John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-A'raaf

Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 31–60 · Quran text →

برہنہ ہو کر طواف ممنوع قرار دے دیا گیا ٭٭

اس آیت میں مشرکین کا رد ہے۔ وہ ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے جیسے کہ پہلے گزرا۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ننگے مرد دن کو طواف کرتے اور ننگی عورتیں رات کو، اس وقت عورتیں کہا کرتی تھیں کہ آج اس کے خاص جسم کا کل حصہ یا کچھ حصہ گو ظاہر ہو لیکن کسی کو وہ اس کا دیکھنا جائز نہیں کرتیں۔ [صحیح مسلم:3028] ‏

پس اس کے برخلاف مسلمانوں کو حکم ہوتا ہے کہ اپنا لباس پہن کر مسجدوں میں جائیں، اللہ تعالیٰ زینت کے لینے کا حکم دیتا ہے اور زینت سے مراد لباس ہے اور لباس وہ ہے جو اعضاء مخصوصہ کو چھپا لے اور جو اس کے سوا ہو مثلاً اچھا کپڑا وغیرہ۔ ایک حدیث میں ہے کہ یہ آیت جوتیوں سمیت نماز پڑھنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [الدر المنشور للسیوطی:146/3:ضعیف] ‏ لیکن ہے یہ غور طلب اور اس کی صحت میں بھی کلام ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

یہ آیت اور جو کچھ اس کے معنی میں سنت میں وارد ہے، اس سے نماز کے وقت زینت کرنا مستحب ثابت ہوتا ہے۔ خصوصاً جمعہ اور عید کے دن، اور خوشبو لگانا بھی مسنون طریقہ ہے۔ اس لیے کہ وہ زینت میں سے ہی ہے اور مسواک کرنا بھی۔ کیونکہ وہ بھی زینت کو پورا کرنے میں داخل ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سب سے افضل لباس سفید کپڑا ہے۔ جیسے کہ مسند احمد کی صحیح حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سفید کپڑے پہنو، وہ تمہارے تمام کپڑوں سے افضل ہیں اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ سب سرموں میں بہتر سرمہ اثمد ہے، وہ نگاہ کو تیز کرتا ہے اور بالوں کو اگاتا ہے۔ [سنن ترمذي:994،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

سنن کی ایک اور حدیث میں ہے: سفید کپڑوں کو ضروری جانو اور انہیں پہنو، وہ بہت اچھے اور بہت پاک صاف ہیں، انہی میں اپنے مردوں کو کفن دو۔ [سنن ترمذي:2810،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2890

طبرانی میں مروی ہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نے ایک چادر ایک ہزار کو خریدی تھی , نمازوں کے وقت اسے پہن لیا کرتے تھے۔ اس کے بعد آدھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام طب کو اور حکمت کو جمع کر دیا . ارشاد ہے: کھاؤ پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے: ”جو چاہے کھا، جو چاہے پی لیکن دو باتوں سے بچو، اسراف اور تکبر سے۔“

ایک مرفوع حدیث میں ہے: کھاؤ پیو، پہنو اوڑھو لیکن صدقہ بھی کرتے رہو اور تکبر اور اسراف سے بچتے رہو۔ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنی نعمت کا اثر اپنے بندے کے جسم پر دیکھے۔ [مسند احمد:181/2:حسن] ‏

آپ فرماتے ہیں: کھاؤ اور پہنو اور صدقہ کرو اور اسراف سے اور خود نمائی سے رکو۔ [سنن نسائی:2560، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں: انسان اپنے پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرتا۔ انسان کو چند لقمے جس سے اس کی پیٹھ سیدھی رہے، کافی ہیں۔ اگر یہ بس میں نہ ہو تو زیادہ سے زیادہ اپنے پیٹ کے تین حصے کر لے۔ ایک کھانے کے لئے، ایک پانی کے لئے، ایک سانس کے لئے۔ [سنن ترمذي:2380، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

فرماتے ہیں: یہ بھی اسراف ہے کہ تو جو چاہے، کھائے۔ [سنن ابن ماجه:3352، قال الشيخ الألباني:موضوع] ‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے۔

مشرکین جہاں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے وہاں زمانہ حج میں چربی کو بھی اپنے اوپر حرام جانتے تھے۔ اللہ نے دونوں باتوں کے خلاف حکم نازل فرمایا۔ یہ بھی اسراف ہے کہ اللہ کے حلال کردہ کھانے کو حرام کر لیا جائے۔ اللہ کی دی ہوئی حلال روزی بیشک انسان کھائے پئے۔ حرام چیز کا کھانا بھی اسراف ہے۔ اللہ کی مقرر کردہ حرام حلال کی حدوں سے گزر نہ جاؤ۔ نہ حرام کو حلال کرو، نہ حلال کو حرام کہو۔ ہر ایک حکم کو اسی کی جگہ پر رکھو۔ ورنہ مسرف اور دشمن رب بن جاؤ گے۔

صفحہ نمبر2891

آخر کار مومن ہی اللہ کی رحمت کا سزا وار ٹھہرا ٭٭

کھانے، پینے، پہننے، اوڑھنے کی ان بعض چیزوں کو بغیر اللہ کے فرمائے، حرام کر لینے والوں کی تردید ہو رہی ہے اور انہیں ان کے فعل سے روکا جا رہا ہے۔ یہ سب چیزیں اللہ پر ایمان رکھنے والوں اور اس کی عبادت کرنے والوں کے لیے ہی تیار ہوئی ہیں۔ گو دنیا میں ان کے ساتھ اور لوگ بھی شریک ہیں لیکن پھر قیامت کے دن یہ الگ کر دیئے جائیں گے اور صرف مومن ہی اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی ہیں کہ مشرک ننگے ہو کر اللہ کے گھر کا طواف کرتے تھے۔ سیٹیاں اور تالیاں بجاتے جاتے تھے۔ پس یہ آیتیں اتریں۔

صفحہ نمبر2892

اثم اور بغی، کیا فرق ہے؟ ٭٭

بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ سے زیادہ غیرت والا کوئی نہیں۔ [صحیح بخاری:4634] ‏

سورۃ الانعام میں چھپی کھلی بےحیائیوں کے متعلق پوری تفسیر گزر چکی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ کو حرام کر دیا ہے اور ناحق ظلم و تعدی، سرکشی اور غرور کو بھی اس نے حرام کیا ہے۔ پس «اثم» سے مراد ہر وہ گناہ ہے جو انسان آپ کرے اور «بغی» سے مراد وہ گناہ ہے جس میں دوسرے کا نقصان کرے یا اس کی حق تلفی کرے۔

اسی طرح رب کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا بھی حرام ہے اور ذات حق پر بہتان باندھنا بھی۔ مثلاً اس کی اولاد بتانا وغیرہ۔ خلاف واقعہ باتیں بھی جہالت کی باتیں ہیں۔ جیسے فرمان ہے «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ» [22-الحج:30] ‏ ” بتوں کی نجاست سے بچو۔ “

صفحہ نمبر2893

موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔

صفحہ نمبر2894

موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔

صفحہ نمبر2894

موت کی ساعت طے شدہ اور اٹل ہے ٭٭

ہر زمانے اور ہر زمانے والوں کے لیے اللہ کی طرف سے انتہائی مدت مقرر ہے جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔ ناممکن ہے کہ اس سے ایک منٹ کی تاخیر ہو یا ایک لمحے کی جلدی ہو۔ انسانوں کو ڈراتا ہے کہ جب وہ رسولوں سے ڈرانا اور رغبت دلانا سنیں تو بدکاریوں کو ترک کر دیں اور اللہ کی اطاعت کی طرف جھک جائیں۔ جب وہ یہ کریں گے تو وہ ہر کھٹکے، ہر ڈر سے، ہر خوف اور ناامیدی سے محفوظ ہو جائیں گے اور اگر اس کے خلاف کیا۔ نہ دل سے مانا، نہ عمل کیا تو وہ دوزخ میں جائیں گے اور وہیں پڑے جھلستے رہیں گے۔

صفحہ نمبر2894

اللہ پر بہتان لگانے والا سب سے بڑا ظالم ہے ٭٭

واقعہ یہ ہے کہ سب سے بڑا ظالم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے اور وہ بھی جو اللہ کے کلام کی آیتوں کو جھوٹا سمجھے،

انہیں ان کا مقدر ملے گا۔ اس کے معنی ایک تو یہ ہیں کہ انہیں سزا ہو گی، ان کے منہ کالے ہوں گے، ان کے اعمال کا بدلہ مل کر رہے گا۔ اللہ کے وعدے وعید پورے ہو کر رہیں گے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ان کی عمر، عمل، رزق جو لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے وہ دنیا میں تو ملے گا۔ یہ قول قوی معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد کا جملہ اس کی تائید کرتا ہے۔ اسی مطلب کی آیت «إِنَّ الَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّـهِ الْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ مَتَاعٌ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِيقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِيدَ بِمَا كَانُوا يَكْفُرُونَ» [10-يونس:69-70] ‏ ہے کہ ” اللہ پر جھوٹ باتیں گھڑ لینے والے فلاح کو نہیں پاتے، گو دنیا میں کچھ فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر کار ہمارے سامنے ہی پیش ہوں گے، اس وقت ان کے کفر کے بدلے ہم انہیں سخت سزا دیں گے۔ “

