John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-Baqara

Tafsir Ibn Kathir · The Cow · 286 ayat · ayat 211–240 · Quran text →

احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے موسیٰ علیہ السلام کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لیے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آڑے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [ 14۔ ابرہیم: 29، 28 ] ‏ کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم جیسی بدترین قرار گاہ میں پہنچا دیا۔

صفحہ نمبر750

پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ کفار صرف دنیا کی زندگی پر دیوانے ہوئے ہیں مال جمع کرنا اور اللہ کی راہ کے خرچ میں بخل کرنا یہی ان کا رنگ ڈھنگ ہے، بلکہ ایماندار اس دنیائے فانی سے سیر چشم ہیں اور پروردگار کی رضا مندی میں اپنے مال لٹاتے رہتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ حقیقی نصیب والے یہی لوگ ہیں قیامت کے دن ان کے مرتبے دیکھ کر ان کافروں کی آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اپنی بدتری اور ان کی برتری دیکھ کر معاملہ اونچ نیچ سمجھ میں آ جائے گی۔ دنیا کی روزی جسے اللہ جتنی چاہے دیدے جسے چاہے بے حساب دے بلکہ جسے چاہے یہاں بھی دے اور پھر وہاں بھی دے حدیث شریف میں ہے اے ابن آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دیتا چلا جاؤں گا، [صحیح بخاری:5352] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا راہ اللہ میں دئیے جاؤ اور عرش والے سے تنگی کا خوف نہ کرو، [طبرانی کبیر:1020:صحیح] ‏

قرآن میں ہے آیت «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» [ 34۔ سبأ: 39 ] ‏ تم جو کچھ خرچ کرو اللہ اس کا بدلہ دے گا، صحیح حدیث میں ہے ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر۔ [صحیح بخاری:1442] ‏

ایک اور حدیث میں ہے انسان کہتا رہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہو چکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہو گیا ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا اس کے سوا جو کچھ اسے تو تو دوسروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا، [صحیح مسلم:2958] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو دنیا کے لیے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو۔ [مسند احمد:17/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر751

احسان فراموش اسرائیل اور ترغیب صدقات ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو بنی اسرائیل کو میں نے بہت سے معجزات دکھلا دئیے موسیٰ علیہ السلام کہ ہاتھوں لکڑی ان کے ہاتھ کی روشنی ان کے لیے دریا کو چیر دینا ان پر سخت گرمیوں میں ابر کا سایہ کرنا من وسلویٰ اتارنا وغیرہ وغیرہ جن سے میرا خود مختار فاعل کل ہونا صاف ظاہر تھا اور میرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی کھلی تصدیق تھی لیکن تاہم ان لوگوں نے میری ان نعمتوں کا کفر کیا اور بجائے ایمان کے کفر پر آڑے رہے اور میری نعمتوں پر بجائے شکر کے ناشکری کی پھر بھلا میرے سخت عذاب سے یہ کیسے بچ سکتے؟ یہی خبر کفار و قریش کے بارے میں بھی بیان فرمائی ارشاد ہے آیت «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا وَبِئْسَ الْقَرَارُ» [ 14۔ ابرہیم: 29، 28 ] ‏ کیا تو نے ان لوگوں کو دیکھا جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر یعنی جہنم جیسی بدترین قرار گاہ میں پہنچا دیا۔

صفحہ نمبر750

پھر بیان ہوتا ہے کہ یہ کفار صرف دنیا کی زندگی پر دیوانے ہوئے ہیں مال جمع کرنا اور اللہ کی راہ کے خرچ میں بخل کرنا یہی ان کا رنگ ڈھنگ ہے، بلکہ ایماندار اس دنیائے فانی سے سیر چشم ہیں اور پروردگار کی رضا مندی میں اپنے مال لٹاتے رہتے ہیں یہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں، حالانکہ حقیقی نصیب والے یہی لوگ ہیں قیامت کے دن ان کے مرتبے دیکھ کر ان کافروں کی آنکھیں کھل جائیں گی اس وقت اپنی بدتری اور ان کی برتری دیکھ کر معاملہ اونچ نیچ سمجھ میں آ جائے گی۔ دنیا کی روزی جسے اللہ جتنی چاہے دیدے جسے چاہے بے حساب دے بلکہ جسے چاہے یہاں بھی دے اور پھر وہاں بھی دے حدیث شریف میں ہے اے ابن آدم تو میری راہ میں خرچ کر میں تجھے دیتا چلا جاؤں گا، [صحیح بخاری:5352] ‏ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا راہ اللہ میں دئیے جاؤ اور عرش والے سے تنگی کا خوف نہ کرو، [طبرانی کبیر:1020:صحیح] ‏

قرآن میں ہے آیت «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ» [ 34۔ سبأ: 39 ] ‏ تم جو کچھ خرچ کرو اللہ اس کا بدلہ دے گا، صحیح حدیث میں ہے ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں ایک دعا کرتا ہے اے اللہ تیری راہ میں خرچ کرنے والے کو عزت فرما دوسرا کہتا ہے بخیل کے مال کو تباہ و برباد کر۔ [صحیح بخاری:1442] ‏

ایک اور حدیث میں ہے انسان کہتا رہتا ہے میرا مال میرا مال حالانکہ تیرا مال وہ ہے جسے تو نے کھایا وہ تو فنا ہو چکا اور جسے پہن لیا وہ بوسیدہ ہو گیا ہاں جو تو نے صدقہ میں دیا اسے تو نے باقی رکھ لیا اس کے سوا جو کچھ اسے تو تو دوسروں کے لیے چھوڑ کر یہاں سے چل دے گا، [صحیح مسلم:2958] ‏ مسند احمد کی حدیث میں ہے دنیا اس کا گھر ہے جس کا گھر نہ ہو، دنیا اس کا مال ہے جس کا مال نہ ہو دنیا کے لیے جمع وہ کرتا ہے جسے عقل نہ ہو۔ [مسند احمد:17/6:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر751

آدم علیہ السلام سے نوح علیہ السلام تک ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نوح علیہ السلام اور آدم علیہ السلام کے درمیان دس زمانے تھے ان زمانوں کے لوگ حق پر اور شریعت کے پابند تھے پھر اختلاف ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، بلکہ آپ کی قرأت بھی یوں ہے آیت «وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ» [ 10۔ یونس: 19 ] ‏، [حاکم:546/2] ‏ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت بھی یہی ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:78/4] ‏ قتادہ رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر اسی طرح کی ہے کہ جب ان میں اختلاف پیدا ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا پہلا پیغمبر بھیجا یعنی نوح علیہ السلام، [عبدالرزاق:82/1] ‏

مجاہد رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت مروی ہے کہ پہلے سب کے سب کافر تھے، لیکن اول قول معنی کے اعتبار سے بھی اور سند کے اعتبار سے بھی زیادہ صحیح ہے، پس ان پیغمبروں نے ایمان والوں کو خوشیاں سنائی اور ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا، ان کے ساتھ اللہ کی کتاب بھی تھی تاکہ لوگوں کے ہر اختلاف کا فیصلہ قانون الٰہی سے ہو سکے، لیکن ان دلائل کے بعد بھی صرف آپس کے حسد و بغض تعصب و ضد اور نفسانیت کے بنا پر پھر اتفاق نہ کر سکے، لیکن ایماندار سنبھل گئے اور اس اختلاف کے چکر سے نکل کر سیدھی راہ لگ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے سب سے آگے ہوں گے، اہل کتاب کو کتاب اللہ ہم سے پہلے دی گئی ہمیں اس کے بعد دی گئی لیکن انہوں نے اختلاف کیا اور اللہ پاک نے ہماری رہبری کی جمعہ کے بارے میں بھی نااتفاقی رہی لیکن ہمیں ہدایت نصیب ہوئی یہ کل کے کل اہل کتاب اس لحاظ سے بھی ہمارے پیچھے ہیں۔ [عبدالرزاق:81/1] ‏ جمعہ ہمارا ہے ہفتہ یہودیوں کا اور اتوار نصرانیوں کا، [صحیح بخاری:876] ‏ زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے علاوہ قبلہ کے بارے میں بھی یہی ہوا نصاریٰ نے مشرق کو قبلہ بنایا یہود نے بھی، ان میں بعض کی نماز رکوع ہے اور سجدہ نہیں، بعض کے ہاں سجدہ ہے اور رکوع نہیں، بعض نماز میں بولتے چلتے پھرتے رہتے ہیں لیکن امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سکون و وقار والی ہے نہ یہ بولیں نہ چلیں نہ پھریں، روزوں میں بھی اسی طرح اختلاف ہوا اور اس میں بھی امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت نصیب ہوئی ان میں سے کوئی تو دن کے بعض حصے کا روزہ رکھتا ہے کوئی گروہ بعض قسم کے کھانے چھوڑ دیتا ہے لیکن ہمارا روزہ ہر طرح کامل ہے اور اس میں بھی راہ حق ہمیں سمجھائی گئی ہے،

اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہود نے کہا کہ وہ یہودی تھے نصرانیوں نے انہیں نصاری کہا لیکن دراصل وہ یکسر مسلمان تھے پس اس بارے میں بھی ہماری رہبری کی گئی اور خلیل اللہ علیہ السلام کی نسبت صحیح خیال تک ہم کو پہنچا دیا گیا، عیسیٰ علیہ السلام کو بھی یہودیوں نے جھٹلایا اور ان کی والدہ ماجدہ کی نسبت بدکلامی کی، نصرانیوں نے انہیں اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا لیکن مسلمان اس افراط وتفریط سے بچا لیے گئے اور انہیں روح اللہ کلمۃ اللہ اور نبی برحق مانا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:284/4] ‏

صفحہ نمبر753

سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب آیت کا یہ ہے کہ جس طرح ابتداء میں سب لوگ اللہ واحد کی عبادت کرنے والے نیکیوں کے عامل برائیوں سے مجتنب تھے بیچ میں اختلاف رونما ہو گیا تھا پس اس آخری امت کو اول کی طرح اختلاف سے ہٹا کر صحیح راہ پر لگا دیا یہ امت اور امتوں پر گواہ ہو گی یہاں تک کہ امت نوح علیہ السلام پر بھی ان کی شہادت ہو گی، قوم یہود، قوم صالح، قوم شعیب اور آل فرعون کا بھی حساب کتاب انہی کی گواہیوں پر ہو گا یہ کہیں گے کہ ان پیغمبروں نے تبلیغ کی اور ان امتوں نے تکذیب کی،

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں آیت «واللہ یہدی» الخ، سے پہلے یہ لفظ بھی ہیں آیت «ولیکونوا شہداء علی الناس یوم القیامۃ» الخ، ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس آیت میں گویا حکم ہے کہ شبہ، گمراہی، اور فتنوں سے بچنا چاہیئے، یہ ہدایت اللہ کے علم اور اس کی رہبری سے ہوئی وہ جسے چاہے راہ استقامت سجھا دیتا ہے،

بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب تہجد کے لیے اٹھتے تھے تو یہ پڑھتے دعا «اللہم رب جبرائیل ومیکائیل واسرافیل فاطر السماوات والارض عالم الغیب والشہادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اہدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تہدی من تشاء الی صراط مستقیم» ۔ یعنی اے اللہ اے جبرائیل ومیکائل اور اسرافیل کے اللہ عزوجل اے آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے الہ العالمین۔ اے چھپے کھلے کے جاننے والے اللہ جل شانہ تو ہی اپنے بندوں کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ کرتا ہے میری دعا ہے کہ جس جس چیز میں یہ اختلاف کریں تو مجھے اس میں حق بات سمجھا تو جسے چاہے راہ راست دکھلا دیتا ہے [صحیح مسلم:770] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دعا یہ بھی منقول ہے «اللہم ارنا الحق حق وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلاوارزقنا اجتنابہ ولا تجعلہ متلبسا علینا فنضل واجعلنا للمتقین اماما» ۔ اے اللہ ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی تابعدار نصیب فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے بچا کہیں ایسا نہ کہ حق و باطل ہم پر خلط ملط ہو جائے اور ہم بہک جائیں اے اللہ ہمیں نیکوکار اور پرہیزگار لوگوں کا امام بنا۔

صفحہ نمبر754

ہم سب کو آزمائش سے گزرنا ہے ٭٭

مطلب یہ ہے کہ آزمائش اور امتحان سے پہلے جنت کی آرزوئیں ٹھیک نہیں اگلی امتوں کا بھی امتحان لیا گیا، انہیں بھی بیماریاں مصیبتیں پہنچیں، «بأساء» کے معنی فقیری [تفسیر ابن ابی حاتم:217/2] ‏ «وضراء» کے معنی سخت بیماری بھی کیا گیا ہے۔ «وَزُلْزِلُوا» ان پر دشمنوں کا خوف اس قدر طاری ہوا کہ کانپنے لگے ان تمام سخت امتحانوں میں وہ کامیاب ہوئے اور جنت کے وارث بنے، صحیح حدیث میں ہے ایک مرتبہ سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہماری امداد کی دعا نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس ابھی سے گھبرا اٹھے سنو تم سے اگلے موحدوں کو پکڑ کر ان کے سروں پر آرے رکھ دئیے جاتے تھے اور چیر کر ٹھیک دو ٹکڑے کر دئیے جاتے تھے لیکن تاہم وہ توحید وسنت سے نہ ہٹتے تھے، لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت پوست نوچے جاتے تھے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے دین کو نہیں چھوڑتے تھے، قسم اللہ کی اس میرے دین کو تو میرا رب اس قدر پورا کرے گا کہ بلا خوف وخطر صنعاء سے حضر موت تک سوار تنہا سفر کرنے لگے گا اسے سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہو گا، البتہ دل میں یہ خیال ہونا اور بات ہے کہ کہیں میری بکریوں پر بھیڑیا نہ پڑے لیکن افسوس تم جلدی کرتے ہو، [صحیح بخاری:6943] ‏

قرآن میں ٹھیک یہی مضمون دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ آیت «الم، أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّـهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ» [ 29۔ العنکبوت: 3-1 ] ‏ کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض ایمان کے اقرار سے ہی چھوڑ دئیے جائیں گے اور ان کی آزمائش نہ ہو گی ہم نے تو اگلوں کی بھی آزمائش کی سچوں کو اور جھوٹوں کو یقیناً ہم نکھار کر رہیں گے، چنانچہ اسی طرح صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین کی پوری آزمائش ہوئی یوم الاحزاب کو یعنی جنگ خندق میں ہوئی جیسے خود قرآن پاک نے اس کا نقشہ کھینچا ہے فرمان ہے آیت «إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّـهِ الظُّنُونَا هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا» [ 33-الأحزاب: 10 - 12 ] ‏ یعنی جبکہ کافروں نے تمہیں اوپر نیچے سے گھیر لیا جبکہ آنکھیں پتھرا گئیں اور دل حلقوم تک آ گئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ گمان ہونے لگے اس جگہ مومنوں کی پوری آزمائش ہو گئی اور وہ خوب جھنجھوڑ دئیے گئے جبکہ منافقوں کو اور ڈھل مل گئی یقیناً لوگ کہنے لگے کہ اللہ رسول کے وعدے تو غرور کے ہی تھے۔

ہرقل نے جب ابوسفیان سے ان کے کفر کی حالت میں پوچھا تھا کہ تمہاری کوئی لڑائی بھی اس دعویدار نبوت سے ہوئی ہے ابوسفیان نے کہا ہاں پوچھا پھر کیا رنگ رہا کہا کبھی ہم غالب رہے کبھی وہ غالب رہے تو ہرقل نے کہا انبیاء علیہم السلام کی آزمائش اسی طرح ہوتی رہتی ہے لیکن انجام کار کھلا غلبہ انہیں کا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:7] ‏

صفحہ نمبر755

مثل کے معنی طریقہ کے ہیں جیسے اور جگہ ہے آیت «فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ» [ 43۔ الزخرف: 8 ] ‏، اگلے مومنوں نے مع نبیوں کے ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کی مدد طلب کی اور سخت اور تنگی سے نجات چاہی جنہیں جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کی امداد بہت ہی نزدیک ہے جیسے اور جگہ ہے آیت «فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا» [ 94۔ الشرح: 6-5 ] ‏، یقیناً سختی کے ساتھ آسانی ہے برائی کے ساتھ بھلائی ہے، ایک حدیث میں ہے کہ بندے جب ناامید ہونے لگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ تعجب کرتا ہے کہ میری فریاد رسی تو آپہنچنے کو ہے اور یہ ناامید ہوتا چلا جا رہا ہے پس اللہ تعالیٰ ان کی عجلت اور اپنی رحمت کے قرب پر ہنس دیتا ہے۔ [مسند احمد:11/4:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر756

نفلی خیرات ٭٭

مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت نفلی خیرات کے بارے میں ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:419/2] ‏ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اسے آیت زکوٰۃ نے منسوخ کر دیا۔ لیکن یہ قول ذرا غور طلب ہے، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کس طرح خرچ کریں تم انہیں کہدو کہ ان لوگوں سے سلوک کریں جن کا بیان ہوا۔ حدیث میں ہے کہ اپنی ماں سے سلوک کر اور اپنے باپ اور اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے پھر اور قریبی اور قریبی لوگوں سے، [دار قطنی:44/3:صحیح] ‏ یہ حدیث بیان فرما کر میمون بن مہران نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ ہیں جن کے ساتھ مالی سلوک کیا جائے اور ان پر مال خرچ کیا جائے نہ کہ طبلوں باجوں تصویروں اور دیواروں پر کپڑا چسپاں کرنے میں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:620/2] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے تم جو بھی نیک کام کرو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ اس پر بہترین بدلہ عطا فرمائے گا وہ ذرے برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔

صفحہ نمبر757

جہاد بقائے ملت کا بنیادی اصول ٭٭

دشمنان اسلام سے دین اسلام کے بچاؤ کے لیے جہاد کی فرضیت کا اس آیت میں حکم ہو رہا ہے زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں جہاد ہر شخص پر فرض ہے، خواہ لڑائی میں نکلے خواہ بیٹھا رہے سب کا فرض ہے کہ جب ان سے مدد طلب کی جائے تو وہ امداد کریں جب ان سے فریاد کی جائے یہ فریاد رسی کریں جب انہیں میدان میں بلایا جائے یہ نکل کھڑے ہوں صحیح حدیث شریف میں ہے جو شخص مر جائے اور اس نے نہ تو جہاد کیا ہو نہ اپنے دل میں جہاد کی بات چیت کی ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔ [صحیح مسلم:1910] ‏ اور حدیث میں ہے، فتح مکہ کے بعد ہجرت تو نہیں رہی لیکن جہاد اور نیت موجود ہے اور جب تم سے جہاد کے لیے نکلنے کو کہا جائے تو نکل کھڑے ہو یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی فتح کے دن فرمایا تھا۔ [صحیح بخاری:2783] ‏

صفحہ نمبر758

پھر فرمایا ہے حکم جہاد گو تم پر بھاری پڑے گا اور اس میں تمہیں مشقت اور تکلیف نظر آئے گی ممکن ہے قتل بھی کئے جاؤ ممکن ہے زخمی ہو جاؤ پھر سفر کی تکلیف دشمنوں کی یورش کا مقابلہ ہو لیکن سمجھو تو ممکن ہے تم برا جانو اور ہو تمہارے لیے اچھا کیونکہ اسی سے تمہارا غلبہ اور دشمن کی پامالی ہے ان کے مال ان کے ملک بلکہ ان کے بال بچے تک بھی تمہارے قدموں میں گر پڑیں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم کسی چیز کو اپنے لیے اچھا جانو اور وہ ہی تمہارے لیے برا ہو عموماً ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک چیز کو چاہتا ہے لیکن فی الواقع نہ اس میں مصلحت ہوتی ہے نہ خیر و برکت اسی طرح گو تم جہاد نہ کرنے میں اچھائی سمجھو دراصل وہ تمہارے لیے زبردست برائی ہے کیونکہ اس سے دشمن تم پر غالب آ جائے گا اور دنیا میں قدم ٹکانے کو بھی تمہیں جگہ نہ ملے گی، تمام کاموں کے انجام کا علم محض پروردگار عالم ہی کو ہے وہ جانتا ہے کہ کون سا کام تمہارے لیے انجام کے لحاظ سے اچھا ہے اور کون سا برا ہے، وہ اسی کام کا حکم دیتا ہے جس میں تمہارے لیے دونوں جہان کی بہتری ہو تم اس کے احکام دل و جان سے قبول کر لیا کرو اور اس کے ہر ہر حکم کو کشادہ پیشانی سے مان لیا کرو اسی میں تمہاری بھلائی اور عمدگی ہے۔

صفحہ نمبر759

حضرمی کا قتل ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہو گئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کر دیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ جماعت وہاں سے واپس ہوئی۔

صفحہ نمبر760

اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:4087:صحیح] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔ مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [ یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے ] ‏ اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،

مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔

صفحہ نمبر761

ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں سیدنا رباب اسدی رضی اللہ عنہ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لیے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آ جائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کر سکیں گے انہوں نے شجاعت و مردانگی کے ساتھ حملہ کیا۔

صفحہ نمبر762

سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہو گیا عثمان اور حکم کو قید کر لیا اور مال وغیرہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے چنانچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہیئے، جب یہ لشکر سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نا دم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہو گیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا۔

صفحہ نمبر763

ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حرمت والے مہینوں میں بھی جدال و قتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زور و شور سے لمبی مدت تک ہو گی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ الحرب وقت لڑائی آ پہنچا، قاتل کا نام واقد رضی اللہ عنہ تھا جس سے انہوں نے کہا «وقدت الحرب لڑائی» کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کر دیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو،

ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔

سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [ رضی اللہ عنہ ] ‏ ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ البقرہ: 218 ] ‏، نازل ہوئی۔ [سیرۃ ابن ھشام:183/2-186] ‏ اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔

صفحہ نمبر764

اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [ البقرہ: 217 ] ‏، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہٰ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار «وكفر به والله راء وشاهد وإخراجكم من مسجد الله أهله» «لئلا يرى لله في البيت ساجد فإنا وإن عيرتمونا بقتله» «وأرجف بالإسلام باغ وحاسد سقينا من ابن الحضرمي رماحنا» «بنخلة لما أوقد الحرب واقد دما وابن عبد الله عثمان بيننا» «ينازعه غل من القد عاند» سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے، اللہ ان سے خوش ہو۔ [آمین] ‏

صفحہ نمبر765

حضرمی کا قتل ٭٭

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو بھیجا اور اس کا امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا جب وہ جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدائی کے صدمہ سے رو دئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روک لیا اور ان کے بدلے سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کو سردار لشکر مقرر کیا اور انہیں ایک خط لکھ کر دیا اور فرمایا کہ جب تک بطن نخلہ نہ پہنچو اس خط کو نہ پڑھنا اور وہاں پہنچ کر جب اس مضمون کو دیکھو تو ساتھیوں میں سے کسی کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور نہ کرنا چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس مختصر سی جماعت کو لے کر چلے جب اس مقام پر پہنچے تو فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا اور کہا میں فرمانبرداری کے لیے تیار ہوں پھر اپنے ساتھیوں کو پڑھ کر سنایا اور واقعہ بیان کیا دو شخص تو لوٹ گئے لیکن اور سب ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہو گئے آگے چل کر ابن الحضرمی کافر کو انہوں نے پایا چونکہ یہ علم نہ تھا کہ جمادی الاخری کا یہ آخری دن ہے یا رجب کا پہلا دن ہے انہوں نے اس لشکر پر حملہ کر دیا ابن الحضرمی مارا گیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ جماعت وہاں سے واپس ہوئی۔

صفحہ نمبر760

اب مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض کرنا شروع کیا کہ دیکھو انہوں نے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کی اور قتل بھی کیا اس بارے میں یہ آیت اتری [تفسیر ابن جریر الطبری:4087:صحیح] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ اس جماعت میں سیدنا عمار بن یاسر، سیدنا ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، سیدنا سعد بن ابی وقاص، سیدنا عتبہ بن غزوان سلمی، سیدنا سہیل بن بیضاء، سیدنا عامر بن فہیرہ اور سیدنا واقد بن عبداللہ یربوعی رضی اللہ عنہم تھے۔ بطن نخلہ پہنچ کر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے صاف فرما دیا تھا کہ جو شخص شہادت کا آرزو مند ہو وہی آگے بڑے یہاں سے واپس جانے والے رضی اللہ عنہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ رضی اللہ عنہما تھے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ ان کا اونٹ گم ہو گیا تھا جس کے ڈھونڈنے میں وہ رہ گئے۔ مشرکین میں حکم بن کیسان، عثمان بن عبداللہ وغیرہ تھے۔ سیدنا واقد رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں عمرو قتل ہوا اور یہ جماعت مال غنیمت لے کر لوٹی۔ یہ پہلی غنیمت تھی جو مسلمان صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملی اور یہ جانباز جماعت دو قیدیوں کو اور مال غنیمت لے کر واپس آئی مشرکین مکہ نے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنا چاہا [ یہاں اصل عربی میں کچھ عبارت چھوٹ گئی ہے ] ‏ اور انہوں نے اعتراضاً کہا کہ دیکھو صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ یہ ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہیں لیکن حرمت والے مہینوں کی کوئی حرمت نہیں کرتے اور ماہ رجب میں جدال وقتال کرتے ہیں، مسلمان کہتے تھے کہ ہم نے رجب میں قتل نہیں کیا بلکہ جمادی الاخری میں لڑائی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ رجب کی پہلی رات اور جمادی الاخری کی آخری شب تھی رجب شروع ہوتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میان میں ہو گئی تھیں،

مشرکین کے اس اعتراض کا جواب اس آیت میں دیا جا رہا ہے کہ یہ سچ ہے کہ ان مہینوں میں جنگ حرام ہے لیکن اے مشرکوں تمہاری بداعمالیاں تو برائی میں اس سے بھی بڑھ کر ہیں، تم اللہ کا انکار کرتے ہو تم میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو میری مسجد سے روکتے ہو تم نے انہیں وہاں سے نکال دیا پس اپنی ان سیاہ کاریوں پر نظر ڈالو کہ یہ کس قدر بدترین کام ہیں، انہی حرمت والے مہینوں میں ہی مشرکین نے مسلمانوں کو بیت اللہ شریف سے روکا تھا اور وہ مجبوراً واپس ہوئے تھے اگلے سال اللہ تعالیٰ نے حرمت والے مہینوں میں ہی مکہ کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ فتح کروایا۔ انہیں ان آیتوں میں لاجواب کیا گیا عمرو بن الحضرمی جو قتل کیا گیا یہ طائف سے مکہ کو آ رہا تھا، گو رجب کا چاند چڑھ چکا تھا لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم کو معلوم نہ تھا وہ اس رات کو جمادی الاخری کی آخری رات جانتے تھے۔

صفحہ نمبر761

ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ساتھ آٹھ آدمی تھے سات تو وہی جن کے نام اوپر بیان ہوئے آٹھویں سیدنا رباب اسدی رضی اللہ عنہ تھے انہیں بدر اولیٰ سے واپسی کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا یہ سب مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم تھے ان میں ایک بھی انصاری نہ تھا دو دن چل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نامہ مبارک کو پڑھا جس میں تحریر تھا کہ میرے اس حکم نامہ کو پڑھ کر مکہ اور طائف کے درمیان نخلہ میں جاؤ وہاں ٹھہرو اور قریش کے قافلہ کا انتظار کرو اور ان کی خبریں معلوم کر کے مجھے پہنچاؤ یہ بزرگ یہاں سے چلے تو سب ہی چلے تھے دو صحابی جو اونٹ کو ڈھونڈنے کے لیے رہ گئے تھے وہ بھی یہاں سے ساتھ ہی تھے لیکن فرغ کے اوپر معدن پر پہنچ کر نجران میں انہیں اونٹوں کی تلاش میں رک جانا پڑا، قریشیوں کے اس قافلہ میں زیتون وغیرہ تجارتی مال تھا مشرکین میں علاوہ ان لوگوں کے جن کے نام اوپر بیان ہوئے ہیں نوفل بن عبداللہ وغیرہ بھی تھے مسلمان اول تو انہیں دیکھ کر گھبرائے لیکن پھر مشورہ کر کے مسلمانوں نے حملہ یہ سوچ کر کیا کہ اگر انہیں چھوڑ دیا تو اس رات کے بعد حرمت کا مہینہ آ جائے گا تو ہم پھر کچھ بھی نہ کر سکیں گے انہوں نے شجاعت و مردانگی کے ساتھ حملہ کیا۔

صفحہ نمبر762

سیدنا واقد بن عبداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حضرمی کو ایسا تاک کر تیر لگایا کہ اس کا تو فیصلہ ہی ہو گیا عثمان اور حکم کو قید کر لیا اور مال وغیرہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے راستہ میں ہی سردار لشکر نے کہہ دیا تھا کہ اس مال میں سے پانچواں حصہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے چنانچہ یہ حصہ تو الگ کر کے رکھ دیا گیا اور باقی مال صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیا اور اب تک یہ حکم نازل نہیں ہوا تھا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ نکالنا چاہیئے، جب یہ لشکر سرکار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچا تو آپ نے واقعہ سن کر ناراضگی ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ میں نے تمہیں حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کو کب کہا تھا نہ تو قافلہ کا کچھ مال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا نہ قیدیوں کو قبضہ میں کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول وفعل سے یہ مسلمان سخت نا دم ہوئے اور اپنی گنہگاری کا انہیں یقین ہو گیا پھر اور مسلمانوں نے بھی انہیں کچھ کہنا سننا شروع کیا۔

صفحہ نمبر763

ادھر قریشیوں نے طعنہ دینا شروع کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم حرمت والے مہینوں میں بھی جدال و قتال سے باز نہیں رہتے دوسری جانب یہودیوں نے ایک بدفالی نکالی چونکہ عمرو قتل کیا گیا تھا انہوں نے کہا عمرت الحرب لڑائی پر رونق اور خوب زور و شور سے لمبی مدت تک ہو گی اس کے باپ کا نام حضرمی تھا اس سے انہوں نے فال لی کہ الحرب وقت لڑائی آ پہنچا، قاتل کا نام واقد رضی اللہ عنہ تھا جس سے انہوں نے کہا «وقدت الحرب لڑائی» کی آگ بھڑک اٹھی لیکن قدرت نے اسے برعکس کر دیا اور نتیجہ تمام تر مشرکین کے خلاف رہا اور ان کے اعتراض کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر بالفرض جنگ حرمت والے مہینہ میں ہوئی بھی ہو تو اس سے بھی بدترین تمہاری سیاہ کاریاں موجود ہیں تمہارا یہ فتنہ کہ تم دین اللہ سے مسلمانوں کو مرتد کرنے کی اپنی تمام تر امکانی کوششیں کر رہے ہو یہ اس قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم نہ تو اپنے ان کاموں سے رکتے ہو نہ توبہ کرتے ہو نہ اس پر نادم ہوتے ہو،

ان آیات کے نازل ہونے کے بعد مسلمان اس رنج و افسوس سے نجات پائی۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قافلہ اور قیدیوں کو اپنے قبضہ میں لیا، قریشیوں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قاصد بھیجا کہ ان دونوں قیدیوں کا فدیہ لے لیجئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے دونوں صحابی سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہما جب آ جائیں تب آؤ مجھے ڈر ہے کہ تم انہیں ایذاء نہ پہنچاؤ چنانچہ جب وہ آ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے لیا اور دونوں قیدیوں کو رہا کر دیا۔

سیدنا حکم بن کیسان رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہی رہ گئے آخر بیر معونہ کی لڑائی میں شہید ہوئے [ رضی اللہ عنہ ] ‏ ہاں عثمان بن عبداللہ مکہ واپس گیا اور وہیں کفر میں ہی مرا، ان غازیوں کو یہ آیت سن کر بڑی خوشی حاصل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کی وجہ سے حرمت والے مہینوں کی بےادبی کے سبب سے دوسرے صحابی کی چشمک کی بنا پر، کفار کے طعنہ کے باعث جو رنج و غم ان کے دلوں پر تھا سب دور ہو گیا لیکن اب یہ فکر پڑی کہ ہمیں اخروی اجر بھی ملے گا یا نہیں ہم غازیوں میں بھی شمار ہوں گے یا نہیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوالات کئے گئے تو اس کے جواب میں یہ آیت «إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَتَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» [ البقرہ: 218 ] ‏، نازل ہوئی۔ [سیرۃ ابن ھشام:183/2-186] ‏ اور ان کی بڑی بڑی امیدیں بندھ گئیں، رضی اللہ عنہم اجمعین۔

صفحہ نمبر764

اسلام اور کفر کے مقابلہ میں کافروں میں سب سے پہلے یہی ابن الحضرمی مارا گیا، کفار کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ کیا حرمت والے مہینوں میں قتل کرنا جائز ہے اور اس پر یہ آیت «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ» [ البقرہ: 217 ] ‏، نازل ہوئی یہی مال غنیمت تھا جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور سب سے پہلے پانچواں حصہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے ہی نکالا جو اسلام میں باقی رہا اور حکم الہٰ بھی اس طرح نازل ہوا اور یہی دو قیدی تھے جو سب سے پہلے مسلمانوں کے ہاتھوں اسیر ہوئے، اس واقعہ کو ایک نظم میں بھی ادا کیا گیا ہے بعض تو کہتے ہیں کہ یہ اشعار سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہیں لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اشعار «وكفر به والله راء وشاهد وإخراجكم من مسجد الله أهله» «لئلا يرى لله في البيت ساجد فإنا وإن عيرتمونا بقتله» «وأرجف بالإسلام باغ وحاسد سقينا من ابن الحضرمي رماحنا» «بنخلة لما أوقد الحرب واقد دما وابن عبد الله عثمان بيننا» «ينازعه غل من القد عاند» سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کے ہیں جو اس مختصر سے لشکر کے سردار تھے، اللہ ان سے خوش ہو۔ [آمین] ‏

صفحہ نمبر765

حرمت شراب کیوں؟ ٭٭

جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ» [ 2۔ البقرہ: 219 ] ‏، نازل ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لیے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورۃ نساء کی آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» [ 4۔ النسآء: 43 ] ‏، نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا جانے لگا کہ نشے والے لوگ نماز کے قریب بھی نہ آئیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس آیت کی بھی تلاوت کی گئی آپ رضی اللہ عنہما نے پھر بھی یہی دعا کی یا اللہ ہمارے لیے اس کا بیان اور واضح کر۔

