حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّهُ مَرَّ بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَهُوَ يُصَلِّي وَقَدْ عَقَصَ ضَفِرَتَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ الْحَسَنُ مُغْضَبًا فَقَالَ أَقْبِلْ عَلَى صَلاَتِكَ وَلاَ تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ مَعْقُوصٌ شَعْرُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَعِمْرَانُ بْنُ مُوسَى هُوَ الْقُرَشِيُّ الْمَكِّيُّ وَهُوَ أَخُو أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى .
ابورافع رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس سے گزرے، وہ نماز پڑھ رہے تھے اور اپنی گدی پر جوڑا باندھ رکھا تھا، ابورافع رضی الله عنہ نے اسے کھول دیا، حسن رضی الله عنہ نے ان کی طرف غصہ سے دیکھا تو انہوں نے کہا: اپنی نماز پر توجہ دو اور غصہ نہ کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ”یہ شیطان کا حصہ ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابورافع رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور عبداللہ بن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔ ان لوگوں نے اس بات کو مکروہ کہا کہ نماز پڑھے اور وہ اپنے بالوں کا جوڑا باندھے ہو ۱؎۔
Jami al-Tirmidhi 384 ↗
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رضى الله عَنْهُمَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلاَ يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لاَ يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ وَاسْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ . وَلاَ نَعْرِفُ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ هَذَا . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْقُنُوتِ فِي الْوِتْرِ فَرَأَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ الْقُنُوتَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّنَةِ كُلِّهَا وَاخْتَارَ الْقُنُوتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ . وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَإِسْحَاقُ وَأَهْلُ الْكُوفَةِ . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ لاَ يَقْنُتُ إِلاَّ فِي النِّصْفِ الآخِرِ مِنْ رَمَضَانَ وَكَانَ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ .
حسن بن علی رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں پڑھا کروں، وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت وعافني فيمن عافيت وتولني فيمن توليت وبارك لي فيما أعطيت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت» ”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں کے زمرہ میں شامل فرما جنہیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے، مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل فرما جنہیں تو نے عافیت بخشی ہے، میری سرپرستی فرما کر، ان لوگوں میں شامل فرما جن کی تو نے سرپرستی کی ہے، اور جو کچھ تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس میں برکت عطا فرما، اور جس شر کا تو نے فیصلہ فرما دیا ہے اس سے مجھے محفوظ رکھ، یقیناً فیصلہ تو ہی صادر فرماتا ہے، تیرے خلاف فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا، اور جس کا تو والی ہو وہ کبھی ذلیل و خوار نہیں ہو سکتا، اے ہمارے رب! تو بہت برکت والا اور بہت بلند و بالا ہے۔“ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اسے ہم صرف اسی سند سے یعنی ابوالحوراء سعدی کی روایت سے جانتے ہیں، ان کا نام ربیعہ بن شیبان ہے، ۳- میرے علم میں وتر کے قنوت کے سلسلے میں اس سے بہتر کوئی اور چیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہو معلوم نہیں، ۴- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- اہل علم کا وتر کے قنوت میں اختلاف ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کا خیال ہے کہ وتر میں قنوت پورے سال ہے، اور انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنا پسند کیا ہے، اور یہی بعض اہل علم کا قول ہے سفیان ثوری، ابن مبارک، اسحاق اور اہل کوفہ بھی یہی کہتے ہیں، ۶- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صرف رمضان کے نصف آخر میں قنوت پڑھتے تھے، اور رکوع کے بعد پڑھتے تھے، ۷- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں ۱؎۔
Jami al-Tirmidhi 464 ↗
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ مَأْمُونٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ " تُحْفَةُ الصَّائِمِ الدُّهْنُ وَالْمِجْمَرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ . وَسَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ يُضَعَّفُ وَيُقَالُ عُمَيْرُ بْنُ مَأْمُومٍ أَيْضًا .
حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں، اور ۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔
Jami al-Tirmidhi 801 ↗
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ قَامَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بَعْدَ مَا بَايَعَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ سَوَّدْتَ وُجُوهَ الْمُؤْمِنِينَ . أَوْ يَا مُسَوِّدَ وُجُوهِ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَ لاَ تُؤَنِّبْنِي رَحِمَكَ اللَّهُ فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُرِيَ بَنِي أُمَيَّةَ عَلَى مِنْبَرِهِ فَسَاءَهُ ذَلِكَ فَنَزَلَتْ : ( إنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ) يَا مُحَمَّدُ يَعْنِي نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ وَنَزَلَتْ : ( إنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ * وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ * لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ) يَمْلِكُهَا بَعْدَكَ بَنُو أُمَيَّةَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ الْقَاسِمُ فَعَدَدْنَاهَا فَإِذَا هِيَ أَلْفُ شَهْرٍ لاَ يَزِيدُ يَوْمٌ وَلاَ يَنْقُصُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ . وَقَدْ قِيلَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ . وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ هُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَيُوسُفُ بْنُ سَعْدٍ رَجُلٌ مَجْهُولٌ وَلاَ نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
یوسف بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص حسن بن علی رضی الله عنہما کے پاس ان کے معاویہ رضی الله عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لینے کے بعد گیا اور کہا: آپ نے تو مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دی، ( راوی کو شک ہے «سودت» کہا یا «يا مسود وجوه المؤمنين» ( مسلمانوں کے چہروں پر کالک مل دینے والا ) کہا، انہوں نے کہا تو مجھ پر الزام نہ رکھ، اللہ تم پر رحم فرمائے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی امیہ اپنے منبر پر دکھائے گئے تو آپ کو یہ چیز بری لگی، اس پر آیت «إنا أعطيناك الكوثر» ”اے محمد! ہم نے آپ کو کوثر دی“، نازل ہوئی۔ کوثر جنت کی ایک نہر ہے اور سورۃ القدر کی آیات «إنا أنزلناه في ليلة القدر وما أدراك ما ليلة القدر ليلة القدر خير من ألف شهر» ”ہم نے قرآن کو شب قدر میں اتارا، اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینے سے بہتر ہے“، نازل ہوئیں، اے محمد تیرے بعد بنو امیہ ان مہینوں کے مالک ہوں گے ۳؎ قاسم بن فضل حدانی کہتے ہیں: ہم نے بنی امیہ کے ایام حکومت کو گنا تو وہ ہزار مہینے ہی نکلے نہ ایک دن زیادہ نہ ایک دن کم ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اس سند سے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں۔ ۲- یہ بھی کہا گیا ہے کہ قاسم بن فضل سے روایت کی گئی ہے اور انہوں نے یوسف بن مازن سے روایت کی ہے، قاسم بن فضل حدانی ثقہ ہیں، انہیں یحییٰ بن سعید اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ثقہ کہا ہے، اور یوسف بن سعد ایک مجہول شخص ہیں اور ہم اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Jami al-Tirmidhi 3350 ↗
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضُفُرَهُ فِي قَفَاهُ فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ أَقْبِلْ عَلَى صَلاَتِكَ وَلاَ تَغْضَبْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ " . يَعْنِي مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي مَغْرِزَ ضُفُرِهِ .
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے ۔
Sunan Abi Dawud 646 ↗
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنَفِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ، قَالَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رضى الله عنهما عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي الْوِتْرِ قَالَ ابْنُ جَوَّاسٍ فِي قُنُوتِ الْوِتْرِ " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ إِنَّكَ تَقْضِي وَلاَ يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لاَ يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَلاَ يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ " .
حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہا کرتا ہوں ( ابن جواس کی روایت میں ہے جنہیں میں وتر کے قنوت میں کہا کروں ) وہ کلمات یہ ہیں: «اللهم اهدني فيمن هديت، وعافني فيمن عافيت، وتولني فيمن توليت، وبارك لي فيما أعطيت، وقني شر ما قضيت إنك تقضي ولا يقضى عليك، وإنه لا يذل من واليت، ولا يعز من عاديت، تباركت ربنا وتعاليت» ۱؎۔ اے اللہ! مجھے ہدایت دے ان لوگوں میں ( داخل کر کے ) جن کو تو نے ہدایت دی ہے اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں ( داخل کر کے ) جن کو تو نے عافیت دی ہے اور میری کارسازی فرما ان لوگوں میں ( داخل کر کے ) جن کی تو نے کارسازی کی ہے اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے، تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا، اے ہمارے رب تو بابرکت اور بلند و بالا ہے ۔
Sunan Abi Dawud 1425 ↗
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِيكَرِبَ وَعَمْرُو بْنُ الأَسْوَدِ وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ مِنْ أَهْلِ قِنَّسْرِينَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لِلْمِقْدَامِ أَعَلِمْتَ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ تُوُفِّيَ فَرَجَّعَ الْمِقْدَامُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ أَتَرَاهَا مُصِيبَةً قَالَ لَهُ وَلِمَ لاَ أَرَاهَا مُصِيبَةً وَقَدْ وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ فَقَالَ " هَذَا مِنِّي وَحُسَيْنٌ مِنْ عَلِيٍّ " . فَقَالَ الأَسَدِيُّ جَمْرَةٌ أَطْفَأَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . قَالَ فَقَالَ الْمِقْدَامُ أَمَّا أَنَا فَلاَ أَبْرَحُ الْيَوْمَ حَتَّى أُغِيظَكَ وَأُسْمِعَكَ مَا تَكْرَهُ . ثُمَّ قَالَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي قَالَ أَفْعَلُ . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا قَالَ نَعَمْ . قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ هَذَا كُلَّهُ فِي بَيْتِكَ يَا مُعَاوِيَةُ . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ قَدْ عَلِمْتُ أَنِّي لَنْ أَنْجُوَ مِنْكَ يَا مِقْدَامُ قَالَ خَالِدٌ فَأَمَرَ لَهُ مُعَاوِيَةُ بِمَا لَمْ يَأْمُرْ لِصَاحِبَيْهِ وَفَرَضَ لاِبْنِهِ فِي الْمِائَتَيْنِ فَفَرَّقَهَا الْمِقْدَامُ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ وَلَمْ يُعْطِ الأَسَدِيُّ أَحَدًا شَيْئًا مِمَّا أَخَذَ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ أَمَّا الْمِقْدَامُ فَرَجُلٌ كَرِيمٌ بَسَطَ يَدَهُ وَأَمَّا الأَسَدِيُّ فَرَجُلٌ حَسَنُ الإِمْسَا
خالد کہتے ہیں مقدام بن معدی کرب، عمرو بن اسود اور بنی اسد کے قنسرین کے رہنے والے ایک شخص معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدام سے کہا: کیا آپ کو خبر ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا انتقال ہو گیا؟ مقدام نے یہ سن کر «انا لله وانا اليه راجعون» پڑھا تو ان سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اسے کوئی مصیبت سمجھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اسے مصیبت کیوں نہ سمجھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی گود میں بٹھایا، اور فرمایا: یہ میرے مشابہ ہے، اور حسین علی کے ۔ یہ سن کر اسدی نے کہا: ایک انگارہ تھا جسے اللہ نے بجھا دیا تو مقدام نے کہا: آج میں آپ کو ناپسندیدہ بات سنائے، اور ناراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا، پھر انہوں نے کہا: معاویہ! اگر میں سچ کہوں تو میری تصدیق کریں، اور اگر میں جھوٹ کہوں تو جھٹلا دیں، معاویہ بولے: میں ایسا ہی کروں گا۔ مقدام نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ معاویہ نے کہا: ہاں۔ پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی کپڑا پہننے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے، پھر کہا: میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال پہننے اور اس پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے؟ کہا: ہاں معلوم ہے۔ تو انہوں نے کہا: معاویہ! قسم اللہ کی میں یہ ساری چیزیں آپ کے گھر میں دیکھ رہا ہوں؟ تو معاویہ نے کہا: مقدام! مجھے معلوم تھا کہ میں تمہاری نکتہ چینیوں سے بچ نہ سکوں گا۔ خالد کہتے ہیں: پھر معاویہ نے مقدام کو اتنا مال دینے کا حکم دیا جتنا ان کے اور دونوں ساتھیوں کو نہیں دیا تھا اور ان کے بیٹے کا حصہ دو سو والوں میں مقرر کیا، مقدام نے وہ سارا مال اپنے ساتھیوں میں بانٹ دیا، اسدی نے اپنے مال میں سے کسی کو کچھ نہ دیا، یہ خبر معاویہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: مقدام سخی آدمی ہیں جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، اور اسدی اپنی چیزی
Sunan Abi Dawud 4131 ↗
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي الأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ " إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَإِنِّي أَرْجُو أَنْ يُصْلِحَ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنْ أُمَّتِي " . وَقَالَ فِي حَدِيثِ حَمَّادٍ " وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ " .
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا ۔ حماد کی روایت میں ہے: شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎ ۔
Sunan Abi Dawud 4662 ↗
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ - بِالصَّلاَةِ .
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن بن علی کے کان میں جس وقت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں جنا اذان کہتے دیکھا جیسے نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے۔
Sunan Abi Dawud 5105 ↗
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رضى الله عنه - قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَفَعَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ - قَالَ " يُجْزِئُ عَنِ الْجَمَاعَةِ، إِذَا مَرُّوا أَنْ يُسَلِّمَ، أَحَدُهُمْ وَيُجْزِئُ عَنِ الْجُلُوسِ أَنْ يَرُدَّ أَحَدُهُمْ " .
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (ابوداؤد کہتے ہیں: حسن بن علی نے اسے مرفوع کیا ہے) ، وہ کہتے ہیں اگر جماعت گزر رہی ہو ( لوگ چل رہے ہوں ) تو ان میں سے کسی ایک کا سلام کر لینا سب کی طرف سے سلام کے لیے کافی ہو گا، ایسے ہی لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک سلام کا جواب دیدے تو وہ سب کی طرف سے کفایت کرے گا ۱؎۔
Sunan Abi Dawud 5210 ↗
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَؤُلاَءِ الْكَلِمَاتِ فِي الْوَتْرِ قَالَ " اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلاَ يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لاَ يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ وَصَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ " .
حسن بن علی رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر کے یہ کلمات سکھائے، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم اهدني فيمن هديت وبارك لي فيما أعطيت وتولني فيمن توليت وقني شر ما قضيت فإنك تقضي ولا يقضى عليك وإنه لا يذل من واليت تباركت ربنا وتعاليت وصلى اللہ على النبي محمد»۔
Sunan al-Nasa'i 1746 ↗
عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سِبْطِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم وَرَيْحَانَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَفِظْت مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم دَعْ مَا يُرِيبُك إلَى مَا لَا يُرِيبُك . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ [رقم:2520]، [وَالنَّسَائِيّ] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
On the authority of Abu Muhammad al-Hasan ibn Ali ibn Abee Talib (may Allah be pleased with him), the grandson of the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him), and the one much loved by him, who said: I memorised from the Messenger of Allah (peace and blessings of Allah be upon him): “Leave that which makes you doubt for that which does not make you doubt.” [At-Tirmidhi] [An-Nasai] At-Tirmidhi said that it was a good and sound (hasan saheeh) hadeeth
Al-Nawawi's Forty Hadith 11 ↗
إِذَا اشْتَكَى الْمُحْرِمُ عَيْنَيْهِ فَلْيَكْتَحِلْ بِكُحْلٍ لَيْسَ فِيهِ مِسْكٌ وَ لَا طِيبٌ .