ایک اور آیت میں ہے: کافروں کے کفر سے تو غمگین نہ ہو، ان کا لوٹنا ہماری جانب ہی ہو گا، پھر ہم خود انہیں ان کے کرتوت سے آگاہ کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے، وہ تھوڑا سا دنیوی فائدہ اٹھا لیں، الخ۔ پھر فرمایا کہ ”ان کی روحوں کو قبض کرنے کیلئے ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے آتے ہیں تو ان کو بطور طنز کہتے ہیں کہ اب اپنے معبودوں کو کیوں نہیں پکارتے کہ وہ تمہیں اس عذاب سے بچا لیں، آج وہ کہاں ہیں؟ تو یہ نہایت حسرت سے جواب دیتے ہیں کہ افسوس وہ تو کھو گئے، ہمیں ان سے اب کسی نفع کی امید نہیں رہی۔ پس اپنے کفر کا آپ ہی اقرار کر کے مرتے ہیں۔“

صفحہ نمبر2897

کفار کی گردنوں میں طوق ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ «فِي النَّارِ» یا تو «فِي أُمَمٍ» کا بدل ہے یا «فِي أُمَمٍ» میں «فِي» معنی میں «مع» کے ہے۔

ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ

اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرة:166-167] ‏ یعنی ” وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ “

صفحہ نمبر2898

یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار اور مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے، ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں گے کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔

چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» [33-الأحزاب:66] ‏ ” جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ “

انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» [16-النحل:88] ‏ ” جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ “

اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنكبوت:13] ‏ یعنی ” اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ “

اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔

صفحہ نمبر2899

اب وہ جن کی مانی جاتی رہی، اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے، تم بھی گمراہ ہوئے۔ اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:31-33] ‏ ” کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (‏کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (‏پورا پورا)۔

صفحہ نمبر2900

کفار کی گردنوں میں طوق ٭٭

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ «فِي النَّارِ» یا تو «فِي أُمَمٍ» کا بدل ہے یا «فِي أُمَمٍ» میں «فِي» معنی میں «مع» کے ہے۔

ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ

اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» [2-البقرة:166-167] ‏ یعنی ” وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ “

صفحہ نمبر2898

یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار اور مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے، ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں گے کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔

چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» [33-الأحزاب:66] ‏ ” جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ “

انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» [16-النحل:88] ‏ ” جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ “

اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» [29-العنكبوت:13] ‏ یعنی ” اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ “

اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔

صفحہ نمبر2899

اب وہ جن کی مانی جاتی رہی، اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے، تم بھی گمراہ ہوئے۔ اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ۔

اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» [34-سبأ:31-33] ‏ ” کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (‏کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (‏پورا پورا)۔

صفحہ نمبر2900

بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں ٭٭

کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں۔

چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لیے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔

صفحہ نمبر2902

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» پڑھی۔ یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14620:صحیح] ‏

مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی۔ سب بیٹھ گئے، ہم اس طرح خاموش اور باادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کر دو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ پھر فرمایا: مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے، اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے، ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی ہے، فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے اطمینان والی روح! اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل۔ یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا، وہ لے کر کہتے ہیں: فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہو جاتی ہے، اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس میرے بندے کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔

صفحہ نمبر2903

پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے۔ وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے، کون تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے، اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی، اس کی خوشبو اور وہاں کی ہوا آتی رہتی ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اسے کشادگی ہی کشادگی نظر آتی ہے۔ اس کے پاس ایک نہایت حسین و جمیل شخص لباس فاخرہ پہنے ہوئے خوشبو لگائے ہوئے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: خوش ہو جا، یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ یہ اس سے پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے بھلائی پائی جاتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اب تو مومن آرزو کرنے لگتا ہے کہ اللہ کرے قیامت آج ہی قائم ہو جائے تاکہ میں جنت میں پہنچ کر اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو پا لوں اور کافر کی جب دنیا کی آخری گھڑی آتی ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آسمان سے آتے ہیں، ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے، اس کی نگاہ تک اسے یہی نظر آتے ہیں۔ پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف چل۔ یہ سن کر روح بدن میں چھپنے لگتی ہے جسے ملک الموت جبراً گھسیٹ کر نکالتے ہیں۔ اسی وقت وہ فرشتے ان کے ہاتھ سے ایک آنکھ جھپکنے میں لے لیتے ہیں اور اس جہنمی ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے نہایت ہی سڑی ہوئی بدبو نکلتی ہے، یہ اسے لے کر چڑھنے لگتے ہیں۔ فرشتوں کا جو گروہ ملتا ہے، اس سے پوچھتا ہے کہ ناپاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کی روح کا بدترین نام دنیا میں تھا، انہیں بتاتے ہیں۔ پھر آسمان کا دروازہ اس کیلئے کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» تلاوت فرمائی۔ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہوتا ہے: اس کی کتاب سجین میں سب سے نیچے کی زمین میں رکھو پھر اس کی روح وہاں سے پھینک دی جاتی ہے۔

صفحہ نمبر2904

پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» [22-الحج:31] ‏ یعنی ” جس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا گویا وہ آسمان سے گر پڑا پس اسے یا تو پرند چرند اچک لے جائیں گے یا ہوائیں کسی دور دراز کی ڈراؤنی ویران جگہ پر پھینک دیں گی۔ “ اب اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں۔ اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ یہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ جواب دیتا ہے: افسوس! مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: بتا اس شخص کی بابت تو کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ یہ کہتا ہے: آہ! میں اس کا جواب بھی نہیں جانتا۔ اسی وقت آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے غلام نے غلط کہا۔ اس کے لئے جہنم کی آگ بچھا دو اور جہنم کا دروازہ اس کی قبر کی طرف کھول دو۔ وہاں سے گرمی اور آگ کے جھونکے آنے لگتے ہیں، اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ اس کے پاس ایک شخص نہایت مکروہ اور ڈراؤنی صورت والا، برے کپڑے پہنے، بری بدبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اب اپنی برائیوں کا مزہ چکھ، اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے تو چہرے سے وحشت اور برائی ٹپک رہی ہے؟ یہ جواب دیتا ہے: میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ یہ کہتا ہے: یااللہ! قیامت قائم نہ ہو۔ [مسند احمد:287/4-288:صحیح] ‏

اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں۔ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے، یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ کافر کی قبر میں اندھا، بہرا، گونگا فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے۔ پھر اسے جیسا وہ تھا، اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرز مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے۔ [مسند احمد:295/4-296:صحیح] ‏

ابن جریر میں ہے کہ نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں: اے مطمئن نفس! جو طیب جسم میں تھا، تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔

صفحہ نمبر2905

فرماتے ہیں کہ جب اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں، دروازہ کھلواتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ اسے مرحبا کہہ کر وہی کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اس آسمان میں پہنچتے ہیں جہاں اللہ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ برے شخص سے وہ کہتے ہیں: اے خبیث نفس! جو خبیث جسم میں تھا، تو برا بن کر نکل اور تیز کھولتے ہوئے پانی اور لہو پیپ اور اسی قسم کے مختلف عذابوں کی طرف چل۔ اس کے نکلنے تک فرشتے یہی سناتے رہتے ہیں۔ پھر اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں، اس خبیث کو مرحبا نہ کہو۔ یہ تھی بھی خبیث جسم میں، تو بد بن کر لوٹ جا۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور آسمان و زمین کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہے۔ پھر قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔ [سنن ابن ماجه:4262، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں، نہ ان کی روحیں۔ اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو «جمل» ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں لیکن ایک قرأت میں «جمل» ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔

مطلب یہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکے، نہ پہاڑ۔ اسی طرح کافر جنت میں نہیں جا سکتا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے۔ ظالموں کی یہی سزا ہے۔

صفحہ نمبر2906

بدکاروں کی روحیں دھتکاری جاتی ہیں ٭٭

کافروں کے نہ تو نیک اعمال اللہ کی طرف چڑھیں، نہ ان کی دعائیں قبول ہوں، نہ ان کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے کھلیں۔

چنانچہ حدیث میں ہے کہ جب بدکاروں کی روحیں قبض کی جاتی ہیں اور فرشتے انہیں لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں تو فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ کہتے ہیں: یہ خبیث روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بد سے بد نام لے کر بتاتے ہیں کہ فلاں کی۔ یہاں تک کہ یہ اسے آسمان کے دروازے تک پہنچاتے ہیں لیکن ان کے لیے دروازہ کھولا نہیں جاتا۔

صفحہ نمبر2902

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» پڑھی۔ یہ بہت لمبی حدیث ہے جو سنن میں موجود ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14620:صحیح] ‏

مسند احمد میں یہ حدیث پوری یوں ہے: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک انصاری کے جنازے میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب قبرستان پہنچے تو قبر تیار ہونے میں کچھ دیر تھی۔ سب بیٹھ گئے، ہم اس طرح خاموش اور باادب تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرند ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک تنکا تھا جسے آپ زمین پر پھرا رہے تھے۔ تھوڑی دیر میں آپ نے سر اٹھا کر دو بار یا تین بار ہم سے فرمایا کہ عذاب قبر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو۔ پھر فرمایا: مومن جب دنیا کی آخری اور آخرت کی پہلی گھڑی میں ہوتا ہے، اس کے پاس آسمان سے نورانی چہروں والے فرشتے آتے ہیں گویا کہ ان کا منہ آفتاب ہے، ان کے ساتھ جنت کا کفن اور جنت کی خوشبو ہوتی ہے۔ وہ آ کر مرنے والے مومن کے پاس بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک اس کی نگاہ کام کرتی ہے، فرشتے ہی فرشتے نظر آتے ہیں پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے اطمینان والی روح! اللہ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف چل۔ یہ سنتے ہی وہ روح اس طرح بدن سے نکل جاتی ہے جیسے مشک کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپک جائے۔ اسی وقت ایک پلک جھپکنے کے برابر کی دیر میں وہ جنتی فرشتے اس پاک روح کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں رکھ لیتے ہیں، اس میں ایسی عمدہ اور بہترین خوشبو نکلتی ہے کہ کبھی دنیا والوں نے نہ سونگھی ہو۔ اب یہ اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ فرشتوں کی جو جماعت انہیں ملتی ہے، وہ پوچھتی ہے کہ یہ پاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کا بہتر سے بہتر جو نام دنیا میں مشہور تھا، وہ لے کر کہتے ہیں: فلاں کی۔ یہاں تک کہ آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ دروازہ کھلوا کر اوپر چڑھ جاتے ہیں۔ یہاں سے اس کے ساتھ اسے دوسرے آسمان تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کی اور بڑی جماعت ہو جاتی ہے، اس طرح ساتویں آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے: اس میرے بندے کی کتاب علیین میں رکھ دو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو۔ میں نے انہیں اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹاؤں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا۔