صفحہ نمبر767

اس پر سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [ 5۔ المائدہ: 91 ] ‏، جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت بھی سنائی گئی اور جب ان کے کان میں آیت کے آخری الفاظ «هَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» پڑے تو آپ رضی اللہ عنہما بول اٹھے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» ہم رک گئے ہم باز آئے ملاحظہ ہو مسند احمد، ترمذی اور نسائی وغیرہ، [سنن ترمذي:3049، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابومیسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابوزرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما والی اور روایتیں سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [ 5۔ المائدہ: 90 ] ‏ کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی ان شاءاللہ تعالیٰ، امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورۃ المائدہ میں ہی آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر768

میسر کہتے ہیں جوئے بازی کو گناہ کا وبال اخروی ہے اور فائدہ صرف دنیاوی ہے کہ بدن کو کچھ نفع پہنچے یا غذا ہضم ہو یا فضلے برآمد ہوں یا بعض ذہن تیز ہو جائیں یا ایک طرح کا سرور حاصل ہو جیسے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا جاہلیت کے زمانہ کا شعر ہے شراب پی کر ہم بادشاہ اور دلیر بن جاتے ہیں، اسی طرح اس کی خرید و فروخت اور کشید میں بھی تجارتی نفع ممکن ہے ہو جائے۔ اسی طرح جوئے بازی میں ممکن ہے جیت ہو جائے، لیکن ان فوائد کے مقابلہ میں نقصانات ان کے بکثرت ہیں کیونکہ اس سے عقل کا مارا جانا، ہوش و حواس کا بے کار ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی دین کا برباد ہونا بھی ہے، یہ آیت گویا شراب کی حرمت کا پیش خیمہ تھی مگر اس میں صاف صاف حرمت بیان نہیں ہوئی تھی اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی چاہت تھی کہ کھلے لفظوں میں شراب کی حرمت نازل ہو، چنانچہ آخرکار سورۃ المائدہ کی آیت میں صاف فرما دیا گیا کہ شراب اور جوا اور پانسے اور تیر سے فال لینا سب حرام اور شیطانی کام ہیں، اے مسلمانو اگر نجات کے طالب ہو تو ان سب سے باز آ جاؤ، شیطان کی تمنا ہے کہ شراب اور جوئے کے باعث تم میں آپس میں عداوت و بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے کیا اب تم ان شیطانی کاموں سے رک جانے والے بن جاؤ گے؟ اس کا پورا بیان ان شاءاللہ سورۃ المائدہ میں آئے گا، مفسرین تابعی فرماتے ہیں کہ شراب کے بارے میں پہلے یہی آیت نازل ہوئی، پھر سورۃ نساء کی آیت نازل ہوئی پھر سورۃ المائدہ کی آیت اتری اور شراب مکمل طور پر حرام ہو گئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:331/4] ‏

صفحہ نمبر769

عفو اور اس کی وضاحتیں ٭٭

«قُلِ الْعَفْوَ» کی ایک قرأت «قُلِ الْعَفْوُ» بھی ہے اور دونوں قرأتیں ٹھیک ہیں معنی قریب قریب اور ایک ہو سکتے ہیں اور بندھی بیٹھ سکتے ہیں، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے غلام بھی ہیں بال بچے بھی ہیں اور ہم مالدار بھی ہیں کیا کچھ اللہ کی راہ میں دیں؟ جس کے جواب میں آیت «قُلِ الْعَفْوَ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» [ البقرہ: 219 ] ‏ کہا گیا۔ [الدار المنثور::453/1] ‏ یعنی جو اپنے بال بچوں کے خرچ کے بعد بچے، بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے، طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر چیز میں تھوڑا تھوڑا اللہ کی راہ بھی دیتے رہا کرو، ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں افضل اور بہتر مال اللہ کی راہ میں دو، سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ حاجت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرو، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا نہ کرو کہ سب دے ڈالو اور پھر خود سوال کے لیے بیٹھ جاؤ، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کام میں لاؤ، کہا میرے پاس ایک اور ہے فرمایا اپنی بیوی پر خرچ کرو کہا ایک اور ہے فرمایا اپنے بچوں کی ضروریات پر لگاؤ کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اسے تو اپنی عقل سے خود بھی خرچ کر سکتا ہے۔ [سنن ابوداود:1691، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر770

صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا اپنے نفس سے شروع کر پہلے اسی پر صدقہ کر پھر تو اپنے بال بچوں پر پھر بچے تو اپنے رشتہ داروں پر پھر تو اور حاجت مندوں پر، [صحیح مسلم:997] ‏ اسی کتاب میں ایک اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل خیرات وہ ہے جو انسان اپنے خرچ کے مطابق باقی رکھ کر بچی ہوئی چیز کو اللہ کی راہ میں دے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے، پہلے انہیں دے جن کا خرچ تیرے ذمہ ہے [صحیح بخاری:5355] ‏

ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لیے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لیے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں۔ [صحیح مسلم:1036] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہو گیا، حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔

صفحہ نمبر771

پھر ارشاد ہے کہ جس طرح یہ احکام واضح کر کے کھول کھول کر ہم نے بیان فرمائے اسی طرح ہم باقی احکام بھی وضاحت اور تشریح کے ساتھ بیان فرمائیں گے، وعدے وعید بھی صاف طور پر کھول دئیے جائیں گے تاکہ تم دنیائے فانی کی طرف بیرغبت ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہو جاؤ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، حضرت حسن رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ جو غور و تدبر کرے گا جان لے گا کہ دنیا بلا کا گھر ہے اور اس کا انجام فنا ہے اور آخرت جزا اور بقا کا گھر ہے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فکر کرنے سے صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ دنیا پر آخرت کو کس قدر فضیلت ہے پس عقلمند کو چاہیئے کہ آخرت کی بھلائی کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔

صفحہ نمبر772

یتیم کا مال اور ہماری ذمہ داری ٭٭

پھر یتیم کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں پہلے یہ حکم ہوا تھا کہ آیت «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [ 6۔ الانعام: 152 ] ‏ یعنی یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو اور فرمایا گیا تھا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا» [ 4۔ النسآء: 10 ] ‏۔ یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بھڑکتی ہوئی جہنم میں عنقریب داخل ہوں گے تو ان آیتوں کو سن کر ان لوگوں نے جو یتیموں کے والی تھے یتیموں کا کھانا اور ان کا پانی اپنے گھر کے کھانے اور گھر کے پانی سے بالکل جدا کر دیا اب اگر ان کا پکا ہوا کھانا بچ جاتا تو اسے یا تو وہ خود ہی دوسرے وقت کھائے یا خراب ہو جائے تو یوں ایک طرف تو ان یتیموں کا نقصان ہونے لگا دوسری جانب والیانِ یتیم بھی تنگ آ گئے کہ کب تک ایک ہی گھر میں اس طرح رکھ رکھاؤ کیا کریں تو ان لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جس پر یہ آیت «قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ» [ 2۔ البقرہ: 220 ] ‏ نازل ہوئی اور نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ ان کے مال کو اپنے مال میں ملا لینے کی رخصت دی گئی، [سنن ابوداود:2871، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ابوداؤد ونسائی وغیرہ میں یہ روایتیں موجود ہیں اور سلف وخلف کی ایک بہت بڑی جماعت نے اس کا شان نزول یہی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر773

سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یتیم کے مال کی اس طرح دیکھ بھال سخت مشکل ہے کہ اس کا کھانا الگ ہو، اس کا پینا الگ ہو۔ «اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ» [ البقرہ: 220 ] ‏ سے تو یہی علیحدگی مراد ہے لیکن پھر «وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ» [ البقرہ: 220 ] ‏ فرما کر اس کا کھانا پینا ملا جلا رکھنے کی اجازت دی گئی اس لیے کہ وہ بھی دینی بھائی ہیں یا نیت نیک ہونی چاہیئے۔ قصد اور ارادہ اگر یتیم کی نقصان رسانی کا ہے تو وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور اگر مقصود یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی نگہبانی ہے تو اسے بھی وہ علام الغیوب بخوبی جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تکلیف و مشقت میں مبتلا رکھنا نہیں چاہتا جو تنگی اور حرج تم پر یتیم کا کھانا پینا بالکل جدا رکھنے میں تھا وہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیا اور تم پر تخفیف کر دی اور ایک ہنڈیا رکھنا اور ملا جلا کام کرنا تمہارے لیے مباح قرار دیا، بلکہ یتیم کا نگران اگر تنگ دست مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق اپنے خرچ میں لا سکتا ہے، اور اگر کسی مالدار نے اپنے بوقت ضرورت اس کی چیز کام میں لے لی تو پھر ادا کر دے، یہ مسائل ان شاءاللہ وضاحت کے ساتھ سورۃ نساء کی تفسیر میں بیان ہوں گے۔

صفحہ نمبر774

حرمت شراب کیوں؟ ٭٭

جب شراب کی حرمت کی آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یا اللہ تو اس کا واضح بیان فرما ان پر سورۃ البقرہ کی یہ آیت «يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْخَــمْرِ وَالْمَيْسِرِ» [ 2۔ البقرہ: 219 ] ‏، نازل ہوئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی گئی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے پھر بھی یہی دعا کی کہ یا اللہ اسے ہمارے لیے اور زیادہ صاف بیان فرما اس پر سورۃ نساء کی آیت «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا» [ 4۔ النسآء: 43 ] ‏، نازل ہوئی اور ہر نماز کے وقت پکارا جانے لگا کہ نشے والے لوگ نماز کے قریب بھی نہ آئیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو بلوایا گیا اور ان کے سامنے اس آیت کی بھی تلاوت کی گئی آپ رضی اللہ عنہما نے پھر بھی یہی دعا کی یا اللہ ہمارے لیے اس کا بیان اور واضح کر۔

صفحہ نمبر767

اس پر سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» [ 5۔ المائدہ: 91 ] ‏، جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو بلا کر یہ آیت بھی سنائی گئی اور جب ان کے کان میں آیت کے آخری الفاظ «هَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» پڑے تو آپ رضی اللہ عنہما بول اٹھے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» ہم رک گئے ہم باز آئے ملاحظہ ہو مسند احمد، ترمذی اور نسائی وغیرہ، [سنن ترمذي:3049، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں بھی روایت ہے لیکن اس کا راوی ابومیسرہ ہے جن کا نام عمر بن شرحبیل ہمدانی کوفی ہے، ابوزرعہ فرماتے ہیں کہ ان کا سماع سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ امام علی بن مدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی سند صالح اور صحیح ہے امام ترمذی بھی اسے صحیح کہتے ہیں ابن ابی حاتم میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے «اِنْتَھَیّنَا اِنْتَھَیّنَا» کے قول کے بعد یہ بھی ہے کہ شراب مال کو برباد کرنے والی اور عقل کو خبط کرنے والی چیز ہے یہ روایت اور اسی کے ساتھ مسند کی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما والی اور روایتیں سورۃ المائدہ کی آیت «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» [ 5۔ المائدہ: 90 ] ‏ کی تفسیر میں مفصل بیان ہوں گی ان شاءاللہ تعالیٰ، امیر المؤمنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں خمر ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانپ لے اس کا پورا بیان بھی سورۃ المائدہ میں ہی آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر768

میسر کہتے ہیں جوئے بازی کو گناہ کا وبال اخروی ہے اور فائدہ صرف دنیاوی ہے کہ بدن کو کچھ نفع پہنچے یا غذا ہضم ہو یا فضلے برآمد ہوں یا بعض ذہن تیز ہو جائیں یا ایک طرح کا سرور حاصل ہو جیسے کہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا جاہلیت کے زمانہ کا شعر ہے شراب پی کر ہم بادشاہ اور دلیر بن جاتے ہیں، اسی طرح اس کی خرید و فروخت اور کشید میں بھی تجارتی نفع ممکن ہے ہو جائے۔ اسی طرح جوئے بازی میں ممکن ہے جیت ہو جائے، لیکن ان فوائد کے مقابلہ میں نقصانات ان کے بکثرت ہیں کیونکہ اس سے عقل کا مارا جانا، ہوش و حواس کا بے کار ہونا ضروری ہے، ساتھ ہی دین کا برباد ہونا بھی ہے، یہ آیت گویا شراب کی حرمت کا پیش خیمہ تھی مگر اس میں صاف صاف حرمت بیان نہیں ہوئی تھی اسی لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی چاہت تھی کہ کھلے لفظوں میں شراب کی حرمت نازل ہو، چنانچہ آخرکار سورۃ المائدہ کی آیت میں صاف فرما دیا گیا کہ شراب اور جوا اور پانسے اور تیر سے فال لینا سب حرام اور شیطانی کام ہیں، اے مسلمانو اگر نجات کے طالب ہو تو ان سب سے باز آ جاؤ، شیطان کی تمنا ہے کہ شراب اور جوئے کے باعث تم میں آپس میں عداوت و بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے کیا اب تم ان شیطانی کاموں سے رک جانے والے بن جاؤ گے؟ اس کا پورا بیان ان شاءاللہ سورۃ المائدہ میں آئے گا، مفسرین تابعی فرماتے ہیں کہ شراب کے بارے میں پہلے یہی آیت نازل ہوئی، پھر سورۃ نساء کی آیت نازل ہوئی پھر سورۃ المائدہ کی آیت اتری اور شراب مکمل طور پر حرام ہو گئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:331/4] ‏

صفحہ نمبر769

عفو اور اس کی وضاحتیں ٭٭

«قُلِ الْعَفْوَ» کی ایک قرأت «قُلِ الْعَفْوُ» بھی ہے اور دونوں قرأتیں ٹھیک ہیں معنی قریب قریب اور ایک ہو سکتے ہیں اور بندھی بیٹھ سکتے ہیں، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور سیدنا ثعلبہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے غلام بھی ہیں بال بچے بھی ہیں اور ہم مالدار بھی ہیں کیا کچھ اللہ کی راہ میں دیں؟ جس کے جواب میں آیت «قُلِ الْعَفْوَ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» [ البقرہ: 219 ] ‏ کہا گیا۔ [الدار المنثور::453/1] ‏ یعنی جو اپنے بال بچوں کے خرچ کے بعد بچے، بہت سے صحابہ اور تابعین سے اس کی یہی تفسیر مروی ہے، طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں ہر چیز میں تھوڑا تھوڑا اللہ کی راہ بھی دیتے رہا کرو، ربیع رحمہ اللہ کہتے ہیں افضل اور بہتر مال اللہ کی راہ میں دو، سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ حاجت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کرو، حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایسا نہ کرو کہ سب دے ڈالو اور پھر خود سوال کے لیے بیٹھ جاؤ، چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے کام میں لاؤ، کہا میرے پاس ایک اور ہے فرمایا اپنی بیوی پر خرچ کرو کہا ایک اور ہے فرمایا اپنے بچوں کی ضروریات پر لگاؤ کہا ایک اور بھی ہے فرمایا اسے تو اپنی عقل سے خود بھی خرچ کر سکتا ہے۔ [سنن ابوداود:1691، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر770

صحیح مسلم شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا اپنے نفس سے شروع کر پہلے اسی پر صدقہ کر پھر تو اپنے بال بچوں پر پھر بچے تو اپنے رشتہ داروں پر پھر تو اور حاجت مندوں پر، [صحیح مسلم:997] ‏ اسی کتاب میں ایک اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل خیرات وہ ہے جو انسان اپنے خرچ کے مطابق باقی رکھ کر بچی ہوئی چیز کو اللہ کی راہ میں دے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہے، پہلے انہیں دے جن کا خرچ تیرے ذمہ ہے [صحیح بخاری:5355] ‏

ایک اور حدیث میں ہے اے ابن آدم جو تیرے پاس اپنی ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں دے ڈالنا ہی تیرے لیے بہتر ہے اس کا روک رکھنا تیرے لیے برا ہے ہاں اپنی ضرورت کے مطابق خرچ کرنے میں تجھ پر کوئی ملامت نہیں۔ [صحیح مسلم:1036] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے حکم سے منسوخ ہو گیا، حضرت مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زکوٰۃ کی آیت گویا اس آیت کی تفسیر ہے اور اس کا واضح بیان ہے، ٹھیک قول یہی ہے۔

صفحہ نمبر771

پھر ارشاد ہے کہ جس طرح یہ احکام واضح کر کے کھول کھول کر ہم نے بیان فرمائے اسی طرح ہم باقی احکام بھی وضاحت اور تشریح کے ساتھ بیان فرمائیں گے، وعدے وعید بھی صاف طور پر کھول دئیے جائیں گے تاکہ تم دنیائے فانی کی طرف بیرغبت ہو کر آخرت کی طرف متوجہ ہو جاؤ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، حضرت حسن رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا واللہ جو غور و تدبر کرے گا جان لے گا کہ دنیا بلا کا گھر ہے اور اس کا انجام فنا ہے اور آخرت جزا اور بقا کا گھر ہے حضرت قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں فکر کرنے سے صاف معلوم ہو سکتا ہے کہ دنیا پر آخرت کو کس قدر فضیلت ہے پس عقلمند کو چاہیئے کہ آخرت کی بھلائی کے جمع کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔

صفحہ نمبر772

یتیم کا مال اور ہماری ذمہ داری ٭٭

پھر یتیم کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں پہلے یہ حکم ہوا تھا کہ آیت «وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ حَتّٰي يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ» [ 6۔ الانعام: 152 ] ‏ یعنی یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو بہترین طریقہ ہو اور فرمایا گیا تھا آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْيَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِھِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيْرًا» [ 4۔ النسآء: 10 ] ‏۔ یعنی جو لوگ ظلم سے یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ بھڑکتی ہوئی جہنم میں عنقریب داخل ہوں گے تو ان آیتوں کو سن کر ان لوگوں نے جو یتیموں کے والی تھے یتیموں کا کھانا اور ان کا پانی اپنے گھر کے کھانے اور گھر کے پانی سے بالکل جدا کر دیا اب اگر ان کا پکا ہوا کھانا بچ جاتا تو اسے یا تو وہ خود ہی دوسرے وقت کھائے یا خراب ہو جائے تو یوں ایک طرف تو ان یتیموں کا نقصان ہونے لگا دوسری جانب والیانِ یتیم بھی تنگ آ گئے کہ کب تک ایک ہی گھر میں اس طرح رکھ رکھاؤ کیا کریں تو ان لوگوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی جس پر یہ آیت «قُلْ اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ فَاِخْوَانُكُمْ» [ 2۔ البقرہ: 220 ] ‏ نازل ہوئی اور نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ ان کے مال کو اپنے مال میں ملا لینے کی رخصت دی گئی، [سنن ابوداود:2871، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ ابوداؤد ونسائی وغیرہ میں یہ روایتیں موجود ہیں اور سلف وخلف کی ایک بہت بڑی جماعت نے اس کا شان نزول یہی بیان فرمایا ہے۔

صفحہ نمبر773

سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں یتیم کے مال کی اس طرح دیکھ بھال سخت مشکل ہے کہ اس کا کھانا الگ ہو، اس کا پینا الگ ہو۔ «اِصْلَاحٌ لَّھُمْ خَيْرٌ» [ البقرہ: 220 ] ‏ سے تو یہی علیحدگی مراد ہے لیکن پھر «وَاِنْ تُخَالِطُوْھُمْ» [ البقرہ: 220 ] ‏ فرما کر اس کا کھانا پینا ملا جلا رکھنے کی اجازت دی گئی اس لیے کہ وہ بھی دینی بھائی ہیں یا نیت نیک ہونی چاہیئے۔ قصد اور ارادہ اگر یتیم کی نقصان رسانی کا ہے تو وہ بھی اللہ تبارک وتعالیٰ سے پوشیدہ نہیں اور اگر مقصود یتیم کی بھلائی اور اس کے مال کی نگہبانی ہے تو اسے بھی وہ علام الغیوب بخوبی جانتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تکلیف و مشقت میں مبتلا رکھنا نہیں چاہتا جو تنگی اور حرج تم پر یتیم کا کھانا پینا بالکل جدا رکھنے میں تھا وہ اللہ تعالیٰ نے دور فرما دیا اور تم پر تخفیف کر دی اور ایک ہنڈیا رکھنا اور ملا جلا کام کرنا تمہارے لیے مباح قرار دیا، بلکہ یتیم کا نگران اگر تنگ دست مسکین محتاج ہو تو دستور کے مطابق اپنے خرچ میں لا سکتا ہے، اور اگر کسی مالدار نے اپنے بوقت ضرورت اس کی چیز کام میں لے لی تو پھر ادا کر دے، یہ مسائل ان شاءاللہ وضاحت کے ساتھ سورۃ نساء کی تفسیر میں بیان ہوں گے۔

صفحہ نمبر774

پاک دامن عورتیں ٭٭

بت پرست مشرکہ عورتوں سے نکاح کی حرمت بیان ہو رہی ہے، گو آیت کا عموم تو ہر ایک مشرکہ عورت سے نکاح کرنے کی ممانعت پر ہی دلالت کرتا ہے لیکن دوسری جگہ فرمان ہے آیت «وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ وَلَا مُتَّخِذِيْٓ اَخْدَانٍ» [ 5۔ المائدہ: 5 ] ‏، یعنی تم سے پہلے جو لوگ کتاب اللہ دئیے گئے ہیں ان کی پاکدامن عورتوں سے بھی جو زناکاری سے بچنے والی ہوں ان کے مہر ادا کر کے ان سے نکاح کرنا تمہارے لیے حلال ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول بھی یہی ہے کہ ان مشرکہ عورتوں میں سے اہل کتاب عورتیں مخصوص ہیں، [تفسیر ابن جریر الطبری:350/4] ‏ مجاہد عکرمہ، سعید بن جبیر، مکحول، حسن، ضحاک، قتادہ زید بن اسلم اور ربیع بن انس رحمہم اللہ کا بھی یہی فرمان ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:669/2:] ‏ بعض کہتے ہیں یہ آیت صرف بت پرست مشرکہ عورتوں ہی کے لیے نازل ہوئی ہے جیسے بھی کہہ لیں مطلب دونوں کا ایک ہی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن جریر میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی قسم کی عورتوں سے نکاح کرنے کو ناجائز قرار دیا سوائے ایماندار، ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے خصوصاً ان عورتوں سے جو کسی دوسرے مذہب کی پابند ہوں۔ قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْاِيْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ ۡ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ» [ 5۔ المائدہ: 5 ] ‏، یعنی کافروں کے اعمال برباد ہیں۔

صفحہ نمبر776

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سخت ناراض ہوئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ انہیں کوڑے لگائیں، ان دونوں بزرگوں نے کہا اے امیرالمومنین آپ ناراض نہ ہوں ہم انہیں طلاق دے دیتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر طلاق دینی حلال ہے تو پھر نکاح بھی حلال ہونا چاہیئے میں انہیں تم سے چھین لوں گا اور اس ذلت کے ساتھ انہیں الگ کروں گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:4224:ضعیف] ‏ لیکن یہ حدیث نہایت غریب ہے

اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بالکل ہی غریب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کر کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس اثر کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ یہ صرف سیاسی مصلحت کی بناء پر تھا تاکہ مسلمان عورتوں سے بے رغبتی نہ کریں یا اور کوئی حکمت عملی اس فرمان میں تھی چنانچہ اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمان ملا تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ کیا آپ رضی اللہ عنہ اسے حرام کہتے ہیں، خلیفۃ المسلمین نے جواب دیا کہ حرام تو نہیں کہتا مگر مجھے خوف ہے کہیں تم مومن عورتوں سے نکاح نہ کرو؟ اس روایت کی سند بھی صحیح ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:366/4] ‏

ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مسلمان مرد نصرانی عورت سے نکاح کر سکتا ہے لیکن نصرانی مرد کا نکاح مسلمان عورت سے نہیں ہو سکتا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:366/4] ‏ اس روایت کی سند پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ابن جریر میں تو ایک مرفوع حدیث بھی باسناد مروی ہے کہ ہم اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کر لیں لیکن اہل کتاب مرد مسلمان عورتوں سے نکاح نہیں کر سکتے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4227:ضعیف] ‏ لیکن اس کی سند میں کچھ کمزوری ہے مگر امت کا اجماع اسی پر ہے،

ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب کے نکاح کو ناپسند کیا اور اس آیت کی تلاوت فرما دی، امام بخاری سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی نقل فرماتے ہیں کہ میں کسی شرک کو اس شرک سے بڑھ کر نہیں پاتا کہ وہ عورت کہتی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے اللہ ہیں۔ [صحیح بخاری:5285] ‏ امام احمد رحمہ اللہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا جاتا ہے تو آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس سے عرب کی وہ مشرکہ عورتیں ہیں جو بت پرست تھیں۔

صفحہ نمبر777

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ایمان والی لونڈی شرک کرنے والی آزاد عورت سے اچھی ہے یہ فرمان سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوتا ہے، ان کی ایک سیاہ رنگ لونڈی تھی ایک مرتبہ غصہ میں آ کر اسے تھپڑ مار دیا تھا پھر گھبرائے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور واقعہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اس کا کیا خیال کہا حضور! وہ روزے رکھتی ہے نماز پڑھتی ہے اچھی طرح وضو کرتی ہے اللہ کی وحدانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی دیتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوعبداللہ پھر تو وہ ایماندار ہے کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! قسم اس اللہ کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اسے آزاد کر دوں گا اور اتنا ہی نہیں بلکہ اس سے نکاح بھی کر لوں گا چنانچہ یہی کیا جس پر بعض مسلمانوں نے انہیں طعنہ دیا، وہ چاہتے تھے کہ مشرکوں میں ان کا نکاح کرا دیں اور انہیں اپنی لڑکیاں بھی دیں تاکہ شرافت نسب قائم رہے اس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ مشرک آزاد عورتوں سے تو مسلمان لونڈی ہزار ہا درجہ بہتر ہے اور اسی طرح مشرک آزاد مرد سے مسلم غلام بھی بڑھ چڑھ کر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4228] ‏

صفحہ نمبر778

مسند عبد بن حمید میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں کے محض حسن پر فریفتہ ہو کر ان سے نکاح نہ کر لیا کرو، ممکن ہے ان کا حسن انہیں مغرور کر دے عورتوں کے مال کے پیچھے ان سے نکاح نہ کر لیا کرو ممکن ہے مال انہیں سرکش کر دے نکاح کرو تو دینداری دیکھا کرو بدصورت سیاہ فام لونڈی بھی اگر دیندار ہو تو بہت افضل ہے، [سنن ابن ماجه:1859، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ لیکن اس حدیث کے راویوں میں افریقی ضعیف ہے،

بخاری مسلم میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار باتیں دیکھ کر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے ایک تو مال دوسرے حسب نسب تیسرے جمال وخوبصورتی چوتھے دین، تم دینداری ٹٹولو، [صحیح بخاری:5090] ‏ مسلم شریف میں ہے دنیا کل کی کل ایک متاع ہے، متاع دنیا میں سب سے افضل چیز نیک بخت عورت ہے۔ [صحیح مسلم:1469] ‏

پھر فرمان ہے کہ مشرک مردوں کے نکاح میں مسلمان عورتیں بھی نہ دو جیسے اور جگہ ہے آیت «لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ» [ 60۔ الممتحنہ: 10 ] ‏، نہ کافر عورتیں مسلمان مردوں کے لیے حلال نہ مسلمان مرد کافر عورتوں کے لیے حلال۔ پھر فرمان ہے کہ مومن مرد گو چاہے حبشی غلام ہو پھر بھی رئیس اور سردار آزاد کافر سے بہتر ہے۔ ان لوگوں کا میل جول ان کی صحبت، محبت دنیا حفاظتِ دنیا اور دنیا طلبی اور دنیا کو آخرت پر ترجیح دینی سکھاتی ہیں جس کا انجام جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کی پابندی اس کے حکموں کی تعمیل جنت کی رہبری کرتی ہے گناہوں کی مغفرت کا باعث بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے وعظ ونصیحت اور پند وعبرت کے لیے اپنی آیتیں واضح طور پر بیان فرما دیں۔

صفحہ نمبر779

ایام حیض اور جماع سے متعلقہ مسائل ٭٭

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودی لوگ حائضہ عورتوں کو نہ اپنے ساتھ کھلاتے تھے اور نہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جس کے جواب میں یہ آیت اتری، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے جماع کے اور سب کچھ حلال ہے یہودی یہ سن کر کہنے لگے کہ انہیں تو ہماری مخالفت ہی سے غرض ہے، سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نے یہودیوں کا یہ کلام نقل کر کے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہمیں جماع کی بھی رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یہ سن کر متغیر ہو گیا یہاں تک کہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہو گئے۔ جب یہ بزرگ جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بزرگ تحفتاً دودھ لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور وہ دودھ انہیں پلایا، اب معلوم ہوا کہ وہ غصہ جاتا رہا۔ [صحیح مسلم:302] ‏

پس اس فرمان کا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو یہ مطلب ہوا کہ جماع نہ کرو اس لیے کہ اور سب حلال ہے۔ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ سوائے جماع کے مباشرت جائز ہے، احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسی حالت میں ازواج مطہرات سے ملتے جلتے لیکن وہ تہبند باندھے ہوئے ہوتی تھیں۔ [سنن ابوداود:272، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عمارہ کی پھوپھی صاحبہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتی ہیں کہ اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور گھر میں میاں بیوی کا ایک ہی بستر ہو تو وہ کیا کرے؟ یعنی اس حالت میں اس کے ساتھ اس کا خاوند سو سکتا ہے یا نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، سنو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے، آتے ہی نماز کی جگہ تشریف لے گئے اور نماز میں مشغول ہو گئے، دیر زیادہ لگ گئی اور اس عرصہ میں مجھے نیند آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاڑا لگنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ادھر آؤ، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو حیض سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں کے اوپر سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا اور پھر میری ران پر رخسار اور سینہ رکھ کر لیٹ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی تو سردی کچھ کم ہوئی اور اس گرمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آ گئی۔ [سنن ابوداود:270،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ «صلی اللہ علیہ و علی ازواجہ و اصحابہ وسلم»

صفحہ نمبر780

حضرت مسروق رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا السلام علی النبی و علی اھلہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دے کر مرحبا مرحبا کہا اور اندر آنے کی اجازت دی، آپ رحمہ اللہ نے کہا ام المؤمنین ایک مسئلہ پوچھتا ہوں لیکن شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، سُن میں تیری ماں اور تو قائم مقام میرے بیٹے کے ہے، جو پوچھنا ہو پوچھ، کہا فرمائیے آدمی کیلئے اپنے حائضہ بیوی حلال ہے؟ فرمایا سوائے شرمگاہ کے اور سب جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:378/4] ‏

اور سندوں سے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ ام المؤمنین کا یہ قول مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مجاہد حسن اور عکرمہ رحمہ اللہ علیہم کا فتویٰ بھی یہی ہے، مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ امور بالاتفاق جائز ہیں۔

صفحہ نمبر781

سیدہ عائشہ سے منقول ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھویا کرتی آپ میری گود میں ٹیک لگا کر لیٹ کرقرآن شریف کی تلاوت فرماتے حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی، [صحیح بخاری:301] ‏ میں ہڈی چوستی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ہڈی کو وہیں منہ لگا کر چوستے تھے، میں پانی پیتی تھی پھر گلاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں منہ لگا کر اسی گلاس سے پانی پیتے اور میں اس وقت حائضہ ہوتی تھی، [صحیح مسلم:300] ‏

ابوداؤد میں روایت ہے کہ میرے حیض کے شروع دِنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہی لحاف میں سوتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا کہیں سے خراب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی ہی جگہ کو دھو ڈالتے۔ اگر جسم مبارک پر کچھ لگ جاتا تو اسے بھی دھو ڈالتے اور پھر ان ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابوداود:285، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ہاں ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں جب حیض سے ہوتی تو بسترے سے اتر جاتی اور بورئیے پر آ جاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب بھی نہ آتے جب تک میں پاک نہ ہو جاؤں۔ [سنن ابوداود:271، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ تو یہ روایت محمول ہے کہ آپ پرہیز اور احتیاط کرتے تھے نہ یہ کہ محمول ہو حرمت اور ممانعت پر۔

صفحہ نمبر782

بعض حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ تہبند ہوتے ہوئے فائدہ اٹھائے، میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی اہلیہ سے ان کی حیض کی حالت میں ملنا چاہتے تھے تو انہیں حکم دیتے تھے کہ تہبند باندھ لیں۔ [صحیح بخاری:303] ‏ اس طرح بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص سوال کرتا ہے کہ میری بیوی سے مجھے اس کے حیض کے حالت میں کیا کچھ حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند سے اوپر کا کل۔ [سنن ابوداود:212، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر783

ایک اور روایت میں ہے کہ اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔ [سنن ابوداود:213، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور شریح کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر عراقیوں وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تو متفقہ فیصلہ ہے کہ جماع حرام ہے اس لیے اس کے آس پاس سے بھی بچنا چاہیئے تاکہ حرمت میں واقع ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ حالت حیض میں جماع کی حرمت اور اس کام کے کرنے والے کا گنہگار ہونا تو یقین امر ہے جسے توبہ استغفار کرنا لازمی ہے لیکن اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں اس میں علماء کرام کے دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفارہ بھی ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ دے۔ [مسند احمد:230/1:صحیح] ‏

ترمذی میں ہے کہ خون اگر سرخ ہو تو ایک دینار اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔ [سنن ترمذي:137، قال الشيخ الألبانی:صحیح مرفوعاً] ‏ مسند احمد میں ہے کہ اگر خون پیچھے ہٹ گیا اور ابھی اس عورت نے غسل نہ کیا ہو اور اس حالت میں اس کا خاوند اس سے ملے تو آدھا دینار ورنہ پورا دینار۔ [مسند احمد:367/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر784

دوسرا قول یہ ہے کہ کفارہ کچھ بھی نہیں صرف اللہ عزوجل سے استغفار کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی آخری اور زیادہ صحیح یہی مذہب ہے اور جمہور علماء بھی اسی کے قائل ہیں۔ جو حدیثیں اوپر بیان ہوئیں ان کی نسبت یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ان کا مرفوع ہونا صحیح نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ موقوف ہیں گو یہ حدیث روایتاً مرفوع اور موقوف دونوں طرح مروی ہے لیکن اکثر ائمہ حدیث کی تحقیق ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے۔ یہ فرمان کہ جب تک عورتیں پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ یہ تفسیر ہے اس فرمان کی کہ عورتوں سے ان کی حیض کی حالت میں جدا رہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حیض ختم ہو جائے پھر نزدیکی حلال ہے۔