Al Husayn Bin Muhammad, from Moalla Bin Muhammad, from Al Hasan Bin Ali, from Aban, from the one who informed him,
(It has been narrated) from Abu Abdullah<sup>asws</sup> having said: ‘When the one in <span class="iTxt">Ihraam</span> complains of his eyes, so let him apply Kohl wherein is neither musk nor perfume’.
Al-Kafi 7290 ↗
كُنَّا جَمَاعَةً بِمِنًى فَعَزَّتِ الْأَضَاحِيُّ فَنَظَرْنَا فَإِذَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) وَاقِفٌ عَلَى قَطِيعٍ يُسَاوِمُ بِغَنَمٍ وَ يُمَاكِسُهُمْ مِكَاساً شَدِيداً فَوَقَفْنَا نَنْتَظِرُ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَظُنُّكُمْ قَدْ تَعَجَّبْتُمْ مِنْ مِكَاسِي فَقُلْنَا نَعَمْ
فَقَالَ إِنَّ الْمَغْبُونَ لَا مَحْمُودٌ وَ لَا مَأْجُورٌ أَ لَكُمْ حَاجَةٌ فَقُلْنَا نَعَمْ أَصْلَحَكَ اللَّهُ إِنَّ الْأَضَاحِيَّ قَدْ عَزَّتْ عَلَيْنَا قَالَ فَاجْتَمِعُوا فَاشْتَرُوا جَزُوراً فِيمَا بَيْنَكُمْ قُلْنَا وَ لَا تَبْلُغُ نَفَقَتُنَا قَالَ فَاجْتَمِعُوا وَ اشْتَرُوا بَقَرَةً فِيمَا بَيْنَكُمْ فَاذْبَحُوهَا قُلْنَا وَ لَا تَبْلُغُ نَفَقَتُنَا قَالَ فَاجْتَمِعُوا فَاشْتَرُوا فِيمَا بَيْنَكُمْ شَاةً فَاذْبَحُوهَا فِيمَا بَيْنَكُمْ قُلْنَا تُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ قَالَ نَعَمْ وَ عَنْ سَبْعِينَ .
A number of our companions, from Ahmad Bin Muhammad, from Al Hasan Bin Ali, from a man called Sawada who said,
‘We were a group in Mina, and the sacrificial animals were too expensive. So we looked around and there was Abu Abdullah<sup>asws</sup> having paused upon a spot bargaining for the sheep, and he<sup>asws</sup> was intensively bargaining with them. So we paused and looked on. So when he<sup>asws</sup> was free, he<sup>asws</sup> turned towards us and he<sup>asws</sup> said: ‘I<sup>asws</sup> think you all have been astounded from my<sup>asws</sup> bargaining?’ So we said, ‘Yes’.
So he<sup>asws</sup> said: ‘The loss maker is not praiseworthy, nor is he hired. Is there a need for you?’ So we said, ‘Yes, may Allah<sup>azwj</sup> Keep you<sup>asws</sup> well! The sacrificial animal have become too expensive upon us’. He<sup>asws</sup> said: ‘So gather together and buy one camel, in what is between you all’. We said, ‘And our expenditure would not reach (to that)’. He<sup>asws</sup> said: ‘So gather together and buy one cow in what is between you all, and slaughter it’. We said, ‘And our expenditure would not reach (to that)’. He<sup>asws</sup> said: ‘So gather together and buy a sheep in what is between you all, and slaughter it’. We said, ‘Would it suffice from seven (of us)?’ He<sup>asws</sup> said: ‘Yes, and it would (even) suffice from seventy’.
Al-Kafi 7865 ↗
مَنْ تَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ وَ لَا يَجْعَلُ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُعْطِيَهَا مَهْرَهَا فَهُوَ زِنًى .
Al Husayn Bin Muhammad, from Moalla Bin Muhammad, from Al Hasan Bin Ali, from Hammad Bin Usman,
(It has been narrated) from Abu Abdullah<sup>asws</sup> having said: ‘The one who marries the woman but does not make it in his self that he would be giving her dower to her, so he is an adulterer’.
Al-Kafi 9649 ↗
عدة من أصحابنا، عن أحمد بن محمد، عن محمد بن إسماعيل بن بزيع، عن جعفر بن بشير، عن يحيى بن أبي العلاء، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: إن الحسن بن علي عليهما السلام طلق خمسين امرأة فقام علي عليه السلام بالكوفة فقال: يا معاشر أهل الكوفة لا تنكحوا الحسن فإنه رجل مطلاق فقام إليه رجل فقال: بلى والله لننكحنه فإنه ابن رسول الله صلى الله عليه وآله وابن فاطمة عليها السلام فإن أعجبته أمسك وإن كره طلق.
ہمارے بہت سے اصحاب نے احمد بن محمد سے، انہوں نے محمد بن اسماعیل بن بزیع سے، انہوں نے جعفر بن بشیر سے، انہوں نے یحیی بن ابی العلاء سے، انہوں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:
بے شک حسن بن علی علیہما السلام نے پچاس عورتوں کو طلاق دی۔ پھر علی علیہ السلام کوفہ میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے کوفہ والو! حسن کو اپنی عورتیں نکاح میں نہ دو کیونکہ وہ بہت زیادہ طلاق دینے والے ہیں۔
تو ایک شخص اس کی طرف کھڑا ہوا اور کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم ضرور انہیں نکاح کریں گے کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے اور فاطمہ علیہا السلام کے بیٹے ہیں۔ اگر پسند آئی تو رکھ لیں گے اور اگر ناپسند ہو تو طلاق دے دیں گے۔
Al-Kafi 10616 ↗
قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ( عليه السلام ) طَلْيَةٌ فِي الصَّيْفِ خَيْرٌ مِنْ عَشْرٍ فِي الشِّتَاءِ .
Muhammad Bin Yahya, from Ahmad Bin Muhammad Bin Isa, from Al Hasan Bin Ali Al Washa, from Ahmad Bin Sa’aba, from Ammar Al Sabaty who said,
‘Abu Abdullah<sup>asws</sup> said: ‘Waxing in the summer is better than ten in the winter’.
Al-Kafi 12788 ↗
297 - وَ خَرَجَ اَلْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ مِنَ اَلْحَمَّامِ
فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ طَابَ اِسْتِحْمَامُكَ فَقَالَ لَهُ «يَا لُكَعُ وَ مَا تَصْنَعُ بِالاِسْتِ هَاهُنَا»
فَقَالَ طَابَ حَمَّامُكَ قَالَ «إِذَا طَابَ اَلْحَمَّامُ فَمَا رَاحَةُ اَلْبَدَنِ مِنْهُ»
فَقَالَ طَابَ حَمِيمُكَ فَقَالَ «وَيْحَكَ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ اَلْحَمِيمَ اَلْعَرَقُ»
قَالَ لَهُ كَيْفَ أَقُولُ قَالَ «قُلْ طَابَ مَا طَهُرَ مِنْكَ وَ طَهُرَ مَا طَابَ مِنْكَ.