صفحہ نمبر2903

پس وہ روح لوٹا دی جاتی ہے۔ وہیں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ شخص جو تم میں بھیجے گئے، کون تھے؟ وہ کہتا ہے: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں کہ تجھے کیسے معلوم ہوا؟ جواب دیتا ہے کہ میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اسے سچا مانا۔ وہیں آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ میرا بندہ سچا ہے، اس کے لئے جنت کا فرش بچھا دو۔ اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دو۔ پس اس کے پاس جنت کی تروتازگی، اس کی خوشبو اور وہاں کی ہوا آتی رہتی ہے اور اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے، اسے کشادگی ہی کشادگی نظر آتی ہے۔ اس کے پاس ایک نہایت حسین و جمیل شخص لباس فاخرہ پہنے ہوئے خوشبو لگائے ہوئے آتا ہے اور اس سے کہتا ہے: خوش ہو جا، یہی وہ دن ہے جس کا تجھے وعدہ دیا جاتا تھا۔ یہ اس سے پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے چہرے سے بھلائی پائی جاتی ہے۔ وہ جواب دیتا ہے کہ میں تیرا نیک عمل ہوں۔ اب تو مومن آرزو کرنے لگتا ہے کہ اللہ کرے قیامت آج ہی قائم ہو جائے تاکہ میں جنت میں پہنچ کر اپنے مال اور اپنے اہل و عیال کو پا لوں اور کافر کی جب دنیا کی آخری گھڑی آتی ہے تو اس کے پاس سیاہ چہرے والے فرشتے آسمان سے آتے ہیں، ان کے ساتھ ٹاٹ ہوتا ہے، اس کی نگاہ تک اسے یہی نظر آتے ہیں۔ پھر ملک الموت آ کر اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں: اے خبیث روح! اللہ کی ناراضگی اور اس کے غضب کی طرف چل۔ یہ سن کر روح بدن میں چھپنے لگتی ہے جسے ملک الموت جبراً گھسیٹ کر نکالتے ہیں۔ اسی وقت وہ فرشتے ان کے ہاتھ سے ایک آنکھ جھپکنے میں لے لیتے ہیں اور اس جہنمی ٹاٹ میں لپیٹ لیتے ہیں اور اس سے نہایت ہی سڑی ہوئی بدبو نکلتی ہے، یہ اسے لے کر چڑھنے لگتے ہیں۔ فرشتوں کا جو گروہ ملتا ہے، اس سے پوچھتا ہے کہ ناپاک روح کس کی ہے؟ یہ اس کی روح کا بدترین نام دنیا میں تھا، انہیں بتاتے ہیں۔ پھر آسمان کا دروازہ اس کیلئے کھلوانا چاہتے ہیں مگر کھولا نہیں جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت «لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ» تلاوت فرمائی۔ جناب باری عزوجل کا ارشاد ہوتا ہے: اس کی کتاب سجین میں سب سے نیچے کی زمین میں رکھو پھر اس کی روح وہاں سے پھینک دی جاتی ہے۔

صفحہ نمبر2904

پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ» [22-الحج:31] ‏ یعنی ” جس نے اللہ کے ساتھ شریک کیا گویا وہ آسمان سے گر پڑا پس اسے یا تو پرند چرند اچک لے جائیں گے یا ہوائیں کسی دور دراز کی ڈراؤنی ویران جگہ پر پھینک دیں گی۔ “ اب اس کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ اور اس کے پاس دو فرشتے پہنچتے ہیں۔ اسے اٹھا کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں: تیرا رب کون ہے؟ یہ کہتا ہے: ہائے ہائے! مجھے خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: تیرا دین کیا ہے؟ جواب دیتا ہے: افسوس! مجھے اس کی بھی خبر نہیں۔ پوچھتے ہیں: بتا اس شخص کی بابت تو کیا کہتا ہے جو تم میں بھیجے گئے تھے؟ یہ کہتا ہے: آہ! میں اس کا جواب بھی نہیں جانتا۔ اسی وقت آسمان سے ندا ہوتی ہے کہ میرے غلام نے غلط کہا۔ اس کے لئے جہنم کی آگ بچھا دو اور جہنم کا دروازہ اس کی قبر کی طرف کھول دو۔ وہاں سے گرمی اور آگ کے جھونکے آنے لگتے ہیں، اس کی قبر تنگ ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی ادھر ہو جاتی ہیں۔ اس کے پاس ایک شخص نہایت مکروہ اور ڈراؤنی صورت والا، برے کپڑے پہنے، بری بدبو والا آتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ اب اپنی برائیوں کا مزہ چکھ، اسی دن کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ یہ پوچھتا ہے: تو کون ہے؟ تیرے تو چہرے سے وحشت اور برائی ٹپک رہی ہے؟ یہ جواب دیتا ہے: میں تیرا خبیث عمل ہوں۔ یہ کہتا ہے: یااللہ! قیامت قائم نہ ہو۔ [مسند احمد:287/4-288:صحیح] ‏

اسی روایت کی دوسری سند میں ہے کہ مومن کی روح کو دیکھ کر آسمان و زمین کے تمام فرشتے دعائے مغفرت و رحمت کرتے ہیں۔ اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ہر دورازے کے فرشتوں کی تمنا ہوتی ہے کہ اللہ کرے، یہ روح ہماری طرف سے آسمان پر چڑھے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ کافر کی قبر میں اندھا، بہرا، گونگا فرشتہ مقرر ہو جاتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک گرز ہوتا ہے کہ اگر اسے کسی بڑے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے۔ پھر اسے جیسا وہ تھا، اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے۔ فرشتہ دوبارہ اسے گرز مارتا ہے جس سے یہ چیخنے چلانے لگتا ہے جسے انسان اور جنات کے سوا تمام مخلوق سنتی ہے۔ [مسند احمد:295/4-296:صحیح] ‏

ابن جریر میں ہے کہ نیک صالح شخص سے فرشتے کہتے ہیں: اے مطمئن نفس! جو طیب جسم میں تھا، تو تعریفوں والا بن کر نکل اور جنت کی خوشبو اور نسیم جنت کی طرف چل۔ اس اللہ کے پاس چل جو تجھ پر غصے نہیں ہے۔

صفحہ نمبر2905

فرماتے ہیں کہ جب اس روح کو لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں، دروازہ کھلواتے ہیں تو پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ اسے مرحبا کہہ کر وہی کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ یہ اس آسمان میں پہنچتے ہیں جہاں اللہ ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ برے شخص سے وہ کہتے ہیں: اے خبیث نفس! جو خبیث جسم میں تھا، تو برا بن کر نکل اور تیز کھولتے ہوئے پانی اور لہو پیپ اور اسی قسم کے مختلف عذابوں کی طرف چل۔ اس کے نکلنے تک فرشتے یہی سناتے رہتے ہیں۔ پھر اسے لے کر آسمانوں کی طرف چڑھتے ہیں۔ پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو آسمان کے فرشتے کہتے ہیں، اس خبیث کو مرحبا نہ کہو۔ یہ تھی بھی خبیث جسم میں، تو بد بن کر لوٹ جا۔ اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے اور آسمان و زمین کے درمیان چھوڑ دی جاتی ہے۔ پھر قبر کی طرف لوٹ آتی ہے۔ [سنن ابن ماجه:4262، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ نہ ان کے اعمال چڑھیں، نہ ان کی روحیں۔ اس سے دونوں قول مل جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس کے بعد کے جملے میں جمہور کی قرأت تو «جمل» ہے جس کے معنی نر اونٹ کے ہیں لیکن ایک قرأت میں «جمل» ہے اس کے معنی بڑے پہاڑ کے ہیں۔

مطلب یہ ہر دو صورت ایک ہی ہے کہ نہ اونٹ سوئی کے ناکے سے گزر سکے، نہ پہاڑ۔ اسی طرح کافر جنت میں نہیں جا سکتا۔ ان کا اوڑھنا بچھونا آگ ہے۔ ظالموں کی یہی سزا ہے۔

صفحہ نمبر2906

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭

اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔

پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔

صفحہ نمبر2908

ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں، حسد، بغض دور کر دیئے جائیں گے۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ [صحیح بخاری:2440] ‏

سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔

صفحہ نمبر2909

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے، جو آیت «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ» [39-الزمر:73] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔

آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ [صحیح بخاری:5673] ‏

صفحہ نمبر2910

اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل انسانی بس میں ہے ! ٭٭

اوپر گنہگاروں کا ذکر ہوا۔ یہاں اب نیک بختوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسم سے قرآن و حدیث کے مطابق کام کرتے ہیں بخلاف بدکاروں کے کہ وہ دل میں کفر رکھتے ہیں اور عمل سے دور بھاگتے ہیں۔

