John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-A'raaf

Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 61–90 · Quran text →

پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

صفحہ نمبر2945

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔

امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

صفحہ نمبر2946

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔

ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ [صحیح مسلم:1218] ‏

صفحہ نمبر2947

پھر تذکرہ انبیاء ٭٭

چونکہ سورت کے شروع میں سیدنا آدم علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا تھا۔ پھر اس کے متعلقات بیان ہوئے اور اس کے متصل اور بیانات فرما کر اب پھر اور انبیاء علیہم السلام کے واقعات کے بیان کا آغاز ہوا اور پے در پے ان کے بیانات ہوئے۔ سب سے پہلے نوح علیہ السلام کا ذکر ہوا کیونکہ سیدنا آدم علیہ السلام کے بعد سب سے پہلے پیغمبر اہل زمین کی طرف آپ ہی آئے تھے۔ آپ نوح بن لامک بن متوشلخ بن اخنوخ (‏یعنی ادریس علیہ السلام یہی پہلے وہ شخص ہیں جنہوں نے قلم سے لکھا) بن برد بن مہلیل بن قنین بن یانشن بن شیث بن آدم علیہ السلام۔

صفحہ نمبر2945

ائمہ نسب امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ وغیرہ نے آپ کا نسب نامہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔

امام صاحب فرماتے ہیں: نوح علیہ السلام جیسا کوئی اور نبی امت کی طرف سے ستایا نہیں گیا۔ ہاں انبیاء قتل ضرور کئے گئے۔ انہیں نوح اسی لیے کہا گیا کہ یہ اپنے نفس کا رونا بہت روتے تھے۔ آدم اور نوح علیہم السلام کے درمیان دس زمانے تھے جو اسلام پر گزرے تھے۔ اصنام پرستی کا رواج اس طرح شروع ہوا کہ جب اولیاء اللہ فوت ہو گئے تو ان کی قوم نے ان کی قبروں پر مسجدیں بنا لیں اور ان میں ان بزرگوں کی تصویریں بنا لیں تاکہ ان کا حال اور ان کی عبادت کا نقشہ سامنے رہے اور اپنے آپ کو ان جیسا بنانے کی کوشش کریں لیکن کچھ زمانے کے بعد ان تصویروں کے مجسمے بنا لیے۔ کچھ اور زمانے کے بعد انہی بتوں کی پوجا کرنے لگے اور ان کے نام انہی اولیاء اللہ کے ناموں پر رکھ لیے۔ ود، سواع، یغوث، یعوق، نسر وغیرہ۔ جب بت پرستی کا رواج ہو گیا، اللہ نے اپنے رسول نوح علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے انہیں اللہ واحد کی عبادت کی تلقین کی اور کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں قیامت کے دن تمہیں عذاب نہ ہو۔ قوم نوح کے بڑوں نے، ان کے سرداروں نے اور ان کے چودھریوں نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا کہ تم تو بہک گئے ہو، ہمیں اپنے باپ دادوں کے دین سے ہٹا رہے ہو۔ ہر بد شخص نیک لوگوں کو گمراہ سمجھا کرتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ جب یہ بدکار ان نیک کاروں کو دیکھتے ہیں، کہتے ہیں کہ یہ تو بہکے ہوئے ہیں۔ کہا کرتے تھے کہ اگر یہ دین اچھا ہوتا تو ان سے پہلے ہم نہ مان لیتے؟ یہ تو بات ہی غلط اور جھوٹ ہے۔

صفحہ نمبر2946

نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں بہکا ہوا نہیں ہوں بلکہ میں اللہ کا رسول ہوں، تمہیں پیغام رب پہنچا رہا ہوں۔ تمہارا خیرخواہ ہوں اور اللہ کی وہ باتیں جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے۔

ہر رسول مبلغ، فصیح، بلیغ، ناصح، خیرخواہ اور عالم باللہ ہوتا ہے۔ ان صفات میں اور کوئی ان کی ہمسری اور برابری نہیں کر سکتا۔ صحیح مسلم شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفے کے دن اپنے اصحاب سے فرمایا جبکہ وہ بہت بڑی تعداد میں بہت زیادہ تھے کہ اے لوگو! میری بابت اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے تو بتاؤ کیا جواب دو گے؟ سب نے کہا: ہم کہیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی تھی اور حق رسالت ادا کر دیا تھا اور پوری خیر خواہی کی تھی۔ پس آپ نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر نیچے زمین کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا یااللہ! تو گواہ رہ، اے اللہ! تو شاہد رہ، یااللہ! تو گواہ رہ۔ [صحیح مسلم:1218] ‏

صفحہ نمبر2947

نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭

نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔

نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (‏۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔

صفحہ نمبر2951

نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭

نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔

نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔ پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔ جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (‏۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔

صفحہ نمبر2951

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔

فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏ یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ “

یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

صفحہ نمبر2953

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

صفحہ نمبر2954

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔

میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ [2-البقرة:247] ‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔

صفحہ نمبر2955

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔

فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏ یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ “

یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

صفحہ نمبر2953

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

صفحہ نمبر2954

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔

میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ [2-البقرة:247] ‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔

صفحہ نمبر2955

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔

فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏ یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ “

یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

صفحہ نمبر2953

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

صفحہ نمبر2954

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔

میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ [2-البقرة:247] ‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔

صفحہ نمبر2955

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔

فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏ یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ “

یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

صفحہ نمبر2953

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

صفحہ نمبر2954

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔

میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ [2-البقرة:247] ‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔

صفحہ نمبر2955

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭

فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔

فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] ‏ یعنی ” کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ “

یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔

صفحہ نمبر2953

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔ یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟

صفحہ نمبر2954

ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔

میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔ تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ [2-البقرة:247] ‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔

صفحہ نمبر2955

قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭

قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔

ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ” یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ “ [8-الأنفال:32] ‏

قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔

صفحہ نمبر2960

پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔

قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔

صفحہ نمبر2961

گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔

آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے۔ اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذ بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے۔ ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام کلھدہ بنت خبیری تھا۔

صفحہ نمبر2962

عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکے شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پرتکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہو گئے کہ کامل ایک مہینہ گزر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔

معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لیے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو! جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قحط سالی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ بڈھے، بچے، مرد، عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہو گیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہو گئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ یاد رکھو! اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے۔ ایک سفید، ایک سیاہ، ایک سرخ۔ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔ اس نے سیاہ بادل پسند کیا۔ آوز آئی کہ تو نے سیاہ بادل پسند کیا، جو عادیوں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑے گا۔ نہ باپ کو، نہ بیٹے کو۔ سب کو غارت کر دے گا سوائے بنی لوذید کے۔ یہ بنی لوذید بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے۔ ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے۔ یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخریٰ ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ کر لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کر دینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الٰہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا۔ یہ چیخ مار کر بےہوش ہو گئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا کے تھا جسے فرشتے گھسیٹے لیے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہو گیا۔

صفحہ نمبر2963

ہود علیہ السلام اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔

ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کر دی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا، سر الگ ہو گئے، دھڑ الگ جا پڑے۔ یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی الخ۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آ جانے سے ہود علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات مل گئی۔ رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔

صفحہ نمبر2964

مسند احمد میں ہے، حارث بکری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لاچار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے؟ میں نے کہا: آؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا۔ دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی۔ اجازت ملی، جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں۔ وہ دروازے پر بیٹھی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔

صفحہ نمبر2965

میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی: اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کر لے گئی۔ میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا ہے، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی؟ اللہ نہ کرے کہ میں عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہو جاؤں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بھئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کر دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا، ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ! میں کسی بیمار کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لیے نہیں آیا۔ یااللہ! عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو، قبول کر لے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا۔ اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ و بالا کر دیا۔ ابووائل کہتے ہیں: یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہو گیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھیجتے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہو جانا۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏

اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر2966

قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭

قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔

ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ” یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ “ [8-الأنفال:32] ‏

قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔

صفحہ نمبر2960

پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔

قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔

صفحہ نمبر2961

گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔

آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے۔ اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذ بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے۔ ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام کلھدہ بنت خبیری تھا۔

صفحہ نمبر2962

عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکے شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پرتکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہو گئے کہ کامل ایک مہینہ گزر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔

معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لیے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو! جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قحط سالی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ بڈھے، بچے، مرد، عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہو گیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہو گئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ یاد رکھو! اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے۔ ایک سفید، ایک سیاہ، ایک سرخ۔ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔ اس نے سیاہ بادل پسند کیا۔ آوز آئی کہ تو نے سیاہ بادل پسند کیا، جو عادیوں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑے گا۔ نہ باپ کو، نہ بیٹے کو۔ سب کو غارت کر دے گا سوائے بنی لوذید کے۔ یہ بنی لوذید بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے۔ ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے۔ یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخریٰ ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ کر لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کر دینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الٰہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا۔ یہ چیخ مار کر بےہوش ہو گئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا کے تھا جسے فرشتے گھسیٹے لیے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہو گیا۔

صفحہ نمبر2963

ہود علیہ السلام اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔

ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کر دی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا، سر الگ ہو گئے، دھڑ الگ جا پڑے۔ یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی الخ۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آ جانے سے ہود علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات مل گئی۔ رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔

صفحہ نمبر2964

مسند احمد میں ہے، حارث بکری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لاچار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے؟ میں نے کہا: آؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا۔ دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی۔ اجازت ملی، جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں۔ وہ دروازے پر بیٹھی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔

صفحہ نمبر2965

میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی: اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کر لے گئی۔ میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا ہے، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی؟ اللہ نہ کرے کہ میں عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہو جاؤں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بھئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کر دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا، ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ! میں کسی بیمار کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لیے نہیں آیا۔ یااللہ! عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو، قبول کر لے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا۔ اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ و بالا کر دیا۔ ابووائل کہتے ہیں: یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہو گیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھیجتے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہو جانا۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏

اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر2966

قوم عاد کا باغیانہ رویہ ٭٭

قوم عاد کی سرکشی، تکبر، ضد اور عناد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے ہود علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کی تشریف آوری کا مقصد یہی ہے کہ ہم اللہ واحد کے پرستار بن جائیں اور باپ دادوں کے پرانے معبودوں سے روگردانی کر لیں؟ سنو! اگر یہی مقصود ہے تو اس کا پورا ہونا محال ہے۔

ہم تیار ہیں اگر تم سچے ہو تو اپنے اللہ سے ہمارے لیے عذاب طلب کرو۔ یہی کفار مکہ نے کہا تھا۔ کہنے لگے کہ ” یااللہ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا حق ہے اور واقعی تیرا کلام ہے اور ہم نہیں مانتے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور سخت المناک عذاب ہمیں کر۔ “ [8-الأنفال:32] ‏

قوم عاد کے بتوں کے نام یہ ہیں: صمد، صمودھبا۔ ان کی اس ڈھٹائی کے مقابلے میں اللہ کے پیغمبر علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہاری ین باتوں سے بےشک تم پر اللہ کا عذاب اور اس کا غضب ثابت ہو گیا۔ «رِجْسٌ» سے مراد «رجز» یعنی عذاب ہے۔ ناراضی اور غصے کے معنی یہی ہیں۔

صفحہ نمبر2960

پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی بابت مجھ سے جھگڑ رہے ہو جن کے نام بھی تم نے خود رکھے ہیں یا تمہارے بڑوں نے اور خواہ مخواہ بےوجہ انہیں معبود سمجھ بیٹھے ہو، یہ پتھر کے ٹکڑے محض بےضرر اور بےنفع ہیں۔ نہ اللہ نے ان کی عبادت کی کوئی دلیل اتاری ہے۔ ہاں اگر مقابلے پر اتر ہی آئے ہو تو منتظر رہو، میں بھی منتظر ہوں۔ ابھی معلوم ہو جائے گا کہ مقبول بارگاہ رب کون ہے اور مردود بارگاہ کون ہے؟ کون مستحق عذاب ہے اور کون قابل ثواب ہے؟ آخر ہم نے اپنے نبی علیہ السلام کو اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو نجات دی اور کافروں کی جڑیں کاٹ دیں۔

قرآن کریم کے کئی مقامات پر جناب باری عزوجل نے ان کی تباہی کی صورت بیان فرمائی ہے کہ ان پر خیر سے خالی، تند اور تیز ہوائیں بھیجی گئیں جس نے انہیں اور ان کی تمام چیزوں کو غارت اور برباد کر دیا۔ عاد لوگ بڑے زناٹے کی سخت آندھی سے ہلاک کر دیئے گئے جو ان پر برابر سات رات اور آٹھ دن چلتی رہی۔ سارے کے سارے اس طرح ہو گئے جیسے کھجور کے درختوں کے تنے الگ ہوں اور شاخیں الگ ہوں۔ دیکھ لے! ان میں سے ایک بھی اب نظر آ رہا ہے؟ ان کی سرکشی کی سزا میں سرکش ہوا ان پر مسلط کر دی گئی جو ان میں سے ایک ایک کو اٹھا کر آسمان کی بلندی کی طرف لے جاتی اور وہاں سے گراتی جس سے سر الگ ہو جاتا، دھڑ الگ گر جاتا۔ یہ لوگ یمن کے ملک میں، عمان اور حضر موت میں رہتے تھے۔ ادھر ادھر نکلتے، لوگوں کو مار پیٹ کی جبراً و قہراً ان کے ملک و مال پر غاصبانہ قبضہ کر لیتے۔ سارے کے سارے بت پرست تھے۔ ہود علیہ السلام جو ان کے شریف خاندانی شخص تھے، ان کے پاس رب کی رسالت لے کر آئے۔ اللہ کی توحید کا حکم دیا، شرک سے روکا، لوگوں پر ظلم کرنے کی برائی سمجھائی لیکن انہوں نے اس نصیحت کو قبول نہ کیا۔ مقابلے پر تن گئے اور اپنی قوت سے حق کو دبانے لگے۔

صفحہ نمبر2961

گو بعض لوگ ایمان لائے تھے لیکن وہ بھی بےچارے جان کے خوف سے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے۔ باقی لوگ بدستور اپنی بےایمانی اور ناانصافی پر جمے رہے، خواہ مخواہ فوقیت ظاہر کرنے لگے، بے کار عمارتیں بناتے اور پھولے نہ سماتے۔ ان کاموں کو اللہ کے رسول ناپسند فرماتے، انہیں روکتے۔ تقویٰ کی، اطاعت کی ہدایت کرتے لیکن یہ کبھی تو انہیں بےدلیل بتاتے، کبھی انہیں مجنون کہتے۔ آپ اپنی برات ظاہر کرتے اور ان سے صاف فرماتے کہ مجھے تمہاری قوت طاقت کا مطلقاً خوف نہیں۔ جاؤ تم سے جو ہو سکے، کر لو۔ میرا بھروسہ اللہ پر ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی بھروسے کے لائق، نہ عبادت کے قابل۔ ساری مخلوق اس کے سامنے عاجز، پست اور لاچار ہے۔ سچی راہ اللہ کی راہ ہے۔