صفحہ نمبر785

حضرت امام ابوعبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں طہر یعنی پاکی دلالت کرتی ہے کہ اب اس سے نزدیکی جائز ہے۔ سیدہ میمونہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو تہبند باندھ لیتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں سوتی، [صحیح بخاری:302] ‏ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جس زندگی سے منع کیا گیا ہے وہ جماع ہے، ویسے سونا بیٹھنا وغیرہ سب جائز ہے۔ اس کے بعد یہ فرمان ان کے پاک ہو جانے کے بعد ان کے پاس آؤ۔ اس میں ارشاد ہے کہ اس کے غسل کر لینے کے بعد ان سے جماع کرو۔ امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہر حیض کی پاکیزگی کے بعد جماع کرنا واجب ہے، اس کی دلیل آیت «فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ» [ البقرہ: 222 ] ‏ ہے جس میں حکم ہے لیکن یہ دلیل کوئی پختہ نہیں۔ یہ امر تو صرف حرمت کو ہٹا دینے کا اعلان ہے اور اس کے سوا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں، علماء اصول میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ امر یعنی حکم مطلقاً وجوب کیلئے ہوتا ہے ان لوگوں کو امام ابن حزم رحمہ اللہ کا جواب بہت گراں ہے۔

صفحہ نمبر786

بعض کہتے ہیں یہ امر صرف اباحت کیلئے ہے اور چونکہ اس سے پہلے ممانعت وارد ہو چکی ہے یہ قرینہ ہے جو امر کو وجوب سے ہٹا دیتا ہے لیکن یہ غور طلب بات ہے، دلیل سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر یعنی پہلے منع ہو پھر“ حکم“ ہو تو حکم اپنی اصل پر رہتا ہے یعنی جو بات منع سے پہلے جیسی تھی ویسی ہی اب ہو جائے گی یعنی اگر منع سے پہلے وہ کام واجب تھا تو اب بھی واجب ہی رہے گا، جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [ 9۔ التوبہ: 5 ] ‏ یعنی جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں سے جہاد کرو۔ اور اگر یہ کام ممانعت سے پہلے مباح تھا تو اب بھی وہ مباح رہے گا جیسے آیت «وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا» [ 5۔ المائدہ: 2 ] ‏ جب تم احرام کھول دو تو شکار کھیلو، اور جگہ ہے آیت «فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» [ 62۔ الجمعہ: 10 ] ‏ یعنی جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ ان علماء کرام کا یہ فیصلہ ان مختلف اقوال کو جمع بھی کر دیتا ہے جو امر کے وجوب وغیرہ کے بارے میں ہیں۔ غزالی رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اور بعض ائمہ متاخرین نے بھی اسے پسند فرمایا ہے اور یہی صحیح بھی ہے۔

یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ جب خون حیض کا آنا رُک جائے، مدت حیض گزر جائے پھر بھی اس کے خاوند کو اپنی بیوی سے مجامعت کرنی حلال نہیں جب تک وہ غسل نہ کر لے، ہاں اگر وہ معذور ہو اور غسل کے عوض تیمم کرنا اسے جائز ہو تو تیمم کر لے۔ اس کے بعد اس کے پاس اس کا خاوند آ سکتا ہے۔ ہاں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان تمام علماء کے مخالف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب حیض زیادہ سے زیادہ دِنوں تک آخری معیاد یعنی دس دن تک رہ کر بند ہو گیا تو اس کے خاوند اس سے صحبت کرنا حلال ہے، گو اس نے غسل نہ کیا ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر787

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ تو لفظ «يَطْهُرْنَ» کا اس سے مراد خون حیض کا بند ہونا ہے اور «تَطَهَّرْنَ» سے مراد غسل کرنا ہے۔ مجاہد، عکرمہ، حسن، مقاتل بن حیان، لیث بن سعد رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:682/2] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے اس جگہ سے آؤ جہاں سے آنے کا حکم اللہ نے تمہیں دیا ہے، مراد اس سے آگے کی جگہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بہت سے مفسرین نے اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ مراد اس سے بچوں کے تولد ہونے کی جگہ ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:282/2] ‏ اس کے سوا اور جگہ یعنی پاخانہ کی جگہ جانا حرام ہے، ایسا کرنے سے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے حالت حیض میں تم روکے گئے تھے اب وہ جگہ تمہارے لیے حلال ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاخانہ کی جگہ وطی کرنا حرام ہے۔ اس کا مفصل بیان بھی آتا ہے ان شاءاللہ۔

یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ پاکیزگی کی حالت میں آؤ جبکہ حیض سے نکل آئیں اس لیے اس کے بعد کے جملہ میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں، اس حالت میں جماع سے باز رہنے والوں، گندگیوں اور ناپاکیوں سے بچنے والوں، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے نہ ملنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ سے محفوظ رہنے والوں کو بھی پروردگار اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی اولاد ہونے کی جگہ تم اپنی کھیتی میں جیسے بھی چاہو آؤ یعنی جگہ تو وہی ایک ہو، طریقہ خواہ کوئی بھی ہو، سامنے کر کے یا اس کے خلاف۔

صفحہ نمبر788

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہود کہتے تھے کہ جب عورت سے مجامعت سامنے رخ کر کے نہ کی جائے اور حمل ٹھہر جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:4528] ‏ ان کی تردید میں یہ جملہ نازل ہوا کہ مرد کو اختیار ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہودیوں نے یہی بات مسلمانوں سے بھی کہی تھی، ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا کہ خواہ سامنے سے آئے خواہ پیچھے سے لیکن جگہ ایک ہی رہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:693/2] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس کیسے آئیں اور کیا چھوڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیری کھیتی ہے جس طرح چاہو آؤ، ہاں اس کے منہ پر نہ مار، زیادہ برا نہ کہہ، اس سے روٹھ کر الگ نہ ہو جا، ایک ہی گھر میں رہ۔ [سنن ابوداود:2143، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ ابن ابی حاکم میں ہے کہ حمیر کے قبیلہ کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ مجھے اپنی بیویوں سے زیادہ محبت ہے تو اس کے بارے میں احکام مجھے بتائے، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4351:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ چند انصاریوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، [مسند احمد:268/1:ضعیف] ‏ طحاوی کی کتاب مشکل الحدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی سے الٹا کر کے مباشرت کی تھی، لوگوں نے اسے برا بھلا کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4337:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر789

امسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن سابط سیدنا حفصہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن شرم آتی ہے، فرمایا بھتیجے تم نہ شرماؤ اور جو پوچھنا ہو پوچھ لو، کہا فرمائیے عورتوں کے پیچھے کی طرف سے جماع کرنا جائز ہے؟ فرمایا سنو مجھ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ انصار عورتوں کو الٹا لٹایا کرتے تھے اور یہود کہتے تھے کہ اس طرح سے بچہ بھینگا ہوتا ہے، جب مہاجر مدینہ شریف آئے اور یہاں کی عورتوں سے ان کا نکاح ہوا اور انہوں نے بھی یہی کرنا چاہا تو ایک عورت نے اپنے خاوند کی بات نہ مانی اور کہا جب تک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ بیان نہ کر لوں تیری بات نہ مانوں گی چنانچہ وہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بٹھایا اور کہا ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ جائیں گے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انصاریہ عورت شرمندگی کی وجہ سے نہ پوچھ سکی اور واپس چلی گئی لیکن ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاریہ عورت کو بلا لو، پھر یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا جگہ ایک ہی ہو۔ [مسند احمد:305/6] ‏

صفحہ نمبر790

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں تو ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہا، میں نے رات کو اپنی سواری الٹی کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سامنے سے آ، پیچھے سے آ، اختیار ہے لیکن حیض کی حالت میں نہ آ اور پاخانہ کی جگہ نہ آ۔ [مسند احمد:297/1:حسن] ‏

انصار والا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اللہ بخشے، انہیں کچھ وہم سا ہو گیا۔ بات یہ ہے کہ انصاریوں کی جماعت پہلے بت پرست تھی اور یہودی اہل کتاب تھے۔ بت پرست لوگ ان کی فضیلت اور علمیت کے قائل تھے اور اکثر افعال میں ان کی بات مانا کرتے تھے۔ یہودی ایک ہی طرح پر اپنی بیویوں سے ملتے تھے۔ یہی عادت ان انصار کی بھی تھی۔ ان کے برخلاف مکہ والے کسی خاص طریقے کے پابند نہ تھے، وہ جس طرح جی چاہتا ملتے۔ اسلام کے بعد مکہ والے مہاجر بن کر مدینہ میں انصار کے ہاں جب اترے تو ایک مکی مجاہد مرد نے ایک مدنی انصاریہ عورت سے نکاح کیا اور اپنے من بھاتے طریقے برتنے چاہے، عورت نے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ اسی ایک مقررہ طریقہ کے علاوہ اجازت نہیں دیتی۔ بات بڑھتے بڑھتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی اور یہ فرمان نازل ہوا۔ پس سامنے سے پیچھے کی طرف سے اور جس طرح چاہے اختیار ہے ہاں جگہ ایک ہی ہو۔ [سنن ابوداود:2164، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر791

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قرآن شریف سیکھا اول سے آخر تک انہیں سنایا، ایک آیت کی تفسیر اور مطلب پوچھا۔ اس آیت پر پہنچ کر جب میں نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے یہی بیان کیا [ جو اوپر گزرا ] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہم یہ تھا کہ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ قرآن پڑھتے ہوئے کسی سے بولتے چالتے نہ تھے لیکن ایک دن تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت تک پہنچے تو اپنے شاگرد نافع رحمہ اللہ سے فرمایا جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی؟ انہوں نے کہا نہیں، فرمایا یہ عورتوں کی دوسری جگہ کی وطی کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4526] ‏ ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک شخص نے اپنی بیوی سے پیچھے سے کیا تھا جس پر اس آیت میں رخصت نازل ہوئی لیکن ایک تو اس میں محدثین نے کچھ علت بھی بیان کی ہے، دوسرے اس کے معنی بھی یہی ہو سکتے ہیں کہ پیچھے کی طرف سے آگے کی جگہ میں کیا اور اوپر کی جو روایتیں ہیں وہ بھی سنداً صحیح نہیں بلکہ انہیں نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وطی دبر کو جائز کیا ہے؟ تو فرمایا لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ پھر وہی انصاریہ عورت اور مہاجر والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو اس آیت کا یہ مطلب ارشاد فرماتے تھے، اس روایت کی اسناد بھی بالکل صحیح ہے اور اس کے خلاف سند صحیح نہیں، معنی مطلب بھی اور ہو سکتا ہے اور خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ وہ روایتیں عنقریب بیان ہوں گی ان شاءاللہ جن میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نہ یہ مباح ہے نہ حلال بلکہ حرام ہے۔

صفحہ نمبر792

تو یہ قول یعنی جواز کا بعض کا بعض فقہاء مدینہ وغیرہ کی طرف بھی منسوب ہے اور بعض لوگوں نے تو اسے امام مالک رحمہ اللہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا قول ہرگز یہ نہیں، صحیح حدیثیں بکثرت اس فعل کی حرمت پر وارد ہیں۔ ایک روایت میں ہے لوگو! شرم و حیاء کرو اللہ تعالیٰ حق بات فرمانے سے شرم نہیں کرتا۔ عورت کے پاخانہ کی جگہ وطی نہ کرو۔ [مسند احمد:213/5:صحیح] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حرکت سے لوگوں کو منع فرمایا۔ [مسند احمد:213/5:صحیح بالشواھد] ‏ اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عورت یا مرد کے ساتھ یہ کام کرے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ [سنن ترمذي:1165،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص یہ مسئلہ پوچھتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کیا تو کفر کرنے کی بابت سوال کرتا ہے؟ ایک شخص نے آپ سے آ کر کہا کہ میں نے آیت «أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ» [ البقرہ: 223 ] ‏ کا یہ مطلب سمجھا اور میں نے اس پر عمل کیا تو آپ ناراض ہوئے اور اسے برا بھلا کہا اور فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ خواہ کھڑے ہو کر، خواہ بیٹھ کر چت خواہ پٹ لیکن جگہ وہی ایک ہو، ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے پاخانہ کی جگہ وطی کے وہ چھوٹا لوطی ہے۔ [مسند احمد:210/2:صحیح] ‏ سیدنا ابودردار رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ کفار کا کام ہے۔ [مسند احمد:210/2:موقوف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان بھی منقول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر793

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان سے فرمائے گا کہ جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں چلے جاؤ۔ ایک تو اغلام بازی کرنے والا خواہ وہ اوپر والا ہو خواہ نیچے والا ہو، اور اپنے ہاتھ سے مشت زنی کرنے والا، اور چوپائے جانور سے یہ کام کرنے والا اور عورت کی دبر میں وطی کرنے والا اور عورت اور اس کی بیٹی دونوں سے نکاح کرنے والا اور اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا اور ہمسایہ کو ستانے والا، یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کرے، [ارواءالغلیل59/8:ضعیف جداً] ‏ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں،

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے دوسرے راستے وطی کرے اسے کو اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ [مسند احمد:272/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر794

مسند احمد اور سنن میں مروی ہے کہ جو شخص حائضہ عورت سے جماع کرے یا غیر جگہ کرے یا کاہن کے پاس جائے اور اسے سچا سمجھے، اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اتری ہے۔ [سنن ابوداود:3904، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو ضعیف بتاتے ہیں، ترمذی میں روایت ہے کہ ابوسلمہ بھی دبر کی وطی کو حرام بتاتے تھے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگوں کا اپنی بیوی سے یہ کام کرنا کفر ہے۔ [نسائی فی السنن الکبریٰ:1910] ‏

ایک مرفوع حدیث میں اس معنی کی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے، اور روایت میں ہے کہ یہ جگہ حرام ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے جب یہ بات پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بڑا کمینہ وہ شخص ہے، دیکھو قرآن میں ہے کہ لوطیوں سے کہا گیا تم وہ بدکاری کرتے ہو جس کی طرف کسی نے تم سے پہلے توجہ نہیں کی، پس صحیح احادیث اور صحابہ کرام سے بہت سی روایتوں اور سندوں سے اس فعل کی حرمت مروی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ چنانچہ دارمی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ یہ سال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا مسلمان بھی ایسا کر سکتا ہے؟ [دارمی277/1] ‏ اس کی اسناد صحیح ہے اور حکم بھی حرمت کا صاف ہے،

پس غیر صحیح اور مختلف معنی والی روایتوں میں پڑ کر اتنے جلیل القدر صحابی کی طرف ایک ایسا گندا مسئلہ منسوب کرنا ٹھیک نہیں۔ گو کہ روایتیں اس قسم کی بھی ملتی ہیں، امام مالک رحمہ اللہ! سو ان کی طرف بھی اس مسئلہ کی نسبت صحیح نہیں بلکہ معمر بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب اسے حرام جانتے تھے، اسرائیل بن روح نے آپ سے ایک مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم بےسمجھ ہو، بوائی کھیت میں ہی ہوتی ہے، خبردار شرمگاہ کے سوا اور جگہ سے بچو۔ سائل نے کہا لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ اس فعل کو جائز کہتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جھوٹے ہیں مجھ پر تہمت باندھتے ہیں۔ امام مالک سے اس کی حرمت ثابت ہے۔

صفحہ نمبر795

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ، احمد رحمہ اللہ اور ان کے تمام شاگردوں اور ساتھی، سعید بن مسیب، ابوسلمہ، عکرمہ، عطاء، سعید بن جبیر، عروہ بن زبیر، مجاہد، حسن رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سب کے سب اسے حرام کہتے ہیں اور اس بارے میں سخت تشدد کرتے ہیں بلکہ بعض تو اسے کفر کہتے ہیں، جمہور علماء کرام کا بھی اس کی حرمت پر اجماع ہے، گو بعض لوگوں نے فقہاء مدینہ بلکہ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی اس کی حلت نقل کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں۔ عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کسی دیندار شخص کو میں نے تو اس کی حرمت میں شک کرنے والا نہیں پایا، پھر آیت «نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ» [ البقرہ: 223 ] ‏ پڑھ کر فرمایا خود یہ لفظ «حرث» ہی اس کی حرمت ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کیونکہ وہ دوسری جگہ کھیتی کی جگہ نہیں، کھیتی میں جانے کے طریقہ کا اختیار ہے نہ کہ جگہ بدلنے کا۔ گو امام مالک رحمہ اللہ سے اس کے مباح ہونے کی روایتیں بھی منقول ہیں لیکن ان کی سندوں میں سخت ضعف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ٹھیک اس طرح امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت لوگوں نے گھڑ لی ہے حالانکہ انہوں نے اپنی چھ کتابوں میں کھلے لفظوں اسے حرام لکھا ہے۔ پھر اللہ فرماتا ہے اپنے لیے کچھ آگے بھی بھیجو یعنی ممنوعات سے بچو نیکیاں کرو تاکہ ثواب آگے جائے، اللہ سے ڈرو اس سے ملنا ہے وہ حساب کتاب لے گا، ایماندر ہر حال میں خوشیاں منائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب جماع کا ارادہ کرے، یہ دعا «بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا» پڑھے یعنی اے اللہ تو ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان سے بچا لے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اس جماع سے نطفہ قرار پکڑ گیا تو اس بچے کو شیطان ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141] ‏

صفحہ نمبر796

ایام حیض اور جماع سے متعلقہ مسائل ٭٭

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہودی لوگ حائضہ عورتوں کو نہ اپنے ساتھ کھلاتے تھے اور نہ اپنے ساتھ رکھتے تھے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جس کے جواب میں یہ آیت اتری، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سوائے جماع کے اور سب کچھ حلال ہے یہودی یہ سن کر کہنے لگے کہ انہیں تو ہماری مخالفت ہی سے غرض ہے، سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما نے یہودیوں کا یہ کلام نقل کر کے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہمیں جماع کی بھی رخصت دی جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ یہ سن کر متغیر ہو گیا یہاں تک کہ اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے خیال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر ناراض ہو گئے۔ جب یہ بزرگ جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بزرگ تحفتاً دودھ لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیج کر انہیں بلایا اور وہ دودھ انہیں پلایا، اب معلوم ہوا کہ وہ غصہ جاتا رہا۔ [صحیح مسلم:302] ‏

پس اس فرمان کا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو یہ مطلب ہوا کہ جماع نہ کرو اس لیے کہ اور سب حلال ہے۔ اکثر علماء کا مذہب ہے کہ سوائے جماع کے مباشرت جائز ہے، احادیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسی حالت میں ازواج مطہرات سے ملتے جلتے لیکن وہ تہبند باندھے ہوئے ہوتی تھیں۔ [سنن ابوداود:272، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سیدہ عمارہ کی پھوپھی صاحبہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کرتی ہیں کہ اگر عورت حیض کی حالت میں ہو اور گھر میں میاں بیوی کا ایک ہی بستر ہو تو وہ کیا کرے؟ یعنی اس حالت میں اس کے ساتھ اس کا خاوند سو سکتا ہے یا نہیں؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، سنو ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے، آتے ہی نماز کی جگہ تشریف لے گئے اور نماز میں مشغول ہو گئے، دیر زیادہ لگ گئی اور اس عرصہ میں مجھے نیند آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جاڑا لگنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ادھر آؤ، میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں تو حیض سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھٹنوں کے اوپر سے کپڑا ہٹانے کا حکم دیا اور پھر میری ران پر رخسار اور سینہ رکھ کر لیٹ گئے، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک گئی تو سردی کچھ کم ہوئی اور اس گرمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند آ گئی۔ [سنن ابوداود:270،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ «صلی اللہ علیہ و علی ازواجہ و اصحابہ وسلم»

صفحہ نمبر780

حضرت مسروق رحمہ اللہ ایک مرتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا السلام علی النبی و علی اھلہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دے کر مرحبا مرحبا کہا اور اندر آنے کی اجازت دی، آپ رحمہ اللہ نے کہا ام المؤمنین ایک مسئلہ پوچھتا ہوں لیکن شرم معلوم ہوتی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، سُن میں تیری ماں اور تو قائم مقام میرے بیٹے کے ہے، جو پوچھنا ہو پوچھ، کہا فرمائیے آدمی کیلئے اپنے حائضہ بیوی حلال ہے؟ فرمایا سوائے شرمگاہ کے اور سب جائز ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:378/4] ‏

اور سندوں سے بھی مختلف الفاظ کے ساتھ ام المؤمنین کا یہ قول مروی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ مجاہد حسن اور عکرمہ رحمہ اللہ علیہم کا فتویٰ بھی یہی ہے، مقصد یہ ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ لیٹنا بیٹھنا اس کے ساتھ کھانا پینا وغیرہ امور بالاتفاق جائز ہیں۔

صفحہ نمبر781

سیدہ عائشہ سے منقول ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھویا کرتی آپ میری گود میں ٹیک لگا کر لیٹ کرقرآن شریف کی تلاوت فرماتے حالانکہ میں حیض سے ہوتی تھی، [صحیح بخاری:301] ‏ میں ہڈی چوستی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی ہڈی کو وہیں منہ لگا کر چوستے تھے، میں پانی پیتی تھی پھر گلاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں منہ لگا کر اسی گلاس سے پانی پیتے اور میں اس وقت حائضہ ہوتی تھی، [صحیح مسلم:300] ‏

ابوداؤد میں روایت ہے کہ میرے حیض کے شروع دِنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہی لحاف میں سوتے تھے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا کہیں سے خراب ہو جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی ہی جگہ کو دھو ڈالتے۔ اگر جسم مبارک پر کچھ لگ جاتا تو اسے بھی دھو ڈالتے اور پھر ان ہی کپڑوں میں نماز پڑھتے۔ [سنن ابوداود:285، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ہاں ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں جب حیض سے ہوتی تو بسترے سے اتر جاتی اور بورئیے پر آ جاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب بھی نہ آتے جب تک میں پاک نہ ہو جاؤں۔ [سنن ابوداود:271، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ تو یہ روایت محمول ہے کہ آپ پرہیز اور احتیاط کرتے تھے نہ یہ کہ محمول ہو حرمت اور ممانعت پر۔

صفحہ نمبر782

بعض حضرات یہ بھی فرماتے ہیں کہ تہبند ہوتے ہوئے فائدہ اٹھائے، میمونہ بنت حارث ہلالیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی کسی اہلیہ سے ان کی حیض کی حالت میں ملنا چاہتے تھے تو انہیں حکم دیتے تھے کہ تہبند باندھ لیں۔ [صحیح بخاری:303] ‏ اس طرح بخاری مسلم میں بھی یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص سوال کرتا ہے کہ میری بیوی سے مجھے اس کے حیض کے حالت میں کیا کچھ حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تہبند سے اوپر کا کل۔ [سنن ابوداود:212، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر783

ایک اور روایت میں ہے کہ اس سے بھی بچنا بہتر ہے۔ [سنن ابوداود:213، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور شریح کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس بارے میں دو قول ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ اکثر عراقیوں وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ یہ تو متفقہ فیصلہ ہے کہ جماع حرام ہے اس لیے اس کے آس پاس سے بھی بچنا چاہیئے تاکہ حرمت میں واقع ہونے کا خطرہ نہ رہے۔ حالت حیض میں جماع کی حرمت اور اس کام کے کرنے والے کا گنہگار ہونا تو یقین امر ہے جسے توبہ استغفار کرنا لازمی ہے لیکن اسے کفارہ بھی دینا پڑے گا یا نہیں اس میں علماء کرام کے دو قول ہیں۔ ایک تو یہ کہ کفارہ بھی ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرے وہ ایک دینار یا آدھا دینار صدقہ دے۔ [مسند احمد:230/1:صحیح] ‏

ترمذی میں ہے کہ خون اگر سرخ ہو تو ایک دینار اور اگر زرد رنگ کا ہو تو آدھا دینار۔ [سنن ترمذي:137، قال الشيخ الألبانی:صحیح مرفوعاً] ‏ مسند احمد میں ہے کہ اگر خون پیچھے ہٹ گیا اور ابھی اس عورت نے غسل نہ کیا ہو اور اس حالت میں اس کا خاوند اس سے ملے تو آدھا دینار ورنہ پورا دینار۔ [مسند احمد:367/1:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر784

دوسرا قول یہ ہے کہ کفارہ کچھ بھی نہیں صرف اللہ عزوجل سے استغفار کرے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی آخری اور زیادہ صحیح یہی مذہب ہے اور جمہور علماء بھی اسی کے قائل ہیں۔ جو حدیثیں اوپر بیان ہوئیں ان کی نسبت یہ حضرات فرماتے ہیں کہ ان کا مرفوع ہونا صحیح نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ موقوف ہیں گو یہ حدیث روایتاً مرفوع اور موقوف دونوں طرح مروی ہے لیکن اکثر ائمہ حدیث کی تحقیق ہے کہ صحیح بات یہی ہے کہ یہ موقوف ہے۔ یہ فرمان کہ جب تک عورتیں پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ یہ تفسیر ہے اس فرمان کی کہ عورتوں سے ان کی حیض کی حالت میں جدا رہو، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت حیض ختم ہو جائے پھر نزدیکی حلال ہے۔

صفحہ نمبر785

حضرت امام ابوعبداللہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں طہر یعنی پاکی دلالت کرتی ہے کہ اب اس سے نزدیکی جائز ہے۔ سیدہ میمونہ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمانا کہ ہم میں سے جب کوئی حیض سے ہوتی تو تہبند باندھ لیتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر میں سوتی، [صحیح بخاری:302] ‏ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ جس زندگی سے منع کیا گیا ہے وہ جماع ہے، ویسے سونا بیٹھنا وغیرہ سب جائز ہے۔ اس کے بعد یہ فرمان ان کے پاک ہو جانے کے بعد ان کے پاس آؤ۔ اس میں ارشاد ہے کہ اس کے غسل کر لینے کے بعد ان سے جماع کرو۔ امام ابن حزم فرماتے ہیں کہ ہر حیض کی پاکیزگی کے بعد جماع کرنا واجب ہے، اس کی دلیل آیت «فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ» [ البقرہ: 222 ] ‏ ہے جس میں حکم ہے لیکن یہ دلیل کوئی پختہ نہیں۔ یہ امر تو صرف حرمت کو ہٹا دینے کا اعلان ہے اور اس کے سوا اس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں، علماء اصول میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ امر یعنی حکم مطلقاً وجوب کیلئے ہوتا ہے ان لوگوں کو امام ابن حزم رحمہ اللہ کا جواب بہت گراں ہے۔

صفحہ نمبر786

بعض کہتے ہیں یہ امر صرف اباحت کیلئے ہے اور چونکہ اس سے پہلے ممانعت وارد ہو چکی ہے یہ قرینہ ہے جو امر کو وجوب سے ہٹا دیتا ہے لیکن یہ غور طلب بات ہے، دلیل سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ ایسے موقع پر یعنی پہلے منع ہو پھر“ حکم“ ہو تو حکم اپنی اصل پر رہتا ہے یعنی جو بات منع سے پہلے جیسی تھی ویسی ہی اب ہو جائے گی یعنی اگر منع سے پہلے وہ کام واجب تھا تو اب بھی واجب ہی رہے گا، جیسے قرآن کریم میں ہے آیت «فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ» [ 9۔ التوبہ: 5 ] ‏ یعنی جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں سے جہاد کرو۔ اور اگر یہ کام ممانعت سے پہلے مباح تھا تو اب بھی وہ مباح رہے گا جیسے آیت «وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا» [ 5۔ المائدہ: 2 ] ‏ جب تم احرام کھول دو تو شکار کھیلو، اور جگہ ہے آیت «فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِي الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ» [ 62۔ الجمعہ: 10 ] ‏ یعنی جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ ان علماء کرام کا یہ فیصلہ ان مختلف اقوال کو جمع بھی کر دیتا ہے جو امر کے وجوب وغیرہ کے بارے میں ہیں۔ غزالی رحمہ اللہ وغیرہ نے بھی اسے بیان کیا ہے اور بعض ائمہ متاخرین نے بھی اسے پسند فرمایا ہے اور یہی صحیح بھی ہے۔

یہ مسئلہ بھی یاد رہے کہ تمام علماء امت کا اتفاق ہے کہ جب خون حیض کا آنا رُک جائے، مدت حیض گزر جائے پھر بھی اس کے خاوند کو اپنی بیوی سے مجامعت کرنی حلال نہیں جب تک وہ غسل نہ کر لے، ہاں اگر وہ معذور ہو اور غسل کے عوض تیمم کرنا اسے جائز ہو تو تیمم کر لے۔ اس کے بعد اس کے پاس اس کا خاوند آ سکتا ہے۔ ہاں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان تمام علماء کے مخالف ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ جب حیض زیادہ سے زیادہ دِنوں تک آخری معیاد یعنی دس دن تک رہ کر بند ہو گیا تو اس کے خاوند اس سے صحبت کرنا حلال ہے، گو اس نے غسل نہ کیا ہو، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر787

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ تو لفظ «يَطْهُرْنَ» کا اس سے مراد خون حیض کا بند ہونا ہے اور «تَطَهَّرْنَ» سے مراد غسل کرنا ہے۔ مجاہد، عکرمہ، حسن، مقاتل بن حیان، لیث بن سعد رحمہ اللہ علیہم وغیرہ بھی یہی فرماتے ہیں، [تفسیر ابن ابی حاتم:682/2] ‏ پھر ارشاد ہوتا ہے اس جگہ سے آؤ جہاں سے آنے کا حکم اللہ نے تمہیں دیا ہے، مراد اس سے آگے کی جگہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد رحمہ اللہ وغیرہ بہت سے مفسرین نے اس کے یہی معنی بیان کئے ہیں کہ مراد اس سے بچوں کے تولد ہونے کی جگہ ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:282/2] ‏ اس کے سوا اور جگہ یعنی پاخانہ کی جگہ جانا حرام ہے، ایسا کرنے سے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جس جگہ سے حالت حیض میں تم روکے گئے تھے اب وہ جگہ تمہارے لیے حلال ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ پاخانہ کی جگہ وطی کرنا حرام ہے۔ اس کا مفصل بیان بھی آتا ہے ان شاءاللہ۔

یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ پاکیزگی کی حالت میں آؤ جبکہ حیض سے نکل آئیں اس لیے اس کے بعد کے جملہ میں ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والوں، اس حالت میں جماع سے باز رہنے والوں، گندگیوں اور ناپاکیوں سے بچنے والوں، حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے نہ ملنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح دوسری جگہ سے محفوظ رہنے والوں کو بھی پروردگار اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی اولاد ہونے کی جگہ تم اپنی کھیتی میں جیسے بھی چاہو آؤ یعنی جگہ تو وہی ایک ہو، طریقہ خواہ کوئی بھی ہو، سامنے کر کے یا اس کے خلاف۔

صفحہ نمبر788

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ یہود کہتے تھے کہ جب عورت سے مجامعت سامنے رخ کر کے نہ کی جائے اور حمل ٹھہر جائے تو بچہ بھینگا پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:4528] ‏ ان کی تردید میں یہ جملہ نازل ہوا کہ مرد کو اختیار ہے، ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہودیوں نے یہی بات مسلمانوں سے بھی کہی تھی، ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا کہ خواہ سامنے سے آئے خواہ پیچھے سے لیکن جگہ ایک ہی رہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:693/2] ‏

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ ہم اپنی عورتوں کے پاس کیسے آئیں اور کیا چھوڑیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تیری کھیتی ہے جس طرح چاہو آؤ، ہاں اس کے منہ پر نہ مار، زیادہ برا نہ کہہ، اس سے روٹھ کر الگ نہ ہو جا، ایک ہی گھر میں رہ۔ [سنن ابوداود:2143، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ ابن ابی حاکم میں ہے کہ حمیر کے قبیلہ کے ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا کہ مجھے اپنی بیویوں سے زیادہ محبت ہے تو اس کے بارے میں احکام مجھے بتائے، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4351:ضعیف] ‏

مسند احمد میں ہے کہ چند انصاریوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا تھا، [مسند احمد:268/1:ضعیف] ‏ طحاوی کی کتاب مشکل الحدیث میں ہے ایک شخص نے اپنی بیوی سے الٹا کر کے مباشرت کی تھی، لوگوں نے اسے برا بھلا کہا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4337:ضعیف] ‏

صفحہ نمبر789

امسند احمد میں ہے کہ عبداللہ بن سابط سیدنا حفصہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا میں ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن شرم آتی ہے، فرمایا بھتیجے تم نہ شرماؤ اور جو پوچھنا ہو پوچھ لو، کہا فرمائیے عورتوں کے پیچھے کی طرف سے جماع کرنا جائز ہے؟ فرمایا سنو مجھ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ انصار عورتوں کو الٹا لٹایا کرتے تھے اور یہود کہتے تھے کہ اس طرح سے بچہ بھینگا ہوتا ہے، جب مہاجر مدینہ شریف آئے اور یہاں کی عورتوں سے ان کا نکاح ہوا اور انہوں نے بھی یہی کرنا چاہا تو ایک عورت نے اپنے خاوند کی بات نہ مانی اور کہا جب تک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ بیان نہ کر لوں تیری بات نہ مانوں گی چنانچہ وہ بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئی، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بٹھایا اور کہا ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آ جائیں گے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو انصاریہ عورت شرمندگی کی وجہ سے نہ پوچھ سکی اور واپس چلی گئی لیکن ام المؤمنین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاریہ عورت کو بلا لو، پھر یہ آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا جگہ ایک ہی ہو۔ [مسند احمد:305/6] ‏

صفحہ نمبر790

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میں تو ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے؟ کہا، میں نے رات کو اپنی سواری الٹی کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہ دیا۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سامنے سے آ، پیچھے سے آ، اختیار ہے لیکن حیض کی حالت میں نہ آ اور پاخانہ کی جگہ نہ آ۔ [مسند احمد:297/1:حسن] ‏

انصار والا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ بھی مروی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اللہ بخشے، انہیں کچھ وہم سا ہو گیا۔ بات یہ ہے کہ انصاریوں کی جماعت پہلے بت پرست تھی اور یہودی اہل کتاب تھے۔ بت پرست لوگ ان کی فضیلت اور علمیت کے قائل تھے اور اکثر افعال میں ان کی بات مانا کرتے تھے۔ یہودی ایک ہی طرح پر اپنی بیویوں سے ملتے تھے۔ یہی عادت ان انصار کی بھی تھی۔ ان کے برخلاف مکہ والے کسی خاص طریقے کے پابند نہ تھے، وہ جس طرح جی چاہتا ملتے۔ اسلام کے بعد مکہ والے مہاجر بن کر مدینہ میں انصار کے ہاں جب اترے تو ایک مکی مجاہد مرد نے ایک مدنی انصاریہ عورت سے نکاح کیا اور اپنے من بھاتے طریقے برتنے چاہے، عورت نے انکار کر دیا اور صاف کہہ دیا کہ اسی ایک مقررہ طریقہ کے علاوہ اجازت نہیں دیتی۔ بات بڑھتے بڑھتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی اور یہ فرمان نازل ہوا۔ پس سامنے سے پیچھے کی طرف سے اور جس طرح چاہے اختیار ہے ہاں جگہ ایک ہی ہو۔ [سنن ابوداود:2164، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر791