پھر فرمان ہے کہ ایمان اور نیکیاں انسان کے بس میں ہیں، اللہ کے احکام انسانی طاقت سے زیادہ نہیں ہیں۔ ایسے لوگ جنتی ہیں اور ہمیشہ جنت میں ہی رہیں گے۔

صفحہ نمبر2908

ان کے دلوں میں سے آپس کی کدورتیں، حسد، بغض دور کر دیئے جائیں گے۔

چنانچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ مومن آگ سے چھٹکارا حاصل کر کے جنت و دوزخ کے درمیان ایک پل پر روک دیئے جائیں گے، وہاں ان کے آپس کے مظالم کا بدلہ ہو جائے گا اور پاک ہو کر جنت میں جانے کی اجازت پائیں گے۔ واللہ! وہ لوگ اپنے اپنے درجوں کو اور مکانوں کو اس طرح پہچان لیں گے جیسے دنیا میں جان لیتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ [صحیح بخاری:2440] ‏

سدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل جنت دروازہ جنت پر ایک درخت دیکھیں گے جس کی جڑوں کے پاس سے دو نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ ان میں سے ایک کا پانی پئیں گے جس سے دلوں کی کدورتیں دھل جائیں گی، یہ شراب طہور ہے۔ پھر دوسری نہر میں غسل کریں گے جس سے چہروں پر تروتازگی آ جائے گی۔ پھر نہ تو بال بکھریں، نہ سرمہ لگانے اور سنگھار کرنے کی ضرورت پڑے۔

صفحہ نمبر2909

سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسا قول مروی ہے، جو آیت «وَسِيْقَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا حَتّىٰٓ اِذَا جَاءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَـــتُهَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِيْنَ» [39-الزمر:73] ‏ کی تفسیر میں آئے گا ان شاءاللہ۔

آپ سے یہ بھی مروی ہے کہ ان شاءاللہ میں اور عثمان رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے دل اللہ تعالیٰ صاف کر دے گا۔ فرماتے ہیں کہ ہم اہل بدر کے بارے میں یہ آیت اتری ہے۔ ابن مردویہ میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہر جنتی کو اپنا جہنم کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ وہ اور بھی شکر کرے اور وہ کہے گا کہ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے ہدایت عنایت فرمائی اور ہر جہنمی کو اس کا جنت کا ٹھکانا دکھایا جائے گا تاکہ اس کی حسرت بڑھے۔ اس وقت وہ کہے گا: کاش کہ میں بھی راہ یافتہ ہوتا۔ [مسند احمد:512/2:صحیح] ‏

پھر جنتیوں کو ان جہنمیوں کی جنت کی جگہیں دے دی جائیں گی اور ایک منادی ندا کرے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم بہ سبب اپنی نیکیوں کے وارث بنا دیئے گئے یعنی تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہیں رحمت رب ملی اور رحمت رب سے تم داخل جنت ہوئے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یاد رکھو! تم میں سے کوئی بھی صرف اپنے اعمال کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا۔ لوگوں نے پوچھا: آپ بھی نہیں؟ فرمایا: ہاں! میں بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت و فضل میں ڈھانپ لے۔ [صحیح بخاری:5673] ‏

صفحہ نمبر2910

جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭

جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو!

«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔

اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ” اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ “ [37-الصافات:51-57] ‏

اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔

صفحہ نمبر2912

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ [صحیح بخاری:3976] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔

صفحہ نمبر2913

جنتیوں اور دوزخیوں میں مکالمہ ٭٭

جنتی جب جنت میں جا کر امن چین سے بیٹھ جائیں گے تو دوزخیوں کو شرمندہ کرنے کے لئے ان سے دریافت فرمائیں گے کہ ہم نے تو اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے کئے گئے تھے، صحیح پایا۔ تم اپنی کہو!

«ان» یہاں پر مفسرہ ہے قول محذوف کا اور «قد» تحقیق کے لئے ہے۔

اس کے جواب میں مشرکین ندامت سے کہیں گے کہ ہاں! ہم نے بھی اپنے رب کے ان وعدوں کو جو ہم سے تھے ٹھیک پایا۔ جیسا سورۃ الصافات میں فرمان ہے کہ ” اہل جنت میں سے ایک کہے گا کہ میرا ساتھی تھا جو مجھ سے تعجب کے ساتھ سوال کیا کرتا تھا کہ کیا تو بھی ان لوگوں میں سے ہے جو قیامت کے قائل ہیں؟ جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے اور ہڈیاں ہو کر رہ جائیں گے، کیا واقعی ہم دوبارہ زندہ کئے جائیں گے؟ اور ہمیں بدلے دیئے جائیں گے؟ یہ جنتی کہے گا کہ کیا تم بھی میرے ساتھ ہو کر اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو؟ یہ کہہ کر وہ اوپر سے جھانک کر دیکھے گا تو اپنے اس ساتھی کو بیچ جہنم میں پائے گا۔ کہے گا: قسم اللہ کی! تو تو مجھے بھی تباہ کرنے ہی کو تھا، اگر میرے رب کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو میں بھی آج گرفتار عذاب ہوتا۔ “ [37-الصافات:51-57] ‏

اب بتاؤ! دنیا میں جو کہا کرتا تھا، کیا سچا تھا کہ ہم مر کر جینے والے اور بدلہ بھگتنے والے ہی نہیں؟ اس وقت فرشتے کہیں گے: یہی وہ جہنم ہے جسے تم جھوٹا مان رہے تھے۔ اب بتاؤ! کیا یہ جادو ہے؟ یا تمہاری آنکھیں نہیں ہیں؟ اب یہاں پڑے جلتے بھنتے رہو۔ صبر اور بے صبری دونوں نتیجے کے اعتبار سے تمہارے لیے یکساں ہے۔ تمہیں اپنے کئے کا بدلہ پانا ہی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار قریش کے ان مقتولوں کو جو بدر میں کام آئے تھے اور جن کی لاشیں ایک کھائی میں تھیں، ڈانٹا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ اے ابوجہل بن ہشام، اے عتبہ بن ربیعہ، اے شیبہ بن ربیعہ! اور دوسرے سرداروں کا بھی نام لیا اور فرمایا: کیا تم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا؟ میں نے تو اپنے رب کے وہ وعدے دیکھ لیے جو اس نے مجھ سے کئے تھے۔

صفحہ نمبر2912

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان سے باتیں کر رہے ہیں جو مر کر مردار ہو گئے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میری بات کو تم بھی ان سے زیادہ نہیں سن رہے لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔ [صحیح بخاری:3976] ‏

پھر فرماتا ہے کہ اسی وقت ایک منادی ندا کر کے معلوم کرا دے گا کہ ظالموں پر رب کی ابدی لعنت واقع ہو چکی۔ جو لوگوں کو راہ حق اور شریعت ہدیٰ سے روکتے تھے اور چاہتے تھے کہ اللہ کی شریعت ٹیڑھی کر دیں تاکہ اس پر کوئی عمل نہ کرے۔ آخرت پر بھی انہیں یقین نہ تھا، اللہ کی ملاقات کو نہیں مانتے تھے اسی لیے بےپرواہی سے برائیاں کرتے تھے۔ حساب کا ڈر نہ تھا، اس لیے سب سے زیادہ بدزبان اور بداعمال تھے۔

صفحہ نمبر2913

جنت اور جہنم میں دیوار اور اعراف والے ٭٭

جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک حجاب، حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے۔ اسی دیوار کا ذکر آیت «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب» [57-الحديد:13] ‏ میں ہے یعنی ” ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ “

اسی کا نام «الْأَعْرَافِ» ہے۔ «الْأَعْرَاف» «عرف» کی جمع ہے، ہر اونچی زمین کو عرب میں «عرفہ» کہتے ہیں۔ اسی لیے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں «عرف الدیک» کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ ایک اونچی جگہ ہے، جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔“

صفحہ نمبر2915

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام «اعراف» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔

یہاں کون لوگ ہوں گے؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہوں گی، بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے۔ اور سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں، سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر نکلے پھر اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے۔ [الدر المنشور للسیوطی:164/3:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14713:ضعیف] ‏

ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے، یہ موقوف روایتیں ہوں گی۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے۔ یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو۔

صفحہ نمبر2916

اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، میں نے تمہیں بخشا۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہو گا۔ ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہو گا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہو گی تو دوزخ میں جائے گا۔ پھر آپ نے «فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» [23-المؤمنون:102-103] ‏ سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا: ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی سے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہو جاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوئیں، یہ اعراف والے ہیں۔ یہ ٹھہرا لیے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔

نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا۔ ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا۔ اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہو گا، انہیں جنت میں جانے کی طمع ہو گی، لوگو! ایک نیکی دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے، جتنی ہو۔ افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آ جائیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے، اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہو گا تو حکم ملے گا: انہیں نہر حیات کی طرف لے جاؤ۔ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے، اس کی مٹی مشک خالص ہو گی، اس میں غوطہٰ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہو جائے گا جس سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔ یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے،

صفحہ نمبر2917

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو چاہو، مانگو۔ یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔ پھر فرمائے گا: ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہو گی۔ جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہو گا۔ یہی روایت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہو گا۔ رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کر چکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کر لیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے۔ اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں۔ جاؤ! جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14723:مرسل و ضعیف] ‏

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔

صفحہ نمبر2918

ابن عساکر میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں، انہیں عذاب بھی ہو گا۔ ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ اعراف پر ہوں گے، جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اعراف کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں۔ [بیہقی فی البعث:117:ضعیف جداً] ‏ (‏بیہقی)