آخر جب یہ اپنی برائیوں سے باز نہ آئے تو ان پر بارش نہ برسائی گئی، تین سال تک قحط سالی رہی۔ زچ ہو گئے، تنگ آ گئے۔ آخر یہ سوچا کہ چند آدمیوں کو بیت اللہ شریف بھیجیں۔ وہ وہاں جا کر اللہ سے دعائیں کریں۔ یہی ان کا دستور تھا کہ جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے تو وہاں وفد بھیجتے۔ اس وقت ان کا قبیلہ عمالیق حرم شریف میں بھی رہتا تھا۔ یہ لوگ عملیق بن لاوذ بن سام بن نوح کی نسل میں سے تھے۔ ان کا سردار اس زمانے میں معاویہ بن بکر تھا۔ اس کی ماں قوم عاد سے تھی جس کا نام کلھدہ بنت خبیری تھا۔

صفحہ نمبر2962

عادیوں نے اپنے ہاں سے ستر شخصوں کو منتخب کر کے بطور وفد مکے شریف کو روانہ کیا۔ یہاں آ کر یہ معاویہ کے مہمان بنے۔ پرتکلف دعوتوں کے اڑانے، شراب خوری کرنے اور معاویہ کی دو لونڈیوں کا گانا سننے میں اس بےخودی سے مشغول ہو گئے کہ کامل ایک مہینہ گزر گیا۔ انہیں اپنے کام کی طرف مطلق توجہ نہ ہوئی۔

معاویہ ان کی یہ روش دیکھ کر اور اپنی قوم کی بری حالت سامنے رکھ کر بہت کڑھتا تھا لیکن یہ مہمان نوازی کے خلاف تھا کہ خود ان سے کہتا کہ جاؤ۔ اس لیے اس نے کچھ اشعار لکھے اور ان ہی دونوں کنیزوں کو یاد کرائے کہ وہ یہی گا کر انہیں سنائیں۔ ان شعروں کا مضمون یہ تھا کہ اے لوگو! جو قوم کی طرف سے اللہ سے دعائیں کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو کہ اللہ عادیوں پر بارش برسائے جو آج قحط سالی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ہیں۔ بھوکے پیاسے مر رہے ہیں۔ بڈھے، بچے، مرد، عورتیں تباہ حال پھر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بولنا چالنا ان پر دو بھر ہو گیا ہے۔ جنگلی جانور ان کی آبادیوں میں پھر رہے ہیں کیونکہ کسی آدمی میں اتنی قوت کہاں کہ وہ تیر چلا سکے۔ لیکن افسوس کہ تم یہاں اپنے من مانے مشغلوں میں منہمک ہو گئے اور بےفائدہ وقت ضائع کرنے لگے۔ تم سے زیادہ برا وفد دنیا میں کوئی نہ ہو گا۔ یاد رکھو! اگر اب بھی تم نے مستعدی سے قومی خدمت نہ کی تو تم برباد اور غارت ہو جاؤ گے۔ یہ سن کر ان کے کان کھڑے ہوئے۔ یہ حرم میں گئے اور دعائیں مانگنا شروع کیں۔ اللہ تعالیٰ نے تین بادل ان کے سامنے پیش کئے۔ ایک سفید، ایک سیاہ، ایک سرخ۔ اور ایک آواز آئی کہ ان میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو۔ اس نے سیاہ بادل پسند کیا۔ آوز آئی کہ تو نے سیاہ بادل پسند کیا، جو عادیوں میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑے گا۔ نہ باپ کو، نہ بیٹے کو۔ سب کو غارت کر دے گا سوائے بنی لوذید کے۔ یہ بنی لوذید بھی عادیوں کا ایک قبیلہ تھا جو مکہ میں مقیم تھے۔ ان پر وہ عذاب نہیں آئے تھے۔ یہی باقی رہے اور انہی میں سے عاد اخریٰ ہوئے۔ اس وفد کے سردار نے سیاہ بادل پسند کیا تھا جو اسی وقت عادیوں کی طرف چلا۔ اس شخص کا نام قیل بن غز تھا۔ جب یہ بادل عادیوں کے میدان میں پہنچا جس کا نام مغیث تھا تو اسے دیکھ کر لوگ خوشیاں منانے لگے کہ اس ابر سے پانی ضرور برسے گا حالانکہ یہ وہ تھا جس کی یہ لوگ نبی کے مقابلہ میں جلدی مچا رہے تھے جس میں المناک عذاب تھا جو تمام چیزوں کو فنا کر دینے والا تھا۔ سب سے پہلے اس عذاب الٰہی کو ایک عورت نے دیکھا جس کا نام ممید تھا۔ یہ چیخ مار کر بےہوش ہو گئی۔ جب ہوش آئی تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا: آگ کا بگولہ جو بصورت ہوا کے تھا جسے فرشتے گھسیٹے لیے چلے آتے تھے۔ برابر سات راتیں اور آٹھ دن تک یہ آگ والی ہوا ان پر چلتی رہی اور عذاب کا بادل ان پر برستا رہا۔ تمام عادیوں کا ستیاناس ہو گیا۔

صفحہ نمبر2963

ہود علیہ السلام اور آپ کے مومن ساتھی ایک باغیچے میں چلے گئے۔ وہاں اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔ وہی ہوا ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہو کر ان کے جسموں کو لگتی رہی جس سے روح کو تازگی اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی رہی۔

ہاں عادیوں پر اس ہوا نے سنگباری شروع کر دی، ان کے دماغ پھٹ گئے۔ آخر انہیں اٹھا اٹھا کر دے پٹخا، سر الگ ہو گئے، دھڑ الگ جا پڑے۔ یہ ہوا سوار کو سواری سمیت ادھر اٹھا لیتی تھی اور بہت اونچے لے جا کر اسے اوندھا دے پٹختی تھی الخ۔ یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سے فوائد ہیں۔ عذاب الٰہی کے آ جانے سے ہود علیہ السلام کو اور مومنوں کو نجات مل گئی۔ رحمت حق ان کے شامل حال رہی اور باقی کفار اس بدترین سزا میں گرفتار ہوئے۔

صفحہ نمبر2964

مسند احمد میں ہے، حارث بکری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اپنے ہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں علا بن حضرمی کی شکایت لے کر چلا جب میں ربذہ میں پہنچا تو بنو تمیم کی ایک بڑھیا لاچار ہو کر بیٹھی ہوئی ملی۔ مجھ سے کہنے لگی: اے اللہ کے بندے! مجھے سرکار رسالت مآب میں پہنچنا ہے۔ کیا تو میرے ساتھ اتنا سلوک کرے گا کہ مجھے دربار رسالت میں پہنچا دے؟ میں نے کہا: آؤ۔ چنانچہ میں نے اسے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا اور مدینے پہنچا۔ دیکھا کہ مسجد لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ سیاہ جھنڈے لہرا رہے ہیں اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار لٹکائے کھڑے ہیں۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں کہیں لشکر بھیجنے والے ہیں۔ میں تھوری دیر بیٹھا رہا۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل میں تشریف لے گئے۔ میں آپ کے پیچھے ہی گیا۔ اجازت طلب کی۔ اجازت ملی، جب میں نے اندر جا کر سلام کیا تو آپ نے مجھ سے دریافت کیا: تم میں اور بنو تمیم میں کچھ چشمک ہے؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار وہی ہیں۔ میں اب حاضر خدمت ہو رہا تھا تو راستے میں قبیلہ تمیم کی ایک بڑھیا عورت مل گئی جس کے پاس سواری وغیرہ نہ تھی۔ اس نے مجھ سے درخواست کی اور میں اسے اپنی سواری پر بٹھا کر یہاں لایا ہوں۔ وہ دروازے پر بیٹھی ہے۔ آپ نے اسے بھی اندر آنے کی اجازت دی۔

