John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Baqara

Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 121–150 · Quran text →

دین حق کا باطل سے سمجھوتہ جرم عظیم ہے ٭٭

آیت بالا کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ تجھ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے لہٰذا تو بھی انہیں چھوڑ اور رب کی رضا کے پیچھے لگ جا تو نے انہیں دعوت رسالت پہنچا دیں۔ دین حق وہی ہے جو اللہ نے تجھے دیا ہے تو اس پر جم جا۔ حدیث شریف میں ہے میری امت کی ایک جماعت حق پر جم کر دوسروں کے مقابلہ میں رہے گی اور غلبہ کے ساتھ رہے گی یہاں تک کہ قیامت آئے۔ [صحیح مسلم:156] ‏ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے دھمکایا کہ ہرگز ان کی رضا مندی اور ان سے صلح جوئی کے لیے اپنے دین میں سست نہ ہونا ان کی طرف نہ جھکنا ان کی نہ ماننا فقہاء کرام نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ کفر ایک ہی مذہب ہے خواہ وہ یہود ہوں نصرانی ہوں یا کوئی اور ہوں اس لیے کہ ملت کا لفظ یہاں مفرد ہی رکھا جیسے اور جگہ ہے آیت «لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ» [ 109-الکافرون: 6 ] ‏ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین ہے اس استدلال پر اس مسئلہ کی بنا ڈالی ہے کہ مسلمان اور کفار آپس میں وارث نہیں ہو سکتے اور کفر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں گو وہ دونوں ایک ہی قسم کے کافر ہوں یا دو الگ الگ کفروں کے کافر ہوں، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہما کا یہی مذہب ہے اور امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت میں یہی قول منقول ہے اور دوسری روایت میں امام احمد رحمہ اللہ کا اور امام مالک رحمہ اللہ کا یہ قول مروی ہے کہ دو مختلف مذہب والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں ایک صحیح حدیث میں بھی یہی مضمون ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ [سنن ابن ماجه:2731قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر473

حق تلاوت سے کیا مراد ہے؟ ٭٭

پھر فرمایا کہ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ حق تلاوت ادا کرتے ہوئے پڑھتے ہیں، قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد یہود نصاریٰ ہیں اور روایت میں ہے کہ اس سے مراد اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حق تلاوت یہ ہے کہ جنت کے ذکر کے وقت جنت کا سوال کیا جائے اور جہنم کے ذکر کے وقت اس سے پناہ مانگی جائے [تفسیر قرطبی:95/2] ‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حلال و حرام کو جاننا کلمات کو ان کی جگہ رکھنا تغیر و تبدل نہ کرنا وغیرہ یہی تلاوت کا حق ادا کرنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:567/2] ‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کھلی آیتوں پر عمل کرنا متشابہ آیتوں پر ایمان لانا مشکلات کو علماء کے سامنے پیش کرنا حق تلاوت کے ساتھ پڑھنا ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب حق اتباع بجا لانا بھی مروی ہے پس تلاوت بمعنی اتباع ہے جیسے آیت «وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا» [ 91۔ الشمس: 2 ] ‏ میں ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے یہی معنی مروی ہیں لیکن اس کے بعض راوی مجہول ہیں گو معنی ٹھیک ہے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قرآن کی اتباع کرنے والا جنت کے باغیچوں میں اترنے والا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی تفسیر کے مطابق یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی رحمت کے ذکر کی آیت پڑھتے تو ٹھہر جاتے اور اللہ سے رحمت طلب کرتے اور جب کبھی کسی عذاب کی آیت تلاوت فرماتے تو رک کر اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب فرماتے۔ [صحیح مسلم:772 ] ‏ پھر فرمایا اس پر ایمان یہی لوگ رکھتے ہیں یعنی جو اہل کتاب اپنی کتاب کی سوچ سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں وہ قرآن پر ایمان لانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جیسے اور جگہ آیت «وَلَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ» [ 5۔ المائدہ: 66 ] ‏ اگر یہ توراۃ انجیل پر اور اللہ کی ان کی طرف نازل کردہ چیز پر قائم رہتے تو ان کے اوپر سے اور پیروں تلے سے انہیں کھانا ملتا اور فرمایا «قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ حَتَّىٰ تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ» [ 5-المائدة: 68 ] ‏ اے اہل کتاب جب تک تم توراۃ و انجیل کو اور جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اترا اس کو قائم نہ کر لو تب تک تم کسی چیز پر نہیں ہو۔ ان کا قائم کرنا مستلزم ہے کہ تم اس میں جو ہے اسے سچا جانو اور اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کا حکم آپ کی اتباع کی رغبت سب کچھ موجود ہے۔

صفحہ نمبر474

اور جگہ «الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ» [ 7-الأعراف: 157 ] ‏ فرمایا جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم امی کی تابعداری کرتے ہیں جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور تصدیق اپنی کتاب توراۃ و انجیل میں بھی لکھا دیکھتے ہیں اور جگہ فرمایا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا» [ 17۔ الاسرآء: 108، 107 ] ‏ یعنی تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان پر جب اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہیں منہ کے بل سجدے میں گر پڑتے ہیں اور زبانی کہتے ہیں کہ ہمارا رب پاک ہے ہمارے رب کا وعدہ بالکل سچا اور صحیح ہے اور جگہ ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» ‏ [ 28-القص: 52 - 54 ] ‏ جنہیں ہم نے اس سے اگلی کتاب دی ہے وہ بھی اس پر ایمان لاتے ہیں اور ان پر یہ پڑھی جاتی ہے تو اپنے ایمان کا اقرار کر کے کہتے ہیں ہم تو پہلے ہی سے ماننے والوں میں ہیں انہیں ان کے صبر کا دوہرا اجر دیا جائے گا یہ لوگ برائی کو بھلائی سے ہٹاتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے دوسروں کو دیتے ہیں

اور جگہ ارشاد ہے آیت «وَقُلْ لِّلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ۭ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اھْتَدَوْا» [ 3۔ آل عمران: 20 ] ‏ یعنی پڑھے لکھے اور بے پڑھے لوگوں سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام قبول کرتے ہو؟ اگر مان لیں تو راہ پر ہیں اور اگر نہ مانیں تو تجھ پر صرف تبلیغ ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے اسی لیے یہاں فرمایا کہ ساتھ کفر کرنے والے خسارے والے ہیں، جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ» [ 11۔ ہود: 17 ] ‏ جو بھی اس کے ساتھ کفر کرے اس کے وعدے کی جگہ آگ ہے صحیح حدیث میں اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس امت میں سے جو بھی مجھے سنے خواہ یہودی ہو خواہ نصرانی ہو پھر مجھ پر ایمان نہ لائے وہ جہنم میں جائے گا۔ [صحیح مسلم:153] ‏

صفحہ نمبر475

انتباہ ٭٭

پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صفحہ نمبر477

انتباہ ٭٭

پہلے بھی اس جیسی آیت شروع سورت میں گزر چکی ہے اور اس کی مفصل تفسیر بھی بیان ہو چکی ہے یہاں صرف تاکید کے طور پر ذکر کیا گیا اور انہیں نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری کی رغبت دلائی گئی جن کی صفتیں وہ اپنی کتابوں میں پاتے تھے جن کا نام اور کام بھی اس میں لکھا ہوا تھا بلکہ ان کی امت کا ذکر بھی اس میں موجود ہے پس انہیں اس کے چھپانے اور اللہ کی دوسری نعمتوں کو پوشیدہ کرنے سے ڈرایا جا رہا ہے اور دینی اور دنیوی نعمتوں کو ذکر کرنے کا کہا جا رہا ہے اور عرب میں جو نسلی طور پر بھی ان کے چچا زاد بھائی ہیں اللہ کی جو نعمت آئی ان میں جس خاتم الانبیاء کو اللہ نے مبعوث فرمایا ان سے حسد کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت اور تکذیب پر آمادہ نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صفحہ نمبر477

امام توحید ٭٭

اس آیت میں خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بزرگی کا بیان ہو رہا ہے جو توحید میں دنیا کے امام ہیں انہوں نے تکالیف پر صبر کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں ثابت قدمی اور جوان مردی دکھائی. فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم ان مشرکین اور اہل کتاب کو جو ملت ابراہیم کے دعویدار ہیں ذرا ابراہیم علیہ السلام کی فرماں برداری اور اطاعت گزاری کے واقعات تو سناؤ تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ دین حنیف پر اسوۂٕٕ ابراہیمی پر کون قائم ہے وہ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم؟ قرآن کریم کا ارشاد ہے آیت «وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ» [ 53۔ النجم: 37 ] ‏ ابراہیم وہ ہیں انہوں نے پوری وفاداری دکھائی اور فرمایا آیت «اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ اجْتَبَاهُ وَهَدَاهُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ وَآتَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 16-النحل: 120، 123 ] ‏ ابراہیم لوگوں کے پیشوا اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار مخلص اور نعمت کے شکر گزار تھے جنہیں اللہ عزوجل نے پسند فرما کر راہ راست پر لگا دیا تھا جنہیں ہم نے دنیا میں بھلائی دی تھی اور آخرت میں بھی صالح اور نیک انجام کار بنایا تھا۔ «قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ دِينًا قِيَمًا مِّلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6-الانعام: 161 ] ‏ پھر ہم نے تیری طرف اے نبی وحی کی کہ تو بھی ابراہیم حنیف کی ملت کی پیروی کر جو مشرکین میں سے نہ تھے۔ اور جگہ ارشاد ہے کہ «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے نہ مشرک تھے بلکہ خالص مسلمان تھے ان سے قربت اور نزدیکی والا وہ شخص ہے جو ان کی تعلیم کا تابع ہو اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والے ان ایمان والوں کا دوست اللہ تعالیٰ خود ہے۔

ابتلاء کے معنی امتحان اور آزمائش کے ہیں۔ کلمات سے مراد شریعت حکم اور ممانعت وغیرہ ہے کلمات سے مراد کلمات تقدیریہ بھی ہوتی ہے جیسے مریم علیہما السلام کی بابت ارشاد ہے صدقت بکلمات ربھا یعنی انہوں نے اپنے رب کے کلمات کی تصدیق کی۔ کلمات سے مراد کلمات شرعیہ بھی ہوتی ہے۔ آیت «وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 6۔ الانعام: 115 ] ‏ یعنی اللہ تعالیٰ کے شرعی کلمات سے سچائی اور عدل کے ساتھ پورے ہوئے یہ کلمات یا تو سچی خبریں ہیں یا طلب عدل ہے غرض ان کلمات کو پورا کرنے کی جزا میں انہیں امامت کا درجہ ملا، ان کلمات کی نسبت بہت سے اقوال ہیں مثلاً احکام حج، مونچھوں کو کم کرنا، کلی کرنا، ناک صاف کرنا، مسواک کرنا، سر کے بال منڈوانا یا رکھوانا تو مانگ نکالنا، ناخن کاٹنا، زیر ناف کے بال کاٹنا، ختنہ کرانا، بغل کے بال کاٹنا، پیشاب پاخانہ کے بعد استنجاء کرنا، جمعہ کے دن غسل کرنا، طواف کرنا، صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا، رمی جمار کرنا، طواف افاضہ کرنا۔

صفحہ نمبر479

مکمل اسلام ٭٭

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے مراد پورا اسلام ہے جس کے تیس حصے ہیں دس کا بیان سورہ براءت میں ہے «التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّـهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ» [9-التوبة:112] ‏ یعنی ” توبہ کرنا، عبادت کرنا، حمد کرنا، اللہ کی راہ میں پھرنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے روکنا، اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا، ایمان لانا “۔

دس کا بیان «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» * «الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِلزَّكَاةِ فَاعِلُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ» * «إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ» * «فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ» * «وَالَّذِينَ هُمْ عَلَىٰ صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ» * «أُولَـٰئِكَ هُمُ الْوَارِثُونَ» [23-سورةالمؤمنون:1-10] ‏ «يُحَافِظُونَ» تک ہے۔

اور سورۃ المعارج میں ہے یعنی نماز کو خشوع خضوع سے ادا کرنا لغو اور فضول باتوں اور کاموں سے منہ پھیر لینا، زکوٰۃ دیتے رہا کرنا، شرمگاہ کی حفاظت کرنا، امانت داری کرنا، وعدہ وفائی کرنا، نماز پر ہمیشگی اور حفاظت کرنا قیامت کو سچا جاننا، عذابوں سے ڈرتے رہنا سچی شہادت پر قائم رہنا۔ اور دس کا بیان سورۃ الاحزاب میں آیت «اِنَّ الْمُسْلِمِيْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ وَالْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ وَالْقٰنِتِيْنَ وَالْقٰنِتٰتِ وَالصّٰدِقِيْنَ وَالصّٰدِقٰتِ وَالصّٰبِرِيْنَ وَالصّٰبِرٰتِ وَالْخٰشِعِيْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِيْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ وَالصَّاىِٕـمِيْنَ وَالـﮩـىِٕمٰتِ وَالْحٰفِظِيْنَ فُرُوْجَهُمْ وَالْحٰفِظٰتِ وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا» [33۔الاحزاب:35] ‏ تک ہے یعنی اسلام لانا، ایمان رکھنا، قرآن پڑھنا، سچ بولنا، صبر کرنا، عاجزی کرنا، خیرات دینا، روزہ رکھنا، بدکاری سے بچنا، اللہ تعالیٰ کا ہر وقت بکثرت ذکر کرنا، ان تینوں احکام کا جو عامل ہو وہ پورے اسلام کا پابند ہے اور اللہ کے عذابوں سے بری ہے۔

صفحہ نمبر480

کلمات ابراہیمی میں اپنی قوم سے علیحدگی کرنا بادشاہ وقت سے نڈر ہو کر اسے بھی تبلیغ کرنا پھر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو مصیبت آئے اس پر صبر کرنا سہنا پھر وطن اور گھربار کو اللہ کی راہ میں چھوڑ کر ہجرت کرنا مہمانداری کرنا اللہ کی راہ میں جانی اور مالی مصیبت راہ اللہ برداشت کرنا یہاں تک کہ بچہ کو اللہ کی راہ قربان کرنا اور وہ بھی اپنے ہی ہاتھ سے یہ کل احکام خلیل الرحمن علیہ السلام بجا لائے۔ سورج چاند اور ستاروں سے بھی آپ علیہ السلام کی آزمائش ہوئی امامت کے ساتھ بیت اللہ بنانے کے حکم کے ساتھ حج کے حکم اور مقام ابراہیم کے ساتھ بیت اللہ کے رہنے والوں کی روزیوں کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ علیہ السلام کے دین پر بھیجنے کے ساتھ بھی آزمائش ہوئی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے خلیل میں تمہیں آزماتا ہوں دیکھتا ہوں تم کیا ہو؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے لوگوں کا امام بنا دے، اس کعبہ کو لوگوں کے ثواب اور اجتماع کا مرکز بنا دے، یہاں والوں کو پھلوں کی روزیاں دے یہ تمام باتیں اللہ عزوجل نے پوری کر دیں اور یہ سب نعمتیں آپ علیہ السلام کو عطا ہوئیں صرف ایک آرزو پوری نہ ہوئی وہ یہ کہ میری اولاد کو بھی امامت ملے تو جواب ملا ظالموں کو میرا عہد نہیں پہنچتا کلمات سے مراد اس کے ساتھ کی آیتیں بھی ہیں۔

صفحہ نمبر481

موطا وغیرہ میں ہے کہ سب سے پہلے ختنہ کرانے والے سب سے پہلے مہمان نوازی کرنے والے سب سے پہلے ناخن کٹوانے والے سب سے پہلے مونچھیں پست کرنے والے سب سے پہلے سفید بال دیکھنے والے ابراہیم ہی ہیں علیہ السلام سفید بال دیکھ کر پوچھا کہ اے اللہ یہ کیا ہے؟ جواب ملا وقار و عزت ہے کہنے لگے پھر تو اے اللہ اسے اور زیادہ کر۔ [مؤطا:کتاب صفة النبی922/2:مقطوع] ‏ سب سے پہل منبر پر خطبہ کہنے والے، سب سے پہلے قاصد، بھیجنے والے، سب سے پہلے تلوار چلانے والے، سب سے پہلے مسواک کرنے والے سب سے پہلے پانی کے ساتھ استنجاء کرنے والے، سب سے پہلے پاجامہ پہننے والے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام ہیں۔ ایک غیر ثابت حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں منبر بناؤں تو میرے باپ ابراہیم علیہ السلام نے بھی بنایا تھا اور اگر میں لکڑی ہاتھ میں رکھوں تو یہ بھی میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ [بزار:633:منکر و ضعیف] ‏ مختلف بزرگوں سے کلمات کی تفسیر میں جو کچھ ہم نے نقل کر دیا اور ٹھیک بھی یہی ہے کہ یہ سب باتیں ان کلمات میں تھیں کسی خاص تخصیص کی کوئی وجہ ہمیں نہیں ملی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر482

صحیح مسلم شریف میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے دس باتیں فطرت کی اور اصل دین کی ہیں مونچھیں کم کرنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی دینا، ناخن لینا، پوریان دھونی، بغل کے بال لینا، زیر ناف کے بال لینا، استنجاء کرنا راوی کہتا ہے میں دسویں بات بھول گیا شاید کلی کرنا تھی۔ [صحیح مسلم:261] ‏

صفحہ نمبر483

صحین میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پانچ باتیں فطرت کی ہیں ختنہ کرانا، موئے [ بال ] ‏ زہار لینا، مونچھیں کم کرنا، ناخن لینا، بغل کے بال لینا۔ [صحیح بخاری:5889] ‏ ایک حدیث میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کو وفا کرنے والا اس لیے فرمایا ہے کہ وہ ہر صبح کے وقت پڑھتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ يُخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْـحَيِّ وَيُـحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَكَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ» [ 30۔ الروم: 17 ] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ ہر دن چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15/3:ضعیف جدا] ‏ لیکن یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں اور ان میں کئی کئی راوی ضعیف ہیں اور ضعف کی بہت سی وجوہات ہیں بلکہ ان کا بیان بھی بیبیان ضعف جائز نہیں متن بھی ضعف پر دلالت کرتا ہے۔

صفحہ نمبر484

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی امت کی خوشخبری سن کر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے تھے جو قبول تو کی جاتی ہے لیکن ساتھ ہی خبر کر دی جاتی ہے کہ آپ کی اولاد میں ظالم بھی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ کا عہد نہ پہنچے گا وہ امام نہ بنائے جائیں گے نہ ان کی اقتدار اور پیروی کی جائے گی سورۃ العنکبوت کی آیت میں اس مطلب کو واضح کر دیا گیا ہے کہ خلیل اللہ کی یہ دعا بھی قبول ہوئی وہاں ہے آیت «وَجَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتٰبَ وَاٰتَيْنٰهُ اَجْرَهٗ فِي الدُّنْيَا» [ 29۔ العنکبوت: 27 ] ‏ یعنی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ ابراہیم علیہ السلام کے بعد جتنے انبیاء اور رسول آئے وہ سب آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں تھے اور جتنی کتابیں نازل ہوئیں سب آپ علیہ السلام ہی کی اولاد میں ہوئی دعا «صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین»

یہاں یہ بھی خبر دی گئی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں ظلم کرنے والے بھی ہوں گے، ظالم سے مرد بعض نے مشرک بھی لیا ہے عہد سے مراد امر ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ظالم کو کسی چیز کا والی اور بڑا نہ بنانا چاہیئے گو وہ اولاد ابراہیم علیہ السلام میں سے ہو، خلیل اللہ کی دعا ان کی نیک اولاد کے حق میں قبول ہوئی ہے یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ظالم سے کوئی عہد نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کا عہد توڑ دیا جائے پورا نہ کیا جائے اور یہ بھی مطلب ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نے اسے کچھ دینے کا عہد نہیں کیا دنیا میں تو کھا پی رہا ہے اور عیش و عشرت کر رہا ہے۔ بس یہی ہے عہد سے مراد دین بھی ہے یعنی تیری کل اولاد دیندار نہیں جیسے اور جگہ ہے آیت «ووَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ» [ 37۔ الصافات: 113 ] ‏ یعنی ان کی اولاد میں بھلے بھی ہیں اور برے بھی اطاعت کے معنی بھی کئے گئے ہیں یعنی اطاعت صرف معروف اور بھلائی میں ہی ہو گی اور عہد کے معنی نبوت کے بھی آئے ہیں ابن خویز منذاذ مالکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ظالم شخص نہ تو خلیفہ بن سکتا ہے نہ حاکم نہ مفتی نہ گواہ نہ راوی۔

صفحہ نمبر485

شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭

«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] ‏ تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] ‏ یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ‏ ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] ‏ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] ‏ اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔

صفحہ نمبر486

اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏ لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏

صفحہ نمبر487

ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] ‏

اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ‏ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] ‏ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] ‏ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔

صفحہ نمبر488

ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»

صفحہ نمبر489

یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔

صفحہ نمبر490

امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر491

عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭

یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] ‏ عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] ‏ رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] ‏ پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] ‏ اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔

صفحہ نمبر492

مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] ‏ آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] ‏ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر493

حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] ‏ اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] ‏ صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] ‏ کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] ‏ اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] ‏ اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔

صفحہ نمبر494

یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834] ‏

صفحہ نمبر495

سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

صفحہ نمبر496

ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] ‏ لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ‏ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن] ‏

صفحہ نمبر497

مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭

اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] ‏ اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] ‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صفحہ نمبر498

«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] ‏ یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔

صفحہ نمبر499

اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] ‏ اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] ‏ اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

صفحہ نمبر500

یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] ‏ بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] ‏ اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] ‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] ‏ [صحیح بخاری:4686] ‏ اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر501

قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ‏ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] ‏ وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (‏کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)‏۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ بنیادیں ابراہیم علیہ السلام اٹھاتے تھے اور دعا اسماعیل علیہ السلام کرتے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ دونوں ہر ایک کام میں شریک تھے۔

صحیح بخاری شریف کی ایک روایت اور بعض اور آثار بھی اس واقعہ کے متعلق یہاں ذکر کئے جانے کے قابل ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کمر بند باندھنا عورتوں نے اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے سیکھا ہے انہوں نے باندھا تھا کہ مائی سارہ کو ان کا نقش قدم نہ ملے انہیں اور ان کے جگر کے ٹکڑے اپنے اکلوتے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام کو لے کر ابراہیم علیہ السلام نکلے جبکہ یہ پیارا بچہ دودھ پیتا تھا۔

صفحہ نمبر502

سناٹے کی آغوش میں زندگی ٭٭

اب جہاں پر بیت اللہ بنا ہوا ہے یہاں ایک ٹیلہ تھا اور سنسان بیابان تھا کوئی اپنے سہنے والا وہاں نہ تھا یہاں پہنچ کر ماں بیٹے کو بٹھا کر پاس تھوڑی سی کھجوریں اور مشکیزہ پانی کا رکھ کر آپ چلے گئے جب خلیل اللہ علیہ السلام نے پیٹھ موڑی اور جانے لگے تو مائی حاجرہ سلام اللہ علیہا نے آواز دی اے خلیل اللہ ہمیں اس دہشت و وحشت والے بیابان میں یکہ و تنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئی مونس و ہمدم نہیں آپ علیہ السلام کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ لیکن ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اس طرف توجہ تک نہ کی، منہ موڑ کر بھی نہ دیکھا۔

صفحہ نمبر503

حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے باربار کہنے پر بھی آپ علیہ السلام نے التفات نہ فرمایا تو آپ سلام اللہ علیہا فرمانے لگیں اللہ کے خلیل آپ ہمیں کسے سونپ چلے؟ آپ علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ کو کہا اے خلیل اللہ کیا اللہ تعالیٰ کا آپ کو یہ حکم ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں مجھے اللہ کا یہی حکم ہے یہ سن کر ام اسمٰعیل سلام اللہ علیہا کو تسکین ہو گئی اور فرمانے لگیں پھر تشریف لے جائیے وہ اللہ جل شانہ ہمیں ہرگز ضائع نہ کرے گا اسی کا بھروسہ اور اسی کا سہارا ہے۔ ہاجرہ لوٹ گئیں اور اپنے کلیجہ کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں کے نور ابن نبی اللہ کو گود میں لے کر اس سنسان بیابان میں اس ہو کے عالم میں لاچار اور مجبور ہو کر بیٹھ رہیں۔ ابراہیم علیہ السلام جب ثنیہ کے پاس پہنچے اور یہ معلوم کر لیا کہ اب ہاجرہ پیچھے نہیں اور وہاں سے یہاں تک ان کی نگاہ کام بھی نہیں کر سکتی تو بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا آیت «رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» [ 14۔ ابراہیم: 37 ] ‏ الہٰ العالمین میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے شاید وہ شکر گزاری کریں آپ علیہ السلام نے یہ دعا کر کے حکم اللہ بجا لا کر اپنی اہل و عیال کو اللہ کے سپرد کر کے چلے گئے۔

صفحہ نمبر504

ادھر ہاجرہ سلام اللہ علیہا صبر و شکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگییں جب تھوڑی سی کھجوریں اور ذرا سا پانی ختم ہو گیا اب اناج کا ایک دانہ پاس ہے نہ پانی کا گھونٹ خود بھی بھوکی پیاسی ہیں اور بچہ بھی بھوک پیاس سے بیتاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا پھول سا چہرہ کمھلانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا مامتا بھری ماں کبھی اپنی تنہائی اور بے کس ی کا خیال کرتی ہے کبھی اپنے ننھے سے اکلوتے بچے کا یہ حال بغور دیکھتی ہے اور سہمی جاتی ہے معلوم ہے کہ کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں، میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں کھانا تو کہاں؟ پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں آ سکتا۔

صفحہ نمبر505

آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہیں دیکھا جاتا تو اٹھ کر چلی جاتی ہیں اور صفا پہاڑ جو پاس ہی تھا اس پر چڑھ جاتی ہیں اور میدان کی طرف نظر دوڑاتی ہیں کہ کوئی آتا جاتا نظر آ جائے لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف ڈالتی ہیں اور کسی کو بھی نہ دیکھ کر پھر وہاں سے اتر آتی ہیں اور اسی طرح درمیانی تھوڑا سا حصہ دوڑ کر باقی حصہ جلدی جلدی طے کر کے پھر صفا پر چڑھتی ہیں اسی طرح سات مرتبہ کرتی ہیں ہر بار آ کر بچہ کو دیکھ جاتی ہیں اس کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صفا مروہ کی سعی جو حاجی کرتے ہیں اس کی ابتداء یہی سے ساتویں مرتبہ جب ہاجرہ مروہ پر آتی ہیں تو کچھ آواز کان میں پڑتی ہے آپ خاموش ہو کر احتیاط کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ یہ آواز کیسی؟ آواز پھر آتی ہے اور اس مرتبہ صاف سنائی دیتی ہے تو آپ آواز کی طرف لپک کر آتی ہیں اور اب جہاں زمزم ہے وہاں جبرائیل علیہ السلام کو پاتی ہیں۔

صفحہ نمبر506

حضرت جبرائیل علیہ السلام پوچھتے ہیں تم کون ہو؟ آپ جواب دیتی ہیں میں ہاجرہ ہوں میں ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے کی ماں ہوں فرشتہ پوچھتا ہے ابراہیم علیہ السلام تمہیں اس سنسان بیابان میں کسے سونپ گئے ہیں؟ آپ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں اللہ کو فرمایا پھر تو وہ کافی ہے ہاجرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا اے غیبی شخص آواز تو میں نے سن لی کیا کچھ میرا کام بھی نکلے گا؟ جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر رگڑی وہیں زمین سے ایک چشمہ پانی کا ابلنے لگا۔ حضرت ہاجرہ علیہما السلام نے ہاتھ سے اس پانی کو مشک میں بھرنا شروع کیا مشک بھر کر پھر اس خیال سے کہ پانی ادھر ادھر بہ کر نکل نہ جائے آس پاس باڑ باندھنی شروع کر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ ام اسمٰعیل علیہ السلام پر رحم کرے اگر وہ اس طرح پانی کو نہ روکتیں تو زمزم کنویں کی مثل میں نہ ہوتا بلکہ وہ ایک جاری نہر کی صورت میں ہوتا اب ہاجرہ نے پانی پیا اور بچہ کو بھی پلایا اور دودھ پلانے لگیں فرشتے نے کہ دیا کہ تم بے فکر رہو اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا جہاں تم بیٹھی ہو یہاں اللہ کا ایک گھر اس بچے اور اس کے باپ کے ہاتھوں بنے گا ہاجرہ اب یہیں رہ پڑیں زمزم کا پانی پیتیں اور بچہ سے دل بہلاتیں بارش کے موسم میں پانی کے سیلاب چاروں طرف سے آتے لیکن یہ جگہ ذرا اونچی تھی ادھر ادھر سے پانی گزر جاتا ہے اور یہاں امن رہتا کچھ مدت کے بعد جرہم کا قبیلہ خدا کے راستہ کی طرف سے اتفاقاً گزرا اور مکہ شریف کے نیچے کے حصہ میں اترا ان کی نظریں ایک آبی پرند پر پڑیں تو آپس میں کہنے لگے یہ پرندہ تو پانی کا ہے اور یہاں پانی کبھی نہ تھا ہماری آمدورفت یہاں سے کئی مرتبہ ہوئی یہ تو خشک جنگل اور چٹیل میدان ہے یہاں پانی کہاں؟ چنانچہ انہوں نے اپنے آدمی اصلیت معلوم کرنے کے لیے بھیجے انہوں نے واپس آ کر خبر دی کہ وہاں تو بہترین اور بہت سا پانی ہے اب وہ سب آئے اور ام اسمعٰیل سلام اللہ علیہا سے عرض کرنے لگے کہ مائی صاحبہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم بھی یہاں ٹھہر جائیں پانی کی جگہ ہے آپ نے فرمایا ہاں شوق سے رہو لیکن پانی پر قبضہ میرا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہاجرہ تو چاہتی تھیں کہ کوئی ہم جنس مل جائے چنانچہ یہ قافلہ یہاں رہ پڑا۔

صفحہ نمبر507

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو گئے ان سب کو آپ علیہ السلام سے بڑی محبت ہو گئی یہاں تک کہ آپ علیہ السلام بالغ ہوئے تو انہی میں نکاح بھی کیا اور انہی سے عربی بھی سیکھی مائی ہاجرہ علیہما السلام کا انتقام یہیں ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے اجازت ملی تو آپ علیہ السلام اپنے لخت جگر کی ملاقات کے لیے تشریف لائے بعض روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا یہ آنا جانا براق پر ہوتا تھا ملک شام سے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے یہاں آئے تو اسمٰعیل علیہ السلام گھر پر نہ ملے اپنی بہو سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ تو جواب ملا کہ کھانے پینے کی تلاش میں یعنی شکار کو گئے ہیں آپ علیہ السلام نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ کہا برا حال ہے بڑی تنگی اور سختی ہے فرمایا اچھا تمہارے خاوند آویں تو انہیں سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔

صفحہ نمبر508

حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام جب واپس آئے تو گویا آپ علیہ السلام کو کچھ انس سا معلوم ہوا پوچھنے لگے کیا کوئی صاحب تشریف لائے تھے؟ بیوی نے کہا ہاں ایسی ایسی شکل و شباہت کے ایک عمر رسیدہ بزرگ آئے تھے؟ آپ کی نسبت پوچھا میں نے کہا وہ شکار کی تلاش میں باہر گئے ہیں پھر پوچھا کہ گزران کیسی چلتی ہے؟ میں نے کہا بڑی سختی اور تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے پوچھا کچھ مجھ سے کہنے کو بھی فرما گئے ہیں؟ بیوی نے کہا ہاں کہہ گئے کہ وہ جب وہ آئیں میرا سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں آپ علیہ السلام فرمانے لگے بیوی سنو یہ میرے والد صاحب تھے اور جو فرما گئے ہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ [ چونکہ تم نے ناشکری کی ] ‏ میں تم کو الگ کر دوں جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی انہیں طلاق دے کر آپ علیہ السلام نے اسی قبیلہ میں اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔

صفحہ نمبر509

ایک مدت کے بعد پھر ابراہیم علیہ السلام باجازت الٰہی یہاں آئے اب کی مرتبہ بھی اتفاقاً ذبیح علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی بہو سے پوچھا تو جواب ملا کہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں شکار کو گئے ہیں آپ آئیے، تشریف رکھئے جو کچھ حاضر ہے تناول فرمائیے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ تو بتاؤ کہ گزر بسر کیسی ہوتی ہے؟ کیا حال ہے؟ جواب ملا الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور بفضل رب کعبہ کشادگی اور راحت ہے اللہ کا بڑا شکر ہے ابراہیم علیہ السلام نے کہا تمہاری خوراک کیا ہے؟ کہا گوشت پوچھا تم پیتے کیا ہو؟ جواب ملا پانی آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ پروردگار انہیں گوشت اور پانی میں برکت دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اناج ان کے پاس ہوتا اور یہ کہتیں تو خلیل علیہ السلام ان کے لیے اناج کی برکت کی دعا بھی کرتے اب اس دعا کی برکت سے اہل مکہ صرف گوشت اور پانی پر گزر کر سکتے ہیں۔ اور لوگ نہیں کر سکتے آپ علیہ السلام نے فرمایا اچھا میں تو جا رہا ہوں تم اپنے میاں کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنی چوکھٹ کو ثابت اور آباد رکھیں بعد ازاں اسمٰعیل علیہ السلام آئے سارا واقعہ معلوم ہوا آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میرے والد مکرم تھے مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں الگ نہ کروں [ تم شکر گزار ہو ] ‏۔

صفحہ نمبر510

تعمیر کعبہ ٭٭

پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو اجازت ملی اور آپ تشریف لائے تو اسمٰعیل علیہ السلام کو زمزم کے پاس ایک ٹیلے پر تیر سیدھے کرتے ہوئے پایا، اسمٰعیل علیہ السلام باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور با ادب ملے جب باپ بیٹے ملے تو خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا اے اسماعیل مجھے اللہ کا ایک حکم ہوا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا ابا جان جو حکم ہوا ہو اس کی تعمیل کیجئے، کہا بیٹا تمہیں بھی میرا ساتھ دینا پڑے گا۔ عرض کرنے لگے میں حاضر ہوں اس جگہ اللہ کا ایک گھر بنانا ہے کہنے لگے بہت بہتر اب باپ بیٹے نے بیت اللہ کی نیو رکھی اور دیواریں اونچی کرنی شروع کیں، اسمٰعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر دیتے جاتے تھے اور ابراہیم چنتے جاتے تھے جب دیواریں قدرے اونچی ہو گئیں تو ذبیح اللہ یہ پتھر یعنی مقام ابراہیم کا پتھر لائے، اس اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کے پتھر رکھتے جاتے تھے اور دونوں باپ بیٹا یہ دعا مانگتے جاتے تھے کہ باری تعالیٰ تو ہماری اس ناچیز خدمت کو قبول فرمانا تو سننے اور جاننے والا ہے. [صحیح بخاری:3365] ‏

یہ روایت اور کتب حدیث میں بھی ہے کہیں مختصر اور کہیں مفصلاً ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ ذبیح اللہ کے بدلے جو دنبہ ذبح ہوا تھا اس کے سینگ بھی کعبۃ اللہ میں تھے۔ [مسند احمد:601/1:صحیح] ‏ اوپر کی لمبی روایت بروایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جب بھی کعبۃ اللہ شریف کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام نے اپنے سر پر ایک بادل سا ملاحظہ فرمایا جس میں سے آواز آئی کہ اے ابراہیم جہاں جہاں تک اس بادل کا سایہ ہے وہاں تک کی زمین بیت اللہ میں لے لو کمی زیادتی نہ ہو اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بیت اللہ بنا کر وہاں ہاجرہ اور اسمٰعیل علیہ السلام کو چھوڑ کر آپ علیہ السلام تشریف لے گئے لیکن روایت ہی ٹھیک ہے اور اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بناء پہلے رکھدی تھی لیکن بنایا بعد میں، اور بنانے میں بیٹا اور باپ دونوں شامل تھے جیسے کہ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہیں۔