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے قرآن شریف سیکھا اول سے آخر تک انہیں سنایا، ایک آیت کی تفسیر اور مطلب پوچھا۔ اس آیت پر پہنچ کر جب میں نے اس کا مطلب پوچھا تو انہوں نے یہی بیان کیا [ جو اوپر گزرا ] ‏

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا وہم یہ تھا کہ بعض روایتوں میں ہے کہ آپ قرآن پڑھتے ہوئے کسی سے بولتے چالتے نہ تھے لیکن ایک دن تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت تک پہنچے تو اپنے شاگرد نافع رحمہ اللہ سے فرمایا جانتے ہو یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی؟ انہوں نے کہا نہیں، فرمایا یہ عورتوں کی دوسری جگہ کی وطی کے بارے میں اتری ہے۔ [صحیح بخاری:4526] ‏ ایک روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ایک شخص نے اپنی بیوی سے پیچھے سے کیا تھا جس پر اس آیت میں رخصت نازل ہوئی لیکن ایک تو اس میں محدثین نے کچھ علت بھی بیان کی ہے، دوسرے اس کے معنی بھی یہی ہو سکتے ہیں کہ پیچھے کی طرف سے آگے کی جگہ میں کیا اور اوپر کی جو روایتیں ہیں وہ بھی سنداً صحیح نہیں بلکہ انہیں نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ کیا آپ رحمہ اللہ یہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے وطی دبر کو جائز کیا ہے؟ تو فرمایا لوگ جھوٹ کہتے ہیں۔ پھر وہی انصاریہ عورت اور مہاجر والا واقعہ بیان کیا اور فرمایا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو اس آیت کا یہ مطلب ارشاد فرماتے تھے، اس روایت کی اسناد بھی بالکل صحیح ہے اور اس کے خلاف سند صحیح نہیں، معنی مطلب بھی اور ہو سکتا ہے اور خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔ وہ روایتیں عنقریب بیان ہوں گی ان شاءاللہ جن میں ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نہ یہ مباح ہے نہ حلال بلکہ حرام ہے۔

صفحہ نمبر792

تو یہ قول یعنی جواز کا بعض کا بعض فقہاء مدینہ وغیرہ کی طرف بھی منسوب ہے اور بعض لوگوں نے تو اسے امام مالک رحمہ اللہ کی طرف بھی منسوب کیا ہے لیکن اکثر لوگ اس کا انکار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا قول ہرگز یہ نہیں، صحیح حدیثیں بکثرت اس فعل کی حرمت پر وارد ہیں۔ ایک روایت میں ہے لوگو! شرم و حیاء کرو اللہ تعالیٰ حق بات فرمانے سے شرم نہیں کرتا۔ عورت کے پاخانہ کی جگہ وطی نہ کرو۔ [مسند احمد:213/5:صحیح] ‏

دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حرکت سے لوگوں کو منع فرمایا۔ [مسند احمد:213/5:صحیح بالشواھد] ‏ اور روایت میں ہے کہ جو شخص کسی عورت یا مرد کے ساتھ یہ کام کرے اس کی طرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ [سنن ترمذي:1165،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص یہ مسئلہ پوچھتا ہے تو آپ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کیا تو کفر کرنے کی بابت سوال کرتا ہے؟ ایک شخص نے آپ سے آ کر کہا کہ میں نے آیت «أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ» [ البقرہ: 223 ] ‏ کا یہ مطلب سمجھا اور میں نے اس پر عمل کیا تو آپ ناراض ہوئے اور اسے برا بھلا کہا اور فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ خواہ کھڑے ہو کر، خواہ بیٹھ کر چت خواہ پٹ لیکن جگہ وہی ایک ہو، ایک اور مرفوع حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے پاخانہ کی جگہ وطی کے وہ چھوٹا لوطی ہے۔ [مسند احمد:210/2:صحیح] ‏ سیدنا ابودردار رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ کفار کا کام ہے۔ [مسند احمد:210/2:موقوف] ‏ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان بھی منقول ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر793

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں سات قسم کے لوگ ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان سے فرمائے گا کہ جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں چلے جاؤ۔ ایک تو اغلام بازی کرنے والا خواہ وہ اوپر والا ہو خواہ نیچے والا ہو، اور اپنے ہاتھ سے مشت زنی کرنے والا، اور چوپائے جانور سے یہ کام کرنے والا اور عورت کی دبر میں وطی کرنے والا اور عورت اور اس کی بیٹی دونوں سے نکاح کرنے والا اور اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا اور ہمسایہ کو ستانے والا، یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کرے، [ارواءالغلیل59/8:ضعیف جداً] ‏ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعہ اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں،

مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنی بیوی سے دوسرے راستے وطی کرے اسے کو اللہ تعالیٰ نظرِ رحمت سے نہیں دیکھے گا۔ [مسند احمد:272/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر794

مسند احمد اور سنن میں مروی ہے کہ جو شخص حائضہ عورت سے جماع کرے یا غیر جگہ کرے یا کاہن کے پاس جائے اور اسے سچا سمجھے، اس نے اس چیز کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اتری ہے۔ [سنن ابوداود:3904، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث کو ضعیف بتاتے ہیں، ترمذی میں روایت ہے کہ ابوسلمہ بھی دبر کی وطی کو حرام بتاتے تھے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگوں کا اپنی بیوی سے یہ کام کرنا کفر ہے۔ [نسائی فی السنن الکبریٰ:1910] ‏

ایک مرفوع حدیث میں اس معنی کی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح اس کا موقوف ہونا ہی ہے، اور روایت میں ہے کہ یہ جگہ حرام ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے جب یہ بات پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بڑا کمینہ وہ شخص ہے، دیکھو قرآن میں ہے کہ لوطیوں سے کہا گیا تم وہ بدکاری کرتے ہو جس کی طرف کسی نے تم سے پہلے توجہ نہیں کی، پس صحیح احادیث اور صحابہ کرام سے بہت سی روایتوں اور سندوں سے اس فعل کی حرمت مروی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسے حرام کہتے ہیں۔ چنانچہ دارمی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ یہ سال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا مسلمان بھی ایسا کر سکتا ہے؟ [دارمی277/1] ‏ اس کی اسناد صحیح ہے اور حکم بھی حرمت کا صاف ہے،

پس غیر صحیح اور مختلف معنی والی روایتوں میں پڑ کر اتنے جلیل القدر صحابی کی طرف ایک ایسا گندا مسئلہ منسوب کرنا ٹھیک نہیں۔ گو کہ روایتیں اس قسم کی بھی ملتی ہیں، امام مالک رحمہ اللہ! سو ان کی طرف بھی اس مسئلہ کی نسبت صحیح نہیں بلکہ معمر بن عیسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب اسے حرام جانتے تھے، اسرائیل بن روح نے آپ سے ایک مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تم بےسمجھ ہو، بوائی کھیت میں ہی ہوتی ہے، خبردار شرمگاہ کے سوا اور جگہ سے بچو۔ سائل نے کہا لوگ تو کہتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ اس فعل کو جائز کہتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جھوٹے ہیں مجھ پر تہمت باندھتے ہیں۔ امام مالک سے اس کی حرمت ثابت ہے۔

صفحہ نمبر795

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ، شافعی رحمہ اللہ، احمد رحمہ اللہ اور ان کے تمام شاگردوں اور ساتھی، سعید بن مسیب، ابوسلمہ، عکرمہ، عطاء، سعید بن جبیر، عروہ بن زبیر، مجاہد، حسن رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سلف صالحین سب کے سب اسے حرام کہتے ہیں اور اس بارے میں سخت تشدد کرتے ہیں بلکہ بعض تو اسے کفر کہتے ہیں، جمہور علماء کرام کا بھی اس کی حرمت پر اجماع ہے، گو بعض لوگوں نے فقہاء مدینہ بلکہ امام مالک رحمہ اللہ سے بھی اس کی حلت نقل کی ہے لیکن یہ صحیح نہیں۔ عبدالرحمٰن بن قاسم رحمہ اللہ کا قول ہے کہ کسی دیندار شخص کو میں نے تو اس کی حرمت میں شک کرنے والا نہیں پایا، پھر آیت «نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُم مُّلَاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ» [ البقرہ: 223 ] ‏ پڑھ کر فرمایا خود یہ لفظ «حرث» ہی اس کی حرمت ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے کیونکہ وہ دوسری جگہ کھیتی کی جگہ نہیں، کھیتی میں جانے کے طریقہ کا اختیار ہے نہ کہ جگہ بدلنے کا۔ گو امام مالک رحمہ اللہ سے اس کے مباح ہونے کی روایتیں بھی منقول ہیں لیکن ان کی سندوں میں سخت ضعف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ٹھیک اس طرح امام شافعی رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت لوگوں نے گھڑ لی ہے حالانکہ انہوں نے اپنی چھ کتابوں میں کھلے لفظوں اسے حرام لکھا ہے۔ پھر اللہ فرماتا ہے اپنے لیے کچھ آگے بھی بھیجو یعنی ممنوعات سے بچو نیکیاں کرو تاکہ ثواب آگے جائے، اللہ سے ڈرو اس سے ملنا ہے وہ حساب کتاب لے گا، ایماندر ہر حال میں خوشیاں منائیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ بھی مطلب ہے کہ جب جماع کا ارادہ کرے، یہ دعا «بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا» پڑھے یعنی اے اللہ تو ہمیں اور ہماری اولاد کو شیطان سے بچا لے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اگر اس جماع سے نطفہ قرار پکڑ گیا تو اس بچے کو شیطان ہرگز کوئی ضرر نہ پہنچا سکے گا۔ [صحیح بخاری:141] ‏

صفحہ نمبر796

قسم اور کفارہ ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [ 24۔ النور: 22 ] ‏، یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں، انہیں چاہیئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہیئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں، [صحیح بخاری:`6624] ‏ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھا لے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اَڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں۔ مسروق رحمہ اللہ وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ان شاءاللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا، [صحیح بخاری:6623] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبدالرحمٰن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور اس نیک کام کو کر لے۔ [صحیح بخاری:6722] ‏ پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔

صفحہ نمبر798

صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھا لے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہیئے کہ اس خوبی والے کام کو کر لے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دیدے، [صحیح مسلم:1650] ‏ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد:211/2:صحیح بالشواھد] ‏ ابوداؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھا لے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے، [سنن ابوداود:3274، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4456:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن مسیب مسروق اور شعبی رحمہ اللہ علیہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں۔

صفحہ نمبر799

مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت «لا الہ الا اللہ» پڑھ لے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہو جائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دِل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ «بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [ 5-المائدہ: 89 ] ‏ ہیں، ابوداؤد میں بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھربار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور نہیں اللہ کی قسم، [سنن ابوداود:3254، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دِل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں، ان پر کفارہ نہیں، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا، آپ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:715/2] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں۔

صفحہ نمبر800

ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے کہا دیکھیے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کی قسم کے خلاف ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4461:ضعیف و مرسل] ‏ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر لے تو اسے چاہیئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے،

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ [سنن ابوداود:3272، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [ 5-المائدہ: 89 ] ‏ یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔

صفحہ نمبر801

قسم اور کفارہ ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نیکی اور صلہ رحمی کے چھوڑنے کا ذریعہ اللہ کی قسموں کو نہ بناؤ، جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ» [ 24۔ النور: 22 ] ‏، یعنی وہ لوگ جو کشادہ حال اور فارغ البال ہیں وہ قرابت داروں، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے پر قسمیں نہ کھا بیٹھیں، انہیں چاہیئے کہ معاف کرنے اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں، کیا تمہاری خود خواہش نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں بخشے، اگر کوئی ایسی قسم کھا بیٹھے تو اسے چاہیئے کہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ ہم پیچھے آنے والے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے بڑھنے والے ہیں، [صحیح بخاری:`6624] ‏ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی ایسی قسم کھا لے اور کفارہ ادا نہ کرے اور اس پر اَڑا رہے وہ بڑا گنہگار ہے، یہ حدیث اور بھی بہت سی سندوں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں۔ مسروق رحمہ اللہ وغیرہ بہت سے مفسرین سے بھی یہی مروی ہے، جمہور کے ان اقوال کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم ان شاءاللہ میں اگر کوئی قسم کھا بیٹھوں گا اور اس کے توڑنے میں مجھے بھلائی نظر آئے گی تو میں قطعاً اسے توڑ دوں گا اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا، [صحیح بخاری:6623] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سیدنا عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عبدالرحمٰن سرداری امارت اور امامت کو طلب نہ کر اگر بغیر مانگے تو دیا جائے گا تو اللہ کی جانب سے تیری مدد کی جائے گی اور اگر تو نے آپ مانگ کر لی ہے تو تجھے اس کی طرف سونپ دیا جائے گا تو اگر کوئی قسم کھا لے اور اس کے خلاف بھی بھلائی دیکھ لے تو اپنی قسم کا کفارہ دیدے اور اس نیک کام کو کر لے۔ [صحیح بخاری:6722] ‏ پھر فرماتا ہے جو قسمیں تمہارے منہ سے بغیر قصداً اور ارادے کے عادتاً نکل جائیں ان پر پکڑ نہیں۔

صفحہ نمبر798

صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص کوئی قسم کھا لے پھر اس کے سوا خوبی نظر آئے تو اسے چاہیئے کہ اس خوبی والے کام کو کر لے اور اپنی اس قسم کو توڑ دے اس کا کفارہ دیدے، [صحیح مسلم:1650] ‏ مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ اس کا چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ [مسند احمد:211/2:صحیح بالشواھد] ‏ ابوداؤد میں ہے نذر اور قسم اس چیز میں نہیں جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں ہی ہے نہ رشتوں ناتوں کو توڑتی ہے جو شخص کوئی قسم کھا لے اور نیکی اس کے کرنے میں ہو تو وہ قسم کو چھوڑ دے اور نیکی کا کام کرے، اس قسم کو چھوڑ دینا ہی اس کا کفارہ ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کل کی کل صحیح احادیث میں یہ لفظ ہیں کہ اپنی ایسی قسم کا کفارہ دے، [سنن ابوداود:3274، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ ایسی قسم کا پورا کرنا یہی ہے کہ اسے توڑ دے اور اس سے رجوع کرے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4456:ضعیف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن مسیب مسروق اور شعبی رحمہ اللہ علیہم بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایسے شخص کے ذمہ کفارہ نہیں۔

صفحہ نمبر799

مسلم بخاری کی حدیث میں ہے جو شخص لات اور عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے وہ آیت «لا الہ الا اللہ» پڑھ لے۔ [صحیح بخاری:4860] ‏ یہ ارشاد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کو ہوا تھا جو ابھی ابھی اسلام لائے تھے اور جاہلیت کے زمانہ کی یہ قسمیں ان کی زبانوں پر چڑھی ہوئی تھیں تو ان سے فرمایا کہ اگر عادتاً کبھی ایسے شرکیہ الفاظ نکل جائیں تو فوراً کلمہ توحید پڑھ لیا کرو تاکہ بدلہ ہو جائے۔ پھر فرمایا ہاں جو قسمیں پختگی کے ساتھ دِل کی ارادت کے ساتھ قصداً کھائی جائیں ان پر پکڑ ہے۔ دوسری آیت کے لفظ «بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [ 5-المائدہ: 89 ] ‏ ہیں، ابوداؤد میں بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک مرفوع حدیث مروی ہے جو اور روایتوں میں موقوف وارد ہوئی ہے کہ یہ لغو قسمیں وہ ہیں جو انسان اپنے گھربار میں بال بچوں میں کہہ دیا کرتا ہے کہ ہاں اللہ کی قسم اور نہیں اللہ کی قسم، [سنن ابوداود:3254، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ غرض بطور تکیہ کلام کے یہ لفظ نکل جاتے ہیں دِل میں اس کی پختگی کا خیال بھی نہیں ہوتا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ دو قسمیں ہیں جو ہنسی ہنسی میں انسان کے منہ سے نکل جاتی ہیں، ان پر کفارہ نہیں، ہاں جو ارادے کے ساتھ قسم ہو پھر اس کا خلاف کرے تو کفارہ ادا کرنا پڑے گا، آپ رضی اللہ عنہا کے علاوہ اور بھی بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم نے یہی تفسیر اس آیت کی بیان کی ہے، [تفسیر ابن ابی حاتم:715/2] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی اپنی تحقیق پر بھروسہ کر کے کسی معاملہ کی نسبت قسم کھا بیٹھے اور حقیقت میں وہ معاملہ یوں نہ ہو تو یہ قسمیں لغو ہیں، یہ معنی بھی دیگر بہت سے حضرات سے مروی ہیں۔

صفحہ نمبر800

ایک حسن حدیث میں ہے جو مرسل ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر اندازوں کی ایک جماعت کے پاس جا کھڑے ہوئے، وہ تیر اندازی کر رہے تھے اور ایک شخص کبھی کہتا اللہ کی قسم اس کا تیر نشانے پر لگے گا، کبھی کہتا اللہ کی قسم یہ خطا کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے کہا دیکھیے یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس کی قسم کے خلاف ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو قسمیں لغو ہیں ان پر کفارہ نہیں اور نہ کوئی سزا یا عذاب ہے، [تفسیر ابن جریر الطبری:4461:ضعیف و مرسل] ‏ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے یہ وہ قسمیں ہیں جو انسان کھا لیتا ہے پھر خیال نہیں رہتا، یا کوئی شخص اپنے کسی کام کے نہ کرنے پر کوئی بد دعا کے کلمات اپنی زبان سے نکال دیتا ہے، وہ بھی لغو میں داخل ہیں یا غصے اور غضب کی حالت میں بےساختہ زبان سے قسم نکل جائے یا حلال کو حرام یا حرام کو حلال کر لے تو اسے چاہیئے کہ ان قسموں کی پروا نہ کرے اور اللہ کے احکام کیخلاف نہ کرے،

حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ انصار کے دو شخص جو آپس میں بھائی بھائی تھے ان کے درمیان کچھ میراث کا مال تھا تو ایک نے دوسرے سے کہا اب اس مال کو تقسیم کر دو، دوسرے نے کہا اگر اب تو نے تقسیم کرنے کیلئے کہا تو میرا مال کعبہ کا خزانہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے یہ واقع سن کر فرمایا کہ کعبہ ایسے مال سے غنی ہے، اپنی قسم کا کفارہ دے اور اپنے بھائی سے بول چال رکھ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی رشتے ناتوں کے توڑنے اور جس چیز کی ملکیت نہ ہو ان کے بارے میں قسم اور نذر نہیں۔ [سنن ابوداود:3272، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پھر فرماتا ہے تمہارے دِل جو کریں اس پر گرفت ہے یعنی اپنے جھوٹ کا علم ہو اور پھر قسم کھائے جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ» [ 5-المائدہ: 89 ] ‏ یعنی جو تم مضبوط اور تاکید والی قسمیں کھا لو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بخشنے والا ہے اور ان پر علم و کرم کرنے والا ہے۔

صفحہ نمبر801

ایلاء اور اس کی وضاحت ٭٭

ایلاء کہتے ہیں قسم کو۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرنے کی ایک مدت تک کیلئے قسم کھا لے تو دو صورتیں، یا وہ مدت چار مہینے سے کم ہو گی یا زیادہ ہو گی، اگر کم ہو گی تو وہ مدت پوری کرے اور اس درمیان عورت بھی صبر کرے، اس سے مطالبہ اور سوال نہیں کر سکتی، پھر میاں بیوی آپس میں ملیں جلیں گے، جیسے کہ بخاری صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کیلئے قسم کھا لی تھی اور انتیس دن پورے الگ رہے اور فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1910] ‏ اور اگر چار مہینے سے زائد کی مدت کیلئے قسم کھائی ہو تو چار ماہ بعد عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ تقاضا اور مطالبہ کرے کہ یا تو وہ میل ملاپ کر لے یا طلاق دیدے، اور اس خاوند کا حکم ان دو باتوں میں سے ایک کے کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ عورت کو ضرر نہ پہنچے۔ یہی بیان یہاں ہو رہا ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کریں یعنی ان سے مجامعت نہ کرنے کی قسم کھائیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ“ ایلاء“ خاص بیویوں کیلئے ہے، لونڈیوں کیلئے نہیں۔ یہی مذہب جمہور علماء کرام کا ہے، یہ لوگ چار مہینہ تک آزاد ہیں، اس کے بعد انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی بیویوں سے مل لیں یا طلاق دے دیں، یہ نہیں کہ اب بھی وہ اسی طرح چھوڑے رہیں، پھر اگر وہ لوٹ آئیں یہ اشارہ جماع کرنے کا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی بخش دے گا اور جو تقصیر عورت کے حق میں ان سے ہوئی ہے اسے اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/4] ‏ اس میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کے ذمہ کفارہ کچھ بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکی کہ قسم کھانے والا اگر اپنی قسم توڑ ڈالنے میں نیکی دیکھتا ہو تو توڑ ڈالے، یہی اس کا کفارہ ہے، [سنن ابوداود:3274، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور علماء کرام کی ایک دوسری جماعت کا یہ مذہب ہے کہ اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اس کی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر803

پھر فرمان ہے کہ اگر چار مہینے گزر جانے کے بعد وہ طلاق دینے کا قصد کرے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہیں طلاق نہیں ہو گی۔ جمہور متاخرین کا یہی مذہب ہے، گو ایک دوسری جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ بلا جماع چار ماہ گزرنے کے بعد طلاق ہو جائے گی۔ سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، ابن عباس، ابن عمر، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور بعض تابعین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے لیکن یاد رہے کہ راجح قول اور قرآن کریم کے الفاظ اور صحیح حدیث سے ثابت شدہ قول یہی ہے کہ طلاق واقع نہ ہو گی [ مترجم ] ‏

پھر بعض تو کہتے ہیں یہ طلاق رجعی ہو گئی، بعض کہتے ہیں بائن ہو گی، جو لوگ طلاق پڑنے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اسے عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوالشعثاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان چار مہینوں میں اس عورت کو تین حیض آ گئے ہیں تو اس پر عدت بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قول یہی ہے لیکن جمہور متاخرین علماء کا فرمان یہی ہے کہ اس مدت کے گزرتے ہیں طلاق واقع نہ ہو گی بلکہ اب ایلاء کرنے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی قسم کو توڑے یا طلاق دے۔ موطا مالک میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:5290] ‏

صفحہ نمبر804

صحیح بخاری میں بھی یہ روایت موجود ہے، امام شافعی رحمہ اللہ اپنی سند سے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دس سے اوپر صحابیوں سے سنا کہ وہ کہتے تھے چار ماہ کے بعد ایلاء کرنے والے کو کھڑا کیا گیا تو کم سے کم یہ تیرہ صحابی ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی یہی منقول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی سیدنا عمر، ابن عمر، عثمان، علی، ابوالدراء، ام المومنین عائشہ، ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں اور تابعین میں سے حضرت سعید بن مسیّب، عمر بن عبدالعزیز امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور ان کے ساتھیوں کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں کہ اگر چار ماہ کے بعد رجوع نہ کرے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اگر طلاق نہ دے تو حاکم خود اس کی طرف سے طلاق دے دے گا مگر یہ طلاق رجعی ہو گی، عدت کے اندر رجعت کا حق خاوند کو حاصل ہے، ہاں صرف امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے رجعت جائز نہیں یہاں تک کہ عدت میں جماع کرے لیکن یہ قول نہایت ہی غریب ہے۔

صفحہ نمبر805

یہاں جو چار مہینے کی تاخیر کی اجازت دی ہے اس کی مناسبت میں موطا امام مالک میں عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ عموماً فقہاء کرام ذِکر کرتے ہیں، جو یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما راتوں کو مدینہ شریف کی گلیوں میں گشت لگاتے رہتے۔ ایک رات کو نکلے تو آپ رضی اللہ عنہما نے سنا کہ ایک عورت اپنے سفر میں گئے ہوئے خاوند کی یاد میں کچھ اشعار پڑھ رہی ہے «تطاول هذا الليل وازور جانبه وأرقني ألا ضجيع ألاعبه ألاعبه طورا وطورا كأنما بدا قمرا في ظلمة الليل حاجبه يسر به من كان يلهو بقربه لطيف الحشا لا يحتويه أقاربه فوالله لولا الله لا شيء غيره لنقض من هذا السرير جوانبه ولكنني أخشى رقيبا موكلا ا بأنفسنا لا يفتر الدهر كاتبه» جن کا ترجمہ یہ ہے ”افسوس ان کالی کالی اور لمبی راتوں میں میرا خاوند نہیں ہے جس سے میں ہنسوں، بولوں۔ قسم اللہ کی اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس وقت اس پلنگ کے پائے حرکت میں ہوتے۔“ آپ اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا بتاؤ زیادہ سے زیادہ عورت اپنے خاوند کی جدائی پر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے؟ فرمایا چھ مہینے یا چار مہینے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اب میں حکم جاری کر دوں گا کہ مسلمان مجاہد سفر میں اس سے زیادہ نہ ٹھہریں۔ بعض روایتوں میں کچھ زیادتی بھی ہے اور اس کی بہت سی سندیں ہیں اور یہ واقعہ مشہور ہے۔

صفحہ نمبر806

ایلاء اور اس کی وضاحت ٭٭

ایلاء کہتے ہیں قسم کو۔ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مجامعت نہ کرنے کی ایک مدت تک کیلئے قسم کھا لے تو دو صورتیں، یا وہ مدت چار مہینے سے کم ہو گی یا زیادہ ہو گی، اگر کم ہو گی تو وہ مدت پوری کرے اور اس درمیان عورت بھی صبر کرے، اس سے مطالبہ اور سوال نہیں کر سکتی، پھر میاں بیوی آپس میں ملیں جلیں گے، جیسے کہ بخاری صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کیلئے قسم کھا لی تھی اور انتیس دن پورے الگ رہے اور فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1910] ‏ اور اگر چار مہینے سے زائد کی مدت کیلئے قسم کھائی ہو تو چار ماہ بعد عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ تقاضا اور مطالبہ کرے کہ یا تو وہ میل ملاپ کر لے یا طلاق دیدے، اور اس خاوند کا حکم ان دو باتوں میں سے ایک کے کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ عورت کو ضرر نہ پہنچے۔ یہی بیان یہاں ہو رہا ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کریں یعنی ان سے مجامعت نہ کرنے کی قسم کھائیں، اس سے معلوم ہوا کہ یہ“ ایلاء“ خاص بیویوں کیلئے ہے، لونڈیوں کیلئے نہیں۔ یہی مذہب جمہور علماء کرام کا ہے، یہ لوگ چار مہینہ تک آزاد ہیں، اس کے بعد انہیں مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی بیویوں سے مل لیں یا طلاق دے دیں، یہ نہیں کہ اب بھی وہ اسی طرح چھوڑے رہیں، پھر اگر وہ لوٹ آئیں یہ اشارہ جماع کرنے کا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی بخش دے گا اور جو تقصیر عورت کے حق میں ان سے ہوئی ہے اسے اپنی مہربانی سے معاف فرما دے گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:466/4] ‏ اس میں دلیل ہے ان علماء کی جو کہتے ہیں کہ اس صورت میں خاوند کے ذمہ کفارہ کچھ بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے، اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو اگلی آیت کی تفسیر میں گزر چکی کہ قسم کھانے والا اگر اپنی قسم توڑ ڈالنے میں نیکی دیکھتا ہو تو توڑ ڈالے، یہی اس کا کفارہ ہے، [سنن ابوداود:3274، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور علماء کرام کی ایک دوسری جماعت کا یہ مذہب ہے کہ اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اس کی حدیثیں بھی اوپر گزر چکی ہیں اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر803

پھر فرمان ہے کہ اگر چار مہینے گزر جانے کے بعد وہ طلاق دینے کا قصد کرے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چار مہینے گزرتے ہیں طلاق نہیں ہو گی۔ جمہور متاخرین کا یہی مذہب ہے، گو ایک دوسری جماعت یہ بھی کہتی ہے کہ بلا جماع چار ماہ گزرنے کے بعد طلاق ہو جائے گی۔ سیدنا عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، ابن عباس، ابن عمر، زید بن ثابت رضی اللہ عنہم اور بعض تابعین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے لیکن یاد رہے کہ راجح قول اور قرآن کریم کے الفاظ اور صحیح حدیث سے ثابت شدہ قول یہی ہے کہ طلاق واقع نہ ہو گی [ مترجم ] ‏

پھر بعض تو کہتے ہیں یہ طلاق رجعی ہو گئی، بعض کہتے ہیں بائن ہو گی، جو لوگ طلاق پڑنے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اسے عدت بھی گزارنی پڑے گی۔ ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوالشعثاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان چار مہینوں میں اس عورت کو تین حیض آ گئے ہیں تو اس پر عدت بھی نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قول یہی ہے لیکن جمہور متاخرین علماء کا فرمان یہی ہے کہ اس مدت کے گزرتے ہیں طلاق واقع نہ ہو گی بلکہ اب ایلاء کرنے والے کو مجبور کیا جائے گا کہ یا تو وہ اپنی قسم کو توڑے یا طلاق دے۔ موطا مالک میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مروی ہے۔ [صحیح بخاری:5290] ‏

صفحہ نمبر804

صحیح بخاری میں بھی یہ روایت موجود ہے، امام شافعی رحمہ اللہ اپنی سند سے سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دس سے اوپر صحابیوں سے سنا کہ وہ کہتے تھے چار ماہ کے بعد ایلاء کرنے والے کو کھڑا کیا گیا تو کم سے کم یہ تیرہ صحابی ہو گئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے بھی یہی منقول ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی ہمارا مذہب ہے اور یہی سیدنا عمر، ابن عمر، عثمان، علی، ابوالدراء، ام المومنین عائشہ، ابن عباس رضی اللہ عنہم بھی یہی فرماتے ہیں اور تابعین میں سے حضرت سعید بن مسیّب، عمر بن عبدالعزیز امام شافعی، امام احمد رحمہ اللہ علیہم اور ان کے ساتھیوں کا بھی یہی مذہب ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں کہ اگر چار ماہ کے بعد رجوع نہ کرے تو اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے اگر طلاق نہ دے تو حاکم خود اس کی طرف سے طلاق دے دے گا مگر یہ طلاق رجعی ہو گی، عدت کے اندر رجعت کا حق خاوند کو حاصل ہے، ہاں صرف امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اسے رجعت جائز نہیں یہاں تک کہ عدت میں جماع کرے لیکن یہ قول نہایت ہی غریب ہے۔

صفحہ نمبر805

یہاں جو چار مہینے کی تاخیر کی اجازت دی ہے اس کی مناسبت میں موطا امام مالک میں عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ کی روایت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا ایک واقعہ عموماً فقہاء کرام ذِکر کرتے ہیں، جو یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما راتوں کو مدینہ شریف کی گلیوں میں گشت لگاتے رہتے۔ ایک رات کو نکلے تو آپ رضی اللہ عنہما نے سنا کہ ایک عورت اپنے سفر میں گئے ہوئے خاوند کی یاد میں کچھ اشعار پڑھ رہی ہے «تطاول هذا الليل وازور جانبه وأرقني ألا ضجيع ألاعبه ألاعبه طورا وطورا كأنما بدا قمرا في ظلمة الليل حاجبه يسر به من كان يلهو بقربه لطيف الحشا لا يحتويه أقاربه فوالله لولا الله لا شيء غيره لنقض من هذا السرير جوانبه ولكنني أخشى رقيبا موكلا ا بأنفسنا لا يفتر الدهر كاتبه» جن کا ترجمہ یہ ہے ”افسوس ان کالی کالی اور لمبی راتوں میں میرا خاوند نہیں ہے جس سے میں ہنسوں، بولوں۔ قسم اللہ کی اگر اللہ کا خوف نہ ہوتا تو اس وقت اس پلنگ کے پائے حرکت میں ہوتے۔“ آپ اپنی صاحبزادی ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور فرمایا بتاؤ زیادہ سے زیادہ عورت اپنے خاوند کی جدائی پر کتنی مدت صبر کر سکتی ہے؟ فرمایا چھ مہینے یا چار مہینے۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اب میں حکم جاری کر دوں گا کہ مسلمان مجاہد سفر میں اس سے زیادہ نہ ٹھہریں۔ بعض روایتوں میں کچھ زیادتی بھی ہے اور اس کی بہت سی سندیں ہیں اور یہ واقعہ مشہور ہے۔

صفحہ نمبر806

طلاق کے مسائل ٭٭

ان عورتوں کو جو خاوندوں سے مل چکی ہوں اور بالغہ ہوں، حکم ہو رہا ہے کہ طلاق کے بعد تین حیض تک رُکی رہیں پھر اگر چاہیں تو اپنا نکاح دوسرا کر سکتی ہیں، ہاں چاروں اماموں نے اس میں لونڈی کو مخصوص کر دیا ہے وہ دو حیض عدت گزارے کیونکہ لونڈی ان معاملات میں آزاد عورت سے آدھے پر ہے لیکن حیض کی مدت کا ادھورا ٹھیک نہیں بیٹھتا، اس لیے وہ دو حیض گزارے۔ ایک حدیث میں یہ بھی ہے کہ لونڈی کی طلاقیں بھی دو ہیں اور اس کی عدت بھی دو حیض ہیں۔ [ ابن جریر ] ‏ لیکن اس کے راوی مظاہر ضعیف ہیں، یہ حدیث ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ بھی ہے۔ [سنن ابوداود:2189، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام حافظ دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ حضرت قاسم بن محمد کا اپنا قول ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا اپنا قول ہی ہے، اسی طرح خود خلیفۃ المسلمین فاروق اعظم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، بلکہ صحابہ میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه:2079، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس مسئلہ میں اختلاف ہی نہ تھا، ہاں بعض سلف سے یہ بھی مروی ہے کہ عدت کے بارے میں آزاد اور لونڈی برابر ہے، کیونکہٖ آیت اپنی عمومیت کے لحاظ سے دونوں کو شامل ہے اور اس لیے بھی کہ یہ فطری امر ہے لونڈی اور آزاد عورت اس میں یکساں ہیں۔

