Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-A'raaf
Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 151–180 · Quran text →
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔
کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ دیکھنا سننا برابر نہیں۔ [مستدرک حاکم:321/2]
اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل]
ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟
صفحہ نمبر3070
اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔
ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ [مسند احمد:271/1:صحیح]
صفحہ نمبر3071
باہم قتل کی سزا ٭٭
ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔
اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ہر بدعتی ذلیل ہے۔“
صفحہ نمبر3073
پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔
صفحہ نمبر3074
باہم قتل کی سزا ٭٭
ان گوسالہ پرستوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ جب تک ان لوگوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کر لیا، ان کی توبہ قبول نہ ہوئی۔ جیسے کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں تفصیل وار بیان ہو چکا ہے کہ انہیں حکم ہوا تھا کہ اپنے خالق سے توبہ کرو اور آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو۔ یہی تمہارے حق میں ٹھیک ہے پھر وہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم و کرم والا ہے۔
اسی طرح دنیا میں بھی ان یہودیوں پر ذلت نازل ہوئی۔ ہر بدعتی کی جو اللہ کے دین میں جھوٹا طوفان اٹھائے، یہی سزا ہے۔ رسول کی مخالفت اور بدعت کا بوجھ اس کے دل سے نکل کر اس کے کندھوں پر آ پڑتا ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”گو وہ دنیوی ٹھاٹھ رکھتا ہو لیکن ذلت اس کے چہرے پر برستی ہے۔ قیامت تک یہی سزا ہر جھوٹے، افترا باز کی اللہ کی طرف سے مقرر ہے۔“
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ہر بدعتی ذلیل ہے۔“
صفحہ نمبر3073
پھر فرماتا ہے کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے خواہ کیسا ہی گناہ ہو لیکن توبہ کے بعد وہ معاف فرما دیتا ہے، گو کفر و شرک اور نفاق و شفاق ہی کیوں نہ ہو۔ فرمان ہے کہ جو لوگ برائیوں کے بعد توبہ کر لیں اور ایمان لائیں تو اے رسول رحمت اور اے نبی کریم! تیرا رب اس فعل کے بعد بھی غفور و رحیم ہے۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکاری کرے۔ پھر اس سے نکاح کر لے؟ تو آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ کوئی دس مرتبہ اسے تلاوت کیا اور کوئی حکم یا منع نہیں کیا۔
صفحہ نمبر3074
باب
موسیٰ علیہ السلام کو اپنی قوم پر جو غصہ تھا جب وہ جاتا رہا تو سخت غصے کی حالت میں جن تختیوں کو انہوں نے زمین پر ڈال دیا تھا، اب اٹھا لیں۔ یہ غصہ صرف اللہ کی راہ میں تھا کیونکہ آپ کی قوم نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ ان تختیوں میں ہدایت و رحمت تھی۔
کہتے ہیں کہ جب کلیم اللہ نے تختیاں زمین پر ڈال دیں تو وہ ٹوٹ گئیں، پھر انہیں جمع کیا۔ تو ان میں رہبری اور رحم پایا اور تفصیل اٹھا لی گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ ان تختیوں کے ٹکڑے شاہی خزانوں میں بنی اسرائیل کے پاس دولت اسلامیہ کے ابتدائی زمانے تک محفوظ رہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس کی صحت کا کوئی پتہ نہیں حالانکہ یہ بات مشہور ہے کہ وہ تختیاں جنتی جوہر کی تھیں اور اس آیت میں ہے کہ پھر موسیٰ علیہ السلام نے خود ہی انہیں اٹھا لیا اور ان میں رحمت و ہدایت پائی چونکہ رہبت متضمن ہے خشوع و خضوع کو، اس لیے اسے لام سے متعدی کیا۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ان میں آپ نے لکھا دیکھا کہ ایک امت تمام امتوں سے بہتر ہو گی جو لوگوں کے لیے قائم کی جائے گی جو بھلی باتوں کا حکم کرے گی اور برائیوں سے روکے گی تو موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی کہ اے اللہ! میری امت کو یہی امت بنا دے۔ جواب ملا کہ یہ امت امت احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو دنیا میں سب سے آخر آئے گی اور جنت میں سب سے پہلے جائے گی تو بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جن کی کتاب ان کے سینوں میں ہو گی جس کی وہ تلاوت کریں گے یعنی حفظ کریں گے اور دوسرے لوگ دیکھ کر پڑھتے ہیں۔
صفحہ نمبر3076
اگر ان کی کتابیں اٹھ جائیں تو علم جاتا رہے کیونکہ انہیں حفظ نہیں۔ اس طرح کا حافظہ اسی امت کے لئے مخصوص ہے، کسی اور امت کو نہیں ملا۔ اس پر بھی آپ نے یہی درخواست کی اور یہی جواب پایا۔ پھر دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا ہے کہ ایک امت ہو گی جو اگلی پچھلی تمام کتابوں پر ایمان لائے گی اور گمراہوں سے جہاد کرے گی یہاں تک کہ کانے دجال سے جہاد کرے گی۔ اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔
پھر دیکھا کہ ایک امت ہو گی جو اپنے صدقے آپ کھائے گی اور اجر بھی پائے گی حالانکہ اور امتیں جو صدقہ کرتی رہیں، اگر قبول ہوا تو آگ آ کر اسے کھا گئی اور اگر نامقبول ہوا تو اسے درندوں پرندوں نے کھا لیا۔ اللہ نے تمہارے صدقے تمہارے مالداروں سے تمہارے مفلسوں کے لیے لیے ہیں۔ اس پر بھی کلیم اللہ نے یہی دعا کی اور یہی جواب ملا۔ پھر پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو اگر نیکی کا ارادہ کر لے پھر نہ کرے تو بھی نیکی لکھ لی جائے گی اور اگر کر بھی لی تو دس نیکیاں لکھی جائیں گی، سات سو تک اسی طرح بڑھتی چلی جائیں گی اس پر بھی آپ نے یہی دعا کی اور یہی جواب پایا۔ پھر ان تختیوں میں آپ نے پڑھا کہ ایک امت ہو گی جو خود بھی شفاعت کرے گی اور ان کی شفاعت دوسرے بھی کریں گے۔ آپ نے پھر یہی دعا کی کہ اے اللہ! یہ مرتبہ میری امت کو دے۔ جواب ملا: یہ امت امت احمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اس پر آپ نے تختیاں لے لیں اور کہنے لگے: اے اللہ! مجھے امت احمد میں کر دے۔“
صفحہ نمبر3077
موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭
موسیٰ علیہ السلام نے حسب فرمان الٰہی اپنی قوم میں سے ستر شخصوں کو منتخب کیا اور جناب باری سے دعائیں مانگنا شروع کیں۔ لیکن یہ لوگ اپنی دعا میں حد سے تجاوز کر گئے۔ کہنے لگے: اللہ تو ہمیں وہ دے جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیا ہو، نہ ہمارے بعد کسی کو دے۔ یہ دعا اللہ تعالیٰ کو ناپسند آئی اور ان پر بھونچال آ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] جس سے گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”انہیں لے کر آپ اللہ تعالیٰ سے بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی معذرت کرنے کے لئے گئے تھے۔ یہاں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: ہم تو جب تک خود اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ایمان نہ لائیں گے۔ ہم کلام سن رہے ہیں لیکن دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس پر کڑاکے کی آواز ہوئی اور یہ سب مر کھپ گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے رونا شروع کیا کہ میں بنی اسرائیل کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ ان کے یہ بہترین لوگ تھے۔ اگر یہی منشاء تھی تو اس سے پہلے ہی ہمیں ہلاک کر دیا ہوتا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:73/6]
امام محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ انہیں اس بت پرستی سے توبہ کرنے کیلئے بطور وفد کے آپ لے چلے تھے۔ ان سے فرما دیا تھا کہ پاک صاف ہو جاؤ، پاک کپڑے پہن لو اور روزے سے چلو۔ یہ اللہ کے بتائے ہوئے وقت پر طور سینا پہنچے۔ مناجات میں مشعول ہوئے تو انہوں نے خواہش کی کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ ہم بھی اللہ کا کلام سنیں۔ آپ نے دعا کی، جب حسب عادت بادل آیا اور موسیٰ علیہ السلام آگے بڑھ گئے اور بادل میں چھپ گئے۔ قوم سے فرمایا: تم بھی قریب آ جاؤ، یہ بھی اندر چلے گئے اور حسب عادت موسیٰ علیہ السلام کی پیشانی پر ایک نور چمکنے لگا جو اللہ کے کلام کے وقت برابر چمکتا رہتا تھا۔ اس وقت کوئی انسان آپ کے چہرے پر نگاہ نہیں ڈال سکتا تھا۔ آپ نے حجاب کر لیا، لوگ سب سجدے میں گر پڑے اور اللہ کا کلام شروع ہوا جو یہ لوگ بھی سن رہے تھے کہ فرمان ہو رہا ہے، یہ نہ کر وغیرہ۔
صفحہ نمبر3078
جب باتیں ہو چکیں اور ابر اٹھ گیا تو ان لوگوں نے کہا: ہم تو جب تک اللہ کو خوب ظاہر نہ دیکھ لیں، ایمان نہیں لائیں گے تو ان پر کڑاکا نازل ہوا اور سب کے سب ایک ساتھ مر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے اور مناجات شروع کر دی۔ اس میں یہاں تک کہا کہ اگر ہلاک ہی کرنا تھا تو اس سے پہلے ہلاک کیا ہوتا۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام، ہارون علیہ السلام کو اور شبر، شبیر کو لے کر پہار کی گھاٹی میں گئے۔ ہارون ایک بلند جگہ کھڑے تھے کہ ان کی روح قبض کر لی گئی۔ جب آپ واپس بنی اسرائیل کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا کہ چونکہ آپ کے بھائی بڑے ملنسار اور نرم آدمی تھے آپ نے ہی انہیں الگ لے جا کر قتل کر دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: اچھا تم اپنے میں سے ستر آدمی چھانٹ کر میرے ساتھ کر دو۔ انہوں نے کر دیئے جنہیں لے کر آپ گئے اور ہارون علیہ السلام کی لاش سے پوچھا کہ آپ کو کس نے قتل کیا؟ اللہ کی قدرت سے وہ بولے: کسی نے نہیں بلکہ میں اپنی موت مرا ہوں۔ انہوں نے کہا: بس موسیٰ علیہ السلام، اب سے آپ کی نافرمانی ہرگز نہ کی جائے گی۔ اسی وقت زلزلہ آیا جس سے وہ سب مر گئے۔ اب تو موسیٰ علیہ السلام بہت گھبرائے، دائیں بائیں گھومنے لگے اور وہ عرض کرنے لگے جو قرآن میں مذکور ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی التجا قبول کر لی۔ ان سب کو زندہ کر دیا اور بعد میں وہ سب انبیاء بنے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:74/6] لیکن یہ اثر بہت ہی غریب ہے۔ اس کا ایک راوی عمارہ بن عبد غیر معروف ہے۔
یہ بھی مروی ہے کہ ان پر اس زلزلے کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ بچھڑے کی پرستش کے وقت خاموش تھے۔ ان پجاریوں کو روکتے نہ تھے۔ اس قول کی دلیل میں موسیٰ علیہ السلام کا یہ فرمان بالکل ٹھیک اترتا ہے کہ اے اللہ! ہم میں سے چند بیوقوفوں کے فعل کی وجہ سے تو ہمیں ہلاک کر رہا ہے؟ پھر فرماتے ہیں: یہ تو تیری طرف کی آزمائش ہی ہے، تیرا حکم چلتا ہے اور تیری ہی چاہت کامیاب ہے۔
صفحہ نمبر3079
ہدایت و ضلالت تیرے ہی ساتھ ہے . جس کو تو ہدایت دے , اسے کوئی بہکا نہیں سکتا اور جسے تو بہکائے , اس کی کوئی رہبری نہیں کر سکتا۔ تو جس سے روک لے , اسے کوئی دے نہیں سکتا اور جسے دے دے، اس سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ ملک کا مالک تو اکیلا، حکم کا حاکم صرف تو ہی۔ خلق و امر تیرا ہی ہے، تو ہمارا ولی ہے۔ ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما، تو سب سے اچھا معاف فرمانے والا ہے۔
غفر کے معنی ہیں: چھپا دینا اور پکڑ نہ کرنا۔ جب رحمت بھی اس کے ساتھ مل جائے تو یہ مطلب ہوتا ہے کہ آئندہ اس گناہ سے بچاؤ ہو جائے۔ گناہوں کا بخش دینے والا صرف تو ہی ہے۔ پس جس چیز سے ڈر تھا، اس کا بچاؤ طلب کرنے کے بعد اب مقصود حاصل کرنے کے لئے دعا کی جاتی ہے کہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما۔ اسے ہمارے نام لکھ دے۔ واجب و ثابت کر دے۔ «حسنہ» کی تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔ ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں، رغبت ہماری تیری ہی جانب ہے، ہماری توبہ اور عاجزی تیری طرف ہے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”چونکہ انہوں نے «ھُدْنَا» کہا تھا، اس لیے انہیں یہودی کہا گیا ہے۔“ لیکن اس روایت کی سند میں جابر بن یزید جعفی ہیں جو ضعیف ہیں۔
صفحہ نمبر3080
اللہ تعالٰی کی رحمت اور انسان ٭٭
چونکہ کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی دعا میں کہا تھا کہ یہ محض تیری طرف سے آزمائش ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ عذاب تو صرف گنہگاروں کو ہی ہوتا ہے اور گنہگاروں میں سے بھی انہی کو جو میری نگاہ میں گنہگار ہیں، نہ کہ ہر گنہگار کو۔ میں اپنی حکمت، عدل اور پورے علم کے ذریعے سے جانتا ہوں کہ مستحق عذاب کون ہے؟ صرف اسی کو عذاب پہنچاتا ہوں۔ ہاں البتہ میری رحمت بڑی وسیع چیز ہے جو سب کو شامل، سب پر حاوی اور سب پر محیط ہے۔
چنانچہ عرش کے اٹھانے والے اور اس کے اردگرد رہنے والے فرشتے فرماتے رہتے ہیں کہ اے رب! تو نے اپنی رحمت اور اپنے علم سے تمام چیزوں کو گھیر رکھا ہے۔ مسند امام احمد میں ہے کہ ایک اعرابی آیا۔ اونٹ بٹھا کر، اسے باندھ کر نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہو کر اونٹ کو کھول کر اس پر سوار ہو کر اونچی آواز سے دعا کرنے لگا کہ اے اللہ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور اپنی رحمت میں کسی اور کو ہم دونوں کا شریک نہ کر۔ آپ یہ سن کر فرمانے لگے: بتاؤ یہ خود راہ گم کردہ ہونے میں بڑھا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ تم نے سنا بھی، اس نے کیا کہا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سن لیا۔ آپ نے فرمایا: اے شخص! تو نے اللہ کی بہت ہی کشادہ رحمت کو بہت تنگ چیز سمجھ لیا۔ سن! اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک حصہ مخلوق میں اتارا جو تمام مخلوق میں تقسیم ہوا یعنی انسان، حیوان، جنات سب میں اور ننانوے حصے اپنے لیے باقی رکھے۔ لوگو! بتاؤ یہ زیادہ راہ بہکا ہوا ہے یا اس کا اونٹ؟ [مسند احمد:312/4:ضعیف]
مسند کی اور حدیث میں ہے: اللہ عز و جل نے اپنی رحمت کے سو حصے کئے جن میں سے صرف ایک ہی حصہ دنیا میں اتارا۔ اسی سے مخلوق ایک دوسرے پر ترس کھاتی ہے اور رحم کرتی ہے، اسی سے حیوان بھی اپنی اولاد کے ساتھ نرمی اور رحم کا برتاؤ کرتے ہیں۔ باقی کے ننانوے حصے تو اس کے پاس ہی ہیں جن کا اظہار قیامت کے دن ہو گا۔ [صحیح مسلم:2753]
صفحہ نمبر3081
اور روایت میں ہے کہ بروز قیامت اسی حصے کے ساتھ اور ننانوے حصے جو مؤخر ہیں، ملا دیئے جایں گے۔ [صحیح مسلم:2742]
ایک اور روایت میں ہے کہ اسی نازل کردہ ایک حصے میں پرند بھی شریک ہیں۔ [سنن ابن ماجه:4294، قال الشيخ الألباني:صحیح]
طبری میں ہے: قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ جو اپنے دین میں فاجر ہے، جو اپنی معاش میں احمق ہے وہ بھی اس میں داخل ہے۔ اس کی قسم جو میری جان اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے! وہ بھی جنت میں جائے گا جو مستحق جہنم ہو گا۔ اس کی قسم جس کے قبضے میں میری روح ہے! قیامت کے دن اللہ کی رحمت کے کرشمے دیکھ کر ابلیس بھی امیدوار ہو کر ہاتھ پھیلا دے گا۔ [طبرانی کبیر:3022:ضعیف] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اس کا راوی سعد غیر معروف ہے۔
پس میں اپنی اس رحمت کو ان کے لیے واجب کر دوں گا اور یہ بھی محض اپنے فضل و کرم سے۔ جیسے فرمان ہے: ” تمہارے رب نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کر لیا ہے۔ “ [6-الأنعام:12]
پس جن پر رحمت رب واجب ہو جائے گی، ان کے جو اوصاف بیان فرمائے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مراد اس سے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو تقویٰ کریں یعنی شرک سے اور کبیرہ گناہوں سے بچیں، زکوٰۃ دیں یعنی اپنے ضمیر کو پاک رکھیں اور مال کی زکوٰۃ بھی ادا کریں۔ (کیونکہ یہ آیت مکی ہے) اور ہماری آیتوں کو مان لیں، ان پر ایمان لائیں اور انہیں سچ سمجھیں۔