صفحہ نمبر511

ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بناء بیت اللہ شروع کیفیت دریافت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا گھر بناؤ ابراہیم علیہ السلام گھبرائے کہ مجھے کہاں بنانا چاہیئے کس طرح اور کتنا بڑا بنانا چاہیئے وغیرہ اس پر سکینہ نازل ہوا اور حکم ہوا کہ جہاں یہ ٹھہرے وہاں تم میرا گھر بناؤ آپ علیہ السلام نے بنانا شروع کیا جب حجر اسود کی جگہ پہنچے تو اسمٰعیل علیہ السلام سے کہا بیٹا کوئی اچھا سا پتھر ڈھونڈ لاؤ تو دیکھا کہ آپ اور پتھر وہاں لگا چکے ہیں، پوچھا یہ پتھر کون لایا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کے حکم سے یہ پتھر جبرائیل علیہ السلام آسمان سے لے کر آئے، سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب جہاں بیت اللہ ہے وہاں زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر بلبلوں کے ساتھ جھاگ سی تھی یہیں سے زمین پھیلائی گئی،

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کعبۃ اللہ بنانے کے لیے خلیل علیہ السلام آرمینیہ سے تشریف لائے تھے حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حجر اسود جبرائیل علیہ السلام ہند سے لائے تھے اس وقت وہ سفید چمکدار یاقوت تھا جو آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے اترا تھا ھر لوگوں کے خطا کار ہاتھوں سے اس کا رنگ سیاہ ہو گیا اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نیو اور بنیادیں ہلے سے موجود تھیں انہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بناء کی۔

صفحہ نمبر512

مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہند میں اترے تھے اس وقت ان کا قد لمبا تھا زمین میں آنے کے بعد فرشتوں کی تسبیح نماز و دعا وغیرہ سنتے تھے جب قد گھٹ گیا اور وہ پیاری آوازیں آنی بند ہو گئیں تو آپ علیہ السلام گھبرانے لگے حکم ہوا کہ مکہ کی طرف رکھا اور اسے اپنا گھر قرار دیا، آدم علیہ السلام یہاں طواف کرنے لگے اور مانوس ہوئے گھبراہٹ جاتی رہی حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کے زمانہ میں یہ پھر اٹھ گیا اور ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے بنوایا آدم علیہ السلام نے یہ گھر حرا طور زیتا جبل لبنان طور سینا اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن ان تمام روایتوں میں تفاوت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض روایتوں میں ہے کہ زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ بنایا گیا تھا، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کے نشان بتانے کے لیے جبرائیل علیہ السلام چلے تھے اس وقت یہاں جنگلی درختوں کے سوا کچھ نہ تھا کس دور عمالیق کی آبادی تھی یہاں آپ علیہ السلام ام اسماعیل کو اور اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک چھپر تلے بٹھا گے ایک اور روایت میں ہے کہ بیت اللہ کے چار ارکان ہیں اور ساتویں زمین تک وہ نیچے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر513

ایک اور روایت میں ہے کہ ذوالقرنین جب یہاں پہنچے اور ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ بناتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے حکم سے اس کا گھر بنا رہے ہیں پوچھا کیا دلیل؟ کہا یہ بھیڑیں گواہی دیں گی پانچ بھیڑوں نے کہا ہم گواہی دیتی ہیں کہ یہ دونوں اللہ کے مامور ہیں، ذوالقرنین خوش ہو گئے اور کہنے لگے میں نے مان لیا۔ الرزقی کی تاریخ مکہ میں ہے کہ ذوالقرنین نے خلیل اللہ علیہ السلام اور ذبیح اللہ علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صحیح بخاری میں ہے قواعد بنیاد اور اساس کو کہتے ہیں یہ قاعدہ کی جمع ہے قرآن میں اور جگہ آیت «وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِيْنَةٍ» [ 24۔ النور: 60 ] ‏ بھی آیا ہے اس کا مفرد بھی قاعدۃ ہے۔

صفحہ نمبر514

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتیں کہ تمہاری قوم نے جب بیت اللہ بنایا تو قواعد ابراہیم علیہ السلام سے گھٹا دیا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے بڑھا کر اصلی بنا پر کر دیں فرمایا کہ اگر تیری قوم کا اسلام تازہ اور ان کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں ایسا کر لیتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو فرمانے لگے شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس کے دوستونوں کو چھوتے نہ تھے [صحیح بخاری:4484] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے عائشہ رضی اللہ عنہا اگر تیری قوم کا جاہلیت کا زمانہ نہ ہوتا تو میں کعبہ کے خزانہ کو اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالتا اور دروازے کو زمین دوز کر دیتا اور حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ میں اس کا دوسرا دروازہ بھی بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے چنانچہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایسا ہی کیا۔ [صحیح بخاری:126] ‏ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے میں دوبارہ بنائے ابراہیمی علیہ السلام پر بناتا۔ [صحیح مسلم:398] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دروازہ مشرق رخ کرتا اور دوسرا مغرب رخ اور چھ ہاتھ حطیم کو اس میں داخل کر لیتا جسے قریش نے باہر کر دیا ہے۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

صفحہ نمبر515

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پانچ سال پہلے قریش نے نئے سرے سے کعبہ بنایا تھا اس کا مفصل ذکر ملاحظہ ہو اس بناء میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس سال کی تھی اور پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھاتے تھے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی اس وقت قریش نے کعبۃ اللہ کو نئے سرے سے بنانے کا ارادہ کیا ایک تو اس لیے کہ اس کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں چھت نہ تھی دوسرے اس لیے بھی کہ بیت اللہ کا خزانہ چوری ہو گیا تھا جو بیت اللہ کے بیچ میں ایک گہرے گڑھے میں رکھا ہوا تھا یہ مال ”دویک“ کے پاس ملا تھا جو خزائمہ کے قبیلے بنی ملیح بن عمرو کا مولی تھا۔ ممکن ہے چوروں نے یہاں لا رکھا ہو لیکن اس کے ہاتھ اس چوری کی وجہ سے کاٹے گئے ایک اور قدرتی سہولت بھی اس کے لیے ہو گئی تھی کہ روم کے تاجروں کی ایک کشتی جس میں بہت اعلیٰ درجہ کی لکڑیاں تھیں وہ طوفان کی وجہ سے جدہ کے کنارے آ لگی تھی یہ لکڑیاں چھت میں کام آ سکتی تھیں اس لیے قریشیوں نے انہیں خرید لیا اور مکہ کے ایک بڑھئی جو قبطی قبیلہ میں سے تھا کو چھت کا کام سونپا یہ سب تیاریاں تو ہو رہی تھیں لیکن بیت اللہ کو گرانے کی ہمت نہ پڑتی تھی اس کے قدرتی اسباب بھی مہیا ہو گئے بیت اللہ کے خزانہ میں ایک بڑا اژدھا تھا جب کبھی لوگ اس کے قریب بھی جاتے تو وہ منہ پھاڑ کر ان کی طرف لپکتا تھا یہ سانپ ہر روز اس کنویں سے نکل کر بیت اللہ کی دیواروں پر آ بیٹھتا تھا ایک روز وہ بیٹھا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا پرندہ بھیجا وہ اسے پکڑ کر لے اڑا قریشیوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ارادہ مرضی مولا کے مطابق ہے لکڑیاں بھی ہمیں مل گئیں بڑھئی بھی ہمارے پاس موجود ہے سانپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے دفع کیا۔

صفحہ نمبر516

اب انہوں نے مستقل ارادہ کر لیا کہ کعبۃ اللہ کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں۔ سب سے پہلے ابو وھب بن عمرو کھڑا ہوا اور ایک پتھر کعبۃ اللہ کو گرا کر اتارا جو اس کے ہاتھ سے اڑ کر پھر وہیں جا کر نصب ہو گیا اس نے تمام قریشیوں سے خطاب کر کے کہا سنو بیت اللہ کے بنانے میں ہر شخص اپنا طیب اور پاک مال خرچ کرے۔ اس میں زناکاری کا روپیہ سودی بیوپار کا روپیہ ظلم سے حاصل کیا ہوا مال نہ لگانا، بعض لوگ کہتے ہیں یہ مشورہ ولید بن مغیرہ نے دیا تھا۔ [سیرت ابن ھشام:204/1] ‏

اب بیت اللہ کے حصے بانٹ لیے گئے دروازہ کا حصہ بنو عبد مناف اور زہرہ بنائیں حجر اسود اور رکن یمانی کا حصہ بنی مخزوم بنائیں۔ قریش کے اور قبائل بھی ان کا ساتھ دیں۔ کعبہ کا پچھلا حصہ بنو جمح اور سہم بنائیں۔ حطیم کے پاس کا حصہ بنو عبدالدار بن قصی اور بنو اسد بن عبد العزی اور بنو عدی بن کعب بنائیں۔ یہ مقرر کر کے اب بنی ہوئی عمارت کو ڈھانے کے لیے چلے لیکن کسی کو ہمت نہیں پڑتی کہ اسے مسمار کرنا شروع کرے آخر ولید بن مغیرہ نے کہا لو میں شروع کرتا ہوں کدال لے کر اوپر چڑھ گئے اور کہنے لگے اے اللہ تجھے خوب علم ہے کہ ہمارا ارادہ برا نہیں ہم تیرے گھر کو اجاڑنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے آباد کرنے کی فکر میں ہیں۔ یہ کہہ کر کچھ حصہ دونوں رکن کے کناروں کا گرایا قریشیوں نے کہا بس اب چھوڑو اور رات بھر کا انتظار کرو اگر اس شخص پر کوئی وبال آ جائے تو یہ پتھر اسی جگہ پر لگا دینا اور خاموش ہو جانا اور اگر کوئی عذاب نہ آئے تو سمجھ لینا کہ اس کا گرانا اللہ کو ناپسند نہیں پھر کل سب مل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا چنانچہ صبح ہوئی اور ہر طرح خیریت رہی اب سب آ گئے اور بیت اللہ کی اگلی عمارت کو گرا دیا یہاں تک کہ اصلی نیو یعنی بناء ابراہیمی تک پہنچ گئے یہاں سبز رنگ کے پتھر تھے کے ہلنے کے ساتھ ہی تمام مکہ کی زمین ہلنے لگی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں جدا کر کے اور پتھر ان کی جگہ لگانا اللہ کو منظور نہیں اس لیے ہمارے بس کی بات نہیں اس ارادے سے باز رہے اور ان پتھروں کو اسی طرح رہنے دیا۔ [سیرت ابن ھشام:207/1] ‏

صفحہ نمبر517

پھر ہر قبیلہ نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق علیحدہ علیحدہ پتھر جمع کئے اور عمارت بننی شروع ہوئی یہاں تک کہ باقاعدہ جنگ کی نوبت آ گئی فرقے آپس میں کھچ گئے اور لڑائی کی تیاریاں میں مشغول ہو گئے بنو عبد دار اور بنو عدی نے ایک طشتری میں خون بھر کر اس میں ہاتھ ڈبو کر حلف اٹھایا کہ سب کٹ مریں گے لیکن حجر اسود کسی کو نہیں رکھنے دیں گے اسی طرح چار پانچ دن گزر گئے پھر قریش مسجد میں جمع ہوئے کہ آپس میں مشورہ اور انصاف کریں تو ابو امیہ بن مغیرہ نے جو قریش میں سب سے زیادہ معمر اور عقلمند تھے کہا سنو لوگو تم اپنا منصف کسی کو بنا لو وہ جو فیصلہ کرے سب منظور کر لو۔ لیکن پھر منصف بنانے میں بھی اختلاف ہو گا اس لیے ایسا کرو کہ اب جو سب سے پہلے یہاں مسجد میں آئے وہی ہمارا منصف۔ اس رائے پر سب نے اتفاق کر لیا۔ اب منتظر ہیں کہ دیکھیں سب سے پہلے کون آتا ہے؟

صفحہ نمبر518

پس سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی یہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر رضامند ہیں۔ یہ تو امین ہیں یہ تو محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ ہیں۔ پھر سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ کوئی موٹی اور بڑی سی چادر لاؤ وہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اٹھا کر اپنے دست مبارک سے اس میں رکھا پھر فرمایا ہر قبیلہ کا سردار آئے اور اس کپڑے کا کونہ پکڑ لے اور اس طرح ہر ایک حجر اسود کے اٹھانے کا حصہ دار بنے اس پر سب لوگ بہت ہی خوش ہوئے اور تمام سرداروں نے اسے تھام کر اٹھا لیا۔ جب اس کے رکھنے کی جگہ تک پہنچے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے ہاتھ سے اسی جگہ رکھ دیا اور وہ نزاع و اختلاف بلکہ جدال و قتال رفع ہو گیا اور اس طرح اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اپنے گھر میں اس مبارک پتھر کو نصب کرایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا کرتے تھے۔ اب پھر اوپر کا حصہ بنا اور کعبۃ اللہ کی عمارت تمام ہوئی ابن اسحاق موررخ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کعبہ اٹھارہ ہاتھ کا تھا۔ قباطی کا پردہ چڑھایا جاتا تھا پھر چادر کا پردہ چڑھنے لگا۔ ریشمی پردہ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے چڑھایا۔ [سیرت ابن ھشام:211/1] ‏

صفحہ نمبر519

کعبہ کی یہی عمارت رہی یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی ابتدائی زمانہ میں ساٹھ سال کے بعد یہاں آگ لگی اور کعبہ جل گیا۔ یہ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کا آخری زمانہ تھا اور اس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا مکہ میں محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان دنوں میں خلیفہ مکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جو حدیث سنی تھی اسی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پر بیت اللہ کو گرا کر ابراہیمی قواعد پر بنایا حطیم اندر شامل کر لیا، مشرق و مغرب دو دروازے رکھے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا اور دروازوں کو زمین کے برابر رکھا آپ کی امارت کے زمانہ تک کعبۃ اللہ یونہی رہا یہاں تک کہ ظالم حجاج کے ہاتھوں آپ شہید ہوئے۔ اب حجاج نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے کعبہ کو پھر توڑ کر پہلے کی طرح بنا لیا۔

صفحہ نمبر520

صحیح مسلم شریف میں یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ شامیوں نے مکہ شریف پر چڑھائی کی اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو یونہی چھوڑ دیا۔ موسم حج کے موقع پر لوگ جمع ہوئے انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ لیا کہ کیا کعبۃ اللہ سارے کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں یا جو ٹوٹا ہوا ہے اس کی اصلاح کر لیں؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ آب جو ٹوٹا ہوا ہے اسی کی مرمت کر دیں باقی سب پرانا ہے رہنے دیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جاتا تو وہ تو خوش نہ ہوتا جب تک اسے نئے سرے سے نہ بناتا پھر تم اپنے رب عزوجل کے گھر کی نسبت اتنی کمزور رائے کیوں رکھتے ہو؟ اچھا میں تین دن تک اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر جو سمجھ میں آئے گا وہ کروں گا۔ تین دن کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی رائے یہی ہوئی کہ باقی ماندہ دیواریں بھی توڑی جائیں اور از سرے نو کعبہ کی تعمیر کی جائے چنانچہ یہ حکم دے دیا لیکن کعبے کو توڑنے کی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ڈر تھا کہ جو پہلے توڑنے کے لیے چڑھے گا اس پر عذاب نازل ہو گا لیکن ایک باہمت شخص چڑھ گیا اور اس نے ایک پتھر توڑا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ ایذاء نہیں پہنچی تو اب ڈھانا شروع کیا اور زمین تک برابر یکساں صاف کر دیا اس وقت چاروں طرف ستون کھڑے کر دئیے تھے اور ایک کپڑا تان دیا تھا۔

صفحہ نمبر521

اب بناء بیت اللہ شروع ہوئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر لوگوں کا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچ بھی ہوتا جس سے میں بنا سکوں تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ بیت اللہ میں لے لیتا اور کعبہ کے دو دروازے کرتا ایک آنے کا اور ایک جانے کا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کر کے فرمایا اب لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہیں رہا ان سے خوف جاتا رہا اور خزانہ بھی معمور ہے میرے پاس کافی روپیہ ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پوری نہ کروں چنانچہ پانچ ہاتھ حطیم اندر لے لی اور اب جو دیوار کھڑی کی تو ٹھیک ابراہیمی بنیاد نظر آنے لگی جو لوگوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لی اور اسی پر دیوار کھڑی کی بیت اللہ کا طول اٹھارہ ہاتھ تھا اب جو اس میں پانچ ہاتھ اور بڑھ گیا تو چھوٹا ہو گیا اس لیے طول میں دس ہاتھ اور بڑھایا گیا اور دو دروازے بنائے گئے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا۔

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حجاج نے عبدالملک کو لکھا اور ان سے مشورہ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟ یہ بھی لکھ بھیجا کہ مکہ شریف کے عادلوں نے دیکھا ہے ٹھیک ابراہیم علیہ السلام کی نیو پر کعبہ تیار ہوا ہے لیکن عبدالملک نے جواب دیا کہ طول کو تو باقی رہنے دو اور حطیم کو باہر کر دو اور دوسرا دروازہ بند کر دو۔ حجاج نے اس حکم کے مطابق کعبہ کو تڑوا کر پھر اسی بنا پر بنا دیا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ لیکن سنت طریقہ یہی تھا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بناء کو باقی رکھا جاتا اس لیے کہ حضور علیہ السلام کی چاہت یہی تھی لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف تھا کہ لوگ بدگمانی نہ کریں ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر522

لیکن یہ حدیث عبدالملک بن مروان کو نہیں پہنچی تھی اس لیے انہوں نے اسے تڑوا دیا جب انہیں حدیث پہنچی تو رنج کرتے تھے اور کہتے تھے کاش کہ ہم یونہی رہنے دیتے اور نہ تڑاتے چنانچہ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حارث بن عبیداللہ جب ایک وفد میں عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچے تو عبدالملک نے کہا میرا خیال ہے کہ ابو حبیب یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے [ اپنی خالہ ] ‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہو گی حارث نے کہا ضرور سنی تھی خود میں نے بھی ام المومنین رضی اللہ عنہا سے سنا ہے پوچھا تم نے کیا سنا ہے؟ کہا میں نے سنا ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ عائشہ تیری قوم نے بیت اللہ کو تنگ کر دیا۔ اگر تیری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں نئے سرے سے ان کی کمی کو پورا کر دیتا لیکن آؤ میں تجھے اصلی نیو بتا دوں شاید کسی وقت تیری قوم پھر اسے اس کی اصلیت پر بنانا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حطیم میں سے قریباً سات ہاتھ اندر داخل کرنے کو فرمایا اور فرمایا میں اس کے دروازے بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے اور دونوں دروازے زمین کے برابر رکھتا ایک مشرق رخ رکھتا دوسرا مغرب رخ جانتی بھی ہو کہ تمہاری قوم نے دروازے کو اتنا اونچا کیوں رکھا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر نہیں فرمایا محض اپنی اونچائی اور بڑائی کے لیے کہ جسے چاہیں اندر جانے دیں اور جسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں جب کوئی شخص اندر جانا چاہتا تو اسے اوپر سے دھکا دے دیتے وہ گر پڑتا اور جسے داخل کرنا چاہتے اسے ہاتھ تھام کر اندر لے لیتے۔

عبدالملک نے کہا اسے حارث نے خود سنا ہے تو تھوڑی دیر تک تو عبدالملک اپنی لکڑی ٹکائے سوچتے رہے پھر کہنے لگے کاش کہ میں اسے یونہی چھوڑ دیتا۔ [مسند احمد:253/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر523

صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے عبداللہ کو کوس کر کہا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ پر اس حدیث کا بہتان باندھنا تھا تو حارث نے روکا اور شہادت دی کہ وہ سچے تھے میں نے بھی صدیقہ سے یہ سنا ہے اب عبدالملک افسوس کرنے لگے اور کہنے لگے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں ہرگز اسے نہ توڑتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

قاضی عیاض اور امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے خلیفہ ہارون رشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں پھر کعبہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو پھر کعبہ کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا آپ ایسا نہ کیجئے ایسا نہ ہو کہ کعبہ بادشاہوں کا ایک کھلونا بن جائے جو آئے اپنی طبیعت کے مطابق توڑ پھوڑ کرتا رہے چنانچہ خلیفہ اپنے ارادے سے باز رہے یہی بات ٹھیک بھی معلوم ہوتی ہے کہ کعبہ کو باربار چھیڑنا ٹھیک نہیں۔

صفحہ نمبر524

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی پھر خراب کرے گا۔ [صحیح بخاری:1591] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں وہ سیاہ فام ایک ایک پتھر الگ الگ کر دے گا۔ [صحیح بخاری:1595] ‏ اس کا غلاف لے جائے گا اور اس کا خزانہ بھی وہ ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا اور گنجا ہو گا میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا وہ کدال بجا رہا ہے اور برابر ٹکڑے کر رہا ہے۔ [مسند احمد:220/2:صحیح بالشواھد] ‏ غالباً یہ ناشدنی واقعہ [ جس کے دیکھنے سے ہمیں محفوظ رکھے ] ‏ یاجوج ماجوج کے نکل چکنے کے بعد ہو گا۔

صفحہ نمبر525

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی بیت اللہ شریف کا حج و عمرہ کرو گے۔ [صحیح بخاری:1593] ‏ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان بنا لے یعنی مخلص بنا لے مطیع بنا لے موحد بنا، ہر شر سے بچا۔ ریا کاری سے محفوظ رکھ خشوع وخضوع عطا فرما۔ حضرت سلام بن ابی مطیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان تو تھے ہی لیکن اسلام کی ثابت قدمی طلب کرتے ہیں جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا «قد فعلت» میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمائی پھر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے ہیں جو قبول ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل بھی آپ علیہ السلام کی اولاد میں ہیں اور عرب بھی قرآن میں ہے آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [ 7۔ الاعراف: 159 ] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک جماعت حق عدل پر تھی۔

لیکن روانی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لیے یہ دعا گو عام طور پر دوسروں پر بھی مشتمل ہو اس لیے کہ اس کے بعد دوسری دعا میں ہے کہ ان میں ایک رسول بھیج اور اس رسول سے مراد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ یہ دعا بھی پوری ہوئی جیسے فرمایا آیت «هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ» [ 62-الجمعہ: 2 ] ‏ لیکن اس سے آپ کی رسالت خاص نہیں ہوتی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام ہے عرب و عجم سب کے لیے جیسے آیت «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [ 7۔ الاعراف: 158 ] ‏ کہہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

صفحہ نمبر526

ان دونوں نبیوں کی یہ دعا جیسی ہے ایسی ہی ہر متقی کی دعا ہونی چاہیئے۔ جیسے قرآنی تعلیم ہے کہ مسلمان یہ دعا کریں آیت «رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا» [ 25۔ الفرقان: 74 ] ‏ اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے انسان یہ چاہے کہ میری اولاد میرے بعد بھی اللہ کی عابد رہے۔ اور جگہ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت «وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین کام جاری رہتے ہیں صدقہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور نیک اولاد جو دعا کرتی رہے [صحیح مسلم:1631] ‏ پھر آپ علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ ہمیں مناسک دکھا یعنی احکام و ذبح وغیرہ سکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کو لے کر کعبہ کی عمارت پوری ہو جانے کے بعد صفا پر آتے ہیں پھر مروہ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ شعائر اللہ ہیں پھر منیٰ کی طرف لے چلے عقبہ پر شیطان درخت کے پاس کھڑا ہوا ملا تو فرمایا تکبیر پڑھ کر اسے کنکر مارو۔ ابلیس یہاں سے بھاگ کر جمرہ وسطی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ یہاں بھی اسے کنکریاں ماریں تو یہ خبیث ناامید ہو کر چلا گیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ حج کے احکام میں کچھ دخل دے لیکن موقع نہ ملا اور مایوس ہو گیا یہاں سے آپ کو مشعر الحرام میں لائے پھر عرفات میں پہنچایا پھر تین مرتبہ پوچھا ”کہو سمجھ لیا۔‏“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں“ [تفسیر ابن ابی حاتم:387/1] ‏ دوسری روایت میں تین جگہ شیطان کو کنکریاں مارنی مروی ہیں اور یہ شیطان کو سات سات کنکریاں ماری ہیں۔

صفحہ نمبر527

شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭

«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] ‏ تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] ‏ یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ‏ ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] ‏ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] ‏ اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔

صفحہ نمبر486

اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏ لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏

صفحہ نمبر487

ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] ‏

اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ‏ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] ‏ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] ‏ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔

صفحہ نمبر488

ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»

صفحہ نمبر489

یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔

صفحہ نمبر490

امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر491

عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭

یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] ‏ عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] ‏ رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] ‏ پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] ‏ اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔

صفحہ نمبر492

مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] ‏ آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] ‏ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر493

حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] ‏ اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] ‏ صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] ‏ کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] ‏ اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] ‏ اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔

صفحہ نمبر494

یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834] ‏

صفحہ نمبر495

سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

صفحہ نمبر496

ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] ‏ لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ‏ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن] ‏

صفحہ نمبر497

مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭

اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] ‏ اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] ‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صفحہ نمبر498

«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] ‏ یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔

صفحہ نمبر499

اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] ‏ اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] ‏ اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

صفحہ نمبر500

یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] ‏ بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] ‏ اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] ‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] ‏ [صحیح بخاری:4686] ‏ اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر501

قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ‏ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] ‏ وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (‏کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)‏۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ بنیادیں ابراہیم علیہ السلام اٹھاتے تھے اور دعا اسماعیل علیہ السلام کرتے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ دونوں ہر ایک کام میں شریک تھے۔

صحیح بخاری شریف کی ایک روایت اور بعض اور آثار بھی اس واقعہ کے متعلق یہاں ذکر کئے جانے کے قابل ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کمر بند باندھنا عورتوں نے اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے سیکھا ہے انہوں نے باندھا تھا کہ مائی سارہ کو ان کا نقش قدم نہ ملے انہیں اور ان کے جگر کے ٹکڑے اپنے اکلوتے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام کو لے کر ابراہیم علیہ السلام نکلے جبکہ یہ پیارا بچہ دودھ پیتا تھا۔

صفحہ نمبر502

سناٹے کی آغوش میں زندگی ٭٭

اب جہاں پر بیت اللہ بنا ہوا ہے یہاں ایک ٹیلہ تھا اور سنسان بیابان تھا کوئی اپنے سہنے والا وہاں نہ تھا یہاں پہنچ کر ماں بیٹے کو بٹھا کر پاس تھوڑی سی کھجوریں اور مشکیزہ پانی کا رکھ کر آپ چلے گئے جب خلیل اللہ علیہ السلام نے پیٹھ موڑی اور جانے لگے تو مائی حاجرہ سلام اللہ علیہا نے آواز دی اے خلیل اللہ ہمیں اس دہشت و وحشت والے بیابان میں یکہ و تنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئی مونس و ہمدم نہیں آپ علیہ السلام کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ لیکن ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اس طرف توجہ تک نہ کی، منہ موڑ کر بھی نہ دیکھا۔

صفحہ نمبر503

حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے باربار کہنے پر بھی آپ علیہ السلام نے التفات نہ فرمایا تو آپ سلام اللہ علیہا فرمانے لگیں اللہ کے خلیل آپ ہمیں کسے سونپ چلے؟ آپ علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ کو کہا اے خلیل اللہ کیا اللہ تعالیٰ کا آپ کو یہ حکم ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں مجھے اللہ کا یہی حکم ہے یہ سن کر ام اسمٰعیل سلام اللہ علیہا کو تسکین ہو گئی اور فرمانے لگیں پھر تشریف لے جائیے وہ اللہ جل شانہ ہمیں ہرگز ضائع نہ کرے گا اسی کا بھروسہ اور اسی کا سہارا ہے۔ ہاجرہ لوٹ گئیں اور اپنے کلیجہ کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں کے نور ابن نبی اللہ کو گود میں لے کر اس سنسان بیابان میں اس ہو کے عالم میں لاچار اور مجبور ہو کر بیٹھ رہیں۔ ابراہیم علیہ السلام جب ثنیہ کے پاس پہنچے اور یہ معلوم کر لیا کہ اب ہاجرہ پیچھے نہیں اور وہاں سے یہاں تک ان کی نگاہ کام بھی نہیں کر سکتی تو بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا آیت «رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» [ 14۔ ابراہیم: 37 ] ‏ الہٰ العالمین میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے شاید وہ شکر گزاری کریں آپ علیہ السلام نے یہ دعا کر کے حکم اللہ بجا لا کر اپنی اہل و عیال کو اللہ کے سپرد کر کے چلے گئے۔

صفحہ نمبر504

ادھر ہاجرہ سلام اللہ علیہا صبر و شکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگییں جب تھوڑی سی کھجوریں اور ذرا سا پانی ختم ہو گیا اب اناج کا ایک دانہ پاس ہے نہ پانی کا گھونٹ خود بھی بھوکی پیاسی ہیں اور بچہ بھی بھوک پیاس سے بیتاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا پھول سا چہرہ کمھلانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا مامتا بھری ماں کبھی اپنی تنہائی اور بے کس ی کا خیال کرتی ہے کبھی اپنے ننھے سے اکلوتے بچے کا یہ حال بغور دیکھتی ہے اور سہمی جاتی ہے معلوم ہے کہ کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں، میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں کھانا تو کہاں؟ پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں آ سکتا۔

صفحہ نمبر505

آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہیں دیکھا جاتا تو اٹھ کر چلی جاتی ہیں اور صفا پہاڑ جو پاس ہی تھا اس پر چڑھ جاتی ہیں اور میدان کی طرف نظر دوڑاتی ہیں کہ کوئی آتا جاتا نظر آ جائے لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف ڈالتی ہیں اور کسی کو بھی نہ دیکھ کر پھر وہاں سے اتر آتی ہیں اور اسی طرح درمیانی تھوڑا سا حصہ دوڑ کر باقی حصہ جلدی جلدی طے کر کے پھر صفا پر چڑھتی ہیں اسی طرح سات مرتبہ کرتی ہیں ہر بار آ کر بچہ کو دیکھ جاتی ہیں اس کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صفا مروہ کی سعی جو حاجی کرتے ہیں اس کی ابتداء یہی سے ساتویں مرتبہ جب ہاجرہ مروہ پر آتی ہیں تو کچھ آواز کان میں پڑتی ہے آپ خاموش ہو کر احتیاط کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ یہ آواز کیسی؟ آواز پھر آتی ہے اور اس مرتبہ صاف سنائی دیتی ہے تو آپ آواز کی طرف لپک کر آتی ہیں اور اب جہاں زمزم ہے وہاں جبرائیل علیہ السلام کو پاتی ہیں۔

صفحہ نمبر506

حضرت جبرائیل علیہ السلام پوچھتے ہیں تم کون ہو؟ آپ جواب دیتی ہیں میں ہاجرہ ہوں میں ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے کی ماں ہوں فرشتہ پوچھتا ہے ابراہیم علیہ السلام تمہیں اس سنسان بیابان میں کسے سونپ گئے ہیں؟ آپ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں اللہ کو فرمایا پھر تو وہ کافی ہے ہاجرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا اے غیبی شخص آواز تو میں نے سن لی کیا کچھ میرا کام بھی نکلے گا؟ جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر رگڑی وہیں زمین سے ایک چشمہ پانی کا ابلنے لگا۔ حضرت ہاجرہ علیہما السلام نے ہاتھ سے اس پانی کو مشک میں بھرنا شروع کیا مشک بھر کر پھر اس خیال سے کہ پانی ادھر ادھر بہ کر نکل نہ جائے آس پاس باڑ باندھنی شروع کر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ ام اسمٰعیل علیہ السلام پر رحم کرے اگر وہ اس طرح پانی کو نہ روکتیں تو زمزم کنویں کی مثل میں نہ ہوتا بلکہ وہ ایک جاری نہر کی صورت میں ہوتا اب ہاجرہ نے پانی پیا اور بچہ کو بھی پلایا اور دودھ پلانے لگیں فرشتے نے کہ دیا کہ تم بے فکر رہو اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا جہاں تم بیٹھی ہو یہاں اللہ کا ایک گھر اس بچے اور اس کے باپ کے ہاتھوں بنے گا ہاجرہ اب یہیں رہ پڑیں زمزم کا پانی پیتیں اور بچہ سے دل بہلاتیں بارش کے موسم میں پانی کے سیلاب چاروں طرف سے آتے لیکن یہ جگہ ذرا اونچی تھی ادھر ادھر سے پانی گزر جاتا ہے اور یہاں امن رہتا کچھ مدت کے بعد جرہم کا قبیلہ خدا کے راستہ کی طرف سے اتفاقاً گزرا اور مکہ شریف کے نیچے کے حصہ میں اترا ان کی نظریں ایک آبی پرند پر پڑیں تو آپس میں کہنے لگے یہ پرندہ تو پانی کا ہے اور یہاں پانی کبھی نہ تھا ہماری آمدورفت یہاں سے کئی مرتبہ ہوئی یہ تو خشک جنگل اور چٹیل میدان ہے یہاں پانی کہاں؟ چنانچہ انہوں نے اپنے آدمی اصلیت معلوم کرنے کے لیے بھیجے انہوں نے واپس آ کر خبر دی کہ وہاں تو بہترین اور بہت سا پانی ہے اب وہ سب آئے اور ام اسمعٰیل سلام اللہ علیہا سے عرض کرنے لگے کہ مائی صاحبہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم بھی یہاں ٹھہر جائیں پانی کی جگہ ہے آپ نے فرمایا ہاں شوق سے رہو لیکن پانی پر قبضہ میرا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہاجرہ تو چاہتی تھیں کہ کوئی ہم جنس مل جائے چنانچہ یہ قافلہ یہاں رہ پڑا۔

صفحہ نمبر507

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو گئے ان سب کو آپ علیہ السلام سے بڑی محبت ہو گئی یہاں تک کہ آپ علیہ السلام بالغ ہوئے تو انہی میں نکاح بھی کیا اور انہی سے عربی بھی سیکھی مائی ہاجرہ علیہما السلام کا انتقام یہیں ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے اجازت ملی تو آپ علیہ السلام اپنے لخت جگر کی ملاقات کے لیے تشریف لائے بعض روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا یہ آنا جانا براق پر ہوتا تھا ملک شام سے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے یہاں آئے تو اسمٰعیل علیہ السلام گھر پر نہ ملے اپنی بہو سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ تو جواب ملا کہ کھانے پینے کی تلاش میں یعنی شکار کو گئے ہیں آپ علیہ السلام نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ کہا برا حال ہے بڑی تنگی اور سختی ہے فرمایا اچھا تمہارے خاوند آویں تو انہیں سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔

صفحہ نمبر508

حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام جب واپس آئے تو گویا آپ علیہ السلام کو کچھ انس سا معلوم ہوا پوچھنے لگے کیا کوئی صاحب تشریف لائے تھے؟ بیوی نے کہا ہاں ایسی ایسی شکل و شباہت کے ایک عمر رسیدہ بزرگ آئے تھے؟ آپ کی نسبت پوچھا میں نے کہا وہ شکار کی تلاش میں باہر گئے ہیں پھر پوچھا کہ گزران کیسی چلتی ہے؟ میں نے کہا بڑی سختی اور تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے پوچھا کچھ مجھ سے کہنے کو بھی فرما گئے ہیں؟ بیوی نے کہا ہاں کہہ گئے کہ وہ جب وہ آئیں میرا سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں آپ علیہ السلام فرمانے لگے بیوی سنو یہ میرے والد صاحب تھے اور جو فرما گئے ہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ [ چونکہ تم نے ناشکری کی ] ‏ میں تم کو الگ کر دوں جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی انہیں طلاق دے کر آپ علیہ السلام نے اسی قبیلہ میں اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔

صفحہ نمبر509

ایک مدت کے بعد پھر ابراہیم علیہ السلام باجازت الٰہی یہاں آئے اب کی مرتبہ بھی اتفاقاً ذبیح علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی بہو سے پوچھا تو جواب ملا کہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں شکار کو گئے ہیں آپ آئیے، تشریف رکھئے جو کچھ حاضر ہے تناول فرمائیے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ تو بتاؤ کہ گزر بسر کیسی ہوتی ہے؟ کیا حال ہے؟ جواب ملا الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور بفضل رب کعبہ کشادگی اور راحت ہے اللہ کا بڑا شکر ہے ابراہیم علیہ السلام نے کہا تمہاری خوراک کیا ہے؟ کہا گوشت پوچھا تم پیتے کیا ہو؟ جواب ملا پانی آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ پروردگار انہیں گوشت اور پانی میں برکت دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اناج ان کے پاس ہوتا اور یہ کہتیں تو خلیل علیہ السلام ان کے لیے اناج کی برکت کی دعا بھی کرتے اب اس دعا کی برکت سے اہل مکہ صرف گوشت اور پانی پر گزر کر سکتے ہیں۔ اور لوگ نہیں کر سکتے آپ علیہ السلام نے فرمایا اچھا میں تو جا رہا ہوں تم اپنے میاں کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنی چوکھٹ کو ثابت اور آباد رکھیں بعد ازاں اسمٰعیل علیہ السلام آئے سارا واقعہ معلوم ہوا آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میرے والد مکرم تھے مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں الگ نہ کروں [ تم شکر گزار ہو ] ‏۔

صفحہ نمبر510

تعمیر کعبہ ٭٭

پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو اجازت ملی اور آپ تشریف لائے تو اسمٰعیل علیہ السلام کو زمزم کے پاس ایک ٹیلے پر تیر سیدھے کرتے ہوئے پایا، اسمٰعیل علیہ السلام باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور با ادب ملے جب باپ بیٹے ملے تو خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا اے اسماعیل مجھے اللہ کا ایک حکم ہوا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا ابا جان جو حکم ہوا ہو اس کی تعمیل کیجئے، کہا بیٹا تمہیں بھی میرا ساتھ دینا پڑے گا۔ عرض کرنے لگے میں حاضر ہوں اس جگہ اللہ کا ایک گھر بنانا ہے کہنے لگے بہت بہتر اب باپ بیٹے نے بیت اللہ کی نیو رکھی اور دیواریں اونچی کرنی شروع کیں، اسمٰعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر دیتے جاتے تھے اور ابراہیم چنتے جاتے تھے جب دیواریں قدرے اونچی ہو گئیں تو ذبیح اللہ یہ پتھر یعنی مقام ابراہیم کا پتھر لائے، اس اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کے پتھر رکھتے جاتے تھے اور دونوں باپ بیٹا یہ دعا مانگتے جاتے تھے کہ باری تعالیٰ تو ہماری اس ناچیز خدمت کو قبول فرمانا تو سننے اور جاننے والا ہے. [صحیح بخاری:3365] ‏

یہ روایت اور کتب حدیث میں بھی ہے کہیں مختصر اور کہیں مفصلاً ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ ذبیح اللہ کے بدلے جو دنبہ ذبح ہوا تھا اس کے سینگ بھی کعبۃ اللہ میں تھے۔ [مسند احمد:601/1:صحیح] ‏ اوپر کی لمبی روایت بروایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جب بھی کعبۃ اللہ شریف کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام نے اپنے سر پر ایک بادل سا ملاحظہ فرمایا جس میں سے آواز آئی کہ اے ابراہیم جہاں جہاں تک اس بادل کا سایہ ہے وہاں تک کی زمین بیت اللہ میں لے لو کمی زیادتی نہ ہو اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بیت اللہ بنا کر وہاں ہاجرہ اور اسمٰعیل علیہ السلام کو چھوڑ کر آپ علیہ السلام تشریف لے گئے لیکن روایت ہی ٹھیک ہے اور اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بناء پہلے رکھدی تھی لیکن بنایا بعد میں، اور بنانے میں بیٹا اور باپ دونوں شامل تھے جیسے کہ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہیں۔

صفحہ نمبر511

ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بناء بیت اللہ شروع کیفیت دریافت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا گھر بناؤ ابراہیم علیہ السلام گھبرائے کہ مجھے کہاں بنانا چاہیئے کس طرح اور کتنا بڑا بنانا چاہیئے وغیرہ اس پر سکینہ نازل ہوا اور حکم ہوا کہ جہاں یہ ٹھہرے وہاں تم میرا گھر بناؤ آپ علیہ السلام نے بنانا شروع کیا جب حجر اسود کی جگہ پہنچے تو اسمٰعیل علیہ السلام سے کہا بیٹا کوئی اچھا سا پتھر ڈھونڈ لاؤ تو دیکھا کہ آپ اور پتھر وہاں لگا چکے ہیں، پوچھا یہ پتھر کون لایا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کے حکم سے یہ پتھر جبرائیل علیہ السلام آسمان سے لے کر آئے، سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب جہاں بیت اللہ ہے وہاں زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر بلبلوں کے ساتھ جھاگ سی تھی یہیں سے زمین پھیلائی گئی،

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کعبۃ اللہ بنانے کے لیے خلیل علیہ السلام آرمینیہ سے تشریف لائے تھے حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حجر اسود جبرائیل علیہ السلام ہند سے لائے تھے اس وقت وہ سفید چمکدار یاقوت تھا جو آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے اترا تھا ھر لوگوں کے خطا کار ہاتھوں سے اس کا رنگ سیاہ ہو گیا اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نیو اور بنیادیں ہلے سے موجود تھیں انہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بناء کی۔

صفحہ نمبر512

مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہند میں اترے تھے اس وقت ان کا قد لمبا تھا زمین میں آنے کے بعد فرشتوں کی تسبیح نماز و دعا وغیرہ سنتے تھے جب قد گھٹ گیا اور وہ پیاری آوازیں آنی بند ہو گئیں تو آپ علیہ السلام گھبرانے لگے حکم ہوا کہ مکہ کی طرف رکھا اور اسے اپنا گھر قرار دیا، آدم علیہ السلام یہاں طواف کرنے لگے اور مانوس ہوئے گھبراہٹ جاتی رہی حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کے زمانہ میں یہ پھر اٹھ گیا اور ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے بنوایا آدم علیہ السلام نے یہ گھر حرا طور زیتا جبل لبنان طور سینا اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن ان تمام روایتوں میں تفاوت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض روایتوں میں ہے کہ زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ بنایا گیا تھا، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کے نشان بتانے کے لیے جبرائیل علیہ السلام چلے تھے اس وقت یہاں جنگلی درختوں کے سوا کچھ نہ تھا کس دور عمالیق کی آبادی تھی یہاں آپ علیہ السلام ام اسماعیل کو اور اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک چھپر تلے بٹھا گے ایک اور روایت میں ہے کہ بیت اللہ کے چار ارکان ہیں اور ساتویں زمین تک وہ نیچے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر513

ایک اور روایت میں ہے کہ ذوالقرنین جب یہاں پہنچے اور ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ بناتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے حکم سے اس کا گھر بنا رہے ہیں پوچھا کیا دلیل؟ کہا یہ بھیڑیں گواہی دیں گی پانچ بھیڑوں نے کہا ہم گواہی دیتی ہیں کہ یہ دونوں اللہ کے مامور ہیں، ذوالقرنین خوش ہو گئے اور کہنے لگے میں نے مان لیا۔ الرزقی کی تاریخ مکہ میں ہے کہ ذوالقرنین نے خلیل اللہ علیہ السلام اور ذبیح اللہ علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صحیح بخاری میں ہے قواعد بنیاد اور اساس کو کہتے ہیں یہ قاعدہ کی جمع ہے قرآن میں اور جگہ آیت «وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِيْنَةٍ» [ 24۔ النور: 60 ] ‏ بھی آیا ہے اس کا مفرد بھی قاعدۃ ہے۔

صفحہ نمبر514

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتیں کہ تمہاری قوم نے جب بیت اللہ بنایا تو قواعد ابراہیم علیہ السلام سے گھٹا دیا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے بڑھا کر اصلی بنا پر کر دیں فرمایا کہ اگر تیری قوم کا اسلام تازہ اور ان کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں ایسا کر لیتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو فرمانے لگے شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس کے دوستونوں کو چھوتے نہ تھے [صحیح بخاری:4484] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے عائشہ رضی اللہ عنہا اگر تیری قوم کا جاہلیت کا زمانہ نہ ہوتا تو میں کعبہ کے خزانہ کو اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالتا اور دروازے کو زمین دوز کر دیتا اور حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ میں اس کا دوسرا دروازہ بھی بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے چنانچہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایسا ہی کیا۔ [صحیح بخاری:126] ‏ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے میں دوبارہ بنائے ابراہیمی علیہ السلام پر بناتا۔ [صحیح مسلم:398] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دروازہ مشرق رخ کرتا اور دوسرا مغرب رخ اور چھ ہاتھ حطیم کو اس میں داخل کر لیتا جسے قریش نے باہر کر دیا ہے۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

صفحہ نمبر515

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پانچ سال پہلے قریش نے نئے سرے سے کعبہ بنایا تھا اس کا مفصل ذکر ملاحظہ ہو اس بناء میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس سال کی تھی اور پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھاتے تھے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی اس وقت قریش نے کعبۃ اللہ کو نئے سرے سے بنانے کا ارادہ کیا ایک تو اس لیے کہ اس کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں چھت نہ تھی دوسرے اس لیے بھی کہ بیت اللہ کا خزانہ چوری ہو گیا تھا جو بیت اللہ کے بیچ میں ایک گہرے گڑھے میں رکھا ہوا تھا یہ مال ”دویک“ کے پاس ملا تھا جو خزائمہ کے قبیلے بنی ملیح بن عمرو کا مولی تھا۔ ممکن ہے چوروں نے یہاں لا رکھا ہو لیکن اس کے ہاتھ اس چوری کی وجہ سے کاٹے گئے ایک اور قدرتی سہولت بھی اس کے لیے ہو گئی تھی کہ روم کے تاجروں کی ایک کشتی جس میں بہت اعلیٰ درجہ کی لکڑیاں تھیں وہ طوفان کی وجہ سے جدہ کے کنارے آ لگی تھی یہ لکڑیاں چھت میں کام آ سکتی تھیں اس لیے قریشیوں نے انہیں خرید لیا اور مکہ کے ایک بڑھئی جو قبطی قبیلہ میں سے تھا کو چھت کا کام سونپا یہ سب تیاریاں تو ہو رہی تھیں لیکن بیت اللہ کو گرانے کی ہمت نہ پڑتی تھی اس کے قدرتی اسباب بھی مہیا ہو گئے بیت اللہ کے خزانہ میں ایک بڑا اژدھا تھا جب کبھی لوگ اس کے قریب بھی جاتے تو وہ منہ پھاڑ کر ان کی طرف لپکتا تھا یہ سانپ ہر روز اس کنویں سے نکل کر بیت اللہ کی دیواروں پر آ بیٹھتا تھا ایک روز وہ بیٹھا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا پرندہ بھیجا وہ اسے پکڑ کر لے اڑا قریشیوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ارادہ مرضی مولا کے مطابق ہے لکڑیاں بھی ہمیں مل گئیں بڑھئی بھی ہمارے پاس موجود ہے سانپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے دفع کیا۔

صفحہ نمبر516

اب انہوں نے مستقل ارادہ کر لیا کہ کعبۃ اللہ کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں۔ سب سے پہلے ابو وھب بن عمرو کھڑا ہوا اور ایک پتھر کعبۃ اللہ کو گرا کر اتارا جو اس کے ہاتھ سے اڑ کر پھر وہیں جا کر نصب ہو گیا اس نے تمام قریشیوں سے خطاب کر کے کہا سنو بیت اللہ کے بنانے میں ہر شخص اپنا طیب اور پاک مال خرچ کرے۔ اس میں زناکاری کا روپیہ سودی بیوپار کا روپیہ ظلم سے حاصل کیا ہوا مال نہ لگانا، بعض لوگ کہتے ہیں یہ مشورہ ولید بن مغیرہ نے دیا تھا۔ [سیرت ابن ھشام:204/1] ‏

اب بیت اللہ کے حصے بانٹ لیے گئے دروازہ کا حصہ بنو عبد مناف اور زہرہ بنائیں حجر اسود اور رکن یمانی کا حصہ بنی مخزوم بنائیں۔ قریش کے اور قبائل بھی ان کا ساتھ دیں۔ کعبہ کا پچھلا حصہ بنو جمح اور سہم بنائیں۔ حطیم کے پاس کا حصہ بنو عبدالدار بن قصی اور بنو اسد بن عبد العزی اور بنو عدی بن کعب بنائیں۔ یہ مقرر کر کے اب بنی ہوئی عمارت کو ڈھانے کے لیے چلے لیکن کسی کو ہمت نہیں پڑتی کہ اسے مسمار کرنا شروع کرے آخر ولید بن مغیرہ نے کہا لو میں شروع کرتا ہوں کدال لے کر اوپر چڑھ گئے اور کہنے لگے اے اللہ تجھے خوب علم ہے کہ ہمارا ارادہ برا نہیں ہم تیرے گھر کو اجاڑنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے آباد کرنے کی فکر میں ہیں۔ یہ کہہ کر کچھ حصہ دونوں رکن کے کناروں کا گرایا قریشیوں نے کہا بس اب چھوڑو اور رات بھر کا انتظار کرو اگر اس شخص پر کوئی وبال آ جائے تو یہ پتھر اسی جگہ پر لگا دینا اور خاموش ہو جانا اور اگر کوئی عذاب نہ آئے تو سمجھ لینا کہ اس کا گرانا اللہ کو ناپسند نہیں پھر کل سب مل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا چنانچہ صبح ہوئی اور ہر طرح خیریت رہی اب سب آ گئے اور بیت اللہ کی اگلی عمارت کو گرا دیا یہاں تک کہ اصلی نیو یعنی بناء ابراہیمی تک پہنچ گئے یہاں سبز رنگ کے پتھر تھے کے ہلنے کے ساتھ ہی تمام مکہ کی زمین ہلنے لگی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں جدا کر کے اور پتھر ان کی جگہ لگانا اللہ کو منظور نہیں اس لیے ہمارے بس کی بات نہیں اس ارادے سے باز رہے اور ان پتھروں کو اسی طرح رہنے دیا۔ [سیرت ابن ھشام:207/1] ‏

صفحہ نمبر517

پھر ہر قبیلہ نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق علیحدہ علیحدہ پتھر جمع کئے اور عمارت بننی شروع ہوئی یہاں تک کہ باقاعدہ جنگ کی نوبت آ گئی فرقے آپس میں کھچ گئے اور لڑائی کی تیاریاں میں مشغول ہو گئے بنو عبد دار اور بنو عدی نے ایک طشتری میں خون بھر کر اس میں ہاتھ ڈبو کر حلف اٹھایا کہ سب کٹ مریں گے لیکن حجر اسود کسی کو نہیں رکھنے دیں گے اسی طرح چار پانچ دن گزر گئے پھر قریش مسجد میں جمع ہوئے کہ آپس میں مشورہ اور انصاف کریں تو ابو امیہ بن مغیرہ نے جو قریش میں سب سے زیادہ معمر اور عقلمند تھے کہا سنو لوگو تم اپنا منصف کسی کو بنا لو وہ جو فیصلہ کرے سب منظور کر لو۔ لیکن پھر منصف بنانے میں بھی اختلاف ہو گا اس لیے ایسا کرو کہ اب جو سب سے پہلے یہاں مسجد میں آئے وہی ہمارا منصف۔ اس رائے پر سب نے اتفاق کر لیا۔ اب منتظر ہیں کہ دیکھیں سب سے پہلے کون آتا ہے؟

صفحہ نمبر518

پس سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی یہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر رضامند ہیں۔ یہ تو امین ہیں یہ تو محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ ہیں۔ پھر سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ کوئی موٹی اور بڑی سی چادر لاؤ وہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اٹھا کر اپنے دست مبارک سے اس میں رکھا پھر فرمایا ہر قبیلہ کا سردار آئے اور اس کپڑے کا کونہ پکڑ لے اور اس طرح ہر ایک حجر اسود کے اٹھانے کا حصہ دار بنے اس پر سب لوگ بہت ہی خوش ہوئے اور تمام سرداروں نے اسے تھام کر اٹھا لیا۔ جب اس کے رکھنے کی جگہ تک پہنچے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے ہاتھ سے اسی جگہ رکھ دیا اور وہ نزاع و اختلاف بلکہ جدال و قتال رفع ہو گیا اور اس طرح اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اپنے گھر میں اس مبارک پتھر کو نصب کرایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا کرتے تھے۔ اب پھر اوپر کا حصہ بنا اور کعبۃ اللہ کی عمارت تمام ہوئی ابن اسحاق موررخ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کعبہ اٹھارہ ہاتھ کا تھا۔ قباطی کا پردہ چڑھایا جاتا تھا پھر چادر کا پردہ چڑھنے لگا۔ ریشمی پردہ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے چڑھایا۔ [سیرت ابن ھشام:211/1] ‏

صفحہ نمبر519

کعبہ کی یہی عمارت رہی یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی ابتدائی زمانہ میں ساٹھ سال کے بعد یہاں آگ لگی اور کعبہ جل گیا۔ یہ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کا آخری زمانہ تھا اور اس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا مکہ میں محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان دنوں میں خلیفہ مکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جو حدیث سنی تھی اسی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پر بیت اللہ کو گرا کر ابراہیمی قواعد پر بنایا حطیم اندر شامل کر لیا، مشرق و مغرب دو دروازے رکھے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا اور دروازوں کو زمین کے برابر رکھا آپ کی امارت کے زمانہ تک کعبۃ اللہ یونہی رہا یہاں تک کہ ظالم حجاج کے ہاتھوں آپ شہید ہوئے۔ اب حجاج نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے کعبہ کو پھر توڑ کر پہلے کی طرح بنا لیا۔

صفحہ نمبر520

صحیح مسلم شریف میں یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ شامیوں نے مکہ شریف پر چڑھائی کی اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو یونہی چھوڑ دیا۔ موسم حج کے موقع پر لوگ جمع ہوئے انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ لیا کہ کیا کعبۃ اللہ سارے کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں یا جو ٹوٹا ہوا ہے اس کی اصلاح کر لیں؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ آب جو ٹوٹا ہوا ہے اسی کی مرمت کر دیں باقی سب پرانا ہے رہنے دیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جاتا تو وہ تو خوش نہ ہوتا جب تک اسے نئے سرے سے نہ بناتا پھر تم اپنے رب عزوجل کے گھر کی نسبت اتنی کمزور رائے کیوں رکھتے ہو؟ اچھا میں تین دن تک اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر جو سمجھ میں آئے گا وہ کروں گا۔ تین دن کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی رائے یہی ہوئی کہ باقی ماندہ دیواریں بھی توڑی جائیں اور از سرے نو کعبہ کی تعمیر کی جائے چنانچہ یہ حکم دے دیا لیکن کعبے کو توڑنے کی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ڈر تھا کہ جو پہلے توڑنے کے لیے چڑھے گا اس پر عذاب نازل ہو گا لیکن ایک باہمت شخص چڑھ گیا اور اس نے ایک پتھر توڑا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ ایذاء نہیں پہنچی تو اب ڈھانا شروع کیا اور زمین تک برابر یکساں صاف کر دیا اس وقت چاروں طرف ستون کھڑے کر دئیے تھے اور ایک کپڑا تان دیا تھا۔

صفحہ نمبر521

اب بناء بیت اللہ شروع ہوئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر لوگوں کا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچ بھی ہوتا جس سے میں بنا سکوں تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ بیت اللہ میں لے لیتا اور کعبہ کے دو دروازے کرتا ایک آنے کا اور ایک جانے کا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کر کے فرمایا اب لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہیں رہا ان سے خوف جاتا رہا اور خزانہ بھی معمور ہے میرے پاس کافی روپیہ ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پوری نہ کروں چنانچہ پانچ ہاتھ حطیم اندر لے لی اور اب جو دیوار کھڑی کی تو ٹھیک ابراہیمی بنیاد نظر آنے لگی جو لوگوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لی اور اسی پر دیوار کھڑی کی بیت اللہ کا طول اٹھارہ ہاتھ تھا اب جو اس میں پانچ ہاتھ اور بڑھ گیا تو چھوٹا ہو گیا اس لیے طول میں دس ہاتھ اور بڑھایا گیا اور دو دروازے بنائے گئے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا۔

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حجاج نے عبدالملک کو لکھا اور ان سے مشورہ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟ یہ بھی لکھ بھیجا کہ مکہ شریف کے عادلوں نے دیکھا ہے ٹھیک ابراہیم علیہ السلام کی نیو پر کعبہ تیار ہوا ہے لیکن عبدالملک نے جواب دیا کہ طول کو تو باقی رہنے دو اور حطیم کو باہر کر دو اور دوسرا دروازہ بند کر دو۔ حجاج نے اس حکم کے مطابق کعبہ کو تڑوا کر پھر اسی بنا پر بنا دیا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ لیکن سنت طریقہ یہی تھا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بناء کو باقی رکھا جاتا اس لیے کہ حضور علیہ السلام کی چاہت یہی تھی لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف تھا کہ لوگ بدگمانی نہ کریں ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر522

لیکن یہ حدیث عبدالملک بن مروان کو نہیں پہنچی تھی اس لیے انہوں نے اسے تڑوا دیا جب انہیں حدیث پہنچی تو رنج کرتے تھے اور کہتے تھے کاش کہ ہم یونہی رہنے دیتے اور نہ تڑاتے چنانچہ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حارث بن عبیداللہ جب ایک وفد میں عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچے تو عبدالملک نے کہا میرا خیال ہے کہ ابو حبیب یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے [ اپنی خالہ ] ‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہو گی حارث نے کہا ضرور سنی تھی خود میں نے بھی ام المومنین رضی اللہ عنہا سے سنا ہے پوچھا تم نے کیا سنا ہے؟ کہا میں نے سنا ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ عائشہ تیری قوم نے بیت اللہ کو تنگ کر دیا۔ اگر تیری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں نئے سرے سے ان کی کمی کو پورا کر دیتا لیکن آؤ میں تجھے اصلی نیو بتا دوں شاید کسی وقت تیری قوم پھر اسے اس کی اصلیت پر بنانا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حطیم میں سے قریباً سات ہاتھ اندر داخل کرنے کو فرمایا اور فرمایا میں اس کے دروازے بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے اور دونوں دروازے زمین کے برابر رکھتا ایک مشرق رخ رکھتا دوسرا مغرب رخ جانتی بھی ہو کہ تمہاری قوم نے دروازے کو اتنا اونچا کیوں رکھا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر نہیں فرمایا محض اپنی اونچائی اور بڑائی کے لیے کہ جسے چاہیں اندر جانے دیں اور جسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں جب کوئی شخص اندر جانا چاہتا تو اسے اوپر سے دھکا دے دیتے وہ گر پڑتا اور جسے داخل کرنا چاہتے اسے ہاتھ تھام کر اندر لے لیتے۔

عبدالملک نے کہا اسے حارث نے خود سنا ہے تو تھوڑی دیر تک تو عبدالملک اپنی لکڑی ٹکائے سوچتے رہے پھر کہنے لگے کاش کہ میں اسے یونہی چھوڑ دیتا۔ [مسند احمد:253/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر523

صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے عبداللہ کو کوس کر کہا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ پر اس حدیث کا بہتان باندھنا تھا تو حارث نے روکا اور شہادت دی کہ وہ سچے تھے میں نے بھی صدیقہ سے یہ سنا ہے اب عبدالملک افسوس کرنے لگے اور کہنے لگے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں ہرگز اسے نہ توڑتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

قاضی عیاض اور امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے خلیفہ ہارون رشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں پھر کعبہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو پھر کعبہ کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا آپ ایسا نہ کیجئے ایسا نہ ہو کہ کعبہ بادشاہوں کا ایک کھلونا بن جائے جو آئے اپنی طبیعت کے مطابق توڑ پھوڑ کرتا رہے چنانچہ خلیفہ اپنے ارادے سے باز رہے یہی بات ٹھیک بھی معلوم ہوتی ہے کہ کعبہ کو باربار چھیڑنا ٹھیک نہیں۔

صفحہ نمبر524

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی پھر خراب کرے گا۔ [صحیح بخاری:1591] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں وہ سیاہ فام ایک ایک پتھر الگ الگ کر دے گا۔ [صحیح بخاری:1595] ‏ اس کا غلاف لے جائے گا اور اس کا خزانہ بھی وہ ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا اور گنجا ہو گا میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا وہ کدال بجا رہا ہے اور برابر ٹکڑے کر رہا ہے۔ [مسند احمد:220/2:صحیح بالشواھد] ‏ غالباً یہ ناشدنی واقعہ [ جس کے دیکھنے سے ہمیں محفوظ رکھے ] ‏ یاجوج ماجوج کے نکل چکنے کے بعد ہو گا۔

صفحہ نمبر525

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی بیت اللہ شریف کا حج و عمرہ کرو گے۔ [صحیح بخاری:1593] ‏ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان بنا لے یعنی مخلص بنا لے مطیع بنا لے موحد بنا، ہر شر سے بچا۔ ریا کاری سے محفوظ رکھ خشوع وخضوع عطا فرما۔ حضرت سلام بن ابی مطیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان تو تھے ہی لیکن اسلام کی ثابت قدمی طلب کرتے ہیں جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا «قد فعلت» میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمائی پھر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے ہیں جو قبول ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل بھی آپ علیہ السلام کی اولاد میں ہیں اور عرب بھی قرآن میں ہے آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [ 7۔ الاعراف: 159 ] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک جماعت حق عدل پر تھی۔

لیکن روانی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لیے یہ دعا گو عام طور پر دوسروں پر بھی مشتمل ہو اس لیے کہ اس کے بعد دوسری دعا میں ہے کہ ان میں ایک رسول بھیج اور اس رسول سے مراد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ یہ دعا بھی پوری ہوئی جیسے فرمایا آیت «هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ» [ 62-الجمعہ: 2 ] ‏ لیکن اس سے آپ کی رسالت خاص نہیں ہوتی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام ہے عرب و عجم سب کے لیے جیسے آیت «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [ 7۔ الاعراف: 158 ] ‏ کہہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

صفحہ نمبر526

ان دونوں نبیوں کی یہ دعا جیسی ہے ایسی ہی ہر متقی کی دعا ہونی چاہیئے۔ جیسے قرآنی تعلیم ہے کہ مسلمان یہ دعا کریں آیت «رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا» [ 25۔ الفرقان: 74 ] ‏ اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے انسان یہ چاہے کہ میری اولاد میرے بعد بھی اللہ کی عابد رہے۔ اور جگہ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت «وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین کام جاری رہتے ہیں صدقہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور نیک اولاد جو دعا کرتی رہے [صحیح مسلم:1631] ‏ پھر آپ علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ ہمیں مناسک دکھا یعنی احکام و ذبح وغیرہ سکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کو لے کر کعبہ کی عمارت پوری ہو جانے کے بعد صفا پر آتے ہیں پھر مروہ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ شعائر اللہ ہیں پھر منیٰ کی طرف لے چلے عقبہ پر شیطان درخت کے پاس کھڑا ہوا ملا تو فرمایا تکبیر پڑھ کر اسے کنکر مارو۔ ابلیس یہاں سے بھاگ کر جمرہ وسطی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ یہاں بھی اسے کنکریاں ماریں تو یہ خبیث ناامید ہو کر چلا گیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ حج کے احکام میں کچھ دخل دے لیکن موقع نہ ملا اور مایوس ہو گیا یہاں سے آپ کو مشعر الحرام میں لائے پھر عرفات میں پہنچایا پھر تین مرتبہ پوچھا ”کہو سمجھ لیا۔‏“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں“ [تفسیر ابن ابی حاتم:387/1] ‏ دوسری روایت میں تین جگہ شیطان کو کنکریاں مارنی مروی ہیں اور یہ شیطان کو سات سات کنکریاں ماری ہیں۔

صفحہ نمبر527

شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭

«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] ‏ تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] ‏ یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ‏ ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] ‏ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] ‏ اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔

صفحہ نمبر486

اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏ لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏

صفحہ نمبر487

ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] ‏

اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ‏ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] ‏ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] ‏ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔

صفحہ نمبر488

ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»

صفحہ نمبر489

یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔

صفحہ نمبر490

امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر491

عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭

یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] ‏ عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] ‏ رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] ‏ پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] ‏ اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔

صفحہ نمبر492

مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] ‏ آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] ‏ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر493

حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] ‏ اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] ‏ صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] ‏ کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] ‏ اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] ‏ اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔

صفحہ نمبر494

یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834] ‏

صفحہ نمبر495

سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

صفحہ نمبر496

ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] ‏ لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ‏ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن] ‏

صفحہ نمبر497

مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭

اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] ‏ اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] ‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صفحہ نمبر498

«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] ‏ یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔

صفحہ نمبر499

اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] ‏ اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] ‏ اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

صفحہ نمبر500

یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] ‏ بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] ‏ اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] ‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] ‏ [صحیح بخاری:4686] ‏ اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر501

قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ‏ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] ‏ وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (‏کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)‏۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ بنیادیں ابراہیم علیہ السلام اٹھاتے تھے اور دعا اسماعیل علیہ السلام کرتے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ دونوں ہر ایک کام میں شریک تھے۔

صحیح بخاری شریف کی ایک روایت اور بعض اور آثار بھی اس واقعہ کے متعلق یہاں ذکر کئے جانے کے قابل ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کمر بند باندھنا عورتوں نے اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے سیکھا ہے انہوں نے باندھا تھا کہ مائی سارہ کو ان کا نقش قدم نہ ملے انہیں اور ان کے جگر کے ٹکڑے اپنے اکلوتے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام کو لے کر ابراہیم علیہ السلام نکلے جبکہ یہ پیارا بچہ دودھ پیتا تھا۔

صفحہ نمبر502

سناٹے کی آغوش میں زندگی ٭٭

اب جہاں پر بیت اللہ بنا ہوا ہے یہاں ایک ٹیلہ تھا اور سنسان بیابان تھا کوئی اپنے سہنے والا وہاں نہ تھا یہاں پہنچ کر ماں بیٹے کو بٹھا کر پاس تھوڑی سی کھجوریں اور مشکیزہ پانی کا رکھ کر آپ چلے گئے جب خلیل اللہ علیہ السلام نے پیٹھ موڑی اور جانے لگے تو مائی حاجرہ سلام اللہ علیہا نے آواز دی اے خلیل اللہ ہمیں اس دہشت و وحشت والے بیابان میں یکہ و تنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئی مونس و ہمدم نہیں آپ علیہ السلام کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ لیکن ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اس طرف توجہ تک نہ کی، منہ موڑ کر بھی نہ دیکھا۔

صفحہ نمبر503

حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے باربار کہنے پر بھی آپ علیہ السلام نے التفات نہ فرمایا تو آپ سلام اللہ علیہا فرمانے لگیں اللہ کے خلیل آپ ہمیں کسے سونپ چلے؟ آپ علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ کو کہا اے خلیل اللہ کیا اللہ تعالیٰ کا آپ کو یہ حکم ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں مجھے اللہ کا یہی حکم ہے یہ سن کر ام اسمٰعیل سلام اللہ علیہا کو تسکین ہو گئی اور فرمانے لگیں پھر تشریف لے جائیے وہ اللہ جل شانہ ہمیں ہرگز ضائع نہ کرے گا اسی کا بھروسہ اور اسی کا سہارا ہے۔ ہاجرہ لوٹ گئیں اور اپنے کلیجہ کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں کے نور ابن نبی اللہ کو گود میں لے کر اس سنسان بیابان میں اس ہو کے عالم میں لاچار اور مجبور ہو کر بیٹھ رہیں۔ ابراہیم علیہ السلام جب ثنیہ کے پاس پہنچے اور یہ معلوم کر لیا کہ اب ہاجرہ پیچھے نہیں اور وہاں سے یہاں تک ان کی نگاہ کام بھی نہیں کر سکتی تو بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا آیت «رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» [ 14۔ ابراہیم: 37 ] ‏ الہٰ العالمین میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے شاید وہ شکر گزاری کریں آپ علیہ السلام نے یہ دعا کر کے حکم اللہ بجا لا کر اپنی اہل و عیال کو اللہ کے سپرد کر کے چلے گئے۔

صفحہ نمبر504

ادھر ہاجرہ سلام اللہ علیہا صبر و شکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگییں جب تھوڑی سی کھجوریں اور ذرا سا پانی ختم ہو گیا اب اناج کا ایک دانہ پاس ہے نہ پانی کا گھونٹ خود بھی بھوکی پیاسی ہیں اور بچہ بھی بھوک پیاس سے بیتاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا پھول سا چہرہ کمھلانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا مامتا بھری ماں کبھی اپنی تنہائی اور بے کس ی کا خیال کرتی ہے کبھی اپنے ننھے سے اکلوتے بچے کا یہ حال بغور دیکھتی ہے اور سہمی جاتی ہے معلوم ہے کہ کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں، میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں کھانا تو کہاں؟ پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں آ سکتا۔

صفحہ نمبر505

آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہیں دیکھا جاتا تو اٹھ کر چلی جاتی ہیں اور صفا پہاڑ جو پاس ہی تھا اس پر چڑھ جاتی ہیں اور میدان کی طرف نظر دوڑاتی ہیں کہ کوئی آتا جاتا نظر آ جائے لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف ڈالتی ہیں اور کسی کو بھی نہ دیکھ کر پھر وہاں سے اتر آتی ہیں اور اسی طرح درمیانی تھوڑا سا حصہ دوڑ کر باقی حصہ جلدی جلدی طے کر کے پھر صفا پر چڑھتی ہیں اسی طرح سات مرتبہ کرتی ہیں ہر بار آ کر بچہ کو دیکھ جاتی ہیں اس کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صفا مروہ کی سعی جو حاجی کرتے ہیں اس کی ابتداء یہی سے ساتویں مرتبہ جب ہاجرہ مروہ پر آتی ہیں تو کچھ آواز کان میں پڑتی ہے آپ خاموش ہو کر احتیاط کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ یہ آواز کیسی؟ آواز پھر آتی ہے اور اس مرتبہ صاف سنائی دیتی ہے تو آپ آواز کی طرف لپک کر آتی ہیں اور اب جہاں زمزم ہے وہاں جبرائیل علیہ السلام کو پاتی ہیں۔