محمد بن سیرین رحمہ اللہ اور بعض اہل ظاہر کا یہی قول ہے لیکن یہ ضعیف ہے۔ ابن ابی حاتم کی ایک غریب سند والی روایت میں ہے کہ اسماء بن یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے، اس سے پہلے طلاق کی عدت نہ تھی۔ سب سے پہلے عدت کا حکم ان ہی کی طلاق کے بعد نازل ہوا۔ [سنن ابوداود:2281، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر808

«قُرُوءٍ» کے معنی میں سلف خلف کا برابر اختلاف رہا ہے۔ ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد طہر یعنی پاکی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا یہی فرمان ہے چنانچہ انہوں نے اپنی بھتیجی عبدالرحمٰن کی بیٹی حفصہ کو جبکہ وہ تین طہر گزار چکیں اور تیسرا حیض شروع ہوا تو حکم دیا کہ وہ مکان بدل لیں۔ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے جب یہ روایت بیان کی تو عمرہ نے جو سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی دوسری بھتیجی ہیں، اس واقعہ کی تصدیق کی اور فرمایا کہ لوگوں نے سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر اعتراض بھی کیا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اقراء سے مراد طہر ہیں۔ مؤطا576/2] ‏ بلکہ موطا میں ابوبکر بن عبدالرحمٰن کا تو یہ قول بھی مروی ہے کہ میں نے سمجھدار علماء فقہاء کو قروء کی تفسیر طہر سے ہی کرتے سنا ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب تیسرا حیض شروع ہوا تو یہ اپنے خاوند سے بری ہو گی اور خاوند اس سے الگ ہوا۔ [مؤطا:578/2] ‏ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمارے نزدیک بھی مستحق امر یہی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، زید بن ثابت، سالم، قاسم، عروہ، سلیمان بن یسار، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، ابان بن عثمان، عطاء، قتادہ، زہری اور باقی ساتوں فقہاء رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی رحمہ اللہ علیہما کا بھی یہی مذہب ہے۔ داؤد اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی مروی ہے اس کی دلیل ان بزرگوں نے قرآن کی اس آیت سے بھی نکالی ہے کہ آیت «يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ» [ 65-الطلاق: 1 ] ‏ یعنی انہیں عدت میں یعنی طہر میں پاکیزگی کی حالت میں طلاق دو، چونکہ جس طہر میں طلاق دی جاتی ہے وہ بھی گنتی میں آتا ہے۔

صفحہ نمبر809

اس سے معلوم ہوا کہ آیت مندرجہ بالا میں بھی قروء سے مراد حیض کے سوا یعنی پاکی کی حالت ہے، اسی لیے یہ حضرات فرماتے ہیں کہ جہاں تیسرا حیض شروع ہوا اور عورت نے اپنے خاوند کی عدت سے باہر ہو گئی اور اس کی کم سے کم مدت جس میں اگر عورت کہے کہ اسے تیسرا حیض شروع ہو گیا ہے تو اسے سچا سمجھا جائے۔ بتیس دن اور دو لحظہ ہیں،

عرب شاعروں کے شعر میں بھی یہ لفظ طہر کے معنی میں مستعمل ہوا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد تین حیض ہیں، اور جب تک تیسرے حیض سے پاک نہ ہو لے تب تک وہ عدت ہی میں ہے۔ بعض نے غسل کر لینے تک کہا ہے اور اس کی کم سے کم مدت تینتیس دن اور ایک لحظہ ہے اس کی دلیل میں ایک تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے پاس ایک مطلقہ عورت آئی اور کہا کہ میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں پھر وہ میرے پاس اس وقت آیا جبکہ اپنے کپڑے اتار کر دروازہ بند کئے ہوئے تھی [ یعنی تیسرے حیض سے نہانے کی تیاری میں تھی تو فرمائے کیا حکم ہے یعنی رجوع ہو جائے گا یا نہیں؟ ] ‏ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے رجوع ہو گیا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے اس کی تائید کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:502/4] ‏ سیدنا صدیق اکبر، عمر، عثمان، علی، ابودرداء، عبادہ بن صامت، انس بن مالک، عبداللہ بن مسعود، معاذ، ابی بن کعب، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس رضی اللہ عنہم سے بھی یہی مروی ہے۔ سعید بن مسیب، علقمہ، اسود، ابراہیم، مجاہد، عطاء، طاؤس، سعید بن جبیر، عکرمہ، محمد بن سیرین، حسن، قتاوہ، شعبی، ربیع، مقاتل بن حیان، سدی، مکحول، ضحاک، عطاء خراسانی رحمہ اللہ علیہم بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی مذہب ہے۔

امام احمد سے بھی زیادہ صحیح روایت میں یہی مروی ہے آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہی مروی ہے۔ ثوری، اوزاعی، ابن ابی لیلیٰ، ابن شیرمہ، حسن بن صالح، ابو عبید اور اسحٰق بن راہویہ کا قول بھی یہی ہے۔ ایک حدیث میں بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بن ابی جیش رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا نماز کو اقراء کے دِنوں میں چھوڑ دو۔ [سنن ابوداود:280، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ پس معلوم ہوا کہ قروء سے مراد حیض ہے لیکن اس حدیث کا ایک راوی منذر مجہول ہے جو مشہور نہیں۔ ہاں ابن حبان اسے ثقہ بتاتے ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں لغتاً قرء کہتے ہیں ہر اس چیز کے آنے اور جانے کے وقت کو جس کے آنے جانے کا وقت مقرر ہو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس لفظ کے دونوں معنی ہیں حیض کے بھی اور طہر کے بھی اور بعض اصولی حضرات کا یہی مسلک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اصمعی بھی فرماتے ہیں کہ قرء کہتے ہیں وقت کو ابو عمر بن علاء کہتے ہیں عرب میں حیض کو اور طہر کو دونوں کو قرء کہتے ہیں۔ ابوعمر بن عبدالبر کا قول ہے کہ زبان عرب کے ماہر اور فقہاء کا اس میں اختلاف ہی نہیں کہ طہر اور حیض دونوں کے معنی قرء کے ہیں البتہ اس آیت کے معنی مقرر کرنے میں ایک جماعت اس طرف گئی اور دوسری اس طرف۔ [ مترجم کی تحقیق میں بھی قرء سے مراد یہاں حیض لینا ہی بہتر ہے ] ‏۔

صفحہ نمبر810

پھر فرمایا ان کے رحم میں جو ہوا اس کا چھپانا حلال نہیں حمل ہو تو اور حیض آئے تو۔ پھر فرمایا اگر انہیں اللہ اور قیامت پر ایمان ہو، اس میں دھمکایا جا رہا ہے کہ حق کیخلاف نہ کہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خبر میں ان کی بات کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ اس پر کوئی بیرونی شہادت قائم نہیں کی جا سکتی اس لیے انہیں خبردار کر دیا گیا کہ عدت سے جلد نکل جانے کیلئے [ حیض نہ آیا ہو ] ‏ اور کہہ نہ دیں کہ انہیں حیض آ گیا یا عدت کو بڑھانے کیلئے [ حیض ] ‏ آیا مگر اسے چھپا نہ لیں اسی طرح حمل کی بھی خبر کر دیں۔

پھر فرمایا کہ عدت کے اندر اس شوہر کو جس نے طلاق دی ہے لوٹا لینے کا پورا حق حاصل ہے جبکہ طلاق رجعی ہو یعنی ایک طلاق کے بعد اور دو طلاقوں کے بعد، باقی رہی طلاق بائن یعنی تین طلاقیں جب ہو جائیں تو یاد رہے کہ جب یہ آیت اتری ہے تب تک طلاق بائن ہی نہیں بلکہ اس وقت تک جب چاہے طلاق ہو جائے سب رجعی تھیں طلاق بائن تو پھر اسلام کے احکام میں آئی کہ تین اگر ہو جائیں تو اب رجعت کا حق نہیں رہے گا۔ جب یہ بات خیال میں رہے گی تو علماء اصول کے اس قاعدے کا ضعف بھی معلوم ہو جائے گا کہ ضمیر لوٹانے سے پہلے کے عام لفظ کی خصوصیت ہوتی ہے یا نہیں اس لیے کہ اس آیت کے وقت دوسری شکل تھی ہی نہیں، طلاق کی ایک ہی صورت تھی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر811

پھر فرماتا ہے کہ جیسے ان عورتوں پر مردوں کے حقوق ہیں ویسے ہی ان عورتوں کے مردوں پر بھی حقوق ہیں۔ ہر ایک کو دوسرے کا پاس و لحاظ عمدگی سے رکھنا چاہیئے، صحیح مسلم شریف میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے اپنے خطبہ میں فرمایا لوگو عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے اللہ کی امانت کہہ کر انہیں لیا ہے اور اللہ کے کلمہ سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے، عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے فرش پر کسی ایسے کو نہ آنے دیں جس سے تم ناراض ہو اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن مار ایسی نہ ہو کہ ظاہر ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ انہیں اپنی بساط کے مطابق کھلاؤ پلاؤ پہناؤ اوڑاؤ، [صحیح مسلم:1218:صحیح] ‏

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ہماری عورتوں کے ہم پر کیا حق ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو اسے گالیاں نہ دو، اس سے روٹھ کر اور کہیں نہ بھیج دو، ہاں گھر میں رکھو، [سنن ابوداود:2142، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اسی آیت کو پڑھ کر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ میں پسند کرتا ہوں کہ اپنی بیوی کو خوش کرنے کیلئے بھی اپنی زینت کروں جس طرح وہ مجھے خوش کرنے کیلئے اپنا بناؤ سنگار کرتی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:532/4] ‏ پھر فرمایا کہ مردوں کو ان پر فضیلت ہے، جسمانی حیثیت سے بھی اخلاقی حیثیت سے بھی، مرتبہ کی حیثیت سے بھی حکمرانی کی حیثیت سے بھی، خرچ اخراجات کی حیثیت سے بھی دیکھ بھال اور نگرانی کی حیثیت سے بھی، غرض دنیوی اور اخروی فضیلت کے ہر اعتبار سے، جیسے اور جگہ ہے آیت «اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَي النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ» [ 4۔ النسأ: 34 ] ‏ یعنی مرد عورتوں کے سردار ہیں اللہ تعالیٰ نے ایک کو ایک پر فضیلت دے رکھی ہے اور اس لیے بھی کہ یہ مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں سے بدلہ لینے پر غالب ہے اور اپنے احکام میں حکمت والا۔

صفحہ نمبر812

رسم طلاق میں آئینی اصلاحات اور خلع ٭٭

اسلام سے پہلے یہ دستور تھا کہ خاوند جتنی چاہے طلاقیں دیتا چلا جائے اور عدت میں رجوع کرتا جائے اس سے عورتوں کی جان غضب میں تھی کہ طلاق دی، عدت گزرنے کے قریب آئی رجوع کر لیا، پھر طلاق دے دی اس طرح عورتوں کو تنگ کرتے رہتے تھے، پس اسلام نے حد بندی کر دی کہ اس طرح کی طلاقیں صرف دو ہی دے سکتے ہیں۔ تیسری طلاق کے بعد لوٹا لینے کا کوئی حق نہ رہے گا، سنن ابوداؤد میں باب ہے کہ تین طلاقوں کے بعد مراجعت منسوخ ہے، پھر یہ روایت لائے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی فرماتے ہیں، [سنن ابوداود:2195،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ نہ تو میں تجھے بساؤں گا نہ چھوڑوں گا، اس نے کہا یہ کس طرح؟ طلاق دے دوں گا اور جہاں عدت ختم ہونے کا وقت آیا تو رجوع کر لوں گا، پھر طلاق دے دوں گا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لوں گا اور یونہی کرتا چلا جاؤں گا۔ وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنا یہ دُکھ رونے لگی اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ [مؤطا:588/2:مرسل و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر813

ایک اور روایت میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد لوگوں نے نئے سرے سے طلاقوں کا خیال رکھنا شروع کیا اور وہ سنبھل گئے، [سنن ترمذي:1192، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏ اور تیسری طلاق کے بعد اس خاوند کو لوٹا لینے کا کوئی حق حاصل نہ رہا اور فرما دیا گیا کہ دو طلاقوں تک تو تمہیں اختیار ہے کہ اصلاح کی نیت سے اپنی بیوی کو لوٹا لو اگر وہ عدت کے اندر ہے اور یہ بھی اختیار ہے کہ نہ لوٹاؤ اور عدت گزر جانے دو تاکہ وہ دوسرے سے نکاح کرنے کے قابل ہو جائے اور اگر تیسری طلاق دینا چاہتے ہو تو بھی احسان و سلوک کے ساتھ ورنہ اس کا کوئی حق نہ مارو، اس پر کوئی ظلم نہ کرو، اسے ضرر و نقصان نہ پہنچاؤ، [تفسیر ابن جریر الطبری:543/4] ‏

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ دو طلاقیں تو اس آیت میں بیان ہو چکی ہیں تیسری کا ذِکر کہاں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آیت «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» [ البقرہ: 229 ] ‏ میں، جب تیسری طلاق کا ارادہ کرے تو عورت کو تنگ کرنا اس پر سختی کرنا تاکہ وہ اپنا حق چھوڑ کر طلاق پر آمادگی ظاہر کرے، یہ مردوں پر حرام ہے۔ جیسے اور جگہ ہے آیت «وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ» الخ [4-النساء:19] ‏، یعنی عورتوں کو تنگ نہ کرو تاکہ انہیں دئیے ہوئے میں سے کچھ لے لو، ہاں یہ اور بات ہے کہ عورت اپنی خوشی سے کچھ دے کر طلاق طلب کرے جیسے فرمایا آیت «فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِيْــــــًٔـا مَّرِيْـــــــًٔـا» [ 4۔ النسآء: 4 ] ‏ یعنی اگر عورتیں اپنی راضی خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو بیشک وہ تمہارے لیے حلال طیب ہے اور جب میاں بیوی میں نااتفاقی بڑھ جائے عورت اس سے خوش نہ ہو اور اس کے حق کو نہ بجا لاتی ہو ایسی صورت میں وہ کچھ لے دے کر اپنے خاوند سے طلاق حاصل کر لے تو اسے دینے میں اور اسے لینے میں کوئی گناہ نہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ اگر عورت بلاوجہ اپنے خاوند سے خلع طلب کرتی ہے تو وہ سخت گنہگار ہے چنانچہ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے کہ جو عورت اپنے خاوند سے بےسبب طلاق طلب کرے اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے، [سنن ترمذي:1187، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور روایت میں ہے کہ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی دوری سے آتی ہے، اور روایت میں ہے کہ ایسی عورتیں منافق ہیں، [سنن ترمذي:1186، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ آئمہ سلف و خلف کی ایک بڑی جماعت کا فرمان ہے کہ خلع صرف اسی صورت میں ہے کہ نافرمانی اور سرکشی عورت کی طرف سے ہو، اس وقت مرد فدیہ لے کر اس عورت کو الگ کر سکتا ہے جیسے قرآن پاک کی اس آیت میں ہے اس کے سوا کی صورت میں یہ سب جائز نہیں، بلکہ امام مالک رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو تکلیف پہنچا کر اس کے حق میں کمی کر کے اگر اسے مجبور کیا گیا اور اس سے کچھ مال واپس لیا گیا تو اس کا لوٹا دینا واجب ہے،

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب حالت اختلاف میں جائز ہے تو حالت اتفاق میں بطور اولیٰ جائز ٹھہرے گا، بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سرے سے خلع منسوخ ہے کیونکہ قرآن میں ہے آیت «وَّاٰتَيْتُمْ اِحْدٰىھُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَـيْـــًٔـا» [ 4۔ النسآء: 20 ] ‏ یعنی اگر تم نے اپنی بیویوں کو ایک خزانہ بھی دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ بھی نہ لو، لیکن یہ قول ضعیف ہے اور مردود ہے۔

صفحہ نمبر814

اب آیت کا شان نزول سنیے! موطا امام مالک میں ہے کہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سیدنا ثابت بن قیس شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کی نماز کیلئے اندھیرے اندھیرے نکلے تو دیکھا کہ دروازے پر حبیبہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کون ہے؟ کہا میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔ فرمایا کیا بات ہے؟ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے گھر میں نہیں رہ سکتی یا وہ نہیں یا میں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش رہے۔ جب ثابت رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہاری بیوی صاحبہ کچھ کہہ رہی ہیں۔ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے خاوند مجھے جو دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے اور میں اسے واپس کرنے پر آمادہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو فرمایا سب لے لو، چنانچہ انہوں نے لے لیا اور حبیبہ رضی اللہ عنہا [سنن ابوداود:2227، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ آزاد ہو گئیں۔

صفحہ نمبر815

ایک روایت میں ہے کہ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں مارا تھا اور اس مار سے کوئی ہڈی ٹوٹ گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں یہ فرمایا اس وقت انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں یہ مال لے سکتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، کہا میں نے اسے دو باغ دئیے ہیں، یہ سب واپس دلوا دیجئیے۔ وہ مہر کے دونوں باغ واپس کئے گئے اور جدائی ہو گئی۔ [سنن ابوداود:2228، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک اور روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں اس کے اخلاق اور دین میں عیب گیری نہیں کرتی لیکن میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں چنانچہ مال لے کر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہما نے طلاق دے دی۔ [صحیح بخاری:5272] ‏ بعض روایات میں ان کا نام جمیلہ بھی آیا ہے۔ [صحیح بخاری:5277] ‏ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ مجھے اب غیظ و غضب کے برداشت کی طاقت نہیں رہی۔ [سنن ابن ماجه:2056، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو دِیا ہے لے لو، زیادہ نہ لینا۔ [سنن ابن ماجه:2056، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ایک روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا وہ صورت کے اعتبار سے بھی کچھ حسین نہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:4814:صحیح] ‏

ایک روایت میں ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن ابی رضی اللہ عنہما کی بہن تھیں اور سب سے پہلا خلع تھا جو اسلام میں ہوا۔ ایک وجہ یہ بھی بیان کی تھی کہ یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک مرتبہ خیمے کے پردہ کو جو اٹھایا تو دیکھا کہ میرے خاوند چند آدمیوں کے ساتھ آ رہے ہیں، ان تمام میں یہ سیاہ فام چھوٹے قد والے اور بدصورت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر کہ اس کا باغ واپس کرو، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں تو میں کچھ اور بھی دینے کو تیار ہوں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4811:حسن] ‏ اور روایت میں ہے کہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! اگر اللہ تعالٰی کا خوف نہ ہوتا تو میں اس کے منہ پر تھوک دیا کرتی، [سنن ابن ماجه:2057، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

جمہور کا مذہب تو یہ ہے کہ خلع عورت اپنے سے دئیے ہوئے سے زیادہ لے تو بھی جائز ہے کیونکہ قرآن نے آیت «فَلَاجُنَاحَ عَلَيْھِمَا فِـيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ» [ 2۔ البقرہ: 229 ] ‏ میں فرمایا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک عورت اپنے خاوند سے بگڑی ہوئی آئی، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اسے گندگی والے گھر میں قید کر دو پھر قید خانہ سے اسے بلوایا اور کہا کیا حال ہے؟ اس نے کہا آرام کی راتیں مجھ پر میری زندگی میں یہی گزری ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہما نے اس کے خاوند سے فرمایا اس سے خلع کر لے۔ اگرچہ گوشوارہ کے بدلے ہی ہو، ایک روایت میں ہے اسے تین دن وہاں قید رکھا تھا۔

صفحہ نمبر816

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگر یہ اپنی چٹیا کی دھجی بھی دے تو لے لے اور اسے الگ کر دے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کے سوا سب کچھ لے کر بھی خلع ہو سکتا ہے۔ ربیع بنت معوذ بن عفراء فرماتی ہیں میرے خاوند اگر موجود ہوتے تو بھی میرے ساتھ سلوک کرنے میں کمی کرتے اور کہیں چلے جاتے تو بالکل ہی محروم کر دیتے۔ ایک مرتبہ جھگڑے کے موقع پر میں نے کہہ دیا کہ میری ملکیت میں جو کچھ ہے لے لو اور مجھے خلع دو۔ اس نے کہا اور یہ معاملہ فیصل ہو گیا لیکن میرے چچا سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما اس قصہ کو لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی اسے برقرار رکھا اور فرمایا کہ چوٹی کی دھجی چھوڑ کر سب کچھ لے لو، بعض روایتوں میں ہے یہ بھی اور اس سے چھوٹی چیز بھی غرض سب کچھ لے لو، پس مطلب ان واقعات کا یہ ہے کہ یہ دلیل ہے اس پر کہ عورت کے پاس جو کچھ ہے دے کر وہ خلع کرا سکتی ہے اور خاوند اپنی دی ہوئی چیز سے زائد لے کر بھی خلع کر سکتا ہے۔

سیدنا ابن عمر، ابن عباس، رضی اللہ عنہما مجاہد، عکرمہ، ابراہیم، نخعی، قیصہ بن ذویب، حسن بن صالح عثمان رحم اللہ اجمعین بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام مالک، لیث، امام شافعی اور ابوثور رحمہ اللہ علیہم کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں اور اصحاب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اگر قصور اور ضرر رسانی عورت کی طرف سے ہو تو خاوند کو جائز ہے کہ جو اس نے دیا ہے واپس لے لے، لیکن اس سے زیادہ لینا جائز نہیں۔ گو زیادہ لے لے تو بھی قضاء کے وقت جائز ہو گا اور اگر خاوند کی اپنی جانب سے زیادتی ہو تو اسے کچھ بھی لینا جائز نہیں۔ گو، لے لے تو قضاء جائز ہو گا۔ امام احمد ابوعبید اور اسحٰق بن راھویہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں کہ خاوند کو اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا جائز ہی نہیں۔ سعید بن مسیب عطاء عمرو بن شعیب زہری طاؤس حسن شعبی حماد بن ابو سلیمان اور ربیع بن انس رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے۔ معمر اور حاکم کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا بھی یہ فیصلہ ہے۔ اوزاعی کا فرمان ہے کہ قاضیوں کا فیصلہ ہے کہ دئیے ہوئے سے زیادہ کو جائز نہیں جانتے۔ اس مذہب کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے جس میں ہے کہ اپنا باغ لے لو اور اس سے زیادہ نہ لو۔ مسند عبد بن حمید میں بھی ایک مرفوع حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلع لینے والی عورت سے اپنے دئیے ہوئے سے زیادہ لینا مکروہ رکھا، [دار قطنی:255/3:مرسل و ضعیف] ‏

اور اس صورت میں جو کچھ فدیہ وہ دے لے گا، کا لفظ قرآن میں ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ دئیے ہوئے میں سے جو کچھ دے، کیونکہ اس سے پہلے یہ فرمان موجود ہے کہ تم نے جو انہیں دیا ہے اس میں سے کچھ نہ لو، ربیع کی قرأت میں «بِہِ» کے بعد «مِنْہُ» کا لفظ بھی ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ حدود اللہ ہیں ان سے تجاوز نہ کرو ورنہ گنہگار ہوں گے۔

صفحہ نمبر817

[ فصل ] ‏ خلع کو بعض حضرات طلاق میں شمار نہیں کرتے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں ہیں پھر اس عورت نے خلع کرا لیا ہے تو اگر خاوند چاہے تو اس سے پھر بھی نکاح کر سکتا ہے اور اس پر دلیل یہی آیت وارد کرتے ہیں۔ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہے، حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ طلاق نہیں، دیکھو آیت کے اول و آخر طلاق کا ذِکر ہے پہلے دو طلاقوں کا پھر آخر میں تیسری طلاق کا اور درمیان میں جو خلع کا ذِکر ہے۔

صفحہ نمبر818

پس معلوم ہوا کہ خلع طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما طاؤس عکرمہ، احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، ابوثور، داؤد بن علی ظاہری رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی قدیم قول یہی ہے اور آیت کے ظاہری الفاظ بھی یہی ہیں۔ بعض دیگر بزرگ فرماتے ہیں کہ خلع طلاق بائن ہے اور اگر ایک سے زیادہ کی نیت ہو گی تو وہ بھی معتبر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام بکر اسلمیہ نے اپنے خاوند عبداللہ بن خالد سے خلع لیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے ایک طلاق ہونے کا فتویٰ دیا اور ساتھ ہی فرما دیا کہ اگر کچھ سامان لیا ہو تو جتنا سامان لیا ہو وہ ہے، لیکن یہ اثر ضعیف ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر819

سیدنا عمر، سیدنا علی، ابن مسعود، ابن عمر رضی اللہ عنہم، سعید بن مسیب، حسن، عطا، شریح، شعبی، ابراہیم، جابر بن زید، مالک، ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہم اور ان کے ساتھی ثوری، اوزاعی، ابوعثمان بتی رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے کہ خلع طلاق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی جدید قول یہی ہے، ہاں حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر دو طلاق کی نیت خلع دینے والے کی ہے تو دو ہو جائیں گی۔ اگر کچھ کچھ لفظ نہ کہے اور مطلق خلع ہو تو ایک طلاق بائن ہو گی اگر تین کی نیت ہے تو تین ہو جائیں گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک اور قول بھی ہے کہ اگر طلاق کا لفظ نہیں اور کوئی دلیل و شہادت بھی نہیں تو وہ بالکل کوئی چیز نہیں۔

صفحہ نمبر820

مسئلہ ٭٭

امام ابوحنیفہ، شافعی احمد، اسحٰق بن راہویہ رحمہم اللہ کا مسلک ہے کہ خلع کی عدت طلاق کی عدت ہے۔ سیدنا عمر علی ابن مسعود رضی اللہ عنہم اور سعید بن مسیب، سلمان بن یسار، عروہ، سالم، ابوسلمہ، عمر بن عبدالعزیز، ابن شہاب، حسن، شعبی، ابراہیم نخعی، ابوعیاض، خلاس بن عمرو، قتادہ، سفیان ثوری، اوزاعی، لیث بن سعد اور ابوعبید رحمتہ اللہ علیہم اجمعین کا بھی یہی فرمان ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اکثر اہل علم اسی طرف گئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ چونکہ خلع طلاق ہے لہٰذا عدت اس کی عدت طلاق کے مثل ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک حیض اس کی عدت ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کا یہی فیصلہ ہے، سیدنا ابن عمر گو تین حیض کا فتویٰ دیتے تھے لیکن ساتھ ہی فرما دیا کرتے تھے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما ہم سے بہتر ہیں اور ہم سے بڑے عالم ہیں، اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک حیض کی مدت بھی مروی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ، عکرمہ، امان بن عثمان رحمہ اللہ اور تمام وہ لوگ جن کے نام اوپر آئے ہیں جو خلع کو فسخ کہتے ہیں ضروری ہے کہ ان سب کا قول بھی یہی ہو، ابوداؤد اور ترمذی کی حدیث میں بھی یہی ہے کہ سیدنا ثابت بن قیس کی بیوی صاحبہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، [سنن ابوداود:2229، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ ترمذی میں ہے کہ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کو بھی خلع کے بعد ایک ہی حیض عدت گزارنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان صادر ہوا تھا۔ [سنن ترمذي:1185، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے خلع والی عورت سے فرمایا تھا کہ تجھ پر عدت ہی نہیں۔ ہاں اگر قریب کے زمانہ میں ہی خاوند سے ملی ہو تو ایک حیض آ جانے تک اس کے پاس ٹھہری رہو۔ مریم مغالبہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جو فیصلہ تھا اس کی متابعت امیر المؤمنین نے کی۔ [سنن نسائی:3528، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏

صفحہ نمبر821

مسئلہ ٭٭

جمہور علمائے کرام اور چاروں اماموں کے نزدیک خلع والی عورت سے رجوع کرنے کا حق خاوند کو حاصل نہیں، اس لیے کہ اس نے مال دے کر اپنے تئیں آزاد کرا لیا ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی، ماہان حنفی، سعید اور زہری رحمہ اللہ علیہم کا قول ہے کہ اگر واپس کیا پھیر دے تو حق رجعت حاصل ہے بغیر عورت کی رضا مندی کے بھی رجوع کر سکتا ہے۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر خلع میں طلاق کا لفظ نہیں تو وہ صرف جدائی ہے اور رجوع کرنے کا حق نہیں اور اگر طلاق کا نام لیا ہے تو بیشک وہ رجعت کا پورا پورا حقدار ہے، داؤد ظاہری رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں، ہاں سب کا اتفاق ہے کہ اگر دونوں رضامند ہوں تو نیا نکاح عدت کے اندر اندر کر سکتے ہیں۔ ابو عمر بن عبدالبر فرقہ سے یہ قول بھی روایت کرتے ہیں کہ اگر دونوں رضا مند ہوں تو نیا نکاح عدت کے ابدر اندر کر سکتے ہیں، ابعمر بن عبدالبر فرقہ سے یہ قول بھی روایت کرتے ہیں کہ عدت کے اندر جس طرح دوسرا کوئی اس سے نکاح نہیں کر سکتا، اسی طرح خلع دینے والا خاوند بھی نکاح نہیں کر سکتا، لیکن یہ قول شاذ اور مردود ہے۔

صفحہ نمبر822

مسئلہ ٭٭

اس عورت پر عدت کے اندر اندر دوسری طلاق بھی واقع ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس میں علماء کے تین قول ہیں۔ ایک یہ کہ نہیں، کیونکہ وہ عورت اپنے نفس کی مالکہ ہے اور اس خاوند سے الگ ہو گئی ہے، سیدنا ابن عباس ابن زبیر رضی اللہ عنہما عکرمہ جابر بن زید حسن بصری شافعی احمد اسحاق ابوثور رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ دوسرا قول امام مالک رحمہ اللہ کا ہے کہ اگر خلع کے ساتھ ہی بغیر خاموش رہے طلاق دیدے تو واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں، یہ مثل اس کے ہے جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ عدت میں طلاق واقع ہو جائے گی۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے اصحاب، ثوری، اوزاعی، سعید بن مسیب، شریح، طاؤس، ابراہیم، زہری، حاکم، حکم اور حماد رحمہ اللہ علیہم کا بھی یہی قول ہے۔ سیدنا ابن مسعود اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے بھی یہ مروی تو ہے لیکن ثابت نہیں۔ پھر فرمایا ہے کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ کی حدوں سے آگے نہ بڑھو، فرائض کو ضائع نہ کرو، محارم کی بے حرمتی نہ کرو، جن چیزوں کا ذِکر شریعت میں نہیں تم بھی ان سے خاموش رہو کیونکہ اللہ کی ذات بھول چوک سے پاک ہے۔ [حاکم:115/4:ضعیف و منقطع] ‏

اس آیت سے استدلال ہے ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کہ تینوں طلاقیں ایک مرتبہ ہی دینا حرام ہیں۔ مالکیہ اور ان کے موافقین کا یہی مذہب ہے، ان کے نزدیک سنت طریقہ یہی ہے کہ طلاق ایک ایک دی جائے کیونکہ آیت «الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ» [ البقرہ: 229 ] ‏ کہا پھر فرمایا کہ یہ حدیں ہیں اللہ کی، ان سے تجاوز نہ کرو، اس کی تقویت اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو سنن نسائی میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ یہ معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں ایک ساتھ دی ہیں۔ آپ سخت غضبناک ہو کر کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے کیا میری موجودگی میں کتاب اللہ کے ساتھ کھیلا جانے لگا۔ یہاں تک کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں اس شخص کو قتل کروں، لیکن اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ [سنن نسائی:3430، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر823

باب

پھر ارشاد ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے چکنے کے بعد تیسری بھی دیدے تو وہ اس پر حرام ہو جائے گی یہاں تک کہ دوسرے سے باقاعدہ نکاح ہو، ہم بستری ہو، پھر وہ مر جائے یا طلاق دیدے۔ پس اگر نکاح کے مثلاً لونڈی بنا کر وطی بھی کر لے تو بھی اگلے خاوند کیلئے حلال نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح گو نکاح باقاعدہ ہو لیکن اس دوسرے خاوند نے مجامعت نہ کی ہو تو بھی پہلے شوہر کیلئے حلال نہیں۔ اکثر فقہاء میں مشہور ہے کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ مجرم [ صرف ] ‏ عقد کو حلال کہتے ہیں گو میل نہ ہوا ہو، لیکن یہ بات ان سے ثابت نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور دخول سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے، وہ دوسرا نکاح کرتی ہے وہ بھی دخول سے پہلے ہی طلاق دے دیتا ہے، تو کیا اگلے خاوند کو اب اس سے نکاح کرنا حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں، جب تک کہ یہ اس سے اور وہ اس سے لطف اندوز نہ ہو لیں۔ [سنن نسائی:3443، قال الشيخ الألباني:صحیح لغیرہ] ‏ اس روایت کے راوی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خود امام بن مسیب رحمہ اللہ ہیں، پس کیسے ممکن ہے کہ وہ روایت بھی کریں اور پھر مخالفت بھی کریں اور پھر وہ بھی بلادلیل۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ عورت رخصت ہو کر جاتی ہے، ایک مکان میں میاں بیوی جاتے ہیں، پردہ ڈال دیا جاتا ہے لیکن آپس میں صحبت نہیں ہوتی، جب بھی یہی حکم ہے۔ خود آپ کے زمانہ میں ایسا واقعہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے خاوند کی اجازت نہ دی۔ [مسند احمد:25/2] ‏ ایک روایت میں ہے کہ رفاعہ قرظی کی بیوی صاحبہ تمیمہ بنت وہب کو جب انہوں نے آخری تیسری طلاق دے دی تو ان کا نکاح عبدالرحمٰن بن زیبر رضی اللہ عنہ سے ہوا لیکن یہ شکایت لے کر دربارِ رسالت مآب میں آئیں اور کہا وہ عورت کے مطلب کے نہیں، مجھے اجازت ہو کہ میں اگلے خاوند کے گھر چلی جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تمہاری کسی اور خاوند سے مجامعت نہ ہو، [مسند احمد:284/3:صحیح] ‏ ان احادیث کی بہت سی سندیں ہیں اور مختلف الفاظ سے مروی ہیں۔