صفحہ نمبر3082
باب
سابقہ کتابوں میں آخری پیغمبر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف بیان ہوئے تھے جس سے ان نبیوں کی امت آپ کو پہچان جائے , وہ بیان ہو رہے ہیں۔ سب کو حکم تھا کہ ان صفات کا پیغمبر اگر تمہارے زمانے میں ظاہر ہو تو تم سب ان کی تابعداری میں لگ جانا۔
مسند احمد میں ہے: ایک صاحب فرماتے ہیں: میں کچھ خرید و فروخت کا سامان لے کر مدینے آیا۔ جب اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: اس شخص سے بھی مل لوں۔ میں چلا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کہیں جا رہے ہیں۔ میں بھی پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ آپ ایک یہودی عالم کے گھر گئے، اس کا نوجوان تنومند بیٹا نزع کی حالت میں تھا اور وہ اپنے دل کو تسکین دینے کیلئے تورات کھولے ہوئے اس کے پاس بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تجھے اس کی قسم جس نے یہ تورات نازل فرمائی ہے، کیا میری صفت اور میرے معبوث ہونے کی خبر اس میں تمہارے پاس ہے یا نہیں؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے انکار کیا۔ اسی وقت اس کا بچہ بول اٹھا کہ اس کی قسم جس نے تورات نازل فرمائی ہے! ہم آپ کی صفات اور آپ کے آنے کا پورا حال اس تورات میں موجود پاتے ہیں اور میری تہہ دل سے گواہی ہے کہ معبود برحق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور آپ اس کے سچے رسول ہیں۔
صفحہ نمبر3083
آپ نے فرمایا: اس یہودی کو اپنے بھائی کے پاس سے ہٹاؤ۔ پھر آپ ہی اس کے کفن دفن کے والی بنے اور اس کے جنازے کی نماز پڑھائی۔ [مسند احمد:411/5:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہے: ہشام بن عاص اموی فرماتے ہیں کہ میں اور ایک صاحب روم کے بادشاہ ہرقل کو دعوت اسلام دینے کے لئے روانہ ہوئے۔ غوطہ دمشق میں پہنچ کر ہم جبلہ بن ایہم غسانی کے گھر گئے۔ اس نے اپنا قاصد بھیجا کہ ہم اس سے باتیں کر لیں۔ ہم نے کہا: واللہ! ہم تم سے کوئی بات نہ کریں گے۔ ہم بادشاہ کے پاس بھیجے گئے ہیں، اگر وہ چاہیں تو ہم سے خود سنیں اور خود جواب دیں ورنہ ہم قاصدوں سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ قاصدوں نے یہ خبر بادشاہ کو پہنچائی، اس نے اجازت دی اور ہمیں اپنے پاس بلا لیا چنانچہ میں نے اس سے باتیں کیں اور اسلام کی دعوت دی۔ وہ اس وقت سیاہ لباس پہنے ہوئے تھا۔ کہنے لگا کہ دیکھ میں نے یہ لباس پہن رکھا ہے اور حلف اٹھایا ہے کہ جب تک تم لوگوں کو شام سے نہ نکال دوں گا، اس سیاہ لبادے کو نہ اتاروں گا۔ قاصد اسلام نے یہ سن کر پھر کہا: بادشاہ ہوش سنبھالو۔ اللہ کی قسم! یہ آپ کے تخت کی جگہ اور آپ کے بڑے بادشاہ کا پائے تخت بھی ان شاءاللہ ہم اپنے قبضے میں کر لیں گے۔ یہ کوئی ہماری ہوس نہیں بلکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں یہ پختہ خبر مل چکی ہے۔
اس نے کہا: تم وہ لوگ نہیں۔ ہاں ہم سے ہمارا یہ تخت و تاج و قوم چھینے گی جو دنوں کو روزے سے رہتے ہوں اور راتوں کو تہجد پڑھتے ہوں۔
صفحہ نمبر3084
اچھا تم بتاؤ! تمہارے روزے کے احکام کیا ہیں؟ اب جو ہم نے بتائے تو اس کا منہ کالا ہو گیا۔ اس نے اسی وقت ہمارے ساتھ اپنا ایک آدمی کر دیا اور کہا: انہیں شاہ روم کے پاس لے جاؤ۔ جب ہم اس کے پائے تخت کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگا: تم اس حال میں تو اس شہر میں نہیں جا سکتے، اگر تم کہو تو میں تمہارے لیے عمدہ سواریاں لا دوں، ان پر سوار ہو کر تم شہر میں چلو۔ ہم نے کہا: نا ممکن ہے، ہم تو اسی حالت میں انہی سواریوں پر چلیں گے۔ انہوں نے بادشاہ سے کہلوا بھیجا۔ وہاں سے اجازت آئی کہ اچھا! انہیں اونٹوں پر ہی لے آؤ۔ ہم اپنے اونٹوں پر سوار، گلے میں تلواریں لٹکائے شاہی محل کے پاس پہنچے۔ وہاں ہم نے اپنی سواریاں بٹھائیں۔ بادشاہ دریچے میں سے ہمیں دیکھ رہا تھا، ہمارے منہ سے بےساختہ «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ» کا نعرہ نکل گیا۔
اللہ خوب جانتا ہے کہ اسی وقت شاہ روم کا محل تھرا اٹھا، اس طرح جس طرح کسی خوشے کو تیز ہوا کا جھونکا ہلا رہا ہو۔ اسی وقت محل سے شاہی قاصد دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا: آپ کو یہ نہیں چاہیئے کہ اپنے دین کا اس طرح ہمارے سامنے اعلان کرو، چلو! تم کو بادشاہ سلامت یاد کر رہے ہیں۔ چنانچہ ہم اس کے ساتھ دربار میں گئے۔ دیکھا کہ چاروں طرف سرخ مخمل اور سرخ ریشم ہے۔ خود بھی سرخ لباس پہنے ہوئے ہے۔ تمام دربار پادریوں اور ارکان سلطنت سے بھرا ہوا ہے۔ جب ہم پاس پہنچ گئے تو مسکرا کر کہنے لگا: جو سلام تم میں آپس میں مروج ہے، تم نے مجھے وہ سلام کیوں نہ کیا؟ ترجمان کی معرفت ہمیں بادشاہ کا یہ سوال پہنچا تو ہم نے جواب دیا کہ جو سلام ہم میں ہے، اس کے لائق تم نہیں اور جو آداب کا دستور تم میں ہے، وہ ہمیں پسند نہیں۔ اس نے کہا: اچھا تمہارا سلام آپس میں کیا ہے؟ ہم نے کہا: السلام علیکم۔ اس نے کہا: اپنے بادشاہ کو تم کس طرح سلام کرتے ہو؟ ہم نے کہا: صرف ان ہی الفاظ سے۔
صفحہ نمبر3085
پوچھا: اچھا وہ بھی تمہیں کوئی جواب دیتے ہیں؟ ہم نے کہا: یہی الفاظ وہ کہتے ہیں۔ بادشاہ نے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں سب سے بڑا کلمہ کون سا ہے؟ ہم نے کہا «لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ» ۔
اللہ عزوجل کی قسم! ادھر ہم نے یہ کلمہ کہا، ادھر پھر سے محل میں زلزلہ پڑا۔ یہاں تک کہ سارا دربار چھت کی طرف نظریں کر کے سہم گیا۔ بادشاہ ہیبت زدہ ہو کر پوچھنے لگا: کیوں جی اپنے گھروں میں بھی جب کبھی تم یہ کلمہ پڑھتے ہو، تمہارے گھر بھی اس طرح زلزلے میں آ جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: کبھی نہیں۔ ہم نے تو یہ بات یہیں آپ کے ہاں ہی دیکھی ہے۔ بادشاہ کہنے لگا: کاش کہ تم جب کبھی اس کلمے کو کہتے، تمام چیزیں اسی طرح ہل جاتیں اور میرا آدھا ملک ہی رہ جاتا۔ ہم نے پوچھا: یہ کیوں؟ اس نے جواب دیا اس لیے کہ یہ آسان تھا بہ نسبت اس بات کے کہ یہ امر نبوت ہو۔ پھر اس نے ہم سے ہمارا ارادہ دریافت کیا: ہم نے صاف بتایا۔ اس نے کہا: اچھا! یہ بتاؤ کہ تم نماز کس طرح پڑھتے ہو اور روزہ کس طرح رکھتے ہو؟ ہم نے دونوں باتیں بتا دیں۔ اس نے اب ہمیں رخصت کیا اور بڑے اکرام و احترام سے ہمیں شاہی معزز مہمانوں میں رکھا۔ تین دن جب گزرے تو رات کے وقت ہمیں قاصد بلانے آیا، ہم پھر دربار میں گئے تو اس نے ہم سے پھر ہمارا مطلب پوچھا: ہم نے اسے دوہرایا۔ پھر اس نے ایک حویلی کی شکل کی سونا مڑھی ہوئی ایک چیز منگوائی جس میں بہت سارے مکانات تھے اور ان کے دروازے تھے۔ اس نے اسے کنجی سے کھول کر ایک سیاہ رنگ کا ریشمی جامہ نکالا۔ ہم نے دیکھا کہ اس میں ایک شخص ہے جس کی بڑی بڑی آنکھیں ہیں، بڑی رانیں ہیں۔ بڑی لمبی اور گھنی داڑھی ہے اور سر کے بال دو حصوں میں نہایت کو خوبصورت لمبے لمبے ہیں۔ ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔
صفحہ نمبر3086
کہا: یہ آدم علیہ السلام ہیں۔ ان کے جسم پر بال بہت ہی تھے۔ پھر دوسرا دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ ریشم کا پارچہ نکالا جس میں ایک سفید صورت تھی جس کے گھنگریالے بال تھے، سرخ رنگ آنکھیں تھیں، بڑے کلے کے آدمی تھے اور بڑی خوش وضع داڑھی تھی۔ ہم سے پوچھا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم نے انکار کیا تو کہا: یہ نوح علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ ریشمی کپڑا نکالا، اس میں ایک شخص تھا نہایت ہی گورا چٹا رنگ، بہت خوبصورت آنکھیں، کشادہ پیشانی، لمبے رخسار، سفید داڑھی، یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ مسکرا رہے ہیں۔ ہم سے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے انکار کیا تو کہا: یہ ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھولا، اس میں سے ایک خوبصورت سفید شکل دکھائی دی جو ہو بہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی۔ ہم سے پوچھا: انہیں پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ کہا اور ہمارے آنسو نکل آئے۔
بادشاہ اب تک کھڑا ہوا تھا، اب وہ بیٹھ گیا۔ اور ہم سے دوبارہ پوچھا کہ یہی شکل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے؟ ہم نے کہا: واللہ! یہی ہے۔ اسی طرح کہ گویا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دیکھ رہا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر تک تو غور سے اسے دیکھتا رہا، پھر ہم سے کہنے لگا کہ یہ آخری گھر تھا لیکن میں نے اور گھروں کو چھوڑ کر اسے بیچ میں ہی کھول دیا کہ تمہیں آزما لوں کہ تم پہچان جاتے ہو یا نہیں۔
پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے بھی سیاہ رنگ ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں نرمی والی صورت تھی۔ بال گھونگھریالے، آنکھیں گہری، نظریں تیز، تیور تیکھے، دانت پر دانت، ہونٹ موٹے ہو رہے تھے جیسے کہ غصے میں بھرے ہوئے ہیں۔ اس نے ہم سے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے انکار کیا۔ بادشاہ نے کہا: یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ اسی کے متصل ایک اور صورت تھی جو قریب قریب اسی کی سی تھی۔ مگر ان کے سر کے بال گویا تیل لگے ہوئے تھے۔
صفحہ نمبر3087
ماتھا کشادہ تھا، آنکھوں میں کچھ فراخی تھی۔ ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہمارے انکار پر کہا: یہ ہارون بن عمران علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید رنگ ریشم کا ٹکڑا نکالا جس میں ایک گندم گوں رنگ میانہ قد سیدھے بالوں والا ایک شخص تھا گویا وہ غضبناک ہے۔ پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا یہ لوط علیہ السلام ہیں۔
پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے ایک سفید ریشمی کپڑا نکال کر دکھایا جس میں سنہرے رنگ کے ایک آدمی تھے جن کا قد طویل نہ تھا، رخسار ہلکے تھے، چہرہ خوبصورت تھا۔ اس نے ہم سے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا نہیں۔ کہا: یہ اسحاق علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک اور دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشمی کپڑا نکال لر ہمیں دکھایا۔ اس میں جو صورت تھی، وہ پہلی صورت کے بالکل مشابہ تھی مگر ان کے ہونٹ پر تل تھا۔ اس نے ہم سے پوچھا: اسے پہچان لیا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ یعقوب علیہ السلام ہیں۔ پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سیاہ رنگ کا ریشمی کپڑا نکالا جس میں ایک شکل تھی سفید رنگ، خوبصورت اونچی ناک والے، نورانی چہرے والے جس میں خوف الٰہی ظاہر تھا۔ رنگ سرخی مائل سفید تھا۔ پوچھا اس نے: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا اسماعیل علیہ السلام ہیں۔
پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشمی کپڑے کا ٹکڑا نکال کر دکھایا جس میں ایک صورت تھی جو آدم علیہ السلام کی صورت سے بہت ہی ملتی جلتی تھی اور چہرہ تو سورج کی طرح روشن تھا۔ اس نے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے لاعلمی ظاہر کی تو کہا: یہ یوسف علیہ السلام ہیں۔
صفحہ نمبر3088
پھر ایک دروازہ کھول کر اس میں سے سفید ریشم کا پارچہ نکال کر ہمیں دکھایا جس میں ایک صورت تھی۔ سرخ رنگ، بھری پنڈلیاں، کشادہ آنکھیں، اونچا پیٹ، قدرے چھوٹا قد، تلوار لٹکائے ہوئے۔ اس نے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ داؤد علیہ السلام ہیں۔ پھر اور دروازہ کھول کر سفید ریشم کا کپڑا نکالا جس میں ایک صورت تھی۔ موٹی رانوں والی، لمبے پیروں والی، گھوڑے پر سوار۔ اس نے پوچھا: انہیں پہچانا؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ سلیمان علیہ السلام ہیں۔
پھر ایک اور دروازہ کھولا اور اس میں سے سیاہ رنگ حریری پارچہ نکالا جس میں ایک صورت تھی۔ سفید رنگ، نوجوان، سخت سیاہ داڑھی، بہت زیادہ بال، خوشمنا آنکھیں، خوبصورت چہرہ۔ اس نے پوچھا: انہیں جانتے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں۔ کہا: یہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں۔ ہم نے پوچھا: آپ کے پاس یہ صورتیں کہاں سے آئیں؟ یہ تو ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ یہ تمام انبیاء کی اصلی صورتوں کے بالکل ٹھیک نمونے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کو بالکل ٹھیک اور درست پایا۔ بادشاہ نے جواب دیا: بات یہ ہے کہ آدم علیہ السلام نے رب العزت سے دعا کی کہ آپ کی اولاد میں سے جو انبیاء علیہم السلام ہیں وہ سب کو دکھائے جائیں۔ پس ان کی صورتیں آپ پر نازل ہوئیں جو آدم علیہ السلام کے خزانے میں جو سورج کے غروب ہونے کی جگہ پر تھا، محفوظ تھیں۔ ذوالقرنین نے وہاں سے لے لیں اور دانیال کو دیں۔
پھر بادشاہ کہنے لگا کہ میں تو اس پر خوش ہوں کہ اپنی بادشاہی چھوڑ دوں۔ میں اگر غلام ہوتا تو تمہارے ہاتھوں بک جاتا اور تمہاری غلامی میں اپنی پوری زندگی بسر کرتا۔ پھر اس نے ہمیں بہت کچھ تحفے تحائف دے کر اچھی طرح رخصت کیا۔
صفحہ نمبر3089
جب ہم خلیفہ المسلمین امیر المؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دربار میں پہنچے اور یہ سارا واقعہ بیان کیا تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ رو دیئے اور فرمانے لگے: اس مسکین کے ساتھ اللہ کی توفیق رفیق ہوتی تو یہ ایسا کر گزرتا۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا ہے کہ نصرانی اور یہودی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اپنی کتابوں میں برابر پاتے ہیں۔ [دلائل النبوۃ للبیھقی:385/1-390] یہ روایت امام بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب دلائل النبوۃ میں بھی ہے۔ اس کی اسناد بھی خوف و خطر سے خالی ہے۔
عطاء بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں تورات میں ہوں، وہ مجھے بتاؤ تو انہوں نے فرمایا: ہاں واللہ آپ کی صفتیں تورات میں ہیں، جو قرآن میں بھی ہیں کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آپ کو گواہ اور خوشخبری سنانے والا اور آگاہ کرنے والا اور ان پڑھوں کو گمراہی سے بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ آپ میرے بندے اور رسول ہیں، آپ کا نام متوکل ہے، آپ بدگو اور بدخلق نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قبض نہ کرے گا جب تک کہ آپ کی وجہ سے لوگوں کی زبان سے «لَا اِلٰہَ اِلّاََ اللہُ» کہلوا کر ٹیڑھے دین کو درست نہ کر دے، بند دلوں کو کھول نہ دے، بہرے کانوں کو سننے والا نہ بنا دے، اندھی آنکھوں کو دیکھتی نہ کر دے۔ یہ روایت صحیح بخاری شریف میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:4838]
صفحہ نمبر3090
عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں کعب رحمہ اللہ سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔ ایک حرف کی بھی کمی بیشی دونوں صاحبوں کے بیان میں نہ تھی۔ یہ اور بات ہے کہ آپ نے اپنی لغت میں دونوں کے الفاظ بولے۔
بخاری شریف کی اس روایت میں اس ذکر کے بعد کہ آپ بدخلق نہیں، یہ بھی ہے کہ آپ بازاروں میں شور و غل کرنے والے نہیں، آپ برائی کے بدلے برائی کرنے والے نہیں بلکہ معافی اور درگزر کرنے والے ہیں۔ [صحیح بخاری:4838]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ذکر کے بعد ہے کہ سلف کے کلام میں عموماً تورات کا لفظ اہل کتاب کی کتابوں پر بولا جاتا ہے۔ اس کے مشابہ اور بھی روایتیں ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
