سبحانہ سبحانہ ابدا ابدا»،۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4042:ضعیف] ‏ حافظ ابوبکر بن مردویہ بھی اس آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث لائے ہیں جن میں غراب ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»،

ان میں سے ایک یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اگلوں پچھلوں کو اس دن جمع کرے گا جس کا وقت مقرر ہے وہ سب کے سب کھڑے ہوں گے آنکھیں پتھرائی ہوئی اور اوپر کو لگی ہوئی ہوں گی ہر ایک کو فیصلہ کا انتظار ہو گا اللہ تعالیٰ ابر کے سائبان میں عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا، [حاکم:376/2:صحیح] ‏ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس وقت وہ اترے گا تو مخلوق اور اس کے درمیان ستر ہزار پردے ہوں گے نور کی چکا چوند کے اور پانی کے اور پانی سے وہ آوازیں آ رہی ہوں گی جس سے دل ہل جائیں، زھیر بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ بادل کا سائبان یاقوت کا جڑا ہوا اور جوہر و زبرجد والا ہو گا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بادل معمولی بادل نہیں بلکہ یہ وہ بادل ہے جو بنی اسرائیل کے سروں پر وادی تیہ میں تھا،

ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فرشتے بھی بادل کے سائے میں آئیں گے اور اللہ تعالیٰ جس میں چاہے آئے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:264/4] ‏ چنانچہ بعض قرأتوں میں یوں بھی ہے آیت «ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰىِٕكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ» [ 2۔ البقرہ: 210 ] ‏ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰىِٕكَةُ تَنْزِيْلًا» [ 25۔ الفرقان: 25 ] ‏۔ یعنی اس دن آسمان بادل سمیت پھٹے گا اور فرشتے اتر آئیں گے۔

صفحہ نمبر749

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com