الْحَسَن بن عَلِي بن أَبِي طَالِب علیہ السلام غسل خانے سے باہر آئے۔
ایک شخص نے ان سے کہا، "آپ کا غسل مبارک ہو۔" انہوں نے کہا، "اے نادان، یہاں پچھواڑے کا ذکر کر کے کیا کر رہے ہو؟"
اس نے کہا، "آپ کا غسل خانہ مبارک ہو۔" انہوں نے کہا، "اگر غسل خانہ مبارک ہو تو جسم کو اس سے کیا آرام ملتا ہے؟"
اس نے کہا، "آپ کا گرم پانی مبارک ہو۔" انہوں نے کہا، "تم پر لعنت ہو! کیا تم نہیں جانتے کہ الحمیم پسینہ ہے؟"
اس نے اس سے کہا، "میں کیسے بولوں؟" اس نے کہا، "کہو: جو کچھ تم سے پاک ہوا وہ خوشگوار ہو، اور جو کچھ تم سے خوشگوار ہے وہ پاک ہو۔"
Man La Yahduruhu al-Faqih 295 ↗
393 - وَ كَتَبَ مُحَمَّدُ بْنُ اَلْحَسَنِ اَلصَّفَّارُ إِلَى أَبِي مُحَمَّدٍ اَلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: كَمْ حَدُّ اَلْمَاءِ اَلَّذِي يُغْسَلُ بِهِ اَلْمَيِّتُ كَمَا رَوَوْا أَنَّ اَلْجُنُبَ يَغْتَسِلُ بِسِتَّةِ أَرْطَالٍ مِنْ مَاءٍ وَ اَلْحَائِضَ بِتِسْعَةِ أَرْطَالٍ فَهَلْ لِلْمَيِّتِ حَدٌّ مِنَ اَلْمَاءِ اَلَّذِي يُغْسَلْ بِهِ فَوَقَّعَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ «حَدُّ غُسْلِ اَلْمَيِّتِ يُغْسَلُ حَتَّى يَطْهُرَ إِنْ شَاءَ اَللَّهُ تَعَالَى.
مُحَمَّد ابن الحسن الصفار نے ابو محمد الحسن ابن علی علیہ السلام کو لکھا: "میت کو دھونے کے لیے پانی کی مقررہ حد کیا ہے، جیسا کہ انہوں نے روایت کیا ہے کہ جنب چھ رطل پانی سے غسل کرتا ہے اور حیض والی عورت نو رطل پانی سے غسل کرتی ہے؟ کیا میت کے لیے بھی دھونے کے لیے پانی کی کوئی مقررہ حد ہے؟"
تو انہوں نے علیہ السلام جواب میں لکھا: "میت کے غسل کی حد یہ ہے کہ اسے اس وقت تک دھویا جائے جب تک وہ پاک نہ ہو جائے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔"
Man La Yahduruhu al-Faqih 392 ↗
511 - وَ لَمَّا قُبِضَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ اَلْعَسْكَرِيُّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ رُئِيَ اَلْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ قَدْ خَرَجَ مِنَ اَلدَّارِ وَ قَدْ شُقَّ قَمِيصُهُ مِنْ خَلْفٍ وَ قُدَّامٍ.
جب ʿAlī ibn Muḥammad al-ʿAskarī علیہ السلام وفات پا گئے، تو al-Ḥasan ibn ʿAlī علیہما السلام کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا، اور ان کی قمیص پیچھے اور سامنے سے پھٹی ہوئی تھی۔
Man La Yahduruhu al-Faqih 511 ↗
- جَاءَ نَفَرٌ مِنَ اَلْيَهُودِ إِلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَسَأَلَهُ أَعْلَمُهُمْ عَنْ مَسَائِلَ فَكَانَ مِمَّا سَأَلَهُ أَنَّهُ قَالَ أَخْبِرْنِي عَنِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ لِأَيِّ شَيْءٍ فَرَضَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ هَذِهِ اَلْخَمْسَ اَلصَّلَوَاتِ فِي خَمْسِ مَوَاقِيتَ عَلَى أُمَّتِكَ فِي سَاعَاتِ اَللَّيْلِ وَ اَلنَّهَارِ
فَقَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ «إِنَّ اَلشَّمْسَ عِنْدَ اَلزَّوَالِ لَهَا حَلْقَةٌ تَدْخُلُ فِيهَا فَإِذَا دَخَلَتْ فِيهَا زَالَتِ اَلشَّمْسُ فَيُسَبِّحُ كُلُّ شَيْءٍ دُونَ اَلْعَرْشِ بِحَمْدِ رَبِّي جَلَّ جَلاَلُهُ وَ هِيَ اَلسَّاعَةُ اَلَّتِي يُصَلِّي عَلَيَّ فِيهَا رَبِّي جَلَّ جَلاَلُهُ فَفَرَضَ اَللَّهُ عَلَيَّ وَ عَلَى أُمَّتِي فِيهَا اَلصَّلاَةَ وَقَالَ « أَقِمِ اَلصَّلاٰةَ لِدُلُوكِ اَلشَّمْسِ إِلىٰ غَسَقِ اَللَّيْلِ » وَ هِيَ اَلسَّاعَةُ اَلَّتِي يُؤْتَى فِيهَا بِجَهَنَّمَ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ فَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُوَافِقُ تِلْكَ اَلسَّاعَةَ أَنْ يَكُونَ سَاجِداً أَوْ رَاكِعاً أَوْ قَائِماً إِلاَّ حَرَّمَ اَللَّهُ جَسَدَهُ عَلَى اَلنَّارِ
وَ أَمَّا صَلاَةُ اَلْعَصْرِ فَهِيَ اَلسَّاعَةُ اَلَّتِي أَكَلَ آدَمُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فِيهَا مِنَ اَلشَّجَرَةِ فَأَخْرَجَهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنَ اَلْجَنَّةِ فَأَمَرَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ ذُرِّيَّتَهُ بِهَذِهِ اَلصَّلاَةِ إِلَى يَوْمِ اَلْقِيَامَةِ وَ اِخْتَارَهَا لِأُمَّتِي فَهِيَ مِنْ أَحَبِّ اَلصَّلَوَاتِ إِلَى اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ أَوْصَانِي أَنْ أَحْفَظَهَا مِنْ بَيْنِ اَلصَّلَوَاتِ
وَ أَمَّا صَلاَةُ اَلْمَغْرِبِ فَهِيَ اَلسَّاعَةُ اَلَّتِي تَابَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ فِيهَا عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ كَانَ بَيْنَ مَا أَكَلَ مِنَ اَلشَّجَرَةِ وَ بَيْنَ مَا تَابَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهِ ثَلاَثُمِائَةِ سَنَةٍ مِنْ أَيَّامِ اَلدُّنْيَا وَ فِي أَيَّامِ اَلْآخِرَةِ يَوْمٌ «كَأَلْفِ سَنَةٍ» مَا بَيْنَ اَلْعَصْرِ
643 - یہ روایت ہے الحسن ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے کہ انہوں نے فرمایا:
یہودیوں کا ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اور ان میں سے سب سے زیادہ علم رکھنے والے نے ان سے مسائل کے بارے میں سوال کیا۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا: مجھے اللہ عزوجل کے بارے میں بتائیں: اللہ عزوجل نے آپ کی امت پر دن اور رات کے اوقات میں پانچ مقررہ اوقات میں یہ پانچ نمازیں کیوں فرض کیں؟
تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سورج زوال پر ہوتا ہے تو اس کے گرد ایک حلقہ ہوتا ہے جس میں وہ داخل ہوتا ہے، اور جب وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے تو سورج غروب ہو جاتا ہے۔ پھر عرش کے نیچے ہر چیز میرے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے، جلال اس کی جلالت ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب میرا رب جلالت والا مجھ پر درود بھیجتا ہے۔ لہٰذا اللہ نے اس وقت میرے اور میری امت پر نماز فرض کی، اور فرمایا:
نماز قائم کرو سورج کے زوال سے لے کر رات کے سناٹے تک۔
اور یہ وہ ساعت ہے جس میں جہنم قیامت کے دن لائی جائے گی۔ پس کوئی مؤمن نہیں جو اس ساعت میں سجدہ، رکوع یا قیام میں ہو مگر اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو آگ سے حرام کر دے گا۔
اور جہاں تک نماز عصر کا تعلق ہے، یہ وہ ساعت ہے جس میں آدم علیہ السلام نے درخت سے کھایا، پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت سے نکالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اولاد کو قیامت کے دن تک اس نماز کا حکم دیا اور اسے میری امت کے لیے منتخب کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب نمازوں میں سے ہے اور انہوں نے مجھے ہدایت دی کہ میں اسے نمازوں میں محفوظ رکھوں۔
اور جہاں تک نماز مغرب کا تعلق ہے، یہ وہ ساعت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول فرمائی۔ جس وقت انہوں نے درخت سے کھایا اور جس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی، اس کے درمیان دنیا کے تین سو سال تھے، اور آخرت کے دن میں ایک دن:
ہزار سال کے برابر۔
عصر سے عشاء تک۔ اور آدم علیہ السلام نے تین رکعتیں پڑھی: ایک رکعت اپنی خطا کے لیے، ایک رکعت حوا کی خطا کے لیے، اور ایک رکعت توبہ کے لیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ تین رکعتیں میری امت پر فرض فرمائیں۔ اور یہ وہ وق
Man La Yahduruhu al-Faqih 643 ↗
اَلْقِرْمِزِ فَإِنَّ أَصْحَابَنَا يَتَوَقَّوْنَ عَنِ اَلصَّلاَةِ فِيهِ فَكَتَبَ «لاَ بَأْسَ مُطْلَقٌ وَ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ.