طبرانی میں جبیر بن مطعم سے مروی ہے کہ میں تجارت کی غرض سے شام میں گیا۔ وہاں میری ملاقات اہل کتاب کے ایک عالم سے ہوئی۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ نبی تم میں ہوئے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: اگر تمہیں ان کی صورت دکھائیں تو تم پہچان لو گے؟ میں نے کہا: ضرور! چنانچہ وہ مجھے ایک گھر میں لے گیا جہاں بہت سی صورتیں تھیں لیکن ان میں میری نگاہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی شبیہ نہ آئی، اسی وقت ایک اور عالم آیا۔ ہم سے پوچھا: کیا بات ہے؟ جب اسے ساری بات معلوم ہوئی تو وہ ہمیں اپنے مکان لے گیا۔ وہاں جاتے ہی میری نگاہ آپ کی شبیہ پر پڑی اور میں نے دیکھا کہ گویا کوئی آپ کے پیچھے ہی آپ کو تھامے ہوئے ہے، میں نے یہ دیکھ کر اس سے پوچھا: یہ دوسرے صاحب پیچھے کیسے ہیں؟
صفحہ نمبر3091
اس نے جواب دیا کہ جو نبی آیا، اس کے بعد بھی نبی آیا لیکن اس نبی کے بعد کوئی نبی نہیں۔ اس کے پیچھے کا یہ شخص اس کا خلیفہ ہے۔ اب جو میں نے غور سے دیکھا تو وہ بالکل سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شکل تھی۔ [طبرانی کبیر:1537:ضعیف]
امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اپنے مؤذن اقرع کو ایک پادری کے پاس بھیجا۔ آپ اسے بلا لائے، امیر المؤمنین نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تم میری صفت اپنی کتابوں میں پاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا کیا؟ اس نے جواب دیا کہ قرن۔ آپ نے کوڑا اٹھا کر فرمایا: قرن کیا ہے؟ اس نے کہا: گویا کہ وہ لوہے کا سینگ ہے، وہ امیر ہے، دین میں بہت سخت۔ فرمایا: اچھا میرے بعد والے کی صفت کیا ہے؟ اس نے کہا کہ خلیفہ تو وہ نیک صالح ہے لیکن اپنے قرابتداروں کو وہ دوسروں پر ترجیح دے گا۔ آپ نے فرمایا: اللہ عثمان پر رحم کرے! تین بار یہ فرمایا، پھر فرمایا: اچھا! ان کے بعد؟ اس نے کہا: لوہے کے ٹکڑے جیسا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیا اور افسوس کرنے لگے۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! ہوں گے تو وہ نیک خلیفہ لیکن بنائے ہی اس وقت جائیں گے جب تلوار کھچی ہوئی ہو اور خون بہہ رہا ہو۔ [سنن ابوداود:4656، قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابوداؤد)
ان کتابوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت یہ بھی تھی کہ آپ نیکیوں کا حکم دیں گے، برائیوں سے روکیں گے۔ فی الواقع آپ ایسے ہی تھے۔ کون سی بھلائی ہے جس کا آپ نے حکم نہ دیا ہو؟ کون سی برائی ہے جس سے آپ نے نہ روکا ہو؟
جیسے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”تم جب قرآن کے یہ لفظ سنو کہ اے ایمان والو تو اسی وقت ہمہ تن گوش ہو جاؤ کیونکہ یا تو کسی خیر کا تمہیں حکم کیا جائے گا یا کسی شر سے تمہیں بچایا جائے گا۔ ان میں سب سے زیادہ تاکید اللہ کی وحدانیت کی تھی جس کا حکم برابر ہر نبی کو ہوتا رہا۔“
صفحہ نمبر3092
قرآن شاہد ہے کہ ہر امت کے رسول کو پہلا حکم یہی ملا کہ وہ لوگوں سے کہہ دیں کہ ایک اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ماسوا کسی کی عبادت نہ کرو۔
مسند احمد میں فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جب تم میری کسی حدیث کو سنو جسے تمہارے دل پہچان لیں، تمہارے جسم اس کی قبولیت کے لیے تیار ہو جائیں اور تمہیں یہ معلوم ہو کہ وہ میرے لائق ہے تو میں اس سے بہ نسبت تمہارے زیادہ لائق ہوں اور جب تم میرے نام سے کوئی ایسی بات سنو جس سے تمہارے دل انکار کریں اور تمہارے جسم نفرت کریں اور تم دیکھو کہ وہ تم سے بہت دور ہے۔ پس میں بہ نسبت تمہارے بھی اس سے بہت دور ہوں۔ [مسند احمد:425/5:حسن] اس کی سند بہت پکی ہے
اسی کی ایک اور روایت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول کوئی حدیث سنو تو اس کے ساتھ وہ خیال کرو جو خوب راہ والا بہت مبارک اور بہت پرہیزگاری والا ہو۔ [مسند احمد:122/1:مرسل صحیح]
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صفت بیان ہو رہی ہے کہ آپ کل پاک صاف اور طیب چیزوں کو حلال کرتے ہیں۔ بہت سی چیزیں ان میں ایسی تھیں جنہیں لوگوں نے از خود حرام قرار دے لیا تھا۔ جیسے جانوروں کو بتوں کے نام کر کے نشان ڈال کر انہیں حرام سمجھنا وغیرہ اور خبیث اور گندی چیزیں آپ لوگوں پر حرام کرتے ہیں۔ جیسے سور کا گوشت، سود وغیرہ اور جو حرام چیزیں لوگوں نے از خود حلال کر لی تھیں۔
صفحہ نمبر3093
بعض علماء کا فرمان ہے کہ اللہ کی حلال کردہ چیزیں کھاؤ۔ وہ دین میں بھی ترقی کرتی ہیں اور بدن میں بھی فائدہ پہنچاتی ہیں اور جو چیزیں حرام کر دی ہیں، ان سے بچو کیونکہ ان سے دین کے نقصانات کے علاوہ صحت میں بھی نقصان ہوتا ہے۔ اس آیت کریمہ سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ چیزوں کی اچھائی برائی دراصل عقلی ہے۔ اس کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں لیکن یہ جگہ اس کے بیان کی نہیں۔
اسی آیت کو زیر نظر رکھ کر بعض اور علماء نے کہا ہے کہ جن چیزوں کا حلال حرام ہونا کسی کو نہ پہنچا ہو اور کوئی آیت یا حدیث اس کے بارے میں نہ ملی ہو تو دیکھنا چاہیئے کہ عرب اسے اچھی چیز سمجھتے ہیں یا اس سے کراہت کرتے ہیں۔ اگر اسے اچھی چیز جان کر استعمال میں لاتے ہیں تو حلال ہے اور اگر بری چیز سمجھ کر نفرت کر کے اسے نہ کھاتے ہوں تو وہ حرام ہے۔ اس اصول میں بھی بہت کچھ گفتگو ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ آپ بہت صاف، آسان اور سہل دین لے کر آئیں گے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ میں ایک طرف آسان دین دے کر معبوث کیا گیا ہوں۔ [مسند احمد:116/6:صحیح]
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یمن کا امیر بنا کر بھیجتے ہیں تو فرماتے ہیں: تم دونوں خوش خبری دینا، نفرت نہ دلانا۔ آسانی کرنا، سختی نہ کرنا۔ مل کر رہنا، اختلاف نہ کرنا۔ [صحیح بخاری:6124]
صفحہ نمبر3094
آپ کے صحابی ابوبرزہ اسلمی فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں اور آپ کی آسانیوں کا خوب مشاہدہ کیا ہے۔ [صحیح بخاری:1211]
پہلی امتوں میں بہت سختیاں تھیں لیکن پروردگار عالم نے اس امت سے وہ تمام تنگیاں دور فرما دیں۔ آسان دین اور سہولت والی شریعت انہیں عطا فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میری امت کے دلوں میں جو وسوسے گزریں، ان پر انہیں پکڑ نہیں جب تک کہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ لائیں۔ [صحیح بخاری:2043]
فرماتے ہیں: میری امت کی بھول چوک اور غلطی سے اور جو کام ان سے جبراً کرائے جائیں، ان سے اللہ تعالیٰ نے قلم اٹھا لیا ہے۔ [سنن ابن ماجه:2043، قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہی وجہ ہے کہ اس امت کو خود اللہ تعالیٰ نے یہ تعلیم فرمائی کہ ” کہو اے ہمارے پروردگار! تو ہماری بھول چوک پر ہماری پکڑ نہ کر۔ اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ لاد جو ہم سے پہلوں پر تھا۔ اے ہمارے رب! ہمیں ہماری طاقت سے زیادہ بوجھل نہ کر۔ ہمیں معاف فرما، ہمیں بخش، ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا کار ساز مولیٰ ہے۔ پس ہمیں کافروں پر مدد عطا فرما۔ “ [2-البقرة:286]
صحیح مسلم شریف میں ہے کہ جب مسلمانوں نے یہ دعائیں کیں تو ہر جملے پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے یہ قبول فرمایا۔ [صحیح مسلم:126]
پس جو لوگ اس نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں اور آپ کا ادب، عزت کریں اور جو وحی آپ پر اتری ہے، اس نور کی پیروی کریں۔ وہی دنیا و آخرت میں فلاح پانے والے ہیں۔
صفحہ نمبر3095
النبی العالم اور النبی الخاتم صلی اللہ علیہ وسلم ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی و رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرماتا ہے کہ تمام عرب، عجم، گوروں، کالوں سے کہہ دو کہ میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں۔ آپ کی شرافت و عظمت ہے کہ آپ خاتم الانبیاء ہیں اور تمام دنیا کے لیے صرف آپ ہی نبی ہیں۔
جیسے فرمان قرآن ہے «قُلِ اللَّـهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَـٰذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ» [6-الأنعام:19] یعنی ” اعلان کر دے کہ مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے۔ اس پاک قرآن کی وحی میری جانب اس لیے اتاری گئی ہے کہ میں اس سے تمہیں اور جن لوگوں تک یہ پہنچے سب کو ہوشیار کر دوں۔ “
اور آیت میں ہے «وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ» [11-هود:17] یعنی ” مخلوق کے مختلف گروہ میں سے جو بھی آپ کا انکار کرے، اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے۔ “
اور آیت میں ہے «وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْأُمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوا وَّإِن تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ» [3-آل عمران:20] یعنی ” اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے کہہ دو کہ کیا تم مانتے ہو؟ اگر تسلیم کر لیں، مسلمان ہو جائیں تو راہ پر ہیں ورنہ تیرے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہی ہے۔ “
اس مضمون کی اور بھی قرآنی آیتیں بکثرت ہیں اور حدیثیں تو اس بارے میں بےشمار ہیں۔ دین اسلام کی ذرا سی بھی سمجھ جسے ہے، وہ بالیقین جانتا اور مانتا ہے کہ آپ تمام جہان کے لوگوں کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں صحیح بخاری شریف میں ہے کہ اتفاق سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میں کچھ چشمک ہو گئی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ کو ناراض کر دیا۔ سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ اسی حالت میں چلے گئے۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ آپ معاف فرمائیں اور اللہ سے میرے لیے بخشش چاہیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ راضی نہ ہوئے بلکہ کواڑ بند کر لیے۔ آپ لوٹ کر دربار محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور اس وقت اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے۔ آپ نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے انہیں ناراض اور غضبناک کر دیا۔
صفحہ نمبر3096
عمر رضی اللہ عنہ صدیق رضی اللہ عنہ کی واپسی کے بعد بہت ہی نادم ہوئے اور اسی وقت دربار رسالت مآب میں حاضر ہو کر تمام بات کہہ سنائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ باربار کہتے جاتے تھے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! زیادہ ظلم تو مجھ سے سرزد ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میرے ساتھی کو میری وجہ سے چھوڑتے نہیں؟ سنو! جب میں نے اس آواز حق کو اٹھایا کہ لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہوں تو تم نے کہا: تو جھوٹا ہے لیکن اس ابوبکر نے کہا: آپ سچے ہیں۔ [صحیح بخاری:4640]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ یاد رہے کہ میں اسے فخراً نہیں کہتا۔ میں تمام سرخ و سیاہ لوگوں کی جانب بھیجا گیا ہوں اور میری مدد مہینے بھر کے فاصلے سے صرف رعب کے ساتھ کی گئی ہے اور میرے لیے غنیمتوں کے مال حلال کر دیئے گئے ہیں حالانکہ مجھ سے پہلے وہ کسی کے لئے حلال نہیں کئے گئے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کے لیے حلال کر دی گئی ہے اور مجھے اپنی امت کی شفاعت عطا فرمائی گئی ہے جسے میں نے ان لوگوں کے لیے مخصوص کر رکھا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ (مسند امام احمد) [مسند احمد:301/1:حسن]
عمرو بن شعیب اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تہجد کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، پس بہت سے صحابہ آپ کے پیچھے جمع ہو گئے کہ آپ کی چوکیداری کریں۔ نماز کے بعد آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اس رات مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے اور کسی کو نہیں دی گئیں۔ میں تمام لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں
صفحہ نمبر3097
مجھ سے پہلے کے تمام رسول صرف اپنی اپنی قوم کی طرف ہی نبی بنا کر بھیجے جاتے رہے، مجھے اپنے دشمنوں پر رعب کے ساتھ مدد دی گئی ہے گو وہ مجھ سے مہینے بھر کے فاصلے پر ہوں، وہیں وہ مرعوب ہو جاتے ہیں۔ میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا حالانکہ مجھ سے پہلے کے لوگ ان کی بہت عظمت کرتے تھے، وہ اس مال کو جلا دیا کرتے تھے اور میرے لیے ساری زمین مسجد اور وضو کی پاک چیز بنادی گئی ہے۔ جہاں کہیں میرے امتی کو نماز کا وقت آ جائے، وہ تیمم کر لے اور نماز ادا کر لے۔ مجھ سے پہلے کے لوگ اس کی عظمت کرتے تھے، سوائے ان جگہوں کے جو نماز کے لیے مخصوص تھیں اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اور پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مجھ سے فرمایا گیا: آپ دعا کیجئے، مانگئے کیا مانگتے ہیں؟ ہر نبی مانگ چکا ہے تو میں نے اپنے اس سوال کو قیامت پر اٹھا رکھا ہے پس وہ تم سب کے لیے ہے اور ہر اس شخص کیلئے جو «لا الٰہ الا اللہ» کی گواہی دے۔ [مسند احمد:222/2:صحیح]
صفحہ نمبر3098
اس کی اسناد بہت پختہ ہے اور مسند احمد میں یہ حدیث موجود ہے۔ مسند کی اور حدیث میں ہے کہ میری امت میں سے جس یہودی یا نصرانی کے کان میں میرا ذکر پڑے اور وہ مجھ پر ایمان نہ لائے، وہ جنت میں نہیں جا سکتا۔ [مسند احمد:398/4:صحیح لغیرہ]
یہ حدیث اور سند سے صحیح مسلم شریف میں بھی ہے۔ [صحیح مسلم:153]
مسند احمد میں ہے کہ اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ذکر اس امت کے جس یہودی، نصرانی کے پاس پہنچے اور وہ مجھ پر اور میری وحی پر ایمان نہ لائے اور مر جائے، وہ جہنمی ہے۔ [مسند احمد:350/2:صحیح]
مسند کی ایک اور حدیث میں آپ نے ان پانچوں چیزوں کا ذکر فرمایا جو صرف آپ کو ہی ملی ہیں۔ پھر فرمایا: ہر نبی نے شفاعت کا سوال کر لیا ہے اور میں نے اپنے سوال کو چھپا رکھا ہے اور ان کے لیے اٹھا رکھا ہے جو میری امت میں سے توحید پر مرے۔ [مسند احمد:416/4:صحیح]
یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بخاری و مسلم میں بھی موجود ہے کہ مجھے پانچ چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کے انبیاء کو نہیں دی گئیں۔ مہینے بھر کی مسافت تک رعب سے امداد و نصرت، ساری زمین کا مسجد و طہور ہونا کہ میری امت کو جہاں وقت نماز آ جائے، ادا کر لے۔ غنیمتوں کا حلال کیا جانا جو پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھیں۔ شفاعت کا دیا جانا۔ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا جانا حالانکہ پہلے انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف ہی بھیجے جاتے تھے۔ [صحیح بخاری:335]
پھر فرماتا ہے کہ کہو، مجھے اس اللہ نے بھیجا ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، سب چیزوں کا خالق، مالک ہے۔ جس کے ہاتھ میں ملک ہے، جو مارنے، جلانے پر قادر ہے۔ جس کا حکم چلتا ہے۔ پس اے لوگو! تم اللہ پر اور اس کے رسول و نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ جو ان پڑھ ہونے کے باوجود دنیا کو پڑھا رہے ہیں۔ انہی کا تم سے وعدہ تھا اور ان ہی کی بشارت تمہاری کتابوں میں بھی ہے، انہی کی صفتیں اگلی کتابوں میں ہیں۔ یہ خود اللہ کی ذات پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ قول و فعل سب میں اللہ کے کلام کے مطیع ہیں۔ تم سب ان کے ماتحت اور فرمانبردار ہو جاؤ۔ انہی کے طریقے پر چلو، انہی کی فرمانبرداری کرو، تم راہ راست پر آ جاؤ گے۔