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ صالح دیندار فقہاء علما لوگ ہوں گے۔“

ابومجاز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ فرشتے ہیں، جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا: سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن و امان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔“ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے بلکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے۔ کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا، غرابت سے خالی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2919

قرطبی رحمہ اللہ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ یہ یہاں اسی لیے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کر لیں اور سب کو پہچان لیں۔ یہ جنتیوں سے سلام کریں گے، جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے۔ یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لیے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہو چکا ہے۔

جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار! ہمیں ظالموں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہو جائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہو جائے گی۔ جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہو گی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہو گا۔

صفحہ نمبر2920

جنت اور جہنم میں دیوار اور اعراف والے ٭٭

جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک حجاب، حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے۔ اسی دیوار کا ذکر آیت «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب» [57-الحديد:13] ‏ میں ہے یعنی ” ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ “

اسی کا نام «الْأَعْرَافِ» ہے۔ «الْأَعْرَاف» «عرف» کی جمع ہے، ہر اونچی زمین کو عرب میں «عرفہ» کہتے ہیں۔ اسی لیے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں «عرف الدیک» کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”یہ ایک اونچی جگہ ہے، جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔“

صفحہ نمبر2915

سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام «اعراف» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔

یہاں کون لوگ ہوں گے؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہوں گی، بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے۔ اور سند سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں، سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر نکلے پھر اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے۔ [الدر المنشور للسیوطی:164/3:ضعیف] ‏

اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14713:ضعیف] ‏

ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے، یہ موقوف روایتیں ہوں گی۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے۔ یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو۔

صفحہ نمبر2916

اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، میں نے تمہیں بخشا۔

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہو گا۔ ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہو گا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہو گی تو دوزخ میں جائے گا۔ پھر آپ نے «فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» [23-المؤمنون:102-103] ‏ سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا: ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی سے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہو جاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوئیں، یہ اعراف والے ہیں۔ یہ ٹھہرا لیے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔

نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا۔ ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا۔ اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہو گا، انہیں جنت میں جانے کی طمع ہو گی، لوگو! ایک نیکی دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے، جتنی ہو۔ افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آ جائیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے، اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہو گا تو حکم ملے گا: انہیں نہر حیات کی طرف لے جاؤ۔ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے، اس کی مٹی مشک خالص ہو گی، اس میں غوطہٰ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہو جائے گا جس سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔ یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے،

صفحہ نمبر2917

اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو چاہو، مانگو۔ یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔ پھر فرمائے گا: ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہو گی۔ جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہو گا۔ یہی روایت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہو گا۔ رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کر چکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کر لیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے۔ اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں۔ جاؤ! جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14723:مرسل و ضعیف] ‏

یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔

صفحہ نمبر2918

ابن عساکر میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں، انہیں عذاب بھی ہو گا۔ ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ اعراف پر ہوں گے، جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اعراف کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں۔ [بیہقی فی البعث:117:ضعیف جداً] ‏ (‏بیہقی)

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ صالح دیندار فقہاء علما لوگ ہوں گے۔“

ابومجاز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ فرشتے ہیں، جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا: سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن و امان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔“ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے بلکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے۔ کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا، غرابت سے خالی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2919

قرطبی رحمہ اللہ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ یہ یہاں اسی لیے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کر لیں اور سب کو پہچان لیں۔ یہ جنتیوں سے سلام کریں گے، جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے۔ یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لیے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہو چکا ہے۔

جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار! ہمیں ظالموں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہو جائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہو جائے گی۔ جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہو گی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہو گا۔

صفحہ نمبر2920

کفر کے ستون اور ان کا حشر ٭٭

کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری اکثریت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی؟ تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔

اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔

صفحہ نمبر2922

جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا، شفاعت کی اجازت دے گا۔ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم علیہ السلام! آپ ہمارے باپ ہیں، ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہو، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے: نہیں، ایسا آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں! تم میرے لڑکے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔

اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔

چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔

صفحہ نمبر2923

پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: میرے رب! میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب تیرے ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام، مقام محمود ہے۔

پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔

صفحہ نمبر2924

کفر کے ستون اور ان کا حشر ٭٭

کفر کے جن ستونوں کو، کافروں کے جن سرداروں کو اعراف والے ان کے چہروں سے پہچان لیں گے، انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر کے پوچھیں گے کہ آج تمہاری اکثریت جمعیت کہاں گئی؟ اس نے تو تمہیں مطلقاً فائدہ نہ پہنچایا۔ آج وہ تمہاری اکڑفوں کیا ہوئی؟ تم تو بری طرح عذابوں میں جکڑ دیئے گئے۔

اس کے بعد ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں فرمایا جائے گا کہ بدبختو! انہی کی نسبت تم کہا کرتے تھے کہ اللہ انہیں کوئی راحت نہیں دے گا۔ اے اعراف والو! میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ جاؤ با آرام، بے کھٹکے جنت میں جاؤ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اعراف والوں کے اعمال صالحہ اس قابل نہ نکلے کہ انہیں جنت میں پہنچائیں لیکن اتنی برائیاں بھی ان کی نہ تھیں کہ دوزخ میں جائیں تو یہ اعراف پر ہی روک دیئے گئے، لوگوں کو ان کے اندازے سے پہچانتے ہوں گے۔

صفحہ نمبر2922

جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں فیصلے کر چکے گا، شفاعت کی اجازت دے گا۔ لوگ سیدنا آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ اے آدم علیہ السلام! آپ ہمارے باپ ہیں، ہماری شفاعت اللہ تعالیٰ کی جناب میں کیجئے۔ آپ جواب دیں گے: کیا تم نہیں جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہو، اپنی روح اس میں پھونکی ہو، اپنی رحمت اس پر اپنے غضب سے پہلے پہنچائی ہو، اپنے فرشتوں سے اسے سجدہ کرایا ہو؟ سب جواب دیں گے: نہیں، ایسا آپ کے سوا نہیں۔ آپ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا۔ ہاں! تم میرے لڑکے ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔

اب سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچیں گے اور ان سے شفاعت کرنے کی درخواست کریں گے۔ آپ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا اور کوئی خلیل اللہ ہوا ہو؟ یا اللہ کے بارے میں اس کی قوم نے آگ میں پھینکا ہو؟ سب کہیں گے: آپ کے سوا اور کوئی نہیں۔ فرمائیں گے: مجھے اس کی حقیقت معلوم نہیں، میں تمہاری درخواست شفاعت نہیں لے جا سکتا، تم میرے لڑکے موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ موسیٰ علیہ السلام جواب دیں گے کہ بتاؤ میرے سوا اللہ نے کسی کو اپنا کلیم اللہ بنایا، اپنی سرگوشیوں کے لیے نزدیکی عطا فرمائی؟ جواب دیں گے کہ نہیں۔ فرمائیں گے: میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں، میں تمہاری سفارش کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہاں! تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے، ان سے شفاعت طلبی کا تقاضا کریں گے۔ یہ جواب دیں گے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میرے سوا کسی کو اللہ نے بے باپ کے پیدا کیا ہو؟ جواب ملے گا کہ نہیں۔ پوچھیں گے: جانتے ہو کہ کوئی مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بحکم اللہ میرے سوا اچھا کرتا ہو یا کوئی مردہ کو بحکم اللہ زندہ کر دیتا ہو؟ کہیں گے کہ کوئی نہیں۔ فرمائیں گے کہ میں تو آج اپنے نفس کے بچاؤ میں ہوں، میں اس کی حقیقت سے بےخبر ہوں۔ مجھ میں اتنی طاقت کہاں کہ تمہاری سفارش کر سکوں، ہاں! تم سب کے سب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔

چنانچہ سب لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنا سینہ ٹھونک کر کہوں گا کہ ہاں ہاں! میں اسی لیے موجود ہوں، پھر میں چل کر اللہ کے عرش کے سامنے ٹھہر جاؤں گا۔ اپنے رب عزوجل کے پاس پہنچ جاؤں گا اور ایسی ایسی اس کی تعریفیں بیان کروں گا کہ کسی سننے والے نے کبھی نہ سنی ہوں۔ پھر سجدے میں گر پڑوں گا، پھر مجھ سے فرمایا جائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنا سر اٹھاؤ، مانگو دیا جائے گا۔ شفاعت کرو، قبول کی جائے گی۔

صفحہ نمبر2923

پس میں اپنا سر اٹھا کر کہوں گا: میرے رب! میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ سب تیرے ہی ہے۔ پھر تو ہر ہر پیغمبر اور ہر ایک فرشتہ رشک کرنے لگے گا۔ یہی مقام، مقام محمود ہے۔

پھر میں ان سب کو لے کر جنت کی طرف آؤں گا۔ جنت کا دروازہ کھلواؤں گا اور وہ میرے لیے اور ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ پھر انہیں ایک نہر کی طرف لے جائیں گے جس کا نام نہر الحیوان ہے، اس کے دونوں کناروں پر سونے کے محل ہیں جو یاقوت سے جڑاؤ کئے گئے ہیں، اس میں غسل کریں گے جس سے جنتی رنگ اور جنتی خوشبو ان میں پیدا ہو جائے گی اور چمکتے ہوئے ستاروں جیسے وہ نورانی ہو جائیں گے۔ ہاں! ان کے سینوں پر سفید نشان باقی رہ جائیں گے جس سے وہ پہچانے جائیں گے۔ انہیں مساکین اہل جنت کہا جائے گا۔