اور اِبْرَاہِیم ابن مَہزیار نے ابُو مُحَمَّد الحَسَن علیہ السلام کو لکھا:
انہیں قرمزی رنگ کے کپڑے میں نماز کے بارے میں پوچھتے ہوئے، کیونکہ ہمارے اصحاب اس میں نماز سے پرہیز کرتے ہیں۔
تو انہوں نے لکھا: “اس میں بالکل کوئی حرج نہیں، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔”
Man La Yahduruhu al-Faqih 810 ↗
960 - وَقَالَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ: «إِذَا اِنْصَرَفْتَ مِنْ صَلاَةٍ مَكْتُوبَةٍ فَقُلْ: رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبّاً وَ بِالْإِسْلاَمِ دِيناً وَ بِالْقُرْآنِ كِتَاباً وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيّاً وَ بِعَلِيٍّ وَلِيّاً وَ اَلْحَسَنِ وَ اَلْحُسَيْنِ وَ، عَلِيِّ بْنِ اَلْحُسَيْنِ وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ وَ عَلِيِّ بْنِ مُوسَى وَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ وَ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ وَ اَلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَ اَلْحُجَّةِ بْنِ اَلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَئِمَّةً اَللَّهُمَّ وَلِيَّكَ اَلْحُجَّةَ فَاحْفَظْهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهِ وَ عَنْ يَمِينِهِ وَ عَنْ شِمَالِهِ وَ مِنْ فَوْقِهِ وَ مِنْ تَحْتِهِ وَ اُمْدُدْ لَهُ فِي عُمُرِهِ وَ اِجْعَلْهُ اَلْقَائِمَ بِأَمْرِكَ اَلْمُنْتَصِرَ لِدِينِكَ وَ أَرِهِ مَا يُحِبُّ وَ تَقَرُّ بِهِ عَيْنُهُ فِي نَفْسِهِ وَ فِي ذُرِّيَّتِهِ، وَ أَهْلِهِ وَ مَالِهِ وَ فِي شِيعَتِهِ وَ فِي عَدُوِّهِ وَ أَرِهِمْ مِنْهُ مَا يَحْذَرُونَ وَ أَرِهِ فِيهِمْ مَا يُحِبُّ وَ تَقَرُّ بِهِ عَيْنُهُ وَ اِشْفِ بِهِ صُدُورَنَا وَ «صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ» وَ كَانَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ» « اَللَّهُمَّ اِغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَ مَا أَخَّرْتُ وَ مَا أَسْرَرْتُ وَ مَا أَعْلَنْتُ وَ إِسْرَافِي عَلَى نَفْسِي وَ مَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اَللَّهُمَّ أَنْتَ اَلْمُقَدِّمُ وَ أَنْتَ اَلْمُؤَخِّرُ لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ بِعِلْمِكَ اَلْغَيْبَ وَ بِقُدْرَتِكَ عَلَى اَلْخَلْقِ أَجْمَعِينَ مَا عَلِمْتَ اَلْحَيَاةَ خَيْراً لِي فَأَحْيِنِي وَ تَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ اَلْوَفَاةَ خَيْراً لِي اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي اَلسِّرِّ وَ اَلْعَلاَنِيَةِ وَ كَلِمَةَ اَلْحَقِّ فِي اَلْغَضَبِ وَ اَلرِّضَا وَ اَلْقَصْدَ فِي اَلْفَقْرِ وَ اَلْغِنَى وَ أَسْأَلُكَ نَعِيماً لاَ يَنْفَدُ وَ قُرَّةَ عَيْنٍ لاَ تَنْقَطِعُ وَ أَسْأَلُكَ اَلرِّضَا بِالْق
انہوں نے علیہ السلام فرمایا: "جب تم فرض نماز ختم کرو تو کہو: میں اللہ کو رب کے طور پر راضی ہوں، اسلام کو دین کے طور پر، قرآن کو کتاب کے طور پر، محمد کو نبی کے طور پر، اور علی کو ولی کے طور پر، اور الحسن، الحسین، علی ابن الحسین، محمد ابن علی، جعفر ابن محمد، موسیٰ ابن جعفر، علی ابن موسیٰ، محمد ابن علی، علی ابن محمد، الحسن ابن علی، اور الحجة ابن الحسن ابن علی کو اماموں کے طور پر مانتا ہوں۔ اے اللہ، تیرے ولی الحجة کو، اسے اس کے سامنے، پیچھے، دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے سے محفوظ رکھ۔ اس کی عمر دراز فرما، اسے تیرے حکم سے قائم کرنے والا، تیرے دین کے لیے فتح پانے والا بنا، اور اسے وہ دکھا جس سے اس کی آنکھ خوش ہو، اپنے نفس، اپنی نسل، اپنے خاندان، اپنی دولت، اپنی شیعہ، اور اپنے دشمن کے بارے میں۔ اور انہیں اس سے وہ دکھا جس سے وہ ڈرتے ہیں، اور اسے ان کے بارے میں وہ دکھا جس سے اس کی آنکھ خوش ہو، اور اس کے ذریعے ہمارے سینے شفا دے اور...