صفحہ نمبر506

حضرت جبرائیل علیہ السلام پوچھتے ہیں تم کون ہو؟ آپ جواب دیتی ہیں میں ہاجرہ ہوں میں ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے کی ماں ہوں فرشتہ پوچھتا ہے ابراہیم علیہ السلام تمہیں اس سنسان بیابان میں کسے سونپ گئے ہیں؟ آپ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں اللہ کو فرمایا پھر تو وہ کافی ہے ہاجرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا اے غیبی شخص آواز تو میں نے سن لی کیا کچھ میرا کام بھی نکلے گا؟ جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر رگڑی وہیں زمین سے ایک چشمہ پانی کا ابلنے لگا۔ حضرت ہاجرہ علیہما السلام نے ہاتھ سے اس پانی کو مشک میں بھرنا شروع کیا مشک بھر کر پھر اس خیال سے کہ پانی ادھر ادھر بہ کر نکل نہ جائے آس پاس باڑ باندھنی شروع کر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ ام اسمٰعیل علیہ السلام پر رحم کرے اگر وہ اس طرح پانی کو نہ روکتیں تو زمزم کنویں کی مثل میں نہ ہوتا بلکہ وہ ایک جاری نہر کی صورت میں ہوتا اب ہاجرہ نے پانی پیا اور بچہ کو بھی پلایا اور دودھ پلانے لگیں فرشتے نے کہ دیا کہ تم بے فکر رہو اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا جہاں تم بیٹھی ہو یہاں اللہ کا ایک گھر اس بچے اور اس کے باپ کے ہاتھوں بنے گا ہاجرہ اب یہیں رہ پڑیں زمزم کا پانی پیتیں اور بچہ سے دل بہلاتیں بارش کے موسم میں پانی کے سیلاب چاروں طرف سے آتے لیکن یہ جگہ ذرا اونچی تھی ادھر ادھر سے پانی گزر جاتا ہے اور یہاں امن رہتا کچھ مدت کے بعد جرہم کا قبیلہ خدا کے راستہ کی طرف سے اتفاقاً گزرا اور مکہ شریف کے نیچے کے حصہ میں اترا ان کی نظریں ایک آبی پرند پر پڑیں تو آپس میں کہنے لگے یہ پرندہ تو پانی کا ہے اور یہاں پانی کبھی نہ تھا ہماری آمدورفت یہاں سے کئی مرتبہ ہوئی یہ تو خشک جنگل اور چٹیل میدان ہے یہاں پانی کہاں؟ چنانچہ انہوں نے اپنے آدمی اصلیت معلوم کرنے کے لیے بھیجے انہوں نے واپس آ کر خبر دی کہ وہاں تو بہترین اور بہت سا پانی ہے اب وہ سب آئے اور ام اسمعٰیل سلام اللہ علیہا سے عرض کرنے لگے کہ مائی صاحبہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم بھی یہاں ٹھہر جائیں پانی کی جگہ ہے آپ نے فرمایا ہاں شوق سے رہو لیکن پانی پر قبضہ میرا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہاجرہ تو چاہتی تھیں کہ کوئی ہم جنس مل جائے چنانچہ یہ قافلہ یہاں رہ پڑا۔

صفحہ نمبر507

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو گئے ان سب کو آپ علیہ السلام سے بڑی محبت ہو گئی یہاں تک کہ آپ علیہ السلام بالغ ہوئے تو انہی میں نکاح بھی کیا اور انہی سے عربی بھی سیکھی مائی ہاجرہ علیہما السلام کا انتقام یہیں ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے اجازت ملی تو آپ علیہ السلام اپنے لخت جگر کی ملاقات کے لیے تشریف لائے بعض روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا یہ آنا جانا براق پر ہوتا تھا ملک شام سے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے یہاں آئے تو اسمٰعیل علیہ السلام گھر پر نہ ملے اپنی بہو سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ تو جواب ملا کہ کھانے پینے کی تلاش میں یعنی شکار کو گئے ہیں آپ علیہ السلام نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ کہا برا حال ہے بڑی تنگی اور سختی ہے فرمایا اچھا تمہارے خاوند آویں تو انہیں سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔

صفحہ نمبر508

حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام جب واپس آئے تو گویا آپ علیہ السلام کو کچھ انس سا معلوم ہوا پوچھنے لگے کیا کوئی صاحب تشریف لائے تھے؟ بیوی نے کہا ہاں ایسی ایسی شکل و شباہت کے ایک عمر رسیدہ بزرگ آئے تھے؟ آپ کی نسبت پوچھا میں نے کہا وہ شکار کی تلاش میں باہر گئے ہیں پھر پوچھا کہ گزران کیسی چلتی ہے؟ میں نے کہا بڑی سختی اور تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے پوچھا کچھ مجھ سے کہنے کو بھی فرما گئے ہیں؟ بیوی نے کہا ہاں کہہ گئے کہ وہ جب وہ آئیں میرا سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں آپ علیہ السلام فرمانے لگے بیوی سنو یہ میرے والد صاحب تھے اور جو فرما گئے ہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ [ چونکہ تم نے ناشکری کی ] ‏ میں تم کو الگ کر دوں جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی انہیں طلاق دے کر آپ علیہ السلام نے اسی قبیلہ میں اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔

صفحہ نمبر509

ایک مدت کے بعد پھر ابراہیم علیہ السلام باجازت الٰہی یہاں آئے اب کی مرتبہ بھی اتفاقاً ذبیح علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی بہو سے پوچھا تو جواب ملا کہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں شکار کو گئے ہیں آپ آئیے، تشریف رکھئے جو کچھ حاضر ہے تناول فرمائیے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ تو بتاؤ کہ گزر بسر کیسی ہوتی ہے؟ کیا حال ہے؟ جواب ملا الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور بفضل رب کعبہ کشادگی اور راحت ہے اللہ کا بڑا شکر ہے ابراہیم علیہ السلام نے کہا تمہاری خوراک کیا ہے؟ کہا گوشت پوچھا تم پیتے کیا ہو؟ جواب ملا پانی آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ پروردگار انہیں گوشت اور پانی میں برکت دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اناج ان کے پاس ہوتا اور یہ کہتیں تو خلیل علیہ السلام ان کے لیے اناج کی برکت کی دعا بھی کرتے اب اس دعا کی برکت سے اہل مکہ صرف گوشت اور پانی پر گزر کر سکتے ہیں۔ اور لوگ نہیں کر سکتے آپ علیہ السلام نے فرمایا اچھا میں تو جا رہا ہوں تم اپنے میاں کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنی چوکھٹ کو ثابت اور آباد رکھیں بعد ازاں اسمٰعیل علیہ السلام آئے سارا واقعہ معلوم ہوا آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میرے والد مکرم تھے مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں الگ نہ کروں [ تم شکر گزار ہو ] ‏۔

صفحہ نمبر510

تعمیر کعبہ ٭٭

پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو اجازت ملی اور آپ تشریف لائے تو اسمٰعیل علیہ السلام کو زمزم کے پاس ایک ٹیلے پر تیر سیدھے کرتے ہوئے پایا، اسمٰعیل علیہ السلام باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور با ادب ملے جب باپ بیٹے ملے تو خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا اے اسماعیل مجھے اللہ کا ایک حکم ہوا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا ابا جان جو حکم ہوا ہو اس کی تعمیل کیجئے، کہا بیٹا تمہیں بھی میرا ساتھ دینا پڑے گا۔ عرض کرنے لگے میں حاضر ہوں اس جگہ اللہ کا ایک گھر بنانا ہے کہنے لگے بہت بہتر اب باپ بیٹے نے بیت اللہ کی نیو رکھی اور دیواریں اونچی کرنی شروع کیں، اسمٰعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر دیتے جاتے تھے اور ابراہیم چنتے جاتے تھے جب دیواریں قدرے اونچی ہو گئیں تو ذبیح اللہ یہ پتھر یعنی مقام ابراہیم کا پتھر لائے، اس اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کے پتھر رکھتے جاتے تھے اور دونوں باپ بیٹا یہ دعا مانگتے جاتے تھے کہ باری تعالیٰ تو ہماری اس ناچیز خدمت کو قبول فرمانا تو سننے اور جاننے والا ہے. [صحیح بخاری:3365] ‏

یہ روایت اور کتب حدیث میں بھی ہے کہیں مختصر اور کہیں مفصلاً ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ ذبیح اللہ کے بدلے جو دنبہ ذبح ہوا تھا اس کے سینگ بھی کعبۃ اللہ میں تھے۔ [مسند احمد:601/1:صحیح] ‏ اوپر کی لمبی روایت بروایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جب بھی کعبۃ اللہ شریف کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام نے اپنے سر پر ایک بادل سا ملاحظہ فرمایا جس میں سے آواز آئی کہ اے ابراہیم جہاں جہاں تک اس بادل کا سایہ ہے وہاں تک کی زمین بیت اللہ میں لے لو کمی زیادتی نہ ہو اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بیت اللہ بنا کر وہاں ہاجرہ اور اسمٰعیل علیہ السلام کو چھوڑ کر آپ علیہ السلام تشریف لے گئے لیکن روایت ہی ٹھیک ہے اور اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بناء پہلے رکھدی تھی لیکن بنایا بعد میں، اور بنانے میں بیٹا اور باپ دونوں شامل تھے جیسے کہ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہیں۔

صفحہ نمبر511

ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بناء بیت اللہ شروع کیفیت دریافت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا گھر بناؤ ابراہیم علیہ السلام گھبرائے کہ مجھے کہاں بنانا چاہیئے کس طرح اور کتنا بڑا بنانا چاہیئے وغیرہ اس پر سکینہ نازل ہوا اور حکم ہوا کہ جہاں یہ ٹھہرے وہاں تم میرا گھر بناؤ آپ علیہ السلام نے بنانا شروع کیا جب حجر اسود کی جگہ پہنچے تو اسمٰعیل علیہ السلام سے کہا بیٹا کوئی اچھا سا پتھر ڈھونڈ لاؤ تو دیکھا کہ آپ اور پتھر وہاں لگا چکے ہیں، پوچھا یہ پتھر کون لایا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کے حکم سے یہ پتھر جبرائیل علیہ السلام آسمان سے لے کر آئے، سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب جہاں بیت اللہ ہے وہاں زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر بلبلوں کے ساتھ جھاگ سی تھی یہیں سے زمین پھیلائی گئی،

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کعبۃ اللہ بنانے کے لیے خلیل علیہ السلام آرمینیہ سے تشریف لائے تھے حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حجر اسود جبرائیل علیہ السلام ہند سے لائے تھے اس وقت وہ سفید چمکدار یاقوت تھا جو آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے اترا تھا ھر لوگوں کے خطا کار ہاتھوں سے اس کا رنگ سیاہ ہو گیا اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نیو اور بنیادیں ہلے سے موجود تھیں انہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بناء کی۔

صفحہ نمبر512

مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہند میں اترے تھے اس وقت ان کا قد لمبا تھا زمین میں آنے کے بعد فرشتوں کی تسبیح نماز و دعا وغیرہ سنتے تھے جب قد گھٹ گیا اور وہ پیاری آوازیں آنی بند ہو گئیں تو آپ علیہ السلام گھبرانے لگے حکم ہوا کہ مکہ کی طرف رکھا اور اسے اپنا گھر قرار دیا، آدم علیہ السلام یہاں طواف کرنے لگے اور مانوس ہوئے گھبراہٹ جاتی رہی حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کے زمانہ میں یہ پھر اٹھ گیا اور ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے بنوایا آدم علیہ السلام نے یہ گھر حرا طور زیتا جبل لبنان طور سینا اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن ان تمام روایتوں میں تفاوت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض روایتوں میں ہے کہ زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ بنایا گیا تھا، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کے نشان بتانے کے لیے جبرائیل علیہ السلام چلے تھے اس وقت یہاں جنگلی درختوں کے سوا کچھ نہ تھا کس دور عمالیق کی آبادی تھی یہاں آپ علیہ السلام ام اسماعیل کو اور اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک چھپر تلے بٹھا گے ایک اور روایت میں ہے کہ بیت اللہ کے چار ارکان ہیں اور ساتویں زمین تک وہ نیچے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر513

ایک اور روایت میں ہے کہ ذوالقرنین جب یہاں پہنچے اور ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ بناتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے حکم سے اس کا گھر بنا رہے ہیں پوچھا کیا دلیل؟ کہا یہ بھیڑیں گواہی دیں گی پانچ بھیڑوں نے کہا ہم گواہی دیتی ہیں کہ یہ دونوں اللہ کے مامور ہیں، ذوالقرنین خوش ہو گئے اور کہنے لگے میں نے مان لیا۔ الرزقی کی تاریخ مکہ میں ہے کہ ذوالقرنین نے خلیل اللہ علیہ السلام اور ذبیح اللہ علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صحیح بخاری میں ہے قواعد بنیاد اور اساس کو کہتے ہیں یہ قاعدہ کی جمع ہے قرآن میں اور جگہ آیت «وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِيْنَةٍ» [ 24۔ النور: 60 ] ‏ بھی آیا ہے اس کا مفرد بھی قاعدۃ ہے۔

صفحہ نمبر514

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتیں کہ تمہاری قوم نے جب بیت اللہ بنایا تو قواعد ابراہیم علیہ السلام سے گھٹا دیا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے بڑھا کر اصلی بنا پر کر دیں فرمایا کہ اگر تیری قوم کا اسلام تازہ اور ان کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں ایسا کر لیتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو فرمانے لگے شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس کے دوستونوں کو چھوتے نہ تھے [صحیح بخاری:4484] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے عائشہ رضی اللہ عنہا اگر تیری قوم کا جاہلیت کا زمانہ نہ ہوتا تو میں کعبہ کے خزانہ کو اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالتا اور دروازے کو زمین دوز کر دیتا اور حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ میں اس کا دوسرا دروازہ بھی بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے چنانچہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایسا ہی کیا۔ [صحیح بخاری:126] ‏ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے میں دوبارہ بنائے ابراہیمی علیہ السلام پر بناتا۔ [صحیح مسلم:398] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دروازہ مشرق رخ کرتا اور دوسرا مغرب رخ اور چھ ہاتھ حطیم کو اس میں داخل کر لیتا جسے قریش نے باہر کر دیا ہے۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

صفحہ نمبر515

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پانچ سال پہلے قریش نے نئے سرے سے کعبہ بنایا تھا اس کا مفصل ذکر ملاحظہ ہو اس بناء میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس سال کی تھی اور پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھاتے تھے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی اس وقت قریش نے کعبۃ اللہ کو نئے سرے سے بنانے کا ارادہ کیا ایک تو اس لیے کہ اس کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں چھت نہ تھی دوسرے اس لیے بھی کہ بیت اللہ کا خزانہ چوری ہو گیا تھا جو بیت اللہ کے بیچ میں ایک گہرے گڑھے میں رکھا ہوا تھا یہ مال ”دویک“ کے پاس ملا تھا جو خزائمہ کے قبیلے بنی ملیح بن عمرو کا مولی تھا۔ ممکن ہے چوروں نے یہاں لا رکھا ہو لیکن اس کے ہاتھ اس چوری کی وجہ سے کاٹے گئے ایک اور قدرتی سہولت بھی اس کے لیے ہو گئی تھی کہ روم کے تاجروں کی ایک کشتی جس میں بہت اعلیٰ درجہ کی لکڑیاں تھیں وہ طوفان کی وجہ سے جدہ کے کنارے آ لگی تھی یہ لکڑیاں چھت میں کام آ سکتی تھیں اس لیے قریشیوں نے انہیں خرید لیا اور مکہ کے ایک بڑھئی جو قبطی قبیلہ میں سے تھا کو چھت کا کام سونپا یہ سب تیاریاں تو ہو رہی تھیں لیکن بیت اللہ کو گرانے کی ہمت نہ پڑتی تھی اس کے قدرتی اسباب بھی مہیا ہو گئے بیت اللہ کے خزانہ میں ایک بڑا اژدھا تھا جب کبھی لوگ اس کے قریب بھی جاتے تو وہ منہ پھاڑ کر ان کی طرف لپکتا تھا یہ سانپ ہر روز اس کنویں سے نکل کر بیت اللہ کی دیواروں پر آ بیٹھتا تھا ایک روز وہ بیٹھا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا پرندہ بھیجا وہ اسے پکڑ کر لے اڑا قریشیوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ارادہ مرضی مولا کے مطابق ہے لکڑیاں بھی ہمیں مل گئیں بڑھئی بھی ہمارے پاس موجود ہے سانپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے دفع کیا۔

صفحہ نمبر516

اب انہوں نے مستقل ارادہ کر لیا کہ کعبۃ اللہ کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں۔ سب سے پہلے ابو وھب بن عمرو کھڑا ہوا اور ایک پتھر کعبۃ اللہ کو گرا کر اتارا جو اس کے ہاتھ سے اڑ کر پھر وہیں جا کر نصب ہو گیا اس نے تمام قریشیوں سے خطاب کر کے کہا سنو بیت اللہ کے بنانے میں ہر شخص اپنا طیب اور پاک مال خرچ کرے۔ اس میں زناکاری کا روپیہ سودی بیوپار کا روپیہ ظلم سے حاصل کیا ہوا مال نہ لگانا، بعض لوگ کہتے ہیں یہ مشورہ ولید بن مغیرہ نے دیا تھا۔ [سیرت ابن ھشام:204/1] ‏

اب بیت اللہ کے حصے بانٹ لیے گئے دروازہ کا حصہ بنو عبد مناف اور زہرہ بنائیں حجر اسود اور رکن یمانی کا حصہ بنی مخزوم بنائیں۔ قریش کے اور قبائل بھی ان کا ساتھ دیں۔ کعبہ کا پچھلا حصہ بنو جمح اور سہم بنائیں۔ حطیم کے پاس کا حصہ بنو عبدالدار بن قصی اور بنو اسد بن عبد العزی اور بنو عدی بن کعب بنائیں۔ یہ مقرر کر کے اب بنی ہوئی عمارت کو ڈھانے کے لیے چلے لیکن کسی کو ہمت نہیں پڑتی کہ اسے مسمار کرنا شروع کرے آخر ولید بن مغیرہ نے کہا لو میں شروع کرتا ہوں کدال لے کر اوپر چڑھ گئے اور کہنے لگے اے اللہ تجھے خوب علم ہے کہ ہمارا ارادہ برا نہیں ہم تیرے گھر کو اجاڑنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے آباد کرنے کی فکر میں ہیں۔ یہ کہہ کر کچھ حصہ دونوں رکن کے کناروں کا گرایا قریشیوں نے کہا بس اب چھوڑو اور رات بھر کا انتظار کرو اگر اس شخص پر کوئی وبال آ جائے تو یہ پتھر اسی جگہ پر لگا دینا اور خاموش ہو جانا اور اگر کوئی عذاب نہ آئے تو سمجھ لینا کہ اس کا گرانا اللہ کو ناپسند نہیں پھر کل سب مل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا چنانچہ صبح ہوئی اور ہر طرح خیریت رہی اب سب آ گئے اور بیت اللہ کی اگلی عمارت کو گرا دیا یہاں تک کہ اصلی نیو یعنی بناء ابراہیمی تک پہنچ گئے یہاں سبز رنگ کے پتھر تھے کے ہلنے کے ساتھ ہی تمام مکہ کی زمین ہلنے لگی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں جدا کر کے اور پتھر ان کی جگہ لگانا اللہ کو منظور نہیں اس لیے ہمارے بس کی بات نہیں اس ارادے سے باز رہے اور ان پتھروں کو اسی طرح رہنے دیا۔ [سیرت ابن ھشام:207/1] ‏

صفحہ نمبر517

پھر ہر قبیلہ نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق علیحدہ علیحدہ پتھر جمع کئے اور عمارت بننی شروع ہوئی یہاں تک کہ باقاعدہ جنگ کی نوبت آ گئی فرقے آپس میں کھچ گئے اور لڑائی کی تیاریاں میں مشغول ہو گئے بنو عبد دار اور بنو عدی نے ایک طشتری میں خون بھر کر اس میں ہاتھ ڈبو کر حلف اٹھایا کہ سب کٹ مریں گے لیکن حجر اسود کسی کو نہیں رکھنے دیں گے اسی طرح چار پانچ دن گزر گئے پھر قریش مسجد میں جمع ہوئے کہ آپس میں مشورہ اور انصاف کریں تو ابو امیہ بن مغیرہ نے جو قریش میں سب سے زیادہ معمر اور عقلمند تھے کہا سنو لوگو تم اپنا منصف کسی کو بنا لو وہ جو فیصلہ کرے سب منظور کر لو۔ لیکن پھر منصف بنانے میں بھی اختلاف ہو گا اس لیے ایسا کرو کہ اب جو سب سے پہلے یہاں مسجد میں آئے وہی ہمارا منصف۔ اس رائے پر سب نے اتفاق کر لیا۔ اب منتظر ہیں کہ دیکھیں سب سے پہلے کون آتا ہے؟

صفحہ نمبر518

پس سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی یہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر رضامند ہیں۔ یہ تو امین ہیں یہ تو محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ ہیں۔ پھر سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ کوئی موٹی اور بڑی سی چادر لاؤ وہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اٹھا کر اپنے دست مبارک سے اس میں رکھا پھر فرمایا ہر قبیلہ کا سردار آئے اور اس کپڑے کا کونہ پکڑ لے اور اس طرح ہر ایک حجر اسود کے اٹھانے کا حصہ دار بنے اس پر سب لوگ بہت ہی خوش ہوئے اور تمام سرداروں نے اسے تھام کر اٹھا لیا۔ جب اس کے رکھنے کی جگہ تک پہنچے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے ہاتھ سے اسی جگہ رکھ دیا اور وہ نزاع و اختلاف بلکہ جدال و قتال رفع ہو گیا اور اس طرح اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اپنے گھر میں اس مبارک پتھر کو نصب کرایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا کرتے تھے۔ اب پھر اوپر کا حصہ بنا اور کعبۃ اللہ کی عمارت تمام ہوئی ابن اسحاق موررخ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کعبہ اٹھارہ ہاتھ کا تھا۔ قباطی کا پردہ چڑھایا جاتا تھا پھر چادر کا پردہ چڑھنے لگا۔ ریشمی پردہ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے چڑھایا۔ [سیرت ابن ھشام:211/1] ‏

صفحہ نمبر519

کعبہ کی یہی عمارت رہی یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی ابتدائی زمانہ میں ساٹھ سال کے بعد یہاں آگ لگی اور کعبہ جل گیا۔ یہ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کا آخری زمانہ تھا اور اس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا مکہ میں محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان دنوں میں خلیفہ مکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جو حدیث سنی تھی اسی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پر بیت اللہ کو گرا کر ابراہیمی قواعد پر بنایا حطیم اندر شامل کر لیا، مشرق و مغرب دو دروازے رکھے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا اور دروازوں کو زمین کے برابر رکھا آپ کی امارت کے زمانہ تک کعبۃ اللہ یونہی رہا یہاں تک کہ ظالم حجاج کے ہاتھوں آپ شہید ہوئے۔ اب حجاج نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے کعبہ کو پھر توڑ کر پہلے کی طرح بنا لیا۔

صفحہ نمبر520

صحیح مسلم شریف میں یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ شامیوں نے مکہ شریف پر چڑھائی کی اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو یونہی چھوڑ دیا۔ موسم حج کے موقع پر لوگ جمع ہوئے انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ لیا کہ کیا کعبۃ اللہ سارے کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں یا جو ٹوٹا ہوا ہے اس کی اصلاح کر لیں؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ آب جو ٹوٹا ہوا ہے اسی کی مرمت کر دیں باقی سب پرانا ہے رہنے دیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جاتا تو وہ تو خوش نہ ہوتا جب تک اسے نئے سرے سے نہ بناتا پھر تم اپنے رب عزوجل کے گھر کی نسبت اتنی کمزور رائے کیوں رکھتے ہو؟ اچھا میں تین دن تک اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر جو سمجھ میں آئے گا وہ کروں گا۔ تین دن کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی رائے یہی ہوئی کہ باقی ماندہ دیواریں بھی توڑی جائیں اور از سرے نو کعبہ کی تعمیر کی جائے چنانچہ یہ حکم دے دیا لیکن کعبے کو توڑنے کی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ڈر تھا کہ جو پہلے توڑنے کے لیے چڑھے گا اس پر عذاب نازل ہو گا لیکن ایک باہمت شخص چڑھ گیا اور اس نے ایک پتھر توڑا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ ایذاء نہیں پہنچی تو اب ڈھانا شروع کیا اور زمین تک برابر یکساں صاف کر دیا اس وقت چاروں طرف ستون کھڑے کر دئیے تھے اور ایک کپڑا تان دیا تھا۔

صفحہ نمبر521

اب بناء بیت اللہ شروع ہوئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر لوگوں کا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچ بھی ہوتا جس سے میں بنا سکوں تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ بیت اللہ میں لے لیتا اور کعبہ کے دو دروازے کرتا ایک آنے کا اور ایک جانے کا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کر کے فرمایا اب لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہیں رہا ان سے خوف جاتا رہا اور خزانہ بھی معمور ہے میرے پاس کافی روپیہ ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پوری نہ کروں چنانچہ پانچ ہاتھ حطیم اندر لے لی اور اب جو دیوار کھڑی کی تو ٹھیک ابراہیمی بنیاد نظر آنے لگی جو لوگوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لی اور اسی پر دیوار کھڑی کی بیت اللہ کا طول اٹھارہ ہاتھ تھا اب جو اس میں پانچ ہاتھ اور بڑھ گیا تو چھوٹا ہو گیا اس لیے طول میں دس ہاتھ اور بڑھایا گیا اور دو دروازے بنائے گئے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا۔

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حجاج نے عبدالملک کو لکھا اور ان سے مشورہ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟ یہ بھی لکھ بھیجا کہ مکہ شریف کے عادلوں نے دیکھا ہے ٹھیک ابراہیم علیہ السلام کی نیو پر کعبہ تیار ہوا ہے لیکن عبدالملک نے جواب دیا کہ طول کو تو باقی رہنے دو اور حطیم کو باہر کر دو اور دوسرا دروازہ بند کر دو۔ حجاج نے اس حکم کے مطابق کعبہ کو تڑوا کر پھر اسی بنا پر بنا دیا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ لیکن سنت طریقہ یہی تھا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بناء کو باقی رکھا جاتا اس لیے کہ حضور علیہ السلام کی چاہت یہی تھی لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف تھا کہ لوگ بدگمانی نہ کریں ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر522

لیکن یہ حدیث عبدالملک بن مروان کو نہیں پہنچی تھی اس لیے انہوں نے اسے تڑوا دیا جب انہیں حدیث پہنچی تو رنج کرتے تھے اور کہتے تھے کاش کہ ہم یونہی رہنے دیتے اور نہ تڑاتے چنانچہ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حارث بن عبیداللہ جب ایک وفد میں عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچے تو عبدالملک نے کہا میرا خیال ہے کہ ابو حبیب یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے [ اپنی خالہ ] ‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہو گی حارث نے کہا ضرور سنی تھی خود میں نے بھی ام المومنین رضی اللہ عنہا سے سنا ہے پوچھا تم نے کیا سنا ہے؟ کہا میں نے سنا ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ عائشہ تیری قوم نے بیت اللہ کو تنگ کر دیا۔ اگر تیری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں نئے سرے سے ان کی کمی کو پورا کر دیتا لیکن آؤ میں تجھے اصلی نیو بتا دوں شاید کسی وقت تیری قوم پھر اسے اس کی اصلیت پر بنانا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حطیم میں سے قریباً سات ہاتھ اندر داخل کرنے کو فرمایا اور فرمایا میں اس کے دروازے بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے اور دونوں دروازے زمین کے برابر رکھتا ایک مشرق رخ رکھتا دوسرا مغرب رخ جانتی بھی ہو کہ تمہاری قوم نے دروازے کو اتنا اونچا کیوں رکھا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر نہیں فرمایا محض اپنی اونچائی اور بڑائی کے لیے کہ جسے چاہیں اندر جانے دیں اور جسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں جب کوئی شخص اندر جانا چاہتا تو اسے اوپر سے دھکا دے دیتے وہ گر پڑتا اور جسے داخل کرنا چاہتے اسے ہاتھ تھام کر اندر لے لیتے۔

عبدالملک نے کہا اسے حارث نے خود سنا ہے تو تھوڑی دیر تک تو عبدالملک اپنی لکڑی ٹکائے سوچتے رہے پھر کہنے لگے کاش کہ میں اسے یونہی چھوڑ دیتا۔ [مسند احمد:253/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر523

صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے عبداللہ کو کوس کر کہا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ پر اس حدیث کا بہتان باندھنا تھا تو حارث نے روکا اور شہادت دی کہ وہ سچے تھے میں نے بھی صدیقہ سے یہ سنا ہے اب عبدالملک افسوس کرنے لگے اور کہنے لگے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں ہرگز اسے نہ توڑتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

قاضی عیاض اور امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے خلیفہ ہارون رشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں پھر کعبہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو پھر کعبہ کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا آپ ایسا نہ کیجئے ایسا نہ ہو کہ کعبہ بادشاہوں کا ایک کھلونا بن جائے جو آئے اپنی طبیعت کے مطابق توڑ پھوڑ کرتا رہے چنانچہ خلیفہ اپنے ارادے سے باز رہے یہی بات ٹھیک بھی معلوم ہوتی ہے کہ کعبہ کو باربار چھیڑنا ٹھیک نہیں۔

صفحہ نمبر524

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی پھر خراب کرے گا۔ [صحیح بخاری:1591] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں وہ سیاہ فام ایک ایک پتھر الگ الگ کر دے گا۔ [صحیح بخاری:1595] ‏ اس کا غلاف لے جائے گا اور اس کا خزانہ بھی وہ ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا اور گنجا ہو گا میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا وہ کدال بجا رہا ہے اور برابر ٹکڑے کر رہا ہے۔ [مسند احمد:220/2:صحیح بالشواھد] ‏ غالباً یہ ناشدنی واقعہ [ جس کے دیکھنے سے ہمیں محفوظ رکھے ] ‏ یاجوج ماجوج کے نکل چکنے کے بعد ہو گا۔

صفحہ نمبر525

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی بیت اللہ شریف کا حج و عمرہ کرو گے۔ [صحیح بخاری:1593] ‏ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان بنا لے یعنی مخلص بنا لے مطیع بنا لے موحد بنا، ہر شر سے بچا۔ ریا کاری سے محفوظ رکھ خشوع وخضوع عطا فرما۔ حضرت سلام بن ابی مطیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان تو تھے ہی لیکن اسلام کی ثابت قدمی طلب کرتے ہیں جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا «قد فعلت» میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمائی پھر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے ہیں جو قبول ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل بھی آپ علیہ السلام کی اولاد میں ہیں اور عرب بھی قرآن میں ہے آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [ 7۔ الاعراف: 159 ] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک جماعت حق عدل پر تھی۔

لیکن روانی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لیے یہ دعا گو عام طور پر دوسروں پر بھی مشتمل ہو اس لیے کہ اس کے بعد دوسری دعا میں ہے کہ ان میں ایک رسول بھیج اور اس رسول سے مراد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ یہ دعا بھی پوری ہوئی جیسے فرمایا آیت «هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ» [ 62-الجمعہ: 2 ] ‏ لیکن اس سے آپ کی رسالت خاص نہیں ہوتی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام ہے عرب و عجم سب کے لیے جیسے آیت «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [ 7۔ الاعراف: 158 ] ‏ کہہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

صفحہ نمبر526

ان دونوں نبیوں کی یہ دعا جیسی ہے ایسی ہی ہر متقی کی دعا ہونی چاہیئے۔ جیسے قرآنی تعلیم ہے کہ مسلمان یہ دعا کریں آیت «رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا» [ 25۔ الفرقان: 74 ] ‏ اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے انسان یہ چاہے کہ میری اولاد میرے بعد بھی اللہ کی عابد رہے۔ اور جگہ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت «وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین کام جاری رہتے ہیں صدقہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور نیک اولاد جو دعا کرتی رہے [صحیح مسلم:1631] ‏ پھر آپ علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ ہمیں مناسک دکھا یعنی احکام و ذبح وغیرہ سکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کو لے کر کعبہ کی عمارت پوری ہو جانے کے بعد صفا پر آتے ہیں پھر مروہ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ شعائر اللہ ہیں پھر منیٰ کی طرف لے چلے عقبہ پر شیطان درخت کے پاس کھڑا ہوا ملا تو فرمایا تکبیر پڑھ کر اسے کنکر مارو۔ ابلیس یہاں سے بھاگ کر جمرہ وسطی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ یہاں بھی اسے کنکریاں ماریں تو یہ خبیث ناامید ہو کر چلا گیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ حج کے احکام میں کچھ دخل دے لیکن موقع نہ ملا اور مایوس ہو گیا یہاں سے آپ کو مشعر الحرام میں لائے پھر عرفات میں پہنچایا پھر تین مرتبہ پوچھا ”کہو سمجھ لیا۔‏“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں“ [تفسیر ابن ابی حاتم:387/1] ‏ دوسری روایت میں تین جگہ شیطان کو کنکریاں مارنی مروی ہیں اور یہ شیطان کو سات سات کنکریاں ماری ہیں۔

صفحہ نمبر527

شوق زیارت اور بڑھتا ہے ٭٭

«مثابتہ» سے مراد باربار آنا۔ حج کرنے کے بعد بھی دل میں لگن لگی رہتی ہے گویا حج کرنے کے بعد بھی ہر بار دل میں ایک بار اور حج کرنے کی تمنا رہتی ہے دنیا کے ہر گوشہ سے لوگ بھاگے دوڑے اس کی طرف جوق در جوق چلے آ رہے ہیں یہی جمع ہونے کی جگہ ہے اور یہی امن کا مقام ہے جس میں ہتھیار نہیں اٹھایا جاتا جاہلیت کے زمانہ میں بھی اس کے آس پاس تو لوٹ مار ہوتی رہتی لیکن یہاں امن و امان ہی رہتا کوئی کسی کو گالی بھی نہیں دیتا۔ یہ جگہ ہمیشہ متبرک اور شریف رہی۔ نیک روحیں اس کی طرف مشتاق ہی رہتی ہیں گو ہر سال زیارت کریں لیکن پھر بھی شوق زیارت کم نہیں ہوتا ہے۔ یہ ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا اثر ہے۔ آپ علیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ آیت «فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ» [ 14۔ ابرہیم: 37 ] ‏ تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے۔ یہاں باپ اور بھائی کے قاتل کو بھی کوئی دیکھتا تو خاموش ہو جاتا۔ سورۃ المائدہ میں «جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ» [ 5-المائدة: 97 ] ‏ یعنی یہ لوگوں کے قیام کا باعث ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اگر لوگ حج کرنا چھوڑ دیں تو آسمان زمین پر گرا دیا جائے۔ اس گھر کے اس شرف کو دیکھ کر پھر اس کے بانی اول ابراہیم خلیل علیہ السلام کے شرف کو خیال فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت «وَاِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـــــًٔا وَّطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّاىِٕفِيْنَ وَالْقَاىِٕمِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ» [ 22۔ الحج: 26 ] ‏ ہم نے بیت اللہ کی جگہ ابراہیم کو بتا دی [ اور کہہ دیا ] ‏ کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور جگہ ہے آیت «اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِــعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّھُدًى لِّـلْعٰلَمِيْنَ فِيهِ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97، 96 ] ‏ اللہ جل شانہ کا پہلا گھر مکہ میں جو برکت و ہدایت والا نشانیوں والا مقام ابراہیم والا امن و امان والا ہے مقام ابراہیم بھی ہے۔

صفحہ نمبر486

اور حج کل کا کل بھی ہے مثلاً عرفات، مشعر الحرام، منیٰ، رمی، جمار، صفا مروہ کا طواف، مقام ابراہیم دراصل وہ پتھر ہے جسے اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی صاحبہ نے ابراہیم علیہ السلام کے نہانے کے لیے ان کے پاؤں کے نیچے رکھا تھا، [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏ لیکن سعید بن جیر رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ غلط ہے۔ دراصل وہ یہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرات ابراہیم علیہ السلام کعبہ بناتے تھے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ کی لمبی حدیث میں ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ کیا یہی ہمارے باپ ابراہیم علیہ السلام کا مقام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں کہا پھر ہم اسے قبلہ کیوں نہ بنا لیں؟ اس پر آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:35/3] ‏