صفحہ نمبر2924

جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭

دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة] ‏

مروی ہے کہ جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل] ‏

پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» [20-طه:52] ‏ ” نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ “

صفحہ نمبر2926

یہاں جو فرمایا: یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے۔ جیسے فرمان ہے: «نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ» [9-التوبة:67] ‏

اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» [20-طه:126] ‏

فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» [45-الجاثية:34] ‏ ” تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ “ وغیرہ۔

پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ [صحیح مسلم:2968] ‏

صفحہ نمبر2927

جیسی کرنی ویسی بھرنی ٭٭

دوزخیوں کی ذلت و خواری اور ان کا بھیک مانگنا اور ڈانٹ دیا جانا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جنتیوں سے پانی یا کھانا مانگیں گے۔ اپنے نزدیک کے رشتے، کنبے والے جیسے باپ، بیٹے، بھائی، بہن وغیرہ سے کہیں گے کہ ہم جل بھن رہے ہیں، بھوکے پیاسے ہیں، ہمیں ایک گھونٹ پانی یا ایک لقمہ کھانا دے دو۔ وہ بحکم الٰہی انہیں جواب دیں گے کہ یہ سب کچھ کفار پر حرام ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال ہوتا ہے کہ کس چیز کا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سب سے افضل خیرات پانی ہے۔ دیکھو جہنمی اہل جنت سے اسی کا سوال کریں گے۔ [مسند ابویعلیٰ:2673:اسنادہ فیه جهالة] ‏

مروی ہے کہ جب ابوطالب موت کی بیماری میں مبتلا ہوا تو قریشیوں نے اس سے کہا: کسی کو بھیج کر اپنے بھتیجے سے کہلواؤ کہ وہ تمہارے پاس جنتی انگور کا ایک خوشہ بھجوا دے تاکہ تیری بیماری جاتی رہے۔ جس وقت قاصد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا ہے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے۔ سنتے ہی فرمانے لگے: اللہ نے جنت کی کھانے پینے کی چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔ [الدر المنشور للسیوطی:166/3:مرسل] ‏

پھر ان کی بدکرداری بیان فرمائی کہ یہ لوگ دین حق کو ایک ہنسی کھیل سمجھے ہوئے تھے۔ دنیا کی زینت اور اس کے بناؤ چناؤ میں ہی عمر بھر مشغول رہے۔ یہ چونکہ اس دن کو بھول بسر گئے تھے۔ اس کے بدلے ہم بھی ان کے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے جو کسی بھول جانے والے کا معاملہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ بھولنے سے پاک ہے، اس کے علم سے کوئی چیز نکل نہیں سکتی۔ فرماتا ہے: «لَا يَضِلُّ رَبِّيْ وَلَا يَنْسَى» [20-طه:52] ‏ ” نہ وہ بہکے، نہ بھولے۔ “

صفحہ نمبر2926

یہاں جو فرمایا: یہ صرف مقابلہ کیلئے ہے۔ جیسے فرمان ہے: «نَسُوا اللَّـهَ فَنَسِيَهُمْ» [9-التوبة:67] ‏

اور جیسے دوسری آیت میں ہے «قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰيٰتُنَا فَنَسِيْتَهَا وَكَذٰلِكَ الْيَوْمَ تُنْسٰى» [20-طه:126] ‏

فرمان ہے «وَقِيلَ الْيَوْمَ نَنسَاكُمْ كَمَا نَسِيتُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَـٰذَا» [45-الجاثية:34] ‏ ” تیرے پاس ہماری نشانیاں آئی تھیں جنہیں تو بھلا بیٹھا تھا اسی طرح آج تجھے بھی بھلا دیا جائے گا۔ “ وغیرہ۔

پس یہ بھلائیوں سے بالقصد بھلا دیئے جائیں گے۔ ہاں برائیاں اور عذاب برابر ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلایا، ہم نے انہیں آگ میں چھوڑا، رحمت سے دور کیا جیسے یہ عمل سے دور تھے۔ صحیح حدیث میں ہے: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندے سے فرمائے گا: کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ یا عزت آبرو نہیں دی تھی؟ کیا گھوڑے اور اونٹ تیرے مطیع نہیں کئے تھے؟ اور کیا تجھے قسم قسم کی راحتوں میں آزاد نہیں رکھا تھا؟ بندہ جواب دے گا کہ ہاں پروردگار! بیشک تو نے ایسا ہی کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر کیا تو میری ملاقات پر ایمان رکھتا تھا؟ وہ جواب دے گا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پس میں بھی آج تجھے ایسا ہی بھول جاؤں گا جیسے تو مجھے بھول گیا تھا۔ [صحیح مسلم:2968] ‏

صفحہ نمبر2927

آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے۔ اپنے رسولوں کی معرفت، اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔

جیسے فرمان ہے «الرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» [11-هود:1] ‏ ” اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ “

اس کی جو تفصیل ہے، وہ بھی علم پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ» [4-النساء:166] ‏ ” اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ “

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے، جس میں فرمان ہے «كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [7-الأعراف:2] ‏ ” یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے۔ پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیئے۔ “

یہاں فرمایا «وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» لیکن یہ محل نظر ہے اس لیے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بے دلیل ہے۔ درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہو گا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسول بھی، کتاب بھی۔

جیسے ارشاد ہے کہ ”جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں، عذاب نہیں کرتے۔“ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا: ”انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔“

یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آ جائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا۔ قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہو جائیں گے۔ اب جو سن رہے ہیں، اس وقت دیکھ لیں گے۔ اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء علیہم السلام سچے تھے، رب کی کتابیں برحق تھیں۔ کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔

صفحہ نمبر2929

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [6-الأنعام:27] ‏ ” کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے، اب ظاہر ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے، وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں۔ “

انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا۔ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے۔ آج سب باطل ہو گئیں۔ نہ کوئی ان کا سفارشی، نہ حمایتی۔

صفحہ نمبر2930

آخری حقیقت جنت اور دوزخ کا مشاہدہ ٭٭

اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے کل عذر ختم کر دیئے تھے۔ اپنے رسولوں کی معرفت، اپنی کتاب بھیجی جو مفصل اور واضح تھی۔

جیسے فرمان ہے «الرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ» [11-هود:1] ‏ ” اس قرآن کی آیتیں مضبوط اور تفصیل وار ہیں۔ “

اس کی جو تفصیل ہے، وہ بھی علم پر ہے۔ جیسے فرمان ہے «أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ» [4-النساء:166] ‏ ” اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ “

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ آیت اسی آیت پر جاتی ہے، جس میں فرمان ہے «كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِيْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَذِكْرٰي لِلْمُؤْمِنِيْنَ» [7-الأعراف:2] ‏ ” یہ کتاب تیری طرف نازل فرمائی گئی ہے۔ پس اس سے تیرے سینے میں کوئی حرج نہ ہونا چاہیئے۔ “

یہاں فرمایا «وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ» لیکن یہ محل نظر ہے اس لیے کہ فاصلہ بہت ہے اور یہ قول بے دلیل ہے۔ درحقیقت جب ان کے اس خسارے کا ذکر ہوا جو انہیں آخرت میں ہو گا تو بیان فرمایا کہ دنیا میں ہی ہم نے تو اپنا پیغام پہنچا دیا تھا۔ رسول بھی، کتاب بھی۔

جیسے ارشاد ہے کہ ”جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں، عذاب نہیں کرتے۔“ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا: ”انہیں تو اب جنت دوزخ کے اپنے سامنے آنے کا انتظار ہے۔“

یا یہ مطلب کہ اس کی حقیقت یکے بعد دیگرے روشن ہوتی رہے گی۔ یہاں تک کہ آخری حقیقت یعنی جنت دوزخ ہی سامنے آ جائیں گی اور ہر ایک اپنے لائق مقام میں پہنچ جائے گا۔ قیامت والے دن یہ واقعات رونما ہو جائیں گے۔ اب جو سن رہے ہیں، اس وقت دیکھ لیں گے۔ اس وقت اسے فراموش کر کے بیٹھ رہنے والے عمل سے کورے لوگ مان لیں گے کہ بیشک اللہ کے انبیاء علیہم السلام سچے تھے، رب کی کتابیں برحق تھیں۔ کاش اب کوئی ہمارا سفارشی کھڑا ہو اور ہمیں اس ہلاکت سے نجات دلائے یا ایسا ہو کہ ہم پھر سے دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو جو کام کئے تھے اب ان کے خلاف کریں۔

صفحہ نمبر2929

جیسے فرمان ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [6-الأنعام:27] ‏ ” کاش کہ ہم پھر دنیا میں لوٹائے جاتے، اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے اور مومن بن جاتے۔ اس سے پہلے جو وہ چھپا رہے تھے، اب ظاہر ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ دنیا میں بھیجے بھی جائیں تو جس چیز سے روکے جائیں گے، وہی دوبارہ کریں گے اور جھوٹے ثابت ہوں۔ “

انہوں نے آپ ہی اپنا برا کیا۔ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں رکھتے رہے۔ آج سب باطل ہو گئیں۔ نہ کوئی ان کا سفارشی، نہ حمایتی۔