‘‘ایمان والے لوگوں کے سینے۔’’
اور نبی صلى الله عليه وآله وسلم نماز ختم کرنے کے بعد کہا کرتے تھے: ‘‘اے اللہ، مجھے معاف فرما جو میں نے پہلے کیا اور جو میں نے پیچھے چھوڑا، جو میں نے چھپایا اور جو میں نے ظاہر کیا، میری اپنی جان پر زیادتی، اور جو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ اے اللہ، تو پیش کرنے والا ہے اور تو پیچھے کرنے والا ہے؛ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تیری غیب کی معرفت اور تمام مخلوقات پر تیری قدرت کے ساتھ: اگر تو جانتا ہے کہ زندگی میرے لیے بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ، اور اگر تو جانتا ہے کہ موت میرے لیے بہتر ہے تو مجھے فوت کر دے۔ اے اللہ، میں تجھ سے راز و نیاز اور آشکار میں تیری خشیت مانگتا ہوں، غضب اور رضا میں حق کی بات، فقر و غنا میں اعتدال۔ میں تجھ سے ایسی نعمت مانگتا ہوں جو ختم نہ ہو، ایسی آنکھ کی ٹھنڈک جو نہ ٹوٹے، اور میں تجھ سے قضائے الہیٰ پر رضا، موت کے بعد زندگی کی ٹھنڈک، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت، اور تیرے ملاقات کی شوق مانگتا ہوں بغیر کسی نقصان دہ مصیبت اور تاریک فتنے کے۔ اے اللہ، ہمیں ایمان کی زینت سے آراستہ فرما، اور ہمیں ہدایت دینے والے اور
Man La Yahduruhu al-Faqih 958 ↗
: «تَقُولُ فِي سَجْدَةِ اَلشُّكْرِ اَللَّهُمَّ إِنِّي أُشْهِدُكَ وَ أُشْهِدُ مَلاَئِكَتَكَ وَ أَنْبِيَاءَكَ وَ رُسُلَكَ وَ جَمِيعَ خَلْقِكَ أَنَّكَ أَنْتَ اَللَّهُ رَبِّي وَ اَلْإِسْلاَمَ دِينِي وَ مُحَمَّداً نَبِيِّي وَ عَلِيّاً وَ اَلْحَسَنَ وَ اَلْحُسَيْنَ وَ عَلِيَّ بْنَ اَلْحُسَيْنِ وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ وَ مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ وَ عَلِيَّ بْنَ مُوسَى وَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيٍّ وَ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَ اَلْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَ اَلْحُجَّةَ بْنَ اَلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَئِمَّتِي بِهِمْ أَتَوَلَّى وَ مِنْ أَعْدَائِهِمْ أَتَبَرَّأُ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ دَمَ اَلْمَظْلُومِ ثَلاَثاً اَللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ بِإِيوَائِكَ عَلَى نَفْسِكَ لِأَعْدَائِكَ لَتُهْلِكَنَّهُمْ بِأَيْدِينَا وَ أَيْدِي اَلْمُؤْمِنِينَ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَنْشُدُكَ بِإِيوَائِكَ عَلَى نَفْسِكَ لِأَوْلِيَائِكَ لَتُظْفِرَنَّهُمْ بِعَدُوِّكَ وَ عَدُوِّهِمْ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى اَلْمُسْتَحْفَظِينَ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ثَلاَثاً وَ تَقُولُ اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ اَلْيُسْرَ بَعْدَ اَلْعُسْرِ ثَلاَثاً ثُمَّ تَضَعُ خَدَّكَ اَلْأَيْمَنَ عَلَى اَلْأَرْضِ وَ تَقُولُ يَا كَهْفِي حِينَ تُعْيِينِي اَلْمَذَاهِبُ وَ تَضِيقُ عَلَيَّ اَلْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ يَا بَارِئَ خَلْقِي رَحْمَةً بِي وَ كُنْتَ عَنْ خَلْقِي غَنِيّاً صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ عَلَى اَلْمُسْتَحْفَظِينَ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ ثَلاَثاً ثُمَّ تَضَعُ خَدَّكَ اَلْأَيْسَرَ عَلَى اَلْأَرْضِ وَ تَقُولُ يَا مُذِلَّ كُلِّ جَبَّارٍ وَ يَا مُعِزَّ كُلِّ ذَلِيلٍ قَدْ وَ عِزَّتِكَ بَلَغَ بِي مَجْهُودِي ثَلاَثاً ثُمَّ تَعُودُ لِلسُّجُودِ وَ تَقُولُ مِائَةَ مَرَّةٍ شُكْراً شُكْراً ثُمَّ تَسْأَلُ حَاجَتَكَ إِنْ شَاءَ اَللَّهُ.
ولا تسجد سجدة الشكر عند المخالف واستعمل التقية في تركها.
967 - عبداللہ ابن جندب نے موسیٰ ابن جعفر علیہما السلام سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا:
سجدہ شکر میں آپ کہتے ہیں: 'اے اللہ، میں تجھے گواہ بناتا ہوں، اور تیرے فرشتوں، تیرے انبیاء، تیرے رسولوں، اور تیرے تمام مخلوقات کو گواہ بناتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، میرا رب ہے؛ اسلام میرا دین ہے؛ محمد میرا نبی ہے؛ اور علی، الحسن، الحسین، علی ابن الحسین، محمد ابن علی، جعفر ابن محمد، موسیٰ ابن جعفر، علی ابن موسیٰ، محمد ابن علی، علی ابن محمد، الحسن ابن علی، اور الحجة ابن الحسن ابن علی میرے ائمہ ہیں۔ ان کے ذریعے میں وفاداری کا اظہار کرتا ہوں، اور ان کے دشمنوں سے براءت اختیار کرتا ہوں۔ اے اللہ، میں تجھ سے مظلوم کے خون کی قسم کھاتا ہوں تین مرتبہ۔ 'اے اللہ، میں تجھ سے اپنے نفس پر تیرے عہد کی قسم کھاتا ہوں کہ تو اپنے دشمنوں کو ہمارے ہاتھوں اور مومنین کے ہاتھوں سے ہلاک کر دے۔ اے اللہ، میں تجھ سے اپنے نفس پر تیرے عہد کی قسم کھاتا ہوں کہ تو اپنے اولیاء کو دشمن اور ان کے دشمن پر فتح عطا فرما، اور محمد اور آل محمد کے محفوظ شدہ افراد پر درود بھیج' تین مرتبہ۔
اور آپ کہتے ہیں: 'اے اللہ، میں تجھ سے مشکل کے بعد آسانی مانگتا ہوں' تین مرتبہ۔
پھر اپنا دایاں گال زمین پر رکھو اور کہو: 'اے میرا پناہ گاہ، جب راستے مجھے بے بس کر دیں اور زمین، جتنی وسیع ہے، میرے لیے تنگ ہو جائے۔ اے میرے پیدا کرنے والے، میری طرف رحمت کرو، جبکہ تو میری مخلوق سے بے نیاز ہے، محمد اور آل محمد پر درود بھیج، اور آل محمد کے محفوظ شدہ افراد پر' تین مرتبہ۔
پھر اپنا بایاں گال زمین پر رکھیں اور کہیں: 'اے ہر جابر کو ذلیل کرنے والے، اور ہر ذلیل کو عزت دینے والے، تیری قدرت سے، میں اپنی برداشت کی حد تک پہنچ چکا ہوں' تین مرتبہ۔
پھر سجدے میں واپس آؤ اور سو مرتبہ کہو: 'شکریہ، شکریہ۔' پھر اپنی حاجت مانگو، اگر اللہ چاہے۔ اور مخالف کی موجودگی میں سجدة الشکر نہ کرو، اور اسے ترک کرنے میں تقیہ اختیار کرو۔
Man La Yahduruhu al-Faqih 965 ↗
يَوْمِ فِطْرٍ يَلْعَبُونَ وَ يَضْحَكُونَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ وَ اِلْتَفَتَ إِلَيْهِمْ «إِنَّ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ جَعَلَ شَهْرَ رَمَضَانَ مِضْمَاراً لِخَلْقِهِ يَسْتَبِقُونَ فِيهِ بِطَاعَتِهِ إِلَى رِضْوَانِهِ فَسَبَقَ فِيهِ قَوْمٌ فَفَازُوا وَ تَخَلَّفَ آخَرُونَ فَخَابُوا فَالْعَجَبُ كُلُّ اَلْعَجَبِ مِنَ اَلضَّاحِكِ اَللاَّعِبِ فِي اَلْيَوْمِ اَلَّذِي يُثَابُ فِيهِ اَلْمُحْسِنُونَ وَ يَخِيبُ فِيهِ اَلْمُقَصِّرُونَ وَ اَيْمُ اَللَّهِ لَوْ كُشِفَ اَلْغِطَاءُ لَشُغِلَ مُحْسِنٌ بِإِحْسَانِهِ وَ مُسِيءٌ بِإِسَاءَتِهِ.
