Islam · Tafsir · Tafsir Ibn Kathir
Surah Al-A'raaf
Tafsir Ibn Kathir · The Heights · 206 ayat · ayat 91–120 · Quran text →
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا ٭٭
اس قوم کی سرکشی، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔
ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ [11-هود:94]
یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ” اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ۔ “ [26-الشعراء:187]
واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے۔
صفحہ نمبر2994
قوم شعیب کا شوق تباہی پورا ہوا ٭٭
اس قوم کی سرکشی، بد باطنی ملاحظہ ہو کر مسلمانوں کو اسلام سے ہٹانے کے لئے انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ شعیب علیہ السلام کی اطاعت تمہیں غارت کر دے گی اور تم بڑے نقصان میں اتر جاؤ گے۔
ان مومنوں کے دلوں کو ڈرانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ آسمانی عذاب بصورت زلزلہ زمین سے آیا اور انہیں سچ مچ لرزا دیا اور غارت و برباد ہو کر خود ہی نقصان میں پھنس گئے۔ یہاں اس طرح بیان ہوا۔ سورۃ ہود میں بیان ہے کہ آسمانی کڑاکے کی آواز سے یہ ہلاک کئے گئے۔ [11-هود:94]
یہ اس لیے وہاں بیان ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے نکل جانے کی ڈانٹ ایمان داروں کو دی تھی تو آسمانی ڈانٹ کی آواز نے ان کی آواز پست کر دی اور ہمیشہ کے لئے یہ خاموش کر دیئے گئے۔ سورۃ الشعراء میں بیان ہے کہ بادل ان پر عذاب بن کر برسا۔ کیونکہ وہیں ذکر ہے کہ خود انہوں نے اپنے نبی علیہ السلام سے کہا تھا کہ ” اگر سچے ہو تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو الخ۔ “ [26-الشعراء:187]
واقعہ یہ ہے کہ یہ تینوں عذاب ان پر ایک ساتھ آئے۔ ادھر ابر اٹھا جس سے شعلہ باری ہونے لگی، آگ برسنے لگی۔ ادھر تند اور سخت کڑاکے کی آواز آئی، ادھر زمین پر زلزلہ آیا۔ نیچے اوپر کے عذابوں سے دیکھتے ہی دیکھتے تہ و بالا کر دیئے گئے، اپنی اپنی جگہ ڈھیر ہو گئے۔ یا وہ وقت تھا کہ یہاں سے مومنوں کو نکالنا چاہتے تھے یا یہ وقت ہے کہ یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ کسی وقت یہاں یہ لوگ آباد بھی تھے، مسلمانوں سے کہہ رہے تھے کہ تم نقصان میں اترو گے یا یہ ہے کہ خود برباد ہو گئے۔
صفحہ نمبر2994
باب
قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آ چکنے کے بعد شعیب علیہ السلام وہاں سے چلے اور بطور ڈانٹ ڈپٹ کے فرمایا کہ میں سبکدوش ہو چکا ہوں۔ اللہ کا پیغام سنا چکا، سمجھا بجھا چکا، غم خواری، ہمدردی کر چکا۔ لیکن تم کافر کے کافر ہی رہے۔ اب مجھے کیا پڑی کہ تمہارے افسوس میں اپنی جان ہلکان کروں؟
صفحہ نمبر2997
ادوار ماضی ٭٭
اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی وغیرہ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں، مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا۔ باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقعہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہو جائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔
جیسے جیسے ڈھیل دیے گئے، ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ کبھی دن بڑے، کبھی راتیں۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا۔ الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقعے ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مومن پر تعجب ہے۔ اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کے لئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے۔ سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2999]
پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہو جاتے ہیں اور پاک صاف ہو جاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا؟ [مسند احمد:287/2:حسن]
«اَوْ کَمَا قَالَ» پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آ پکڑا۔ یہ محض بےخبر تھے، اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لیے رحمت ہے اور کافروں کے لیے حسرت ہے۔ [مسند احمد:136/6:ضعیف]
صفحہ نمبر2998
ادوار ماضی ٭٭
اگلی امتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے رسول آئے اور ان کے انکار پر وہ امتیں مختلف بلاؤں میں مبتلا کی گئیں مثلاً بیماریاں، فقیری، مفلسی، تنگی وغیرہ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اکڑنا چھوڑ دیں اور اس کے سامنے جھک جائیں، مصیبتوں کے ٹالنے کی دعائیں کریں اور اس کے رسول کی مان لیں۔ لیکن انہوں نے اس موقعہ کو ہاتھ سے نکال دیا۔ باوجود بری حالت ہونے کے دل کا کفر نہ ٹوتا، اپنی ضد سے نہ ہٹے تو ہم نے دوسری طرح پھر ایک موقعہ دیا۔ سختی کو نرمی سے، برائی کو بھلائی سے، بیماری کو تندرستی سے، فقیری کو امیری سے بدل دیا تاکہ شکر کریں اور ہماری حکمرانی کے قائل ہو جائیں لیکن انہوں نے اس موقعہ سے بھی فائدہ نہ اٹھایا۔