صفحہ نمبر2930

اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ٭٭

بہت سی آیتوں میں یہ بیان ہوا ہے کہ آسمان و زمین اور کل مخلوق اللہ تعالیٰ نے چھ دن میں بنائی ہے یعنی اتوار سے جمعہ تک۔ جمعہ کے دن ساری مخلوق پیدا ہو چکی۔ اسی دن سیدنا آدم علیہ السلام پیدا ہوئے یا تو یہ دن دنیا کے معمول کے دنوں کے برابر ہی تھے جیسے کہ آیت کے ظاہری الفاظ سے فی الفور سمجھا جاتا ہے یا ہر دن ایک ہزار سال کا تھا جیسے کہ مجاہد رحمہ اللہ کا قول ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا فرمان ہے اور بروایت ضحاک ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔ ہفتہ کے دن کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی۔ اسی لیے اس کا نام عربی میں «یوم السبت» ہے۔ «سبت» کے معنی ”قطع کرنے، ختم کرنے“ کے ہیں۔

صفحہ نمبر2932

ہاں مسند احمد، نسائی اور صحیح مسلم میں جو حدیث ہے کہ اللہ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور پہاڑوں کو اتوار کے دن اور درختوں کو پیر کے دن اور برائیوں کو منگل کے دن اور نور کو بدھ کے دن اور جانوروں کو جمعرات کے دن اور آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن، عصر کے بعد دن کی آخری گھڑی میں عصر سے لے کر مغرب تک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر یہ گنوایا۔ [صحیح مسلم:2789] ‏

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سات دن تک پیدائش کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ قرآن میں موجود ہے کہ چھ دن میں پیدائش ختم ہوئی۔ اسی وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ زبردست حفاظ حدیث نے اس حدیث پر کلام کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ عبارت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رحمہ اللہ سے لی ہے۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2933

پھر فرماتا ہے کہ وہ اپنے عرش پر مستوی ہوا۔ اس پر لوگوں نے بہت کچھ چہ میگوئیاں کی ہیں، جنہیں تفصیل سے بیان کرنے کی یہ جگہ نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ اس مقام میں سلف صالحین کی روش اختیار کی جائے۔ جیسے امام مالک، امام اوزاعی، امام ثوری، امام لیث بن سعد، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ وغیرہ وغیرہ ائمہ سلف و خلف رحمۃ اللہ علیہم۔ ان سب بزرگان دین کا مذہب یہی تھا کہ جیسی یہ آیت ہے، اسی طرح اسے رکھا جائے۔ بغیر کیفیت کے، بغیر تشبیہ کے اور بغیر مہمل چھوڑنے کے۔ ہاں مشبہین کے ذہنوں میں جو چیز آ رہی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ پاک اور بہت دور ہے۔ اللہ کے مشابہ اس کی مخلوق میں سے کوئی نہیں۔

فرمان ہے «لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» [42-الشورى:11] ‏ ” اس کے مثل کوئی نہیں اور وہ سننے، دیکھنے والا ہے۔ “

بلکہ حقیقت یہی ہے جو ائمہ کرام رحمۃ اللہ علیہم نے فرمائی ہے۔ انہی میں سے نعیم بن حماد خزاعی رحمہ اللہ ہیں۔ آپ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ہیں۔ فرماتے ہیں: ”جو شخص اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دے، وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کے اس وصف سے انکار کرے جو اس نے اپنی ذات پاک کیلئے بیان فرمایا ہے، وہ بھی کافر ہے۔“

خود اللہ تعالیٰ نے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اوصاف ذات باری تعالیٰ جل شانہ کے بیان فرمائے ہیں، ان میں ہرگز تشبیہ نہیں۔ پس صحیح ہدایت کے راستے پر وہی ہے جو آثار صحیحہ اور اخبار صریحہ سے جو اوصاف رب العزت وحدہ لاشریک لہ کے ثابت ہیں، انہیں اسی طرح جانے۔ جو اللہ کی جلالت شان کے شایان ہے اور ہر عیب و نقصان سے اپنے رب کو پاک اور مبرا و منزہ سمجھے۔

صفحہ نمبر2934

پھر فرمان ہے کہ رات کا اندھیرا دن کے اجالے سے اور دن کا اجالا رات کے اندھیرے سے دور ہو جاتا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے پیچھے لپکا چلا آتا ہے۔ یہ گیا وہ آیا، وہ گیا یہ آیا۔

جیسے فرمایا «وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ» [36-يس:37-40] ‏ ” ان کے سمجھنے کے لئے ہماری ایک نشانی رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو نکالتے ہیں جس سے یہ اندھیرے میں آ جاتے ہیں۔ سورج اپنے ٹھکانے کی طرف برابر جا رہا ہے۔ یہ ہے اندازہ اللہ کا مقرر کیا ہوا جو غالب اور باعلم ہے۔ ہم نے چاند کی بھی منزلیں ٹھہرا دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی جیسا ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ آفتاب ماہتاب سے آگے نکل سکتا ہے، نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ سب کے سب اپنے اپنے مدار میں تیرتے پھرتے ہیں۔ رات دن میں کوئی فاصلہ نہیں، ایک کا جانا ہی دوسرے کا آ جانا ہے۔ ہر ایک دوسرے کے برابر پیچھے ہے۔ “

«وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ» [7-الأعراف:54] ‏ کو بعض نے پیش سے بھی پڑھا ہے۔ معنی مطلب دونوں صورتوں میں قریب قریب برابر ہے۔ یہ سب اللہ کے زیر فرمان، اس کے ماتحت اور اس کے ارادے میں ہیں۔ ملک اور تصرف اسی کا ہے۔ وہ برکتوں والا اور تمام جہان کا پالنے والا ہے۔

فرمان ہے «تَبٰرَكَ الَّذِيْ جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِيْهَا سِرٰجًا وَّقَمَرًا مُّنِيْرً» [25-الفرقان:61] ‏

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس کسی نے کسی نیکی پر اللہ کی حمد نہ کی بلکہ اپنے نفس کو سراہا، اس نے کفر کیا اور اس کے اعمال غارت ہوئے اور جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ نے کچھ اختیارات اپنے بندوں کو بھی دیئے ہیں، اس نے اس کے ساتھ کفر کیا جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل فرمایا ہے کیونکہ اس کا فرمان ہے «اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ» (‏ابن جریر) [تفسیر ابن جریر الطبری:14784:ضعیف جداً] ‏

صفحہ نمبر2935

ایک منقول دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بھی مروی ہے کہ آپ فرماتے تھے «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ الأَمْرُ كُلُّهُ أَسْأَلُكَ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ، مَا عَلِمْتُ مِنْهُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّرِّ كُلِّهِ» [بیهقی فی شعب الایمان:4400:ضعیف] ‏ یااللہ! سارا ملک تیرا ہی ہے، سب حمد تیرے لیے ہی ہے، سب کام تیری ہی طرف لوٹتے ہیں، میں تجھ سے تمام بھلائیاں طلب کرتا ہوں اور ساری برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

صفحہ نمبر2936

انسان دعا مانگے قبول ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو۔

جیسے فرمان ہے «وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ» [7-الأعراف:205] ‏ ” اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ “

بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو۔ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو، وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ [صحیح بخاری:2992] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «تَضَرُّعًا» کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گزاری کے ہیں اور «خُفْيَةً» کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا، اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو۔ نہ کہ ریا کاری کے ساتھ، بہت بلند آواز سے۔“

حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بڑے فقیہہ ہو جاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا، اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔ امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”دعا وغیرہ میں حد سے گزر جانے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔“

صفحہ نمبر2937

ابومجاز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مثلاً اپنے لیے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔“

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم سے، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گزر جایا کریں گے۔ [مسند احمد:172/1-183:حسن لغیرہ] ‏

ایک سند سے مروی ہے کہ وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:1480، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ (‏ابوداؤد)

صفحہ نمبر2938

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے: ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں کہہ رہے تھے کہ یااللہ! جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:96، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر زمین پر امن و امان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ» [7-الأعراف:156] ‏ ” یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دوں گا پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ “

چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے «قَرِیْبٌ» کہا، «قَرِیْبَةٌ» نہ کہا یا اس لیے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کر دیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔

صفحہ نمبر2939

انسان دعا مانگے قبول ہو گی ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔ فرماتا ہے کہ اپنے پروردگار کو عاجزی، مسکینی اور آہستگی سے پکارو۔

جیسے فرمان ہے «وَاذْكُر رَّبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ الْغَافِلِينَ» [7-الأعراف:205] ‏ ” اپنے رب کو اپنے نفس میں یاد کر۔ “

بخاری و مسلم میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے دعا میں اپنی آوازیں بہت بلند کر دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو۔ تم کسی بہرے کو یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو، وہ بہت سننے والا اور بہت نزدیک ہے۔ [صحیح بخاری:2992] ‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ پوشیدگی مراد ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ” «تَضَرُّعًا» کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت گزاری کے ہیں اور «خُفْيَةً» کے معنی دلوں کے خشوع خضوع سے، یقین کی صحت سے، اس کی وحدانیت اور ربوبیت کا، اس کے اور اپنے درمیان یقین رکھتے ہوئے پکارو۔ نہ کہ ریا کاری کے ساتھ، بہت بلند آواز سے۔“

حسن رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ لوگ حافظ قرآن ہوتے تھے اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، لوگ بڑے فقیہہ ہو جاتے تھے اور کوئی جانتا بھی نہ تھا۔ لوگ لمبی لمبی نمازیں اپنے گھروں میں پڑھتے تھے اور مہمانوں کو بھی پتہ نہ چلتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے کہ جہاں تک ان کے بس میں ہوتا تھا، اپنی کسی نیکی کو لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے۔ پوری کوشش سے دعائیں کرتے تھے لیکن اس طرح جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہو۔ یہ نہیں کہ چیخیں چلائیں۔ یہی فرمان رب ہے کہ اپنے رب کو عاجزی اور آہستگی سے پکارو۔ دیکھو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک نیک بندے کا ذکر کیا جس سے وہ خوش تھا کہ اس نے اپنے رب کو خفیہ طور پر پکارا۔ امام ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”دعا میں بلند آواز، ندا اور چیخنے کو مکروہ سمجھا جاتا تھا بلکہ گریہ وزاری اور آہستگی کا حکم دیا جاتا تھا۔“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”دعا وغیرہ میں حد سے گزر جانے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا۔“