صفحہ نمبر824

[ فصل ] ‏ یہ یاد رہے کہ مقصود دوسرے خاوند سے یہ ہے کہ خود اسے رغبت ہو اور ہمیشہ بیوی بنا کر رکھنے کا خواہشمند ہو، کیونکہ نکاح سے مقصود یہی ہے، یہ نہیں کہ اگلے خاوند کیلئے محض حلال ہو جائے اور بس، بلکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ بھی شرط ہے کہ یہ مجامعت بھی مباح اور جائز طریق پر ہو مثلاً عورت روزے سے نہ ہو، احرام کی حالت میں نہ ہو، اعتکاف کی حالت میں نہ ہو، حیض یا نفاس کی حالت میں نہ ہو، اسی طرح خاوند بھی روزے سے نہ ہو، محرم یا معتکف نہ ہو، اگر طرفین میں سے کسی کی یہ حالت ہو اور پھر چاہے وطی بھی ہو جائے پھر بھی پہلے شوہر پر حلال نہ ہو گی۔ اسی طرح اگر دوسرا خاوند ذمی ہو تو بھی اگلے خاوند کیلئے حلال نہ ہو گی کیونکہ امام صاحب کے نزدیک کفار کے آپس کے نکاح باطل ہیں۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ تو یہ بھی شرط لگاتے ہیں کہ انزال بھی ہو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ جب تک کہ وہ تیرا اور تو اس کا مزہ نہ چکھے، اور اگر یہی حدیث ان کے پیشِ نظر ہو جائے تو چاہیئے کہ عورت کی طرف سے یہ بھی یہ شرط معتبر ہو لیکن حدیث کے لفظ «عسیلہ» سے منی مراد نہیں، یہ یاد رہے، کیونکہ مسند احمد اور نسائی میں حدیث ہے کہ «عسیلہ» سے مراد جماع ہے۔ [مسند احمد:62/6:موقوف] ‏

اگر دوسرے خاوند کا ارادہ اس کے ساتھ نکاح سے یہ ہے کہ یہ عورت پہلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے تو ایسے لوگوں کی مذمت بلکہ ملعون ہونے کی تصریح احادیث میں آ چکی ہے، مسند احمد میں ہے گودنے والی، گدوانے والی، بال ملانے والی، ملوانے والی عورتیں ملعون، حلال کرنے والی اور جس کیلئے حلالہ کیا جاتا ہے ان پر بھی اللہ کی پھٹکار ہے۔ سود خور اور سود کھلانے والے بھی لعنتی ہیں۔ [سنن ترمذي:1120، قال الشيخ الألباني:صحیح بالشواھد] ‏ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کا عمل اسی پر ہے۔ سیدنا عمر، عثمان اور ابن عمر رضی اللہ عنہم کا یہی مذہب تابعین فقہاء بھی یہی کہتے ہیں، سیدنا علی ابن مسعود اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فرمان ہے اور روایت میں ہے کہ بیاج کی گواہی دینے والوں اور اس کے لکھنے پر بھی لعنت ہے۔ زکوٰۃ کے نہ دینے والوں اور لینے میں زیادتی کرنے والوں پر بھی لعنت ہے، ہجرت کے بعد لوٹ کر اعرابی بننے والے پر بھی پھٹکار ہے نوحہ کرنا بھی ممنوع ہے، [مسند احمد:409/1:صحیح بالشواھد] ‏ ایک حدیث میں ہے میں تمہیں یہ بتاؤں کہ ادھار لیا ہوا سانڈ کون سا ہے؟ لوگوں نے کہا ہاں۔ فرمایا جو“ حلالہ کرے“ یعنی طلاق والی عورت سے اس لیے نکاح کرے کہ وہ اگلے خاوند کیلئے حلال ہو جائے، اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو اپنے لیے ایسا کرائے وہ بھی ملعون ہے۔ [سنن ابن ماجه:1936، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏

صفحہ نمبر825

ایک روایت میں ہے کہ ایسے نکاح کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نکاح ہی نہیں جس میں مقصود اور ہو اور ظاہر اور ہو، جس میں اللہ کی کتاب کے ساتھ مذاق اور ہنسی ہو، نکاح صرف وہی ہے جو رغبت کے ساتھ ہو، [میزان الاعتدال:19/1:ضعیف] ‏ مستدرک حاکم میں ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تیسری طلاق دے دی، اس کے بعد اس کے بھائی نے بغیر اپنے بھائی کے کہے از خود اس سے اس ارادے سے نکاح کر لیا کہ یہ میرے بھائی کیلئے حلال ہو جائے، تو آیا یہ نکاح صحیح ہو گیا؟ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہرگز نہیں، ہم تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زنا شمار کرتے تھے۔ نکاح وہی ہے جس میں رغبت ہو، [حاکم:192/2:صحیح] ‏

اس حدیث کے پچھلے جملے نے گو اِسے موقوف سے حکم میں مرفوع کر دیا، بلکہ ایک اور روایت میں ہے کہ امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہما نے فرمایا اگرت کوئی ایسا کرے گا یا کرائے گا تو میں دونوں کو زنا کی حد لگاؤں گا یعنی رجم کروں گا، [تفسیر ابن جریر الطبری:598/4] ‏ خلیفہ وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسے نکاح میں تفریق کر دی، اسی طرح سیدنا علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ بہت سے صحابہ کرام سے بھی یہی مروی ہے۔ پھر فرمان ہے کہ اگر دوسرا خاوند نکاح اور وطی کے بعد طلاق دے تو پہلے خاوند پر پھر اسی عورت سے نکاح کر لینے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ یہ اچھی طرح گزر اوقات کر لیں اور یہ بھی جان لیں کہ وہ دوسرا نکاح صرف دھوکہ اور مکر و فریب کا نہ تھا بلکہ حقیقت تھی۔ یہ ہیں احکام شرعی جنہیں علم والوں کیلئے اللہ نے واضح کر دیا، آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو یا ایک طلاق دے دی، پھر چھوڑے رہا یہاں تک کہ وہ عدت سے نکل گئی، پھر اس نے دوسرے سے گھر بسا لیا، اس سے ہمبستری بھی ہوئی، پھر اس نے بھی طلاق دے دی اور اس کی عدت ختم ہو چکی، پھر اگلے خاوند نے اس سے نکاح کر لی تو اسے تین میں سے جو طلاقیں یعنی ایک یا دو جو باقی ہیں صرف انہی کا اختیار رہے گا یا پہلے کی طرح طلاقیں گنتی سے ساقط ہو جائیں گی اور اسے از سر نو تینوں طلاقوں کا حق حاصل ہو جائے گا، پہلا مذہب تو ہے امام مالک امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم کا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کا، دوسرا مذہب ہے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے ساتھیوں کا اور ان کی دلیل یہ ہے کہ جب اس طرح تیسری طلاق ہو، گنتی میں نہیں آئی تو پہلی دوسری کیا آئے گی، «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر826

آئین طلاق کی وضاحت ٭٭

مردوں کو حکم ہو رہا ہے کہ جب وہ اپنی بیویوں کو طلاق دیں جن حالتوں میں لوٹا لینے کا حق انہیں حاصل ہے اور عدت ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے یا عمدگی کے ساتھ لوٹائے یعنی رجعت پر گواہ مقرر کرے اور اچھائی سے بسانے کی نیت رکھے یا اسے عمدگی سے چھوڑ دے اور عدت ختم ہونے کے بعد اپنے ہاں بغیر اختلاف جھگڑے دشمنی اور بد زبانی کے نکال دے، جاہلیت کے اس دستور کو اسلام نے ختم کر دیا کہ طلاق دے دی، عدت ختم ہونے کے قریب رجوع کر لیا، پھر طلاق دے دی پھر رجوع کر لیا، یونہی اس دُکھیا عورت کی عمر برباد کر دیتے تھے کہ نہ وہ سہاگن ہی رہے نہ بیوہ، تو اس سے اللہ نے روکا اور فرمایا کہ ایسا کرنے والا ظالم ہے۔ پھر فرمایا اللہ کی آیتوں کو ہنسی نہ بناؤ۔

ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اشعری قبیلہ پر ناراض ہوئے تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حاضرِ خدمت ہو کر [ ان اصلاحات طلاق کے بارے میں ] ‏ سبب دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ یہ لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے طلاق دی، میں نے رجوع کیا۔ یاد رکھو مسلمانوں کی یہ طلاقیں نہیں۔ عورتوں کی عدت کے مطابق طلاقیں دو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4928:ضعیف] ‏ اس حکم کا یہ بھی مطلب لیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو بلاوجہ طلاق دیتا ہے اور عورت کو ضرر پہنچانے کیلئے اور اس کی عدت لمبی کرنے کیلئے رجوع ہی کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جو طلاق دے یا آزاد کرے یا نکاح کرے پھر کہہ دے کہ میں نے تو ہنسی ہنسی میں یہ کیا۔ ایسی صورتوں میں یہ تینوں کام فی الحقیقت واضح ہو جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ طلاق ہو گئی۔ [دارالمنثور:509/1] ‏ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ طلاق دے دیتے، آزاد کر دیتے، نکاح کر لیتے اور پھر کہہ دیتے کہ ہم نے بطور دِل لگی کے یہ کیا تھا، اس پر یہ آیت اتری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو طلاق یا غلام آزاد کرے یا نکاح کرا دے خواہ پختگی کے ساتھ خواہ ہنسی مذاق میں وہ سب ہو گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:4926] ‏ یہ حدیث مرسل اور موقوف کئی سندوں سے مروی ہے۔ ابوداؤد ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ تین چیزیں ہیں کہ پکے ارادے سے ہوں، دِل لگی سے ہوں تو تینوں پر اطلاق ہو جائے گا۔ نکاح، طلاق اور رجعت [سنن ابوداود:3434، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏۔

امام ترمذی اسے حسن غریب کہتے ہیں۔ اللہ کی نعمت یاد کرو کہ اس نے رسول بھیجے ہدایت اور دلیلیں نازل فرمائیں، کتاب اور سنت سکھائی حکم بھی کئے، منع بھی کئے وغیرہ وغیرہ۔ جو کام کرو اور جو کام نہ کرو ہر ایک میں اللہ جل شانہ سے ڈرتے رہا کرو اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ہر ظاہر کو بخوبی جانتا ہے۔

صفحہ نمبر827

ورثاء کے لئے طلاق کی مزید آئینی وضاحت ٭٭

اس آیت میں عورتوں کے ولی وارثوں کو ممانعت ہو رہی ہے کہ جب کسی عورت کو طلاق ہو جائے اور عدت بھی گزر جائے پھر میاں بیوی اپنی رضا مندی سے نکاح کرنا چاہیں تو وہ انہیں نہ روکیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:22/5] ‏ اس آیت میں اس امر کی بھی دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی اور نکاح بغیر ولی کے نہیں ہو سکتا چنانچہ ترمذی اور ابن جریر نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث وارد کی ہے کہ عورت عورت کا نکاح نہیں کر سکتی نہ عورت اپنا نکاح آپ کر سکتی ہے۔ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح آپ کر لیں۔ [سنن ابن ماجه:1882، قال الشيخ الألباني:صحیح بدون الجملة] ‏ دوسری حدیث میں ہے نکاح بغیر راہ یافتہ کے اور دو عادل گواہوں کے نہیں، [دار قطنی:225/3] ‏ گو اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے لیکن اس کے بیان کی جگہ تفسیر نہیں۔ ہم اس کا بیان کتاب الاحکام میں کر چکے ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ یہ آیت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ اور ان کی ہمشیرہ صاحبہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری بہن کا منگیتر میرے پاس آتا تھا۔ میں نے نکاح کر دیا۔ اس نے کچھ دِنوں بعد طلاق دے دی۔ پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کی درخواست کی، میں نے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [صحیح بخاری:4529] ‏ جسے سن کر سیدنا معقل رضی اللہ عنہ نے باوجود یہ کہ قسم کھا رکھی تھی کہ میں تیرے نکاح میں نہ دوں گا، نکاح پر آمادہ ہو گئے اور کہنے لگے میں نے اللہ کا فرمان سنا اور میں نے مان لیا اور اپنے بہنوئی کو بلا کر دوبارہ نکاح کر دیا۔ [سنن ابوداود:2087، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ ان کا نام جمیل بنت یسار رضی اللہ عنہا تھا۔ ان کے خاوند کا نام ابوالبداح رضی اللہ عنہ تھا۔ بعض نے ان کا نام فاطمہ بن یسار رضی اللہ عنہا بتایا ہے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے چچا کی بیٹی کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن پہلی بات ہی زیادہ صحیح ہے۔

پھر یہ فرمایا یہ نصیحت و وعظ کیلئے ہے جنہیں شریعت پر ایمان ہو، اللہ کا ڈر ہو، قیامت کا خوف ہو، انہیں چاہیئے کہ اپنی ولایت میں جو عورتیں ہوں انہیں ایسی حالت میں نکاح سے نہ روکیں، شریعت کی اتباع کر کے ایسی عورتوں کو ان کے خاوندوں کے نکاح میں دے دینا اور اپنی حمیت و غیرت کو جو خلاف شرع ہو، شریعت کے ماتحت کر دینا ہی تمہارے لیے بہتری اور پاکیزگی کا باعث ہے۔ ان مصلحتوں کا علم جناب باری تعالیٰ کو ہی ہے، تمہیں معلوم نہیں کہ کس کام کے کرنے میں بھلائی ہے اور کس کے چھوڑنے میں۔ یہ علم حقیقت میں اللہ رب العزت ہی کو ہے۔

صفحہ نمبر828

مسئلہ رضاعت ٭٭

یہاں اللہ تعالیٰ بچوں والیوں کو اشاد فرماتا ہے کہ پوری پوری مدت دودھ پلانے کی دو سال ہے۔ اس کے بعد دودھ پلانے کا کوئی اعتبار نہیں۔ اس سے دودھ بھائی پینا ثابت نہیں ہوتا اور نہ حرمت ہوتی ہے۔ اکثر ائمہ کرام کا یہی مذہب ہے۔ ترمذی میں باب ہے کہ رضاعت جو حرمت ثابت کرتی ہے وہ وہی ہے جو دو سال پہلے کی ہو۔ پھر حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہی رضاعت حرام کرتی ہے جو آنتوں کو پر کر دے اور دودھ چھوٹھنے سے پہلے ہو۔ [سنن ترمذي:1152، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم صحابہ وغیرہ کا اسی پر عمل ہے کہ دو سال سے پہلے کی رضاعت تو معتبر ہے، اس کے بعد کی نہیں۔ اس حدیث کے راوی شرط بخاری و مسلم پر ہیں۔ حدیث میں فی الثدی کا جو لفظ ہے اس کے معنی بھی محل رضاعت کے یعنی دو سال سے پہلے کے ہیں، یہی لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی فرمایا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تھا کہ وہ دودھ پلائی کی مدت میں انتقال کر گئے ہیں اور انہیں دودھ پلانے والی جنت میں مقرر ہے۔ [صحیح بخاری:1382] ‏

ابراہیم رضی اللہ عنہ کی عمر اس وقت ایک سال اور دس مہینے کی تھی۔ دارقطنی میں بھی ایک حدیث دو سال کی مدت کے بعد کی رضاعت کے متعبر نہ ہونے کی ہے۔ [دار قطنی:174/4:موقوف] ‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی فرماتے ہیں کہ اس کے بعد کوئی چیز نہیں۔ ابوداؤد طیالسی کی روایت میں ہے کہ دودھ چھوٹ جانے کے بعد رضاعت نہیں اور بلوغت کے بعد یتیمی کا حکم نہیں۔ [طیالسی:1767] ‏ خود قرآن کریم میں اور جگہ ہے آیت «وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِأَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» [ 31-لقمان: 14 ] ‏، دودھ چھٹنے کی مدت دو سال میں ہے۔ اور جگہ ہے آیت «وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا» [ 46-الأحقاف: 15 ] ‏ یعنی حمل اور دودھ [ دونوں کی مدت ] ‏ تیس ماہ ہیں۔ یہ قول کہ دو سال کے بعد دودھ پلانے اور پینے سے رضاعت کی حرمت ثابت نہیں ہوتی، ان تمام حضرات کا ہے۔ سیدنا علی، ابن عباس، ابن مسعود، جابر، ابوہریرہ، ابن عمر، اُم سلمہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، حضرت سعید بن المسیب، عطاء رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ امام شافعی، امام احمد، امام اسحٰق، امام ثوری، امام ابویوسف، امام محمد، امام مالک رحمھم اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ گو ایک روایت میں امام مالک رحمہ اللہ سے دو سال دو ماہ بھی مروی ہیں اور ایک روایت میں دو سال تین ماہ بھی مروی ہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ڈھائی سال کی مدت بتلاتے ہیں۔ زفر رحمہ اللہ کہتے ہیں جب تک دودھ نہیں چھٹا تو تین سالوں تک کی مدت ہے، امام اوزاعی رحمہ اللہ سے بھی یہ روایت ہے۔ اگر کسی بچہ کا دو سال سے پہلے دودھ چھڑوا لیا جائے پھر اس کے بعد کسی عورت کا دودھ وہ پئے تو بھی حرمت ثابت نہ ہو گی اس لیے کہ اب قائم مقام خوراک کے ہو گیا۔

امام اوزاعی رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ سیدنا عمر، علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ دودھ چھڑوا لینے کے بعد رضاعت نہیں۔ اس قول کے دونوں مطلب ہو سکتے ہیں یعنی یا تو یہ کہ دو سال کے بعد یا یہ کہ جب بھی اس سے پہلے دودھ چھٹ گیا۔ اس کے بعد جیسے امام مالک رحمہ اللہ کا فرمان ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر829

ہاں صحیح بخاری، صحیح مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ وہ اس کے بعد کی، بلکہ بڑے آدمی کی رضاعت کو حرمت میں مؤثر جانتی ہیں۔ [صحیح مسلم:1453] ‏ عطاء اور لیث رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا جس شخص کا کسی کے گھر زیادہ آنا جانا جانتیں تو وہاں حکم دیتیں کہ وہ عورتیں اسے اپنا دودھ پلائیں اور اس حدیث سے دلیل پکڑتی تھیں کہ سالم رضی اللہ عنہ کو جو ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ وہ ان کی بیوی صاحبہ کا دودھ پی لیں، حالانکہ وہ بڑی عمر کے تھے اور اس رضاعت کی وجہ سے پھر وہ برابر آتے جاتے رہتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواج مطہرات اس کا انکار کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ یہ واقعہ خاص ان ہی کیلئے تھا ہر شخص کیلئے یہ حکم نہیں، [سنن ابوداود:2061، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہی مذہب جمہور کا ہے یعنی چاروں اماموں، ساتوں فقیہوں، کل کے کل بڑے صحابہ کرام او تمام امہات المؤمنین کا سوائے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے اور ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھ لیا کرو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت اس وقت ہے جب دودھ بھوک مٹا سکتا ہو، [صحیح بخاری:5102] ‏ باقی رضاعت کا پورا مسئلہ آیت «وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ» [4-النساء:23] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔

صفحہ نمبر830

پھر فرمان ہے کہ بچوں کی ماں کا نان نفقہ بچوں کے والد پر ہے۔ اپنے اپنے شہروں کی عادت اور دستور کے مطابق ادا کریں، نہ تو زیادہ ہو نہ کم بلکہ حسب طاقت و وسعت درمیانی خرچ دے دیا کرو جیسے فرمایا آیت «لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّـهُ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا سَيَجْعَلُ اللَّـهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْرًا» [ 65-الطلاق: 7 ] ‏ یعنی کشادگی والے اپنی کشادگی کے مطابق اور تنگی والے اپنی طاقت کے مطابق دیں، اللہ تعالیٰ طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، عنقریب اللہ تعالیٰ سختی کے بعد آسانی کر دے گا۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کے ساتھ بچہ بھی ہے تو اس کی دودھ پلائی کے زمانہ تک کا خرچ اس مرد پر واجب ہے۔ پھر ارشاد باری ہے کہ عورت اپنے بچے کو دودھ پلانے سے انکار کر کے اس کے والد کو تنگی میں نہ ڈال دے بلکہ بچے کو دودھ پلاتی رہے اس لیے کہ یہی اس کی گزارن کا سبب ہے۔ دودھ سے جب بچہ بے نیاز ہو جائے تو بیشک بچہ کو دیدے لیکن پھر بھی نقصان رسانی کا ارادہ نہ ہو۔ اسی طرح خاوند اس سے جبراً بچے کو الگ نہ کرے جس سے غریب دُکھ میں پڑے۔ وارث کو بھی یہی چاہیئے کہ بچے کی والدہ کو خرچ سے تنگ نہ کرے، اس کے حقوق کی نگہداشت کرے اور اسے ضرر نہ پہنچائے۔ حنفیہ اور حنبلیہ میں سے جو لوگ اس کے قائل ہیں کہ رشتہ داروں میں سے بعض کا نفقہ بعض پر واجب ہے انہوں نے اسی آیت سے استدلال کیا ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما اور جمہور سلف صالحین سے یہی مروی ہے۔

صفحہ نمبر831

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ والی مرفوع حدیث سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے جس میں ہے کہ جو شخص اپنے کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہو جائے تو وہ آزاد ہو جائے گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ دو سال کے بعد دودھ پلانا عموماً بچہ کو نقصان دیتا ہے، یا تو جسمانی یا دماغی۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو دو سال سے بڑے بچے کو دودھ پلاتے ہوئے دیکھ کر منع فرمایا۔ پھر فرمایا گیا ہے اگر یہ رضا مندی اور مشورہ سے دو سال کے اندر اندر جب کبھی دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کوئی حرج نہیں ہاں ایک کی چاہت دوسرے کی رضا مندی کے بغیر ناکافی ہو گی اور یہ بچے کے بچاؤ کی اور اس کی نگرانی کی ترکیب ہے۔ خیال فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر رحیم و کریم ہے کہ چھوٹے بچوں کے والدین کو ان کاموں سے روک دیا جس میں بچے کی بربادی کا خوف تھا، اور وہ حکم دیا جس سے ایک طرف بچے کا بچاؤ ہے دوسری جانب ماں باپ کی اصلاح ہے۔

سورۃ الطلاق میں فرمایا آیت «فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ وَأْتَمِرُوا بَيْنَكُم بِمَعْرُوفٍ وَإِن تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهُ أُخْرَىٰ» [ 65۔ الطلاق: 6 ] ‏، اگر عورتیں بچے کو دودھ پلایا کریں تو تم ان کی اجرت بھی دیا کرو اور آپس میں عمدگی کے ساتھ معاملہ رکھو۔ یہ اور بات ہے کہ تنگی کے وقت کسی اور سے دودھ پلوا دو، چنانچہ یہاں بھی فرمایا اگر والدہ اور والد متفق ہو کر کسی عذر کی بنا پر کسی اور سے دودھ شروع کرائیں اور پہلے کی اجازت کامل طور پر والد والدہ کو دیدے تو بھی دونوں پر کوئی گناہ نہیں، اب دوسری کسی دایہ سے اُجرت چکا کر دودھ پلوا دیں۔ لوگو اللہ تعالیٰ سے ہر امر میں ڈرتے رہا کرو اور یاد رکھو کہ تمہارے اقوال و افعال کو وہ بخوبی جانتا ہے۔

صفحہ نمبر832

خاوند کے انتقال کے بعد ٭٭

اس آیت میں حکم ہو رہا ہے کہ عورت اپنے خاوند کے انتقال کے بعد چار مہینے دس دن عدت گزاریں خواہ اس سے مجامعت ہو یا نہ ہوئی ہو، اس پر اجماع ہے دلیل اس کی ایک تو اس آیت کا عموم دوسرے یہ حدیث جو مسند احمد اور سنن میں ہے جسے امام ترمذی رحمہ اللہ صحیح کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اس سے مجامعت نہیں کی تھی نہ مہر مقرر ہوا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا، فرمائیے اس کی نسبت کیا فتویٰ ہے جب کئی مرتبہ وہ آئے گئے تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں، اگر ٹھیک ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جانو اور اگر خطاء ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے سمجھو، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔ میرا فتویٰ یہ ہے کہ اس عورت کو پورا مہر ملے گا جو اس کے خاندان کا دستور ہو، اس میں کوئی کمی بیشی نہ ہو اور اس عورت کو پوری عدت گزارنی چاہیئے اور اسے ورثہ بھی ملے گا۔ یہ سن کر معقل بن یسار اشجعی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فیصلہ کیا تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ [سنن ابوداود:2114، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

بعض روایات میں ہے کہ اشجع کے بہت سے لوگوں نے یہ روایت بیان کی، ہاں جو عورت اپنے خاوند کی وفات کے وقت حمل سے ہو اس کیلئے یہ عدت نہیں، اس کی عدت وضع حمل ہے۔ گو، انتقال کی ایک ساعت کے بعد ہی ہو جائے۔ قرآن میں ہے آیت «وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ» [ 65۔ الطلاق: 1 ] ‏ حمل والیوں کی عدت وضع حمل ہے۔ ہاں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وضع حمل اور چار مہینے دس دن میں جو دیر کی عدت ہو وہ حاملہ کی عدت ہے، یہ قول تو بہت اچھا ہے اور دونوں آیتوں میں اس سے تطبیق بھی عمدہ طور پر ہو جاتی ہے لیکن اس کیخلاف بخاری و مسلم کی ایک صاف اور صریح حدیث موجود ہے جس میں ہے کہ سبیعہ اسلیمہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہوا، اس وقت آپ حمل سے تھیں اور چند راتیں گزار پائی تھیں تو بچہ تولد ہوا، جب نہا دھو چکیں تو لباس وغیرہ اچھا پہن لیا، ابوالسنابل بن بعلبک رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا کیا تم نکاح کرنا چاہتی ہو؟ اللہ کی قسم جب تک چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں تم نکاح نہیں کر سکتیں۔ سیبعہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر خاموش ہو گئیں اور شام کو خدمتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اور مسئلہ پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بچہ ہو گیا اسی وقت تم عدت سے نکل گئیں، اب اگر تم چاہو تو بیشک نکاح کر سکتی ہو۔ [صحیح بخاری:3991] ‏

یہ بھی مروی ہے کہ جب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کو اس حدیث کا علم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے بھی اپنے قول سے رجوع کر لیا، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کے ساتھی شاگرد بھی اسی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح لونڈی کی عدت بھی اتنی نہیں، اس کی عدت اس سے آدھی ہے یعنی دو مہینے اور پانچ راتیں، جمہور کا مذہب یہی ہے جس طرح لونڈی کی حد بہ نسبت آزاد عورت کے آدھی ہے اسی طرح عدت بھی۔ محمد بن سیرین اور بعض علماء ظاہر یہ لونڈی کی اور آزاد عورت کی عدت میں برابری کے قائل ہیں۔ ان کی دلیل ایک تو اس آیت کا عموم ہے، دوسرے یہ کہ عدت ایک جلی امر ہے جس میں تمام عورتیں یکساں ہیں۔ سعید ابن مسیب، ابوالعالیہ رحمہ اللہ وغیرہ فرماتے ہیں اس عدت میں حکمت یہ ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گا تو اس مدت میں بالکل ظاہر ہو جائے گا۔

صفحہ نمبر833

سیدنا ابن مسعود کی بخاری و مسلم والی مرفوع حدیث میں ہے کہ انسان کی پیدائش کا یہ حال ہے کہ چالیس دن تک تو رحمِ مادر میں نطفہ کی شکل میں ہوتا ہے، پھر خون بستہ کی شکل چالیس دن تک رہتی ہے پھر چالیس دن تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے۔ [صحیح بخاری:3208] ‏ تو یہ ایک سو بیس دن ہوئے جس کے چار مہینے ہوئے، دس دن احتیاطاً اور رکھ دے کیونکہ بعض مہینے انتیس دن کے بھی ہوتے ہیں اور جب روح پھونک دی گئی تو اب بچہ کی حرکت محسوس ہونے لگتی ہے اور حمل بالکل ظاہر ہو جاتا ہے۔ اس لیے اتنی عدت مقرر کی گئی «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر834

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں دس دن اس لیے ہیں کہ روح انہی دس دِنوں میں پھونکی جاتی ہے۔ ربیع بن انس رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ سے ایک روایت میں یہ بھی مروی ہے تاکہ جس لونڈی سے بچہ ہو جائے اس کی عدت بھی آزاد عورت کے برابر ہے اس لیے کہ وہ فراش بن گئی اور اس لیے بھی کہ مسند احمد رحمہ اللہ میں حدیث ہے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا لوگو سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم پر خلط ملط نہ کرو۔ اولاد والی لونڈی کی عدت جبکہ اس کا سردار فوت ہو جائے چار مہینے اور دس دن ہیں۔ [سنن ابوداود:2308، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ایک اور طریق سے بھی ابوداؤد میں مروی ہے۔

امام احمد رحمہ اللہ اس حدیث کو منکر بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے ایک راوی قبیصیہ نے اپنے استاد عمر سے یہ روایت نہیں سنی۔ سعید بن مسیب مجاہد، سعید بن جبیر، حسن بن سیرین، ابن عیاض زہری اور عمرو بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے۔ یزید بن عبدالملک بن مروان جو امیر المؤمنین تھے، یہی حکم دیتے تھے۔

صفحہ نمبر835

اوزاعی، اسحاق بن راہویہ اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہم بھی ایک روایت میں یہی فرماتے ہیں لیکن طاؤس اور قتادہ رحمہ اللہ اس کی عدت بھی آدھی بتلاتے ہیں یعنی دو ماہ پانچ راتیں۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ ان کے ساتھ حسن بن صالح بن حی فرماتے ہیں تین حیض عدت گزارے، سیدنا علی ابن مسعود، رضی اللہ عنہما عطاء اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔

صفحہ نمبر836

امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہ اللہ علیہم کی مشہور روایت یہ ہے کہ اس کی عدت ایک حیض ہی ہے۔ سیدنا ابن عمر، شعبی، مکحول، لیث، ابوعبید، ابوثور رحمہ اللہ علیہم اور جمہور کا یہی مذہب ہے۔ لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر حیض کی حالت میں اس کا سید فوت ہوا ہے تو اسی حیض کا ختم ہو جانا اس کی عدت کا ختم ہو جانا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے عدت گزارے۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور جمہور فرماتے ہیں ایک مہینہ اور تین دن مجھے زیادہ پسند ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ» [ مترجم کے نزدیک قوی قول پہلا ہے یعنی مثل آزاد عورت کے پوری عدت گزارے] ‏۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر837

بعد ازاں جو ارشاد فرمایا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوگ واجب ہے۔ بخاری و مسلم میں حدیث ہے کہ جو عورت اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتی ہو اسے تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگواری کرنا حرام ہے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن سوگوار ہے۔ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری بیٹی کا میاں مر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دُکھ رہی ہیں، کیا میں اس کے سرمہ لگا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں، دو تین مرتبہ اس نے اپنا سوال دہرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا، آخری بار فرمایا یہ تو چار مہینے اور دس دن ہی ہیں، جاہلیت میں تو تم سال سال بھر بیٹھی رہا کرتی تھیں۔ [ایضاً] ‏

سیدہ زینب بنت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پہلے جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تھا تو اسے کسی جھونپڑے میں ڈال دیتے تھے، وہ بدترین کپڑے پہنتی، خوشبو وغیرہ سے الگ رہتی اور سال بھر تک ایسی ہی سڑی بھسی رہتی تھی، سال بھر کے بعد نکلتی اور اونٹنی کی مینگنی لے کر پھینکتی اور کسی جانور مثلاً گدھا یا بکری یا پرندے کے جسم کے ساتھ اپنے جسم کو رگڑتی، بسا اوقات وہ مر ہی جاتا، [صحیح بخاری:5336] ‏ یہ تھی جاہلیت کی رسم۔ پس یہ آیت اس کے بعد کی آیت کی ناسخ ہے جس میں ہے کہ ایسی عورتیں سال بھر تک رکی رہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ یہی فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے اور تفصیل اس کی عنقریب آئے گی ان شاءاللہ، مطلب یہ کہ اس زمانہ میں بیوہ عورت کو زینت اور خوشبو اور بہت بھڑکیلے کپڑے اور زیور وغیرہ پہننا منع ہے اور یہ سوگواری واجب ہے۔ ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ طلاق رجعی کی عدت میں یہ واجب نہیں، اور جب طلاق بائن ہو تو وجوب اور عدم وجوب کے دونوں قول ہیں، فوت شدہ خاوندوں کی زندہ بیویوں پر تو سب پر یہ سوگواری واجب ہے، خواہ وہ نابالغہ ہوں خواہ وہ عورتیں ہوں جو حیض وغیرہ سے اتر چکی ہوں، خواہ آزاد عورتیں ہوں خواہ لونڈیاں ہوں، خواہ مسلمان ہوں خواہ کافرہ ہوں کیونکہ آیت میں عام الحکم ہے، ہاں ثوری اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کافرہ عورت کی سوگواری کے قائل نہیں، شہاب اور ابن نافع رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے ان کی دلیل وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ یہ حکم تعبدی ہے، امام ابوحنیفہ اور ثوری رحمہ اللہ کمسن نابالغہ عورت کیلئے بھی یہی فرماتے ہیں کیونکہ وہ غیر مکلفہ ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور ان کے اصحاب مسلمان لونڈی کو اس میں ملاتے ہیں لیکن اس مسائل کی تصفیہ کا یہ موقع نہیں واللہ الموفق بالصواب پھر فرمایا جب ان کی عدت گزر چکے تو ان کے اولیاء پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ عورتیں اپنے بناؤ سنگھار کریں یا نکاح کریں، یہ سب ان کیلئے حلال طیب ہے۔ حسن، زہری اور سدی رحمہ اللہ علیہم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

صفحہ نمبر838

پیغام نکاح ٭٭

مطلب یہ کہ صراحت کے بغیر نکاح کی چاہت کا اظہار کسی اچھے طریق پر عدت کے اندر کرنے میں گناہ نہیں مثلاً یوں کہنا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں، میں ایسی ایسی عورت کو پسند کرتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اللہ میرا جوڑا بھی ملا دے، ان شاءاللہ میں تیرے سوا دوسری عورت سے نکاح کا ارادہ نہیں کروں گا، میں کسی نیک دیندار عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، اسی طرح اس عورت سے جسے طلاق بائن مل چکی ہو عدت کے اندر ایسے مبہم الفاظ کہنا بھی جائز ہیں۔ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا جبکہ ان کے خاوند ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں آخری تیسری طلاق دے دی تھی کہ جب تم عدت ختم کرو تو مجھے خبر کر دینا، عدت کا زمانہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں گزارو، جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عدت نکل جانے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے جن کا مانگا تھا، نکاح کرا دیا، [صحیح مسلم:1480] ‏

ہاں رجعی طلاق کی عدت کے زمانہ میں بجز اس کے خاوند کے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ اشارتاً کنایہ بھی اپنی رغبت ظاہر کرے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ فرمان کہ تم اپنے نفس میں چھپاؤ یعنی منگنی کی خواہش، ایک جگہ ارشاد ہے تیرا رب ان کے سینوں میں پوشیدہ کو اور ظاہر باتوں کو جانتا ہے۔ [28-القصص:69] ‏ دوسری جگہ تمہارے باطل و ظاہر کا جاننے والا ہوں۔ [60-الممتحنة:1] ‏ پس اللہ تعالیٰ بخوبی جانتا تھا کہ تم اپنے دِلوں میں ضرور ذِکر کرو گے اس واسطے اس نے تنگی ہٹا دی، لیکن ان عورتوں سے پوشیدہ وعدے نہ کرو، یعنی زناکاری سے بچو، ان سے یوں نہ کہو کہ میں تم پر عاشق ہوں، تم بھی وعدہ کرو کہ میرے سوا کسی اور سے نکاح نہ کرو گی وغیرہ۔