صفحہ نمبر487

ایک اور روایت میں ہے کہ فاروق رضی اللہ عنہ کے سوال پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی جو حکم نازل ہوا۔ [النسائی فی السنن الکبریٰ:10998] ‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ فتح مکہ والے دن مقام ابراہیم کے پتھر کی طرف اشارہ کر کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہی ہے جسے قبلہ بنانے کا ہمیں حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں یہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:370:صحیح] ‏ صحیح بخاری شریف میں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے رب سے تین باتوں میں موافقت کی جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا وہی میری زبان سے نکلا میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ ہم مقام ابراہیم علیہ السلام کو قبلہ بنا لیتے تو حکم آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ نازل ہوا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاش کہ آپ امہات المؤمنین کو پردے کا حکم دیں اس پر پردے کی آیت اتری جب مجھے معلوم ہوا کہ آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے خفا ہیں تو میں نے جا کر ان سے کہا کہ اگر تم باز نہ آؤ گی تو اللہ تعالیٰ تم سے اچھی بیویاں تمہارے بدلے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے گا اس پر فرمان بازی نازل ہوا کہ آیت «عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ» [ 66-التحريم: 5 ] ‏

اس حدیث کی بہت سی اسناد ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [صحیح مسلم:2399] ‏ایک روایت میں بدر کے قیدیوں کے بارے میں بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت مروی ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ اس سے فدیہ نہ لیا جائے بلکہ انہیں قتل کر دیا جائے اللہ سبحانہ تعالیٰ کو بھی یہی منظور تھا۔ [صحیح مسلم:1218] ‏ عبداللہ بن ابی بن سلول منافق جب مر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جنازے کی نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منافق کافر کا جنازہ پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ڈانٹ دیا اس پر آیت «وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ» [ 9۔ التوبہ: 84 ] ‏ نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسوں کے جنازے سے روکا گیا۔

صفحہ نمبر488

ابن جریج میں روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے طواف میں تین مرتبہ رمل کیا یعنی دوڑ کی چال چلے اور چار پھیرے چل کر کئے پھر مقام ابراہیم کے پیچھے آ کر دو رکعت نماز ادا کی اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى» [ 2۔ البقرہ: 125 ] ‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ مقام ابراہیم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا تھا۔ ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ بنا رہے تھے اسماعیل علیہ السلام آپ کو پتھر دیتے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کعبہ کی بنا کرتے جاتے تھے اور اس پتھر کو سرکاتے جاتے تھی جہاں دیوار اونچی کرنی ہوتی تھی وہاں لیجاتے تھے اسی طرح کعبہ کی دیواریں پوری کیں اس کا پورا بیان ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔ اس پتھر پر آپ علیہ السلام کے دونوں قدموں کے نشان ظاہر تھے عرب کی جاہلیت کے زمانہ کے لوگوں نے بھی دیکھے تھے۔ ابوطالب نے اپنے مشہور قصیدہ میں کہا ہے و «موطی ابراہیم فی الصخر رطبتہ» «علی قدمیہ حایا غیر ناعل»

صفحہ نمبر489

یعنی اس پتھر میں ابراہیم علیہ السلام کے دونوں پیروں کے نشان تازہ بتازہ ہیں جن میں جوتی نہیں بلکہ مسلمانوں نے بھی اسے دیکھا تھا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مقام ابراہیم میں خلیل اللہ کے پیروں کی انگلیوں اور آپ علیہ السلام کے تلوے کا نشان دیکھا تھا پھر لوگوں کے چھونے سے وہ نشان مٹ گئے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں حکم اس کی جانب نماز ادا کرنے کا ہے تبرک کے طور پر چھونے اور ہاتھ لگانے کا نہیں اس امت نے بھی اگلی امتوں کی طرح بلا حکم الہ العالمین بعض کام اپنے ذمہ لازم کر لیے جو نقصان رساں ہیں وہ نشان لوگوں کے ہاتھ لگانے سے مٹ گئے۔ یہ مقام ابراہیم پہلے دیوار کعبہ کے متصل تھا کعبہ کے دروازے کی طرف حجر اسود کی جانب دروازے سے جانے والے کے دائیں جانب مستقل جگہ پر تھا جو آج بھی لوگوں کو معلوم ہے خلیل اللہ نے یا تو اسے یہاں رکھوا دیا تھا یا بیت اللہ بناتے ہوئے آخری حصہ یہی بنایا ہو گا اور یہیں وہ پتھر رکھا ہے۔

صفحہ نمبر490

امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کے زمانہ میں اسے پیچھے ہٹا دیا اس کے ثبوت میں بہت سی روایتیں ہیں پھر ایک مرتبہ پانی کے سیلاب میں یہ پتھر یہاں سے بھی ہٹ گیا تھا خلیفہ ثانی نے اسے پھر اپنی جگہ رکھوا دیا حضرت سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے معلوم نہیں ہوا کہ یہ اصلی جگہ سے ہٹایا گیا اس سے پہلے دیوار کعبہ سے کتنی دور تھا ایک روایت میں ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اصلی جگہ سے ہٹا کر وہاں رکھا تھا جہاں اب ہے لیکن یہ روایت مرسل ہے ٹھیک بات یہی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے پیچھے رکھا، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر491

عہد جو مترادف حکم ہے ٭٭

یہاں عہد سے مراد وہ حکم ہے جس میں کہا گیا ہے گندی اور نجس اور بری چیزوں سے پاک رکھنا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:373/1] ‏ عہد کا تعدیہ الی سے ہو تو معنی ہم نے وحی کی اور پہلے سے کہہ دیا کہ پاک رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے بتوں سے بچانا غیر اللہ کی عبادت نہ ہونے دینا لغو کاموں فضول بکواس جھوٹی باتوں شرک و کفر، ہستی اور مذاق سے اسے محفوظ رکھنا بھی اسی میں شامل ہے۔ طائف کے ایک معنی طواف کرنے والوں کے ہیں دوسرے معنی باہر سے آنے والوں کے ہیں اس تقدیر پر عاکفین کے معنی مکہ کے باشندے ہوں گے ایک مرتبہ لوگوں نے کہا کہ امیر وقت سے کہنا چاہیئے کہ لوگوں کو بیت اللہ شریف میں سونے سے منع کریں کیونکہ ممکن ہے کوئی کسی وقت جنبی ہو جائے ممکن ہے کبھی آپس میں فضول باتیں کریں تو ہم نے سنا کہ انہیں نہ روکنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں بھی عاکفین کہتے تھے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ مسجد نبوی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ رضی اللہ عنہ سویا کرتے تھے وہ جوان اور کنوارے تھے۔ [صحیح بخاری:440] ‏ رکع السجود سے مراد نمازی ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:376/1] ‏ پاک رکھنے کا حکم اس واسطے دیا گیا کہ اس وقت بھی بت پرستی رائج تھی دوسرے اس لیے کہ یہ بزرگ اپنی نیتوں میں خلوص کی بات رکھیں دوسری جگہ ارشاد ہے آیت «وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ» [ 22-الحج: 26 ] ‏ اس آیت میں بھی حکم ہے کہ میرے ساتھ شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو پاک صاف رکھنا فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ بیت اللہ کی نماز افضل ہے یا طواف؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں باہر والوں کے لیے طواف افضل ہے اور جمہور کا قول ہے کہ ہر ایک کے لیے نماز افضل ہے اس کی تفصیل کی جگہ تفسیر نہیں۔

صفحہ نمبر492

مقصد اس سے مشرکین کو تنبیہ اور تردید ہے کہ بیت اللہ تو خاص اللہ کی عبادت کے لیے بنایا گیا ہے اس میں اوروں کی عبادت کرنا اور خالص اللہ کی عبادت کرنے والوں کو اس سے روکنا کس قدر صریح بےانصافی ہے اور اسی لیے قرآن میں فرمایا کہ ایسے ظالموں کو ہم درد ناک عذاب چکھائیں گے مشرکین کی اس کھلی تردید کے ساتھ ہی یہود و نصاریٰ کی تردید بھی اس آیت میں ہو گئی کہ اگر وہ ابراہیم و اسماعیل سلام اللہ علیہما کی افضیلت، بزرگی اور نبوت کے قائل ہیں اور یہ بھی جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ شریف گھرانے کے متبرک ہاتھوں کا بنا ہوا ہے جب وہ اس کے بھی قائل ہیں کہ یہ محض نماز و طواف و دعا اور عبادت اللہ کے لیے بنایا گیا ہے حج و عمرے اور اعتکاف وغیرہ کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تو پھر ان نبیوں کی تابعداری کے دعوے کے باوجود کیوں حج و عمرے سے رکے ہوئے ہیں؟ کیوں بیت اللہ شریف میں حاضری نہیں دیتے؟ بلکہ خود موسیٰ علیہ السلام نے اس گھر کا حج کیا جیسا کہ حدیث میں صاف موجود ہے۔ [صحیح مسلم:166] ‏ آیة کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اور مسجدوں کو بھی پاک صاف رکھنا چاہیئے اور جگہ قرآن میں ہے آیت «فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ يُسَبِّحُ لَهٗ فِيْهَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ» [ 24۔ النور: 36 ] ‏ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو بلند کرنے کی اجازت دی ہے ان میں اس کا نام ذکر کیا جائے ان میں صبح شام اس کی تسبیح اس کے نیک بندے کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر493

حدیث شریف میں بھی ہے کہ مسجدیں اسی کام کے لیے ہیں۔ [صحیح مسلم:285] ‏ اور احادیث میں بہت ہی تاکید کے ساتھ مسجدوں کی پاکیزگی کا حکم آیا ہے امام ابن کثیر نے اس بارے میں ایک خاص رسالہ تصنیف فرمایا ہے۔ بعض لوگ تو کہتے ہیں سب سے پہلے کعبۃ اللہ فرشتوں نے بنایا تھا لیکن یہ سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا حرا، طور سینا، طور زیتا، جبل لبنان اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن یہ بھی سنداً غریب ہے بعض کہتے ہیں شیث علیہ السلام نے سب سے پہلے بنایا تھا لیکن یہ بھی اہل کتاب کی بات ہے۔ حدیث شریف میں ہے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام بنایا اور فرمایا میں مدینہ منورہ کو حرام قرار دیتا ہوں۔ اس میں شکار نہ کھیلا جائے یہاں کے درخت نہ کاٹے جائیں یہاں ہتھیار نہ اٹھائے جائیں۔ [صحیح مسلم:1362] ‏ صحیح مسلم شریف کی ایک حدیث میں ہے کہ لوگ تازہ پھل لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے لے کر دعا کرتے کہ اے اللہ ہمارے پھلوں میں ہمارے شہر میں ہمارے ناپ تول میں بھی برکت دے۔ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے رسول تھے میں بھی تیرا بندہ تیرا رسول ہوں انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی تھی میں تجھ سے مدینہ [ منورہ ] ‏ کے لیے دعا کرتا ہوں جیسے انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے کی تھی بلکہ ایسی ہی ایک اور بھی۔ آپ کسی چھوٹے بچہ کو بلا کر وہ پھل اسے عطا فرما دیا کرتے۔ [صحیح مسلم:1373] ‏

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جاؤ اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو ہماری خدمت کے لیے آؤ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے لے کر حاضر ہوئے میں اب سفرو حضر میں حاضر خدمت رہنے لگا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر سے آ رہے تھے جب احد پہاڑ پر نظر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ جب مدینہ نظر آیا تو فرمانے لگے یا اللہ میں اس کے دونوں کنارے کے درمیان کی جگہ کو حرم مقرر کرتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم بنایا اے اللہ ان کے مد اور صاع میں اور ناپ میں برکت دے۔ [صحیح بخاری:2889] ‏ اور روایت میں ہے یا اللہ جتنی برکت تو نے مکہ میں دی ہے اس سے دگنی برکت مدینہ میں دے۔ [صحیح بخاری:1885] ‏ اور روایت میں ہے مدینہ میں قتل نہ کیا جائے اور چارے کے سوا اور پتے بھی یہاں کے درختوں کے نہ جھاڑے جائیں اسی مضمون کی حدیثیں جن سے ثابت ہوتا ہے مدینہ بھی مثل مکہ کے حرم ہے اور بھی بہت سی ہیں۔

صفحہ نمبر494

یہاں ان احادیث کے وارد کرنے سے ہماری غرض مکہ شریف کی حرمت اور یہاں کا امن بیان کرنا ہے، بعض تو کہتے ہیں کہ یہ شروع سے حرم اور امن ہے بعض کہتے ہیں خلیل اللہ کے زمانہ سے لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ والے دن فرمایا جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تب سے اس شہر کو حرمت و عزت والا بنایا ہے اب یہ قیامت تک حرمت و عزت والا ہی رہے گا اس میں جنگ وقتال کسی کو حلال نہیں میرے لیے بھی آج کے دن ہی ذرا سی دیر کے لیے حلال تھا اب وہ حرام ہی حرام ہے سنو اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں اس کا شکار نہ بھگایا جائے اس میں کسی کی گری پڑی چیز نہ اٹھائی جائے جو پہنچوائی جائے اس کے لیے اٹھانا جائز ہے اس کی گھاس نہ کاٹی جائے دوسری روایت میں ہے کہ یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثنائے خطبہ میں بیان فرمائی تھی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر نامی گھاس کے کاٹنے کی اجازت دی تھی۔ [صحیح بخاری:1834] ‏

صفحہ نمبر495

سیدنا ابن شریح عدوی رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہ اے امیر سن فتح مکہ والے دن صبح ہی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا جسے میرے کانوں نے سنا دل نے یاد رکھا اور میں نے آنکھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ مکہ کو رب ذوالجلال نے حرام کیا ہے لوگوں نے نہیں کیا، کسی ایماندار کو اس میں خون بہانا اس کا درخت کاٹنا حلال نہیں۔ اگر کوئی میری اس لڑائی کو دلیل بنائے تو کہہ دینا کہ میرے لیے صرف آج ہی کے دن کی ایسی ساعت یہاں جہاد حلال تھا۔ پھر اس شہر کی حرمت آ گئی ہے جیسے کل تھی۔ خبردار ہر حاضر غائب کو یہ پہنچا دے لیکن عمرو نے یہ حدیث سن کر صاف جواب دے دیا کہ میں تجھ سے زیادہ اس حدیث کو جانتا ہوں۔ حرم نافرمان کو اور خونی کو اور بربادی کرنے والے کو نہیں بچانا۔ [صحیح بخاری:1832] ‏

صفحہ نمبر496

ان دونوں احادیث میں کوئی تعارض نہ سمجھے تطبیق یوں ہے کہ مکہ روز اول سے حرمت والا تھا لیکن اس حرمت کی تبلیغ خلیل اللہ نے کی جس طرح نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو اس وقت سے تھے جب کہ آدم علیہ السلام کا خمیر گوندھ رکھا تھا بلکہ آپ اس وقت بھی خاتم الانبیاء لکھے ہوئے تھے۔ [مسند احمد:127/4صحیح بالشواھد] ‏ لیکن تاہم ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی دعا کی کہ آیت «رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ» [ 2۔ البقرہ: 129 ] ‏ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیج جو اللہ نے پوری کی اور تقدیر کی لکھی ہوئی وہ بات ظاہر و باہر ہوئی۔ ایک حدیث میں ہے کہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ابتداء نبوت کا تو کچھ ذکر کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی بشارت اور میری ماں کا خواب وہ دیکھتی ہیں کہ ان سے گویا ایک نور نکلا جس نے شام کے محلات کو روشن کر دیا اور وہ نظر آنے لگے۔ [طیالسی:1140:حسن] ‏

صفحہ نمبر497

مدینہ منورہ افضل یامکہ مکرمہ؟ ٭٭

اس بات کا بیان کہ مکہ افضل ہے یا مدینہ؟ جیسا کہ جمہور کا قول ہے جیسے کہ حضرت امام مالک رحمہ اللہ اور ان کے تابعین کا مذہب ہے مدینہ افضل ہے مکہ سے۔ اسے دونوں طرف کے دلائل کے ساتھ عنقریب ہم بیان کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔ ابراہیم علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ اس جگہ کو امن والا شہر بنا یعنی یہاں کے رہنے والوں کو نڈر اور بے خوف رکھ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے جیسے کہ فرمایا آیت «وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا» [ 3۔ آل عمران: 97 ] ‏ اس میں جو آیا وہ امن والا ہو گیا اور جگہ ارشاد ہے آیت «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللَّـهِ يَكْفُرُونَ» [ 29-العنکبوت: 67 ] ‏ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے حرم کو امن والا بنایا لوگ اس کے آس پاس سے اچک لیے جاتے ہیں اور یہاں وہ پر امن رہتے ہیں۔ اسی قسم کی اور آیتیں بھی ہیں اور اس مضمون کی بہت سی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں کہ مکہ شریف میں قتال حرام ہے۔

سیدنا جابر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کسی کو حلال نہیں کہ مکہ میں ہتھیار اٹھائے [صحیح مسلم:1356] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا حرمت کعبۃ اللہ کی بنا سے پہلے تھی اس لیے کہا کہ اے اللہ اس جگہ کو امن والا شہر بنا، سورۃ ابراہیم میں یہی دعا ان لفظوں میں ہے آیت «رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ شاید یہ دعا دوبارہ کی تھی۔ جب بیت اللہ شریف تیار ہو گیا اور شہر بس گیا اور اسحاق علیہ السلام جو اسمٰعیل علیہ السلام سے تین سال چھوٹے تھے تولد ہو چکے اسی لیے اس دعا کے آخر میں ان کی پیدائش کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صفحہ نمبر498

«ومن کفر» سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بعض نے اسے بھی دعا میں دخل کیا ہے تو اس تقدیر پر یہ مطلب ہو گا کہ کفار کو بھی تھوڑا سا فائدہ دے پھر انہیں عذاب کی طرف بی بس کر اس میں بھی حضرات ابراہیم علیہم السلام کی خلت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی بری اولاد کے بھی مخالف ہیں اور اسے کلام اللہ ماننے کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ امامت کا سوال جب اپنی اولاد کے لیے کیا اور ظالموں کی محرومی کا اعلان سن چکے اور معلوم ہو گیا کہ آپ پیچھے آنے والوں میں بھی اللہ کے نافرمان ہوں گے تو مارے ڈر کے ادب کے ساتھ بعد میں آنے والی نسلوں کو روزی طلب کرتے ہوئے صرف ایماندار اولاد کے لیے کہا۔ ارشاد باری ہوا کہ دنیا کا فائدہ تو کفار کو بھی دیتا ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاءِ وَهٰٓؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا» [ 17۔ الاسرآء: 20 ] ‏ یعنی ہم انہیں اور ان کو بھی فائدہ دیں گے تیرے رب کی بخشش محدود نہیں۔

صفحہ نمبر499

اور جگہ ہے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پاتے دنیا کا کچھ فائدہ گو اٹھا لیں لیکن ہماری طرف آ کر اپنے کفر کے بدلے سخت عذاب چکھیں گے۔ [10-يونس:70] ‏ اور جگہ ہے کافروں کا کفر تجھے غمگین نہ کرے جب یہ ہماری طرف لوٹیں گے تو ان کے اعمال پر ہم انہیں تنبیہ کریں گے اللہ تعالیٰ سینوں کی چھپی باتوں کو بخوبی جانتا ہے ہم انہیں یونہی سا فائدہ پہنچا کر سخت غلیظ عذابوں کی طرف بے قرار کریں گے اور جگہ ہے آیت «وَلَوْلَآ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ يَّكْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّةٍ وَّمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 33 ] ‏ اگر یہ خطرہ نہ ہو تاکہ لوگو ایک ہی امت ہو جائیں تو ہم کافروں کی چھتیں اور سیڑھیاں چاندی کی بنا دیتے اور ان کے گھر کے دروازے اور تخت جن پر ٹیکے لگائے بیٹھے رہتے اور سونا بھی دیتے لیکن یہ سب دنیوی فوائد ہیں آخرت کا بھلا گھر تو صرف پرہیزگاروں کے لیے ہے۔

صفحہ نمبر500

یہی مضمون پرہیز گاروں کے لیے ہے یہی مضمون اس آیت میں بھی ہے کہ ان کا انجام برا ہے یہاں ڈھیل پا لیں گے لیکن وہاں سخت پکڑ ہو گی۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِىَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ» [ 22۔ الحج: 45 ] ‏ بہت سی ظالم بستیوں کو ہم نے مہلت دی پھر پکڑ لیا انجام کو تو ہمارے ہی پاس لوٹنا ہے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے گندی باتوں کو سن کر صبر کرنے میں اللہ سے بڑھ کر کوئی نہیں لوگ اس کی اولاد بتاتے ہیں لیکن تاہم وہ انہیں رزق و عافیت دے رہا ہے [صحیح بخاری:6099] ‏ اور حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر اسے اچانک پکڑ لیتا ہے [فتح الباری:205/8] ‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت «وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ» [ 11۔ ہود: 102 ] ‏ [صحیح بخاری:4686] ‏ اس جملہ کو ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں شامل کرنا شاذ قرأت کی بنا پر ہے جو ساتوں قاریوں کی قرأت کے خلاف ہے اور ترکیب سیاق و سباق بھی یہی ظاہر کرتی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس لیے کہ قال کی ضمیر کا مرجع اللہ کی طرف ہے اور اس شاذ قرأت کی بنا پر اس کے فاعل اور قائل بھی ابراہیم علیہ السلام ہی ہوتے ہیں جو نظم کلام سے بظاہر مخالف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر501

قواعد جمع ہے قاعدہ کی ترجمہ اس کا پایہ اور نیو [ بنیاد ] ‏ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والوں کو بنائے ابراہیمی کی خبر دو، ایک قرأت میں «واسمعیل» کے بعد «ویقولان» بھی ہے اسی دلالت میں آگے لفظ «مسلمین» بھی ہے دونوں نبی نیک کام میں مشغول ہیں اور قبول نہ ہونے کا کھٹکا ہے تو اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دعا کرتے ہیں وہیب بن ورد رحمہ اللہ جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو بہت روتے اور فرماتے آہ! خلیل الرحمن علیہ السلام جیسے اللہ کے مقبول پیغمبر اللہ کا کام اللہ کے حکم سے کرتے ہیں اس کا گھر اس کے فرمان سے بناتے ہیں اور پھر خوف ہے کہ کہیں یہ قبولیت سے گر نہ جائے سچ ہے مخلص مومنوں کا یہی حال ہے آیت «وَالَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ» [ 23۔ المومنون: 60 ] ‏ وہ نیک کام کرتے ہیں صدقے خیرات کرتے ہیں لیکن پھر بھی خوف اللہ سے کانپتے رہتے ہیں (‏کہ ایسا نہ ہو کہ قبول نہ ہوں)‏۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سوال پر اس آیت کا یہی مطلب زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان ہوا ہے۔ [سنن ترمذي:3175،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ بنیادیں ابراہیم علیہ السلام اٹھاتے تھے اور دعا اسماعیل علیہ السلام کرتے تھے لیکن صحیح یہی ہے کہ دونوں ہر ایک کام میں شریک تھے۔

صحیح بخاری شریف کی ایک روایت اور بعض اور آثار بھی اس واقعہ کے متعلق یہاں ذکر کئے جانے کے قابل ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کمر بند باندھنا عورتوں نے اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ سے سیکھا ہے انہوں نے باندھا تھا کہ مائی سارہ کو ان کا نقش قدم نہ ملے انہیں اور ان کے جگر کے ٹکڑے اپنے اکلوتے فرزند اسمٰعیل علیہ السلام کو لے کر ابراہیم علیہ السلام نکلے جبکہ یہ پیارا بچہ دودھ پیتا تھا۔

صفحہ نمبر502

سناٹے کی آغوش میں زندگی ٭٭

اب جہاں پر بیت اللہ بنا ہوا ہے یہاں ایک ٹیلہ تھا اور سنسان بیابان تھا کوئی اپنے سہنے والا وہاں نہ تھا یہاں پہنچ کر ماں بیٹے کو بٹھا کر پاس تھوڑی سی کھجوریں اور مشکیزہ پانی کا رکھ کر آپ چلے گئے جب خلیل اللہ علیہ السلام نے پیٹھ موڑی اور جانے لگے تو مائی حاجرہ سلام اللہ علیہا نے آواز دی اے خلیل اللہ ہمیں اس دہشت و وحشت والے بیابان میں یکہ و تنہا چھوڑ کر جہاں ہمارا کوئی مونس و ہمدم نہیں آپ علیہ السلام کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟ لیکن ابراہیم علیہ السلام نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ اس طرف توجہ تک نہ کی، منہ موڑ کر بھی نہ دیکھا۔

صفحہ نمبر503

حضرت ہاجرہ سلام اللہ علیہا کے باربار کہنے پر بھی آپ علیہ السلام نے التفات نہ فرمایا تو آپ سلام اللہ علیہا فرمانے لگیں اللہ کے خلیل آپ ہمیں کسے سونپ چلے؟ آپ علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ کو کہا اے خلیل اللہ کیا اللہ تعالیٰ کا آپ کو یہ حکم ہے؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں مجھے اللہ کا یہی حکم ہے یہ سن کر ام اسمٰعیل سلام اللہ علیہا کو تسکین ہو گئی اور فرمانے لگیں پھر تشریف لے جائیے وہ اللہ جل شانہ ہمیں ہرگز ضائع نہ کرے گا اسی کا بھروسہ اور اسی کا سہارا ہے۔ ہاجرہ لوٹ گئیں اور اپنے کلیجہ کی ٹھنڈک اپنی آنکھوں کے نور ابن نبی اللہ کو گود میں لے کر اس سنسان بیابان میں اس ہو کے عالم میں لاچار اور مجبور ہو کر بیٹھ رہیں۔ ابراہیم علیہ السلام جب ثنیہ کے پاس پہنچے اور یہ معلوم کر لیا کہ اب ہاجرہ پیچھے نہیں اور وہاں سے یہاں تک ان کی نگاہ کام بھی نہیں کر سکتی تو بیت اللہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر ہاتھ اٹھا کر دعا کی اور کہا آیت «رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ» [ 14۔ ابراہیم: 37 ] ‏ الہٰ العالمین میں نے اپنے بال بچوں کو ایک غیر آباد جنگل میں تیرے برگزیدہ گھر کے پاس چھوڑا ہے تاکہ وہ نماز قائم کریں تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف جھکا دے اور انہیں پھلوں کی روزیاں دے شاید وہ شکر گزاری کریں آپ علیہ السلام نے یہ دعا کر کے حکم اللہ بجا لا کر اپنی اہل و عیال کو اللہ کے سپرد کر کے چلے گئے۔

صفحہ نمبر504

ادھر ہاجرہ سلام اللہ علیہا صبر و شکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگییں جب تھوڑی سی کھجوریں اور ذرا سا پانی ختم ہو گیا اب اناج کا ایک دانہ پاس ہے نہ پانی کا گھونٹ خود بھی بھوکی پیاسی ہیں اور بچہ بھی بھوک پیاس سے بیتاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا پھول سا چہرہ کمھلانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا مامتا بھری ماں کبھی اپنی تنہائی اور بے کس ی کا خیال کرتی ہے کبھی اپنے ننھے سے اکلوتے بچے کا یہ حال بغور دیکھتی ہے اور سہمی جاتی ہے معلوم ہے کہ کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں، میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں کھانا تو کہاں؟ پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں آ سکتا۔

صفحہ نمبر505

آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہیں دیکھا جاتا تو اٹھ کر چلی جاتی ہیں اور صفا پہاڑ جو پاس ہی تھا اس پر چڑھ جاتی ہیں اور میدان کی طرف نظر دوڑاتی ہیں کہ کوئی آتا جاتا نظر آ جائے لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف ڈالتی ہیں اور کسی کو بھی نہ دیکھ کر پھر وہاں سے اتر آتی ہیں اور اسی طرح درمیانی تھوڑا سا حصہ دوڑ کر باقی حصہ جلدی جلدی طے کر کے پھر صفا پر چڑھتی ہیں اسی طرح سات مرتبہ کرتی ہیں ہر بار آ کر بچہ کو دیکھ جاتی ہیں اس کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں صفا مروہ کی سعی جو حاجی کرتے ہیں اس کی ابتداء یہی سے ساتویں مرتبہ جب ہاجرہ مروہ پر آتی ہیں تو کچھ آواز کان میں پڑتی ہے آپ خاموش ہو کر احتیاط کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ یہ آواز کیسی؟ آواز پھر آتی ہے اور اس مرتبہ صاف سنائی دیتی ہے تو آپ آواز کی طرف لپک کر آتی ہیں اور اب جہاں زمزم ہے وہاں جبرائیل علیہ السلام کو پاتی ہیں۔

صفحہ نمبر506

حضرت جبرائیل علیہ السلام پوچھتے ہیں تم کون ہو؟ آپ جواب دیتی ہیں میں ہاجرہ ہوں میں ابراہیم علیہ السلام کے لڑکے کی ماں ہوں فرشتہ پوچھتا ہے ابراہیم علیہ السلام تمہیں اس سنسان بیابان میں کسے سونپ گئے ہیں؟ آپ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں اللہ کو فرمایا پھر تو وہ کافی ہے ہاجرہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا اے غیبی شخص آواز تو میں نے سن لی کیا کچھ میرا کام بھی نکلے گا؟ جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین پر رگڑی وہیں زمین سے ایک چشمہ پانی کا ابلنے لگا۔ حضرت ہاجرہ علیہما السلام نے ہاتھ سے اس پانی کو مشک میں بھرنا شروع کیا مشک بھر کر پھر اس خیال سے کہ پانی ادھر ادھر بہ کر نکل نہ جائے آس پاس باڑ باندھنی شروع کر دی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ ام اسمٰعیل علیہ السلام پر رحم کرے اگر وہ اس طرح پانی کو نہ روکتیں تو زمزم کنویں کی مثل میں نہ ہوتا بلکہ وہ ایک جاری نہر کی صورت میں ہوتا اب ہاجرہ نے پانی پیا اور بچہ کو بھی پلایا اور دودھ پلانے لگیں فرشتے نے کہ دیا کہ تم بے فکر رہو اللہ تمہیں ضائع نہ کرے گا جہاں تم بیٹھی ہو یہاں اللہ کا ایک گھر اس بچے اور اس کے باپ کے ہاتھوں بنے گا ہاجرہ اب یہیں رہ پڑیں زمزم کا پانی پیتیں اور بچہ سے دل بہلاتیں بارش کے موسم میں پانی کے سیلاب چاروں طرف سے آتے لیکن یہ جگہ ذرا اونچی تھی ادھر ادھر سے پانی گزر جاتا ہے اور یہاں امن رہتا کچھ مدت کے بعد جرہم کا قبیلہ خدا کے راستہ کی طرف سے اتفاقاً گزرا اور مکہ شریف کے نیچے کے حصہ میں اترا ان کی نظریں ایک آبی پرند پر پڑیں تو آپس میں کہنے لگے یہ پرندہ تو پانی کا ہے اور یہاں پانی کبھی نہ تھا ہماری آمدورفت یہاں سے کئی مرتبہ ہوئی یہ تو خشک جنگل اور چٹیل میدان ہے یہاں پانی کہاں؟ چنانچہ انہوں نے اپنے آدمی اصلیت معلوم کرنے کے لیے بھیجے انہوں نے واپس آ کر خبر دی کہ وہاں تو بہترین اور بہت سا پانی ہے اب وہ سب آئے اور ام اسمعٰیل سلام اللہ علیہا سے عرض کرنے لگے کہ مائی صاحبہ اگر آپ اجازت دیں تو ہم بھی یہاں ٹھہر جائیں پانی کی جگہ ہے آپ نے فرمایا ہاں شوق سے رہو لیکن پانی پر قبضہ میرا ہی رہے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہاجرہ تو چاہتی تھیں کہ کوئی ہم جنس مل جائے چنانچہ یہ قافلہ یہاں رہ پڑا۔

صفحہ نمبر507

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام بھی بڑے ہو گئے ان سب کو آپ علیہ السلام سے بڑی محبت ہو گئی یہاں تک کہ آپ علیہ السلام بالغ ہوئے تو انہی میں نکاح بھی کیا اور انہی سے عربی بھی سیکھی مائی ہاجرہ علیہما السلام کا انتقام یہیں ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے اجازت ملی تو آپ علیہ السلام اپنے لخت جگر کی ملاقات کے لیے تشریف لائے بعض روایات میں ہے کہ آپ علیہ السلام کا یہ آنا جانا براق پر ہوتا تھا ملک شام سے آتے تھے اور پھر واپس جاتے تھے یہاں آئے تو اسمٰعیل علیہ السلام گھر پر نہ ملے اپنی بہو سے پوچھا کہ وہ کہاں ہیں؟ تو جواب ملا کہ کھانے پینے کی تلاش میں یعنی شکار کو گئے ہیں آپ علیہ السلام نے پوچھا تمہارا کیا حال ہے؟ کہا برا حال ہے بڑی تنگی اور سختی ہے فرمایا اچھا تمہارے خاوند آویں تو انہیں سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں۔

صفحہ نمبر508

حضرت ذبیح اللہ علیہ السلام جب واپس آئے تو گویا آپ علیہ السلام کو کچھ انس سا معلوم ہوا پوچھنے لگے کیا کوئی صاحب تشریف لائے تھے؟ بیوی نے کہا ہاں ایسی ایسی شکل و شباہت کے ایک عمر رسیدہ بزرگ آئے تھے؟ آپ کی نسبت پوچھا میں نے کہا وہ شکار کی تلاش میں باہر گئے ہیں پھر پوچھا کہ گزران کیسی چلتی ہے؟ میں نے کہا بڑی سختی اور تنگی سے گزر اوقات ہوتی ہے پوچھا کچھ مجھ سے کہنے کو بھی فرما گئے ہیں؟ بیوی نے کہا ہاں کہہ گئے کہ وہ جب وہ آئیں میرا سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل ڈالیں آپ علیہ السلام فرمانے لگے بیوی سنو یہ میرے والد صاحب تھے اور جو فرما گئے ہیں اس سے مطلب یہ ہے کہ [ چونکہ تم نے ناشکری کی ] ‏ میں تم کو الگ کر دوں جاؤ میں نے تمہیں طلاق دی انہیں طلاق دے کر آپ علیہ السلام نے اسی قبیلہ میں اپنا دوسرا نکاح کر لیا۔

صفحہ نمبر509

ایک مدت کے بعد پھر ابراہیم علیہ السلام باجازت الٰہی یہاں آئے اب کی مرتبہ بھی اتفاقاً ذبیح علیہ السلام سے ملاقات نہ ہوئی بہو سے پوچھا تو جواب ملا کہ ہمارے لیے رزق کی تلاش میں شکار کو گئے ہیں آپ آئیے، تشریف رکھئے جو کچھ حاضر ہے تناول فرمائیے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ تو بتاؤ کہ گزر بسر کیسی ہوتی ہے؟ کیا حال ہے؟ جواب ملا الحمدللہ ہم خیریت سے ہیں اور بفضل رب کعبہ کشادگی اور راحت ہے اللہ کا بڑا شکر ہے ابراہیم علیہ السلام نے کہا تمہاری خوراک کیا ہے؟ کہا گوشت پوچھا تم پیتے کیا ہو؟ جواب ملا پانی آپ علیہ السلام نے دعا کی کہ پروردگار انہیں گوشت اور پانی میں برکت دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اناج ان کے پاس ہوتا اور یہ کہتیں تو خلیل علیہ السلام ان کے لیے اناج کی برکت کی دعا بھی کرتے اب اس دعا کی برکت سے اہل مکہ صرف گوشت اور پانی پر گزر کر سکتے ہیں۔ اور لوگ نہیں کر سکتے آپ علیہ السلام نے فرمایا اچھا میں تو جا رہا ہوں تم اپنے میاں کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ وہ اپنی چوکھٹ کو ثابت اور آباد رکھیں بعد ازاں اسمٰعیل علیہ السلام آئے سارا واقعہ معلوم ہوا آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ میرے والد مکرم تھے مجھے حکم دے گئے ہیں کہ میں تمہیں الگ نہ کروں [ تم شکر گزار ہو ] ‏۔