صفحہ نمبر3099
انبیاء کا قاتل گروہ ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتے ہیں کہ امت موسیٰ میں بھی ایک گروہ حق کا ماننے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے «مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ» [3-آل عمران:113] ” اہل کتاب میں سے ایک جماعت حق پر قائم ہے، راتوں کو اللہ کے کلام کی تلاوت کرتی رہتی ہے اور برابر سجدے کیا کرتی ہے۔ “
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ لَا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّـهِ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَـٰئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّـهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» [3-آل عمران:199] یعنی ” اہل کتاب میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ پر اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اور اس پر جو ان کی طرف اتارا گیا ہے، ایمان لاتے ہیں، اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ اللہ کی باتوں کو دنیوی نفع کی خاطر فروخت نہیں کرتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ “
اور آیت میں ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِن قَبْلِهِ هُم بِهِ يُؤْمِنُونَ وَإِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ أُولَـٰئِكَ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُم مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوا وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ» [28-القصص:52-54] ” جنہیں ہم نے اس قرآن سے پہلے اپنی کتاب دی ہے، وہ اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی آیتیں سن کر اپنے ایمان کا اور اس کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ام اس سے پہلے ہی مسلمان تھے۔ انہیں ان کے صبر کا اجر ہے۔ “
اور آیت میں ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» [2-البقرة:121] ” جو لوگ ہماری کتاب پائے ہوئے ہیں اور اسے حق تلاوت کی ادائیگی کے ساتھ پڑھتے ہیں وہ اس قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ “
اور فرمان ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِن كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا ۩» [17-الإسراء:107-109] ” جو لوگ پہلے علم دیئے گئے ہیں، وہ ہمارے پاک قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں۔ ہماری پاکیزگی کا اظہار کر کے ہمارے وعدوں کی سچائی بیان کرتے ہیں۔ اپنی ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے سجدے کرتے ہیں اور عاجزی اور اللہ سے خوف کھانے میں سبقت لے جاتے ہیں۔ “
امام ابن جریر نے اپنی تفسیر میں اس جگہ ایک عجیب خبر لکھی ہے کہ ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب بنی اسرائیل نے کفر کیا اور اپنے نبیوں کو قتل کیا، ان کے بارہ گروہ تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اس نالائق گروہ سے الگ رہا۔ اللہ تعالیٰ سے معذورت کی اور دعا کی کہ ان میں اور ان گیارہ گروہوں میں وہ تفریق کر دے۔ چنانچہ زمین میں ایک سرنگ ہو گئی۔ یہ اس میں چلے گئے اور چین کے پرلے پار نکل گئے۔ وہاں پر سچے سیدھے مسلمان انہیں ملے جو ہمارے قبلہ کی طرف نمازیں پڑھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ آیت «وَقُلْنَا مِن بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا» [17-الإسراء:104] کا یہی مطلب ہے۔
اس آیت میں جس دوسرے وعدے کا ذکر ہے، یہ آخرت کا وعدہ ہے۔ کہتے ہیں: اس سرنگ میں ڈیڑھ سال تک وہ چلتے رہے۔ کہتے ہیں: اس قوم کے اور تمہارے درمیان ایک نہر ہے
صفحہ نمبر3100
باب
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3101
باب
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3101
باب
یہ سب آیتیں سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہیں اور وہیں ان کی پوری تفسیر بھی بحمد اللہ ہم نے بیان کر دی ہے۔ وہ سورت مدنیہ ہے اور یہ مکیہ ہے۔ ان آیتوں اور ان آیتوں کا فرق بھی مع لطافت کے، ہم نے وہیں ذکر کر دیا ہے۔ دوبارہ بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔
صفحہ نمبر3101
تصدیق رسالت سے گریزاں یھودی علماء ٭٭
پہلے آیت «وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ» [2-البقرة:65] گزر چکی ہے، اسی واقعہ کا تفصیلی بیان اس آیت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ و سلامہ علیہ کو حکم دیتا ہے کہ آپ اپنے زمانے کے یہودیوں سے ان کے پہلے باپ دادوں کی بابت سوال کیجئے، جنہوں نے اللہ کے فرمان کی مخالفت کی تھی۔ پس ان کی سرکشی اور حیلہ جوئی کی وجہ سے ہماری اچانک پکڑ ان پر مسلط ہوئی۔ اس واقعہ کو یاد دلا تاکہ یہ بھی میری ناگہانی سزا سے ڈر کر اپنی اس ملعون صفت کو بدل دیں اور آپ کے جو اوصاف ان کی کتابوں میں ہیں، انہیں نہ چھپائیں۔ ایسا نہ ہو کہ ان کی طرح ان پر بھی ہمارے عذاب بے خبری میں برس پڑیں۔
ان لوگوں کی یہ بستی بحر قلزم کے کنارے واقع تھی جس کا نام آیلہ تھا۔ مدین اور طور کے درمیان یہ شہر تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بستی کا نام مدین تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام معتا تھا۔ یہ مدین اور عینونا کے درمیان تھا۔ انہیں حکم ملا کہ یہ ہفتہ کے دن کی حرمت کریں اور اس دن شکار نہ کریں، مچھلی نہ پکڑیں۔ ادھر مچھلیوں کی بحکم الٰہی یہ حالت ہوئی کہ ہفتے والے دن تو چڑھی چلی آتیں، کھلم کھلا ہاتھ لگتیں، تیرتی پھرتیں، سب طرف سے سمٹ کر آ جاتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا، ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی بلکہ تلاش پر بھی ہاتھ نہ لگتی۔ یہ ہماری آزمائش تھی کہ مچھلیاں ہیں تو شکار منع اور شکار جائز ہے تو مچھلیاں ندارد۔ چونکہ یہ لوگ فاسق اور بےحکم تھے، اس لیے ہم نے بھی ان کو اس طرح آزمایا۔ آخر ان لوگوں نے حیلہ جوئی شروع کی۔ ایسے اسباب جمع کرنے شروع کئے جو باطن میں اس حرام کام کا ذریعہ بن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ یہودیوں کی طرح حیلے کر کے ذرا سی دیر کے لیے اللہ کے حرام کو حلال نہ کر لینا۔ [جزء فی الخلع و ابطال الحیل(ص:24)لابی عبداللہ بن بطۃ کما فی ارواء الغلیل:1535]
اس حدیث کو امام ابو عبداللہ بن بطۃ رحمہ اللہ لائے ہیں اور اس کی سند نہایت عمدہ ہے۔ اس کے راوی احمد بن محمد بن مسلم کا ذکر امام خطیب رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں کیا ہے اور انہیں ثقہ کہا ہے۔ باقی سب راوی بہت مشہور ہیں اور سب کے سب ثقہ ہیں۔ ایسی بہت سی سندوں کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
صفحہ نمبر3104
اصحاب سبت ٭٭
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔
صفحہ نمبر3105
دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔
عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔
صفحہ نمبر3106
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“
آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔
صفحہ نمبر3107
باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔
رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔
صفحہ نمبر3108
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔
صفحہ نمبر3109
یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔
اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔
صفحہ نمبر3110
ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔
یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
صفحہ نمبر3111
اصحاب سبت ٭٭
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔
صفحہ نمبر3105
دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔
عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔
صفحہ نمبر3106
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“
آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔
صفحہ نمبر3107
باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔
رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔
صفحہ نمبر3108
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔
صفحہ نمبر3109
یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔
اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔
صفحہ نمبر3110
ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔
یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
صفحہ نمبر3111
اصحاب سبت ٭٭
جس بستی کے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے، ان کے تین گروہ ہو گئے تھے۔ ایک تو حرام شکار کھیلنے والا اور حیلے بہانوں سے مچھلی پکڑنے والا، دوسرا گروہ انہیں روکنے والا اور ان سے بیزاری ظاہر کر کے ان سے الگ ہو جانے والا اور تیسرا گروہ چپ چاپ رہ کر نہ اس کام کو کرنے والا، نہ اس سے روکنے والا۔
جیسا کہ سورۃ البقرہ کی تفسیر میں ہم خلاصہ وار بیان کر آئے ہیں۔ جو لوگ خاموش تھے نہ برائی کرتے تھے، نہ بروں کو برائی سے روکتے تھے انہوں نے روکنے والوں کو سمجھانا شروع کیا کہ میاں ان لوگوں کو کہنے سننے سے کیا فائدہ؟ انہوں نے تو اللہ کے عذاب مول لے لیے ہیں، رب کے غضب کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔ اب تم ان کے پیچھے کیوں پڑے ہو؟ تو اس پاک گروہ نے جواب دیا کہ اس میں دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ اللہ کے پاس ہم معذرت خواہ ہو جائیں کہ ہم اپنا فرض برابر ادا کرتے رہے، انہیں ہر وقت سمجھاتے بجھاتے رہے۔ «معذرۃ» ت کے پیش سے بھی ایک قرأت ہے تو گویا «ھذا» کا لفظ یہاں مقدر مانا یعنی انہوں نے کہا: یہ ہماری معذرت ہے اور زبر کی قرأت پر یہ مطلب ہے کہ ہم جو انہیں روک رہے ہیں، یہ کام اس لیے کر رہے ہیں کہ اللہ کے ہاں ہم پر الزام نہ آئے کیونکہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔
صفحہ نمبر3105
دوسرا فائدہ اس میں یہ ہے کہ بہت ممکن ہے، کسی وقت نصیحت ان پر اثر کر جائے۔ یہ لوگ اپنی اس حرام کاری سے باز آ جائیں، اللہ سے توبہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی ان پر مہربانی کرے اور ان کے گناہ معاف فرما دے۔ آخر کار ان کی نصیحت خیر خواہی بھی بےنتیجہ ثابت ہوئی۔ ان بدکاروں نے ایک نہ مانی تو ہم نے اس مسلم گروہ کو جو برابر ان سے نالاں رہا، ان سے الگ رہا اور انہیں سمجھاتا بجھاتا رہا، نجات دے دی اور باقی کے ظالموں کو جو ہماری نافرمانیوں کے مرتکب تھے، اپنے بدترین عذابوں سے پکڑ لیا۔
عبارت کی عمدگی ملاحظہ ہو کہ روکنے والوں کو نجات کا کھلے لفظوں میں اعلان کیا، ظالموں کی ہلاکت کا بھی غیر مشتبہ الفاظ میں بیان کیا اور چپ رہنے والوں کی حالت سے سکوت کیا گیا۔ اس لئے کہ ہر عمل کی جزا اسی کی ہم جنس ہے۔ یہ لوگ نہ تو اس ظلم عظیم میں شریک تھے کہ ان کی مذمت اعلانیہ کی جائے، نہ دلیری سے روکتے تھے کہ صاف طور پر قابل تعریف ٹھہریں۔
صفحہ نمبر3106
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جو گروہ ممانعت کرنے کے بعد تھک کر بیٹھ گیا تھا اور پھر روکنا چھوڑ دیا تھا، اللہ کا عذاب جب آیا تو یہ گروہ بھی اس عذاب سے بچ گیا۔ صرف وہی ہلاک ہوئے جو گناہ میں مبتلا تھے۔“
آپ کے شاگرد عکرمہ کا بیان ہے کہ پہلے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس میں بڑا تردد تھا کہ آیا یہ لوگ ہلاک ہوئے یا بچ گئے، یہاں تک کہ ایک روز میں آیا تو دیکھا کہ قرآن گود میں رکھے ہوئے رو رہے ہیں۔ اول اول تو میرا حوصلہ نہ پڑا کہ سامنے آؤں لیکن دیر تک جب یہی حالت رہی تو میں نے قریب آ کر سلام کیا، بیٹھ گیا اور رونے کی وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: دیکھو یہ سورۃ الاعراف ہے، اس میں ایلہ کے یہودیوں کا ذکر ہے کہ انہیں ہفتے کے روز مچھلی کے شکار کی ممانعت کر دی گئی اور ان کی آزمائش کے لیے مچھلیوں کو حکم ہوا کہ وہ صرف ہفتے کے دن ہی نکلیں، ہفتے کے دن دریا مچھلیوں سے بھرے رہتے تھے۔ تروتازہ موٹی اور عمدہ بکثرت مچھلیاں پانی کے اوپر اچھلتی کودتی رہتی تھیں اور دنوں میں سخت کوشش کے باوجود بھی نہ ملتی تھیں۔ کچھ دنوں تک تو ان کے دلوں کے اندر حکم الٰہی کی عظمت رہی اور یہ ان کے پکڑنے سے رکے رہے۔ لیکن پھر شیطان نے ان کے دل میں یہ قیاس ڈال دیا کہ اس دن منع کھانے سے ہے، تم نے آج کھانا نہیں۔ پکڑ لو اور جائز دن کھا لینا۔ سچے مسلمانوں نے انہیں اس حیلہ جوئی سے ہر چند روکا اور سمجھایا کہ دیکھو! شکار کھیلنا شروع نہ کرو۔ شکار اور کھانا دونوں منموع ہیں۔ اگلے جمعہ کے دن جو جماعت شیطانی پھندے میں پھنس چکی تھی، وہ اپنے بال بچوں سمیت شکار کو نکل کھڑی ہوئی۔
صفحہ نمبر3107
باقی کے لوگوں کی دو جماعتیں بن گئیں۔ ایک ان کے دائیں، ایک بائیں۔ دائیں جانب والی تو برابر انہیں روکتی رہی کہ اللہ سے ڈرو اور اللہ کے عذابوں کے لیے تیاری نہ کرو۔ بائیں والوں نے کہا: میاں! تمہیں کیا پڑی؟ یہ تو خراب ہونے والے ہیں۔ اب تم انہیں نصیحت کر کے کیا لو گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ خیر! اللہ کے ہاں ہم تو چھوٹ جائیں گے اور ہمیں تو اب تک مایوسی بھی نہیں۔ کیا عجب کہ یہ لوگ سنور جائیں تو ہلاکت اور عذاب سے محفوظ رہیں، ہماری تو عین منشا یہ ہے۔ لیکن یہ بدکار اپنی بےایمانی سے باز نہ آئے اور نصیحت انہیں کارگر نہ ہوئی تو دائیں طرف کے لوگوں نے کہا: تم نے ہمارا کہا نہ مانا، اللہ کی نافرمانی کی، ارتکاب حرمت کیا۔ عجب نہیں، راتوں رات تم پر کوئی عذاب رب آئے۔ اللہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسا دے یا کسی اور طرح تمہیں سزا دے۔
رات ہم تو یہیں گزاریں گے، تمہارے ساتھ شہر میں نہیں رہیں گے۔ جب صبح ہو گئی اور شہر کے دروازے نہ کھلے تو انہوں نے کواڑ کھٹکھٹائے، آوازیں دیں لیکن کوئی جواب نہ آیا۔ آخر سیڑھی لگا کر ایک شخص کو قلعہ کی دیوار پر چڑھایا، اس نے دیکھا تو حیران ہو گیا کہ سب لوگ بندر بنا دیئے گئے۔ اس نے ان سب مسلمانوں کو خبر دی، یہ دروازے توڑ کر اندر گئے تو دیکھا کہ سب دم دار بندر بن گئے ہیں، یہ تو کسی کو پہچان نہ سکے لیکن وہ پہچان گئے۔ ہر بندر اپنے اپنے رشتے دار کے قدموں میں لوٹنے لگا، ان کے کپڑے پکڑ پکڑ کر رونے لگا تو انہوں نے کہا: دیکھو ہم تو تمہیں منع کر رہے تھے لیکن تم نے مانا ہی نہیں۔ وہ اپنا سر ہلاتے تھے کہ ہاں ٹھیک ہے، ہمارے اعمال کی شامت نے ہی ہمیں برباد کیا ہے۔
صفحہ نمبر3108
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ تو قرآن میں ہے کہ روکنے والوں نجات یافتہ ہوئے لیکن یہ بیان نہیں کہ جو روکنے والوں کو منع کرتے تھے , ان کا کیا حشر ہوا؟ اب ہم بھی بہت سی خلاف شرع باتیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں کر سکتے۔
