John Shaqi

Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir

Surah Al-A'raaf

Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 121–150 · Quran text →

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

صفحہ نمبر3024

جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭

اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔

پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔

صفحہ نمبر3024

فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ [20-طه:71] ‏

تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

صفحہ نمبر3030

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

صفحہ نمبر3031

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔

کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ” تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ “ [20-طه:72-75] ‏

سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔

صفحہ نمبر3032

صفحہ نمبر3033

فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ [20-طه:71] ‏

تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

صفحہ نمبر3030

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

صفحہ نمبر3031

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔

کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ” تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ “ [20-طه:72-75] ‏

سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔

صفحہ نمبر3032

صفحہ نمبر3033

فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ [20-طه:71] ‏

تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

صفحہ نمبر3030

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

صفحہ نمبر3031

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔

کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ” تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ “ [20-طه:72-75] ‏

سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔

صفحہ نمبر3032

صفحہ نمبر3033

فرعون سیخ پا ہو گیا ٭٭

جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے، پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کر لینے سے فرعون آگ بگولا ہو گیا اور اس اثر کو روکنے کے لئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا: تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے۔ تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو۔ یہ تمہارا استاد ہے، تم اس کے شاگرد ہو۔ [20-طه:71] ‏

تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ تو پہلے چلا جا، پھر ہم آ جائیں گے۔ اس طرح میدان قائم ہو۔ ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائیں گے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بےوقوف بھی اس کے اس بیان کو صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا موسیٰ علیہ السلام اپنا بچپن فرعون کے محل میں گزارتے ہیں، اس کے بعد مدین میں عمر کا ایک حصہ بسر کرتے ہیں۔ مدین سے سیدھے مصر کو پہنچ کر اپنی نبوت کا اعلان کرتے ہیں اور معجزے دکھاتے ہیں جن سے عاجز آ کر فرعون اپنے جادوگروں کو جمع کرتا ہے۔ وہ براہ راست اس کی سپاہ کے ساتھ اس کے دربار میں پیش ہوتے ہیں۔ انعام و اکرام کے لالچ سے ان کے دل بڑھائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی فتح مندی کا یقین دلاتے ہیں، فرعون انہیں اپنی رضا مندی کا یقین دلاتا ہے۔ خوب تیاریاں کر کے میدان جماتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ایک سے بھی واقف نہیں، کبھی نہ کسی کو دیکھا ہے، نہ سنا ہے، نہ ملے ہیں، نہ جانتے ہیں۔ لیکن وزیرے چنیں شہر یارے چناں۔ وہاں تو ان لوگوں کا مجمع تھا کہ فرعون نے جب کہا کہ میں رب اعلیٰ ہوں تو سب نے گردنیں جھکا کر کہا: بیشک حضور آپ خدا ہیں تو ایسے جہالت کے پلندوں سے کوئی بات منوا لینی کیا مشکل تھی؟ اس کے رعب میں آ کر ایمان لانے کا ارادہ بدلا اور سمجھ بیٹھے کہ واقعی فرعون ٹھیک کہہ رہا ہے۔

صفحہ نمبر3030

ایک قول یہ بھی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کے امیر سے فرمایا کہ اگر میں غالب آ جاؤں تو کیا تو مجھ پر ایمان لائے گا؟ اس نے کہا: آج میدان میں ہماری جانب سے جو جادو پیش کیا جائے گا، اس کا جواب ساری مخلوق کے پاس نہیں۔ تو اگر اس پر غالب آ گیا تو مجھے بیشک یقین ہو جائے گا کہ وہ جادو نہیں معجزہ ہے۔ یہ گفتگو فرعون کے کانوں تک پہنچی، اسے یہ دوہرا رہا ہے کہ تم نے ملی بھگت کر لی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6] ‏

اس طرح لوگوں کے دل حقانیت سے ہٹا کر انہیں بدظن کرنے کیلئے دوسری چال چلتا ہے اور کہتا ہے کہ تم اپنے اتفاق اور پوشیدہ جال سے جاہتے یہ ہو کہ ہماری دولت و شوکت چھین لو، ہمیں یہاں سے نکال باہر کرو۔ اس طرح اپنی قوم کے دل ان کی طرف سے پھیر کر پھر انہیں خوفزدہ کرنے کیلئے چوتھی چال چلتا ہے کہ ان نومسلموں سے کہتا ہے کہ دیکھو تو تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا کہ سو میں کتنے بیس ہوتے ہیں۔ مجھے بھی قسم ہے جو تمہارے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے اور وہ بھی الٹی طرح یعنی پہلے اگر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے تو پھر بایاں پاؤں اور اگر پہلے سیدھا پاؤں کاٹا گیا تو پھر الٹا ہاتھ۔ اسی طرح بےدست و پا کر کےکھجوروں کی شاخوں پر لٹکا دوں گا۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اس ظالم بادشاہ سے پہلے ان دونوں سزاؤں کا رواج نہ تھا۔ یہ دھمکی دے کر وہ سمجھتا تھا کہ اب یہ نرم پڑ جائیں گے لیکن وہ تو ایمان میں اور پختہ ہو گئے۔ بالاتفاق جواب دیتے ہیں کہ اچھا ڈرایا؟

صفحہ نمبر3031

یہاں سے تو واپس اللہ کے پاس جانا ہی ہے۔ اسی کے قبضہ و قدرت میں سب کچھ ہے۔ آج اگر تیری سزاؤں سے بچ گئے تو کیا اللہ کے ہاں کی سزائیں بھی معاف ہو جائیں گی؟ ہمارے نزدیک تو دنیا کی سزائیں بھگت لینا بہ نسبت آخرت کے عذاب کے بھگتنے کے بہت ہی آسان ہے۔ تو ہم سے اللہ کے نبی کا مقابلہ کرا چکا ہے لیکن اب ہم پر حق واضح ہو گیا۔ ہم اس پر ایمان لے آئے، تو تو چڑ رہا ہے۔