جیسے جیسے ڈھیل دیے گئے، ویسے ویسے کفر میں پھنسے، بد مستی میں اور بڑھے اور مغرور ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ زمانہ کے اتفاقات ہیں۔ پہلے سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ کبھی دن بڑے، کبھی راتیں۔ زمانہ ہمیشہ ایک حالت پر نہیں رہتا۔ الغرض اتفاق پر محمول کر کے معمولی سی بات سمجھ کر دونوں موقعے ٹال دیئے۔ ایمان والے دونوں حالتوں میں عبرت پکڑتے ہیں۔ مصیبت پر صبر، راحت پر شکر ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ بخاری و مسلم میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: مومن پر تعجب ہے۔ اس کی دونوں حالتیں انجام کے لحاظ سے اس کے لئے بہتر ہوتی ہیں۔ یہ دکھ پر صبر کرتا ہے، انجام بہتر ہوتا ہے۔ سکھ پر شکر کرتا ہے، نیکیاں پاتا ہے۔ [صحیح مسلم:2999]
پس مومن رنج و راحت دونوں میں اپنی آزمائش کو سمجھ لیتا ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے: بلاؤں کی وجہ سے مومن کے گناہ بالکل دور ہو جاتے ہیں اور پاک صاف ہو جاتا ہے۔ ہاں منافق کی مثال گدھے جیسی ہے جسے نہیں معلوم کہ کیوں باندھا گیا اور کیوں کھولا گیا؟ [مسند احمد:287/2:حسن]
«اَوْ کَمَا قَالَ» پس ان لوگوں کو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے اچانک آ پکڑا۔ یہ محض بےخبر تھے، اپنی خرمستیوں میں لگے ہوئے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اچانک موت مومن کے لیے رحمت ہے اور کافروں کے لیے حسرت ہے۔ [مسند احمد:136/6:ضعیف]
صفحہ نمبر2998
عوام کی فطرت ٭٭
لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے، اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف یونس علیہ السلام کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کر دیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے۔ ” یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے۔ “ [37-الصافات:147-148]
تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں کی نہ مانی بلکہ انہیں جھوٹا سمجھا اور روبرو جھوٹا کہا۔ برائیوں سے، حرام کاریوں سے ایک انچ نہ ہٹے۔ اس وجہ سے تباہ کر دیے گئے۔ کیا کافروں کو اس بات کا خوف نہیں کہ راتوں رات ان کی بےخبری میں ان کے سوتے ہوئے عذاب الٰہی آ جائے اور یہ سوئے کے سوئے رہ جائیں؟ کیا انہیں ڈر نہیں لگتا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دن دہاڑے ان کے کھیل کود اور غفلت کی حالت میں اللہ جل جلالہ کا عذاب آ جائے؟ اللہ کے عذابوں سے، اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے۔ اس کی بےپایاں قدرت کے اندازے سے غافل وہی ہوتے ہیں جو اپنے آپ بربادی کی طرف بڑھے چلے جاتے ہوں۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مومن نیکیاں کرتا ہے اور پھر ڈرتا رہتا ہے اور فاسق، فاجر شخص برائیاں کرتا ہے اور بےخوف رہتا ہے۔ نتیجے میں مومن امن پاتا ہے اور فاجر پیس دیا جاتا ہے۔
صفحہ نمبر3000
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» [20-طه:128] یعنی ” کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ “
اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“
ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» [19-مريم:98] ” ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ “
اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔
صفحہ نمبر3001
عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔
” حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ “ [46-الأحقاف:25-27]
” تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ “ [34-سبأ:45]
” ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ “ [22-الحج:45-46]
اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
صفحہ نمبر3002
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» [20-طه:128] یعنی ” کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ “
اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“
ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» [19-مريم:98] ” ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ “
اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔
صفحہ نمبر3001
عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔
” حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ “ [46-الأحقاف:25-27]
” تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ “ [34-سبأ:45]
” ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ “ [22-الحج:45-46]
اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
صفحہ نمبر3002
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» [20-طه:128] یعنی ” کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ “
اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“
ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» [19-مريم:98] ” ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ “
اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔
صفحہ نمبر3001
عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔
” حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ “ [46-الأحقاف:25-27]
” تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ “ [34-سبأ:45]
” ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ “ [22-الحج:45-46]
اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
صفحہ نمبر3002
گناہوں میں ڈوبے لوگ؟ ٭٭
ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے؟ جیسے فرمان ہے «أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَـكِنِهِمْ» [20-طه:128] یعنی ” کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لیے بہت سی عبرتیں تھیں۔ “
اور اس بیان کے بعد کی آیت میں ہے کہ اس میں بہت سی نشانیاں ہیں۔ کیا یہ سن نہیں رہے؟ ایک آیت میں فرمایا: ”تم اس سے پہلے پورے یقین سے کہتے تھے کہ تمہیں زوال آئے گا ہی نہیں۔ حالانکہ تم جن کے گھروں میں تھے، وہ خود بھی اپنے مظالم کے سبب تباہ کر دیئے گئے تھے۔ خالی گھر رہ گئے۔“
ایک اور آیت میں ہے «وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُم مِّنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا» [19-مريم:98] ” ان سے پہلے ہم نے بہت سی بستیاں تباہ کر دیں۔ نہ ان میں سے اب کوئی نظر آئے، نہ کسی کی آواز سنائی دے۔ “
اور آیت میں ہے کہ وہ لوگ تو ان سے زیادہ مست تھے، مال دار تھے، عیش و عشرت میں تھے، راحت و آرام میں تھے، اوپر سے ابر برستا تھا، نیچے سے چشمے بہتے تھے لیکن گناہوں میں ڈوبے رہے کہ آخر تہس نہس ہو گئے اور دوسرے لوگ ان کے قائم مقام آئے۔
صفحہ نمبر3001
عادیوں کی ہلاکت کا بیان فرما کر ارشاد ہوا کہ ایسے عذاب اچانک آ گئے کہ ان کے وجود کی دھجیاں اڑ گئیں، کھنڈر کھڑے رہ گئے اور کسی چیز کا نام و نشان نہ بچا۔ مجرموں کا یہی حال ہوتا ہے۔
” حالانکہ دنیوی وجاہت بھی ان کے پاس تھی۔ آنکھ، کان، دل سب تھا لیکن اللہ جل شانہ کی باتوں کا تمسخر کرنے پر اور ان کے انکار پر جب عذاب آیا تو حیران و ششدر رہ گئے۔ نہ عقل آئی، نہ اسباب بچے۔ اپنے آس پاس کی ویران بستیاں دیکھ کر عبرت حاصل کرو۔ اگلوں نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کس طرح برباد ہوئے؟ “ [46-الأحقاف:25-27]
” تم تو ابھی تک ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ تم سے پہلے کے منکروں پر میرے عذاب آئے، انہیں غور سے سنو۔ “ [34-سبأ:45]
” ظالموں کی بستیاں میں نے الٹ دیں اور ان کے محلات کھنڈر بنا دیئے۔ زمین میں چل پھر کر، آنکھیں کھول کر، کان لگا کر ذرا عبرت حاصل کرو۔ جس کی آنکھیں نہ ہوں، وہی اندھا نہیں بلکہ سچ مچ اندھا وہ ہے جس کی دلی آنکھیں بےکار ہوں۔ “ [22-الحج:45-46]
اگلے نبیوں کے ساتھ بھی مذاق اڑائے گئے لیکن نتیجہ یہی ہوا کہ ایسے مذاق کرنے والوں کا نشان مٹ گیا۔ ایسے گھیرے گئے کہ ایک بھی نہ بچا۔ اللہ تعالیٰ کی باتیں سچی ہیں، اس کے وعدے اٹل ہیں۔ وہ ضرور اپنے دوستوں کی مدد کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو نیچا دکھاتا ہے۔
صفحہ نمبر3002
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا ٭٭
پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہو گئے۔ صرف ماننے والے بچ گئے۔
اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ ” جب تک رسول نہ آ جائیں، خبردار نہ کر دیئے جائیں، عذاب نہیں کئے جاتے۔ “ [17-الإسراء:15]
ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کر دیا تھا، ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت «بِمَا كَذَّبُوا» میں «ب» سببیہ ہے۔ جیسے ساتویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ ” تم کیا جانو؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔ جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ “ [6-الأنعام:109-110]
یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہر لگا دیا کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3006
ان میں سے اکثر بدعہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا تھا اور اسی پر پیدا کئے گئے۔ اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا، اسی کی تاکید انبیاء علیہم السلام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پرواہ نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کر دی۔ اللہ کو مالک، خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
بخاری و مسلم میں ہے: ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی، مجوسی بنا لیتے ہیں الخ۔ [صحیح بخاری:4775]
خود قرآن کریم میں ہے: ” ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے، سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو! تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ “ [21-الأنبياء:25]