صفحہ نمبر2965

میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں اور بنو تمیم میں کوئی روک کر دیجئے۔ اس پر بڑھیا تیز ہو کر بولی: اگر آپ نے ایسا کر دیا تو آپ کے ہاں کے بےبس کہاں پناہ لیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! تیری اور میری تو وہی مثل ہوئی کہ بکری اپنی موت کو آپ اٹھا کر لے گئی۔ میں نے ہی تجھے یہاں پہنچایا ہے، مجھے اس کے انجام کی کیا خبر تھی؟ اللہ نہ کرے کہ میں عادی قبیلے کے وفد کی طرح ہو جاؤں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ بھئی عادیوں کے وفد کا قصہ کیا ہے؟ باوجود یہ کہ آپ کو مجھ سے زیادہ اس کا علم تھا لیکن یہ سمجھ کر کہ اس وقت آپ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے قصہ شروع کر دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت عادیوں میں قحط سالی نمودار ہوئی تو انہوں نے قیل نامی ایک شخص کو بطور اپنے قاصد کے بیت اللہ شریف دعا وغیرہ کرنے کے لئے بھیجا۔ یہ معاویہ بن بکر کے ہاں آ کر مہمان بنا۔ یہاں شراب و کباب اور راگ رنگ میں ایسا مشغول ہوا کہ مہینے بھر تک جام لنڈھاتا رہا اور معاویہ کی دو لونڈیوں کے گانے سنتا رہا، ان کا نام جرادہ تھا۔ مہینے بھر کے بعد مہرہ کے پہاڑوں پر گیا اور اللہ سے دعا مانگنے لگا کہ باری تعالیٰ! میں کسی بیمار کی دوا کے لیے یا کسی قیدی کے فدیئے کے لیے نہیں آیا۔ یااللہ! عادیوں کو تو وہ پلا جو پلایا کرتا تھا۔ اتنے میں وہ دیکھتا ہے کہ چند سیاہ رنگ کے بادل اس کے سر پر منڈلا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک غیبی صدا آئی کہ ان میں سے جو تجھے پسند ہو، قبول کر لے۔ اس نے سخت سیاہ بادل کو اختیار کیا۔ اسی وقت دوسری آواز آئی کہ لے لے خاک راکھ جو عادیوں میں سے ایک کو بھی نہ چھوڑے۔ عادیوں پر ہوا کے خزانے میں سے صرف بقدر انگوٹھی کے حلقے کے ہوا چھوڑی گئی تھی جس نے سب کو غارت اور تہ و بالا کر دیا۔ ابووائل کہتے ہیں: یہ واقعہ سارے عرب میں ضرب المثل ہو گیا تھا جب لوگ کسی کو بطور وفد کے بھیجتے تھے تو کہہ دیا کرتے تھے کہ عادیوں کے وفد کی طرح نہ ہو جانا۔ [مسند احمد:482/3:حسن] ‏

اسی طرح مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ سنن کی اور کتابوں میں بھی یہ واقعہ موجود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

صفحہ نمبر2966

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2969

ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ [صحیح بخاری:4420] ‏

اور روایت میں ہے: غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏

یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صفحہ نمبر2970

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔

اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» [54-القمر:28] ‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ” یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ “

یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

صفحہ نمبر2971

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» [91-الشمس:14] ‏ ” قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ “

اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» [27-النمل:49-50] ‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

صفحہ نمبر2972

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔

یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

صفحہ نمبر2973

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔

ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

صفحہ نمبر2974

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔

ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2975

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2969

ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ [صحیح بخاری:4420] ‏

اور روایت میں ہے: غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏

یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صفحہ نمبر2970

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔

اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» [54-القمر:28] ‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ” یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ “

یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

صفحہ نمبر2971

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» [91-الشمس:14] ‏ ” قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ “

اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» [27-النمل:49-50] ‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

صفحہ نمبر2972

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔

یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

صفحہ نمبر2973

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔

ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

صفحہ نمبر2974

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔

ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2975

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2969

ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ [صحیح بخاری:4420] ‏

اور روایت میں ہے: غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏

یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صفحہ نمبر2970

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔

اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» [54-القمر:28] ‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ” یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ “

یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

صفحہ نمبر2971

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» [91-الشمس:14] ‏ ” قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ “

اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» [27-النمل:49-50] ‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

صفحہ نمبر2972

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔

یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

صفحہ نمبر2973

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔

ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

صفحہ نمبر2974

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔

ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2975

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2969

ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ [صحیح بخاری:4420] ‏

اور روایت میں ہے: غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏

یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صفحہ نمبر2970

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔

اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» [54-القمر:28] ‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ” یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ “

یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

صفحہ نمبر2971

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» [91-الشمس:14] ‏ ” قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ “

اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» [27-النمل:49-50] ‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

صفحہ نمبر2972

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔

یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

صفحہ نمبر2973

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔

ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

صفحہ نمبر2974

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔

ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2975

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2969

ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ [صحیح بخاری:4420] ‏

اور روایت میں ہے: غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏

یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صفحہ نمبر2970

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔

اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» [54-القمر:28] ‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ” یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ “

یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

صفحہ نمبر2971

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» [91-الشمس:14] ‏ ” قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ “

اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» [27-النمل:49-50] ‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

صفحہ نمبر2972

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔

یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

صفحہ نمبر2973

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔

ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

صفحہ نمبر2974

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔

ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2975

ثمود کی قوم اور اس کا عبرت ناک انجام ٭٭

علمائے نسب نے بیان کیا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح , یہ بھائی تھا جدیس بن عامر کا۔ اسی طرح قبیلہ طسم یہ سب خالص عرب تھے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے ثمودی عادیوں کے بعد ہوئے ہیں۔ ان کے شہر حجاز اور شام کے درمیان وادی القری اور اس کے اردگرد مشہور ہیں۔ سنہ ٩ھ میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی اجاڑ بستیوں میں سے گزرے تھے۔

مسند احمد میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے میدان میں اترے۔ لوگوں نے ثمودیوں کے گھروں کے پاس ڈیرے ڈالے اور انہی کے کنوؤں کے پانی سے آٹے گوندھے، ہانڈیاں چڑھائیں تو آپ نے حکم دیا کہ سب ہانڈیاں الٹ دی جائیں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا دیئے جائیں۔ پھر فرمایا: یہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئیں کے پاس ٹھہرو جس سے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور فرمایا: آئندہ عذاب والی بستیوں میں پڑاؤ نہ کیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اسی عذاب کے شکار تم بھی بن جاؤ۔ [مسند احمد:117/2:صحیح] ‏

صفحہ نمبر2969

ایک روایت میں ہے کہ ان کی بستیوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گزرو کہ مبادا وہی عذاب تم پر آ جائیں جو ان پر آئے تھے۔ [صحیح بخاری:4420] ‏