کہنے کو تو یہ سب کچھ کہہ گئے لیکن خیال آیا کہ کہیں ہمارا قدم پھسل نہ جائے۔ اس لیے دعا میں دل کھول دیا کہ اے اللہ! ہمیں صبر عطا فرما، ثابت قدمی دے، ہمیں اسلام پر ہی موت دے، تیرے نبی موسیٰ علیہ السلام کی اتباع کرتے ہوئے ہی دنیا سے رخصت ہوں۔ ایسا نہ ہو، اس ظالم کے رعب میں یا اس کی دھمکیوں میں آ جائیں یا سزاؤں سے ڈر جائیں یا ان کے برداشت کی تاب نہ لائیں۔ ان دعاؤں کے بعد دل بڑھ جاتے ہیں، ہمتیں دگنی ہو جاتی ہیں۔ فرعون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتے ہیں: ” تجھے جو کرنا ہے اس میں کمی نہ کر، کسر اٹھا نہ رکھ۔ جو جی میں ہے، کر گزر۔ تو دنیا ہی میں سزائیں دے سکتا ہے، ہم صبر کر لیں گے۔ کیا عجب کہ ہمارے ایمان کی وجہ سے اللہ ہماری خطائیں معاف فرمائے۔ خصوصاً ابھی کی یہ خطا کہ ہم نے جھوٹ سے سچ کا مقابلہ کیا۔ بیشک اللہ بہتر ہے اور زیادہ باقی۔ گناہگاروں کے لیے اس کے ہاں جہنم کی سزا ہے۔ جہاں نہ موت آئے، نہ کارآمد زندگی ہو۔ اور مومنوں کے لیے اس کے پاس جنتیں ہیں جہاں بڑے بلند درجے ہیں۔ “ [20-طه:72-75] ‏

سبحان اللہ! یہ لوگ دن کے ابتدائی حصے میں کافر اور جادوگر تھے اور اسی دن کے آخری حصے میں مومن بلکہ نیک شہید تھے۔

صفحہ نمبر3032

صفحہ نمبر3033

آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭

فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔

«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] ‏

اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔

بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔

صفحہ نمبر3037

الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔

پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر3038

آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭

فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔

«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] ‏

اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔

بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔

صفحہ نمبر3037

الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔

پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر3038

آخری حربہ بغاوت کا الزام ٭٭

فرعون اور فرعونیوں نے موسیٰ علیہ السلام اور مسلمانوں کے خلاف جو منصوبے سوچے گانٹھے، ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ایک دوسرے کو ان مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہے۔ کہنے لگے: یہ تو آپ کی رعایا کو بہکاتے ہیں۔ بغاوت پھیلا دیں گے، ملک میں بد امنی پیدا کریں گے۔ ان کا ضرور اور جلد کوئی انتظام کرنا چاہیئے۔ اللہ کی شان دیکھئے! یہ کیسے مصلح بنے ہوئے ہیں کہ اللہ کے رسول اور مومنوں کے فساد سے دنیا کو بچانا چاہتے ہیں حالانکہ مفسد اور بد نفس خود ہیں۔

«وَيَذَرَكَ» میں بعض تو کہتے ہیں واؤ حالیہ ہے یعنی در آنحالیکہ موسیٰ علیہ السلام اور قوم موسیٰ نے تیری پرستش چھوڑ رکھی ہے، پھر بھی تو انہیں زندہ رہنے دیتا ہے؟

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرأت میں ہے: «وَقَدْ تَرَکُوْکَ اَنْ يَّعْبُدْوْکَ وَالِھَتَکَ» [تفسیر ابن جریر الطبری:26/6] ‏

اور قول ہے کہ واؤ عاطفہ ہے یعنی تو نے انہیں چھوڑ رکھا ہے۔ جس فساد کو یہ برپا کر رہے ہیں اور تیرے معبودوں کے چھوڑنے پر اکسا رہے ہیں۔ بعض کی قرأت «اِلَاھَتَکَ» ہے یعنی تیری عبادت سے۔

بعض کا بیان ہے کہ فرعون بھی کسی کو پوجا کرتا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے وہ پوشیدہ راز میں رکھتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کا بت اس کی گردن میں ہی لٹکتا رہتا تھا جسے یہ سجدہ کرتا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بہترین گائے پر فرعون کی نگاہ پڑی جاتی تو لوگوں سے کہہ دیتا کہ اس کی پرستش کرو۔ اسی لیے سامری نے بھی بنی اسرائیل کے لیے بچھڑا نکالا۔

صفحہ نمبر3037

الغرض اپنے سرداروں کی بات سن کر فرعون جواب دیتا ہے کہ اب ان کے لیے ہم احکام جاری کریں گے کہ ان کے ہاں جو اولاد ہو، دیکھ لی جائے۔ اگر لڑکا ہو تو قتل کر دیا جائے، لڑکی ہو تو زندہ چھوڑ دی جائے۔

پہلے سرکش فرعون ان مساکین کے ساتھ یہی کر چکا تھا جبکہ اسے یہ منظور تھا کہ موسیٰ علیہ السلام پیدا ہی نہ ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا ارادہ غالب آیا اور موسیٰ علیہ السلام باوجود اس کے حکم کے زندہ و سالم بچے رہے۔ اب دوبارہ اس نے یہی قانون جاری کیا تاکہ بنی اسرائیل کی جمعیت ٹوٹ جائے، یہ کمزور پڑ جائیں اور بالاخر ان کا نام مٹ جائے لیکن قدرت نے اس کا بھی خلاف کر دکھایا، اس کو اور اس کی قوم کو غارت کر دیا اور بنی اسرائیل کو اوج و ترقی پر پہنچا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس تکبر کے مقابلے میں تحمل اور اس کے ظلم کے مقابلے میں صبر سے کام لیا۔ اپنی قوم کو سمجھایا اور بتایا کہ اللہ فرما چکا ہے کہ انجام کے لحاظ سے تم ہی اچھے رہو گے۔ تم اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو۔ قوم والوں نے کہا: اے اللہ کے نبی علیہ السلام! آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم اسی طرح ستائے جاتے رہے، اسی ذلت و اہانت میں مبتلا رہے اور اب پھر یہی نوبت آئی ہے۔ آپ نے مزید تسلی دی اور فرمایا کہ گھبراؤ نہیں۔ یقین مانو کہ تمہارا بدخواہ ہلاک ہو گا اور تم کو اللہ تعالیٰ اوج پر پہنچائے گا۔ اس وقت وہ دیکھے گا کہ کون کتنا شکر بجا لاتا ہے؟ تکلیف کا ہٹ جانا، راحت کامل جانا انسان کو نہال نہال کر دیتا ہے۔ یہ پورے شکریئے کا وقت ہوتا ہے۔

صفحہ نمبر3038

اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔

غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔

صفحہ نمبر3041

اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔

غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔

صفحہ نمبر3041

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» [5-المائدة:96] ‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏

جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» [6-الأنعام:38] ‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏

امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ [میزان:1808:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

صفحہ نمبر3045

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔

اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔

یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

صفحہ نمبر3046

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔

پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

صفحہ نمبر3047

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔

پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔

صفحہ نمبر3048

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» [5-المائدة:96] ‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏

جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» [6-الأنعام:38] ‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏

امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ [میزان:1808:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

صفحہ نمبر3045

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔

اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔

یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

صفحہ نمبر3046

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔

پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

صفحہ نمبر3047

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔

پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔

صفحہ نمبر3048

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» [5-المائدة:96] ‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏

جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» [6-الأنعام:38] ‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏

امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ [میزان:1808:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

صفحہ نمبر3045

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔

اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔

یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

صفحہ نمبر3046

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔

پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

صفحہ نمبر3047

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔

پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔

صفحہ نمبر3048

سیاہ دل لوگ اقرار کے بعد انکار کرتے رہے ٭٭

ان کی سرکشی اور ضد دیکھئیے کہ موسیٰ علیہ السلام سے صاف کہتے ہیں کہ آپ خواہ کتنی ہی دلیلیں پیش کریں، کیسے ہی معجزے بتائیں، ہم ایمان لانے والے نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ سب آپ کے جادو کے کرشمے ہیں۔ ان پر طوفان آیا، بکثرت بارشیں برسیں جس سے پھل اور اناج تباہ ہو گئے اور اسی سے وبا اور طاعون کی بیماری پھیل پڑی۔ اسی لیے بعض مفسرین نے کہا ہے: ”طوفان سے مراد موت ہے۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:15005] ‏

بعض کہتے ہیں: کوئی زبردست آسمانی آفت آئی تھی جس نے انہیں گھیر لیا تھا۔ ٹڈیوں کی مصیبت ان پر آئی۔ یہ ایک حلال جانور ہے۔ سیدنا عبداللہ بن ابی اونی رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: سات غزوے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئے ہیں۔ ہر ایک میں ہم تو ٹڈیاں کھاتے رہے۔ [صحیح بخاری:5495] ‏

مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دو مردے اور دو خون ہمارے لیے حلال ہیں، مچھلی اور ٹڈی اور کلیجی اور تلی۔ [سنن ابن ماجه:3314،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

ابوداؤد میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ٹڈی کی نسبت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: اللہ کے لشکر بہت سے ہیں جنہیں نہ میں کھاتا ہوں، نہ حرام کہتا ہوں۔ [سنن ابوداود:3813،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جی نہ چاہنے کی وجہ سے اسے چھوڑ دیا جیسے گوہ آپ نے نہیں کھایا حالانکہ دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے ایک مستقل رسالہ اسی میں تصنیف فرمایا ہے۔ اس میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹڈی نہیں کھاتے تھے اور نہ گردے کھاتے تھے اور نہ گوہ۔

صفحہ نمبر3043

لیکن انہیں آپ نے حرام نہیں کیا۔ ٹڈی اس وجہ سے کہ وہ عذاب ہے، گردے اس وجہ سے کہ یہ پیشاب کے قریب ہیں اور گوہ اس وجہ سے کہ آپ کو خوف تھا کہ کہیں یہ مسخ شدہ امت نہ ہو۔ [ضعیف الجامع الصغیر:3392] ‏ پھر یہ روایت بھی غریب ہے، صرف یہی ایک سند ہے۔

امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ٹڈی کو بڑی رغبت سے کھایا کرتے، تلاش کر کے منگوایا کرتے۔ چنانچہ کسی نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ ٹڈی کھائی جائے؟ آپ نے فرمایا کہ کاش کہ ایک دو لپیں مل جاتیں تو کیسے مزے سے کھاتے۔ [موطا:30:صحیح] ‏

ابن ماجہ میں ہے کہ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن تو طباقوں میں لگا کر ٹڈیاں ہدیے اور تحفے کے طور پر بھیجتی تھیں۔ [سنن ابن ماجه:3220، قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

امام بغوی ایک روایت لائے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مریم بنت عمران علیہا السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ ایسا گوشت مجھے کھلا جس میں خون نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ٹڈی کھلائی آپ نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اسے بغیر دودھ پینے کے زندگی دے اور اس کی اولاد کو بغیر آواز نکالے اس کے پیچھے لگا دے۔ [بیہقی فی السنن الکبری:258/9:ضعیف] ‏

ایک بہت ہی غریب حدیث میں ہے: ٹڈیوں کو مارو نہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا لشکر ہے۔ [طبرانی کبیر:297/22:حسن] ‏

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ٹڈیاں ان کے دروازوں کی کیلیں کھا جاتی تھیں اور لکڑی چھوڑ دیتی تھیں۔“

اوزاعی کہتے ہیں: ”میں ایک دن جنگل میں تھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ٹڈیاں بہت سی آسمان کی طرف ہیں اور ان میں سے ایک ٹڈی پر ایک شخص سوار ہے جو ہتھیار بند ہے جو جس طرف اشارہ کرتا ہے، ساری ٹڈیاں اس طرف کو جھک جاتی ہیں اور وہ زبان سے برابر کہہ رہا ہے کہ دنیا باطل ہے اور اس میں جو ہے وہ بھی باطل ہے۔“

صفحہ نمبر3044

شریح قاضی فرماتے ہیں: ”اس جانور میں سات مختلف جانوروں کی شان ہے: اس کا سر گھوڑے جیسا ہے، گردن بیل جیسی ہے، سینہ شیر جیسا ہے، پر گدھ جیسے ہیں، پیر اونٹ جیسے ہیں، دم سانپ کی طرح کی ہے، پیٹ بچھو جیسا ہے۔“

آیت «أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ» [5-المائدة:96] ‏ کی تفسیر میں یہ روایت گزر چکی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج یا عمرے میں جا رہے تھے تو سامنے سے ہمیں ٹڈی دل ملا۔ ہم نے احرام کی حالت میں انہیں لکڑیوں سے مارنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنے پر آپ نے فرمایا: دریائی شکار میں محرم کو کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابن ماجه:3222،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ان ٹڈیوں کے لئے بد دعا کرتے تو فرماتے: اے اللہ! جتنی ان میں سے بڑی ہیں تو انہیں سب کو ہلاک کر ڈال اور جتنی چھوٹی ہیں، سب کو قتل کر ڈال۔ ان کے انڈے خراب کر دے، ان کی نسل کاٹ دے۔ ان کے منہ ہماری روزی سے روک لے۔ ہمیں روزیاں عطا فرما۔ بیشک تو دعاؤں کا سننے والا ہے۔ اس پر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کے ایک لشکر کے غارت و برباد ہو جانے کی آپ دعا کرتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو سمندر کے اندر کی مچھلیوں کا ناک جھاڑنا ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے اسے مچھلی میں سے اسی طرح نکلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابن ماجه:3221،قال الشيخ الألباني:موضوع و باطل] ‏