صفحہ نمبر510

تعمیر کعبہ ٭٭

پھر ایک مدت کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو اجازت ملی اور آپ تشریف لائے تو اسمٰعیل علیہ السلام کو زمزم کے پاس ایک ٹیلے پر تیر سیدھے کرتے ہوئے پایا، اسمٰعیل علیہ السلام باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور با ادب ملے جب باپ بیٹے ملے تو خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا اے اسماعیل مجھے اللہ کا ایک حکم ہوا ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا ابا جان جو حکم ہوا ہو اس کی تعمیل کیجئے، کہا بیٹا تمہیں بھی میرا ساتھ دینا پڑے گا۔ عرض کرنے لگے میں حاضر ہوں اس جگہ اللہ کا ایک گھر بنانا ہے کہنے لگے بہت بہتر اب باپ بیٹے نے بیت اللہ کی نیو رکھی اور دیواریں اونچی کرنی شروع کیں، اسمٰعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر دیتے جاتے تھے اور ابراہیم چنتے جاتے تھے جب دیواریں قدرے اونچی ہو گئیں تو ذبیح اللہ یہ پتھر یعنی مقام ابراہیم کا پتھر لائے، اس اونچے پتھر پر کھڑے ہو کر ابراہیم علیہ السلام کعبہ کے پتھر رکھتے جاتے تھے اور دونوں باپ بیٹا یہ دعا مانگتے جاتے تھے کہ باری تعالیٰ تو ہماری اس ناچیز خدمت کو قبول فرمانا تو سننے اور جاننے والا ہے. [صحیح بخاری:3365] ‏

یہ روایت اور کتب حدیث میں بھی ہے کہیں مختصر اور کہیں مفصلاً ایک صحیح حدیث میں یہ بھی ہے کہ ذبیح اللہ کے بدلے جو دنبہ ذبح ہوا تھا اس کے سینگ بھی کعبۃ اللہ میں تھے۔ [مسند احمد:601/1:صحیح] ‏ اوپر کی لمبی روایت بروایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جب بھی کعبۃ اللہ شریف کے قریب پہنچے تو آپ علیہ السلام نے اپنے سر پر ایک بادل سا ملاحظہ فرمایا جس میں سے آواز آئی کہ اے ابراہیم جہاں جہاں تک اس بادل کا سایہ ہے وہاں تک کی زمین بیت اللہ میں لے لو کمی زیادتی نہ ہو اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بیت اللہ بنا کر وہاں ہاجرہ اور اسمٰعیل علیہ السلام کو چھوڑ کر آپ علیہ السلام تشریف لے گئے لیکن روایت ہی ٹھیک ہے اور اس طرح تطبیق بھی ہو سکتی ہے کہ بناء پہلے رکھدی تھی لیکن بنایا بعد میں، اور بنانے میں بیٹا اور باپ دونوں شامل تھے جیسے کہ قرآن پاک کے الفاظ بھی ہیں۔

صفحہ نمبر511

ایک اور روایت میں ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بناء بیت اللہ شروع کیفیت دریافت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ میرا گھر بناؤ ابراہیم علیہ السلام گھبرائے کہ مجھے کہاں بنانا چاہیئے کس طرح اور کتنا بڑا بنانا چاہیئے وغیرہ اس پر سکینہ نازل ہوا اور حکم ہوا کہ جہاں یہ ٹھہرے وہاں تم میرا گھر بناؤ آپ علیہ السلام نے بنانا شروع کیا جب حجر اسود کی جگہ پہنچے تو اسمٰعیل علیہ السلام سے کہا بیٹا کوئی اچھا سا پتھر ڈھونڈ لاؤ تو دیکھا کہ آپ اور پتھر وہاں لگا چکے ہیں، پوچھا یہ پتھر کون لایا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا اللہ کے حکم سے یہ پتھر جبرائیل علیہ السلام آسمان سے لے کر آئے، سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اب جہاں بیت اللہ ہے وہاں زمین کی پیدائش سے پہلے پانی پر بلبلوں کے ساتھ جھاگ سی تھی یہیں سے زمین پھیلائی گئی،

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کعبۃ اللہ بنانے کے لیے خلیل علیہ السلام آرمینیہ سے تشریف لائے تھے حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں حجر اسود جبرائیل علیہ السلام ہند سے لائے تھے اس وقت وہ سفید چمکدار یاقوت تھا جو آدم علیہ السلام کے ساتھ جنت سے اترا تھا ھر لوگوں کے خطا کار ہاتھوں سے اس کا رنگ سیاہ ہو گیا اس روایت میں یہ بھی ہے کہ نیو اور بنیادیں ہلے سے موجود تھیں انہی پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بناء کی۔

صفحہ نمبر512

مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہند میں اترے تھے اس وقت ان کا قد لمبا تھا زمین میں آنے کے بعد فرشتوں کی تسبیح نماز و دعا وغیرہ سنتے تھے جب قد گھٹ گیا اور وہ پیاری آوازیں آنی بند ہو گئیں تو آپ علیہ السلام گھبرانے لگے حکم ہوا کہ مکہ کی طرف رکھا اور اسے اپنا گھر قرار دیا، آدم علیہ السلام یہاں طواف کرنے لگے اور مانوس ہوئے گھبراہٹ جاتی رہی حضرت نوح علیہ السلام کے طوفان کے زمانہ میں یہ پھر اٹھ گیا اور ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں پھر اللہ تعالیٰ نے بنوایا آدم علیہ السلام نے یہ گھر حرا طور زیتا جبل لبنان طور سینا اور جودی ان پانچ پہاڑوں سے بنایا تھا لیکن ان تمام روایتوں میں تفاوت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

بعض روایتوں میں ہے کہ زمین کی پیدائش سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ بنایا گیا تھا، ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کے نشان بتانے کے لیے جبرائیل علیہ السلام چلے تھے اس وقت یہاں جنگلی درختوں کے سوا کچھ نہ تھا کس دور عمالیق کی آبادی تھی یہاں آپ علیہ السلام ام اسماعیل کو اور اسمٰعیل علیہ السلام کو ایک چھپر تلے بٹھا گے ایک اور روایت میں ہے کہ بیت اللہ کے چار ارکان ہیں اور ساتویں زمین تک وہ نیچے ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر513

ایک اور روایت میں ہے کہ ذوالقرنین جب یہاں پہنچے اور ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ بناتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا کر رہے ہو؟ تو انہوں نے کہا اللہ کے حکم سے اس کا گھر بنا رہے ہیں پوچھا کیا دلیل؟ کہا یہ بھیڑیں گواہی دیں گی پانچ بھیڑوں نے کہا ہم گواہی دیتی ہیں کہ یہ دونوں اللہ کے مامور ہیں، ذوالقرنین خوش ہو گئے اور کہنے لگے میں نے مان لیا۔ الرزقی کی تاریخ مکہ میں ہے کہ ذوالقرنین نے خلیل اللہ علیہ السلام اور ذبیح اللہ علیہ السلام کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صحیح بخاری میں ہے قواعد بنیاد اور اساس کو کہتے ہیں یہ قاعدہ کی جمع ہے قرآن میں اور جگہ آیت «وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الّٰتِيْ لَا يَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ يَّضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجٰتٍ بِزِيْنَةٍ» [ 24۔ النور: 60 ] ‏ بھی آیا ہے اس کا مفرد بھی قاعدۃ ہے۔

صفحہ نمبر514

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نہیں دیکھتیں کہ تمہاری قوم نے جب بیت اللہ بنایا تو قواعد ابراہیم علیہ السلام سے گھٹا دیا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے بڑھا کر اصلی بنا پر کر دیں فرمایا کہ اگر تیری قوم کا اسلام تازہ اور ان کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں ایسا کر لیتا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو فرمانے لگے شاید یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کے پاس کے دوستونوں کو چھوتے نہ تھے [صحیح بخاری:4484] ‏

صحیح مسلم شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اے عائشہ رضی اللہ عنہا اگر تیری قوم کا جاہلیت کا زمانہ نہ ہوتا تو میں کعبہ کے خزانہ کو اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالتا اور دروازے کو زمین دوز کر دیتا اور حطیم کو بیت اللہ میں داخل کر دیتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ صحیح بخاری میں یہ بھی ہے کہ میں اس کا دوسرا دروازہ بھی بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے چنانچہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایسا ہی کیا۔ [صحیح بخاری:126] ‏ اور ایک روایت میں ہے کہ اسے میں دوبارہ بنائے ابراہیمی علیہ السلام پر بناتا۔ [صحیح مسلم:398] ‏ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دروازہ مشرق رخ کرتا اور دوسرا مغرب رخ اور چھ ہاتھ حطیم کو اس میں داخل کر لیتا جسے قریش نے باہر کر دیا ہے۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

صفحہ نمبر515

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پانچ سال پہلے قریش نے نئے سرے سے کعبہ بنایا تھا اس کا مفصل ذکر ملاحظہ ہو اس بناء میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شریک تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پینتیس سال کی تھی اور پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اٹھاتے تھے محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک پینتیس سال کی ہوئی اس وقت قریش نے کعبۃ اللہ کو نئے سرے سے بنانے کا ارادہ کیا ایک تو اس لیے کہ اس کی دیواریں بہت چھوٹی تھیں چھت نہ تھی دوسرے اس لیے بھی کہ بیت اللہ کا خزانہ چوری ہو گیا تھا جو بیت اللہ کے بیچ میں ایک گہرے گڑھے میں رکھا ہوا تھا یہ مال ”دویک“ کے پاس ملا تھا جو خزائمہ کے قبیلے بنی ملیح بن عمرو کا مولی تھا۔ ممکن ہے چوروں نے یہاں لا رکھا ہو لیکن اس کے ہاتھ اس چوری کی وجہ سے کاٹے گئے ایک اور قدرتی سہولت بھی اس کے لیے ہو گئی تھی کہ روم کے تاجروں کی ایک کشتی جس میں بہت اعلیٰ درجہ کی لکڑیاں تھیں وہ طوفان کی وجہ سے جدہ کے کنارے آ لگی تھی یہ لکڑیاں چھت میں کام آ سکتی تھیں اس لیے قریشیوں نے انہیں خرید لیا اور مکہ کے ایک بڑھئی جو قبطی قبیلہ میں سے تھا کو چھت کا کام سونپا یہ سب تیاریاں تو ہو رہی تھیں لیکن بیت اللہ کو گرانے کی ہمت نہ پڑتی تھی اس کے قدرتی اسباب بھی مہیا ہو گئے بیت اللہ کے خزانہ میں ایک بڑا اژدھا تھا جب کبھی لوگ اس کے قریب بھی جاتے تو وہ منہ پھاڑ کر ان کی طرف لپکتا تھا یہ سانپ ہر روز اس کنویں سے نکل کر بیت اللہ کی دیواروں پر آ بیٹھتا تھا ایک روز وہ بیٹھا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑا پرندہ بھیجا وہ اسے پکڑ کر لے اڑا قریشیوں نے سمجھ لیا کہ ہمارا ارادہ مرضی مولا کے مطابق ہے لکڑیاں بھی ہمیں مل گئیں بڑھئی بھی ہمارے پاس موجود ہے سانپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے دفع کیا۔

صفحہ نمبر516

اب انہوں نے مستقل ارادہ کر لیا کہ کعبۃ اللہ کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں۔ سب سے پہلے ابو وھب بن عمرو کھڑا ہوا اور ایک پتھر کعبۃ اللہ کو گرا کر اتارا جو اس کے ہاتھ سے اڑ کر پھر وہیں جا کر نصب ہو گیا اس نے تمام قریشیوں سے خطاب کر کے کہا سنو بیت اللہ کے بنانے میں ہر شخص اپنا طیب اور پاک مال خرچ کرے۔ اس میں زناکاری کا روپیہ سودی بیوپار کا روپیہ ظلم سے حاصل کیا ہوا مال نہ لگانا، بعض لوگ کہتے ہیں یہ مشورہ ولید بن مغیرہ نے دیا تھا۔ [سیرت ابن ھشام:204/1] ‏

اب بیت اللہ کے حصے بانٹ لیے گئے دروازہ کا حصہ بنو عبد مناف اور زہرہ بنائیں حجر اسود اور رکن یمانی کا حصہ بنی مخزوم بنائیں۔ قریش کے اور قبائل بھی ان کا ساتھ دیں۔ کعبہ کا پچھلا حصہ بنو جمح اور سہم بنائیں۔ حطیم کے پاس کا حصہ بنو عبدالدار بن قصی اور بنو اسد بن عبد العزی اور بنو عدی بن کعب بنائیں۔ یہ مقرر کر کے اب بنی ہوئی عمارت کو ڈھانے کے لیے چلے لیکن کسی کو ہمت نہیں پڑتی کہ اسے مسمار کرنا شروع کرے آخر ولید بن مغیرہ نے کہا لو میں شروع کرتا ہوں کدال لے کر اوپر چڑھ گئے اور کہنے لگے اے اللہ تجھے خوب علم ہے کہ ہمارا ارادہ برا نہیں ہم تیرے گھر کو اجاڑنا نہیں چاہتے بلکہ اس کے آباد کرنے کی فکر میں ہیں۔ یہ کہہ کر کچھ حصہ دونوں رکن کے کناروں کا گرایا قریشیوں نے کہا بس اب چھوڑو اور رات بھر کا انتظار کرو اگر اس شخص پر کوئی وبال آ جائے تو یہ پتھر اسی جگہ پر لگا دینا اور خاموش ہو جانا اور اگر کوئی عذاب نہ آئے تو سمجھ لینا کہ اس کا گرانا اللہ کو ناپسند نہیں پھر کل سب مل کر اپنے اپنے کام میں لگ جانا چنانچہ صبح ہوئی اور ہر طرح خیریت رہی اب سب آ گئے اور بیت اللہ کی اگلی عمارت کو گرا دیا یہاں تک کہ اصلی نیو یعنی بناء ابراہیمی تک پہنچ گئے یہاں سبز رنگ کے پتھر تھے کے ہلنے کے ساتھ ہی تمام مکہ کی زمین ہلنے لگی تو انہوں نے سمجھ لیا کہ انہیں جدا کر کے اور پتھر ان کی جگہ لگانا اللہ کو منظور نہیں اس لیے ہمارے بس کی بات نہیں اس ارادے سے باز رہے اور ان پتھروں کو اسی طرح رہنے دیا۔ [سیرت ابن ھشام:207/1] ‏

صفحہ نمبر517

پھر ہر قبیلہ نے اپنے اپنے حصہ کے مطابق علیحدہ علیحدہ پتھر جمع کئے اور عمارت بننی شروع ہوئی یہاں تک کہ باقاعدہ جنگ کی نوبت آ گئی فرقے آپس میں کھچ گئے اور لڑائی کی تیاریاں میں مشغول ہو گئے بنو عبد دار اور بنو عدی نے ایک طشتری میں خون بھر کر اس میں ہاتھ ڈبو کر حلف اٹھایا کہ سب کٹ مریں گے لیکن حجر اسود کسی کو نہیں رکھنے دیں گے اسی طرح چار پانچ دن گزر گئے پھر قریش مسجد میں جمع ہوئے کہ آپس میں مشورہ اور انصاف کریں تو ابو امیہ بن مغیرہ نے جو قریش میں سب سے زیادہ معمر اور عقلمند تھے کہا سنو لوگو تم اپنا منصف کسی کو بنا لو وہ جو فیصلہ کرے سب منظور کر لو۔ لیکن پھر منصف بنانے میں بھی اختلاف ہو گا اس لیے ایسا کرو کہ اب جو سب سے پہلے یہاں مسجد میں آئے وہی ہمارا منصف۔ اس رائے پر سب نے اتفاق کر لیا۔ اب منتظر ہیں کہ دیکھیں سب سے پہلے کون آتا ہے؟

صفحہ نمبر518

پس سب سے پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی یہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ منظور ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر رضامند ہیں۔ یہ تو امین ہیں یہ تو محمد [ صلی اللہ علیہ وسلم ] ‏ ہیں۔ پھر سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ کوئی موٹی اور بڑی سی چادر لاؤ وہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود اٹھا کر اپنے دست مبارک سے اس میں رکھا پھر فرمایا ہر قبیلہ کا سردار آئے اور اس کپڑے کا کونہ پکڑ لے اور اس طرح ہر ایک حجر اسود کے اٹھانے کا حصہ دار بنے اس پر سب لوگ بہت ہی خوش ہوئے اور تمام سرداروں نے اسے تھام کر اٹھا لیا۔ جب اس کے رکھنے کی جگہ تک پہنچے تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر اپنے ہاتھ سے اسی جگہ رکھ دیا اور وہ نزاع و اختلاف بلکہ جدال و قتال رفع ہو گیا اور اس طرح اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اپنے گھر میں اس مبارک پتھر کو نصب کرایا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے سے پہلے قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو امین کہا کرتے تھے۔ اب پھر اوپر کا حصہ بنا اور کعبۃ اللہ کی عمارت تمام ہوئی ابن اسحاق موررخ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کعبہ اٹھارہ ہاتھ کا تھا۔ قباطی کا پردہ چڑھایا جاتا تھا پھر چادر کا پردہ چڑھنے لگا۔ ریشمی پردہ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے چڑھایا۔ [سیرت ابن ھشام:211/1] ‏

صفحہ نمبر519

کعبہ کی یہی عمارت رہی یہاں تک کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی ابتدائی زمانہ میں ساٹھ سال کے بعد یہاں آگ لگی اور کعبہ جل گیا۔ یہ یزید بن معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت کا آخری زمانہ تھا اور اس نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا مکہ میں محاصرہ کر رکھا تھا۔ ان دنوں میں خلیفہ مکہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اپنی خالہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جو حدیث سنی تھی اسی کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پر بیت اللہ کو گرا کر ابراہیمی قواعد پر بنایا حطیم اندر شامل کر لیا، مشرق و مغرب دو دروازے رکھے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا اور دروازوں کو زمین کے برابر رکھا آپ کی امارت کے زمانہ تک کعبۃ اللہ یونہی رہا یہاں تک کہ ظالم حجاج کے ہاتھوں آپ شہید ہوئے۔ اب حجاج نے عبدالملک بن مروان کے حکم سے کعبہ کو پھر توڑ کر پہلے کی طرح بنا لیا۔

صفحہ نمبر520

صحیح مسلم شریف میں یزید بن معاویہ کے زمانہ میں جب کہ شامیوں نے مکہ شریف پر چڑھائی کی اور جو ہونا تھا وہ ہوا۔ اس وقت سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو یونہی چھوڑ دیا۔ موسم حج کے موقع پر لوگ جمع ہوئے انہوں نے یہ سب کچھ دیکھا بعد ازاں آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مشورہ لیا کہ کیا کعبۃ اللہ سارے کو گرا کر نئے سرے سے بنائیں یا جو ٹوٹا ہوا ہے اس کی اصلاح کر لیں؟ تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری رائے یہ ہے کہ آب جو ٹوٹا ہوا ہے اسی کی مرمت کر دیں باقی سب پرانا ہے رہنے دیں۔ آپ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جاتا تو وہ تو خوش نہ ہوتا جب تک اسے نئے سرے سے نہ بناتا پھر تم اپنے رب عزوجل کے گھر کی نسبت اتنی کمزور رائے کیوں رکھتے ہو؟ اچھا میں تین دن تک اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر جو سمجھ میں آئے گا وہ کروں گا۔ تین دن کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کی رائے یہی ہوئی کہ باقی ماندہ دیواریں بھی توڑی جائیں اور از سرے نو کعبہ کی تعمیر کی جائے چنانچہ یہ حکم دے دیا لیکن کعبے کو توڑنے کی کسی کی ہمت نہیں پڑتی تھی۔ ڈر تھا کہ جو پہلے توڑنے کے لیے چڑھے گا اس پر عذاب نازل ہو گا لیکن ایک باہمت شخص چڑھ گیا اور اس نے ایک پتھر توڑا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ ایذاء نہیں پہنچی تو اب ڈھانا شروع کیا اور زمین تک برابر یکساں صاف کر دیا اس وقت چاروں طرف ستون کھڑے کر دئیے تھے اور ایک کپڑا تان دیا تھا۔

صفحہ نمبر521

اب بناء بیت اللہ شروع ہوئی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اگر لوگوں کا کفر کا زمانہ قریب نہ ہوتا اور میرے پاس خرچ بھی ہوتا جس سے میں بنا سکوں تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ بیت اللہ میں لے لیتا اور کعبہ کے دو دروازے کرتا ایک آنے کا اور ایک جانے کا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ روایت بیان کر کے فرمایا اب لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہیں رہا ان سے خوف جاتا رہا اور خزانہ بھی معمور ہے میرے پاس کافی روپیہ ہے پھر کوئی وجہ نہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمنا پوری نہ کروں چنانچہ پانچ ہاتھ حطیم اندر لے لی اور اب جو دیوار کھڑی کی تو ٹھیک ابراہیمی بنیاد نظر آنے لگی جو لوگوں نے اپنی آنکھوں دیکھ لی اور اسی پر دیوار کھڑی کی بیت اللہ کا طول اٹھارہ ہاتھ تھا اب جو اس میں پانچ ہاتھ اور بڑھ گیا تو چھوٹا ہو گیا اس لیے طول میں دس ہاتھ اور بڑھایا گیا اور دو دروازے بنائے گئے ایک اندر آنے کا دوسرا باہر جانے کا۔

سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حجاج نے عبدالملک کو لکھا اور ان سے مشورہ لیا کہ اب کیا کیا جائے؟ یہ بھی لکھ بھیجا کہ مکہ شریف کے عادلوں نے دیکھا ہے ٹھیک ابراہیم علیہ السلام کی نیو پر کعبہ تیار ہوا ہے لیکن عبدالملک نے جواب دیا کہ طول کو تو باقی رہنے دو اور حطیم کو باہر کر دو اور دوسرا دروازہ بند کر دو۔ حجاج نے اس حکم کے مطابق کعبہ کو تڑوا کر پھر اسی بنا پر بنا دیا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏ لیکن سنت طریقہ یہی تھا کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بناء کو باقی رکھا جاتا اس لیے کہ حضور علیہ السلام کی چاہت یہی تھی لیکن اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خوف تھا کہ لوگ بدگمانی نہ کریں ابھی نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں۔

صفحہ نمبر522

لیکن یہ حدیث عبدالملک بن مروان کو نہیں پہنچی تھی اس لیے انہوں نے اسے تڑوا دیا جب انہیں حدیث پہنچی تو رنج کرتے تھے اور کہتے تھے کاش کہ ہم یونہی رہنے دیتے اور نہ تڑاتے چنانچہ صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ حارث بن عبیداللہ جب ایک وفد میں عبدالملک بن مروان کے پاس پہنچے تو عبدالملک نے کہا میرا خیال ہے کہ ابو حبیب یعنی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے [ اپنی خالہ ] ‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث سنی ہو گی حارث نے کہا ضرور سنی تھی خود میں نے بھی ام المومنین رضی اللہ عنہا سے سنا ہے پوچھا تم نے کیا سنا ہے؟ کہا میں نے سنا ہے آپ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ عائشہ تیری قوم نے بیت اللہ کو تنگ کر دیا۔ اگر تیری قوم کا زمانہ شرک کے قریب نہ ہوتا تو میں نئے سرے سے ان کی کمی کو پورا کر دیتا لیکن آؤ میں تجھے اصلی نیو بتا دوں شاید کسی وقت تیری قوم پھر اسے اس کی اصلیت پر بنانا چاہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیقہ رضی اللہ عنہا کو حطیم میں سے قریباً سات ہاتھ اندر داخل کرنے کو فرمایا اور فرمایا میں اس کے دروازے بنا دیتا ایک آنے کے لیے اور دوسرا جانے کے لیے اور دونوں دروازے زمین کے برابر رکھتا ایک مشرق رخ رکھتا دوسرا مغرب رخ جانتی بھی ہو کہ تمہاری قوم نے دروازے کو اتنا اونچا کیوں رکھا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے خبر نہیں فرمایا محض اپنی اونچائی اور بڑائی کے لیے کہ جسے چاہیں اندر جانے دیں اور جسے چاہیں داخل نہ ہونے دیں جب کوئی شخص اندر جانا چاہتا تو اسے اوپر سے دھکا دے دیتے وہ گر پڑتا اور جسے داخل کرنا چاہتے اسے ہاتھ تھام کر اندر لے لیتے۔

عبدالملک نے کہا اسے حارث نے خود سنا ہے تو تھوڑی دیر تک تو عبدالملک اپنی لکڑی ٹکائے سوچتے رہے پھر کہنے لگے کاش کہ میں اسے یونہی چھوڑ دیتا۔ [مسند احمد:253/6:صحیح] ‏

صفحہ نمبر523

صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک مرتبہ طواف کرتے ہوئے عبداللہ کو کوس کر کہا کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ پر اس حدیث کا بہتان باندھنا تھا تو حارث نے روکا اور شہادت دی کہ وہ سچے تھے میں نے بھی صدیقہ سے یہ سنا ہے اب عبدالملک افسوس کرنے لگے اور کہنے لگے اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا تو میں ہرگز اسے نہ توڑتا۔ [صحیح مسلم:1333] ‏

قاضی عیاض اور امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے خلیفہ ہارون رشید نے امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں پھر کعبہ کو ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا تھا کہ اگر آپ اجازت دیں تو پھر کعبہ کو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے بنائے ہوئے کے مطابق بنا دوں، حضرت امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا آپ ایسا نہ کیجئے ایسا نہ ہو کہ کعبہ بادشاہوں کا ایک کھلونا بن جائے جو آئے اپنی طبیعت کے مطابق توڑ پھوڑ کرتا رہے چنانچہ خلیفہ اپنے ارادے سے باز رہے یہی بات ٹھیک بھی معلوم ہوتی ہے کہ کعبہ کو باربار چھیڑنا ٹھیک نہیں۔

صفحہ نمبر524

بخاری و مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والا ایک حبشی پھر خراب کرے گا۔ [صحیح بخاری:1591] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں وہ سیاہ فام ایک ایک پتھر الگ الگ کر دے گا۔ [صحیح بخاری:1595] ‏ اس کا غلاف لے جائے گا اور اس کا خزانہ بھی وہ ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا اور گنجا ہو گا میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا وہ کدال بجا رہا ہے اور برابر ٹکڑے کر رہا ہے۔ [مسند احمد:220/2:صحیح بالشواھد] ‏ غالباً یہ ناشدنی واقعہ [ جس کے دیکھنے سے ہمیں محفوظ رکھے ] ‏ یاجوج ماجوج کے نکل چکنے کے بعد ہو گا۔

صفحہ نمبر525

صحیح بخاری شریف کی ایک حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی بیت اللہ شریف کا حج و عمرہ کرو گے۔ [صحیح بخاری:1593] ‏ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان بنا لے یعنی مخلص بنا لے مطیع بنا لے موحد بنا، ہر شر سے بچا۔ ریا کاری سے محفوظ رکھ خشوع وخضوع عطا فرما۔ حضرت سلام بن ابی مطیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسلمان تو تھے ہی لیکن اسلام کی ثابت قدمی طلب کرتے ہیں جس کے جواب میں ارشاد باری ہوا «قد فعلت» میں نے تمہاری یہ دعا قبول فرمائی پھر اپنی اولاد کے لیے بھی یہی دعا کرتے ہیں جو قبول ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل بھی آپ علیہ السلام کی اولاد میں ہیں اور عرب بھی قرآن میں ہے آیت «وَمِنْ قَوْمِ مُوْسٰٓي اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ» [ 7۔ الاعراف: 159 ] ‏ یعنی موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں ایک جماعت حق عدل پر تھی۔

لیکن روانی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے لیے یہ دعا گو عام طور پر دوسروں پر بھی مشتمل ہو اس لیے کہ اس کے بعد دوسری دعا میں ہے کہ ان میں ایک رسول بھیج اور اس رسول سے مراد محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں چنانچہ یہ دعا بھی پوری ہوئی جیسے فرمایا آیت «هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ» [ 62-الجمعہ: 2 ] ‏ لیکن اس سے آپ کی رسالت خاص نہیں ہوتی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت عام ہے عرب و عجم سب کے لیے جیسے آیت «قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَا» [ 7۔ الاعراف: 158 ] ‏ کہہ دو کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

صفحہ نمبر526

ان دونوں نبیوں کی یہ دعا جیسی ہے ایسی ہی ہر متقی کی دعا ہونی چاہیئے۔ جیسے قرآنی تعلیم ہے کہ مسلمان یہ دعا کریں آیت «رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْيُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا» [ 25۔ الفرقان: 74 ] ‏ اے ہمارے رب ہمیں ہماری بیویوں اور اولادوں سے ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی محبت کی دلیل ہے انسان یہ چاہے کہ میری اولاد میرے بعد بھی اللہ کی عابد رہے۔ اور جگہ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں آیت «وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ» [ 14۔ ابراہیم: 35 ] ‏ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں انسان کے مرتے ہی اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں مگر تین کام جاری رہتے ہیں صدقہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے اور نیک اولاد جو دعا کرتی رہے [صحیح مسلم:1631] ‏ پھر آپ علیہ السلام دعا کرتے ہیں کہ ہمیں مناسک دکھا یعنی احکام و ذبح وغیرہ سکھا۔ جبرائیل علیہ السلام آپ علیہ السلام کو لے کر کعبہ کی عمارت پوری ہو جانے کے بعد صفا پر آتے ہیں پھر مروہ پر جاتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ شعائر اللہ ہیں پھر منیٰ کی طرف لے چلے عقبہ پر شیطان درخت کے پاس کھڑا ہوا ملا تو فرمایا تکبیر پڑھ کر اسے کنکر مارو۔ ابلیس یہاں سے بھاگ کر جمرہ وسطی کے پاس جا کھڑا ہوا۔ یہاں بھی اسے کنکریاں ماریں تو یہ خبیث ناامید ہو کر چلا گیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ حج کے احکام میں کچھ دخل دے لیکن موقع نہ ملا اور مایوس ہو گیا یہاں سے آپ کو مشعر الحرام میں لائے پھر عرفات میں پہنچایا پھر تین مرتبہ پوچھا ”کہو سمجھ لیا۔‏“ آپ علیہ السلام نے فرمایا ”ہاں“ [تفسیر ابن ابی حاتم:387/1] ‏ دوسری روایت میں تین جگہ شیطان کو کنکریاں مارنی مروی ہیں اور یہ شیطان کو سات سات کنکریاں ماری ہیں۔

صفحہ نمبر527

دعائے ابراہیم علیہ السلام کا ماحصل ٭٭

اہل حرم کے لیے یہ دعا بھی ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی رسول ان میں آئے چنانچہ یہ بھی پوری ہوئی۔ مسند احمد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں“ میں اللہ جل شانہ کے نزدیک آخری نبی اس وقت سے ہوں جبکہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی کی صورت میں تھے“ میں تمہیں ابتدائی امر بتاؤں میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی ماں کا خواب ہوں۔“ انبیا علیہ السلام کی واکدہ کو ایسے ہی خواب آتے ہیں۔ [مسند احمد:127/4:ضعیف] ‏ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت کا شروع تو ہمیں بتائیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور میری خوشخبری جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی اور میری ماں نے دیکھا کہ گویا ان میں سے ایک نور نکلا، جس سے شام کے محل چمکا دئیے۔ [مسند احمد:262/5:صحیح لغیرہ] ‏ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں شہرت کا ذریعہ یہ چیزیں ہوئی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ صاحبہ کا خواب بھی عرب میں پہلے ہی مشہور ہو گیا تھا اور وہ کہتے ہیں کہ بطن آمنہ سے کوئی بڑا شخص پیدا ہو گا بنی اسرائیل کے نبیوں کے ختم کرنے والے روح اللہ نے تو بنی اسرائیل میں خطبہ پڑھتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا صاف نام بھی لے دیا اور فرمایا لوگو میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، مجھ سے پہلے کی کتاب توراۃ کی میں تصدیق کرتا ہوں اور میرے بعد آنے والے نبی کی میں تمہیں بشارت دیتا ہوں جن کا نام احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم [61-الصف:6] ‏ اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے، خواب میں نور سے شام کے محلات کا چمک اٹھنا اشارہ ہے، اس امر کی طرف کہ دین وہاں جم جائے گا۔

بلکہ روایتوں سے ثابت ہے کہ آخر زمانہ میں شام اسلام اور اہل اسلام کا مرکز بن جائے گا۔ شام کے مشہور شہر دمشق ہی میں عیسیٰ علیہ السلام شرقی سفید مینارہ پر نازل ہوں گے۔ بخاری مسلم میں ہے“ میری امت کی ایک جماعت حق پر قائم رہے گی، ان کے مخالفین انہیں نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ امر اللہ آ جائے“ [صحیح بخاری:7460] ‏ صحیح بخاری میں اتنی زیادتی اور ہے کہ“ وہ شام میں ہوں گے۔“ [صحیح بخاری:3641] ‏

ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ یہ بھی اسی مقبول دعا کا ایک حصہ ہے کہ اور یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آخر زمانہ میں مبعوث ہوں گے۔“ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت و حدیث ہے حسن اور قتادہ اور مقاتل بن حیان اور ابومالک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہی فرمان ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:390/1] ‏ اور حکمت سے مراد دین کی سمجھ بوجھ بھی ہے۔ پاک کرنا یعنی طاعت و اخلاص سیکھنا، بھلائیاں کرانا، برائیوں سے بچانا، اطاعت الٰہی کر کے رضائے رب حاصل کرنا، نافرمانی سے بچ کر ناراضگی سے محفوظ رہنا۔ اللہ عزیز ہے جسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی جو ہر چیز پر غالب ہے وہ حکیم ہے یعنی اس کا کوئی قول و فعل حکمت سے خالی نہیں، وہ ہر چیز کو اپنے محل پر ہی حکمت وعدل و علم کے ساتھ رکھتا ہے۔

صفحہ نمبر531

توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر ٭٭

ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ خلیل اللہ علیہ السلام تو موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروا نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ آیت «قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6۔ الانعام: 79، 78 ] ‏ میں بیزار ہوں، اس چیز سے جسے تم شریک کرتے ہو میں نے تو یکسو ہو کر اپنی تمام تر توجہ اس پاک ذات کی طرف کر دی ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔

اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری ہوں تو اپنے خالق ہی کا گرویدہ ہوں، وہی مجھے راہ راست دکھائے گا۔ اور جگہ ہے آیت «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ حَلِيمٌ» [ 9۔ التوبہ: 114 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے بھی صرف ایک وعدے کی بنا پر استغفار کی تھی لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے۔