اور روایت میں ہے: غزوہ تبوک میں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کی طرف لپکے۔ آپ نے اسی وقت یہ آواز بلند کرنے کا کہا: «اَلصَلٰوۃُ جَامِعةٌ» جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے گھروں میں کیوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب الٰہی نازل ہوا۔ راوی حدیث ابوکبشہ انماری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک نیزہ تھا۔ میں نے یہ سن کر عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہیں دیکھنے چلے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: میں تمہیں اس سے بھی تعجب خیز چیز بتا رہا ہوں۔ تم میں سے ہی ایک شخص ہے جو تمہیں وہ چیز بتا رہا ہے جو گزر چکیں اور وہ خبریں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہیں اور جو تمہارے بعد ہونے والی ہیں۔ پس تم ٹھیک ٹھاک رہو اور سیدھے چلے جاؤ۔ تمہیں عذاب کرتے ہوئے بھی اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں۔ یاد رکھو! ایسے لوگ آئیں گے جو اپنی جانوں سے کسی چیز کو دفع نہ کر سکیں گے۔ [مسند احمد:231/4:حسن] ‏

سیدنا ابوکبشہ رضی اللہ عنہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گیا ہے کہ عامر بن سعد ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

ایک روایت میں ہے کہ ہجر کی بستی کے پاس آتے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: معجزے نہ طلب کرو۔ دیکھو! قوم صالح نے معجزہ طلب کیا جو ظاہر ہوا یعنی اونٹنی جو اس راستے سے آتی تھی اور اس راستے سے جاتی تھی لیکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی تھی اور ایک دن یہ سب اس کا دودھ پیتے تھے۔ اس اونٹنی کو مار ڈالنے پر ان پر ایک چیخ آئی اور یہ جتنے بھی تھے، سب کے سب ڈھیر ہو گئے۔ بجز اس ایک شخص کے جو حرم شریف میں تھا۔ لوگوں نے پوچھا: اس کا نام کیا تھا؟ فرمایا: ابورغال، یہ بھی جب حد حرم سے باہر آیا تو اسے بھی وہی عذاب ہوا۔ [مسند احمد:296/3:حسن] ‏

یہ حدیث صحاح ستہ میں تو نہیں لیکن ہے مسلم شریف کی شرط پر۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ثمودی قبیلے کی طرف سے ان کے بھائی صالح علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا گیا۔ تمام نبیوں کی طرح آپ نے بھی اپنی امت کو سب سے پہلے توحید الٰہی سکھائی کہ فقط اس کی عبادت کریں۔ اس کے سوا اور کوئی لائق عبادت نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے: جتنے بھی رسول آئے سب کی طرف یہی وحی کی جاتی رہی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، صرف میری ہی عبادت کرو۔ اور ارشاد ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجے کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت سے بچو۔

صفحہ نمبر2970

صالح علیہ السلام فرماتے ہیں: لوگو! تمہارے پاس دلیل الٰہی آ چکی جس میں میری سچائی ظاہر ہے۔ ان لوگوں نے صالح علیہ السلام سے معجزہ طلب کیا تھا کہ ایک سنگلاخ چٹان جو ان کی بستی کے ایک کنارے پڑی تھی جس کا نام کاتبہ تھا، اس سے آپ ایک اونٹنی نکالیں جو گابھن ہو (‏دودھ دینے والی اونٹنی جو دس ماہ کی حاملہ ہو) صالح علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم ایمان قبول کر لو گے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ صالح علیہ السلام نے نماز پڑھی، دعا کی۔ ان سب کے دیکھتے ہی چٹان نے ہلنا شروع کیا اور چٹخ گئی۔ اس کے پیچھے سے ایک اونٹنی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر لیا اور اس کے ساتھیوں نے بھی۔ باقی جو اور سردار تھے وہ ایمان لانے کیلئے تیار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبید نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن صمعر بن جلھس وغیرہ نے انہیں روک دیا۔ جندع کا بھتیجا شہاب نامی، یہ ثمودیوں کا بڑا عالم فاضل اور شریف شخص تھا۔ اس نے بھی ایمان لانے کا ارادہ کر لیا۔ انہی بدبختوں نے اسے بھی روکا جس پر ایک مومن ثمودی مہوش بن عثمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دین حق کی دعوت دی۔ قریب تھا کہ وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کی عزت سو اور ہو جاتی مگر بدبختوں نے اسے روک دیا اور نیکی سے ہٹا کر بدی پر لگا دیا۔

اس حاملہ اونٹنی کو اس وقت بچہ ہوا۔ ایک مدت تک دونوں ان میں رہے۔ ایک دن اونٹنی ان کا پانی پیتی، اس دن اس قدر دودھ دیتی کہ یہ لوگ اپنے سب برتن بھر لیتے۔ دوسرے دن نی پیتی اور ثمودیوں کے اور جانور پی لیتے۔جیسے قرآن میں ہے آیت «وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ» [54-القمر:28] ‏ اور آیت میں ہے «قَالَ هٰذِهٖ نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ» [26-الشعراء:155] ‏ ” یہ ہے اونٹنی، اس کے اور تمہارے پانی پینے کے دن تقسیم شدہ اور مقررہ ہیں۔ “

یہ اونٹنی ثمودیوں کی بستی حجر کے اردگرد چرتی چگتی تھی۔ ایک راہ جاتی، دوسری راہ آتی۔ یہ بہت ہی موٹی تازی اور ہیبت والی اونٹنی تھی۔ جس راہ سے گزرتی سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے۔ کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کیا کہ اس کو مار ڈالیں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پانی پی سکیں۔ ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کیا۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی اور انہیں شہ دی کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو۔ اس اونٹنی کو مار ڈالو۔

صفحہ نمبر2971

چنانچہ قرآن کریم میں ہے «فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ١ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوّٰىهَا» [91-الشمس:14] ‏ ” قوم صالح نے اپنے نبی کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائی اور ان سب کو یکساں کر دیا۔ “