جب مچھلی سمندر کے کنارے انڈے دے جاتی ہے، وہاں سے جب پانی ہٹ جاتا ہے اور دھوپ پڑنے لگتی ہے تو وہ انڈے سب کے سب پھوٹ جاتے ہیں اور ان میں سے ٹڈیاں نکلتی ہیں جو پرواز کر جاتی ہیں۔ آیت قرآن «إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم» [6-الأنعام:38] ‏ کی تفسیر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہم نے بیان کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہزار امتیں پیدا کی ہیں جن میں سے چھ سو تری میں ہیں اور جار سو خشکی میں۔ سب سے پہلے ہلاکت ٹڈیوں کی ہو گی۔ [سلسلة احادیث ضعیفہ البانی:4811] ‏

امام ابوبکر بن ابوداؤد ایک حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لکڑی تلوار کے مقابلے پر کچھ نہیں اور درخت کی چھال ٹڈی کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ [میزان:1808:ضعیف] ‏ یہ حدیث غریب ہے۔

صفحہ نمبر3045

«قُمَّل» کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ وہ سیاہ رنگ کے چھوٹے چھوٹے جانور ہیں جو گیہوں میں سے نکلتے ہیں۔

اور قول ہے کہ یہ بھی ایک قسم کی بےپر ٹڈیاں ہیں۔ سعید کہتے ہیں: سیاہ رنگ کے چھوٹے سے کیڑے ہیں۔ اس کا واحد «قملہ» ہے۔

یہ جانور جب اونٹ کو چمٹ جاتے ہیں تو اسے ہلاک کر دیتے ہیں۔ الغرض ایسے ہی موذی جانور بصورت عذاب فرعونیوں کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فرعون کی سرکشی اور انکار پر طوفان آیا جس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ کا عذاب ہے۔ گڑگڑا کر موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے، یہ موسلا دھار پانی رک جائے تو ہم آپ پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ کر دیں گے۔ آپ نے دعا کی، طوفان ہٹ گیا تو یہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ پھر اللہ کی شان ہے کہ کھیتیاں اور باغات اس قدر پھلے کہ اس سے پہلے کبھی ایسے نہیں پھلے تھے۔ جب تیار ہو گئے تو ٹڈیوں کا عذاب آیا، اسے دیکھ کر پھر گھبرائے اور موسیٰ علیہ السلام سے عرض کرنے لگے کہ اللہ سے دعا کیجئے کہ یہ عذاب ہٹا لے، اب ہم پختہ وعدہ کرتے ہیں۔ چنانچہ آپ کی دعا سے یہ عذاب بھی ہٹ گیا لیکن انہوں نے پھر وعدہ شکنی کی۔ فصلیں کاٹ لائے، کھلیان اٹھا لیے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب پھر اور شکل میں آیا۔ تمام اناج وغیرہ میں کیڑا لگ گیا، اس قدر بکثرت یہ جانور پھیل گئے کہ دس پیمانے لے کر کوئی شخص پسوانے نکلتا تو پسوانے تک یہ جانور سات پیمانے کھا لیتے۔ گھبرا کر موسیٰ علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے، پھر وعدے کئے۔ آپ نے پھر دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آفت کو بھی ہٹا لیا۔ لیکن انہوں نے پھر بےایمانی کی۔ نہ بنی اسرائیل کو رہا کیا، نہ ایمان قبول کیا۔

صفحہ نمبر3046

اس پر مینڈکوں کا عذاب آیا۔ دربار میں فرعون بیٹھا ہوا ہے تو وہیں مینڈک ظاہر ہو کر ٹرانے لگا۔ سمجھ گئے کہ یہ نئی شکل کا عذاب الٰہی ہے۔ اب یہ پھیلنے اور بڑھنے شروع ہوئے، یہاں تک کہ آدمی بیٹھتا تو اس کی گردن تک آس پاس سے اسے مینڈک گھیر لیتے۔ جہاں بات کرنے کے لئے کوئی منہ کھولتا کہ مینڈک تڑپ کر اس کے منہ میں گھس جاتا۔

پھر تنگ آ کر موسیٰ علیہ السلام سے اس عذاب کے ہٹنے کی درخواست کی اور اقرار کیا کہ ہم خود ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آزاد کر دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے اس مصیبت کو بھی دفع کر دیا لیکن پھر مکر گئے۔ چنانچہ ان پر خون کا عذاب آیا۔ تمام برتنوں میں خون، کھانے پینے کی چیزوں میں خون، کنویں میں سے پانی نکالیں تو خون، تالاب سے پانی لائیں تو خون۔ پھر تڑپ اٹھے، فرعون نے کہا: یہ بھی جادو ہے۔ لیکن جب تنگ آ گئے تو آخر موسیٰ علیہ السلام سے مع وعدہ درخواست کی کہ ہم تو پانی سے ترس گئے۔ چنانچہ آپ نے قول و قرار لے کر پھر دعا کی اور الل تعالیٰ نے اس عذاب کو بھی ہٹا لیا لیکن یہ پھر منکر ہو گئے۔

صفحہ نمبر3047

فرعون جب میدان سے ناکام واپس لوٹا تھا، اس نے ٹھان لی تھی کہ خواہ کچھ بھی ہو، میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ طوفان کی وجہ سے بھوکوں مرنے لگے پھر ٹڈیوں کا عذاب آیا تو درخت تو کیا گھر کی چوکھٹیں اور دروازوں تک وہ کھا گئیں، مکانات گرنے لگے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ایک پتھر پر لکڑی ماری جس میں سے بےشمار چچڑیاں نکل پڑیں اور پھیل گئیں۔ کھانا، پینا، سونا، بیٹھنا سب بند ہو گیا۔

پھر مینڈکوں کا عذاب آیا جہاں دیکھو، مینڈک نظر آنے لگے۔ پھر خون کا عذاب آیا۔ نہریں، تالاب، کنویں، مٹکے، گھڑے وغیرہ غرض بجائے پانی کے خون ہی خون سب چیزیں ہو گئیں۔ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں: مینڈک کو نہ مارو۔ یہ جب بصورت عذاب فرعونیوں کے پاس آئے تو ایک نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے تنور میں چھلانگ ماری۔ اللہ نے اس کے بدلے انہیں پانی کی ٹھنڈک عطا فرمائی اور ان کی آواز کو اپنی تسبیح بنایا۔ یہ بھی مروی ہے کہ خون سے مراد نکسیر پھوٹنا ہے۔ الغرض ہر عذاب کو دیکھ کر اقرار کرتے لیکن جب موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ ہٹ جاتا تو پھر انکار کر جاتے۔