عدت میں ایسے الفاظ کا کہنا حلال نہیں، نہ یہ جائز ہے کہ پوشیدہ طور پر عدت میں نکاح کر لے اور عدت گزر جانے کے بعد اس نکاح کا اظہار کرے، پس یہ سب اقوال اس آیت کے عموم میں آ سکتے ہیں اسی لیے فرمان ہوا کہ مگر یہ کہ تم ان سے اچھی بات کرو مثلاً ولی سے کہہ دیا کہ جلدی نہ کرنا، عدت گزر جانے کی مجھے بھی خبر کرنا وغیرہ۔ جب تک عدت ختم نہ ہو جائے تب تک نکاح منعقد نہ کیا کرو۔

صفحہ نمبر839

علماء کا اجماع ہے کہ عدت کے اندر نکاح صحیح نہیں۔ اگر کسی نے کر لیا اور دخول بھی ہو گیا تو بھی ان میں جدائی کرا دی جائے گی، اب آیا یہ عورت اس پر ہمیشہ کیلئے حرام ہو جائے گی یا پھر عدت گزر جانے کے بعد نکاح کر سکتا ہے؟ اس میں اختلاف ہے جمہور تو کہتے ہیں کہ کر سکتا ہے لیکن امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ہیمشہ کیلئے حرام ہو گئی، اس کی دلیل یہ ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب عورت کا نکاح عدت کے اندر کر دیا جائے گا اگر اس کا خاوند اس سے نہیں ملا تو ان دونوں میں جدائی کرا دی جائے گی اور جب اس کے پہلے خاوند کی عدت گزر جائے تو یہ شخص منجملہ اور لوگوں کو اس کے نکاح کا پیغام ڈال سکتا ہے اور اگر دونوں میں ملاپ بھی ہو گیا ہے جب بھی جدائی کرا دی جائے گی اور پہلے خاوند کو عدت گزار کر پھر اس دوسرے خاوند کی عدت گزارے گی اور پھر یہ شخص اس سے ہرگز نکاح نہیں کر سکتا، اس فیصلہ کا ماخذ یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اس شخص نے جلدی کر کے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت کا لحاظ نہ کیا تو اسے اس کی خلاف سزا دی گئی کہ وہ عورت اس پر ہمیشہ کیلئے حرام کر دی گئی، جیسا کہ قاتل اپنے مقتول کے ورثہ سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ امام شافعی نے امام مالک رحمہ اللہ علیہما سے بھی یہ اثر روایت کیا ہے،

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلا قول تو امام صاحب کا یہی تھا لیکن جدید قول آپ کا یہ ہے کہ اسے بھی نکاح کرنا حلال ہے کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہما کا یہی فتویٰ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما والا یہ اثر سنداً منقطع ہے بلکہ مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اس بات سے رجوع کر لیا ہے اور فرمایا ہے کہ مہر ادا کر دے اور عدت کے بعد یہ دونوں آپس میں اگر چاہیں تو نکاح کر سکتے ہیں۔

صفحہ نمبر840

پھر فرمایا جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دِلوں کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے، اس کا لحاظ اور خوف رکھو اپنے دِل میں عورتوں کے متعلق فرمان باری کیخلاف خیال بھی نہ آنے دو۔ ہمیشہ دِل کو صاف رکھو، برے خیالات سے اسے پاک رکھو۔ ڈر، خوف کے حکم کے ساتھ ہی اپنی رحمت کی طمع اور لالچ بھی دلائی اور فرمایا کہ الہٰ العالمین خطاؤں کو بخشنے والا اور حلم و کرم والا ہے۔

صفحہ نمبر841

حق مہر کب اور کتنا ٭٭

عقد نکاح کے بعد دخول سے بھی طلاق کا دینا مباح ہو رہا ہے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں مراد مس سے نکاح ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:831/2] ‏ دخول سے پہلے طلاق دے دینا بلکہ مہر کا بھی ابھی تقرر نہیں ہوا اور طلاق دے دینا بھی جائز ہے، گو اس میں عورت کے بے حد دِل شکنی ہے، اسی لیے حکم ہے کہ اپنے مقدور بھر اس صورت میں مرد کو عورت کے ساتھ سلوک کرنا چاہیئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس کا اعلیٰ حصہ خادم ہے اور اس سے کمی چاندی ہے اور اس سے کم کپڑا ہے یعنی اگر مالدار ہے تو غلام وغیرہ دے اور اگر مفلس ہے تو کم سے کم تین کپڑے دے۔ شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں درمیانہ درجہ اس فائدہ پہنچانے کا یہ ہے کہ کرتہ دوپٹہ لحاف اور چادر دیدے۔ شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں پانچ سو درہم دے، ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام دے یا خوراک دے یا کپڑے لتے دے، سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے دس ہزار دئیے تھے لیکن پھر بھی وہ بیوی صاحبہ فرماتی تھیں کہ اس محبوب مقبول کی جدائی کے مقابلہ میں یہ حقیر چیز کچھ بھی نہیں۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ اگر دونوں اس فائدہ کی مقدار میں تنازعہ کریں تو اس کے خاندان کے مہر سے آدھی رقم دلوا دی جائے۔

صفحہ نمبر842

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ کسی چیز پر خاوند کو مجبور نہیں کیا جا سکتا بلکہ کم سے کم جس چیز کو متعہ یعنی فائدہ اور اسباب کہا جا سکتا ہے وہ کافی ہو گا۔ میرے نزدیک اتنا کپڑا متعہ ہے جتنے میں نماز پڑھ لینی جائز ہو جائے، گو پہلا قول حضرت امام کا یہ تھا کہ مجھے اس کا کوئی صحیح اندازہ معلوم نہیں لیکن میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ کم سے کم تیس درہم ہونے چاہئیں جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اس بارے میں بہت سے اقوال ہیں کہ ہر طلاق والی عورت کو کچھ نہ کچھ اسباب دینا چاہیئے یا صرف اسی صورت کو جس سے میل ملاپ نہ ہوا ہو، بعض تو سب کیلئے کہتے ہیں کیونکہ قرآن کریم میں ہے کہ آیت «وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ» [ 2۔ البقرہ: 241 ] ‏، پس اس آیت کے عموم سے سب کیلئے وہ ثابت کرتے ہیں۔

صفحہ نمبر843

اس طرح ان کی دلیل یہ بھی ہے آیت «فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا» [ 33۔ الاحزاب: 28 ] ‏، یعنی اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے کہو کہ اگر تمہاری چاہت دنیا کی زندگی اور اسی کی زینت کی ہے تو آؤ میں تمہیں کچھ اسباب بھی دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ چھوڑ دوں، پس یہ تمام ازواج مطہرات وہ تھیں جن کا مہر بھی مقرر تھا اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی آ چکی تھیں،

سعید بن جبیر، ابوالعالیہ، حسن بصری رحمہ اللہ علیہم کا قول یہی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ایک قول یہی ہے اور بعض تو کہتے ہیں کہ ان کا نیا اور صحیح قول یہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بعض کہتے ہیں اسباب کا دینا اس طلاق والی کو ضروری ہے جس سے خلوت نہ ہوئی ہو گو مہر مقرر ہو چکا ہو کیونکہ قرآن کریم میں ہے آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا» [ 33۔ الاحزاب: 49 ] ‏ یعنی اے ایمان والو تم جب ایمان والی عورت سے نکاح کر لو پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمہاری طرف سے کوئی عدت نہیں جو عدت وہ گزاریں تم انہیں کچھ مال اسباب دے دو اور حسن کردار سے چھوڑ دو، سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا قول ہے کہ سورۃ الاحزاب کی یہ آیت سورۃ البقرہ کی آیت سے منسوخ ہو چکی ہے۔

سیدنا سہل بن سعد اور ابو اسید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمۃ بنت شراحبیل سے نکاح کیا جب وہ رخصت ہو کر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو گویا اس نے برا مانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابواسید رضی اللہ عنہما سے فرمایا اسے دو رنگین کپڑے دے کر رخصت کرو، [صحیح بخاری:5256] ‏ تیسرا قول یہ ہے کہ صرف اسی صورت میں بطور فائدہ کے اسباب و متاع کا دینا ضروری ہے جبکہ عورت کی وداع نہ ہوئی ہو اور مہر بھی مقرر نہ ہوا ہو اور اگر دخول ہو گیا ہو تو مہر مثل یعنی خاندان کے دستور کے مطابق دینا پڑے گا اگر مقرر نہ ہوا ہو اور اگر مقرر ہو چکا ہو اور رخصت سے پہلے طلاق دیدے تو آدھا مہر دینا پڑے گا اور اگر رخصتی بھی ہو چکی ہے تو پورا مہر دینا پڑے گا اور یہی متعہ کا عوض ہو گا۔ ہاں اس مصیبت زدہ عورت کیلئے متعہ ہے جس سے نہ ملاپ ہوا نہ مہر مقرر ہوا اور طلاق مل گئی۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور مجاہد رحمہ اللہ کا یہی قول ہے۔

صفحہ نمبر844

گو بعض علماء اسی کو مستحب بتلاتے ہیں کہ ہر طلاق والی عورت کو کچھ نہ کچھ دے دینا چاہیئے ان کے سوا جو مہر مقرر کئے ہوئے نہ ہوں اور نہ خاوند بیوی کا میل ہوا ہو، یہی مطلب سورۃ الاحزاب کی اس آیت تخیر کا ہے جو اس سے پہلے اسی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکی ہے اور اسی لیے یہاں اس خاص صورت کیلئے فرمایا گیا ہے کہ امیر اپنی وسعت کے مطابق دیں اور غریب اپنی طاقت کے مطابق۔ شعبی رحمہ اللہ سے سوال ہوتا ہے کہ یہ اسباب نہ دینے والا کیا گرفتار کیا جائے گا؟ تو آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اپنی طاقت کے برابر دیدے، اللہ کی قسم اس بارے میں کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اگر یہ واجب ہوتا تو قاضی لوگ ضرور ایسے شخص کو قید کر لیتے۔

صفحہ نمبر845

مزید وضاحت ٭٭

اس آیت میں صاف دلالت ہے اس امر پر کہ پہلی آیت میں جن عورتوں کیلئے متعہ مقرر کیا گیا تھا وہ صرف وہی عورتیں ہیں جن کا ذِکر اس آیت میں تھا کیونکہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ دخول سے پہلے جبکہ طلاق دے دی گئی ہو اور مہر مقرر ہو چکا ہو تو آدھا مہر دینا پڑے گا۔ اگر یہاں بھی اس کے سوا کوئی اور متعہ واجب ہوتا تو وہ ضرور ذِکر کیا جاتا کیونکہ دونوں آیتوں کی دونوں صورتوں میں ایک کے بعد ایک بیان ہو رہی ہیں «وَاللهُ اَعْلَمُ»، اس صورت میں جو یہاں بیان ہو رہی ہے آدھے مہر پر علماء کا اجماع ہے، لیکن تین کے نزدیک پورا مہر اس وقت واجب ہو جاتا ہے جبکہ خلوت ہو گئی یعنی میاں بیوی تنہائی کی حالت میں کسی مکان میں جمع ہو گئے، گو ہمبستری نہ ہوئی ہو۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی پہلا قول یہی ہے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا فیصلہ بھی یہی ہے، لیکن امام شافعی

کی روایت سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس صورت میں بھی صرف نصف مہر مقررہ ہی دینا پڑے گا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں بھی یہی کہتا ہوں اور ظاہر الفاظ کتاب اللہ کے بھی یہی کہتے ہیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کے ایک راوی لیث بن ابی سلیم اگرچہ سند پکڑے جانے کے قابل نہیں لیکن ابن ابی طلحہ رحمہ اللہ سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایت مروی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہما کا فرمان یہی ہے، پھر فرماتا ہے کہ اگر عورتیں خود ایسی حالت میں اپنا آدھا مہر بھی خاوند کو معاف کر دیں تو یہ اور بات ہے اس صورت میں خاوند کو سب معاف ہو جائے گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ثیبہ عورت اگر اپنا حق چھوڑ دے تو اسے اختیار ہے۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:839/2] ‏ بہت سے مفسرین تابعین کا یہی قول ہے، محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد عورتوں کا معاف کرنا نہیں بلکہ مردوں کا معاف کرنا ہے۔ یعنی مرد اپنا آدھا حصہ چھوڑ دے اور پورا مہر دیدے لیکن یہ قول شاذ ہے کوئی اور اس قول کا قائل نہیں۔

صفحہ نمبر846

پھر فرماتا ہے کہ وہ معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ ایک حدیث میں ہے اس سے مراد خاوند ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:8358] ‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے سوال ہوا کہ اس سے مراد کیا عورت کے اولیاء ہیں؟ فرمایا نہیں بلکہ اس سے مراد خاوند ہے۔ اور بھی بہت سے مفسرین سے یہی مروی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا جدید قول بھی یہی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کا بھی یہی مذہب ہے، اس لیے کہ حقیقتاً نکاح کو باقی رکھنا توڑ دینا وغیرہ یہ سب خاوند کے ہی اختیار میں ہے اور جس طرح ولی کو اس کی طرف سے جس کا ولی ہے، اس کے مال کا دے دینا جائز نہیں اسی طرح اس کے مہر کے معاف کر دینے کا بھی اختیار نہیں۔ دوسرا قول اس بارے میں یہ ہے کہ اس سے مراد عورت کے باپ بھائی اور وہ لوگ ہیں جن کی اجازت بغیر عورت نکاح نہیں کر سکتی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، علقمہ، حسن، عطاء، طاؤس، زہری، ربیعہ، زید بن اسلم، ابراہیم نخعی، عکرمہ، محمد بن سیرین رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے کہ ان دونوں بزرگوں کا بھی ایک قول یہی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول قدیم بھی یہی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ ولی نے ہی اس حق کا حقدار اسے کیا تھا تو اس میں تصرف کرنے کا بھی اسے اختیار ہے، گو اور مال میں ہیر پھیر کرنے کا اختیار نہ ہو،

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے معاف کر دینے کی رخصت عورت کو دی اور اگر وہ بخیلی اور تنگ دِلی کرے تو اس کا ولی بھی معاف کر سکتا ہے۔ گو وہ عورت سمجھدار ہو، شریح رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں لیکن جب شعبی رحمہ اللہ نے انکار کیا تو آپ نے اس سے رجوع کر لیا اور فرمانے لگے کہ اس سے مراد خاوند ہی ہے بلکہ وہ اس بات پر مباہلہ کو تیار رہتے تھے۔

صفحہ نمبر847

پھر فرماتا ہے کہ «وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ» [ البقرة: 241 ] ‏ تمہارا معاف کرنا ہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے، اس سے مراد مرد عورتیں دونوں ہی ہیں یعنی دونوں میں سے اچھا وہی ہے جو اپنا حق چھوڑ دے، یعنی عورت یا تو اپنا آدھا حصہ بھی اپنے خاوند کو معاف کر دے یا خاوند ہی اسے بجائے آدھے کے پورا مہر دیدے۔ آپس کی فضیلت یعنی احسان کو نہ بھولو، اسے بے کار نہ چھوڑو بلکہ اسے کام میں لاؤ۔

ابن مردویہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگوں پر ایک کاٹ کھانے والا زمانہ آئے گا، مومن بھی اپنے ہاتھوں کی چیز کو دانتوں سے پکڑ لے گا اور فضیلت و بزرگی کو بھول جائے گا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اپنے آپس کے فضل کو نہ بھولو، برے ہیں وہ لوگ جو ایک مسلمان کی بے کسی اور تنگ دستی کے وقت اس سے سستے داموں اس کی چیز خریدتے ہیں۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع سے منع فرما دیا ہے۔ اگر تیرے پاس بھلائی ہو تو اپنے بھائی کو بھی وہ بھلائی پہنچا اس کی ہلاکت میں حصہ نہ لے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ اسے رنج و غم پہنچے نہ اسے بھلائیوں سے محروم رکھے، [سنن ابوداود:3382، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ حضرت عون بن عبداللہ حدیثیں بیان کرتے جاتے روتے جاتے یہاں تک کہ آنسو داڑھی سے ٹپکتے رہتے اور فرماتے میں مالداروں کی صحبت میں بیٹھا اور دیکھا کہ ہر وقت دِل ملول رہتا ہے کیونکہ جدھر نظر اٹھتی ہر ایک کو اپنے سے اچھے کپڑوں میں اچھی خوشبوؤں میں اور اچھی سواریوں میں دیکھتا، ہاں مسکینوں کی محفل میں میں نے بڑی راحت پائی،

رب العالم یہی فرماتا ہے ایک دوسرے کی فضیلت فراموش نہ کرو، کسی کے پاس جب بھی کوئی سائل آئے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو تو وہ اس کیلئے دُعائے خیر ہی کر دے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے، اس پر تمہارے کام اور تمہارا حال بالکل روشن ہے اور عنقریب وہ ہر ایک عامل کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔

صفحہ نمبر848

صلوۃ وسطی کون سی ہے؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا حکم ہو رہا ہے کہ نمازوں کے وقت کی حفاظت کرو اس کی حدود کی نگرانی رکھو اور اول وقت ادا کرتے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سوال کرتے ہیں کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر پڑھنا، پھر پوچھا کون سا؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر کون سا؟ ماں باپ سے بھلائی کرنا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر میں کچھ اور بھی پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بھی جواب دیتے۔ [صحیح بخاری:5970] ‏

سیدہ ام فردہ رضی اللہ عنہا جو بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعمال کا ذِکر فرما رہے تھے۔ اسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کو اول وقت ادا کرنے کی جلدی کرنا ہے۔ [مسند احمد:374/6:صحیح] ‏ امام ترمذی اس حدیث کے ایک راوی عمری کو غیر قوی بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر849

پھر صلوۃ وسطی کی مزید تاکید ہو رہی ہے۔ سلف و خلف کا اس میں اختلاف ہے کہ صلوٰۃ وسطی کس نماز کا نام ہے، سیدنا علی، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہیں جس میں ہاتھ اٹھا کر قنوت بھی پڑھتے ہیں، پھر فرماتے ہیں یہی وہ نماز وسطیٰ ہے جس میں قنوت کا حکم ہوا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ بصرے کی مسجد کا ہے اور قنوت آپ نے رکوع سے پہلے پڑھی تھی۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بصرے میں میں نے سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی پھر میں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ صلوٰۃ وسطی کون سی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی صبح کی نماز ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بہت سے اصحاب اس مجمع میں تھے اور سب نے یہی جواب دیا۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اس لیے کہ ان کے نزدیک صبح کی نماز میں ہی قنوت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مغرب کی نماز ہے اس لیے کہ اس سے پہلے بھی چار رکعت والی نماز ہے اور اس کے بعد بھی چار رکعت والی نماز ہے اور سفر میں دونوں قصر کی جاتی ہیں لیکن مغرب پوری ہی رہتی ہے۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے بعد دو نمازیں رات کی عشاء اور فجر وہ ہیں جن میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے اور دو نمازیں اس سے پہلی دن کی وہ ہیں کہ جن میں آہستہ قرأت پڑھی جاتی ہے یعنی ظہر، عصر۔ بعض کہتے ہیں یہ نماز ظہر کی ہے۔ ایک مرتبہ چند لوگ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں یہی مسئلہ چھڑا، لوگوں نے ایک آدمی بھیج کر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ ظہر کی نماز ہے جسے حضور علیہ السلام اوّل وقت پڑھا کرتے تھے۔ [طیالسی:628:ضعیف ] ‏ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے زیادہ بھاری نماز صحابہ رضی اللہ عنہم پر اور کوئی نہ تھی اس لیے یہ آیت نازل ہوئی اور اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد دو ہیں۔ [سنن ابوداود:411، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ قریشیوں کی ایک جماعت کے بھیجے ہوئے دو شخصوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عصر ہے، پھر دو اور شخصوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ظہر ہے، پھر ان دونوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ ظہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے آفتاب ڈھلتے ہی پڑھا کرتے تھے، بمشکل ایک دو صف کے لوگ آتے تھے، کوئی نیند میں ہوتا کوئی کاروبار میں مشغول ہوتا جس پر یہ آیت اتری اور آپ نے فرمایا تو یہ لوگ اس حرکت سے باز آئیں یا میں ان کے گھروں کو جلا دوں گا، [مسند احمد:206/5:منقطع و ضعیف] ‏ لیکن اس کے راوی زبرقان نے صحابی سے ملاقات نہیں کی لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے اور روایات سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ اس سے مراد ظہر کی نماز ہی بتاتے تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:5453:صحیح موقوف] ‏ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے کہ سیدنا عمر، ابوسعید، عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی کی ہے۔

صفحہ نمبر850

بعض کہتے ہیں اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اکثر علماء صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کا یہی قول ہے، جمہور تابعین کا بھی یہی قول ہے اور اکثر اہل اثر کا بھی، بلکہ جمہور لوگوں کا، حافظ ابومحمد عبدالمومن دمیاطی نے اس بارے میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس کا نام «کشف الغطاء فی تبیین الصلوۃ الوسطیٰ» ہے اس میں ان کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ عصر کی نماز ہے۔ سیدنا عمر، علی، ابن مسعود، ابوایوب، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، ابوہریرہ، ابوسعید، حفصہ، ام حبیبہ، ام سلمہ، ابن عمر، ابن عباس، عائشہ [ رضوان اللہ علیہم اجمعین ] ‏ وغیرہ کا فرمان بھی یہی ہے اور ان حضرات سے یہی مروی ہے اور بہت سے تابعین سے یہ منقول ہے۔ امام احمد اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی صحیح مذہب یہی ہے۔ ابویوسف، محمد سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن حبیب مالکی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

اس قول کی دلیل سنیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب میں فرمایا اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے دِلوں کو اور گھر کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر سے روک دیا۔ [صحیح بخاری:2931] ‏

صفحہ نمبر851

سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم اس سے مراد صبح یا عصر کی نماز لیتے ہیں یہاں تک کہ جنگ احزاب میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، اس میں قبروں کو بھی آگ سے بھرنا وارد ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5426:حسن بالشواھد] ‏ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ عصر کی نماز ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [مسند احمد:8/5:صحیح المتن] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ اس بارے میں سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم نے بھی ایک مرتبہ اس میں اختلاف کیا تو ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ مجلس میں سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر گئے، اجازت مانگ کر اندر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے باہر آ کر ہمیں فرمایا یہ نماز عصر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5439] ‏ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ کی مجلس میں بھی ایک مرتبہ یہی مسئلہ پیش آیا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جاؤ فلاں صحابی رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤ، تو ایک شخص نے کہا کہ مجھ سے سنیئے مجھے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے میرے بچپن میں یہی مسئلہ پوچھنے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چھنگلیا یعنی سب سے چھوٹی انگلی پکڑ کر فرمایا دیکھ یہ تو ہے فجر کی نماز، پھر اس کے پاس والی انگلی تھام کر فرمایا یہ ہوئی ظہر کی، پھر انگوٹھا پکڑ کر فرمایا یہ ہے مغرب کی نماز، پھر شہادت کی انگلی پکڑ کر فرمایا یہ عشاء کی نماز، پھر مجھ سے کہا اب تمہاری کون سی انگلی باقی رہی، میں نے کہا بیچ کی، فرمایا اور نماز کون سی باقی رہی، میں نے کہا عصر کی، فرمایا یہی صلوۃ وسطیٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5445] ‏ لیکن یہ روایت بہت ہی غریب ہے، غرض صلوٰۃ وسطیٰ سے نماز عصر مراد ہونا بہت سی احادیث میں وارد ہے جن میں سے کوئی حسن ہے کوئی صحیح ہے کوئی ضعیف ہے۔ ترمذی مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر852

پھر اس نماز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدیں اور سختی کے ساتھ محافظت بھی ثابت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کا گھرانہ تباہ ہو گیا اور مال و اسباب برباد ہو گیا۔ [صحیح بخاری:552] ‏ اور حدیث میں ہے ابر والے دن نمازِ اول وقت پڑھو، سنو جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه:694، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز قبیلہ غفار کی ایک وادی میں جس کا نام حمیص تھا، ادا کی پھر فرمایا یہی نماز تم سے اگلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا، سنو اسے پڑھنے والے کو دوہرا اجر ملتا ہے اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ تم تارے نہ دیکھ لو۔ [صحیح مسلم:830:صحیح] ‏

صفحہ نمبر853

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آزاد کردہ غلام ابویونس رحمہ اللہ سے فرماتی ہیں کہ میرے لیے ایک قرآن شریف لکھو اور جب اس آیت «حَافِظُوا» تک پہنچو تو مجھے اطلاع کرنا، چنانچہ جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» کے بعد آیت «وصلوۃ العصر» لکھوایا اور فرمایا میں نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [صحیح مسلم:629:صحیح] ‏ ایک روایت میں آیت «وھی صلوۃ العصر» کا لفظ بھی ہے [ ابن جریر ] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیوی صاحبہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عمرو بن رافع رضی اللہ عنہ کو جو آپ کے قرآن کے کاتب تھے، اسی طرح یہ آیت لکھوائی۔ [مؤطا:139/1:صحیح] ‏

اس حدیث کے بھی بہت سے طریقے ہیں اور کئی کتابوں میں مروی ہے کہ ام المؤمنین نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی الفاظ سنے ہیں، سیدنا نافع رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے یہ قرآن شریف اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہی عبارت واؤ کے ساتھ تھی، سیدنا ابن عباس اور عبید بن عسیر رضی اللہ عنہما کی قرأت بھی یونہی ہے، ان روایات کو مدنظر رکھ کر بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ واؤ عطف کیلئے ہوتا ہے کہ صلوٰۃ الوسطیٰ اور ہے اور صلوٰۃ عصر اور ہے لیکن اس کا جاب یہ ہے کہ اگر اسے بطور حدیث کے مانا جائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہما والی حدیث بہت زیادہ صحیح ہے اور اس میں صراحت موجود ہے، رہا واؤ، سو ممکن ہے کہ زائد ہو عاطفہ نہ ہو جیسے آیت «وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ» [ 6۔ الانعام: 55 ] ‏ میں اور «وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ» [ 6۔ الانعام: 75 ] ‏ میں یا یہ واؤ عطف صفت کیلئے ہو عطف ذات کیلئے نہ ہو جیسے آیت «وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ» [ 33۔ الاحزاب: 40 ] ‏ میں اور جیسے آیت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ» [ 87۔ الاعلی: 1-4 ] ‏ میں۔ اس کی مثالیں اور بھی بہت سی ہیں، شاعروں کے شعروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ سیبویہ جو نحویوں کے امام ہیں، فرماتے ہیں کہ «”مررت باخیک وصاحبک“» کہنا درست ہے حالانکہ صاحب اور اخ سے مراد ایک ہی شخص ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر854

اور اگر اس قرأت کے الفاظ کو بطور قرآنی الفاظ کے مانا جائے تو ظاہر ہے کہ اس خبر واحد سے قرأت قرآنی ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ تواتر ثابت نہ ہو، اسی لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اپنے مرتب کردہ قرآن میں اس قرأت کو نہیں لیا، اور نہ ساتوں قاریوں کی قرأت میں یہ الفاظ ہیں بلکہ نہ کسی اور ایسے معتبر قاری کی یہ قرات پائی گئی ہے، علاوہ ازیں ایک حدیث اور ہے جس سے اس قرأت کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ یہ آیت اتری «حافظو علی الصلوات والصلوٰۃ الوسطی وصلوٰۃ العصر» ہم ایک مدت تک اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آیت کو پڑھتے رہے پھر یہ تلاوت منسوخ ہو گئی اور آیت یوں ہی رہی آیت «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» [ البقرہ: 238 ] ‏ ایک شخص نے راوی حدیث سیدنا شفیق رضی اللہ عنہما سے کہا کہ پھر کیا یہ نماز عصر کی نماز ہی ہے، فرمایا میں تو سنا چکا کہ کس طرح آیت اتری اور کس طرح منسوخ ہوئی، [صحیح مسلم:630:صحیح] ‏ پس اس بنا پر یہ قرأت ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما کی روایت والی یا تو لفظاً منسوخ کی جائے گی اور اگر واؤ کو مغائرت کیلئے مانا جائے تو لفظ و معنی دونوں کے اعتبار سے منسوخ کی جائے گی،

بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب کی نماز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ مروی ہے لیکن اس کی سند میں کلام ہے، بعض اور حضرات کا قول بھی یہی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ اور فرض نمازیں یا تو چار رکعت والی ہیں یا دو رکعت والی، اور اس کی تین رکعتیں ہیں پس یہ درمیانہ نماز ٹھہری۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فرض نمازوں کی یہ وتر ہے اور اس لیے بھی کہ اس کی فضیلت میں بھی بہت کچھ حدیثیں وارد ہوئی ہیں، بعض لوگ اس سے مراد عشاء کی نماز بھی بتلاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں پانچ وقتوں میں سے ایک وقت کی نماز ہے لیکن ہم معین نہیں کر سکتے یہ مبہم ہے جس طرح لیلۃ القدر پورے سال میں یا پورے مہینے میں یا پچھلے دس دِنوں میں مبہم ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کا مجموعہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں یہ عشاء اور صبح ہے۔ بعض کا قول ہے یہ جماعت کی نماز ہے بعض کہتے ہیں جمعہ کی نماز ہے، کوئی کہتا ہے صلوٰۃ خوف مراد ہے، کوئی کہتا ہے نمازِ عید مراد ہے، کوئی کہتا ہے صلوٰۃ ضحیٰ مراد ہے، بعض کہتے ہیں ہم توقف کرتے ہیں اور کسی قول کے قائل نہیں بنتے، اس لیے کہ دلیلیں مختلف ہیں، وجہ ترجیح معلوم نہیں، کسی قول پر اجماع ہوا نہیں بلکہ زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک جھگڑا جاری رہا۔ جس طرح سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بارے میں اس طرح مختلف تھے پھر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔

صفحہ نمبر855

لیکن یہ یاد رہے کہ یہ پچھلے اقوال سب کے سب ضعیف ہیں، جھگڑا صرف صبح اور عصر کی نماز میں ہے اور صحیح احادیث سے عصر کی نماز کا صلوٰۃ وسطیٰ ہونا ثابت ہے پس لازم ہو گیا کہ ہم سب اقوال کو چھوڑ کر یہی عقیدہ رکھیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ نمازِ عصر ہے۔ امام ابومحمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہم اللہ نے اپنی کتاب فضائل شافعی میں روایت کی ہے کہ امام صاحب فرمایا کرتے تھے حدیث «کل ماقلت فکان عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بخلاف قولی مما یصح فحدیث النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولیٰ ولا تقلدونی» یعنی میرے جس کسی قول کیخلاف کوئی صحیح حدیث شریف مروی ہو تو حدیث ہی اولیٰ ہے خبردار میری تقلید نہ کرنا، امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان کو امام ربیع امام زعفرانی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی روایت کرتے ہیں، اور موسیٰ ابوالولید جارود رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا «اذا صح الحدیث و قلت قولا فانا راجع عن قولی و قائل بذالک» یعنی میری جو بات حدیث شریف کیخلاف ہو، میں اپنی اس بات سے رجوع کرتا ہوں اور صاف کہتا ہوں کہ میرا مذہب وہی ہے جو حدیث میں ہو، یہ امام صاحب کی امانت اور سرداری ہے اور آپ جیسے ائمہ کرام میں سے بھی ہر ایک نے یہی فرمایا ہے کہ ان کے اقوال کو دین نہ سمجھا جائے۔ رحمھم اللہ و رضی عنہم اجمعین

اسی لیے قاضی ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا صلوٰۃ وسطیٰ کے بارے میں یہی مذہب سمجھنا چاہیئے کہ وہ عصر ہے، گو امام صاحب کا اپنا قول یہ ہے کہ وہ عصر نہیں ہے مگر آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کے مطابق حدیث صحیح کے خلاف اس قول کو پا کر ہم نے چھوڑ دیا۔ شافعی مذہب کے اور بھی بہت سے محدثین نے یہی فرمایا ہے فالحمدللہ بعض فقہاء شافعی تو کہتے ہیں کہ امام صاحب کا صرف ایک ہی قول ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے لیکن یہ سب باتیں طے کرنے کیلئے تفسیر مناسب نہیں، علیحدہ اس کا بیان میں نے کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر856

پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع خضوع، ذلت اور مسکینی کے ساتھ کھڑے ہوا کرو جس کو یہ لازم ہے کہ انسانی بات چیت نہ ہو اسی لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے سلام کا جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں نہ دیا اور بعد میں فراغت فرمایا کہ نماز مشغولیت کی چیز ہے۔ [صحیح بخاری:1199] ‏ اور سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے جبکہ انہوں نے نماز پڑھتے ہوئے بات کی تو فرمایا نماز میں انسانی بات چیت نہ کرنی چاہیئے یہ تو صرف تسبیح اور ذِکر اللہ ہے۔ [صحیح مسلم:537:صحیح] ‏ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے لوگ ضروری بات چیت بھی نماز میں کر لیا کرتے تھے، جب یہ آیت اتری تو چپ رہنے کا حکم دے دیا گیا، [مسند احمد:368/4:صحیح] ‏ لیکن اس حدیث میں ایک اشکال یہ ہے کہ علماء کرام کی ایک جماعت کے نزدیک نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف کی ہجرت سے پہلے ہی مکہ شریف میں نازل ہو چکی تھی۔

صفحہ نمبر857

چنانچہ صحیح مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے آپ نماز میں ہوتے پھر بھی جواب دیتے، جب حبشہ سے ہم واپس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے آپ کی نماز کی حالت میں ہی سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، اب میرے رنج و غم کا کچھ نہ پوچھئے نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا عبداللہ رضی اللہ عنہما اور کوئی بات نہیں میں نماز میں تھا اس وجہ سے میں نے جواب نہ دیا، اللہ جو چاہے نیا حکم اتارے، اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں نہ بولا کرو، [سنن ابوداود:924، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے کا ہے اور یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، اب بعض تو کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب جنس کلام سے ہے اور اس کی حرمت پر اس آیت سے استدلال بھی خود ان کا فہم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، بعض کہتے ہیں ممکن ہے دو دفعہ حلال ہوا ہو اور دو دفعہ ممانعت ہوئی ہو لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما والی روایت جو ابویعلیٰ میں ہے اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب نہ دینے سے مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فارغ ہو کر حدیث «وعلیک اسلام ایھا المسلم و رحمتہ اللہ» نماز میں جب تم ہو تو خاموش رہا کرو ۔ [میزان:204/1:منقطع و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر858