اور آیت میں ہے کہ ہم نے ثمودیوں کو اونٹنی دی جو ان کے لیے پوری سمجھ بوجھ کی چیز تھی لیکن انہوں نے اس پر ظلم کیا یہاں بھی فرمایا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ پس اس فعل کی اسناد سارے ہی قبیلے کی طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ وغیرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کی وجہ یہ ہوئی کہ عنیزہ بنت مجلز جو ایک بڑھیا کافرہ تھی اور صالح علیہ السلام سے بڑی دشمنی رکھتی تھی، اس کی لڑکیاں بہت خوبصورت تھیں اور تھی بھی یہ عورت مالدار۔ اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثمودیوں کا ایک سردار تھا یہ بھی کافر تھا۔ اسی طرح ایک اور عورت تھی جس کا نام صدوف بنت محیا بن مختار تھا۔ یہ بھی حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب میں بڑھی ہوئی تھی، اس کے خاوند مسلمان ہو گئے تھے رضی اللہ عنہ۔ اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ دیا۔ اب یہ دونوں عورتیں لوگوں کو اکساتی تھیں کہ کوئی آمادہ ہو جائے اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کر دے۔ صدوف نامی عورت نے ایک شخص حباب کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں تیرے گھر آ جاؤں گی، اگر تو اس اونٹنی کو قتل کر دے لیکن اس نے انکار کر دیا۔ اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محیاء کو بلایا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھی اسی بات پر آمادہ کیا۔ یہ خبیث اس کے حسن و جمال کا مفتون تھا، اس برائی پر آمادہ ہو گیا۔ ادھر عنیزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ میری ان خوبصورت نوجوان لڑکیوں میں سے جسے تو پسند کرے، اسے میں تجھے دے دوں گی، اسی شرط پر کہ تو اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ ڈال۔ یہ خبیث بھی آمادہ ہو گیا۔ یہ تھا بھی زناکاری کا بچہ، سالف کی اولاد میں نہ تھا۔ صھیاد نامی ایک شخص سے اس کی بدکار ماں نے زناکاری کی تھی، اسی سے یہ پیدا ہوا تھا۔ اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شریروں کو بھی اس پر آمادہ کیا۔ چنانچہ سات شخص اور بھی اس پر آمادہ ہو گئے اور یہ نو فسادی شخص اس بد ارادے پر تل گئے۔ جیسے قرآن کریم میں ہے «وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ» [27-النمل:49-50] ‏ اس شہر میں نو شخص تھے جن میں اصلاح کا مادہ ہی نہ تھا، سراسر فسادی ہی تھے۔ چونکہ یہ لوگ قوم کے سردار تھے۔ ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھی اس پر راضی ہو گئے اور اونٹنی کے واپس آنے کے راستے میں یہ دونوں شریر اپنی اپنی کمین گاہوں میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی نکلی تو پہلے مصدع نے اسے تیر مارا جو اس کی ران کی ہڈی میں پیوست ہو گیا۔ اسی وقت عنیزہ نے اپنی خوبصورت لڑکی کو کھلے منہ قدار کے پاس بھیجا۔ اس نے کہا: قدار کیا دیکھتے ہو؟ اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو۔ یہ اس کا منہ دیکھتے ہی دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ دیئے۔ اونٹنی چکرا کر گری اور ایک آواز نکالی جس سے اس کا بچہ ہوشیار ہو گیا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑی پر چلا گیا۔ یہاں قدار نے اونٹنی کا گلا کاٹ دیا اور وہ مر گئی۔ اس کا بچہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر تین مربتہ بلبلایا۔

صفحہ نمبر2972

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس نے اللہ کے سامنے اپنی ماں کے قتل کی فریاد کی۔ پھر جس چٹان سے نکلا تھا، اسی میں سما گیا۔

یہ روایت بھی ہے کہ اسے بھی اس کی ماں کے ساتھ ہی ذبح کر دیا گیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صالح علیہ السلام کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے۔ دیکھا کہ اونٹنی بےجان پڑی ہے۔ آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمایا بس اب تین دن میں تم ہلاک کر دیئے جاؤ گے، ہوا بھی یہی۔ بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اور چونکہ کوئی عذاب نہ آیا۔ اس لیے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر لیا کہ آج شام کو صالح علیہ السلام کو بھی مار ڈالو۔ اگر واقعی ہم ہلاک ہونے والے ہی ہیں تو پھر یہ کیوں بچا رہے؟ اگر ہم پر عذاب نہیں آتا تو بھی آؤ، روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائیں۔

صفحہ نمبر2973

چنانچہ قرآن کریم کا بیان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کیا اور پھر قسمیں کھا کر اقرار کیا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہہ تیغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہمیں کیا خبر کہ کس نے مارا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے: ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھی مکر کیا اور یہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے۔ اب انجام دیکھ لو کہ کیا ہوا؟ رات کو یہ اپنی بد نیتی سے صالح علیہ السلام کے گھر کی طرف چلے۔ آپ کا گھر پہاڑ کی بلندی پر تھا۔ ابھی یہ اوپر چڑھ ہی رہے تھے جو اوپر سے ایک چٹان پتھر کی لڑھکتی ہوئی آئی اور سب کو ہی پیس ڈالا۔

ان کا تو یہ حشر ہوا۔ ادھر جمعرات کے دن تمام ثمودیوں کے چہرے زرد پڑ گئے۔ جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جیسے سرخ ہو گئے اور ہفتہ کے دن جو مہلت کا آخری دن تھا، ان کے منہ سیاہ ہو گئے۔ تین دن جب گزر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہی صبح سورج کے روشن ہوتے ہی اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کی ہولناک، دہشت انگیز چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیئے، ساتھ ہی نیچے سے زبردست زلزلہ آیا۔ ایک ہی ساعت میں ایک ساتھ ہی ان سب کا ڈھیر ہو گیا۔ مردوں سے مکانات، بازار، گلی، کوچے بھر گئے۔ مرد، عورت، بچے، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہو گئے۔ شان رب دیکھئیے کہ اس واقعہ کی خبر دنیا کو پہنچانے کے لیے ایک کافرہ عورت بچا دی گئی۔ یہ بھی بڑی خبیثہ تھی، صالح علیہ السلام کی عداوت کی آگ سے بھری ہوئی تھی، اس کی دونوں ٹانگیں نہیں تھیں لیکن ادھر عذاب آیا، ادھر اس کے پاؤں کھل گئے، اپنی بستی سے سرپٹ بھاگی اور تیز دوڑتی ہوئی دوسرے شہر میں پہنچی اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بیان کر ہی چکنے کے بعد ان سے پانی مانگا۔ ابھی پوری پیاس بھی بجھی نہ تھی کہ عذاب الٰہی آ پڑا اور وہیں ڈھیر ہو کر رہ گئی۔ ہاں ابورغال نامی ایک شخص اور بچ گیا تھا۔ یہ یہاں نہ تھا حرم کی پاک زمین میں تھا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب یہ اپنے کسی کام کی غرض سے حد حرم سے باہر آیا، اسی وقت آسمان سے پتھر آیا اور اسے بھی جہنم واصل کیا۔ ثمودیوں میں سے سوائے صالح علیہ السلام اور ان کے مومن صحابہ رضی اللہ عنہم کے اور کوئی بھی نہ بچا۔ ابورغال کا واقعہ اس سے پہلے حدیث سے بیان ہو چکا ہے۔ قبیلہ ثقیف جو طائف میں ہے، مذکور ہے کہ یہ اسی نسل میں سے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:14823/12:معضل ضعیف] ‏

عبدالرزاق میں ہے کہ اس کی قبر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب گزرے تو فرمایا: جانتے ہو یہ کس کی قبر ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ ابورغال کی قبر ہے۔ یہ ایک ثمودی شخص تھا، اپنی قوم کے عذاب کے وقت حرم میں تھا۔ اس وجہ سے عذاب الٰہی سے بچ رہا لیکن حرم شریف سے نکلا تو اسی وقت اپنی قوم کے عذاب سے یہ بھی ہلاک ہوا اور یہیں دفن کیا گیا اور اس کے ساتھ اس کی سونے کی لکڑی بھی دفنا دی گئی۔ چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس میں سے وہ لکڑی نکال لی۔

صفحہ نمبر2974

اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: ثقیف قبیلہ اسی کی اولاد ہے۔

ایک مرسل حدیث میں بھی یہ ذکر موجود ہے۔ یہ بھی ہے کہ آپ نے فرمایا تھا: اس کے ساتھ سونے کی شاخ دفن کر دی گئی ہے۔ یہی نشان اس کی قبر کا ہے، اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گی چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لی۔ [سنن ابوداود:3088، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

ابوداؤد میں بھی یہ روایت ہے اور حسن عزیز ہے لیکن میں کہتا ہوں: اس حدیث کے وصل کا صرف ایک طریقہ بجیر بن ابی بحیر کا ہے اور یہ صرف اسی حدیث کے ساتھ معروف ہے۔ اور بقول امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سوائے اسماعیل بن امیہ کے، اس سے اور کسی نے روایت نہیں کیا۔ احتمال ہے کہ کہیں اس حدیث کے مرفوع کرنے میں خطا نہ ہو۔ یہ عبداللہ بن عمرو ہی کا قول ہو اور پھر اس صورت میں یہ بھی ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے لیا ہو جو انہیں جنگ یرموک میں ملے تھے۔ میرے استاد شیخ ابوالحجاج رحمہ اللہ اس روایت کو پہلے تو حسن عزیز کہتے تھے لیکن جب میں نے ان کے سامنے یہ حجت پیش کی تو آپ نے فرمایا: بیشک ان امور کا اس میں احتمال ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2975