عکرمہ کہتے ہیں: میں نے آپ سے یہ سن کر کہا: اللہ مجھے آپ پر نثار کر دے، آپ یہ تو دیکھئے کہ وہ لوگ ان کے اس فعل کو برا سمجھتے رہے تھے، ان کی مخالفت کرتے تھے، جانتے تھے کہ یہ ہلاک ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بچ گئے۔ آپ کی سمجھ میں آ گیا اور اسی وقت حکم دیا کہ مجھے دو چادریں انعام میں دی جائیں۔ الغرض اس بیچ کی جماعت کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ عذاب سے بچ گئی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ عذاب ان پر بھی آیا۔ ابن رومان فرماتے ہیں کہ ہفتے والے دن خوب مچھلیاں آتیں، پانی ان سے بھر جاتا۔ پھر بیچ کے کسی دن نظر نہ آتیں، دوسرے ہفتے کو پھر یہی حال ہوتا۔ سب سے پہلے ایک شخص نے یہ حیلہ نکالا کہ ڈور اور کانٹا تیار کیا، مچھلی کو اس میں پھنسا لیا اور پانی میں ہی چھوڑ دیا۔ اتوار کی رات کو جا کر نکال لیا، بھونا، لوگوں کو مچھلی کی خوشبو پہنچی تو سب نے گھیر لیا۔ ہر چند پوچھا لیکن اول تو یہ سختی سے انکار کرتا رہا، آخر بات بنا دی کہ دراصل ایک مچھلی کا چھلکا مجھے مل گیا تھا، میں نے اسے بھونا تھا۔ دوسرے ہفتے کے دن اس نے اسی طرح دو مچھلیاں پھانس لیں، اتوار کی رات کو نکال کر بھوننے لگا۔ لوگ آ گئے تو اس نے کہا: میں نے ایک ترکیب نکال لی ہے جس سے نافرمانی بھی نہ ہو اور کام بھی نہ رکے۔ اب جو حیلہ بیان کیا تو ان سب نے اسے پسند کیا اور بکثرت لوگ یونہی کرنے لگے۔
صفحہ نمبر3109
یہ لوگ رات کو شہر پناہ کا پھاٹک بند کر کے سوتے تھے۔ جس رات عذاب آیا، حسب دستور یہ شہر پناہ کا پھاٹک لگا کر سوئے تھے۔ صبح کو جب باہر والے شہر میں داخل ہونے کو آئے تو خلاف معمول اب تک دروازے بند پائے۔ آوازیں دیں، کوئی جواب نہ ملا۔ قلعہ پر چڑھ گئے، دیکھا تو بندر بنا دیئے گئے ہیں۔ کھول کر اندر گئے تو بندر اپنے اپنے رشتہ داروں کے قدموں میں لوٹنے لگے۔
اس سے پہلے سورۃ البقرہ کی ایسی ہی آیت کی تفسیر کے موقعہ پر بالتفصیل ان واقعات کو اچھی طرح بیان کر چکے ہیں، وہیں دیکھ لیجئے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
دوسرا قول یہ ہے کہ جو چپ رہے تھے، وہ بھی ان گنہگاروں کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ پہلے ہفتہ کے دن کی تعظیم بطور بدعت خود ان لوگوں نے نکالی، اب اللہ کی طرف سے بطور آزمائش کے وہ تعظیم ان پر ضروری قرار دے دی گئی اور حکم ہو گیا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کرو۔ پھر مچھلیوں کا اس دن نمایاں ہونا اور دوسرے دنوں میں نہ نکلنا وغیرہ بیان فرما کر فرمایا کہ پھر ان میں سے ایک شخص نے ایک مچھلی ہفتے کے دن پکڑی، اس کی ناک میں سوراخ کر کے ڈور باندھ کر ایک کیل کنارے گاڑ کر اس میں ڈور اٹکا کر مچھلی کو دریا میں ڈال دیا۔ دوسرے دن جا کر پانی میں سے نکال لایا اور بھون کر کھا لی۔ سوائے اس پاک باز حق گو جماعت کے لوگوں کے کسی نے نہ اسے روکا، نہ منع کیا، نہ سمجھایا لیکن ان کی نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس ایک کی دیکھا دیکھی اور بھی یہی کام کرنے لگے۔ یہاں تک کہ بازاروں میں مچھلی آنے لگی اور اعلانیہ یہ کام ہونے لگا۔
صفحہ نمبر3110
ایک اور جماعت کے لوگوں نے اس حق والی جماعت سے کہا کہ تم ان لوگوں کو کیوں وعظ کرتے ہو؟ اللہ تو انہیں ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب کرنے والا ہے تو انہوں نے یہ جواب دیا یعنی اللہ کا فرمان دہرایا۔ لیکن لوگ فرمان ربانی کو بھول بیٹھے اور عذاب رب کے خود شکار ہو گئے۔
یہ تین گروہوں میں بٹ گئے تھے: ایک تو شکار کھیلنے والا، ایک منع کرنے والا، ایک ان منع کرنے والوں سے کہنے والا کہ اب نصیحت بے کار ہے۔ بس وہ تو بچ گئے جو برابر روکتے رہے تھے اور باقی دونوں جماعتیں ہلاک کر دی گئیں۔ سند اس کی نہایت عمدہ ہے لیکن سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عکرمہ کے قول کی طرف رجوع کرنا، اس قول کے کہنے سے اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ اس قول کے بعد ان پر ان کے حال کی حقیقت کھل گئی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پھر فرمان ہے کہ ہم نے ظالموں کو سخت عذابوں سے دبوچ لیا۔ مفہوم کی دلالت تو اس بات پر ہے کہ جو باقی رہے، بچ گئے۔ «بَئِيسٍ» کی کئی ایک قرأتیں ہیں۔ اس کے معنی سخت کے، درد ناک کے، تکلیف دہ کے ہیں۔ اور سب کا مطلب قریب قریب یکساں ہے۔ ان کی سرکشی اور ان کے حد سے گزر جانے کے باعث ہم نے ان سے کہہ دیا کہ تم ذلیل، حقیر اور ناقدرے بندر بن جاؤ۔ چنانچہ وہ ایسے ہی ہو گئے۔
صفحہ نمبر3111
اللہ تعالٰی کی نافرمانی کا انجام ذلت و رسوائی ٭٭
اللہ تعالیٰ نے یہود کو اطلاع کر دی کہ ان کی اس سخت نافرمانی اور باربار کی بغاوت اور ہر موقعہ پر نافرمانی، رب سے سرکشی اور اللہ کے حرام کو اپنے کام میں لانے کے لئے حیلہ جوئی کر کے اسے حلال کی جامہ پوشی کا بدلہ یہ ہے کہ قیامت تک یہ دبے رہیں گے، ذلت میں رہیں گے، لوگ ان کو پست کرتے چلے جائیں گے۔ خود موسیٰ علیہ السلام نے بھی ان پر تاوان مقرر کر دیا تھا۔ سات سال یا تیرہ سال تک یہ اسے ادا کرتے رہے، سب سے پہلے خراج کا طریقہ آپ نے ہی ایجاد کیا۔ پھر ان پر یونانیوں کی حکومت ہوئی، پھر کشدانیوں اور کلدانیوں کی، پھر نصرانیوں کی۔
سب کے زمانے میں ذلیل اور حقیر رہے، ان سے جزیہ لیا جاتا رہا اور انہیں پستی سے ابھرنے کا کوئی موقعہ نہ ملا۔ پھر اسلام آیا اور اس نے بھی انہیں پست کیا، جزیہ اور خراج برابر ان سے وصول ہوتا رہا۔ غرض یہ ذلیل رہے۔ اس امت کے ہاتھوں بھی حقارت کے گڑھے میں گرے رہے۔ بالآخر یہ دجال کے ساتھ مل جائیں گے لیکن مسلمان عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ جا کر پھر ان کی تخم ریزی کر دیں گے۔ جو بھی اللہ کی شریعت کی مخالفت کرتا ہے، اللہ کے فرمان کی تحقیر کرتا ہے، اللہ اسے جلد ہی سزا دے دیتا ہے۔ ہاں جو اس کی طرف رغبت و رجوع کرے، توبہ کرے، جھکے تو وہ بھی اس کے ساتھ بخشش و رحمت سے پیش آتا ہے۔ چونکہ ایمان نام ہے خوف اور امید کا، اسی لیے یہاں اور اکثر جگہ عذاب و ثواب، پکڑ دھکڑ اور بخشش، ڈراوا اور لالچ دونوں کا ایک ساتھ بیان ہوا ہے۔
صفحہ نمبر3114
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ “ [17-الإسراء:104]
جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ” ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ “ [72-الجن:11]
پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ “ [19-مريم:59]
صفحہ نمبر3115
بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔
پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:187] میں ہوا ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ “ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
صفحہ نمبر3116
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ “ [17-الإسراء:104]
جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ” ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ “ [72-الجن:11]
پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ “ [19-مريم:59]
صفحہ نمبر3115
بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔
پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:187] میں ہوا ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ “ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
صفحہ نمبر3116
رشوت خوری کا انجام ذلت و رسوائی ہے ٭٭
بنی اسرائیل مختلف فرقے اور گروہ کر کے زمین میں پھیلا دیئے گئے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” ہم نے بنی اسرائیل سے کہا: تم زمین میں رہو سہو۔ جب آخرت کا وعدہ آئے گا، ہم تمہیں جمع کر کے لائیں گے۔ ان میں کچھ تو نیک لوگ تھے، کچھ بد تھے۔ “ [17-الإسراء:104]
جنات میں بھی یہی حال ہے۔ جیسے سورۃ الجن میں ان کا قول ہے کہ ” ہم میں کچھ تو نیک ہیں اور کچھ اور طرح کے ہیں۔ ہمارے بھی مختلف فرقے ہوتے آئے ہیں۔ “ [72-الجن:11]
پھر فرمان ہے کہ ہم نے انہیں سختی نرمی سے، لالچ اور خوف سے، عافیت اور بلا سے، غرض ہر طرح پرکھ لیا تاکہ وہ اپنے کرتوت سے ہٹ جائیں۔ جب یہ زمانہ بھی گزرا جس میں نیک و بد ہر طرح کے لوگ تھے، ان کے بعد تو ایسے ناخلف اور نالائق آئے جن میں کوئی بھلائی اور خیریت تھی ہی نہیں۔ یہ اب تورات کی تلاوت کرنے والے رہ گئے۔ ممکن ہے اس سے مراد صرف نصرانی ہوں اور ممکن ہے کہ یہ خبر عام نصرانی، غیر نصرانی سب پر مشتمل ہو۔ وہ حق بات کے بدلنے اور مٹانے کی فکر میں لگ گئے، جیب بھر دو، جو چاہو کہلوا لو۔ پس ہوس یہ ہے کہ ہے کیا؟ توبہ کر لیں گے، معاف ہو جائے گا۔ پھر موقعہ آیا پھر دنیا لے کر اللہ کی باتیں بدل دیں۔ گناہ کیا، توبہ کی۔ پھر موقعہ ملتے ہی لپک کر گناہ کر لیا۔ مقصود ان کا دنیا طلبی ہے۔ حلال سے ملے، چاہے حرام سے ملے۔ پھر بھی مغفرت کی تمنا ہے۔ یہ ہیں جو وارث رسول کہلواتے ہیں اور جن سے اللہ نے عہد لیا ہے۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ ” ان کے بعد ایسے ناخلف آئے جنہوں نے نماز تک ضائع کر دی۔ “ [19-مريم:59]
صفحہ نمبر3115
بنی اسرائیل کا آوے کا آوا بگڑ گیا۔ آج ایک کو قاضی بناتے ہیں، وہ رشوتیں کھانے اور احکام بدلنے لگتا ہے۔ وہ اسے ہٹا کر دوسرے کو قائم مقام کرتے ہیں، اس کا بھی یہی حال ہوتا ہے۔ پوچھتے ہیں: بھئی ایسا کیوں کرتے ہو؟ جواب ملتا ہے: اللہ غفور و رحیم ہے۔
پھر وہ ان لوگوں میں سے کسی کو اس عہدے پر لاتے ہیں جو اگلے قاضیوں ح، اکموں اور ججوں کا شاکی تھا۔ لیکن وہ بھی رشوتیں لینے لگتا ہے اور ناحق فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ حالانکہ تم سے مضبوط عہد و پیمان ہم نے لے لیا ہے کہ تم حق کو ظاہر کیا کرو، اسے نہ چھپاؤ لیکن ذلیل دنیا کے لالچ میں آ کر عذاب رب مول لے رہے ہو۔ اسی وعدے کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذَ اللَّـهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ» [3-آل عمران:187] میں ہوا ہے یعنی ” اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاری سے عہد لیا تھا کہ وہ کتاب اللہ لوگوں کے سامنے بیان کرتے رہیں گے اور اس کی کوئی بات نہ چھپائیں گے۔ “ یہ بھی اس کے خلاف تھا کہ گناہ کرتے چلے جائیں، توبہ نہ کریں اور بخشش کی امید رکھیں۔
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے پاس کے اجر و ثواب کا لالچ دکھاتا ہے کہ اگر تقویٰ کیا، حرام سے بچے، خواہش نفسانی کے پیچھے نہ لگے، رب کی اطاعت کی تو آخرت کا بھلا تمہیں لے گا جو اس فانی دنیا کے ٹھاٹھ سے بہت ہی بہتر ہے۔ کیا تم میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ گراں بہا چیز کو چھوڑ کر ردی چیز کے پیچھے پڑے ہو؟ پھر جناب باری عزوجل ان مومنوں کی تعریف کرتا ہے جو کتاب اللہ پر قائم ہیں اور اس کتاب کی راہنمائی کے مطابق اس پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں، کلام رب پر جم کر عمل کرتے ہیں، احکام الٰہی کو دل سے مانتے ہیں اور بجا لاتے ہیں، اس کے منع کردہ کاموں سے رک گئے ہیں، نماز کو پابندی، دلچسپی، خشوع اور خضوع سے ادا کرتے ہیں۔ حقیقتاً یہی لوگ اصلاح پر ہیں اور ناممکن ہے کہ ان نیک اور پاکباز لوگوں کا بدلہ اللہ ضائع کر دے۔
صفحہ نمبر3116
باب
اسی طرح کی آیت «وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ» [4-النساء:154] ہے یعنی ” ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ لا کھڑا کیا۔ “ اسے فرشتے اٹھا لائے تھے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”جب موسیٰ علیہ السلام انہیں ارض مقدس کی طرف لے چلے اور غصہ اتر جانے کے بعد تختیاں اٹھا لیں اور ان میں جو حکم احکام تھے، وہ انہیں سنائے تو انہیں وہ سخت معلوم ہوئے اور تسلیم و تعمیل سے صاف انکار کر دیا تو بحکم الٰہی فرشتوں نے پہاڑ اٹھا کر ان کے سروں پر لا کھڑا کر دیا۔“ (نسائی)
مروی ہے کہ جب کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ لو اللہ کی کتاب کے احکام قبول کرو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں سناؤ، اس میں کیا احکام ہیں؟ اگر آسان ہوئے تو ہم منظور کر لیں گے۔ ورنہ نہ مانیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام کے باربار کے اصرار پر بھی یہ لوگ کہتے رہے۔ آخر اسی وقت اللہ کے حکم سے پہاڑ اپنی جگہ سے اٹھ کر ان کے سروں پر معلق کھڑا ہو گیا اور اللہ کے پیغمبر نے فرمایا: بولو اب مانتے ہو یا اللہ تعالیٰ تم پر پہاڑ گرا کر تمہیں فنا کر دے؟ اسی وقت یہ سب کے سب مارے ڈر کے سجدے میں گر پڑے لیکن بائیں آنکھ سجدے میں تھی اور دائیں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ گر نہ پڑے۔ چنانچہ یہودیوں میں اب تک سجدے کا طریقہ یہی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی طرح کے سجدے نے ہم پر سے عذاب الٰہی دور کر دیا ہے۔ پھر جب موسیٰ علیہ السلام نے ان تختیوں کو کھولا تو ان میں کتاب تھی جسے خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا۔ اسی وقت تمام پہاڑ، درخت، پتھر سب کانپ اٹھے۔ آج بھی یہودی تلاوت تورات کے وقت کانپ اٹھتے ہیں اور ان کے سر جھک جاتے ہیں۔
صفحہ نمبر3119
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385]
ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775]
حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف]
اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔
صفحہ نمبر3120
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334]
مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔
صفحہ نمبر3121
پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔
ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابوداؤد)
صفحہ نمبر3122
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3123
کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً]
ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔
صفحہ نمبر3124
آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» [33-الأحزاب:7] میں ہے۔
اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» [30-الروم:30] میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» [53-النجم:56]
اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» [7-الأعراف:102] (مسند احمد)
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔
ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» [6-الأنعام:165] ” اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ “
اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔
صفحہ نمبر3125
الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» [6-الأنعام:130] میں۔
اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔
اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» [100-العاديات:7] ہے۔
اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» [14-إبراهيم:34] ” اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ “
کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔
اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
صفحہ نمبر3126
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385]
ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775]
حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف]
اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔
صفحہ نمبر3120
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334]
مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔
صفحہ نمبر3121
پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔
ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابوداؤد)
صفحہ نمبر3122
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3123
کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً]
ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔
صفحہ نمبر3124
آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» [33-الأحزاب:7] میں ہے۔
اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» [30-الروم:30] میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» [53-النجم:56]
اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» [7-الأعراف:102] (مسند احمد)
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔
ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» [6-الأنعام:165] ” اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ “
اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔
صفحہ نمبر3125
الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» [6-الأنعام:130] میں۔
اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔
اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» [100-العاديات:7] ہے۔
اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» [14-إبراهيم:34] ” اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ “
کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔
اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
صفحہ نمبر3126
ہر روح نے اللہ تعالٰی کو اپنا خالق مانا ٭٭
اولاد آدم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ان کی پیٹھوں سے روز اول میں نکالیں۔ پھر ان سب سے اس بات کا اقرار لیا کہ رب، خالق، مالک، معبود صرف وہی ہے۔ اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی نا ممکن ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ [صحیح بخاری:1385]
ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں۔ [صحیح بخاری:4775]
حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا۔ پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
قبیلہ بنو سعد کے ایک صحابی سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار غزوے کئے۔ لوگوں نے لڑنے والے کفار کے قتل کے بعد ان کے بچوں کو بھی پکڑ لیا، جب آپ کو اس کا علم ہوا تو بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: لوگ ان بچوں کو کیوں پکڑ رہے ہیں؟ کسی نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ بھی تو مشرکوں کے ہی بچے ہیں؟ فرمایا: سنو! تم میں سے بہتر لوگ مشرکین کی اولاد میں ہیں۔ یاد رکھو! ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر زبان چلنے پر اس کے ماں باپ یہودیت یا نصرانیت کی تعلیم دینے لگتے ہیں۔ اس کے راوی حسن فرماتے ہیں: اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے۔ (ابن جریر) [مسند احمد:435/3:ضعیف]
اس اقرار کے بارے میں کئی ایک حدیثیں مروی ہیں۔
صفحہ نمبر3120
مسند احمد میں ہے کہ قیامت کے دن دوزخی سے کہا جائے گا: اگر تمام دنیا تیری ہو تو کیا تو خوش ہے کہ اسے اپنے فدئیے میں دے کر میرے عذابوں سے آج بچ جائے؟ وہ کہے گا: ہاں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو اس سے بہت ہلکے درجے کی چیز تجھ سے طلب کی تھی اور اس کا وعدہ بھی تجھ سے لے لیا تھا کہ میرے سوا تو کسی اور کی عبادت نہ کرے۔ لیکن تو اسے توڑے بغیر نہ رہا اور دوسرے کو میرا شریک عبادت ٹھہرایا۔ [صحیح بخاری:3334]
مسند میں ہے: نعمان نامی میدان میں اللہ تعالیٰ نے پشت آدم میں سے عرفے کے دن ان کی تمام اولاد ظاہر فرمائی۔ سب کو اس کے سامنے پھیلا دیا اور فرمایا: کیا میں تم سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں! ہم گواہ ہیں۔ پھر آپ نے «مُبْطِلُوْنَ» تک آیت تلاوت فرمائی۔ [مسند احمد:272/1:صحیح] یہ روایت موقوف سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس وقت لوگ چیونٹیوں کی طرح تھے اور تر زمین پر تھے۔ ضحاک بن مزاحم کے چھ دن کی عمر کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو آپ نے فرمایا: جابر اسے دفن کر کے اس کا منہ کفن سے کھول دینا اور گرہ بھی کھول دینا کیونکہ میرا یہ بچہ بٹھا دیا جائے گا اور اس سے سوال کیا جائے گا۔ جابر نے حکم کی بجا آوری کی۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ کے بچے سے کیا سوال ہو گا؟ اور کون سوال کرے گا؟ فرمایا: اس میثاق کے بارے میں جو صلب آدم میں لیا گیا ہے، سوال کیا جائے گا۔ میں نے پوچھا: وہ میثاق کیا ہے؟ فرمایا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو جتنے انسان قیامت تک پیدا ہونے والے ہیں، سب کی روحیں آ گئیں۔ اللہ نے ان سے عہد و پیمان لیا کہ وہ اسی کی عبادت کریں گے، اس کے سوا کسی اور کو معبود نہیں مانیں گے۔ خود ان کے رزق کا کفیل بنا، پھر انہیں صلب آدم میں لوٹا دیا۔
صفحہ نمبر3121
پس یہ سب قیامت سے پہلے ہی پہلے پیدا ہوں گے۔ جس نے اس وعدے کو پورا کیا اور اپنی زندگی میں اس پر قائم رہا، اسے وہ وعدہ نفع دے گا اور جس نے اپنی زندگی میں اس کی خلاف ورزی کی، اسے پہلے کا وعدہ کچھ فائدہ نہ دے گا۔ اور جو بچپن میں ہی مر گیا، وہ میثاق اول پر اور فطرت پر مرا۔
ان آثار سے بھی بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اوپر والی حدیث کا موقوف ہونا ہی اکثر اور زیادہ ثبوت والا ہے۔ ابن جریر رحمہ اللہ کی حدیث میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بنی آدم کی پیٹھ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نسلیں ایسے نکالیں جیسے کنگھی بالوں میں سے نکلتی ہے۔ ان سے اپنی ربوبیت کا سوال کیا، انہوں نے اقرار کیا، فرشتوں نے شہادت دی۔ اس لیے کہ یہ لوگ قیامت کے دن اس سے غفلت کا بہانہ نہ کریں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15365]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا: یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تھا تو آپ نے میرے سنتے ہوئے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ اپنے داہنے ہاتھ سے ان کی پیٹھ کو چھوا، اس سے اولاد نکلی۔ فرمایا: میں نے انہیں جہنم کے لئے پیدا کیا ہے، یہ جہنمیوں کے اعمال کریں گے تو آپ سے سوال ہوا کہ پھر عمل کس گنتی میں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جو جنتی ہے، اس سے مرتے دم تک جنتیوں کے ہی اعمال سرزد ہوں گے اور جنت میں جائے گا۔ ہاں! جو جہنم کے لئے پیدا کیا گیا ہے، اس سے وہی اعمال سرزد ہوں گے، انہی پر مرے گا اور جہنم میں داخل ہو گا۔ [سنن ابوداود:4703،قال الشيخ الألباني:ضعیف] (ابوداؤد)
صفحہ نمبر3122
اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو نکال کر ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور رکھ کر آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یااللہ! یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ ان میں سے ایک کے ماتھے کی چمک آدم علیہ السلام کو بہت اچھی لگی۔ پوچھا: یااللہ! یہ کون ہے؟ جواب ملا کہ یہ تیری اولاد میں سے بہت دور جا کر ہیں، ان کا نام داؤد ہے۔ پوچھا: ان کی عمر کیا ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال۔ کہا: یااللہ! چالیس سال میری عمر میں سے ان کی عمر میں زیادہ کر۔ پس جب آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کرنے کے لئے فرشتہ آیا تو آپ نے فرمایا: میری عمر میں سے تو ابھی چالیس سال باقی ہیں۔ فرشتے نے کہا: آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے یہ چالیس سال اپنے بچے داؤد کو ہبہ کر دیئے ہیں۔ بات یہ ہے کہ چونکہ آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کی عادی ہے۔ آدم علیہ السلام خود بھول گئے، ان کی اولاد بھی بھولتی ہے۔ آدم علیہ السلام نے خطا کی، ان کی اولاد بھی خطا کرتی ہے۔ [سنن ترمذي:3076،قال الشيخ الألباني:صحیح]
یہ حدیث ترمذی میں ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح لکھتے ہیں۔ اور روایت میں ہے کہ جب آدم علیہ السلام نے دیکھا کہ کوئی ان میں جذامی ہے، کوئی کوڑھی ہے، کوئی اندھا ہے، کوئی بیمار ہے تو پوچھا کہ یااللہ! اس میں کیا مصلحت ہے؟ فرمایا: یہ کہ میرا شکریہ ادا کیا جائے۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ یااللہ! ان میں سے یہ زیادہ روشن اور نورانی چہروں والے کون ہیں؟ فرمایا: یہ انبیاء ہیں الخ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:8535/5:ضعیف]
صفحہ نمبر3123
کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں، یہ ہمارا ذاتی عمل ہے یا کہ فیصل شدہ ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی اولاد کو ان کی پیٹھوں سے نکالا ہے۔ انہیں گواہ بنایا پھر اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا: یہ جنتی ہیں اور یہ جہنمی۔ پس اہل جنت پر تو نیک کام آسان ہوتے ہیں اور دوزخیوں پر برے کام آسان ہوتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15377:حسن بالشواھد]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور قصہ ختم کیا تو جن کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ملنے والا ہے، انہیں اپنی داہنی مٹھی میں لیا اور بائیں والوں کو بائیں مٹھی میں لیا۔ پھر فرمایا: اے دائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر فرمایا: اے بائیں طرف والو! انہوں نے کہا: «لبیک و سعدیک» ۔ فرمایا: کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: ہاں۔ پھر سب کو ملا دیا۔ کسی نے پوچھا: یہ کیوں کیا؟ فرمایا: اس لیے کہ ان کے لیے اور اعمال ہیں، جنہیں یہ کرنے والے ہیں۔ یہ تو صرف اس لیے کہلوایا گیا ہے کہ انہیں یہ عذر نہ رہے کہ ہم اس سے غافل تھے۔ پھر سب کو صلب آدم علیہ السلام میں لوٹا دیا۔ [طبرانی کبیر:7943:ضعیف جداً]
ابی بن کعب فرماتے ہیں کہ اس دن سب کو جمع کیا، صورتیں دیں، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں، ساتوں زمینوں اور آدم علیہ السلام کو گواہ کیا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا۔ جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں، نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا۔ میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے۔ میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں۔ سب نے جواب میں کہا: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے، تو ہی ہمارا معبود ہے، تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ اب جو آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر، غریب، خوبصورت اور اس کے سوا مختلف لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے: کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت میں ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لیے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے۔
صفحہ نمبر3124
آپ نے دیکھا کہ ان میں اللہ کے پیغمبر بھی ہیں، ان سے پھر علیحدہ ایک اور میثاق لیا گیا۔ جس کا بیان آیت «وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ» [33-الأحزاب:7] میں ہے۔
اسی عام میثاق کا بیان آیت «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ» [30-الروم:30] میں ہے۔ اسی لیے فرمان ہے «هَـٰذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَىٰ» [53-النجم:56]
اسی کا بیان اس آیت میں ہے «وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِم مِّنْ عَهْدٍ» [7-الأعراف:102] (مسند احمد)
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، سدی اور بہت سے سلف رحمۃ اللہ علیہم سے ان احادیث کے مطابق اقوال مروی ہیں جن سب کے وارد کرنے سے بہت طول ہو جائے گا۔ ماحصل سب کا یہی ہے جو ہم نے بیان کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو آپ کی پیٹھ سے نکالا۔ جنتی، دوزخی الگ الگ کئے اور وہیں ان کو اپنے رب ہونے پر گواہ کر لیا۔ یہ جن دو احادیث میں ہے، وہ دونوں مرفوع نہیں بلکہ موقوف ہیں۔ اسی لیے سلف و خلف میں اس بات کے قائل گزرے ہیں کہ اس سے مراد فطرت پر پیدا کرنا ہے۔ جیسے کہ مرفوع اور صحیح احادیث میں وارد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں «مِن بَنِي آدَمَ» فرمایا اور «مِن ظُهُورِهِمْ» کہا، ورنہ «مِنْ اٰدَمَ» اور «مِنْ ظَھْرِہِ» ہوتا۔
ان کی نسلیں اس روز نکالی گئیں جو کہ یکے بعد دیگرے مختلف قرنوں میں ہونے والی تھیں۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ الْأَرْضِ» [6-الأنعام:165] ” اللہ ہی نے تمہیں زمین میں دوسروں کا جانشین کیا ہے۔ “
اور جگہ ہے: وہی تمہیں زمین کا خلیفہ بنا رہا ہے۔ اور آیت میں ہے: جیسے تمہیں دوسرے لوگوں کی اولاد میں کیا۔
صفحہ نمبر3125
الغرض حال و قال سے سب نے اللہ کے رب ہونے کا اقرار کیا۔ شہادت قولی ہوتی ہے . جیسے آیت «قَالُوا شَهِدْنَا عَلَىٰ أَنفُسِنَا» [6-الأنعام:130] میں۔
اور شہادت کبھی حال ہوتی ہے۔ جیسے آیت «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] میں یعنی ان کا حال ان کے کفر کی کھلی اور کافی شہادت ہے۔
اس طرح کی آیت «وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ» [100-العاديات:7] ہے۔
اسی طرح سوال بھی کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی حال سے۔ جیسے فرمان ہے «وَآتَاكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ» [14-إبراهيم:34] ” اس نے تمہیں تمہارا منہ مانگا دیا۔ “
کہتے ہیں کہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ ان کے شرک کرنے پر یہ حجت ان کے خلاف پیش کی۔ پس اگر یہ واقع میں ہوا ہوتا، جیسا کہ ایک قول ہے تو چاہیئے تھا کہ ہر ایک کو یاد ہوتا تاکہ اس پر حجت رہے۔ اگر اس کا جواب یہ ہو کہ فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر پا لینا کافی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسولوں کو ہی نہیں مانتے، وہ رسولوں کی دی ہوئی خبروں کو کب صحیح جانتے ہیں؟ حالانکہ قرآن کریم نے رسولوں کی تکذیب کے علاوہ خود اس شہادت کو مستقل دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے۔
اسی لیے فرمایا ہے کہ یہ اس لیے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا، ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں؟ پھر تفصیل وار آیات کا بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔
صفحہ نمبر3126
بلعم بن باعورا ٭٭
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔
بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔
صفحہ نمبر3129
اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف]
مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6]
صفحہ نمبر3130
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہو گئے، بیعت کر لی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا، اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بد نصیب کافر ہو گیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا: تم نہ گھبراؤ۔ جب بنی اسرائیل کا لشکر آ جائے گا، میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بد قسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آ گیا، اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا۔ جو وہ کہتا تھا، یہ کرتا تھا۔ آخر ہلاک ہو گیا۔
مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274]
صفحہ نمبر3131
پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہو گیا، اسے سجدہ کر لیا۔
کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔
صفحہ نمبر3132
اس کی بھی سمجھ میں آ گیا، اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان سے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا: آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: کیا کروں؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو! اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لیے بد دعا نکلی تو قبول نہ ہو گی۔ سنو! اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں، اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہو جائیں گے۔ تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کر دو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں۔ ممکن ہے کہ بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اگر یہ ہوا تو چونکہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے، اسی وقت ان پر عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔
خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر3133
یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا، اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کر دیئے، اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا۔ لوگوں نے بھی انہیں دیکھ لیا۔
اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔ اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔
صفحہ نمبر3134
حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کے لئے بد دعا اور اپنی قوم کے لیے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی، دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کہا بےبس ہوں۔
اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3135
ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مر چکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنعانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لیے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر اللہ کے عذاب آ جائیں۔
بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ” انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ “ [2-البقرة:6]
اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ” ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ “ [9-التوبة:80]
یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔
صفحہ نمبر3136
پھر اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آ جائیں۔ یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا؟ دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔
اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ [صحیح بخاری:2622]
پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3137
بلعم بن باعورا ٭٭
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔
بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔
صفحہ نمبر3129
اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف]
مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6]
صفحہ نمبر3130
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہو گئے، بیعت کر لی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا، اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بد نصیب کافر ہو گیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا: تم نہ گھبراؤ۔ جب بنی اسرائیل کا لشکر آ جائے گا، میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بد قسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آ گیا، اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا۔ جو وہ کہتا تھا، یہ کرتا تھا۔ آخر ہلاک ہو گیا۔
مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274]
صفحہ نمبر3131
پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہو گیا، اسے سجدہ کر لیا۔
کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔
صفحہ نمبر3132
اس کی بھی سمجھ میں آ گیا، اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان سے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا: آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: کیا کروں؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو! اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لیے بد دعا نکلی تو قبول نہ ہو گی۔ سنو! اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں، اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہو جائیں گے۔ تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کر دو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں۔ ممکن ہے کہ بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اگر یہ ہوا تو چونکہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے، اسی وقت ان پر عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔
خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر3133
یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا، اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کر دیئے، اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا۔ لوگوں نے بھی انہیں دیکھ لیا۔
اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔ اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔
صفحہ نمبر3134
حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کے لئے بد دعا اور اپنی قوم کے لیے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی، دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کہا بےبس ہوں۔
اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3135
ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مر چکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنعانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لیے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر اللہ کے عذاب آ جائیں۔
بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ” انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ “ [2-البقرة:6]
اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ” ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ “ [9-التوبة:80]
یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔
صفحہ نمبر3136
پھر اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آ جائیں۔ یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا؟ دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔
اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ [صحیح بخاری:2622]
پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3137
بلعم بن باعورا ٭٭
مروی ہے کہ جس کا واقعہ ان آیتوں میں بیان ہو رہا ہے اس کا نام ”بلعم بن باعوراء“ ہے۔ یہ بھی کہ کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”صیفی بن راہب“ تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بلقاء کا ایک شخص تھا جو اسم اعظم جانتا تھا اور جبارین کے سات بیت المقدس میں رہا کرتا تھا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ یمنی شخص تھا جس نے کلام اللہ کو ترک کر دیا تھا۔ یہ شخص بنی اسرائیل کے علماء میں سے تھا، اس کی دعا مقبول ہو جایا کرتی تھی۔ بنی اسرائیل سختیوں کے وقت اسے آگے کر دیا کرتے تھے، اللہ اس کی دعا مقبول فرما لیا کرتا تھا۔ اسے موسیٰ علیہ السلام نے مدین کے بادشاہ کی طرف اللہ کے دین کی دعوت دینے کے لئے بھیجا تھا۔ اس عقلمند بادشاہ نے اسے مکر و فریب سے اپنا کر لیا، اس کے نام کئی گاؤں کر دیئے اور بہت کچھ انعام و اکرام دیا۔ یہ بد نصیب دین موسوی کو چھوڑ کر اس کے مذہب میں جا ملا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا نام ”بلعام“ تھا۔ یہ بھی ہے کہ یہ ”امیہ بن ابوصلت“ ہے۔ ممکن ہے کہ یہ کہنے والے کی یہ مراد ہو کہ یہ امیہ بھی اسی کے مشابہ تھا، اسے بھی اگلی شریعتوں کا علم تھا لیکن یہ ان سے فائدہ نہ اٹھا سکا۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کو بھی اس نے پایا، آپ کی آیات و بینات دیکھیں، معجزے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے، ہزارہا کو دین حق میں داخل ہوتے دیکھا، لیکن مشرکین کے میل جول، ان میں امتیاز، ان میں دوستی اور وہاں کی سرداری کی ہوس نے اسے اسلام اور قبول حق سے روک دیا۔ اسی نے بدری کافروں کے ماتم میں مرثیے کہے، «لعنتہ اللہ» ۔
بعض احادیث میں وارد ہے کہ اس کی زبان تو ایمان لا چکی تھی لیکن دل مومن نہیں ہوا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس شخص سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی تین دعائیں جو بھی یہ کرے گا، مقبول ہوں گی۔ اس کی بیوی نے ایک مرتبہ اس سے کہا کہ ان تین دعاؤں میں سے ایک دعا میرے لیے کر۔ اس نے منظور کر لیا اور پوچھا: کیا دعا کرانا چاہتی ہو؟ اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس قدر حسن و خوبصورتی عطا فرمائے کہ مجھ سے زیادہ حسین عورت بنی اسرائیل میں کوئی نہ ہو۔
صفحہ نمبر3129
اس نے دعا کی اور وہ ایسی ہی حسین ہو گئی۔ اب تو اس نے پر نکالے اور اپنے میاں کو محض بے حقیقت سمجھنے لگی، بڑے بڑے لوگ اس کی طرف جھکنے لگے اور یہ بھی ان کی طرف مائل ہو گئی۔ اس سے یہ بہت کڑھا اور اللہ سے دعا کی کہ یااللہ! اسے کتیا بنا دے۔ یہ بھی منظور ہوئی، وہ کتیا بن گئی۔ اب اس کے بچے آئے، انہوں نے گھیر لیا کہ آپ نے غضب کیا۔ لوگ ہمیں طعنہ دیتے ہیں اور ہم کتیا کے بچے مشہور ہو رہے ہیں۔ آپ دعا کیجئے کہ اللہ اسے اس کی اصلی حالت میں پھر سے لا دے۔ اس نے وہ تیسری دعا بھی کر لی، تینوں دعائیں یوں ہی ضائع ہو گئیں اور یہ خالی ہاتھ بےخیر رہ گیا۔ [الدر المنشور للسیوطی:266/3:ضعیف]
مشہور بات تو یہی ہے کہ بنی اسرائیل کے بزرگوں میں سے یہ ایک شخص تھا۔ بعض لوگوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ یہ نبی تھا۔ یہ محض غلط ہے، بالکل جھوٹ ہے اور کھلا افترا ہے۔ مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جب قوم جبارین سے لڑائی کے لیے بنی اسرائیل کی ہمراہی میں گئے، انہی جبارین میں بلعام نامی یہ شخص تھا، اس کی قوم اور اس کے قرابت دار چچا وغیرہ سب اس کے پاس آئے اور کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور اس کی قوم کے لیے آپ بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: یہ نہیں ہو سکتا، اگر میں ایسا کروں گا تو میری دنیا و آخرت دونوں خراب ہو جائیں گی لیکن قوم سر ہو گئی۔ یہ بھی لحاظ مروت میں آ گیا۔ بد دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس سے کرامت چھین لی اور اسے اس کے مرتبے سے گرا دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:122/6]
صفحہ نمبر3130
سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو وادی تیہ میں چالیس سال گزر گئے تو اللہ تعالیٰ نے یوشع بن نون علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہیں لے کر جاؤں اور ان جبارین سے جہاد کروں۔ یہ آمادہ ہو گئے، بیعت کر لی۔ انہی میں بلعام نامی ایک شخص تھا جو بڑا عالم تھا، اسم اعظم جانتا تھا۔ یہ بد نصیب کافر ہو گیا، قوم جبارین میں جا ملا اور ان سے کہا: تم نہ گھبراؤ۔ جب بنی اسرائیل کا لشکر آ جائے گا، میں ان پر بد دعا کروں گا تو وہ دفعتاً ہلاک ہو جائے گا۔ اس کے پاس تمام دنیوی ٹھاٹھ تھے لیکن عورتوں کی عظمت کی وجہ سے یہ ان سے نہیں ملتا تھا بلکہ ایک گدھی پال رکھی تھی۔ اسی بد قسمت کا ذکر اس آیت میں ہے۔ شیطان اس پر غالب آ گیا، اسے اپنے پھندے میں پھانس لیا۔ جو وہ کہتا تھا، یہ کرتا تھا۔ آخر ہلاک ہو گیا۔
مسند ابویعلیٰ موصلی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تم پر سب سے زیادہ اس سے ڈرتا ہوں جو قران پڑھ لے گا، جو اسلام کی چادر اوڑھے ہوئے ہو گا اور دینی ترقی پر ہو گا کہ ایک دم اس سے ہٹ جائے گا، اسے پس پشت ڈال دے گا، اپنے پڑوسی پر تلوار لے دوڑے گا اور اسے شرک کی تہمت لگائے گا۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مشرک ہونے کے زیادہ قابل کون ہو گا؟ یہ تہمت لگانے والا یا وہ جسے تہمت لگا رہا ہے؟ فرمایا: نہیں بلکہ تہمت دھرنے والا۔ [المطالب العالیہ لابن حجر:273/4-274]
صفحہ نمبر3131
پھر فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو قادر تھے کہ اسے بلند مرتبے پر پہنچائیں، دنیا کی آلائشوں سے پاک رکھیں، اپنی دی ہوئی آیتوں کی تابعداری پر قائم رکھیں لیکن وہ دنیوی لذتوں کی طرف جھک پڑا یہاں تک کہ شیطان کا پورا مرید ہو گیا، اسے سجدہ کر لیا۔
کہتے ہیں کہ اس بلعام سے لوگوں نے درخواست کی کہ آپ موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے حق میں بد دعا کیجئے۔ اس نے کہا: اچھا! میں اللہ سے حکم لے لوں۔ جب اس نے اللہ تعالیٰ سے مناجات کی تو اسے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل مسلمان ہیں اور ان میں اللہ کے نبی موجود ہیں۔ اس نے سب سے کہا کہ مجھے بد دعا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے بہت سارے تحفے تحائف جمع کر کے اسے دیئے، اس نے سب رکھ لیے۔ پھر دوبارہ درخواست کی کہ ہمیں ان سے بہت خوف ہے، آپ ضرور ان پر بد دعا کیجئے۔ اس نے جواب دیا کہ جب تک میں اللہ تعالیٰ سے اجازت نہ لے لوں، میں ہرگز یہ نہ کروں گا۔ اس نے پھر اللہ سے مناجات کی لیکن اسے کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ اس نے یہی جواب انہیں دیا تو انہوں نے کہا: دیکھو! اگر منع ہی مقصود ہوتا تو آپ کو روک دیا جاتا جیسا کہ اس سے پہلے روک دیا گیا۔
صفحہ نمبر3132
اس کی بھی سمجھ میں آ گیا، اٹھ کر بد دعا شروع کی۔ اللہ کی شان سے بد دعا ان پر کرنے کے بجائے اس کی زبان سے اپنی ہی قوم کے لیے بد دعا نکلی اور جب اپنی قوم کی فتح کی دعا مانگنا چاہتا تو بنی اسرائیل کی فتح و نصرت کی دعا نکلتی۔ قوم نے کہا: آپ کیا غضب کر رہے ہیں؟ اس نے کہا: کیا کروں؟ میری زبان میرے قابو میں نہیں۔ سنو! اگر سچ مچ میری زبان سے ان کے لیے بد دعا نکلی تو قبول نہ ہو گی۔ سنو! اب میں تمہیں ایک ترکیب بتاتا ہوں، اگر تم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لو کہ بنی اسرائیل برباد ہو جائیں گے۔ تم اپنی نوجوان لڑکیوں کو بناؤ سنگھار کرا کے ان کے لشکروں میں بھیجو اور انہیں ہدایت کر دو کہ کوئی ان کی طرف جھکے تو یہ انکار نہ کریں۔ ممکن ہے کہ بوجہ مسافرت یہ لوگ زناکاری میں مبتلا ہو جائیں۔ اگر یہ ہوا تو چونکہ حرام کاری اللہ کو سخت ناپسند ہے، اسی وقت ان پر عذاب آ جائے گا اور یہ تباہ ہو جائیں گے۔ ان بےغیرتوں نے اس بات کو مان لیا اور یہی کیا۔
خود بادشاہ کی بڑی حسین و جمیل لڑکی بھی بن ٹھن کر نکلی۔ اسے ہدایت کر دی تھی کہ سوائے موسیٰ علیہ السلام کے اور کسی کو اپنا نفس نہ سونپے۔ یہ عورتیں جب بنی اسرائیل کے لشکر میں پہنچیں تو عام لوگ بےقابو ہو گئے، حرام کاری سے بچ نہ سکے۔ شہزادی بنی اسرائیل کے ایک سردار کے پاس پہنچی، اس سردار نے اس لڑکی پر ڈورے ڈالے لیکن اس لڑکی نے انکار کیا۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں فلاں ہوں، اس نے اپنے باپ سے یا بلعام سے پچھوایا، اس نے اجازت دی۔
صفحہ نمبر3133