صفحہ نمبر3048

انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔

بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔

صفحہ نمبر3052

انجام سرکشی ٭٭

جب یہ لوگ اپنی سرکشی اور خود پسندی میں اتنے بڑھ گئے کہ باری تعالیٰ کی بار بار کی نشانیاں دیکھتے ہوئے بھی ایمان لانے سے برابر انکار کرتے رہے تو قدرت نے اپنے زبردست انتقام میں انہیں پھانس لیا اور سب کو دریا برد کر دیا۔

بنی اسرائیل بحکم الٰہی ہجرت کر کے چلے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا ان کے لیے خشک ہو گیا۔ پھر فرعون اور اس کے ساتھی اس میں اترے تو دریا میں پھر روانی آ گئی اور پانی کا ریلہ آیا اور وہ سب ڈوب گئے۔ یہ تھا انجام اللہ کی باتوں کو جھوٹ سمجھنے اور ان سے غافل رہنے کا۔ پھر پروردگار نے بنو اسرائیل جیسے کمزور، ناتواں لوگوں کو اس زمین کا وارث بنا دیا۔ مشرق و مغرب ان کے قبضے میں آ گیا۔ جیسے فرمان ہے کہ ہم نے ان بے بسوں پر احسان کرنا چاہا اور انہیں امام اور وارث بنانا چاہا۔ انہیں حکومت سونپ دی اور فرعون و ہامان اور ان کے لشکریوں کو وہ نتیجہ دکھایا جس سے وہ بھاگ رہے تھے۔ اور آیتوں میں ہے کہ فرعونیوں سے ہرے بھرے باغات، چشمے، کھیتیاں، عمدہ مقامات، فراواں نعمتیں چھڑوا کر ہم نے دوسری قوم کے سپرد کر دیں۔ سرزمین شام برکت والی ہے۔ یہ ہماری قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ بنی اسرائیل کا صبر نیک نتیجہ لایا، فرعون اور اس کی قوم کی بنی بنائی چیزیں غارت ہوئیں۔

صفحہ نمبر3052

شوق بت پرستی ٭٭

اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6] ‏

یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065] ‏ (‏ابن جریر)

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ [سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3054

شوق بت پرستی ٭٭

اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6] ‏

یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065] ‏ (‏ابن جریر)

مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ [سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3054

ماضی کی یاد دہانی ٭٭

انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟

فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر3056

ماضی کی یاد دہانی ٭٭

انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟

فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔

صفحہ نمبر3056

احسانات پہ احسانات ٭٭

اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا وہ احسان یاد دلاتا ہے جس کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام کو شرف ہم کلامی حاصل ہوا اور تورات ملی جو ان سب کے لیے باعث ہدایت و نور تھی جس میں ان کی شریعت کی تفصیل تھی اور اللہ کے تمام احکام موجود تھے۔

تیس راتوں کا وعدہ ہوا، آپ نے یہ دن روزوں سے گذارے۔ وقت پورا کر کے ایک درخت کی چھال کو چبا کر مسواک کی۔ حکم ہوا کہ دس اور پورے کر کے پورے چالیس کرو۔ کہتے ہیں کہ ایک مہینہ تو ذوالقعدہ کا تھا اور دس دن ذوالحجہ کے۔ تو عید والے دن وہ وعدہ پورا ہوا اور اسی دن اللہ کے کلام سے آپ کو شرف ملا۔ اسی دن دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم بھی کامل ہوا ہے۔

جیسے اللہ کا فرمان ہے «الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا» [5-المائدة:3] ‏ وعدہ پورا کرنے کے بعد موسیٰ علیہ السلام نے طور کا قصد کیا۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ ا” ے گروہ بنی اسرائیل! ہم نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور طور ایمن کا وعدہ کیا الخ۔ “ [20-طه:80] ‏

آپ نے جاتے ہوئے اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بنایا اور انہیں اصلاح کی اور فساد سے بچنے کی ہدایت کی۔ یہ صرف بطور وعظ کے تھا ورنہ خود ہارون علیہ السلام بھی اللہ کے شریف و کریم اور ذی عزت پیغمبر تھے۔ «صلوات اللہ علیھم اجمعین»

صفحہ نمبر3058

طلب زیارت اور موت ٭٭

وعدے کے مطابق موسیٰ علیہ السلام طور پہاڑ پر پہنچے، اللہ کا کلام سنا تو دیدار کی آرزو کی، جواب ملا کہ یہ تیرے لیے نا ممکن ہے۔ اس سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے کہ دنیا اور آخرت میں اللہ کا دیدار نہ ہو گا کیونکہ «لن» ابدی نفی کے لیے آتا ہے لیکن یہ قول بالکل ہی بودا ہے کیونکہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مومنوں کو قیامت کے دن اللہ کا دیدار ہو گا۔ وہ حدیثیں آیت «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» [75-القيامة:22-23] ‏ اور آیت «كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ» [83-المطففين:15] ‏ کی تفسیر میں آئیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔

ایک قول اس آیت کی تفسیر میں یہ ہے کہ یہ نفی ابدی ہے لیکن دنیاوی زندگی کے لیے نہ کہ آخرت کے لیے۔ کیونکہ آخرت میں دیدار باری تعالیٰ مومنوں کو قطعاً ہو گا جیسے کہ آیات و احادیث سے ثابت ہے۔ اس طرح کوئی معارضہ بھی باقی نہیں رہتا۔ یہ آیت مثل «لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ» [6-الأنعام:103] ‏ کے ہے جس کی تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے۔

اگلی کتابوں میں ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اس درخواست پر ان سے کہا گیا تھا کہ اے موسیٰ! مجھے جو زندہ شخص دیکھ لے، وہ مر جائے۔ میرے دیدار کی تاب کوئی زندہ لا نہیں سکتا۔ خشک چیزیں بھی میری تجلی سے تھرا اٹھتی ہیں۔ چنانچہ پہاڑ کا حال خود کلیم اللہ علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور خود بھی بےہوش ہو گئے۔ امام ابو جعفر طبری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب اس کے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی، اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا تو وہ چکنا چور ہو گیا۔ راوی حدیث ابواسماعیل نے اپنے شاگردوں کو اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15096] ‏ لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام واضح نہیں کیا گیا۔

ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے انگوٹھے کو اپنی چھنگلیا کی اوپر کی پور پر رکھ کر بتایا کہ اتنے سے جمال سے پہاڑ زمین کے ساتھ ہموار ہو گیا۔

صفحہ نمبر3059

مسند کی روایت میں ہے کہ حمید نے اپنے استاد سے کہا: اس سے آپ کی کیا مراد ہے؟ تو استاد نے ان کے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور امام صاحب رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح غریب فرمایا ہے۔ [سنن ترمذي:3074، قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

مستدرک میں اسے وارد کر کے کہا ہے کہ یہ شرط مسلم پر ہے اور صحیح ہے۔ خلال کہتے ہیں: ”اس کی سند صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں۔“

ابن مردویہ میں بھی مرفوعاً مروی ہے لیکن اس کی بھی سند صحیح نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”صرف بقدر چھنگلی کے تجلی ہوئی تھی جس سے وہ مٹی کی طرح چور چور ہو گیا اور کلیم اللہ علیہ السلام بھی بےہوش ہو گئے۔“ کہتے ہیں: ”وہ پہاڑ دھنس گیا، سمندر میں چلا گیا اور موسیٰ علیہ السلام بےہوش ہو کر گر پڑے۔“

بعض بزرگ فرماتے ہیں: ”وہ پہاڑ اب قیامت تک ظاہر نہ ہو گا بلکہ زمین میں اترتا چلا جاتا ہے۔“

ایک حدیث میں ہے: اس تجلی سے چھ پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ گئے۔ جن میں سے تین مکے میں ہیں اور تین مدینے میں۔ احد، ورقان اور رضوی مدینے میں۔ حرا، ثبیر اور ثور مکے میں۔ [الخطیب:441/10:موضوع] ‏ لیکن یہ حدیث غریب ہے بلکہ منکر ہے۔

کہتے ہیں کہ طور پر تجلی کے ظہور سے پہلے پہاڑ بالکل صاف تھے، اس کے بعد ان میں غار اور کھڈ اور شاخیں قائم ہو گئیں۔ جناب کلیم اللہ علیہ السلام کی آرزو کے جواب میں انکار ہوا اور پھر مزید تشفی کے لیے فرمایا گیا کہ میری ادنیٰ سی تجلی کی برداشت تجھ سے تو کیا، بہت زیادہ قوی مخلوق میں بھی نہیں۔ دیکھ پہاڑ کی جانب! خیال رکھ۔ پھر اس پر اپنی تجلی ڈالی جس سے پہاڑ جھک گیا اور موسیٰ بےہوش ہو گئے۔ صرف اللہ کی نظر نے پہاڑ کو ریزہ ریزہ کر دیا اور وہ بالکل مٹی ہو کر ریت کا میدان ہو گیا۔

صفحہ نمبر3060

بعض قرأتوں میں اسی طرح ہے اور ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی ہے: موسیٰ علیہ السلام کو غشی آ گئی، یہ ٹھیک نہیں کہ موت آ گئی۔ گو لغۃً یہ بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے «فَصَعِقَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ» [39-الزمر:68] ‏ میں موت کے معنی ہیں۔ لیکن وہاں قرینہ موجود ہے جو اس لفظ سے اسی معنی کے ہونے کی تائید کرتا ہے اور یہاں کا قرینہ بےہوشی کی تائید کرتا ہے۔ کیونکہ آگے فرمان ہے «فَلَمَّا أَفَاقَ» ظاہر ہے کہ افاقہ بیہوشی سے ہوتا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام ہوش میں آتے ہی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور تعظیم و جلال بیان فرمانے لگے کہ واقعی وہ ایسا ہی ہے کہ کوئی زندہ اس کے جمال کی تاب نہیں لا سکتا۔ پھر اپنے سوال سے توبہ کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سب بنی اسرائیل سے پہلے میں ایمان لانے والا بنتا ہوں۔ میں اس پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں کہ واقعی کوئی زندہ آنکھ تجھے دیکھ نہیں سکتی۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ سے پہلے کوئی مومن ہی نہ تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کا دیدار زندوں کے لیے نا ممکن ہے۔ اس فرمان کو سنتے ہی سب سے پہلے ماننے والا میں ہوں کہ واقعی مخلوق میں سے کوئی قیامت تک اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ ابن جریر میں اس آیت کی تفسیر میں محمد بن اسحاق بن یسار کی روایت سے ایک عجیب و غریب مطول اثر نقل کیا گیا ہے۔ عجب نہیں کہ یہ اسرائیلی روایتوں میں سے ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صحیح بخاری شریف میں ہے کہ ایک یہودی کو کسی نے ایک تھپڑ مارا تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لایا کہ آپ کے فلاں انصاری نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ آپ نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا۔ اس نے کہا: سچ ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ یہ کہہ رہا تھا، اس اللہ کی قسم ہے جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہاں پر فضیلت دی تو میں نے کہا: کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی؟ اور غصے میں آ کر میں نے اسے تھپڑ مار دیا۔ آپ نے فرمایا: سنو! نبیوں کے درمیان تم مجھے فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت میں سب بےہوش ہوں گے۔ سب سے پہلے مجھے ہوش آئے گا تو میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ تھامے ہوئے ہیں۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ انہیں مجھ سے پہلے افاقہ ہوا؟

صفحہ نمبر3061

یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش ہی نہیں ہوئے؟ [صحیح بخاری:4638] ‏

یہ حدیث بخاری شریف میں کئی جگہ ہے اور مسلم شریف میں بھی ہے اور ابوداؤد میں بھی ہے۔ بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا جھگڑا ہو گیا۔ اس پر مسلمان نے کہا: اس کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہان پر فضیلت دی اور یہودی نے کہا: اس کی قسم جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام جہان پر فضیلت دی۔ اس پر مسلمان نے اسے تھپڑ مارا۔ اس روایت میں ہے کہ شاید موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ہوں جن کا اللہ تعالیٰ نے بےہوشی سے استثنا کر لیا۔ [صحیح بخاری:3408] ‏

حافظ ابوبکر ابن ابی الدنیا رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ یہ تھپڑ مارنے والے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ لیکن بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ یہ کوئی انصاری رضی اللہ عنہ تھے۔ یہی زیادہ صحیح اور زیادہ صریح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