چونکہ نمازوں کی پوری حفاظت کرنے کا فرمان صادر ہو چکا تھا اس لیے اب اس حالت کو بیان فرمایا جاتا جس میں تمام ادب و آداب کی پوری رعایت عموماً نہیں رہ سکتی، یعنی میدان جنگ میں جبکہ دشمن سر پر ہو تو فرمایا کہ جس طرح ممکن ہو سوار پیدل قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر لیا کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آیت کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں بلکہ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو جانتا ہوں یہ مرفوع ہے، [صحیح بخاری:4535:صحیح] ‏ مسلم شریف میں ہے سخت خوف کے وقت اشارے سے ہی نماز پڑھ لیا کرو، گو سواری پر سوار ہو، سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان کے قتل کیلئے بھیجا تھا تو آپ نے اسی طرح نماز عصر اشارے سے ادا کی تھی۔ [سنن ابوداود:1249، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پس اس میں جناب باری نے اپنے بندوں پر بہت آسانی کر دی اور بوجھ کو ہلکا کر دیا،

صلوٰۃ خوف ایک رکعت پڑھنی بھی آئی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر کی حالت میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر کی حالت میں دو اور خوف کی حالت میں ایک۔ [صحیح مسلم:687:صحیح] ‏

صفحہ نمبر859

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس وقت ہے جب بہت زیادہ خوف ہو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور بہت سے اور بزرگ صلوٰۃ خوف ایک رکعت بتاتے ہیں، امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے کہ فتوحات قلعہ کے موقع پر اور دشمن کے مڈبھیڑ کے موقع پر نماز ادا کرنا۔ اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر فتح قریب آ گئی ہو اور نماز پڑھنے پر قدرت نہ ہو تو ہر شخص اپنے طور پر اشارے سے نماز پڑھ لے، اگر اتنا وقت بھی نہ ملے تو تاخیر کریں یہاں تک کہ لڑائی ختم ہو جائے اور چین نصیب ہو تو دو رکعتیں ادا کر لیں ورنہ ایک رکعت کافی ہے لیکن صرف تکبیر کہہ لینا کافی نہیں بلکہ تاخیر کر دیں یہاں تک کہ امن ملے،

مکحول رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تستر قلعہ کی لڑائی میں میں بھی فوج میں تھا، صبح صادق کے وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی، ہمیں وقت ہی نہ ملا کہ نماز ادا کرتے، خوب دن چڑھے اس دن ہم نے صبح کی نماز پڑھی، اگر اس نماز کے بدلے میں مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے مل جائے تاہم میں خوش نہیں ہوں، [صحیح بخاری:944] ‏ بعد ازاں امام المحدثین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جنگ خندق میں سورج غروب ہو جانے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز نہ پڑھ سکے، پھر دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بنی قریظہ کی طرف بھیجا تو ان سے فرما دیا تھا کہ تم میں سے کوئی بھی بنی قریظہ سے ورے نماز عصر نہ پڑھے، اب جبکہ نماز عصر کا وقت آ گیا تو بعض نے تو وہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، وہیں جا کر نماز پڑھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں کہا، [المرجع السابق] ‏ پس اس سے امام بخاری یہ مسئلہ ثابت کرتے ہیں گو جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں سورۃ نساء میں جو نماز خوف کا حکم ہے اور جس نماز کی مشروعیت اور طریقہ احادیث میں وارد ہوا ہے وہ جنگ خندق کے بعد کا ہے جیسا کہ ابوسعید وغیرہ کی روایت میں صراحتاً بیان ہے،

لیکن امام بخاری امام مکحول اور امام اوزاعی رحمہ اللہ علیہم کا جواب یہ ہے کہ اس کی مشروعیت بعد میں ہونا اس جواز کیخلاف نہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ بھی جائز ہو اور وہ بھی طریقہ ہو، کیونکہ ایسی حالت میں شاذو نادر کبھی ہی ہوتی ہے اور خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے فاروق اعظم کے زمانے میں فتح تستر میں اس پر عمل کیا اور کسی نے انکار نہیں کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر860

پھر فرمان ہے کہ امن کی حالت میں بجا آوری کا پورا خیال رکھو، جس طرح میں نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی اور جُہل کے بعد علم دیا تو تمہیں بھی چاہیئے کہ اس کے شکریہ میں ذکر اللہ باطمینان کیا کرو، جیسا کہ نماز خوف کا بیان کر کے فرمایا جب اطمینان ہو جائے تو نمازوں کو اچھی طرح قائم کرو، نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے، صلوٰۃ خوف کا پورا بیان سورۃ نساء کی آیت «وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» [ 4-النسأ: 102 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر861

صلوۃ وسطی کون سی ہے؟ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا حکم ہو رہا ہے کہ نمازوں کے وقت کی حفاظت کرو اس کی حدود کی نگرانی رکھو اور اول وقت ادا کرتے رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سوال کرتے ہیں کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو وقت پر پڑھنا، پھر پوچھا کون سا؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پھر کون سا؟ ماں باپ سے بھلائی کرنا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اگر میں کچھ اور بھی پوچھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بھی جواب دیتے۔ [صحیح بخاری:5970] ‏

سیدہ ام فردہ رضی اللہ عنہا جو بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ہیں، فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعمال کا ذِکر فرما رہے تھے۔ اسی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کو اول وقت ادا کرنے کی جلدی کرنا ہے۔ [مسند احمد:374/6:صحیح] ‏ امام ترمذی اس حدیث کے ایک راوی عمری کو غیر قوی بتاتے ہیں۔

صفحہ نمبر849

پھر صلوۃ وسطی کی مزید تاکید ہو رہی ہے۔ سلف و خلف کا اس میں اختلاف ہے کہ صلوٰۃ وسطی کس نماز کا نام ہے، سیدنا علی، ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کا قول ہے کہ اس سے مراد صبح کی نماز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ نماز پڑھتے ہیں جس میں ہاتھ اٹھا کر قنوت بھی پڑھتے ہیں، پھر فرماتے ہیں یہی وہ نماز وسطیٰ ہے جس میں قنوت کا حکم ہوا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ یہ واقعہ بصرے کی مسجد کا ہے اور قنوت آپ نے رکوع سے پہلے پڑھی تھی۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بصرے میں میں نے سیدنا عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز ادا کی پھر میں نے ایک صحابی سے پوچھا کہ صلوٰۃ وسطی کون سی ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہی صبح کی نماز ہے۔ اور روایت میں ہے کہ بہت سے اصحاب اس مجمع میں تھے اور سب نے یہی جواب دیا۔

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بھی یہی فرماتے ہیں اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں اس لیے کہ ان کے نزدیک صبح کی نماز میں ہی قنوت ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد مغرب کی نماز ہے اس لیے کہ اس سے پہلے بھی چار رکعت والی نماز ہے اور اس کے بعد بھی چار رکعت والی نماز ہے اور سفر میں دونوں قصر کی جاتی ہیں لیکن مغرب پوری ہی رہتی ہے۔ یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے بعد دو نمازیں رات کی عشاء اور فجر وہ ہیں جن میں اونچی آواز سے قرأت پڑھی جاتی ہے اور دو نمازیں اس سے پہلی دن کی وہ ہیں کہ جن میں آہستہ قرأت پڑھی جاتی ہے یعنی ظہر، عصر۔ بعض کہتے ہیں یہ نماز ظہر کی ہے۔ ایک مرتبہ چند لوگ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، وہاں یہی مسئلہ چھڑا، لوگوں نے ایک آدمی بھیج کر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ ظہر کی نماز ہے جسے حضور علیہ السلام اوّل وقت پڑھا کرتے تھے۔ [طیالسی:628:ضعیف ] ‏ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس سے زیادہ بھاری نماز صحابہ رضی اللہ عنہم پر اور کوئی نہ تھی اس لیے یہ آیت نازل ہوئی اور اس سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد دو ہیں۔ [سنن ابوداود:411، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

آپ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی مروی ہے کہ قریشیوں کی ایک جماعت کے بھیجے ہوئے دو شخصوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا جس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ عصر ہے، پھر دو اور شخصوں نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ظہر ہے، پھر ان دونوں نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا یہ ظہر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے آفتاب ڈھلتے ہی پڑھا کرتے تھے، بمشکل ایک دو صف کے لوگ آتے تھے، کوئی نیند میں ہوتا کوئی کاروبار میں مشغول ہوتا جس پر یہ آیت اتری اور آپ نے فرمایا تو یہ لوگ اس حرکت سے باز آئیں یا میں ان کے گھروں کو جلا دوں گا، [مسند احمد:206/5:منقطع و ضعیف] ‏ لیکن اس کے راوی زبرقان نے صحابی سے ملاقات نہیں کی لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے اور روایات سے بھی یہ ثابت ہے کہ آپ اس سے مراد ظہر کی نماز ہی بتاتے تھے، [تفسیر ابن جریر الطبری:5453:صحیح موقوف] ‏ ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے کہ سیدنا عمر، ابوسعید، عائشہ رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی کی ہے۔

صفحہ نمبر850

بعض کہتے ہیں اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اکثر علماء صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ کا یہی قول ہے، جمہور تابعین کا بھی یہی قول ہے اور اکثر اہل اثر کا بھی، بلکہ جمہور لوگوں کا، حافظ ابومحمد عبدالمومن دمیاطی نے اس بارے میں ایک مستقل رسالہ تصنیف فرمایا ہے جس کا نام «کشف الغطاء فی تبیین الصلوۃ الوسطیٰ» ہے اس میں ان کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ عصر کی نماز ہے۔ سیدنا عمر، علی، ابن مسعود، ابوایوب، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، ابوہریرہ، ابوسعید، حفصہ، ام حبیبہ، ام سلمہ، ابن عمر، ابن عباس، عائشہ [ رضوان اللہ علیہم اجمعین ] ‏ وغیرہ کا فرمان بھی یہی ہے اور ان حضرات سے یہی مروی ہے اور بہت سے تابعین سے یہ منقول ہے۔ امام احمد اور امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی صحیح مذہب یہی ہے۔ ابویوسف، محمد سے بھی یہی مروی ہے۔ ابن حبیب مالکی رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

اس قول کی دلیل سنیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب میں فرمایا اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے دِلوں کو اور گھر کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطیٰ یعنی نماز عصر سے روک دیا۔ [صحیح بخاری:2931] ‏

صفحہ نمبر851

سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم اس سے مراد صبح یا عصر کی نماز لیتے ہیں یہاں تک کہ جنگ احزاب میں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، اس میں قبروں کو بھی آگ سے بھرنا وارد ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5426:حسن بالشواھد] ‏ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا یہ عصر کی نماز ہے۔ اس حدیث کے بہت سے طرق ہیں اور بہت سی کتابوں میں مروی ہے۔ [مسند احمد:8/5:صحیح المتن] ‏

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ایک مرتبہ اس بارے میں سوال ہوا تو آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا ہم نے بھی ایک مرتبہ اس میں اختلاف کیا تو ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ مجلس میں سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر گئے، اجازت مانگ کر اندر داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کر کے باہر آ کر ہمیں فرمایا یہ نماز عصر ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5439] ‏ عبدالعزیز بن مروان رحمہ اللہ کی مجلس میں بھی ایک مرتبہ یہی مسئلہ پیش آیا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جاؤ فلاں صحابی رضی اللہ عنہ سے پوچھ آؤ، تو ایک شخص نے کہا کہ مجھ سے سنیئے مجھے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے میرے بچپن میں یہی مسئلہ پوچھنے کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چھنگلیا یعنی سب سے چھوٹی انگلی پکڑ کر فرمایا دیکھ یہ تو ہے فجر کی نماز، پھر اس کے پاس والی انگلی تھام کر فرمایا یہ ہوئی ظہر کی، پھر انگوٹھا پکڑ کر فرمایا یہ ہے مغرب کی نماز، پھر شہادت کی انگلی پکڑ کر فرمایا یہ عشاء کی نماز، پھر مجھ سے کہا اب تمہاری کون سی انگلی باقی رہی، میں نے کہا بیچ کی، فرمایا اور نماز کون سی باقی رہی، میں نے کہا عصر کی، فرمایا یہی صلوۃ وسطیٰ ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:5445] ‏ لیکن یہ روایت بہت ہی غریب ہے، غرض صلوٰۃ وسطیٰ سے نماز عصر مراد ہونا بہت سی احادیث میں وارد ہے جن میں سے کوئی حسن ہے کوئی صحیح ہے کوئی ضعیف ہے۔ ترمذی مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیثیں ہیں۔

صفحہ نمبر852

پھر اس نماز کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تاکیدیں اور سختی کے ساتھ محافظت بھی ثابت ہے چنانچہ ایک حدیث میں ہے جس سے عصر کی نماز فوت ہو جائے گویا اس کا گھرانہ تباہ ہو گیا اور مال و اسباب برباد ہو گیا۔ [صحیح بخاری:552] ‏ اور حدیث میں ہے ابر والے دن نمازِ اول وقت پڑھو، سنو جس شخص نے عصر کی نماز چھوڑ دی اس کے اعمال غارت ہو جاتے ہیں۔ [سنن ابن ماجه:694، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز قبیلہ غفار کی ایک وادی میں جس کا نام حمیص تھا، ادا کی پھر فرمایا یہی نماز تم سے اگلے لوگوں پر بھی پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے ضائع کر دیا، سنو اسے پڑھنے والے کو دوہرا اجر ملتا ہے اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ تم تارے نہ دیکھ لو۔ [صحیح مسلم:830:صحیح] ‏

صفحہ نمبر853

ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے آزاد کردہ غلام ابویونس رحمہ اللہ سے فرماتی ہیں کہ میرے لیے ایک قرآن شریف لکھو اور جب اس آیت «حَافِظُوا» تک پہنچو تو مجھے اطلاع کرنا، چنانچہ جب آپ کو اطلاع دی گئی تو آپ رضی اللہ عنہا نے آیت «وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» کے بعد آیت «وصلوۃ العصر» لکھوایا اور فرمایا میں نے خود اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ [صحیح مسلم:629:صحیح] ‏ ایک روایت میں آیت «وھی صلوۃ العصر» کا لفظ بھی ہے [ ابن جریر ] ‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیوی صاحبہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عمرو بن رافع رضی اللہ عنہ کو جو آپ کے قرآن کے کاتب تھے، اسی طرح یہ آیت لکھوائی۔ [مؤطا:139/1:صحیح] ‏

اس حدیث کے بھی بہت سے طریقے ہیں اور کئی کتابوں میں مروی ہے کہ ام المؤمنین نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی الفاظ سنے ہیں، سیدنا نافع رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں نے یہ قرآن شریف اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہی عبارت واؤ کے ساتھ تھی، سیدنا ابن عباس اور عبید بن عسیر رضی اللہ عنہما کی قرأت بھی یونہی ہے، ان روایات کو مدنظر رکھ کر بعض حضرات کہتے ہیں کہ چونکہ واؤ عطف کیلئے ہوتا ہے کہ صلوٰۃ الوسطیٰ اور ہے اور صلوٰۃ عصر اور ہے لیکن اس کا جاب یہ ہے کہ اگر اسے بطور حدیث کے مانا جائے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہما والی حدیث بہت زیادہ صحیح ہے اور اس میں صراحت موجود ہے، رہا واؤ، سو ممکن ہے کہ زائد ہو عاطفہ نہ ہو جیسے آیت «وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ» [ 6۔ الانعام: 55 ] ‏ میں اور «وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ» [ 6۔ الانعام: 75 ] ‏ میں یا یہ واؤ عطف صفت کیلئے ہو عطف ذات کیلئے نہ ہو جیسے آیت «وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ» [ 33۔ الاحزاب: 40 ] ‏ میں اور جیسے آیت «سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرْعَىٰ» [ 87۔ الاعلی: 1-4 ] ‏ میں۔ اس کی مثالیں اور بھی بہت سی ہیں، شاعروں کے شعروں میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ سیبویہ جو نحویوں کے امام ہیں، فرماتے ہیں کہ «”مررت باخیک وصاحبک“» کہنا درست ہے حالانکہ صاحب اور اخ سے مراد ایک ہی شخص ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر854

اور اگر اس قرأت کے الفاظ کو بطور قرآنی الفاظ کے مانا جائے تو ظاہر ہے کہ اس خبر واحد سے قرأت قرآنی ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ تواتر ثابت نہ ہو، اسی لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اپنے مرتب کردہ قرآن میں اس قرأت کو نہیں لیا، اور نہ ساتوں قاریوں کی قرأت میں یہ الفاظ ہیں بلکہ نہ کسی اور ایسے معتبر قاری کی یہ قرات پائی گئی ہے، علاوہ ازیں ایک حدیث اور ہے جس سے اس قرأت کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ یہ آیت اتری «حافظو علی الصلوات والصلوٰۃ الوسطی وصلوٰۃ العصر» ہم ایک مدت تک اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس آیت کو پڑھتے رہے پھر یہ تلاوت منسوخ ہو گئی اور آیت یوں ہی رہی آیت «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ» [ البقرہ: 238 ] ‏ ایک شخص نے راوی حدیث سیدنا شفیق رضی اللہ عنہما سے کہا کہ پھر کیا یہ نماز عصر کی نماز ہی ہے، فرمایا میں تو سنا چکا کہ کس طرح آیت اتری اور کس طرح منسوخ ہوئی، [صحیح مسلم:630:صحیح] ‏ پس اس بنا پر یہ قرأت ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہما کی روایت والی یا تو لفظاً منسوخ کی جائے گی اور اگر واؤ کو مغائرت کیلئے مانا جائے تو لفظ و معنی دونوں کے اعتبار سے منسوخ کی جائے گی،

بعض کہتے ہیں اس سے مراد مغرب کی نماز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی یہ مروی ہے لیکن اس کی سند میں کلام ہے، بعض اور حضرات کا قول بھی یہی ہے اس کی ایک وجہ تو یہ بیان کی جاتی ہے کہ اور فرض نمازیں یا تو چار رکعت والی ہیں یا دو رکعت والی، اور اس کی تین رکعتیں ہیں پس یہ درمیانہ نماز ٹھہری۔ دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ فرض نمازوں کی یہ وتر ہے اور اس لیے بھی کہ اس کی فضیلت میں بھی بہت کچھ حدیثیں وارد ہوئی ہیں، بعض لوگ اس سے مراد عشاء کی نماز بھی بتلاتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں پانچ وقتوں میں سے ایک وقت کی نماز ہے لیکن ہم معین نہیں کر سکتے یہ مبہم ہے جس طرح لیلۃ القدر پورے سال میں یا پورے مہینے میں یا پچھلے دس دِنوں میں مبہم ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں پانچوں نمازوں کا مجموعہ مراد ہے اور بعض کہتے ہیں یہ عشاء اور صبح ہے۔ بعض کا قول ہے یہ جماعت کی نماز ہے بعض کہتے ہیں جمعہ کی نماز ہے، کوئی کہتا ہے صلوٰۃ خوف مراد ہے، کوئی کہتا ہے نمازِ عید مراد ہے، کوئی کہتا ہے صلوٰۃ ضحیٰ مراد ہے، بعض کہتے ہیں ہم توقف کرتے ہیں اور کسی قول کے قائل نہیں بنتے، اس لیے کہ دلیلیں مختلف ہیں، وجہ ترجیح معلوم نہیں، کسی قول پر اجماع ہوا نہیں بلکہ زمانہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک جھگڑا جاری رہا۔ جس طرح سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس بارے میں اس طرح مختلف تھے پھر انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔

صفحہ نمبر855

لیکن یہ یاد رہے کہ یہ پچھلے اقوال سب کے سب ضعیف ہیں، جھگڑا صرف صبح اور عصر کی نماز میں ہے اور صحیح احادیث سے عصر کی نماز کا صلوٰۃ وسطیٰ ہونا ثابت ہے پس لازم ہو گیا کہ ہم سب اقوال کو چھوڑ کر یہی عقیدہ رکھیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ نمازِ عصر ہے۔ امام ابومحمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہم اللہ نے اپنی کتاب فضائل شافعی میں روایت کی ہے کہ امام صاحب فرمایا کرتے تھے حدیث «کل ماقلت فکان عن النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بخلاف قولی مما یصح فحدیث النبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اولیٰ ولا تقلدونی» یعنی میرے جس کسی قول کیخلاف کوئی صحیح حدیث شریف مروی ہو تو حدیث ہی اولیٰ ہے خبردار میری تقلید نہ کرنا، امام شافعی رحمہ اللہ کے اس فرمان کو امام ربیع امام زعفرانی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی روایت کرتے ہیں، اور موسیٰ ابوالولید جارود رحمہ اللہ امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا «اذا صح الحدیث و قلت قولا فانا راجع عن قولی و قائل بذالک» یعنی میری جو بات حدیث شریف کیخلاف ہو، میں اپنی اس بات سے رجوع کرتا ہوں اور صاف کہتا ہوں کہ میرا مذہب وہی ہے جو حدیث میں ہو، یہ امام صاحب کی امانت اور سرداری ہے اور آپ جیسے ائمہ کرام میں سے بھی ہر ایک نے یہی فرمایا ہے کہ ان کے اقوال کو دین نہ سمجھا جائے۔ رحمھم اللہ و رضی عنہم اجمعین

اسی لیے قاضی ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا صلوٰۃ وسطیٰ کے بارے میں یہی مذہب سمجھنا چاہیئے کہ وہ عصر ہے، گو امام صاحب کا اپنا قول یہ ہے کہ وہ عصر نہیں ہے مگر آپ رحمہ اللہ کے اس فرمان کے مطابق حدیث صحیح کے خلاف اس قول کو پا کر ہم نے چھوڑ دیا۔ شافعی مذہب کے اور بھی بہت سے محدثین نے یہی فرمایا ہے فالحمدللہ بعض فقہاء شافعی تو کہتے ہیں کہ امام صاحب کا صرف ایک ہی قول ہے کہ وہ صبح کی نماز ہے لیکن یہ سب باتیں طے کرنے کیلئے تفسیر مناسب نہیں، علیحدہ اس کا بیان میں نے کر دیا ہے «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔

صفحہ نمبر856

پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع خضوع، ذلت اور مسکینی کے ساتھ کھڑے ہوا کرو جس کو یہ لازم ہے کہ انسانی بات چیت نہ ہو اسی لیے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے سلام کا جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں نہ دیا اور بعد میں فراغت فرمایا کہ نماز مشغولیت کی چیز ہے۔ [صحیح بخاری:1199] ‏ اور سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ سے جبکہ انہوں نے نماز پڑھتے ہوئے بات کی تو فرمایا نماز میں انسانی بات چیت نہ کرنی چاہیئے یہ تو صرف تسبیح اور ذِکر اللہ ہے۔ [صحیح مسلم:537:صحیح] ‏ مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے لوگ ضروری بات چیت بھی نماز میں کر لیا کرتے تھے، جب یہ آیت اتری تو چپ رہنے کا حکم دے دیا گیا، [مسند احمد:368/4:صحیح] ‏ لیکن اس حدیث میں ایک اشکال یہ ہے کہ علماء کرام کی ایک جماعت کے نزدیک نماز میں بات چیت کرنے کی حرمت حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف کی ہجرت سے پہلے ہی مکہ شریف میں نازل ہو چکی تھی۔

صفحہ نمبر857

چنانچہ صحیح مسلم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حبشہ کی ہجرت سے پہلے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تھے آپ نماز میں ہوتے پھر بھی جواب دیتے، جب حبشہ سے ہم واپس آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے آپ کی نماز کی حالت میں ہی سلام کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہ دیا، اب میرے رنج و غم کا کچھ نہ پوچھئے نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا عبداللہ رضی اللہ عنہما اور کوئی بات نہیں میں نماز میں تھا اس وجہ سے میں نے جواب نہ دیا، اللہ جو چاہے نیا حکم اتارے، اس نے یہ نیا حکم نازل فرمایا ہے کہ نماز میں نہ بولا کرو، [سنن ابوداود:924، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پس یہ واقعہ ہجرت مدینہ سے پہلے کا ہے اور یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے، اب بعض تو کہتے ہیں کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے قول کا مطلب جنس کلام سے ہے اور اس کی حرمت پر اس آیت سے استدلال بھی خود ان کا فہم ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ»، بعض کہتے ہیں ممکن ہے دو دفعہ حلال ہوا ہو اور دو دفعہ ممانعت ہوئی ہو لیکن پہلا قول زیادہ ظاہر ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما والی روایت جو ابویعلیٰ میں ہے اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب نہ دینے سے مجھے یہ خوف ہوا کہ شاید میرے بارے میں کوئی وحی نازل ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فارغ ہو کر حدیث «وعلیک اسلام ایھا المسلم و رحمتہ اللہ» نماز میں جب تم ہو تو خاموش رہا کرو ۔ [میزان:204/1:منقطع و ضعیف] ‏

صفحہ نمبر858

چونکہ نمازوں کی پوری حفاظت کرنے کا فرمان صادر ہو چکا تھا اس لیے اب اس حالت کو بیان فرمایا جاتا جس میں تمام ادب و آداب کی پوری رعایت عموماً نہیں رہ سکتی، یعنی میدان جنگ میں جبکہ دشمن سر پر ہو تو فرمایا کہ جس طرح ممکن ہو سوار پیدل قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کر لیا کرو، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آیت کا یہی مطلب بیان کرتے ہیں بلکہ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں تو جانتا ہوں یہ مرفوع ہے، [صحیح بخاری:4535:صحیح] ‏ مسلم شریف میں ہے سخت خوف کے وقت اشارے سے ہی نماز پڑھ لیا کرو، گو سواری پر سوار ہو، سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن سفیان کے قتل کیلئے بھیجا تھا تو آپ نے اسی طرح نماز عصر اشارے سے ادا کی تھی۔ [سنن ابوداود:1249، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏ پس اس میں جناب باری نے اپنے بندوں پر بہت آسانی کر دی اور بوجھ کو ہلکا کر دیا،

صلوٰۃ خوف ایک رکعت پڑھنی بھی آئی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی حضر کی حالت میں چار رکعتیں فرض کی ہیں اور سفر کی حالت میں دو اور خوف کی حالت میں ایک۔ [صحیح مسلم:687:صحیح] ‏

صفحہ نمبر859

امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس وقت ہے جب بہت زیادہ خوف ہو، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور بہت سے اور بزرگ صلوٰۃ خوف ایک رکعت بتاتے ہیں، امام بخاری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے کہ فتوحات قلعہ کے موقع پر اور دشمن کے مڈبھیڑ کے موقع پر نماز ادا کرنا۔ اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر فتح قریب آ گئی ہو اور نماز پڑھنے پر قدرت نہ ہو تو ہر شخص اپنے طور پر اشارے سے نماز پڑھ لے، اگر اتنا وقت بھی نہ ملے تو تاخیر کریں یہاں تک کہ لڑائی ختم ہو جائے اور چین نصیب ہو تو دو رکعتیں ادا کر لیں ورنہ ایک رکعت کافی ہے لیکن صرف تکبیر کہہ لینا کافی نہیں بلکہ تاخیر کر دیں یہاں تک کہ امن ملے،

مکحول رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تستر قلعہ کی لڑائی میں میں بھی فوج میں تھا، صبح صادق کے وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی، ہمیں وقت ہی نہ ملا کہ نماز ادا کرتے، خوب دن چڑھے اس دن ہم نے صبح کی نماز پڑھی، اگر اس نماز کے بدلے میں مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے مل جائے تاہم میں خوش نہیں ہوں، [صحیح بخاری:944] ‏ بعد ازاں امام المحدثین نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں ہے کہ جنگ خندق میں سورج غروب ہو جانے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز نہ پڑھ سکے، پھر دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو بنی قریظہ کی طرف بھیجا تو ان سے فرما دیا تھا کہ تم میں سے کوئی بھی بنی قریظہ سے ورے نماز عصر نہ پڑھے، اب جبکہ نماز عصر کا وقت آ گیا تو بعض نے تو وہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، وہیں جا کر نماز پڑھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ان دونوں گروہوں میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں کہا، [المرجع السابق] ‏ پس اس سے امام بخاری یہ مسئلہ ثابت کرتے ہیں گو جمہور اس کے مخالف ہیں وہ کہتے ہیں سورۃ نساء میں جو نماز خوف کا حکم ہے اور جس نماز کی مشروعیت اور طریقہ احادیث میں وارد ہوا ہے وہ جنگ خندق کے بعد کا ہے جیسا کہ ابوسعید وغیرہ کی روایت میں صراحتاً بیان ہے،

لیکن امام بخاری امام مکحول اور امام اوزاعی رحمہ اللہ علیہم کا جواب یہ ہے کہ اس کی مشروعیت بعد میں ہونا اس جواز کیخلاف نہیں، ہو سکتا ہے کہ یہ بھی جائز ہو اور وہ بھی طریقہ ہو، کیونکہ ایسی حالت میں شاذو نادر کبھی ہی ہوتی ہے اور خود صحابہ رضی اللہ عنہم نے فاروق اعظم کے زمانے میں فتح تستر میں اس پر عمل کیا اور کسی نے انکار نہیں کیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر860

پھر فرمان ہے کہ امن کی حالت میں بجا آوری کا پورا خیال رکھو، جس طرح میں نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی اور جُہل کے بعد علم دیا تو تمہیں بھی چاہیئے کہ اس کے شکریہ میں ذکر اللہ باطمینان کیا کرو، جیسا کہ نماز خوف کا بیان کر کے فرمایا جب اطمینان ہو جائے تو نمازوں کو اچھی طرح قائم کرو، نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر فرض ہے، صلوٰۃ خوف کا پورا بیان سورۃ نساء کی آیت «وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ» [ 4-النسأ: 102 ] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ تعالیٰ۔

صفحہ نمبر861

بیوگان کے قیام کا مسئلہ ٭٭

اکثر مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت اس سے پہلے کی آیت یعنی چار مہینے دس رات کی عدت والی آیت کی منسوخ ہو چکی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے تو پھر آپ رضی اللہ عنہ اسے قرآن کریم میں کیوں لکھوا رہے ہیں، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا بھتیجے جس طرح اگلے قرآن میں یہ موجود ہے یہاں بھی موجود ہی رہے گی، ہم کوئی تغیر و تبدیل نہیں کر سکتے۔ [صحیح بخاری:4530] ‏

صفحہ نمبر863

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں پہلے تو یہی حکم تھا کہ سال بھر تک نان نفقہ اس بیوہ عورت کو میت کے مال سے دیا جائے اور اسی کے مکان میں یہ رہے، پھر آیت میراث نے اسے منسوخ کر دیا اور خاوند کی اولاد ہونے کی صورت میں مال متروکہ کا آٹھواں حصہ اور اولاد نہ ہونے کے وقت چوتھائی مال ورثہ کا مقرر کیا گیا اور عدت چار ماہ دس دن مقرر ہوئی۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:871/2] ‏ اکثر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے، سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں سورۃ الاحزاب کی آیت «يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا فَمَتِّعُوْهُنَّ وَسَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا» [ 33۔ الاحزاب: 49 ] ‏، نے اسے منسوخ کر دیا۔

صفحہ نمبر864

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں سات مہینے بیس دن جو اصلی عدت چار مہینے دس دن کے سوا کے ہیں اس آیت میں اس مدت کا حکم ہو رہا ہے، عدت تو واجب ہے لیکن یہ زیادتی کی مدت کا عورت کو اختیار ہے خواہ وہیں بیٹھ کر یہ زمانہ گزار دے خواہ نہ گزارے اور چلی جائے، میراث کی آیت نے رہنے سہنے کے مکان کو بھی منسوخ کر دیا، وہ جہاں چاہ عدت گزارے مکان کا خرچ خاوند کے ذمہ نہیں، ۱ [صحیح بخاری:4531] ‏ پس ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت نے سال بھر تک کی عدت کو واجب ہی نہیں کیا پھر منسوخ ہونے کے کیا معنی؟ یہ تو صرف خاوند کی وصیت ہے اور اسے بھی عورت پورا کرنا چاہے تو کرے ورنہ اس پر جبر نہیں، وصیتہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے جیسے آیت «يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ» [ 4۔ النسآء: 11 ] ‏، اس کا نصب «فلتو صوالھن» کو محذوف مان کر ہے۔ «وصیتہ» کی قرأت یہی ہے یعنی «کتب علیکم وصیتہ» پس اگر عورتیں سال بھر تک اپنے فوت شدہ خاوندوں کے مکانوں میں رہیں تو انہیں نہ نکالا جائے اور اگر وہ عدت گزار کر جانا چاہیں تو ان پر کوئی جبر نہیں۔

صفحہ نمبر865

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور بھی بہت سے لوگ اسی کو اختیار کرتے ہیں اور باقی کی جماعت اسے منسوخ بتاتی ہے، پس اگر ان کا ارادہ اصلی عدت کے بعد کے زمانہ کے منسوخ ہونے کا ہے تو خیر ورنہ اس بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے، وہ کہتے ہیں خاوند کے گھر میں عدت گزارنی ضروری ہے اور اس کی دلیل موطا مالک کی حدیث ہے کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ صاحبہ فریعہ بن مالک رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا ہمارے غلام بھاگ گئے تھے جنہیں ڈھونڈنے کیلئے میرے خاوند گئے قدوم میں ان غلاموں سے ملاقات ہوئی لیکن انہوں نے آپ کو قتل کر دیا ان کا کوئی مکان نہیں جس میں عدت گزاروں اور نہ کچھ کھانے پینے کو ہے اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو اپنے میکے چلی جاؤں اور وہیں عدت پوری کروں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اجازت ہے، میں لوٹی ابھی تو میں حجرے میں ہی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا یا خود بلایا اور فرمایا تم نے کیا کہا، میں نے پھر قصہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی گھر میں ہی ٹھہری رہو یہاں تک کہ عدت گزر جائے، چنانچہ میں نے وہیں عدت کا زمانہ پورا کیا یعنی چار مہینے دس دن۔

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما کے زمانہ میں آپ رضی اللہ عنہما نے مجھے بلوایا اور مجھ سے یہی مسئلہ پوچھا، میں نے اپنا یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سمیت سنایا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے بھی اسی کی پیروی کی اور یہی فیصلہ دیا [موطا591/2] ‏، اس حدیث کو امام ترمذی حسن صحیح کہتے ہیں۔

صفحہ نمبر866

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com