یہ خبیث اپنا منہ کالا کر رہا تھا جسے ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے کسی صاحب نے دیکھ لیا، اپنے نیزے سے ان دونوں کو پرو دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے دست و بازی قوی کر دیئے، اس نے یونہی ان دونوں کو چھدے ہوئے اٹھا لیا۔ لوگوں نے بھی انہیں دیکھ لیا۔
اب اس لشکر پر عذاب رب بشکل طاعون آیا اور ستر ہزار آدمی فوراً ہلاک ہو گئے۔ بلعام اپنی گدھی پر سوار ہو کر چلا، وہ ایک ٹیلے پر چڑھ کر رک گئی۔ اب بلعام اسے مارتا پیٹتا ہے لیکن وہ قدم نہیں اٹھاتی۔ آخر گدھی نے اس کی طرف دیکھا اور کہا: مجھے کیوں مارتا ہے، سامنے دیکھ کون ہے؟ اس نے دیکھا تو شیطان لعین کھڑا ہوا تھا، یہ اتر پڑا اور سجدے میں گر گیا۔ الغرض ایمان سے خالی ہو گیا۔ اس کا نام یا تو بلعام تھا یا بلعم بن باعوراء یا ابن ابر یا ابن باعور بن شہتوم بن قوشتم بن مآب بن لوط بن ہاران یا ابن حران بن آزر۔ یہ بلقا کا رئیس تھا، اسم اعظم جانتا تھا لیکن اخیر میں دین حق سے ہٹ گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک روایت میں ہے کہ قوم کے زیادہ کہنے سننے سے جب یہ اپنی گدھی پر سوار ہو کر بد دعا کے لیے چلا تو اس کی گدھی بیٹھ گئی۔ اس نے اسے مار پیٹ کر اٹھایا، کچھ دور چل کر پھر بیٹھ گئی۔ اس نے اسے پھر مار پیٹ کر اٹھایا، اسے اللہ نے زبان دی۔ اس نے کہا: تیرا ناس جائے! تو کہاں اور کیوں جا رہا ہے؟ اللہ کے مقابلے کو، اس کے رسول سے لڑنے اور مومنوں کو نقصان دلانے جا رہا ہے؟ دیکھو تو سہی! فرشتے میری راہ روکے کھڑے ہیں۔ اس نے پھر بھی کچھ خیال نہ کیا، آگے بڑھ گیا۔
صفحہ نمبر3134
حبان نامی پہاڑی پر چڑھ گیا جہاں سے بنو اسرائیل کا لشکر سامنے ہی نظر آتا تھا۔ اب ان کے لئے بد دعا اور اپنی قوم کے لیے دعائیں کرنے لگا لیکن زبان الٹ گئی، دعا کی جگہ بد دعا اور بد دعا کی جگہ دعا نکلنے لگی۔ قوم نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کہا بےبس ہوں۔
اسی وقت اس کی زبان نکل پڑی، سینے پر لٹکنے لگی۔ اس نے کہا: لو میری دنیا بھی خراب ہوئی اور دین تو بالکل برباد ہو گیا۔ پھر اس نے خوبصورت لڑکیاں بھیجنے کی ترکیب بتائی جیسے کہ اوپر بیان ہوا اور کہا کہ اگر ان میں سے ایک نے بھی بدکاری کر لی تو ان پر عذاب رب آ جائے گا۔ ان عورتوں میں سے ایک بہت ہی حسین عورت جو کنعانیہ تھی اور جس کا نام کسبی تھا جو صور نامی ایک رئیس کی بیٹی تھی، جب وہ بنی اسرائیل کے ایک بہت بڑے سردار زمری بن شلوم کے پاس سے گزری جو شمعون بن یعقوب کی نسل میں سے تھا، وہ اس پر فریفتہ ہو گیا۔ دلیری کے ساتھ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے موسیٰ علیہ السلام کے پاس گیا اور کہنے لگا: آپ تو شاید کہہ دیں گے کہ یہ مجھ پر حرام ہے؟ آپ نے کہا: بیشک۔ اس نے کہا: اچھا! میں آپ کی یہ بات تو نہیں مان سکتا، اسے اپنے خیمے میں لے گیا اور اس سے منہ کالا کرنے لگا۔ وہیں اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون بھیج دیا۔ فنحاض بن عیزار بن ہارون اس وقت لشکر گاہ سے کہیں باہر گئے ہوئے تھے، جب آئے تو تمام حقیقت سنی تو بیتاب ہو کر غصے کے ساتھ اس بد کردار کے خیمے میں پہنچے اور اپنے نیزے میں ان دونوں کو پرو لیا اور اپنے ہاتھ میں نیزہ لیے ہوئے انہیں اوپر اٹھائے ہوئے باہر نکلے۔ کہنی کوکھ پر لگائے ہوئے کہنے لگے: یااللہ! ہمیں معاف فرما۔ ہم پر سے یہ وبا دور فرما۔ دیکھ لے، ہم تیرے نافرمانوں کے ساتھ یہ کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3135
ان کی دعا اور اس فعل سے طاعون اٹھ گیا لیکن اتنی دیر میں جب حساب لگایا گیا تو ستر ہزار آدمی اور ایک روایت کی رو سے بیس ہزار مر چکے تھے۔ دن کا وقت تھا اور کنعانیوں کی یہ چھوکریاں سودا بیچنے کے بہانے صرف اس لیے آئی تھیں کہ بنو اسرائیل بدکاری میں پھنس جائیں اور ان پر اللہ کے عذاب آ جائیں۔
بنو اسرائیل میں اب تک یہ دستور چلا آتا ہے کہ وہ اپنے ذبیحہ میں سے گردن اور دست اور سری اور ہر قسم کا سب سے پہلے پھل فنحاص کی اولاد کو دیا کرتے ہیں۔ اسی بلعام بن باعوراء کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ فرمان ہے کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ خالی ہے تو ہانپتا ہے اور دھتکارا جائے تو ہانپتا رہتا ہے۔ یا تو اس مثال سے یہ مطلب ہے کہ بلعام کی زبان نیچے کو لٹک پڑی تھی جو پھر اندر کو نہ ہوئی، کتے کی طرح ہانپتا رہتا تھا اور زبان باہر لٹکائے رہتا تھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی ضلالت اور اس پر جمے رہنے کی مثال دی کہ اسے ایمان کی دعوت، علم کی دولت غرض کسی چیز نے برائی سے نہ ہٹایا۔ جیسے کتے کی زبان لٹکنے کی حالت برابر قائم رہتی ہے خواہ اسے پاؤں تلے روندو خواہ چھوڑ دو۔ جیسے بعض کفار مکہ کی نسبت فرمان ہے کہ ” انہیں وعظ و پند کہنا، نہ کہنا سب برابر ہے۔ انہیں ایمان نصیب نہیں ہونے کا۔ “ [2-البقرة:6]
اور جیسے بعض منافقوں کی نسبت فرمان ہے کہ ” ان کے لیے تو استغفار کر یا نہ کر، اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔ “ [9-التوبة:80]
یہ بھی مطلب اس مثال کا بیان کیا گیا ہے کہ ان کافروں، منافقوں اور گمراہ لوگوں کے دل بودے اور ہدایت سے خالی ہیں، یہ کبھی مطمئن نہیں ہوتے۔
صفحہ نمبر3136
پھر اللہ عزوجل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ تو انہیں پند و نصیحت کرتا رہ تاکہ ان میں سے جو عالم ہیں، وہ غور و فکر کر کے اللہ کی راہ پر آ جائیں۔ یہ سوچیں کہ بلعام ملعون کا کیا حال ہوا؟ دینی علم جیسی زبردست دولت کو جس نے دنیا کی سفلی راحت پر کھو دیا۔ آخر نہ یہ ملا نہ وہ۔ دونوں ہاتھ خالی رہ گئے۔
اسی طرح یہ علماء یہود جو اپنی کتابوں میں اللہ کی ہدایتیں پڑھ رہے ہیں، آپ کے اوصاف لکھے پاتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ دنیا کی طمع میں پھنس کر اپنے مریدوں کو پھانس کر پھول نہ جائیں ورنہ یہ بھی اسی کی طرح دنیا میں کھو دیئے جائیں گے۔ انہیں چاہیئے کہ اپنی علمیت سے فائدہ اٹھائیں۔ سب سے پہلے تیری اطاعت کی طرف جھکیں اور اوروں پر حق کو ظاہر کریں۔ دیکھ لو کہ کفار کی کیسی بری مثالیں ہیں کہ کتوں کی طرح صرف نگلنے اگلنے اور شہوت زنی میں پڑے ہوئے ہیں۔ پس جو بھی علم و ہدایت کو چھوڑ کر خواہش نفس کے پورا کرنے میں لگ جائے، وہ بھی کتے جیسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہمارے لیے بری مثالیں نہیں، اپنی ہبہ کی ہوئی چیز کو پھر لے لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹ لیتا ہے۔ [صحیح بخاری:2622]
پھر فرماتا ہے کہ گنہگار لوگ اللہ کا کچھ بگاڑتے نہیں، یہ تو اپنا ہی خسارہ کرتے ہیں۔ طاعت مولیٰ، اتباع ہدیٰ سے ہٹا کر خواہش کی غلامی، دنیا کی چاہت میں پڑ کر اپنے دونوں جہان خراب کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3137
بہترین دعا ٭٭
رب جنہیں راہ دکھائے، انہیں کوئی بےراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہی غلط راہ پر ڈال دے، اس کی شومی قسمت میں کیا شک ہے؟ اللہ کا چاہا ہوتا ہے، اس کا نہ چاہا کبھی نہیں ہو سکتا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہم اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے ہدایت طلب کرتے ہیں اور اسی سے بخشش مانگتے ہیں۔ ہم اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ لیتے ہیں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے بھی۔ اللہ کے راہ دکھائے ہوئے کو کوئی بہکا نہیں سکتا اور اس کے گمراہ کئے ہوئے کو کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود صرف اللہ ہی ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میری گواہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں الخ۔ [سنن ابوداود:2118، قال الشيخ الألباني:صحیح] (مسند احمد وغیرہ)
صفحہ نمبر3140
اللہ تعالٰی عالم الغیب ہے ٭٭
بہت سے انسان اور جن جہنمی ہونے والے ہیں اور ان سے ویسے ہی اعمال سرزد ہوتے ہیں۔ مخلوق میں سے کون کیسے عمل کرے گا؟ یہ علام الغیوب کو ان کی پیدائش سے پہلے ہی معلوم ہوتا ہے، پس اپنے علم کے مطابق اپنی کتاب میں آسمان و زمین کی پیدائش سے پچاس ہزار برس پہلے ہی لکھ لیا۔ جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ یہ صحیح مسلم شریف کی حدیث ہے۔ [صحیح مسلم:2653]
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری نابالغ بچے کے جنازے پر بلوائے گئے تو میں نے کہا: مبارک ہو اس کو، یہ تو جنت کی چڑیا ہے۔ نہ برائی کی، نہ برائی کا وقت پایا۔ آپ نے فرمایا: کچھ اور بھی؟ سن! اللہ تعالیٰ نے جنت اور جنت والوں کو پیدا کیا ہے اور انہیں جنتی مقرر کر دیا ہے حالانکہ وہ ابھی تو اپنے باپوں کی پیٹھوں میں ہی تھے۔ اسی طرح اس نے جہنم بنائی ہے اور اس کے رہنے والے پیدا کئے ہیں۔ انہیں اسی لیے مقرر کر دیا۔ درآں حالیکہ اب تک وہ اپنے باپوں کی پشت میں ہی ہیں۔ [صحیح مسلم:2662]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے: ماں کے رحم میں اللہ تعالیٰ اپنا فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے حکم سے چاروں چیزوں یعنی روزی، عمل، عمر اور نیکی یا بدی لکھ لیتا ہے۔ [صحیح بخاری:3208]
یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو پشت آدم سے نکالا تو ان کے دو حصے کر دیئے، دائیں والے اور بائیں والے۔ اور فرما دیا: یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اور یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ اس بارے میں بہت سی حدیثیں ہیں اور تقدیر کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ یہاں پورا بیان ہو جائے۔ یہاں مقصد یہ ہے کہ ایسے خالی از خیر محروم قسمت لوگ کسی چیز سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ تمام اعضاء ہوتے ہیں لیکن قوتیں سب سے چھن جاتی ہیں۔ اندھے، بہرے، گونگے بن کر زندگی گڑھے میں ہی گزار دیتے ہیں۔ اگر ان میں خیر باقی ہوتی تو اللہ اپنی باتیں انہیں سناتا بھی۔ یہ تو خیر سے بالکل خالی ہو گئے، سنتے ہیں اور ان سنی کر جاتے ہیں۔ آنکھیں ہی نہیں بلکہ دل کی آنکھیں اندھی ہو گئی ہیں۔ رحمان کے ذکر سے منہ موڑنے کی سزا یہ ملی ہے کہ شیطان کے بھائی بن گئے ہیں، راہ حق سے دور جا پڑے ہیں مگر سمجھ یہی رہے ہیں کہ ہم سچے اور صحیح راستے پر ہیں۔ ان میں اور چوپائے جانوروں میں کوئی فرق نہیں۔ نہ یہ حق کو دیکھیں، نہ ہدایت کو دیکھیں، نہ اللہ کی باتوں کو سوچیں۔
صفحہ نمبر3141
چوپائے بھی تو اپنے حواس کو دنیا کے کام میں لاتے ہیں، اسی طرح یہ بھی فکر عقبیٰ سے، ذکر رب سے، راہ مولا سے غافل، گونگے اور اندھے ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ» [2-البقرة:171] یعنی ” ان کافروں کی مثال تو اس شخص کی سی ہے جو اس کے پیچھے چلا رہا ہے جو درحقیقت سنتی ونتی خاک بھی نہیں۔ ہاں! صرف شور و غل تو اس کے کان میں پڑتا ہے۔ “
چوپائے آواز تو سنتے ہیں لیکن کیا کہا؟ اسے سمجھے ان کی بلا۔ پھر ترقی کر کے فرماتا ہے کہ یہ ظالم تو چوپایوں سے بھی بدترین ہیں کہ چوپائے گو نہ سمجھیں لیکن آواز پر کان تو کھڑے کر دیتے ہیں، اشاروں پر حرکت تو کرتے ہیں، یہ تو اپنے مالک کو اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اپنی پیدائش کی غایت کو آج تک معلوم ہی نہیں کیا، جبھی تو اللہ سے کفر کرتے ہیں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف جو اللہ کا مطیع انسان ہو، وہ اللہ کے اطاعت گزار فرشتے سے بہتر ہے اور کفار انسان سے چوپائے جانور بہتر ہیں، ایسے لوگ پورے غافل ہیں۔
صفحہ نمبر3142
اسماء الحسنیٰ ٭٭
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کے ایک کم ایک سو نام ہیں۔ انہیں جو محفوظ کر لے، وہ جنتی ہے۔ وہ وتر ہے، طاق کو ہی پسند فرماتا ہے۔ [صحیح بخاری:4610] (بخاری وغیرہ)
ترمذی میں یہ ننانوے نام اس طرح ہیں: «هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، الْمَلِکُ، الْقُدُّوْسُ، السَّلَامُ، الْمُؤْمِنُ، الْمُھَیْمِنُ، الْعَزِیْزُ، الْجَبَّارُ، الْمُتَکَبِّرُ، الْخَالِقُ، الْبَارِیُٔ، الْمُصَوِّرُ، الْغَفَّارُ، الْقَھَّارُ، الْوَھَّابُ، الرَّزَّاقُ، الْفَتَّاحُ، الْعَلِیْمُ، الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الْخَافِضُ، الرَّافِعُ، الْمُعِزُّ، الْمُذِلُّ، السَّمِیْعُ، الْبَصِیْرُ، الْحَکَمُ، الْعَدْلُ، اللَّطِیْفُ، الْخَبِیْرُ، الْحَلِیْمُ، الْعَظِیْمُ، الْغَفُوْرُ، الشَّکُوْرُ، الْعَلِیُّ، الْکَبِیْرُ، الْحَفِیْظُ، الْمُقِیْتُ، الْحَسِیْبُ، الْجَلِیْلُ، الْکَرِیْمُ، الرَّقِیْبُ، الْمُجِیْبُ، الْوَاسِعُ، الْحَکِیْمُ، الْوَدُوْدُ، الْمَجِیْدُ، الْبَاعِثُ، الشَّھِیْدُ، الْحَقُّ، الْوَکِیْلُ، الْقَوِیُّ، الْمَتِیْنُ، الْوَلِیُّ، الْحَمِیْدُ، الْمُحْصِی، الْمُبْدِیُٔ، الْمُعِیْدُ، الْمُحْییِ، الْمُمِیْتُ، الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، الْوَاجِدُ، الْمَاجِدُ، الْوَاحِدُ، الصَّمَدُ، الْقَادِرُ، الْمُقْتَدِرُ، الْمُقَدِّمُ، الْمُؤَخِّرُ، الْاَوَّلُ الْاٰخِرُ، الظَّاھِرُ، الْبَاطِنُ، الْوَالِیُ، الْمُتَعَالُ، الْبَرُّ، التَّوَّابُ، الْمُنْتَقِمُ، الْعَفُوُّ، الرَّئُوْفُ، مَالِکُ، الْمُلْکِ، ذُوالْجَلَالِ وَالْاِکْرَا مِ، الْمُقْسِطُ، الْجَامِعُ، الْغَنِیُّ، الْمُغْنِی، الْمَانِعُ، الضَّآرُّ، النَّافِعُ، النُّوْرُ، الْھَادِیُ، الْبَدِیْعُ، الْبَاقِی، الْوَارِثُ، الرَّشِیْدُ، الصَّبُوْرُ» ۔ [سنن ترمذي:3507، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
صفحہ نمبر3143
یہ حدیث غریب ہے۔ کچھ کمی، زیادتی کے ساتھ اسی طرح یہ نام ابن ماجہ کی حدیث میں بھی وارد ہیں۔ بعض بزرگوں کا خیال ہے کہ یہ نام راویوں نے قرآن میں چھانٹ لیے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ یہ یاد رہے کہ یہی ننانوے نام اللہ کے ہوں، اور نہ ہوں، یہ بات نہیں۔
مسند احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: جسے کبھی بھی کوئی غم و رنج پہنچے اور وہ یہ دعا کرے: «اللَّهُمَّ إنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَداً مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ: أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ العظیم رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدرِي، وَجلاَءَ حزنِي، وَذَهَابَ هَمِّي» ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے غم و رنج کو دور کر دے گا اور اس کی جگہ راحت و خوشی عطا فرمائے گا۔ آپ سے سوال کیا گیا کہ پھر کیا ہم اسے اوروں کو بھی سکھائیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! بیشک جو اسے سنے، اسے چاہیئے کہ دوسروں کو بھی سکھائے۔ [صحیح ابن حبان:972:صحیح بالشواھد]
امام ابوحاتم بن حبان بستی رحمہ اللہ بھی اس روایت کو اسی طرح اپنی صحیح میں لائے ہیں۔ امام ابوبکر بن عربی رحمہ اللہ بھی اپنی کتاب الاحوذی فی شرح الترمذی میں لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی کتاب و سنت سے جمع کئے ہیں جن کی تعداد ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اللہ کے ناموں سے الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو۔ جیسے کہ لفظ اللہ سے کافروں نے اپنے بت کا نام لات رکھا اور عزیز سے مشتق کر کے عزیٰ نام رکھا۔ یہ بھی معنی ہیں کہ جو اللہ کے ناموں میں شریک کرتے ہیں، انہیں چھوڑو۔ جو انہیں جھٹلاتے ہیں، ان سے منہ موڑ لو۔ «الحاد» کے لفظی معنی ہیں: درمیانے، سیدھے راستے سے ہٹ جانا اور گھوم جانا۔ اسی لیے بغلی قبر کو «لحد» کہتے ہیں کیونکہ سیدھی کھدائی سے ہٹا کر بنائی جاتی ہے۔
صفحہ نمبر3144