صفحہ نمبر532

ابراھیم علیہ السلام بڑے ہی رجوع کرنے والے اور بردبار تھے۔ اور جگہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام مخلص اور مطیع امت تھے۔ مشرک ہرگز نہ تھے، رب کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ رب کعبہ کے پسندیدہ تھے اور راہ راست پر لگے ہوئے تھے، دنیا کے بھلے لوگوں میں سے تھے اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں ہوں گے۔ [16-النحل:120-122] ‏ ان آیتوں کی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ”اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بے تدبیر اور گمراہ لوگ ہی ملت ابراہیمی کو ترک کرتے ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا اور بچپن سے ہی توفیق حق دے رکھی تھی، خلیل جیسا معزز خطاب انہی کو دیا گیا۔ وہ آخرت میں بھی سعید بخت لوگوں میں ہیں۔ ان کے مسلک و ملت کو چھوڑ کر ضلالت و گمراہی میں پڑنے والے سے زیادہ بیوقوف اور ظالم اور کون ہو گا؟“ اس آیت میں یہودیوں کا بھی رد ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک بلکہ موحد مسلمان اور مخلص تھے ان سے دوستی رکھنے والے صرف وہی ہیں جو ان کے فرماں بردار ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایماندار اوور اللہ بھی مومنوں کا ولی ہے، جب کبھی اللہ فرماتا کہ یہ مان لو وہ جواب دیتے کہ اے رب العالمین میں نے مان لیا، اسی ملت و حدانیت کی وصیت ابراہیم علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی کی۔ ھا کی ضمیر کا مرجع یا تو ملت ہے یا کلمہ۔

صفحہ نمبر533

ملت سے مراد اسلام اور کلمہ سے مراد آیت «قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [ البقرہ: 131 ] ‏ ہے۔ دیکھئے ان کے دل میں اسلام کی کس قدر محبت و عزت تھی کہ خود بھی اس پر مدت العمر عامل رہے، اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ اور جگہ ہے آیت «وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 28 ] ‏ ہم نے اس کلمہ کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا، بعض سلف نے «ویعقوب» بھی پڑھا تو بینہ پر عطف ہو گا اور مطلب یہ ہو گا کہ خلیل اللہ نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد میں یعقوب علیہ السلام کو جو اس وقت موجود تھے دین اسلام کی استقامت کی وصیت کی۔

قشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”حضرت یعقوب، ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے بعد پیدا ہوئے تھے“، لیکن یہ مجرد دعویٰ ہے، جس پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے ہاں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ قرآن پاک کی آیت میں ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ 11۔ ہود: 71 ] ‏ یعنی ہم نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اس کا نصب خفض کو ہٹا کر بھی پڑھا گیا ہے پس اگر یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں موجود نہ ہوں تو پھر ان کا نام لینے میں کوئی زبردست فائدہ باقی نہیں رہتا۔ سورۃ العنکبوت میں بھی ہے کہ «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [ 29-العنكبوت: 27 ] ‏ ہم ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیہم السلام عطا فرمایا اور اس کی اولاد میں ہم نے نبوت و کتاب دی اور اسی آیت میں ہے ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب زائد عطا فرمایا۔ [21-الأنبياء:72] ‏ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی تھے اگلی کتابوں میں بھی ہے کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مسجد پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد الحرام پوچھا۔ پھر فرمایا، مسجد بیت المقدس میں نے کہا دونوں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ فرمایا چالیس سال۔ [صحیح بخاری:3366] ‏ ابن حبان نے کہا ہے کہ ”حضرت ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام کی درمیانی مدت سے متعلق یہ بیان ہے“ حالانکہ یہ قول بالکل الٹ ہے۔ ان دونوں نبیوں کے درمیان تو ہزاروں سال کی مدت تھی بلکہ مطلب حدیث کا کچھ اور ہی ہے اور شاہ زمان سلیمان علیہ الصلوۃ الرحمن تو اس مسجد کے مجدد تھے، موجد نہ تھے۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام نے بھی وصیت کی تھی، جیسے عنقریب ذکر آئے گا۔ وصیت اس امر کی ہوتی ہے جب تک زندہ رہو مسلمان ہو کر رہو تاکہ موت بھی اسی پر آئے۔

صفحہ نمبر534

موت اور ہمارے اعمال ٭٭

عموماً انسان زندگی میں جن اعمال پر رہتا ہے، اسی پر موت بھی آتی ہے اور جس پر مرتا ہے، اس پر اٹھے گا بھی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ بھلائی کے قصد کرنے والے کو بھلائی کی توفیق بھی دی جاتی ہے۔ بھلائی اس پر آسان بھی کر دی جاتی ہے اور اسے ثابت قدم بھی رکھا جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انسان جنتیوں کے کام کرتے کرتے جنت میں ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے کہ اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنمی بن جاتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏ لیکن اس سے مطلب یہ ہے کہ یہ کام اچھے برے ظاہری ہوتے ہیں، حقیقی نہیں ہوتے۔ چنانچہ بعض روایات میں یہ لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:2898] ‏ قرآن کہتا ہے سخاوت، تقویٰ اور لا الہٰ الا اللہ کی تصدیق کرنے والے کو ہم آسانی کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور بخل و بےپرواہی اور بھلی بات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ہم سختی کی راہ آسان کر دیتے ہیں۔ [92-الليل:5-10] ‏

صفحہ نمبر535

توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر ٭٭

ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ خلیل اللہ علیہ السلام تو موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروا نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ آیت «قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6۔ الانعام: 79، 78 ] ‏ میں بیزار ہوں، اس چیز سے جسے تم شریک کرتے ہو میں نے تو یکسو ہو کر اپنی تمام تر توجہ اس پاک ذات کی طرف کر دی ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔

اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری ہوں تو اپنے خالق ہی کا گرویدہ ہوں، وہی مجھے راہ راست دکھائے گا۔ اور جگہ ہے آیت «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ حَلِيمٌ» [ 9۔ التوبہ: 114 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے بھی صرف ایک وعدے کی بنا پر استغفار کی تھی لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے۔

صفحہ نمبر532

ابراھیم علیہ السلام بڑے ہی رجوع کرنے والے اور بردبار تھے۔ اور جگہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام مخلص اور مطیع امت تھے۔ مشرک ہرگز نہ تھے، رب کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ رب کعبہ کے پسندیدہ تھے اور راہ راست پر لگے ہوئے تھے، دنیا کے بھلے لوگوں میں سے تھے اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں ہوں گے۔ [16-النحل:120-122] ‏ ان آیتوں کی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ”اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بے تدبیر اور گمراہ لوگ ہی ملت ابراہیمی کو ترک کرتے ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا اور بچپن سے ہی توفیق حق دے رکھی تھی، خلیل جیسا معزز خطاب انہی کو دیا گیا۔ وہ آخرت میں بھی سعید بخت لوگوں میں ہیں۔ ان کے مسلک و ملت کو چھوڑ کر ضلالت و گمراہی میں پڑنے والے سے زیادہ بیوقوف اور ظالم اور کون ہو گا؟“ اس آیت میں یہودیوں کا بھی رد ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک بلکہ موحد مسلمان اور مخلص تھے ان سے دوستی رکھنے والے صرف وہی ہیں جو ان کے فرماں بردار ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایماندار اوور اللہ بھی مومنوں کا ولی ہے، جب کبھی اللہ فرماتا کہ یہ مان لو وہ جواب دیتے کہ اے رب العالمین میں نے مان لیا، اسی ملت و حدانیت کی وصیت ابراہیم علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی کی۔ ھا کی ضمیر کا مرجع یا تو ملت ہے یا کلمہ۔

صفحہ نمبر533

ملت سے مراد اسلام اور کلمہ سے مراد آیت «قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [ البقرہ: 131 ] ‏ ہے۔ دیکھئے ان کے دل میں اسلام کی کس قدر محبت و عزت تھی کہ خود بھی اس پر مدت العمر عامل رہے، اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ اور جگہ ہے آیت «وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 28 ] ‏ ہم نے اس کلمہ کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا، بعض سلف نے «ویعقوب» بھی پڑھا تو بینہ پر عطف ہو گا اور مطلب یہ ہو گا کہ خلیل اللہ نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد میں یعقوب علیہ السلام کو جو اس وقت موجود تھے دین اسلام کی استقامت کی وصیت کی۔

قشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”حضرت یعقوب، ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے بعد پیدا ہوئے تھے“، لیکن یہ مجرد دعویٰ ہے، جس پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے ہاں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ قرآن پاک کی آیت میں ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ 11۔ ہود: 71 ] ‏ یعنی ہم نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اس کا نصب خفض کو ہٹا کر بھی پڑھا گیا ہے پس اگر یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں موجود نہ ہوں تو پھر ان کا نام لینے میں کوئی زبردست فائدہ باقی نہیں رہتا۔ سورۃ العنکبوت میں بھی ہے کہ «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [ 29-العنكبوت: 27 ] ‏ ہم ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیہم السلام عطا فرمایا اور اس کی اولاد میں ہم نے نبوت و کتاب دی اور اسی آیت میں ہے ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب زائد عطا فرمایا۔ [21-الأنبياء:72] ‏ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی تھے اگلی کتابوں میں بھی ہے کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مسجد پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد الحرام پوچھا۔ پھر فرمایا، مسجد بیت المقدس میں نے کہا دونوں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ فرمایا چالیس سال۔ [صحیح بخاری:3366] ‏ ابن حبان نے کہا ہے کہ ”حضرت ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام کی درمیانی مدت سے متعلق یہ بیان ہے“ حالانکہ یہ قول بالکل الٹ ہے۔ ان دونوں نبیوں کے درمیان تو ہزاروں سال کی مدت تھی بلکہ مطلب حدیث کا کچھ اور ہی ہے اور شاہ زمان سلیمان علیہ الصلوۃ الرحمن تو اس مسجد کے مجدد تھے، موجد نہ تھے۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام نے بھی وصیت کی تھی، جیسے عنقریب ذکر آئے گا۔ وصیت اس امر کی ہوتی ہے جب تک زندہ رہو مسلمان ہو کر رہو تاکہ موت بھی اسی پر آئے۔

صفحہ نمبر534

موت اور ہمارے اعمال ٭٭

عموماً انسان زندگی میں جن اعمال پر رہتا ہے، اسی پر موت بھی آتی ہے اور جس پر مرتا ہے، اس پر اٹھے گا بھی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ بھلائی کے قصد کرنے والے کو بھلائی کی توفیق بھی دی جاتی ہے۔ بھلائی اس پر آسان بھی کر دی جاتی ہے اور اسے ثابت قدم بھی رکھا جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انسان جنتیوں کے کام کرتے کرتے جنت میں ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے کہ اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنمی بن جاتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏ لیکن اس سے مطلب یہ ہے کہ یہ کام اچھے برے ظاہری ہوتے ہیں، حقیقی نہیں ہوتے۔ چنانچہ بعض روایات میں یہ لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:2898] ‏ قرآن کہتا ہے سخاوت، تقویٰ اور لا الہٰ الا اللہ کی تصدیق کرنے والے کو ہم آسانی کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور بخل و بےپرواہی اور بھلی بات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ہم سختی کی راہ آسان کر دیتے ہیں۔ [92-الليل:5-10] ‏

صفحہ نمبر535

توحید کے دعوے اور مشرکین کا ذکر ٭٭

ان آیتوں میں بھی مشرکین کی تردید ہے کہ جو اپنے آپ کو دین ابراہیمی پر بتاتے تھے حالانکہ کامل مشرک تھے جبکہ خلیل اللہ علیہ السلام تو موحدوں کے امام تھے۔ توحید کو شرک سے ممتاز کرنے والے تھے عمر بھر میں ایک آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا بلکہ ہر مشرک سے اور ہر قسم کے شرک سے اور ہر غیر اللہ سے جو اللہ مانا جاتا ہو وہ دل سے نفرت کرتے تھے اور ان سب سے بیزار تھے۔ اسی بنا پر قوم سے الگ ہوئے وطن چھوڑا بلکہ باپ تک کی مخالفت کی پروا نہ کی اور صاف کہہ دیا کہ آیت «قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ» [ 6۔ الانعام: 79، 78 ] ‏ میں بیزار ہوں، اس چیز سے جسے تم شریک کرتے ہو میں نے تو یکسو ہو کر اپنی تمام تر توجہ اس پاک ذات کی طرف کر دی ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے، میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں۔

اور فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے صاف کہہ دیا کہ میں تمہارے معبودوں سے بری ہوں تو اپنے خالق ہی کا گرویدہ ہوں، وہی مجھے راہ راست دکھائے گا۔ اور جگہ ہے آیت «وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ حَلِيمٌ» [ 9۔ التوبہ: 114 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے لیے بھی صرف ایک وعدے کی بنا پر استغفار کی تھی لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے۔

صفحہ نمبر532

ابراھیم علیہ السلام بڑے ہی رجوع کرنے والے اور بردبار تھے۔ اور جگہ ہے کہ ابراھیم علیہ السلام مخلص اور مطیع امت تھے۔ مشرک ہرگز نہ تھے، رب کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، اللہ رب کعبہ کے پسندیدہ تھے اور راہ راست پر لگے ہوئے تھے، دنیا کے بھلے لوگوں میں سے تھے اور آخرت میں بھی صالح لوگوں میں ہوں گے۔ [16-النحل:120-122] ‏ ان آیتوں کی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ”اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بے تدبیر اور گمراہ لوگ ہی ملت ابراہیمی کو ترک کرتے ہیں کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے ہدایت کے لیے چن لیا تھا اور بچپن سے ہی توفیق حق دے رکھی تھی، خلیل جیسا معزز خطاب انہی کو دیا گیا۔ وہ آخرت میں بھی سعید بخت لوگوں میں ہیں۔ ان کے مسلک و ملت کو چھوڑ کر ضلالت و گمراہی میں پڑنے والے سے زیادہ بیوقوف اور ظالم اور کون ہو گا؟“ اس آیت میں یہودیوں کا بھی رد ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَـٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّـهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ» [ 3-آل عمران: 67، 68 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک بلکہ موحد مسلمان اور مخلص تھے ان سے دوستی رکھنے والے صرف وہی ہیں جو ان کے فرماں بردار ہوئے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایماندار اوور اللہ بھی مومنوں کا ولی ہے، جب کبھی اللہ فرماتا کہ یہ مان لو وہ جواب دیتے کہ اے رب العالمین میں نے مان لیا، اسی ملت و حدانیت کی وصیت ابراہیم علیہ السلام و یعقوب علیہ السلام نے اپنی اولاد کو بھی کی۔ ھا کی ضمیر کا مرجع یا تو ملت ہے یا کلمہ۔

صفحہ نمبر533

ملت سے مراد اسلام اور کلمہ سے مراد آیت «قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ» [ البقرہ: 131 ] ‏ ہے۔ دیکھئے ان کے دل میں اسلام کی کس قدر محبت و عزت تھی کہ خود بھی اس پر مدت العمر عامل رہے، اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ اور جگہ ہے آیت «وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [ 43۔ الزخرف: 28 ] ‏ ہم نے اس کلمہ کو ان کی اولاد میں بھی باقی رکھا، بعض سلف نے «ویعقوب» بھی پڑھا تو بینہ پر عطف ہو گا اور مطلب یہ ہو گا کہ خلیل اللہ نے اپنی اولاد کو اور اولاد کی اولاد میں یعقوب علیہ السلام کو جو اس وقت موجود تھے دین اسلام کی استقامت کی وصیت کی۔

قشیری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”حضرت یعقوب، ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے بعد پیدا ہوئے تھے“، لیکن یہ مجرد دعویٰ ہے، جس پر کوئی صحیح دلیل نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام اسحاق علیہ السلام کے ہاں ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے کیونکہ قرآن پاک کی آیت میں ہے آیت «فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ وَمِنْ وَّرَاءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ» [ 11۔ ہود: 71 ] ‏ یعنی ہم نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی اور اسحاق علیہ السلام کے پیچھے یعقوب علیہ السلام کی خوشخبری دی اور اس کا نصب خفض کو ہٹا کر بھی پڑھا گیا ہے پس اگر یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی حیات میں موجود نہ ہوں تو پھر ان کا نام لینے میں کوئی زبردست فائدہ باقی نہیں رہتا۔ سورۃ العنکبوت میں بھی ہے کہ «وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ» [ 29-العنكبوت: 27 ] ‏ ہم ابراہیم علیہ السلام کو اسحاق و یعقوب علیہم السلام عطا فرمایا اور اس کی اولاد میں ہم نے نبوت و کتاب دی اور اسی آیت میں ہے ہم نے اسے اسحاق دیا اور یعقوب زائد عطا فرمایا۔ [21-الأنبياء:72] ‏ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب ابراہیم علیہ السلام کی زندگی میں ہی تھے اگلی کتابوں میں بھی ہے کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے۔

سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ پوچھتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مسجد پہلے تعمیر کی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجد الحرام پوچھا۔ پھر فرمایا، مسجد بیت المقدس میں نے کہا دونوں کے درمیان کس قدر مدت تھی؟ فرمایا چالیس سال۔ [صحیح بخاری:3366] ‏ ابن حبان نے کہا ہے کہ ”حضرت ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام کی درمیانی مدت سے متعلق یہ بیان ہے“ حالانکہ یہ قول بالکل الٹ ہے۔ ان دونوں نبیوں کے درمیان تو ہزاروں سال کی مدت تھی بلکہ مطلب حدیث کا کچھ اور ہی ہے اور شاہ زمان سلیمان علیہ الصلوۃ الرحمن تو اس مسجد کے مجدد تھے، موجد نہ تھے۔ اسی طرح یعقوب علیہ السلام نے بھی وصیت کی تھی، جیسے عنقریب ذکر آئے گا۔ وصیت اس امر کی ہوتی ہے جب تک زندہ رہو مسلمان ہو کر رہو تاکہ موت بھی اسی پر آئے۔

صفحہ نمبر534

موت اور ہمارے اعمال ٭٭

عموماً انسان زندگی میں جن اعمال پر رہتا ہے، اسی پر موت بھی آتی ہے اور جس پر مرتا ہے، اس پر اٹھے گا بھی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ بھلائی کے قصد کرنے والے کو بھلائی کی توفیق بھی دی جاتی ہے۔ بھلائی اس پر آسان بھی کر دی جاتی ہے اور اسے ثابت قدم بھی رکھا جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انسان جنتیوں کے کام کرتے کرتے جنت میں ایک ہاتھ دور رہ جاتا ہے کہ اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جہنمیوں کا کام کر کے جہنمی بن جاتا ہے اور کبھی اس کے خلاف بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:6594] ‏ لیکن اس سے مطلب یہ ہے کہ یہ کام اچھے برے ظاہری ہوتے ہیں، حقیقی نہیں ہوتے۔ چنانچہ بعض روایات میں یہ لفظ بھی ہیں۔ [صحیح بخاری:2898] ‏ قرآن کہتا ہے سخاوت، تقویٰ اور لا الہٰ الا اللہ کی تصدیق کرنے والے کو ہم آسانی کا راستہ آسان کر دیتے ہیں اور بخل و بےپرواہی اور بھلی بات کی تکذیب کرنے والوں کے لیے ہم سختی کی راہ آسان کر دیتے ہیں۔ [92-الليل:5-10] ‏

صفحہ نمبر535

ازلی اور ابدی مستحق عبادت اللہ وحدہ لا شریک ٭٭

مشرکین عرب پر جو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے اور کفار بنی اسرائیل پر جو یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے دلیل لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یعقوب نے تو اپنی اولاد کو اپنے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی وصیت کی تھی ان سے پہلے تو پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ سب نے جواب دیا کہ آپ کے اور آپ کے بزرگوں کے معبود بر حق کی۔ یعقوب علیہ السلام اسحٰق علیہ السلام کے لڑکے اور اسحٰق ابراہیم علیہ السلام کے۔ اسماعیل علیہ السلام کا نام باپ دادوں کے ذکر میں بطور تغلیب کے آ گیا ہے کیونکہ آپ چچا ہوتے ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ عرب میں چچا کو بھی باپ کہہ دیتے ہیں۔ [تفسیر قرطبی:138/2] ‏ اس آیت سے استدلال کر کے دادا کو بھی باپ کے حکم میں رکھ کر دادا کی موجودگی میں بہن بھائی کو ورثہ سے محروم کیا ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کا فیصلہ یہی ہے جیسے کہ صحیح بخاری شریک میں موجود ہے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک مشہور روایت میں امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ بھائیوں بہنوں کو بھی وارث قرار دیتے ہیں۔

سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، بصریٰ طاؤس اور عطا رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور بہت سے سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ قاضی ابو یوسف اور محمد بن حسن بھی یہی کہتے ہیں اور یہ دونوں امام ابوحنیفہ کے شاگرد رشید ہیں اس مسئلہ کی صفائی کا یہ مقام نہیں اور نہ تفسیر کا یہ موضوع ہے۔

صفحہ نمبر538

ان سب بچوں نے اقرار کیا کہ ہم ایک ہی معبود کی عبادت کریں گے یعنی اس اللہ کی الوہیت میں کسی کو شریک نہ کریں گے اور ہم اس کی اطاعت گزاری، فرمانبرداری اور خشوع و خضوع میں مشغول رہا کریں گے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ» [ 3- آل عمران: 83 ] ‏ زمین و آسمان کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اس کی مطیع ہے، اس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام رہا ہے اگرچہ احکام میں اختلاف رہا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ 21۔ الانبیآء: 25 ] ‏ یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت سی ہیں اور احادیث میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہم علاتی بھائی ہیں، ہمارا دین ایک ہے“ [صحیح بخاری:2443] ‏ پھر فرماتا ہے یہ امت جو گزر چکی تمہیں ان کی طرف نسبت نفع نہ دے گی ہاں اگر عمل ہوں تو اور بات ہے، ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم ان کے افعال کے بارے میں نہیں پوچھے جاؤ گے۔ حدیث شریف میں ہے جس کا عمل اچھا نہ ہو گا اس کا نسب اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ [صحیح مسلم:2699] ‏

صفحہ نمبر539

ازلی اور ابدی مستحق عبادت اللہ وحدہ لا شریک ٭٭

مشرکین عرب پر جو اسماعیل علیہ السلام کی اولاد تھے اور کفار بنی اسرائیل پر جو یعقوب علیہ السلام کی اولاد تھے دلیل لاتے ہوئے اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ یعقوب نے تو اپنی اولاد کو اپنے آخری وقت میں اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی وصیت کی تھی ان سے پہلے تو پوچھا کہ تم میرے بعد کس کی عبادت کرو گے؟ سب نے جواب دیا کہ آپ کے اور آپ کے بزرگوں کے معبود بر حق کی۔ یعقوب علیہ السلام اسحٰق علیہ السلام کے لڑکے اور اسحٰق ابراہیم علیہ السلام کے۔ اسماعیل علیہ السلام کا نام باپ دادوں کے ذکر میں بطور تغلیب کے آ گیا ہے کیونکہ آپ چچا ہوتے ہیں اور یہ بھی واضح رہے کہ عرب میں چچا کو بھی باپ کہہ دیتے ہیں۔ [تفسیر قرطبی:138/2] ‏ اس آیت سے استدلال کر کے دادا کو بھی باپ کے حکم میں رکھ کر دادا کی موجودگی میں بہن بھائی کو ورثہ سے محروم کیا ہے۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہما کا فیصلہ یہی ہے جیسے کہ صحیح بخاری شریک میں موجود ہے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور ایک مشہور روایت میں امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ بھائیوں بہنوں کو بھی وارث قرار دیتے ہیں۔

سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، بصریٰ طاؤس اور عطا رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور بہت سے سلف و خلف کا مذہب بھی یہی ہے۔ قاضی ابو یوسف اور محمد بن حسن بھی یہی کہتے ہیں اور یہ دونوں امام ابوحنیفہ کے شاگرد رشید ہیں اس مسئلہ کی صفائی کا یہ مقام نہیں اور نہ تفسیر کا یہ موضوع ہے۔

صفحہ نمبر538

ان سب بچوں نے اقرار کیا کہ ہم ایک ہی معبود کی عبادت کریں گے یعنی اس اللہ کی الوہیت میں کسی کو شریک نہ کریں گے اور ہم اس کی اطاعت گزاری، فرمانبرداری اور خشوع و خضوع میں مشغول رہا کریں گے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ» [ 3- آل عمران: 83 ] ‏ زمین و آسمان کی ہر چیز خوشی اور ناخوشی سے اس کی مطیع ہے، اس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے تمام انبیاء کا دین یہی اسلام رہا ہے اگرچہ احکام میں اختلاف رہا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ 21۔ الانبیآء: 25 ] ‏ یعنی تجھ سے پہلے جتنے رسول ہم نے بھیجے سب کی طرف وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، تم سب میری ہی عبادت کرتے رہو۔ اور آیتیں بھی اس مضمون کی بہت سی ہیں اور احادیث میں بھی یہ مضمون بکثرت وارد ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”ہم علاتی بھائی ہیں، ہمارا دین ایک ہے“ [صحیح بخاری:2443] ‏ پھر فرماتا ہے یہ امت جو گزر چکی تمہیں ان کی طرف نسبت نفع نہ دے گی ہاں اگر عمل ہوں تو اور بات ہے، ان کے اعمال ان کے ساتھ اور تمہارے اعمال تمہارے ساتھ تم ان کے افعال کے بارے میں نہیں پوچھے جاؤ گے۔ حدیث شریف میں ہے جس کا عمل اچھا نہ ہو گا اس کا نسب اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ [صحیح مسلم:2699] ‏

صفحہ نمبر539

ملتِ ابراھیمی اللہ کے راستے پر ہیں ٭٭

عبداللہ بن صوریا اعور نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ ہدایت پر ہم ہیں تم ہماری مانو تو تمہیں بھی ہدایت ملے گی۔ نصرانیوں نے بھی یہی کہا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:396/1] ‏ کہ ہم تو ابراہیم حنیف علیہ السلام کے متبع ہیں جو استقامت والے، اخلاص والے، حج والے، بیت اللہ کی طرف منہ کرنے والے، استطاعت کے وقت حج کو فرض جاننے والے، اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے، تمام رسولوں پر ایمان لانے والے لا الہٰ الا اللہ کی شہادت دینے والے، ماں بیٹی خالہ پھوپھی کو حرام جاننے والے اور تمام حرام کاریوں سے بچنے والے تھے۔ حنیف کے یہ سب معنی مختلف حضرات نے بیان کئے ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:397/1] ‏

صفحہ نمبر541

اہل کتاب کی تصدیق یا تکذیب! ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو ارشاد فرماتا ہے کہ جو کچھ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر اترا اس پر تو وہ تفصیل وار ایمان لائیں اور جو آپ سے پہلے انبیاء پر اترا، اس پر بھی اجمالاً ایمان لائیں۔ ان اگلے انبیاء کرام میں سے بعض کے نام بھی لے دیے اور باقی نبیوں کا مجمل ذکر کر دیا۔ ساتھ ہی فرمایا کہ یہ کسی نبی کے درمیان تفریق نہ کریں کہ ایک کو مانیں اور دوسرے سے انکار کر جائیں جو عادت اوروں کی تھی کہ وہ انبیاء میں تفریق کرتے تھے، کسی کو مانتے تھے، کسی سے انکاری تھے، یہودی عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تینوں کو نہیں مانتے تھے۔ ان سب کو فتویٰ ملا کہ آیت «اُولٰىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا» [ 4۔ النسآء: 151 ] ‏ یہ لوگ بالیقین کافر ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اہل کتاب توراۃ کو عبرانی میں پڑھتے تھے اور عربی میں تفسیر کر کے اہل اسلام کو سناتے تھے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی سچائی یا تکذیب نہ کرو۔ کہہ دیا کرو۔ [صحیح بخاری:4485] ‏ اللہ پر اور اس کی نازل ہوئی کتابوں پر ہمارا ایمان ہے۔ [صحیح مسلم:727] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی دو سنتوں میں پہلی رکعت میں یہ آیت «اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا» [ 2۔ البقرہ: 136 ] ‏ پوری آیت اور دوسری رکعت میں آیت «اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَاشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ» [ 3۔ آل عمران: 52 ] ‏ پڑھا کرتے تھے۔ [صحیح مسلم:727] ‏

صفحہ نمبر542

اسباط یعقوب علیہ السلام کے بیٹوں کو کہتے ہیں، جو بارہ تھے، جن میں سے ہر ایک کی نسل میں بہت سے انسان ہوئے، بنی اسماعیل کو قبائل کہتے تھے، اور بنی اسرائیل کو اسباط کہتے تھے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:399/1] ‏ زمخشری نے کشاف میں لکھا ہے کہ یہ یعقوب کے پوتے تھے جو ان کے بارہ لڑکوں کی اولاد تھی۔ بخاری میں ہے کہ مراد قبائل بنی اسرائیل ہیں۔ ان میں بھی نبی ہوئے تھے جن پر وحی نازل ہوئی تھی۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا آیت «إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ» [ 5۔ المائدہ: 20 ] ‏ اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ اس نے تم میں انبیاء اور بادشاہ بنائے۔ اور جگہ ہے آیت «وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا» [ 7۔ الاعراف: 160 ] ‏ ہم نے ان کے بارہ گروہ کر دئے۔ سبط کہتے ہیں درخت کو یعنی یہ مثل درخت کے ہیں، جس کی شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کل انبیاء علیہم السلام بنی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں سوائے دس کے نوح، ہود، صالح، شعیب، ابراہیم لوط، اسحاق، یعقوب، اسماعیل، محمد علیہم الصلوۃ والسلام۔ سبط کہتے ہیں اس جماعت اور قبیلہ کو جن کا مورث اعلیٰ اوپر جا کر ایک ہو۔ [تفسیر قرطبی:141/2] ‏ ابن ابی خاتم میں ہے ہمیں توراۃ و انجیل پر ایمان رکھنا ضروری ہے لیکن عمل کے لیے صرف قرآن و حدیث ہی ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:400/1] ‏

صفحہ نمبر543

شرط نجات ٭٭

یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 2۔ البقرہ: 137 ] ‏ کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [ رضی اللہ عنہما ] ‏۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] ‏ رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] ‏ جسے «فطرۃ اللہ» میں۔ [30-الروم:3] ‏ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «‏وَعْدَ اللَّـهِ ۖ» [30-الروم:6] ‏ ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:403/1] ‏“یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔

صفحہ نمبر544

شرط نجات ٭٭

یعنی اپنے ایماندار صحابیو! اگر یہ کفار بھی تم جیسا ایمان لائیں یعنی تمام کتابوں اور رسولوں کو مان لیں تو حق و رشد ہدایت ونجات پائیں گے اور اگر باوجود قیام حجت کے باز رہیں تو یقیناً حق کے خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ تجھے ان پر غالب کر کے تمہارے لیے کافی ہو گا، وہ سننے جاننے والا ہے۔ نافع بن نعیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ کسی خلیفہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ کا قرآن بھیجا گیا زیاد نے یہ سن کر کہا کہ لوگوں میں مشہور ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے شہید کیا اس وقت یہ کلام اللہ ان کی گود میں تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کا خون ٹھیک ان الفاظ پڑھا تھا آیت «فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ۚ وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ» [ 2۔ البقرہ: 137 ] ‏ کیا یہ صحیح ہے؟ حضرت نافع رحمہ اللہ علیہ نے کہا بالکل ٹھیک ہے میں نے خود اس آیت پر ذوالنورین کا خون دیکھا تھا [ رضی اللہ عنہما ] ‏۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] ‏ رنگ سے مراد دین ہے اور اس کا زبر بطور اغراء کے ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:402/1] ‏ جسے «فطرۃ اللہ» میں۔ [30-الروم:3] ‏ مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کو لازم پکڑ لو اس پر چمٹ جاؤ۔ بعض کہتے ہیں یہ بدل ہے ملتہ ابراہیم سے جو اس سے پہلے موجود ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں یہ صدر موکد ہے۔ امنا باللہ کی وجہ سے منصوب ہے جیسے «‏وَعْدَ اللَّـهِ ۖ» [30-الروم:6] ‏ ایک مرفوع حدیث ہے”بنی اسرائیل نے کہا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمارا رب رنگ بھی کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ سے ڈرو آواز آئی ان سے کہہ دو کہ تمام رنگ میں ہی تو پیدا کرتا ہوں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:403/1] ‏“یہی مطلب اس آیت کا بھی ہے لیکن اس روایت کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے اور یہ بھی اس وقت جب کہ اس کی اسناد صحیح ہوں۔

صفحہ نمبر544

مشرکین کے اعمال پر بیزاری ٭٭

مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے کہ“ تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں“ اور جگہ فرمایا آیت «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» الخ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے [ نیک ] ‏ کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔“ اور جگہ ارشاد ہے آیت «حَاجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3۔ آل عمران: 20 ] ‏ ”اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہہ دے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا آیت «وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ» [ 6۔ الانعام: 80 ] ‏ کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟ اور جگہ ہے؟ آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ» [ 2۔ البقرہ: 258 ] ‏ تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم [ علیہ السلام ] ‏ سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

صفحہ نمبر546

پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟ کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا آیت «مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ 3۔ آل عمران: 67 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔

صفحہ نمبر547

مشرکین کے اعمال پر بیزاری ٭٭

مشرکوں کے جھگڑے کو دفع کرنے کا حکم رب العالمین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے رہا ہے کہ“ تم ہم سے اللہ کی توحید، اخلاص، اطاعت وغیرہ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ وہ صرف ہمارا ہی نہیں بلکہ تمہارا رب بھی تو ہے، ہم پر اور تم پر قابض و متصرف بھی وہی اکیلا ہے۔ ہمارے عمل ہمارے ساتھ ہیں وہ تمہارے عمل تمہیں کام آئیں گے، ہم تم سے اور تمہارے شرک سے بیزار ہیں“ اور جگہ فرمایا آیت «وَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل لِّي عَمَلِي وَلَكُمْ عَمَلُكُمْ أَنتُم بَرِيئُونَ مِمَّا أَعْمَلُ وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تَعْمَلُونَ» الخ یعنی ”اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو تو کہہ دے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے تم میرے [ نیک ] ‏ کام سے اور میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں۔“ اور جگہ ارشاد ہے آیت «حَاجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ» [ 3۔ آل عمران: 20 ] ‏ ”اگر یہ تجھ سے جھگڑیں تو تو کہہ دے میں نے اور میرے ماننے والوں نے اپنے منہ اللہ کی طرف کر دئیے۔“ ابراہیم علیہ السلام نے بھی اپنی قوم سے یہی فرمایا تھا آیت «وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانِ وَلَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلَّا أَن يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ» [ 6۔ الانعام: 80 ] ‏ کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے اختلاف کرتے ہو؟ اور جگہ ہے؟ آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ» [ 2۔ البقرہ: 258 ] ‏ تو نے اسے بھی دیکھا جو ابراہیم [ علیہ السلام ] ‏ سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑنے لگا۔

صفحہ نمبر546

پس یہاں ان جھگڑالو لوگوں سے کہا گیا کہ ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہم تم سے الگ۔ ہم عبادت اور توجہ میں اخلاص اور یکسوئی کرنے والے لوگ ہیں۔ پھر ان لوگوں کے دعوے کی تردید ہو رہی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی، نہ نصرانی، تم اے یہودیو اور اے نصرانیو کیوں یہ باتیں بنا رہے ہو؟ کیا تمہارا علم اللہ سے بھی بڑھ گیا ہے اللہ نے تو صاف فرما دیا آیت «مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ» [ 3۔ آل عمران: 67 ] ‏ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے، نہ نصرانی، نہ مشرک، بلکہ خالص مسلمان تھے، ان کا حق کی شہادت کو چھپا کر بڑا ظلم کرنا یہ تھا کہ اللہ کی کتاب جو اس کے پاس آئی اس میں انہوں نے پڑھا کہ حقیقی دین اسلام ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے رسول ہیں۔ ابراہیم، اسمٰعیل، اسحاق، یعقوب علیہم السلام وغیرہ یہودیت اور نصرانیت سے الگ تھے لیکن پھر نہ مانا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس بات کو بھی چھپا دیا۔