اَلْحَسَن ابن علی علیہ السلام نے عید الفطر کے دن کچھ لوگوں کو کھیلتے اور ہنستے دیکھا، تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے:
بے شک اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مہینے کو اپنی مخلوق کے لیے ایک دوڑ کا میدان بنایا ہے، جس میں وہ اس کی اطاعت کے ذریعے اس کی رضا کی طرف دوڑتے ہیں۔ کچھ لوگ اس میں آگے نکل گئے اور کامیاب ہوئے، جبکہ دوسرے پیچھے رہ گئے اور ناکام ہوئے۔
کتنا عجیب ہے، بالکل عجیب، وہ جو اس دن ہنستا اور کھیلتا ہے جس دن نیک عمل کرنے والوں کو جزا دی جاتی ہے اور کوتاہ کرنے والے ناکام ہوتے ہیں۔ اللہ کی قسم، اگر پردہ اٹھا دیا جائے تو نیک عمل کرنے والا اپنے نیکی میں مصروف ہوگا اور برائی کرنے والا اپنی برائی میں۔
Man La Yahduruhu al-Faqih 1474 ↗
: «جَاءَ نَفَرٌ مِنَ اَلْيَهُودِ إِلَى رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فَسَأَلَهُ أَعْلَمُهُمْ عَنْ مَسَائِلَ فَكَانَ فِيمَا سَأَلَهُ أَنَّهُ قَالَ لَهُ لِأَيِّ شَيْءٍ فَرَضَ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ اَلصَّوْمَ عَلَى أُمَّتِكَ بِالنَّهَارِ ثَلاَثِينَ يَوْماً وَ فَرَضَ اَللَّهُ عَلَى اَلْأُمَمِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ «إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ لَمَّا أَكَلَ مِنَ اَلشَّجَرَةِ بَقِيَ فِي بَطْنِهِ ثَلاَثِينَ يَوْماً فَفَرَضَ اَللَّهُ عَلَى ذُرِّيَّتِهِ ثَلاَثِينَ يَوْماً اَلْجُوعَ وَ اَلْعَطَشَ وَ اَلَّذِي يَأْكُلُونَهُ بِاللَّيْلِ تَفَضُّلٌ مِنَ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ عَلَيْهِمْ وَ كَذَلِكَ كَانَ عَلَى آدَمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فَفَرَضَ اَللَّهُ ذَلِكَ عَلَى أُمَّتِي ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ اَلْآيَةَ: « كُتِبَ عَلَيْكُمُ اَلصِّيٰامُ كَمٰا كُتِبَ عَلَى اَلَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ. `أَيّٰاماً مَعْدُودٰاتٍ » » قَالَ اَلْيَهُودِيُّ صَدَقْتَ يَا مُحَمَّدُ فَمَا جَزَاءُ مَنْ صَامَهَا فَقَالَ اَلنَّبِيُّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يَصُومُ شَهْرَ رَمَضَانَ اِحْتِسَاباً إِلاَّ أَوْجَبَ اَللَّهُ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَهُ سَبْعَ خِصَالٍ أَوَّلُهَا يَذُوبُ اَلْحَرَامُ فِي جَسَدِهِ وَ اَلثَّانِيَةُ يَقْرُبُ مِنْ رَحْمَةِ اَللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ اَلثَّالِثَةُ يَكُونُ قَدْ كَفَّرَ خَطِيئَةَ آدَمَ أَبِيهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ اَلرَّابِعَةُ يُهَوِّنُ اَللَّهُ عَلَيْهِ سَكَرَاتِ اَلْمَوْتِ وَ اَلْخَامِسَةُ أَمَانٌ مِنَ اَلْجُوعِ وَ اَلْعَطَشِ يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ وَ اَلسَّادِسَةُ يُعْطِيهِ اَللَّهُ بَرَاءَةً مِنَ اَلنَّارِ وَ اَلسَّابِعَةُ يُطْعِمُهُ اَللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ مِنْ طَيِّبَاتِ اَلْجَنَّةِ » قَالَ صَدَقْتَ يَا مُحَمَّدُ ».
۱۷۶۹ - یہ روایت ہے کہ الحسن ابن علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے فرمایا:
"یہود کے ایک گروہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وآله کے پاس آ کر ان میں سے سب سے عالم نے کچھ مسائل کے بارے میں سوال کیا۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ انہوں نے کہا: 'اللہ تعالیٰ نے تمہاری امت پر دن کے وقت تیس دن روزہ فرض کیا، جبکہ اللہ نے دوسری اقوام پر اس سے زیادہ فرض کیا؟' تو نبی صلى الله عليه وآله نے فرمایا: 'بے شک جب آدم علیہ السلام نے درخت سے کھایا تو وہ تیس دن اس کے پیٹ میں رہا۔ پس اللہ نے اپنی اولاد پر تیس دن بھوک اور پیاس فرض کی، اور جو وہ رات کو کھاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر فضل ہے۔ اور یہ آدم علیہ السلام کے ساتھ بھی تھا۔ پس اللہ نے یہ فرض میری امت پر رکھا۔' پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی:
"تم پر روزہ فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ (یہ) گنے چنے دن ہیں۔"
یہودی نے کہا: 'تم نے سچ کہا، اے محمد۔' پھر پوچھا: 'جو شخص انہیں روزے رکھے اس کا اجر کیا ہے؟' تو نبی صلى الله عليه وآله نے فرمایا: 'کوئی مؤمن ایسا نہیں جو رمضان کے مہینے کا روزہ نیت کے ساتھ رکھے مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے سات خصوصیات فرض کر دیتا ہے۔ ان میں پہلی یہ ہے کہ اس کے جسم سے حرام چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ دوسری یہ کہ وہ اللہ کی رحمت کے قریب ہو جاتا ہے۔ تیسری یہ کہ اس نے آدم علیہ السلام کے گناہ کا کفارہ کر لیا۔ چوتھی یہ کہ اللہ اس کے لیے موت کی تکلیفوں کو آسان کر دیتا ہے۔ پانچویں یہ کہ قیامت کے دن بھوک اور پیاس سے محفوظ ہوتا ہے۔ چھٹی یہ کہ اللہ اسے آگ سے بری کر دیتا ہے۔ اور ساتویں یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے جنت کی پاکیزہ نعمتوں سے کھلاتا ہے۔' یہودی نے کہا: 'تم نے سچ کہا، اے محمد۔'
انہوں نے کہا: 'تم نے سچ کہا، اے محمد۔'
Man La Yahduruhu al-Faqih 1767 ↗
: كُنْتُ مَعَ أَبِي وَ أَنَا غُلاَمٌ فَتَعَشَّيْنَا عِنْدَ اَلرِّضَا عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ لَيْلَةَ خَمْسَةٍ وَ عِشْرِينَ مِنْ ذِي اَلْقَعْدَةِ فَقَالَ لَهُ « لَيْلَةُ خَمْسَةٍ وَ عِشْرِينَ مِنْ ذِي اَلْقَعْدَةِ وُلِدَ فِيهَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ وُلِدَ فِيهَا عِيسَى اِبْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ وَ فِيهَا دُحِيَتِ اَلْأَرْضُ مِنْ تَحْتِ اَلْكَعْبَةِ فَمَنْ صَامَ ذَلِكَ اَلْيَوْمَ كَانَ كَمَنْ صَامَ سِتِّينَ شَهْراً».