اور آیت میں ہے: ” اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کر لو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لیے مقرر کئے تھے؟ “ [43-الزخرف:45]
اور فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو! صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ “
اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہو گئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آ جانے کے، ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ “ [6-الأنعام:28]
صفحہ نمبر3007
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا ٭٭
پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہو گئے۔ صرف ماننے والے بچ گئے۔
اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ ” جب تک رسول نہ آ جائیں، خبردار نہ کر دیئے جائیں، عذاب نہیں کئے جاتے۔ “ [17-الإسراء:15]
ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کر دیا تھا، ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت «بِمَا كَذَّبُوا» میں «ب» سببیہ ہے۔ جیسے ساتویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ ” تم کیا جانو؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔ جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ “ [6-الأنعام:109-110]
یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہر لگا دیا کرتے ہیں۔
صفحہ نمبر3006
ان میں سے اکثر بدعہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا تھا اور اسی پر پیدا کئے گئے۔ اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا، اسی کی تاکید انبیاء علیہم السلام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پرواہ نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کر دی۔ اللہ کو مالک، خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ [صحیح مسلم:2865]
بخاری و مسلم میں ہے: ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی، مجوسی بنا لیتے ہیں الخ۔ [صحیح بخاری:4775]
خود قرآن کریم میں ہے: ” ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے، سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو! تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ “ [21-الأنبياء:25]
اور آیت میں ہے: ” اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کر لو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لیے مقرر کئے تھے؟ “ [43-الزخرف:45]
اور فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو! صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ “
اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہو گئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آ جانے کے، ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ ” یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ “ [6-الأنعام:28]
صفحہ نمبر3007
نابکار لوگوں کا تذکرہ ، انبیاء اور مومنین پر نظر کرم ٭٭
جن رسولوں کا ذکر گزر چکا ہے یعنی نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب «صلوات اللہ علیہم اجمعین» کے بعد ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی دلیلیں عطا فرما کر بادشاہ مصر فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا۔ لیکن انہوں نے بھی جھٹلایا اور ظلم و زیادتی کی اور صاف انکار کر دیا حالانکہ ان کے دلوں میں یقین گھر کر چکا تھا۔
اب تو آپ دیکھ لیں کہ اللہ کی راہ سے روکنے والوں اور اس کے رسولوں کا انکار کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟ وہ مع اپنی قوم کے ڈبو دیئے گئے اور پھر لطف یہ ہے کہ مومنوں کے سامنے بے بسی کی پکڑ میں پکڑ لیا گیا تاکہ ان کے دل ٹھنڈے ہوں اور عبرت ہو۔
صفحہ نمبر3009
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔
اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔
یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
صفحہ نمبر3010
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔
اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔
یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
صفحہ نمبر3010
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَ بِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔
اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔
یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
صفحہ نمبر3010
عصائے موسیٰ اور فرعون ٭٭
آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی۔ وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لیے اسے روک۔
اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے۔ میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور وہ اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی فرعون کہنے لگا: میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یقیناً۔ اس نے کہا: تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گزارا ہے۔ اس کا جواب موسیٰ علیہ السلام دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا: اسے گرفتار کر لو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے۔ چنانچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو، وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو یہ ویسا ہی ہو گیا۔
صفحہ نمبر3013
عصائے موسیٰ اور فرعون ٭٭
آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی۔ وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لیے اسے روک۔
اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے۔ میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور وہ اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی فرعون کہنے لگا: میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یقیناً۔ اس نے کہا: تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گزارا ہے۔ اس کا جواب موسیٰ علیہ السلام دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا: اسے گرفتار کر لو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے۔ چنانچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو، وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو یہ ویسا ہی ہو گیا۔
صفحہ نمبر3013
باب
جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔
اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔
صفحہ نمبر3015
باب
جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔
اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔
صفحہ نمبر3015
درباریوں کا مشورہ ٭٭
درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔
تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔
صفحہ نمبر3017
درباریوں کا مشورہ ٭٭
درباریوں نے مشورہ دیا کہ ان دونوں بھائیوں کا معاملہ تو اس وقت رفع دفع کرو، اسے ملتوی رکھو اور ملک کے ہر حصے میں ہرکارے بھیج دو جو جادوگروں کو جمع کر کے آپ کے دربار میں لائیں۔
تو جب تمام استادان فن جادوگر آ جائیں، ان سے مقابلہ کرایا جائے تو یہ ہار جائے گا اور منہ دکھانے کے قابل نہ رہے گا، یہ اگر جادو جانتا ہے تو ہماری رعایا میں جادوگروں کی کیا کمی ہے؟ بڑے بڑے ماہر جادوگر ہم میں موجود ہیں جو اپنے فن میں بےنظیر ہیں اور بہت چست و چالاک ہیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا کہ ہم سمجھ گئے کہ تو جادو کے زور سے ہمیں ہمارے ملک سے نکال دینے کے ارادے سے آیا ہے تو اگر تجھ میں کوئی سکت ہے تو آ ہاتھ ملا، ہم تجھ سے مقابلہ کا دن اور جگہ مقرر کرتے ہیں اور جب جگہ مقرر ہو جائے، پھر جو بھاگے وہی ہارا۔ آپ نے فرمایا: اچھا یہ ہوس بھی نکال لو۔ جاؤ تمہارا عید کا دن مجھے منظور ہے اور دن چڑھے اجالے کا وقت اور شرط یہ کہ یہ مقابلہ مجمع عام میں ہو۔ چنانچہ فرعون اس تیاری میں مصروف ہو گیا۔
صفحہ نمبر3017
باب
جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔
فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
صفحہ نمبر3019
باب
جادوگروں نے پہلے ہی فرعون سے قول و قرار لے لیا تاکہ محنت خالی نہ جائے اور اگر ہم جیت جائیں تو خالی ہاتھ نہ رہ جائیں۔
فرعون نے وعدہ کیا کہ منہ مانگا انعام اور ہمیشہ کے لئے خاص درباریوں میں داخلہ دوں گا۔ جادوگر یہ قول و قرار لے کر میدان میں اتر آئے۔
صفحہ نمبر3019
جادوگروں سے مقابلہ ٭٭
جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔
آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیکھ بھال کر فیصلہ کر سکیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہی تھے، انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دیں۔ ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ خوف نہ کر، تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی! ان کا کیا دھرا یہ تو سب کو ہڑپ کر جائے گی۔
صفحہ نمبر3021
یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے۔ بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21/6]
یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے۔ ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا۔ صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے۔ ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا۔ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر وقت ہوا، ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لیے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہا ہے۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتداء کس کی طرف سے ہونی چاہیئے، خود ابتداء کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کی، پھر فرعون کی، پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کر دیا۔ اب جو انہوں نے اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزارہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں، میدان بھر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔
صفحہ نمبر3022
جادوگروں سے مقابلہ ٭٭
جادوگروں کو اپنی قوت پر بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ سب فی الحقیقت اپنے اس فن کے لاجواب استاد تھے۔ اس لیے انہوں نے آتے ہی موسیٰ علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ لو ہوشیار ہو جاؤ۔ تمہیں اختیار ہے کہ میدان میں اپنے کرتب پہلے دکھاؤ اور اگر کہو تو پہل ہم کر دیں۔
آپ نے فرمایا: بہتر ہے کہ تمہارے حوصلے نکل جائیں اور لوگ تمہارا کمال فن دیکھ لیں اور پھر اللہ کی قدرت کو بھی دیکھ لیں اور حق و باطل میں دیکھ بھال کر فیصلہ کر سکیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہی تھے، انہوں نے جھٹ سے اپنی رسیاں اور لکڑیاں نکال نکال کر میدان میں ڈالنی شروع کر دیں۔ ادھر وہ میدان میں پڑتے ہی چلتی پھرتی اور بنی بنائی سانپ معلوم ہونے لگیں۔ یہ صرف نظر بندی تھی۔ فی الواقع خارج میں ان کا وجود بدل نہیں گیا تھا بلکہ اس طرح لوگوں کو دکھائی دیتی تھیں کہ گویا زندہ ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام اپنے دل میں خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ خوف نہ کر، تو ہی غالب رہے گا۔ اپنے دائیں ہاتھ کی لکڑی ڈال تو سہی! ان کا کیا دھرا یہ تو سب کو ہڑپ کر جائے گی۔
صفحہ نمبر3021
یہ سب تو جادوگری کا کرشمہ ہے۔ بھلا جادو والے بھی کبھی کامیاب ہوئے ہیں؟ بڑی موٹی موٹی رسیاں اور لمبی لمبی لکڑیاں انہوں نے ڈالی تھیں جو سب چلتی پھرتی، دوڑتی بھاگتی معلوم ہو رہی تھیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:21/6]
یہ جادوگر پندرہ ہزار یا تیس ہزار سے اوپر اوپر تھے یا ستر ہزار کی تعداد میں تھے۔ ہر ایک اپنے ساتھ رسیاں اور لکڑیاں لایا تھا۔ صف بستہ کھڑے تھے اور لوگ چاروں طرف موجود تھے۔ ہر ایک ہمہ تن شوق بنا ہوا تھا۔ فرعون اپنے لاؤ لشکر اور درباریوں سمیت بڑے رعب سے اپنے تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ ادھر وقت ہوا، ادھر سب کی نگاہوں نے دیکھا کہ ایک درویش صفت اللہ کا نبی علیہ السلام اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لیے ہوئے لکڑی ٹکاتے ہوئے آ رہا ہے۔ یہ تھے جن کے مقابلے کی یہ دھوم دھام تھی۔ آپ کے آتے ہی جادوگروں نے صرف یہ دریافت کر کے کہ ابتداء کس کی طرف سے ہونی چاہیئے، خود ابتداء کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام کی، پھر فرعون کی، پھر تماشائیوں کی آنکھوں پر جادو کر کے سب کو ہیبت زدہ کر دیا۔ اب جو انہوں نے اپنی اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو ہزارہا کی تعداد میں پہاڑوں کے برابر سانپ نظر آنے لگے جو اوپر تلے ایک دوسرے سے لپٹ رہے ہیں۔ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں، میدان بھر گیا ہے۔ انہوں نے اپنے فن کا پورا مظاہرہ کر دکھایا۔
صفحہ نمبر3022
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6]
پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
صفحہ نمبر3024
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6]
پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
صفحہ نمبر3024
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6]
پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
صفحہ نمبر3024
جادوگر سجدہ ریز ہو گئے ٭٭
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی علیہ السلام کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا، وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کر دیا۔ جو کچھ وہاں تھا، سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نہ نظر آتی تھی۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے جہاں اس پر ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں۔ یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہو گیا، باطل دب گیا۔ تمیز ہو گئی، معاملہ صاف ہو گیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔ ادھر جادوگر اپنا ایمان چھپا نہ سکے۔ جان کے خوف کے باوجود وہ اسی میدان میں سجدہ ریز ہو گئے اور کہنے لگے: موسیٰ علیہ السلام کے پاس جادو نہیں، یہ تو اللہ کی طرف سے معجزہ ہے جو خود اللہ نے اسے عطا فرما رکھا ہے۔ ہم تو اس اللہ پر ایمان لائے۔ حقیقتاً رب العالمین وہی ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:24/6]
پھر کسی کو کچھ اور شبہ نہ ہو یا کوئی کسی طرح کی تاویل نہ کر سکے اور صفائی کر دی کہ ان دونوں بھائیوں اور اللہ کے سچے نبیوں یعنی موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کے پروردگار کو ہم نے تو مان لیا۔ قاسم کا بیان ہے کہ جب یہ سجدے میں گرے تو اٹھنے سے پہلے ہی پروردگار عالم نے دوزخ دکھائی جس سے انہیں بچایا گیا تھا اور جنت دکھائی جو انہیں دی گئی۔
صفحہ نمبر3024