صالح علیہ السلام ہلاکت کے اسباب کی نشاندہی کرتے ہیں ٭٭

قوم کی ہلاکت دیکھ کر افسوس و حسرت اور آخری ڈانٹ ڈپٹ کے طور پر پیغمبر حق صالح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ نہ تمہیں رب کی رسالت نے فائدہ پہنچایا، نہ میری خیر خواہی ٹھکانے لگی۔ تم اپنی بےسمجھی سے دوست کو دشمن سمجھ بیٹھے اور آخر اس روز بد کو دعوت دے لی۔

چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب بدری کفار پر غالب آئے، وہیں تین دن تک ٹھہرے رہے۔ پھر رات کے آخری وقت اونٹنی پر زین کس کر آپ تشریف لے چلے اور جب اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں ان کافروں کی لاشیں ڈالی گئی تھیں تو آپ ٹھہر گئے اور فرمانے لگے: اے ابوجہل، اے عتبہ، اے شیبہ، اے فلاں، اے فلاں! بتاؤ رب کے وعدے تم نے درست پائے؟ میں نے تو اپنے رب کے فرمان کی صداقت اپنی آنکھوں دیکھ لی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ ان جسموں سے باتیں کر رہے ہیں جو مردار ہو گئے؟ آپ نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں جو کچھ ان سے کہہ رہا ہوں، اسے یہ تم سے زیادہ سن رہے ہیں لیکن جواب کی طاقت نہیں۔ [صحیح بخاری:3976] ‏

سیرت کی کتابوں میں ہے کہ آپ نے فرمایا: تم نے میرا خاندان ہونے کے باوجود میرے ساتھ وہ برائی کی کہ کسی خاندان نے اپنے پیغمبر کے ساتھ نہ کی۔ تم نے میرے ہم قبیلہ ہونے کے باوجود مجھے جھٹلایا اور دوسرے لوگوں نے مجھے سچا سمجھا۔ تم نے رشتہ داری کے باوجود مجھے دیس سے نکال دیا اور دوسرں نے مجھے اپنے ہاں جگہ دی۔ افسوس! تم اپنے ہو کر مجھ سے برسر جنگ رہے اور دوسروں نے میری امداد کی۔ پس تم اپنے نبی کے بدترین قبیلے ہو۔ [سیرة ابن هشام:212/2:معضل ضعیف] ‏

یہی صالح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ میں نے تو ہمدردی کی انتہا کر دی، اللہ کے پیغام کی تبلیغ میں تمہاری خیر خواہی میں کوئی کوتاہی نہیں کی لیکن آہ! نہ تم نے اس سے کوئی فائدہ اٹھایا، نہ حق کی پیروی کی، نہ اپنے خیرخواہ کی مانی۔ بلکہ اسے اپنا دشمن سمجھا۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ ہر نبی جب دیکھتا کہ اب میری امت پر عام عذاب آنے والا ہے، انہیں چھوڑ کر نکل کھڑا ہوتا اور حرم مکہ میں پناہ لیتا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2981

مسند احمد میں ہے کہ حج کے موقعہ پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی عسفان پہنچے تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ یہ کون سی وادی ہے؟ آپ نے جواب دیا: وادی عسفان۔ فرمایا: میرے سامنے سے ہود اور صالح علیہما السلام ابھی ابھی گزرے، اونٹنیوں پر سوار تھے جن کی نکیلیں کھجور کے پتوں کی تھیں۔ کمبلوں کے تہ بند بندھے ہوئے اور موٹی چادریں اوڑھے ہوئے تھے۔ لبیک پکارتے ہوئے بیت اللہ شریف کی طرف تشریف لے جا رہے تھے۔ [مسند احمد:232/1:ضعیف] ‏

یہ حدیث غریب ہے۔ صحاح ستہ میں نہیں۔

صفحہ نمبر2982

لوط علیہ السلام کی بدنصیب قوم ٭٭

فرمان ہے کہ لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر۔ لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے، ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا۔ آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا۔ نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں: اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کر لے۔ اسی لیے لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کے لئے تھیں، چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ” یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ “ [15-الحجر:71] ‏ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں۔

مفسرین فرماتے ہیں: جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے، عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔

صفحہ نمبر2983

لوط علیہ السلام کی بدنصیب قوم ٭٭

فرمان ہے کہ لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر۔ لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے، ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا۔ آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا۔ نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں: اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کر لے۔ اسی لیے لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کے لئے تھیں، چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی؟ چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ” یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ “ [15-الحجر:71] ‏ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں۔

مفسرین فرماتے ہیں: جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے، عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔

صفحہ نمبر2983

باب

قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس سے نکال دینے پر تل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بچا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کر دیا۔

ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں، بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں، دور ہیں۔ پھر ان کا ہم میں کیا کام؟ مجاہد رحمہ اللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی قول ہے۔

صفحہ نمبر2985

لوطی تباہ ہو گئے ٭٭

لوط علیہ السلام اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے۔ بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا۔ جیسے فرمان رب ہے «فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ» [51-الذاريات:35-36] ‏ یعنی ” وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے سب کو نکال دیا لیکن بجز ایک گھر والوں کے، وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ “

بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود لوط علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بد نصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی۔ اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی۔ اسی لیے لوط علیہ السلام سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آ گئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بد نصیب پر بھی آ گیا لیکن زیادہ قوی پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے لوط علیہ السلام نے عذاب کی خبر کی، نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہو گئی۔ «غابرین» کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کے کئے ہیں، وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے، وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔

لوط علیہ السلام اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا۔ وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کے لئے آسمان سے اتر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے؟

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے، پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیئے۔ کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی۔“

اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ ”اسے رجم کر دیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی شدہ ہو۔“

صفحہ نمبر2986

امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ، اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو۔ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علماء کی ایک جماعت کا قول ہے: ”یہ بھی مثل زناکاری کے ہے۔ شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔“

امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

صفحہ نمبر2987

لوطی تباہ ہو گئے ٭٭

لوط علیہ السلام اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے۔ بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا۔ جیسے فرمان رب ہے «فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ» [51-الذاريات:35-36] ‏ یعنی ” وہاں جتنے مومن تھے، ہم نے سب کو نکال دیا لیکن بجز ایک گھر والوں کے، وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ “

بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود لوط علیہ السلام کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بد نصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی۔ اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی۔ اسی لیے لوط علیہ السلام سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آ گئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی۔ وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بد نصیب پر بھی آ گیا لیکن زیادہ قوی پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے لوط علیہ السلام نے عذاب کی خبر کی، نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہو گئی۔ «غابرین» کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کے کئے ہیں، وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے، وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔

لوط علیہ السلام اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا۔ وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کے لئے آسمان سے اتر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے؟

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے، پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیئے۔ کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی۔“

اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ ”اسے رجم کر دیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی شدہ ہو۔“

صفحہ نمبر2986

امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ، اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کر دو۔ [سنن ابوداود:4462،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