1814 - اور یہ روایت ہے الحسن بن علی الوشاء سے، جنہوں نے کہا:
میں اپنے والد کے ساتھ تھا جب میں لڑکا تھا، اور ہم نے رضاعلیہ السلام کے ساتھ ذوالقعدہ کی پچیسویں رات کھانا کھایا۔
تو انہوں نے ان سے کہا: 'ذوالقعدہ کی پچیسویں رات کو ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے، اور اسی رات عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام پیدا ہوئے، اور اسی رات زمین خانہ کعبہ کے نیچے سے پھیلائی گئی۔ جو شخص اس دن روزہ رکھے گا وہ ایسے ہے جیسے اس نے ساٹھ مہینے روزہ رکھا ہو۔'
Man La Yahduruhu al-Faqih 1812 ↗
رَجُلٍ مَاتَ وَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ عَشَرَةُ أَيَّامٍ وَ لَهُ وَلِيَّانِ هَلْ يَجُوزُ لَهُمَا أَنْ يَقْضِيَا عَنْهُ جَمِيعاً خَمْسَةَ أَيَّامٍ أَحَدُ اَلْوَلِيَّيْنِ وَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ اَلْآخَرُ فَوَقَّعَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ «يَقْضِي عَنْهُ أَكْبَرُ وَلِيَّيْهِ عَشَرَةَ أَيَّامٍ وِلاَءً إِنْ شَاءَ اَللَّهُ ».
محمد ابن الحسن الصفار رضی اللہ عنہ نے ابو محمد الحسن ابن علی علیہ السلام کو لکھا:
ایک شخص کے بارے میں جو فوت ہو گیا اور اس پر رمضان کے دس دن کے قضا واجب تھے، اور اس کے دو وارث تھے: کیا دونوں وارث مل کر اس کے لیے روزے قضا کر سکتے ہیں، ایک پانچ دن اور دوسرا پانچ دن روزہ رکھے؟
تو انہوں نے علیہ السلام جواب میں لکھا: "اس کے دو وارثوں میں بڑا وارث اس کے لیے لگاتار دس دن روزے قضا کرے، ان شاء اللہ۔"
Man La Yahduruhu al-Faqih 2009 ↗
يَوْمِ فِطْرٍ يَلْعَبُونَ وَ يَضْحَكُونَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ وَ اِلْتَفَتَ إِلَيْهِمْ «إِنَّ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ خَلَقَ شَهْرَ رَمَضَانَ مِضْمَاراً لِخَلْقِهِ يَسْتَبِقُونَ فِيهِ بِطَاعَتِهِ إِلَى رِضْوَانِهِ فَسَبَقَ فِيهِ قَوْمٌ فَفَازُوا وَ تَخَلَّفَ آخَرُونَ فَخَابُوا فَالْعَجَبُ كُلُّ اَلْعَجَبِ مِنَ اَلضَّاحِكِ اَللاَّعِبِ فِي اَلْيَوْمِ اَلَّذِي يُثَابُ فِيهِ اَلْمُحْسِنُونَ وَ يَخِيبُ فِيهِ اَلْمُقَصِّرُونَ وَ اَيْمُ اَللَّهِ لَوْ كُشِفَ اَلْغِطَاءُ لَشُغِلَ مُحْسِنٌ بِإِحْسَانِهِ وَ مُسِيءٌ بِإِسَاءَتِهِ ».
اَلْحَسَن ابن عَلِی علیہ السلام نے عید الفطر کے دن لوگوں کو کھیلتے اور ہنستے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور ان کی طرف متوجہ ہوئے۔
بے شک اللہ تعالیٰ نے مہینہ رمضان کو اپنی مخلوق کے لیے ایک دوڑ کا میدان بنایا ہے جس میں وہ اپنی اطاعت کے ذریعے اس کی رضا کی طرف دوڑتے ہیں۔ کچھ لوگ اس میں آگے نکل گئے اور کامیاب ہوئے، جبکہ دوسرے پیچھے رہ گئے اور ناکام ہوئے۔ کتنا عجیب ہے کہ عید کے دن ہنسنے اور کھیلنے والا شخص، جس دن نیک عمل کرنے والوں کو جزا ملتی ہے اور کوتاہ کرنے والے ناکام ہوتے ہیں۔ اللہ کی قسم اگر پردہ اٹھ جائے تو نیک شخص اپنی نیکی میں مصروف ہوگا اور بدکار اپنی برائی میں۔
Man La Yahduruhu al-Faqih 2055 ↗
: كُنْتُ جَالِساً عِنْدَ اَلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَهُ يَا اِبْنَ رَسُولِ اَللَّهِ إِنَّ فُلاَناً لَهُ عَلَيَّ مَالٌ وَ يُرِيدُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَقَالَ «وَ اَللَّهِ مَا عِنْدِي مَالٌ فَأَقْضِيَ عَنْكَ» قَالَ فَكَلِّمْهُ قَالَ فَلَبِسَ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ نَعْلَهُ فَقُلْتُ لَهُ يَا اِبْنَ رَسُولِ اَللَّهِ أَ نَسِيتَ اِعْتِكَافَكَ فَقَالَ لَهُ «لَمْ أَنْسَ وَ لَكِنِّي سَمِعْتُ أَبِي عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ سَعَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ اَلْمُسْلِمِ فَكَأَنَّمَا عَبَدَ اَللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ تِسْعَةَ آلاَفِ سَنَةٍ صَائِماً نَهَارَهُ قَائِماً لَيْلَهُ ».
اور یہ روایت ہے میمون ابن مهران سے، جنہوں نے کہا:
میں الحسن ابن علی علیہ السلام کے ساتھ بیٹھا تھا جب ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا، "اے رسول اللہ کے بیٹے، فلاں شخص مجھ پر قرض رکھتا ہے اور وہ مجھے قید کرنا چاہتا ہے۔" تو انہوں نے کہا، "اللہ کی قسم، میرے پاس تمہارے لیے قرض ادا کرنے کے لیے کوئی مال نہیں ہے۔" اس نے کہا، "تو اس سے بات کرو۔" تو انہوں نے، علیہ السلام، اپنے جوتے پہنے۔ پھر میں نے ان سے کہا، "اے رسول اللہ کے بیٹے، کیا تم نے اپنا اعتکاف بھول گئے ہو؟"
تو انہوں نے کہا، "میں نے نہیں بھولا، بلکہ میں نے اپنے والد علیہ السلام کو اپنے دادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ سے روایت کرتے سنا کہ انہوں نے فرمایا: 'جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے میں کوشش کرتا ہے، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت نو ہزار سال تک کی ہو، دن کو روزہ رکھ کر اور رات کو قیام کیا ہو۔'
Man La Yahduruhu al-Faqih 2106 ↗
ہماری میزبانی کردہ کلاسیکی تاریخی کتب میں وہ ابواب جن کے عنوان میں اِس شخصیت کا ذکر ہے — براہِ راست اصل متن تک پہنچیے۔
وہ آیات جو تفسیری روایات میں اِس شخصیت سے مربوط بیان کی جاتی ہیں — ہماری میزبانی کردہ اردو تفسیر اور قرآن سے مربوط۔ (جہاں روایات مختلف ہیں، انہیں بطورِ مؤقف پیش کیا گیا ہے۔)