اس حدیث میں یہ فرمان کہ تم نبیوں کے درمیان مجھے فضیلت نہ دو ایسا ہی ہے جیسے اور حدیث میں بھی فرمان ہے کہ نبیوں میں مجھے فضیلت نہ دو۔ نہ یونس بن متی علیہ السلام پر فضیلت دو۔ [صحیح بخاری:3412-3414] ‏

یہ فرمان بطور تواضع کے ہے یا یہ فرمان اس سے پہلے ہے کہ آپ کو اپنی فضیلت کا علم اللہ کی طرف سے ہوا ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ غصے میں آ کر یا تعصب کی بنا پر مجھے فضیلت نہ دو یا یہ کہ صرف اپنی رائے سے میری فضیلت قائم نہ کرو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3062

لوگ قیامت کے دن بےہوش ہوں گے۔ یہ بےہوشی میدان قیامت کی بعض ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

بہت ممکن ہے، یہ اس وقت کا حال ہو جب مالک الملک تبارک و تعالیٰ لوگوں کے درمیان حق فیصلے کرنے کے لئے تشریف لائے گا تو اس کی تجلی سے لوگ بےہوش ہو جائیں گے۔ جیسے موسیٰ علیہ السلام اللہ کے جمال کی برداشت کو طور پہاڑ پر نہ لا سکے۔ اسی لیے آپ کا فرمان ہے کہ نہ معلوم مجھ سے پہلے انہیں افاقہ ہوا یا طور کی بےہوشی کے بدلے یہاں بےہوش نہ ہوئے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ اپنی کتاب الشفاء کے شروع میں لکھتے ہیں کہ دیدار الٰہی کی اس تجلی کی وجہ سے موسیٰ علیہ السلام اس چیونٹی کو بھی دیکھ لیا کرتے تھے جو دس فرسخ دور رات کے اندھیرے میں کسی پتھر پر چل رہی ہو۔ [الدر المنشور للسیوطی:222/3:ضعیف] ‏

اور بہت ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے جن کا ہم نے ذکر کیا، معراج کے واقعہ کے بعد مخصوص ہوئے ہوں اور آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا قاضی صاحب کے نزدیک یہ روایت صحیح ہے حالانکہ اس کی سند غور طلب ہے۔ اس میں مجہول راوی ہیں اور ایسی باتیں جب تک ثقہ راویوں کے سلسلے سے نہ ثابت ہوں، قابل قبول نہیں ہوتیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3063

انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔

اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3064

انبیاء کی فضیلت پر ایک تبصرہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری فرماتا ہے کہ دوہری نعمت آپ کو عطا ہوئی یعنی رسالت اور ہم کلامی۔ مگر چونکہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام اول و آخر نبیوں کے سردار ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسالت ختم کرنے والا آپ کو بنایا کہ قیامت تک آپ ہی کی شریعت جاری رہے گی اور تمام انبیاء اور رسولوں سے آپ کے تابعدار تعداد میں زیادہ ہوں گے۔ فضیلت کے اعتبار سے آپ کے بعد سب سے افضل ابراہیم علیہ السلام ہیں جو خلیل اللہ تھے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ہیں جو کلیم اللہ تھے۔

اے موسیٰ! جو مناجات اور کلام تجھے میں نے دیا ہے، وہ لے لے اور مضبوطی سے اس پر استقامت رکھ اور اس پر جتنا تجھ سے ہو سکے، شکر بجا لایا کر۔ کہا گیا ہے کہ تورات کی تختیاں جواہر کی تھیں اور ان میں اللہ تعالیٰ نے تمام احکام حلال حرام کے تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے تھے۔ ان ہی تختیوں میں تورات تھی جس کے متعلق فرمان ہے کہ اگلے لوگوں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے کتاب عطا فرمائی۔ یہ بھی مروی ہے کہ تورات سے پہلے یہ تختیاں ملی تھیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

الغرض دیدار الٰہی جس کی تمنا آپ نے کی تھی، اس کے عوض یہ چیز آپ کو ملی۔ کہا گیا: اسے ماننے کے ارادے سے لے لو اور اپنی قوم کو ان اچھائیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کرو۔ آپ کو زیادہ تاکید ہوئی اور قوم کو ان سے کم۔ تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری حکم عدولی کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ جیسے کوئی کسی کو دھمکاتے ہوئے کہے کہ تم میری مخالفت کا انجام بھی دیکھ لو گے۔ یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں شام کے بدکاروں کے گھروں کا مالک بنا دوں گا۔ یا مراد اس سے فرعونیوں کا ترکہ ہو۔ لیکن پہلی بات ہی زیادہ ٹھیک معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ فرمان تیہ کے میدان سے پہلے اور فرعون سے نجات پا لینے کے بعد کا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر3064

تکبر کا پھل محرومی ٭٭

تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔

علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔

صفحہ نمبر3066

تکبر کا پھل محرومی ٭٭

تکبر کا نتیجہ ہمیشہ جہالت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو حق سمجھنے، اسے قبول کرنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ان کے دل الٹ جاتے ہیں، آنکھ کان بےکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی کجی ان کے دلوں کو بھی کج کر دیتی ہے۔

علماء کا مقولہ ہے کہ متکبر اور پوچھنے سے جی چرانے والا کبھی عالم نہیں ہو سکتا۔ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو دوسرے کے سامنے نہ جھکائے، وہ عمر بھر ذلت و رسوائی میں رہتا ہے۔ متکبر لوگوں کو قرآن کی سمجھ کہاں؟ وہ تو رب کی آیتوں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ اس امت کے لوگ ہوں یا دوسری امتوں کے، سب کے ساتھ اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ تکبر کی وجہ سے حق کی پیروی نصیب نہیں ہوتی۔ چونکہ یہ لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بڑے بڑے معجزے بھی دیکھ لیں، انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ گو نجات کے راستے ان پر کھل جائیں لیکن اس راہ پر چلنا ان کے لیے دشوار ہے۔ ہاں بری راہ سامنے آتے ہی یہ بےطرح اس پر لپکتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں جھٹلانا ہے اور اپنے اعمال کے نتیجوں سے بےخبر ہیں۔ جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں، آخرت کا یقین نہ رکھیں، اسی عقیدے پر مریں، ان کے اعمال اکارت ہیں۔ ہم کسی پر ظلم نہیں کرتے، بدلہ صرف کئے ہوئے اعمال کا ہی ملتا ہے۔ بھلے کا بھلا اور برے کا برا، جیسا کرو گے، ویسا بھرو گے۔

صفحہ نمبر3066

بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہو گیا اور چونکہ کھوکھلا تھا، اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کر دی، بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ علیہ السلام کو اس فتنے کی خبر دی۔

یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ”ت“ سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔

صفحہ نمبر3068

بنی اسرائیل کا بچھڑے کو پوجنا ٭٭

موسیٰ علیہ السلام تو اللہ کے وعدے کے مطابق تورات لینے گئے، ادھر فرعونیوں کے جو زیور بنی اسرائیل کے پاس رہ گئے تھے، سامری نے انہیں جمع کیا اور اپنے پاس سے اس میں خاک کی مٹھی ڈال دی جو جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کی ٹاپ تلے سے اس نے اٹھالی تھی۔ اللہ کی قدرت سے وہ سونا گل کر مثل ایک گائے کے جسم کے ہو گیا اور چونکہ کھوکھلا تھا، اس میں سے آواز بھی آنے لگی اور وہ بالکل ہو بہو گائے کی سی آواز تھی۔ اس نے بنی اسرائیل کو بہکا کر اس کی عبادت کرانی شروع کر دی، بہت سے لوگ اسے پوجنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے طور پر موسیٰ علیہ السلام کو اس فتنے کی خبر دی۔

یہ بچھڑا یا تو سچ مچ خون گوشت کا بن گیا تھا یا سونے کا ہی تھا مگر شکل گائے کی تھی، یہ اللہ ہی جانے۔ بنی اسرائیل تو آواز سنتے ہی ناچنے لگے اور اس پر ریجھ گئے۔ سامری نے کہہ دیا کہ اللہ تو یہی ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گئے ہیں۔ انہیں اتنی بھی تمیز نہ آئی کہ وہ اللہ تو کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا اور کسی نفع نقصان کا اختیار بھی نہیں رکھتا۔ اس بچھڑے کو اس اللہ کو چھوڑ کر پوجو جو سب کا مالک اور سب کا خالق ہے۔ اس کی وجہ سوائے اندھے پن اور بےعقلی کے اور کیا ہو سکتی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا: کسی چیز کی محبت انسان کو اندھا، بہرا کر دیتی ہے۔ [مسند احمد:194/5:ضعیف] ‏

پھر جب اس محبت میں کمی آئی، آنکھیں کھلیں تو اپنے اس فعل پر نادم ہونے لگے اور یقین کر لیا کہ واقعی ہم گمراہ ہو گئے تو اللہ سے بخشش مانگنے لگے۔ ایک قرأت میں «تَغْفِرْ» ”ت“ سے بھی ہے۔ جان گئے کہ اگر معافی نہ ملی تو بڑے نقصان سے دو چار ہو جائیں گے۔ غرض اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ سے جھکے اور التجا کرنے لگے۔

صفحہ نمبر3068

موسیٰ علیہ السلام کی کوہ طور سے واپسی ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کو چونکہ طور پر ہی اپنی قوم کا یہ کفر معلوم ہو چکا تھا، اس لیے سخت غضبناک ہو کر واپس آئے اور فرمانے لگے کہ تم نے تو میرے بعد سخت نالائقی کی۔ تم نے میرا انتظار بھی نہ کیا، میری ذرا سی تاخیر میں یہ ظلم ڈھایا۔ غصے کے مارے تختیاں ہاتھ سے پھینک دیں۔

کہا گیا ہے کہ یہ زمرد یا یاقوت یا کسی اور چیز کی تھیں۔ سچ ہے، جو حدیث میں ہے کہ دیکھنا سننا برابر نہیں۔ [مستدرک حاکم:321/2] ‏

اپنی قوم پر غصے ہو کر الواح ہاتھ سے گرا دیں۔ ٹھیک بات یہی ہے اور جمہور سلف کا قول بھی یہی ہے لیکن ابن جریر نے قتادہ سے ایک عجیب قول نقل کیا ہے جس کی سند بھی صحیح نہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:15142-15143:باطل] ‏

ابن عطیہ وغیرہ نے اس کی بہت تردید کی ہے اور وہ واقعی تردید کے قابل بھی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ قتادہ نے یہ اہل کتاب سے لیا ہو اور ان کا کیا اعتبار ہے؟ ان میں جھوٹے، بناوٹ کرنے والے، گھڑ لینے والے، بددین، بےدین طرح کے لوگ ہیں۔ اس خوف سے کہ کہیں ہارون علیہ السلام نے انہیں باز رکھنے کی پوری کوشش نہ کی ہو، آپ نے ان کے سر کے بالوں کے بل انہیں گھسیٹ لیا اور فرمانے لگے: انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھ کر بھی تو نے میری ماتحتی میں انہیں کیوں نہ روکا؟ کیا تو بھی میرے فرمان کا منکر بن گیا؟

صفحہ نمبر3070

اس پر ہارون علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھائی جان! میرے سر کے اور داڑھی کے بال نہ پکڑیں۔ میں نے تو ہر ممکن طریقے سے انہیں روکا، زیادہ اس لیے نہ الجھا کہ کہیں آپ یہ نہ فرما دیں کہ تو نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی؟ تو نے میرا انتظار کیوں نہ کیا؟ ورنہ میں تو ان گمراہوں سے اب تک زمین کو پاک کر چکا ہوتا۔ انہوں نے تو مجھے کچھ بھی نہ سمجھا بلکہ میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ آپ مجھے ان ہی کی طرح نہ سمجھیں، نہ ان میں ملائیں۔

ہارون علیہ السلام کا یہ فرمانا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو رحم آ جائے، ماں باپ دونوں کے ایک ہی تھے۔ جب آپ کو اپنے بھائی ہارون کی برات کی تحقیق ہو گئی اور اللہ کی طرف سے بھی ان کی پاک دامنی اور بےقصوری معلوم ہو گئی کہ انہوں نے اپنی قوم سے پہلے ہی یہ فرما دیا تھا کہ افسوس! تم فتنے میں پڑ گئے، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ پروردگار بڑا ہی رحیم و کریم ہے، تم میری مان لو اور پھر سے میرے تابع دار بن جاؤ تو آپ اللہ سے دعائیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، واقعی دیکھنے والے میں اور خبر سننے والے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ قوم کی گمراہی کی خبر سنی تو تختیاں ہاتھ سے نہ گرائیں لیکن اسی منظر کو دیکھ کر قابو میں نہ رہے، تختیاں پھینک دیں۔ [مسند احمد:271/1:صحیح] ‏

صفحہ نمبر3071

Source. Tafsir Ibn Kathir — classical public-domain work. Digital text from the spa5k/tafsir_api archive (jsDelivr) · source: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/30. Published with attribution; authorship belongs to the mufassir.

Prepared & published by John Shaqi · johnshaqi.com