علماء کی ایک جماعت کا قول ہے: ”یہ بھی مثل زناکاری کے ہے۔ شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔“

امام شافعی رحمہ اللہ کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے۔ اس کا پورا بیان سورۃ البقرہ کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔

صفحہ نمبر2987

خطیب الانبیاء شعیب علیہ اسلام ٭٭

مشہور مؤرخ امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ لوگ مدین بن ابراہیم کی نسل سے ہیں۔ شعیب علیہ السلام میکیل بن یشجر کے لڑکے تھے، ان کا نام سریانی زبان میں یژون تھا۔ یہ یاد رہے کہ قبیلے کا نام بھی مدین تھا اور اس بستی کا نام بھی یہی تھا۔ یہ شہر معان سے ہوتے ہوئے حجاز جانے والے راستے میں آتا ہے۔

آیت قرآن «وَلَمَّا وَرَدَ مَاءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ أُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُونَ» [28-القصص:23] ‏ میں شہر مدین کے کنویں کا ذکر موجود ہے۔ اس سے مراد ایکہ والے ہیں۔ جیسا کہ ان شاء اللہ بیان کریں گے۔

آپ نے بھی تمام رسولوں کی طرح انہیں توحید کی اور شرک سے بچنے کی دعوت دی اور فرمایا کہ اللہ کی طرف سے میری نبوت کی دلیلیں تمہارے سامنے آ چکی ہیں۔ خالق کا حق بتا کر پھر مخلوق کے حق کی ادائیگی کی طرف رہبری کی اور فرمایا کہ ناپ تول میں کمی کی عادت چھوڑو، لوگوں کے حقوق نہ مارو۔ کہو کچھ اور، کرو کچھ، یہ خیانت ہے۔ فرمان ہے «وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ» [83-المطففين:1-4] ‏ ” ان ناپ تول میں کمی کرنے والوں کیلئے «ویل» ہے الخ۔ اللہ اس بدخصلت سے ہر ایک کو بچائے۔ پھر شعیب علیہ السلام کا اور وعظ بیان ہوتا ہے۔ آپ کو بہ سبب فصاحت عبارت اور عمدگی وعظ کے خطیب الانبیاء کہا جاتا تھا۔ علیہ الصلٰوۃ والسلام۔

صفحہ نمبر2989

قوم شعیب کی بداعمالیاں ٭٭

فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ، ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو آنا چاہتا ہے، اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو؟ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو؟ راہ حق کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو؟ ان تمام برائیوں سے بچو۔

یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔ دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔

صفحہ نمبر2990

قوم شعیب کی بداعمالیاں ٭٭

فرماتے ہیں کہ مسافروں کے راستے میں دہشت گردی نہ پھیلاؤ، ڈاکہ نہ ڈالو اور انہیں ڈرا دھمکا کر ان کا مال زبردستی نہ چھینو۔ میرے پاس ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو آنا چاہتا ہے، اسے خوفزدہ کر کے روک دیتے ہو؟ ایمانداروں کو اللہ کی راہ پر چلنے میں روڑے اٹکاتے ہو؟ راہ حق کو ٹیڑھا کر دینا چاہتے ہو؟ ان تمام برائیوں سے بچو۔

یہ بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ ظاہر ہے کہ ہر راستے پر نہ بیٹھنے کی ہدایت تو قتل و غارت سے روک کے لیے ہو جو ان کی عادت تھی اور پھر راہ حق سے مومنوں کو نہ روکنے کی ہدایت پھر کی ہو۔ تم اللہ کے اس احسان کو یاد کرو کہ گنتی میں، قوت میں تم کچھ نہ تھے، بہت ہی کم تھے۔ اس نے اپنی مہربانی سے تمہاری تعداد بڑھا دی اور تمہیں زور آور کر دیا۔ رب کی اس نعمت کا شکریہ ادا کرو۔ عبرت کی آنکھوں سے ان کا انجام دیکھ لو جو تم سے پہلے ابھی ابھی گزرے ہیں جن کے ظلم و جبر کی وجہ سے، جن کی بد امنی اور فساد کی وجہ سے رب کے عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ وہ اللہ کی نافرمانیوں میں رسولوں کے جھٹلانے میں مشغول رہے، دلیر بن گئے جس کے بدلے اللہ کی پکڑ ان پر نازل ہوئی۔ آج ان کی ایک آنکھ جھپکتی ہوئی باقی نہیں رہی۔ نیست و نابود ہو گئے، مر مٹ گئے۔ دیکھو! میں تمہیں صاف بے لاگ ایک بات بتا دوں۔ تم میں سے ایک گروہ مجھ پر ایمان لا چکا ہے اور ایک گروہ نے میرا انکار اور بری طرح مجھ سے کفر کیا۔ اب تم خود دیکھ لو گے کہ مدد ربانی کس کا ساتھ دیتی ہے اور اللہ کی نظروں سے کون گر جاتا ہے؟ تم رب کے فیصلے کے منتظر رہو۔ وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے اچھا اور سچا فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم خود دیکھ لو کہ اللہ والے با مراد ہوں گے اور دشمنان اللہ نامراد ہوں گے۔

صفحہ نمبر2990

شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭

شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟

اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔

صفحہ نمبر2992

شعیب علیہ السلام کی قوم نے اپنی بربادی کو آواز دی ٭٭

شعیب علیہ السلام کی قوم نے آپ کی تمام نصیحتیں سن کر جو جواب دیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ ہوا یہ کہ دلیلوں سے ہار کر یہ لوگ اپنی قوت جتانے پر اتر آئے اور کہنے لگے: اب تجھے اور تیرے ساتھیوں کو ہم دو باتوں میں سے ایک کا اختیار دیتے ہیں یا تو جلا وطنی قبول کرو یا ہمارے مذہب میں آ جاؤ۔ جس پر آپ نے فرمایا کہ ہم تو دل سے تمہارے ان مشرکانہ کاموں سے بیزار ہیں۔ انہیں سخت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ پھر تمہارے اس دباؤ اور اس خواہش کے کیا معنی؟

اگر اللہ نہ کرے، ہم پھر سے تمہارے کفر میں شامل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر گناہگار کون ہو گا؟ اس کے تو صاف معنی یہ ہیں کہ ہم نے دو گھڑی پہلے محض ایک ڈھونگ رچایا تھا۔ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور بہتان باندھ کر نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ خیال فرمائیے کہ اس جواب میں اللہ کے نبی علیہ السلام نے ایمان داروں کو مرتد ہونے سے کس طرح دھمکایا ہے؟ لیکن چونکہ انسان کمزور ہے۔ نہ معلوم کس کا دل کیسا ہے اور آگے چل کر کیا ظاہر ہونے والا ہے؟ اس لیے فرمایا کہ اللہ کے ہاتھ سب کچھ ہے۔ اگر وہی کسی کے خیالات الٹ دے تو میرا زور نہیں۔ ہر چیز کے آغاز، انجام کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ ہمارا توکل اور بھروسہ اپنے تمام کاموں میں صرف اسی کی ذات پاک پر ہے۔ اے اللہ! تو ہم میں اور ہماری قوم میں فیصلہ فرما۔ ہماری مدد فرما۔ تو سب حاکموں کا حاکم ہے، سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، عادل ہے، ظالم نہیں۔

صفحہ نمبر2992

قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا ٭٭

اس قوم کی سرکشی، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔

ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ [11-هود:94] ‏

یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ” اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ۔ “ [26-الشعراء:187] ‏

واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے۔

صفحہ نمبر2994

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com