صفحہ نمبر547

باب

پھر فرمایا تمہارے اعمال اللہ سے پوشیدہ نہیں، اس کا محیط علم سب چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے، وہ ہر بھلائی اور برائی کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ یہ دھمکی دے کر پھر فرمایا کہ یہ پاکباز جماعت تو اللہ کے پاس پہنچ چکی۔ تم جب ان کے نقش قدم پر نہ چلو تو صرف ان کی اولاد میں سے ہونا تمہیں اللہ کے ہاں کوئی عزت اور نفع نہیں دے سکتا ہے۔ ان کے نیک اعمال میں تمہارا کوئی حصہ نہیں اور تمہاری بد اعمالیوں کا ان پر کوئی بوجھ نہیں“ جو کرے سو بھرے“ تم نے جب ایک نبی کو جھٹلایا تو گویا تمام انبیاء کو جھٹلایا بالخصوص اے وہ لوگو! جو نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں ہو۔ تم تو بڑے ہی وبال میں آ گئے، تم نے تو اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا جو سید الانبیاء جو ختم المرسلین ہیں، جو رسول رب العالمین ہیں جن کی رسالت تمام انسانوں اور جنوں کی طرف ہے۔ جن کی رسالت کے ماننے کا ہر ایک شخص مکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بےشمار درود و سلام آپ پر نازل ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء کرام پر بھی۔

صفحہ نمبر549

باب

بیوقوفوں سے مراد یہاں مشرکین عرب اور علماء یہود اور منافقین وغیرہ ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں براء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن خود آپ کی چاہت یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ شریف ہو۔ چنانچہ اب حکم آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز اس کی طرف ادا کی۔ آپ کے ساتھ کے نمازیوں میں سے ایک شخص کسی اور مسجد میں پہنچا، وہاں جماعت رکوع میں تھی اس نے ان سے کہا اللہ کی قسم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نماز پڑھ کر ابھی آ رہا ہوں۔ جب ان لوگوں نے سنا تو اسی حالت میں وہ کعبہ کی طرف گھوم گئے، اب بعض لوگوں نے یہ کہا کہ جو لوگ اگلے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں ان کی نمازوں کا کیا حال ہے۔ تب یہ فرمان نازل ہوا کہ «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [ البقرہ: 143 ] ‏» یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ"جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت «. قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» [ البقرة: ١٤٤ ] ‏ یعنی اللہ تمہارے ایمان کو ضائع نہ کرے گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ ”حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے تو آپ اکثر آسمان کی طرف نظریں اٹھاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے منتظر تھے یہاں تک کہ آیت جس پر فرمان «وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ» [ البقرہ: 143 ] ‏ نازل ہوا اور ان کی نمازوں کی طرف سے اطمینان ہوا۔

صفحہ نمبر550

اب بعض بیوقوف اہل کتاب نے قبلہ کے بدلے جانے پر اعتراض کیا، جس پر یہ آیتیں «سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ» [ البقرہ: 142 ] ‏ نازل ہوئیں۔‏“ شروع ہجرت کے وقت مدینہ شریف میں آپ کو بیت المقدس کی طرف نمازیں ادا کرنے کا حکم ہوا تھا۔ یہود اس سے خوش تھے لیکن آپ کی چاہت اور دعا قبلہ ابراہیمی کی تھی۔ آخر جب یہ حکم نازل ہوا تو یہودیوں نے جھٹ سے اعتراض جڑ دیا۔ «لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَـٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» [ البقرة: 177 ] ‏ جس کا جواب ملا کہ مشرق و مغرب اللہ ہی کے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:138/3:حسن] ‏ اس مضمون کی اور بھی بہت سی روایتیں ہیں خلاصہ یہ ہے کہ مکہ شریف میں آپ دونوں رکن کے درمیان نماز پڑھتے تھے تو آپ کے سامنے کعبہ ہوتا تھا اور بیت المقدس کے صخرہ کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منہ ہوتا تھا، لیکن مدینہ جا کر یہ معاملہ مشکل ہو گیا۔ دونوں جمع نہیں ہو سکتے تھے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف نماز ادا کرنے کا حکم قرآن میں نازل ہوا تھا یا دوسری وحی کے ذریعہ یہ حکم ملا تھا۔

بعض بزرگ تو کہتے ہیں یہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اجتہادی امر تھا اور مدینہ آنے کے بعد کئی ماہ تک اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں پڑھتے رہے گو چاہت اور تھی۔ یہاں تک کہ پروردگار نے بیت العتیق کی طرف منہ پھیرنے کو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرف منہ کر کے پہلے نماز عصر پڑھی اور پھر لوگوں کو اپنے خطبہ میں اس امر سے آگاہ کیا۔

بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ ظہر کی نماز تھی۔ سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے اور میرے ساتھی نے اول اول کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے اور ظہر کی نماز تھی“ بعض مفسرین وغیرہ کا بیان ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب قبلہ بدلنے کی آیت نازل ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز پڑھ رہے تھے، دو رکعت ادا کر چکے تھے پھر باقی کی دو رکعتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ شریف کی طرف پڑھیں، اسی وجہ سے اس مسجد کا نام ہی مسجد ذو قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد ہے۔“

صفحہ نمبر551

حضرت نویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ظہر کی نماز میں تھے جب ہمیں یہ خبر ملی اور ہم نماز میں ہی گھوم گئے۔ مرد عورتوں کی جگہ آ گئے اور عورتیں مردوں کی جگہ جا پہنچیں۔ ہاں اہل قباء کو دوسرے دن صبح کی نماز کے وقت یہ خبر پہنچی بخاری و مسلم میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ اچانک کسی آنے والے نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رات کو حکم قرآنی نازل ہوا اور کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم ہو گیا۔ چنانچہ ہم لوگ بھی شام کی طرف سے منہ ہٹا کر کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ [صحیح بخاری:403] ‏ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ناسخ کے حکم کا لزوم اسی وقت ہوتا ہے۔ جب اس کا علم ہو جائے گو وہ پہلے ہی پہنچ چکا ہو۔ اس لیے کہ ان حضرات کو عصر مغرب اور عشاء کو لوٹانے کا حکم نہیں ہوا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اب باطل پرست کمزور عقیدے والے باتیں بنانے لگے کہ اس کی کیا وجہ ہے کبھی اسے قبلہ کہتا ہے کبھی اسے قبلہ قرار دیتا ہے۔ انہیں جواب ملا کہ حکم اور تصرف اور امر اللہ تعالیٰ ہی کا ہے جدھر منہ کرو۔ اسی طرف اس کا منہ ہے بھلائی اسی میں نہیں آ گئی بلکہ اصلیت تو ایمان کی مضبوطی ہے جو ہر حکم کے ماننے پر مجبور کر دیتی ہے اور اس میں گویا مومنوں کو ادب سکھایا گیا ہے کہ ان کا کام صرف حکم کی بجا آوری ہے جدھر انہیں متوجہ ہونے کا حکم دیا جائے یہ متوجہ ہو جاتے ہیں اطاعت کے معنی اس کے حکم کی تعمیل کے ہیں اگر وہ ایک دن میں سو مرتبہ ہر طرف گھمائے تو ہم بخوشی گھوم جائیں گے ہم اس کے غلام ہیں ہم اس کے ماتحت ہیں اس کے فرمانبردار ہیں اور اس کے خادم ہیں جدھر وہ حکم دے گا پھیر لیں گے۔ امت محمدیہ پر یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اکرام ہے کہ انہیں خلیل الرحمن علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا جو اسی اللہ لا شریک کے نام پر بنایا گیا ہے اور تمام تر فضیلتیں جسے حاصل ہیں۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث ہے کہ یہودیوں کو ہم سے اس بات پر بہت حسد ہے کہ اللہ نے ہمیں جمعہ کے دن کی توفیق دی اور یہ اس سے بھٹک گئے اور اس پر کہ ہمارا قبلہ یہ ہے اور وہ اس سے گمراہ ہو گئے اور بڑا حسد ان کو ہماری آمین کہنے پر بھی ہے جو ہم امام کے پیچھے کہتے ہیں۔ [مسند احمد:130/1-136:حسن لغیرہ] ‏

صفحہ نمبر552

باب

پھر فرماتا ہے کہ اس پسندیدہ قبلہ کی طرف تمہیں متوجہ کرنا اس لیے ہے کہ تم خود بھی پسندیدہ امت ہو تم اور امتوں پر قیامت کے دن گواہ بنے رہو گے کیونکہ وہ سب تمہاری فضیلت مانتے ہیں وسط کے معنی یہاں پر بہتر اور عمدہ کے ہیں جیسے کہا جاتا ہے کہ قریش نسب کے اعتبار سے وسط عرب ہیں اور کہا گیا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم میں وسط تھے یعنی اشرف نسب والے اور صلوۃ وسطی یعنی افضل تر نماز جو عصر ہے جیسے صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ [صحیح بخاری:6396] ‏

اور چونکہ تمام امتوں میں یہ امت بھی بہتر افضل اور اعلیٰ تھی اس لیے انہیں شریعت بھی کامل راستہ بھی بالکل درست ملا اور دین بھی بہت واضح دیا گیا جیسے فرمایا «هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ» [ 22۔ الحج: 78 ] ‏ اس اللہ نے تمہیں چن لیا اور تمہارے دین میں کوئی تنگی نہیں کی تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر تم ہو۔ اسی نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں نوح علیہ السلام کو قیامت کے دن بلایا جائے گا اور ان سے دریافت کیا جائے گا کہ کیا تم نے میرا پیغام میرے بندوں کو پہنچا دیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں اللہ پہنچا دیا تھا۔ ان کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پرسش ہو گی کیا نوح علیہ السلام نے میری باتیں تمہیں پہنچائی تھیں وہ صاف انکار کریں گے اور کہیں گے ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا نوح علیہ السلام سے کہا جائے گا تمہاری امت انکار کرتی ہے تم گواہ پیش کرو یہ کہیں گے کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میری گواہ ہے یہی مطلب اس آیت «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [ 2۔ البقرہ: 143 ] ‏ کا ہے «وسط» کے معنی عدل کے ہیں اب تمہیں بلایا جائے گا اور تم گواہی دو گے اور میں تم پر گواہی دوں گا۔ [صحیح بخاری:3339] ‏

صفحہ نمبر553

مسند احمد کی ایک اور روایت میں ہے قیامت کے دن نبی آئیں گے اور ان کے ساتھ ان کی امت کے صرف دو ہی شخص ہوں گے اور اس سے زیادہ بھی اس کی امت کو بلایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا اس نبی علیہ السلام نے تمہیں تبلیغ کی تھی؟ وہ انکار کریں گے نبی سے کہا جائے گا تم نے تبلیغ کی وہ کہیں گے ہاں، کہا جائے گا تمہارا گواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت۔ پس محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت بلائی جائے گی ان سے یہی سوال ہو گا کہ کیا اس پیغمبر نے تبلیغ کی؟ یہ کہیں گے ہاں، ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں کیسے علم ہوا؟ یہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ انبیاء علیہم السلام نے تیرا پیغام اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا۔ یہی مطلب ہے اللہ عزوجل کے اس فرمان «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [ 2۔ البقرہ: 143 ] ‏ کا۔ [مسند احمد:58/3:صحیح] ‏ مسند احمد کی ایک اور حدیث میں وسطاً بمعنی عدلاً آیا ہے۔ [سنن ترمذي:2961، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر554

ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اور میری امت قیامت کے دن ایک اونچے ٹیلے پر ہوں گے تمام مخلوق میں نمایاں ہو گے اور سب کو دیکھ رہے ہوں گے اس روز تمام دنیا تمنا کرے گی کہ کاش وہ بھی ہم میں سے ہوتے جس جس نبی کی قوم نے اسے جھٹلایا ہے ہم دربار رب العالمین میں شہادت دیں گے کہ ان تمام انبیاء نے حق رسالت ادا کیا تھا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:147/3:ضعیف] ‏

مستدرک حاکم کی ایک حدیث میں ہے کہ بنی مسلمہ کے قبیلے کے ایک شخص کے جنازے میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے لوگ کہنے لگے حضور یہ بڑا نیک آدمی تھا۔ بڑا متقی پارسا اور سچا مسلمان تھا اور بھی بہت سی تعریفیں کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کس طرح کہ رہے ہو؟ اس شخص نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدگی کا علم تو اللہ ہی کو ہے لیکن ظاہرداری تو اس کی ایسی ہی حالت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی پھر بنو حارثہ کے ایک شخص کے جنازے میں تھے لوگ کہنے لگے یہ برا آدمی تھا بڑا بدزبان اور کج خلق تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی برائیاں سن کر پوچھا تم کیسے کہہ رہے ہو اس شخص نے بھی یہی کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی۔ حضرت محمد بن کعب رحمہ اللہ اس حدیث کو سن کر فرمانے لگے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں دیکھو قرآن بھی کہہ رہا ہے «وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا» [ 2۔ البقرہ: 143 ] ‏ مستدرک حاکم268/2] ‏

مسند احمد میں ہے۔ ابوالاسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں مدینہ میں آیا یہاں بیماری تھی لوگ بکثرت مر رہے تھے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو ایک جنازہ نکلا اور لوگوں نے مرحوم کی نیکیاں بیان کرنی شروع کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی اتنے میں دوسرا جنازہ نکلا لوگوں نے اس کی برائیاں بیان کیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے لیے واجب ہو گئی میں نے کہا امیر المؤمنین کیا واجب ہو گئی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے وہی کہا جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مسلمان کی بھلائی کی شہادت چار شخص دیں اسے جنت میں داخل کرتا ہے ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تین دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین بھی ہم نے کہا اگر دو ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو بھی۔ پھر ہم نے ایک کی بابت کا سوال نہ کیا۔ [صحیح بخاری:1368] ‏

ابن مردویہ کی ایک حدیث میں ہے قریب ہے کہ تم اپنے بھلوں اور بروں کو پہچان لیا کرو۔ لوگوں نے کہا حضور کس طرح؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم [سنن ابن ماجه:4221، قال الشيخ الألباني:] ‏ نے فرمایا اچھی تعریف اور بری شہادت سے تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔

صفحہ نمبر555

پھر فرماتا ہے کہ اگلا قبلہ صرف امتحاناً تھا یعنی پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کر کے پھر کعبۃ اللہ کی طرف پھیرنا صرف اس لیے تھا کہ معلوم ہو جائے کہ سچا تابعدار کون ہے؟ اور جہاں آپ توجہ کریں وہیں اپنی توجہ کرنے والا کون ہے؟ اور کون ہے جو ایک دم کروٹ لے لیتا ہے اور مرتد ہو جاتا ہے، یہ کام فی الحقیقت اہم کام تھا لیکن جن کے دلوں میں ایمان و یقین ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکار ہیں جو جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو فرمائیں سچ ہے جن کا عقیدہ ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے جو ارادہ کرتا ہے حکم کرتا ہے۔ اپنے بندوں کو جس طرح چاہے حکم دے جو چاہے مٹائے جو چاہے باقی رکھے اس کا ہر کام، ہر حکم حکمت سے پر ہے ان پر اس حکم کی بجا آوری کچھ بھی مشکل نہیں۔ ہاں بیمار دل والے تو جہاں نیا حکم آیا انہیں فوراً نیا درد اٹھا قرآن کریم میں اور جگہ ہے «وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّن يَقُولُ أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَـٰذِهِ إِيمَانًا فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ وَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا إِلَىٰ رِجْسِهِمْ وَمَاتُوا وَهُمْ كَافِرُونَ» [ 9۔ التوبہ: 124، 125 ] ‏ یعنی جب کبھی کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض پوچھتے ہیں اس سے کس کا ایمان بڑھا؟ حقیقت یہ ہے کہ ایمانداروں کے ایمان بڑھتے ہیں اور ان کی دلی خوشی بھی اور بیمار دل والے اپنی پلیدی میں اور بڑھ جاتے ہیں اور جگہ فرمان ہے «قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاءٌ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى» [ 41۔ فصلت: 44 ] ‏ یعنی ایمان والوں کے لیے یہ ہدایت اور شفاء ہے اور بے ایمان لوگوں کے کانوں میں بوجھ اور آنکھوں پر اندھا پن ہے۔

اور جگہ فرمان ہے «وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا» [ 17۔ الاسرآء: 82 ] ‏ یعنی ہمارا اتارا ہوا قرآن مومنوں کے لیے سراسر شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کا نقصان ہی بڑھتا رہتا ہے اس واقعہ میں بھی تمام بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم ثابت قدم رہے اول سبقت کرنے والے مہاجر اور انصار دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے ہیں۔ چنانچہ اوپر حدیث بیان ہو چکی کہ کس طرح وہ نماز پڑھتے ہوئے یہ خبر سن کر گھوم گئے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ رکوع کی حالت میں تھے اور اسی میں کعبہ کی طرف پھر گئے۔ [صحیح مسلم:525] ‏ جس سے ان کی کمال اطاعت اور اعلیٰ درجہ کی فرمان برداری ثابت ہوئی۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ تمھارے ایما کو ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی تمھاری بیت المقدس کی طرف پڑھی ہوئی نمازیں رد نہیں ہوں گی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں بلکہ ان کی اعلیٰ ایمانداری ثابت ہوئی انہیں دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے کا ثواب عطا ہو گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے ساتھ تمھارے گھوم جانے کو ضائع نہ کرے گا پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ رؤف و رحیم ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی قیدی عورت کو دیکھا جس سے اس کا بچہ چھوٹ گیا تھا وہ اپپنے بچے کو پاگلوں کی طرح تلاش کر رہی تھی اور جب وہ نہیں ملا تو قیدیوں میں سے جس کسی بچے کو دیکھتی اسی کو گلے لگا لیتی یہاں تک کہ اس کا اپنا بچہ مل گیا خوشی خوشی لپک کر اسے گود میں اٹھا لیا سینے سے لگایا پیار کیا اور اس کے منہ میں دودھ دیا یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا بتاؤ یہ اپنا بس چلتے ہوئے اس بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ لوگوں نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر گز نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم جس قدر یہ ماں اپنے بچہ پہ مہربان ہے اس سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ اپنے بندؤں پر رؤف و رحیم ہے۔ [صحیح بخاری:5999] ‏

صفحہ نمبر556

خشوع و خضوع ضروری ہے ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قرآن میں قبلہ کا حکم پہلا نسخ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی یہاں کے اکثر باشندے یہود تھے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی طرف نمازیں پڑھنے کا حکم دیا یہود اس سے بہت خوش ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی ماہ تک اسی رخ نماز پڑھتے رہے لیکن خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاہت قبلہ ابراہیمی کی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے دعائیں مانگا کرتے تھے اور نگاہیں آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے بالآخر آیت «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» [ البقرہ: 144 ] ‏ نازل ہوئی اس پر یہود کہنے لگے کہ اس قبلہ سے یہ کیوں ہٹ گئے جس کے جواب میں کہا گیا کہ «وَلِلَّـهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ» [ البقرة: 115 ] ‏ مشرق اور مغرب کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور فرمایا جدھر تمہارا منہ ہو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے اور فرمایا کہ اگلا قبلہ امتحاناً تھا۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:103/1] ‏ اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اس پر یہ آیت اتری اور حکم ہوا کہ مسجد الحرام کی طرف کعبہ کی طرف میزاب کی طرف منہ کرو جبرائیل علیہ السلام نے امامت کرائی۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد الحرام میں میزاب کے سامنے بیٹھے ہوئے اس آیت پاک کی تلاوت کی اور فرمایا میزاب کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم ہے۔ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول یہ ہے کہ عین کعبہ کی طرف توجہ مقصود ہے اور دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ کعبہ کی جہت ہونا کافی ہے اور یہی مذہب اکثر ائمہ کرام رحمہ اللہ علیہم کا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مراد اس کی طرف ہے۔ [مستدرک حاکم:2692] ‏ ابوالعالیہ مجاہد عکرمہ سعید بن جبیر قتادہ ربیع بن انس وغیرہ کا بھی یہی قول ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:107/1] ‏ ایک حدیث میں بھی ہے کہ مشرق و مغرب کے درمیان قبلہ ہے۔ [سنن ترمذي:342، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر557

ابن جریج میں حدیث ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بیت اللہ مسجد الحرام والوں کا قبلہ اور مسجد اہل حرام کا قبلہ اور تمام زمین والوں کا حرام قبلہ ہے خواہ مشرق میں ہوں خواجہ مغرب میں میری تمام امت کا قبلہ یہی ہے۔ [بیھقی9/2-10:ضعیف] ‏ ابونعیم میں بروایت براء رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سولہ سترہ مہینے تک تو بیت المقدس کی طرف نماز پڑھی لیکن آپ کو پسند امر یہ تھا کہ بیت اللہ کی طرف پڑھیں چنانچہ اللہ کے حکم سے آپ نے بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر عصر کی نماز ادا کی پھر نمازیوں میں سے ایک شخص مسجد والوں کے پاس گیا وہ رکوع میں تھے اس نے کہا میں حلفیہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ شریف کی طرف نماز ادا کی۔ یہ سن کر وہ جس حالت میں تھے اسی حالت میں بیت اللہ شریف کی طرف پھر گئے۔ [صحیح بخاری:4486] ‏ عبدالرزاق میں بھی یہ روایت قدرے کمی بیشی کے ساتھ مروی ہے۔ [تفسیر عبد الرزاق:1354] ‏ نسائی میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم صبح کے وقت مسجد نبوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جایا کرتے تھے اور وہاں کچھ نوافل پڑھا کرتے تھے ایک دن ہم گئے تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں میں نے کہا آج کوئی نئی بات ضرور ہوئی ہے میں بھی بیٹھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت «قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ» ‏ [ البقرہ: 144 ] ‏ تلاوت فرمائی میں نے اپنے ساتھی سے کہا آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہونے منبر سے اترنے سے پہلے ہی ہم اس نئے حکم کی تعمیل کریں اور اول فرمانبردار بن جائیں چنانچہ ہم ایک طرف ہو گئے اور سب سے پہلے بیت اللہ شریف کی طرف نماز پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی منبر سے اتر آئے اور اس قبلہ کی طرف پہلی نماز ظہر ادا کی گئی ۔ [نسائی فی السنن الکبریٰ:11004،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر558

ابن مردویہ میں بروایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ پہلی نماز جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف ادا کی وہ ظہر کی نماز ہے اور یہی نماز صلوٰۃ وسطیٰ ہے لیکن مشہور یہ ہے کہ پہلی نماز کعبہ کی طرف عصر کی ادا کی ہوئی اسی وجہ سے اہل قباء کو دوسرے دن صبح کے وقت اطلاع پہنچی۔ ابن مردویہ میں روایت نویلہ بنت مسلم رضی اللہ عنہا موجود ہے کہ ہم مسجد بنو حارثہ میں ظہر یا عصر کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کئے ہوئے ادا کر رہے تھے دو رکعت پڑھ چکے تھے کہ کسی نے آ کر قبلہ کے بدل جانے کی خبر دی۔ چنانچہ ہم نماز میں بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے اور باقی نماز اسی طرف ادا کی، اس گھومنے میں مرد عورتوں کی جگہ اور عورتیں مردوں کی جگہ آ گئیں، آپ کے پاس جب یہ خبر پہنچی تو خوش ہو کر فرمایا یہ ہیں ایمان بالغیب رکھنے والے۔ [طبرانی کبیر:530/24:ضعیف] ‏ ابن مردویہ میں بروایت عمارہ بن اوس رضی اللہ عنہما مروی ہے کہ رکوع کی حالت میں ہمیں اطلاع ہوئی اور ہم سب مرد عورتیں بچے اسی حالت میں قبلہ کی طرف گھوم گئے۔ [مسند ابویعلیٰ:1509] ‏

صفحہ نمبر559

پھر ارشاد ہوتا ہے تم جہاں بھی ہو مشرق مغرب شمال یا جنوب میں ہر صورت نماز کے وقت منہ کعبہ کی طرف کر لیا کرو۔ ہاں البتہ سفر میں سواری پر نفل پڑھنے والا جدھر سواری جا رہی ہو ادھر ہی نفل ادا کرنے اس کے دل کی توجہ کعبہ کی طرف ہونی کافی ہے اسی طرح میدان جنگ میں نماز پڑھنے والا جس طرح اور جس طرف بن پڑے نماز ادا کر لے اور اسی طرح وہ شخص جسے قبلہ کی جہت کا قطعی علم نہیں وہ اندازہ سے جس طرف زیادہ دل مانے نماز ادا کر لے۔ پھر گو اس کی نماز فی الواقع قبلہ کی طرف نہ بھی ہوئی ہو تو بھی وہ اللہ کے ہاں معاف ہے۔

مسئلہ مالکیہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نمازی حالت نماز میں اپنے سامنے اپنی نظریں رکھے نہ کہ سجدے کی جگہ جیسے کہ شافعی، احمد اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم کا مذہب ہے اس لیے کہ آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ منہ مسجد الحرام کی طرف کرو اور اگر سجدے کی جگہ نظر جمانا چاہے گا تو قدرے جھکنا پڑے گا اور یہ تکلیف کمال خشوع کے خلاف ہو گا بعض مالکیہ کا یہ قول بھی ہے کہ قیام کی حالت میں اپنے سینہ کی طرف نظر رکھے قاضی شریک کہتے ہیں کہ قیام کے وقت سجدہ کی جگہ نظر رکھے جیسے کہ جمہور جماعت کا قول ہے اس لیے کہ یہ پورا پورا خشوع خضوع ہے اور ایک حدیث بھی اس مضمون کی وارد ہوئی ہے اور رکوع کی حالت میں اپنے قدموں کی جگہ پر نظر رکھے اور سجدے کے وقت ناک کی جگہ اور التحیات کے وقت اپنی گود کی طرف پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ یہودی جو چاہیں باتیں بنائیں لیکن ان کے دل جانتے ہیں کہ قبلہ کی تبدیلی اللہ کی جانب سے ہے اور برحق ہے کیونکہ یہ خود ان کی کتابوں میں بھی موجود ہے لیکن یہ لوگ کفر وعناد اور تکبر و حسد کی وجہ سے اسے چھپاتے ہیں اللہ بھی ان کی ان کرتوتوں سے بے خبر نہیں۔

صفحہ نمبر560

کفر و عناد زدہ یہودی ٭٭

یہودیوں کے کفر و عناد اور مخالفت و سرکشی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجودیکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کا انہیں علم ہے لیکن پھر بھی یہ حالت ہے کہ ہر قسم کی دلیلیں پیش ہو چکنے کے بعد بھی حق کی پیروی نہیں کرتے جیسے اور جگہ ہے آیت «إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» [ 10-يونس: 96، 97 ] ‏ یعنی جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے چاہے ان کے پاس یہ تمام آیتیں آ جائیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔

صفحہ نمبر561

پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی استقامت بیان فرماتا ہے کہ جس طرح وہ ناحق پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہاں سے ہٹنا نہیں چاہتے تو وہ بھی سمجھ لیں کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے نہیں کہ ان کی باتوں میں آ جائیں اور ان کی راہ چل پڑیں وہ ہمارے تابع فرمان ہیں اور ہماری مرضی کے عامل ہیں وہ ان کی باطل خواہش کی تابعداری ہرگز نہیں کریں گے نہ ان سے یہ ہو سکتا ہے کہ ہمارا حکم آ جانے کے بعد ان کے قبلہ کی طرف توجہ کریں پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے در اصل علماء کو دھمکایا گیا کہ حق کے واضح ہو جانے کے بعد کسی کے پیچھے لگ جانا اور اپنی یا دوسروں کی خواہش پرستی کرنا یہ صریح ظلم ہے۔

صفحہ نمبر562

صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت عرب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی گواہ رہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ [مسند احمد:81/8:صحیح] ‏

صفحہ نمبر563

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعریف بتا دی یعنی جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کچھ شک نہیں، [تفسیر قرطبی:163/2] ‏ غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔

صفحہ نمبر564

صفات نبوی اور اغماض برتنے والے یہودی علماء ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ علماء اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں کی حقانیت کو اس طرح جانتے ہیں جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانے یہ ایک مثال تھی جو مکمل یقین کے وقت عرب دیا کرتے تھے۔ ایک حدیث میں ہے ایک شخص کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا یہ تیرا لڑکا ہے؟ اس نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بھی گواہ رہیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ یہ تجھ پر پوشیدہ رہے نہ تو اس پر۔ [مسند احمد:81/8:صحیح] ‏

صفحہ نمبر563

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے جو یہودیوں کے زبردست علامہ تھے پوچھا کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جانتا ہے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتا ہے؟ جواب دیا ہاں بلکہ اس سے بھی زیادہ اس لیے کہ آسمانوں کا امین فرشتہ زمین کے امین شخص پر نازل ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح تعریف بتا دی یعنی جبرائیل علیہ السلام عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور پھر پروردگار عالم نے ان کی صفتیں بیان کیں جو سب کی سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں پھر ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی برحق ہونے میں کیا شک رہا؟ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیک نگاہ کیوں نہ پہچان لیں؟ بلکہ ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں شک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت میں کچھ شک نہیں، [تفسیر قرطبی:163/2] ‏ غرض یہ ہے کہ جس طرح لوگوں کے ایک بڑے مجمع میں ایک شخص اپنے لڑکے کو پہچان لیتا ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جو اہل کتاب کی آسمانی کتابوں میں ہیں وہ تمام صفات آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس طرح نمایاں ہیں کہ بیک نگاہ ہر شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جان جاتا ہے۔ پھر فرمایا کہ باوجود اس علم حق کے پھر بھی یہ لوگ اسے چھپاتے ہیں پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ثابت قدمی کا حکم دیا کہ خبردار تم ہرگز حق میں شک نہ کرنا۔

صفحہ نمبر564

سچا قبلہ ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہر مذہب والوں کا ایک قبلہ ہے لیکن سچا قبلہ وہ ہے جس پر مسلمان ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:193/3] ‏ ابوالعالیہ کا قول ہے کہ یہود کا بھی قبلہ ہے نصرانیوں کا بھی قبلہ ہے اور تمہارا بھی قبلہ ہے لیکن ہدایت والا قبلہ وہی ہے جس پر اے مسلمانو تم ہو۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:121/1] ‏ حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ہر ایک وہ قوم جو کعبہ کو قبلہ مانتی ہے وہ بھلائیوں میں سبقت کرے آیت «مُوَلِّيهَا» کی دوسری قرأت «مُوَلَّاھَا» ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّمِنْهَاجًا وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا» [ 5۔ المائدہ: 48 ] ‏، یعنی ہر شخص کو اپنے اپنے قبلہ کی پڑی ہوئی ہے ہر شخص اپنی اپنی راہ لگا ہوا ہے پھر فرمایا کہ گو تمہارے جسم اور بدن مختلف ہو جائیں گو تم ادھر ادھر بکھر جاؤ لیکن اللہ تمہیں اپنی قدرت کاملہ سے اسی زمین سے جمع کر لے گا۔

صفحہ نمبر566

تین بار نزول حکم ٭٭

یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔ پہلے حکم میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو باربار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر567

پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہیئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا-

صفحہ نمبر568

پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی علیہ السلام پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں [ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ] ‏ پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بے جان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی۔

صفحہ نمبر569

تین بار نزول حکم ٭٭

یہ تیسری مرتبہ حکم ہو رہا ہے کہ روئے زمین کے مسلمانوں کو نماز کے وقت مسجد الحرام کی طرف منہ کرنا چاہیئے۔ تین مرتبہ تاکید اس لیے کی گئی کہ یہ تبدیلی کا حکم پہلی بار واقع ہوا تھا۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ پہلا حکم تو ان کے لیے ہے جو کعبہ کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسرا حکم ان کے لیے ہے جو مکہ میں ہیں لیکن کعبہ ان کے سامنے نہیں۔ تیسری بار انہیں حکم دیا جو مکہ کے باہر روئے زمین پر ہیں۔ قرطبی رحمہ اللہ نے ایک توجیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ پہلا حکم مکہ والوں کو ہے دوسرا اور شہر والوں کو تیسرا مسافروں کو بعض کہتے ہیں تینوں حکموں کا تعلق اگلی پچھلی عبارت سے ہے۔ پہلے حکم میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب کا اور پھر اس کی قبولیت کا ذکر ہے اور دوسرے حکم میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ چاہت بھی ہماری چاہت کے مطابق تھی اور حق امر یہی تھا اور تیسرے حکم میں یہودیوں کی حجت کا جواب ہے کہ ان کی کتابوں میں پہلے سے موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قبلہ کعبہ ہو گا تو اس حکم سے وہ پیشینگوئی بھی پوری ہوئی۔ ساتھ ہی مشرکین کی حجت بھی ختم ہوئی کہ وہ کعبہ کو متبرک اور مشرف مانتے تھے اور اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ بھی اسی کی طرف ہو گئی رازی وغیرہ نے اس حکم کو باربار لانے کی حکمتوں کو بخوبی تفصیل سے بیان کیا ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر567

پھر فرمایا تاکہ اہل کتاب کوئی حجت تم پر باقی نہ رہے وہ جانتے تھے کہ امت کی طرح پہچان کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے جب وہ یہ صفت نہ پائیں گے تو انہیں شک کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قبلہ کی طرف پھرتے ہوئے دیکھ لیا تو اب انہیں کسی طرح کا شک نہ رہنا چاہیئے اور یہ بات بھی ہے کہ جب وہ تمہیں اپنے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے ہوئے دیکھیں گے تو ان کے ہاتھ ایک بہانہ لگ جائے گا لیکن جب تم ابراہیمی قبلہ کی طرف متوجہ ہو جاؤ گے تو وہ خالی ہاتھ رہ جائیں گے، حضرت ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہود کی یہ حجت تھی کہ آج یہ ہمارے قبلہ کی طرف ہیں یعنی ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں کل ہمارا مذہب بھی مان لیں گے لیکن جب اپنے اللہ کے حکم سے اصلی قبلہ اختیار کر لیا تو ان کی اس ہوس پر پانی پڑ گیا-

صفحہ نمبر568

پھر فرمایا مگر جو ان میں سے ظالم اور ضدی مشرکین بطور اعتراض کہتے تھے کہ یہ شخص ملت ابراہیمی علیہ السلام پر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف نماز نہیں پڑھتا انہیں جواب بھی مل گیا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے احکام کا متبع ہے پہلے ہم نے اپنی کمال حکمت سے انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا جسے وہ بجا لائے پھر ابراہیمی قبلہ کی طرف پھر جانے کو کہا جسے جان و دل سے بجا لائے پس آپ ہر حال میں ہمارے احکام کے ما تحت ہیں [ صلی اللہ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم ] ‏ پھر فرمایا ان ظالموں کے شبہ ڈالنے سے تم شک میں نہ پڑو ان باغیوں کی سرکشی سے تم خوف نہ کرو ان کے بے جان اعتراضوں کی مطلق پرواہ نہ کر وہاں میری ذات سے خوف کیا کرو صرف مجھ ہی سے ڈرتے رہا کرو قبلہ بدلنے میں جہاں یہ مصلحت تھی کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جائیں وہاں یہ بھی بات تھی کہ میں چاہتا تھا کہ اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں اور قبلہ کی طرح تمہاری تمام شریعت کامل کر دوں اور تمہارے دین کو ہر طرح مکمل کر دوں اور اس میں یہ ایک راز بھی تھا کہ جس قبلہ سے اگلی امتیں بہک گئیں تم اس سے نہ ہٹو ہم نے اس قبلہ کو خصوصیت کے ساتھ تمہیں عطا فرما کر تمہارا شرف اور تمہاری فضیلت و بزرگی تمام امتوں پر ثابت کر دی۔

صفحہ نمبر569

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com