صفحہ نمبر2937

ابومجاز رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”مثلاً اپنے لیے نبی بن جانے کی دعا کرنا وغیرہ۔“

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سنا کہ ان کا لڑکا اپنی دعا میں کہہ رہا ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور اس کی نعمتیں اور اس کے ریشم و حریر وغیرہ وغیرہ طلب کرتا ہوں اور جہنم سے، اس کی زنجیروں اور اس کے طوق وغیرہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ تو آپ نے فرمایا: تو نے اللہ سے بہت سی بھلائیاں طلب کیں اور بہت سی برائیوں سے پناہ چاہی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کچھ لوگ ہوں گے جو دعا میں حد سے گزر جایا کریں گے۔ [مسند احمد:172/1-183:حسن لغیرہ] ‏

ایک سند سے مروی ہے کہ وہ دعا مانگنے میں اور وضو کرنے میں حد سے نکل جائیں گے۔ پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور فرمایا: تجھے اپنی دعا میں یہی کہنا کافی ہے کہ اے اللہ! میں تجھ سے جنت اور جنت سے قریب کرنے والے قول و فعل کی توفیق طلب کرتا ہوں اور جہنم اور اس سے نزدیک کرنے والے قول و فعل سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:1480، قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏ (‏ابوداؤد)

صفحہ نمبر2938

ابن ماجہ وغیرہ میں ہے: ان کے صاحبزادے اپنی دعا میں کہہ رہے تھے کہ یااللہ! جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی دائیں جانب کا سفید رنگ کا عالیشان محل میں تجھ سے طلب کرتا ہوں۔ [سنن ابوداود:96، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

پھر زمین پر امن و امان کے بعد فساد کرنے کو منع فرما رہا ہے کیونکہ اس وقت کا فساد خصوصیت سے زیادہ برائیاں پیدا کرتا ہے۔ پس اللہ اسے حرام قرار دیتا ہے اور اپنی عبادت کرنے کا، دعا کرنے کا، مسکینی اور عاجزی کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اللہ کو اس کے عذابوں سے ڈر کر اور اس کی نعمتوں کے امیدوار بن کر پکارو۔ اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے سروں پر منڈلا رہی ہے۔ جو اس کے احکام بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے باز رہتے ہیں۔ جیسے فرمایا «وَرَحْمَتِيْ وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ» [7-الأعراف:156] ‏ ” یوں تو میری رحمت تمام چیزوں کو گھیرے ہوئے ہے لیکن میں اسے مخصوص کر دوں گا پرہیزگار لوگوں کے لیے۔ “

چونکہ رحمت ثواب کی ضامن ہوتی ہے، اس لیے «قَرِیْبٌ» کہا، «قَرِیْبَةٌ» نہ کہا یا اس لیے کہ وہ اللہ کی طرف مضاف ہے۔ انہوں نے اللہ کے وعدوں کا سہارا لیا۔ اللہ نے اپنا فیصلہ کر دیا کہ اس کی رحمت بالکل قریب ہے۔

صفحہ نمبر2939

تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭

اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر دینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ «بُشْرًا» کی دوسری قرأت «مُـبَـشِّـَراتٍ» بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔

جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ» [42-الشورى:28] ‏ ” وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کر دیتا ہے۔ وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ “

ایک اور آیت میں ہے: ” رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے، وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ [30-الروم:50] ‏

بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں، انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں۔ یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر2941

چنانچہ زید بن عمرو بن نفیل رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے: میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گزار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں، خشک اور بنجر ہے۔ جیسے آیت «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ» [36-يس:33] ‏ میں بیان ہوا ہے۔ پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کر دیں گے۔ حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔

قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا، چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا: یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی۔ جیسے فرمان ہے «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا» [3-آل عمران:37] ‏ اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین، شور زمین وغیرہ، اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے۔

صفحہ نمبر2942

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی۔ زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے نے تو پانی قبول کیا، گھاس اور چارہ بہت سا اس میں سے نکلا۔ ان میں بعض ٹکڑے ایسے بھی تھے جن میں پانی جمع ہو گیا اور وہاں رک گیا۔ پس اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، پیا اور پلایا۔ کھیتیاں، باغات تازہ کئے، زمین کے جو چٹیل سنگلاخ ٹکڑے تھے، ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا، نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا، خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ کی جو میری معرفت بھیجی گئی۔ [صحیح بخاری:79] ‏ (‏مسلم و نسائی)

صفحہ نمبر2943

تمام مظاہر قدرت اس کی شان کے مظہر ہیں ٭٭

اوپر بیان ہوا کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے۔ سب پر قبضہ رکھنے والا، حاکم، تدبیر کرنے والا، مطیع اور فرمانبردار رکھنے والا اللہ ہی ہے۔ پھر دعائیں کرنے کا حکم دیا کیونکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اب یہاں بیان ہو رہا ہے کہ رزاق بھی وہی ہے اور قیامت کے دن مردوں کو زندہ کر دینے والا بھی وہی ہے۔ پس فرمایا کہ بارش سے پہلے بھینی بھینی خوش گوار ہوائیں وہی چلاتا ہے۔ «بُشْرًا» کی دوسری قرأت «مُـبَـشِّـَراتٍ» بھی ہے۔ رحمت سے مراد یہاں بارش ہے۔

جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ» [42-الشورى:28] ‏ ” وہ ہے جو لوگوں کی ناامیدی کے بعد بارش اتارتا ہے اور اپنی رحمت کی ریل پیل کر دیتا ہے۔ وہ والی ہے اور قابل تعریف۔ “

ایک اور آیت میں ہے: ” رحمت رب کے آثار دیکھو کہ کس طرح مردہ زمین کو وہ جلا دیتا ہے، وہی مردہ انسانوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ [30-الروم:50] ‏

بادل جو پانی کی وجہ سے بوجھل ہو رہے ہیں، انہیں یہ ہوائیں اٹھالے چلتی ہیں۔ یہ زمین سے بہت قریب ہوتے ہیں اور سیاہ ہوتے ہیں۔

صفحہ نمبر2941

چنانچہ زید بن عمرو بن نفیل رحمہ اللہ کے شعروں میں ہے: میں اس کا مطیع ہوں جس کے اطاعت گزار میٹھے اور صاف پانی کے بھرے ہوئے بادل ہیں اور جس کے تابع فرمان بھاری بوجھل پہاڑوں والی زمین ہے۔ پھر ہم ان بادلوں کو مردہ زمین کی طرف لے چلتے ہیں جس میں کوئی سبزہ نہیں، خشک اور بنجر ہے۔ جیسے آیت «وَآيَةٌ لَّهُمُ الْأَرْضُ الْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَاهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ» [36-يس:33] ‏ میں بیان ہوا ہے۔ پھر اس سے پانی برسا کر اسی غیر آباد زمین کو سرسبز بنا دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زندہ کر دیں گے۔ حالانکہ وہ بوسیدہ ہڈیاں اور پھر ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل گئے ہوں گے۔

قیامت کے دن ان پر اللہ عزوجل بارش برسائے گا، چالیس دن تک برابر برستی رہے گی جس سے جسم قبروں میں اگنے لگیں گے جیسے دانہ زمین پر اگتا ہے۔ یہ بیان قرآن کریم میں کئی جگہ ہے۔ قیامت کی مثال بارش کی پیداوار سے دی جاتی ہے۔ پھر فرمایا: یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے۔ اچھی زمین میں سے پیداوار عمدہ بھی نکلتی ہے اور جلدی بھی۔ جیسے فرمان ہے «فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا» [3-آل عمران:37] ‏ اور جو زمین خراب ہے جیسے سنگلاخ زمین، شور زمین وغیرہ، اس کی پیداوار بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ یہی مثال مومن و کافر کی ہے۔

صفحہ نمبر2942

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جس علم و ہدایت کے ساتھ اللہ نے مجھے بھیجا ہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زمین پر بہت زیادہ بارش ہوئی۔ زمین کے ایک صاف عمدہ ٹکڑے نے تو پانی قبول کیا، گھاس اور چارہ بہت سا اس میں سے نکلا۔ ان میں بعض ٹکڑے ایسے بھی تھے جن میں پانی جمع ہو گیا اور وہاں رک گیا۔ پس اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، پیا اور پلایا۔ کھیتیاں، باغات تازہ کئے، زمین کے جو چٹیل سنگلاخ ٹکڑے تھے، ان پر بھی وہ پانی برسا لیکن نہ تو وہاں رکا، نہ وہاں کچھ اگا۔ یہی مثال اس کی ہے جس نے دین کی سمجھ پیدا کی اور میری بعثت سے اس نے فائدہ اٹھایا، خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے سر ہی نہ اٹھایا اور اللہ کی وہ ہدایت ہی نہ کی جو میری معرفت بھیجی گئی۔ [صحیح بخاری:79] ‏ (‏مسلم و نسائی)

صفحہ نمبر2943

پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

صفحہ نمبر2945

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔

امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

صفحہ نمبر2946

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔

ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ [صحیح مسلم:1218] ‏

صفحہ نمبر2947

پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

صفحہ نمبر2945

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔

امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

صفحہ نمبر2946

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔

ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ [صحیح مسلم:1218] ‏

صفحہ نمبر2947

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com